پاکستان کے ڈائنوسار
اسپیشل فیچر
کروڑوں سال قبل جنگلوں میں گھومنے والے*****وطن عزیز ان گنے چنے ممالک میں شامل ہے جہاں ہیبت ناک جانوروں کے آثار دریافت ہو چکے*****یہ 2000ء کی بات ہے ،پاکستانی ماہرین ِاثریات کی ایک ٹیم بلوچستانی ضلع بار خان کے علاقے ،ویٹکاری پہنچی۔وہاں سے خبریں آ رہی تھیں کہ علاقے کی ایک پہاڑی سے ہڈی نما دیوہیکل پتھر ملے ہیں۔اس ٹیم کی قیادت جیالوجیکل سروے آف پاکستان کے اعلی افسر،محمد صادق ملکانی کر رہے تھے۔ماہرین نے جب ان پتھروں کا مطالعہ کیا،تو دنگ رہ گئے۔وہ ماضی کے خوفناک حیوانوں…ڈائنو ساروں کے رکاز(فوسل) یا پتھر بنی ہڈیاں تھیں۔ان رکازوں کی دریافت سے پاکستان ان چند ملکوں میں شامل ہو گیا جہاں سے اب تک ڈائنوساروں کے فوسل ملے ہیں۔کچھ لوگ جنگلوں،پہاڑوں اور صحرائوں میں تحقیق کرنے والوں کو خبطی سمجھتے ہیں۔مگر یہی دیوانے اپنے جنون کی بدولت گذری تاریخ کی پوشیدہ نشانیاں ہمارے سامنے لاتے ہیں۔اس کام کو معمولی و ناکارہ مت سمجھیے…قران پاک میں ارشاد الہی ہے:’’زمین پہ چلو پھرو اور دیکھو کہ اللہ نے خلقت کو (پہلی بار)کس طرح پیدا کیا۔‘‘( 29: 20)ایک اور جگہ فرمان ِالہی ہے:’’دنیا میں گھومو پھرو تاکہ دیکھ سکو کہ (اللہ تعالی کو )جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا۔‘‘(6:11)غرض قران پاک میں مسلمانوں کو نصحیت دی گئی کہ زمین پہ چلو پھرو تاکہ تمھیں تاریخ کی بکھری نشانیاں نظر آئیں اور تم عبرت پکڑ سکو۔معدوم جانور بھی رب ِکائنات کی نشانیاں ہیں،ان کا عروج و زوال آشکارا کرتا ہے کہ اس دنیائے فانی میں کوئی ذی حس ہمیشہ نہیں رہتا…رہے نام اللہ کا !٭٭کئی پاکستانی اس حقیقت سے ناواقف ہیں کہ ارض ِپاک جغرافیائی طور پہ اہم علاقہ ہے۔ہمارے صوبوں کی زمین ان گنت اثریاتی خزینے چھپائے ہوئے ہے جو وقتا فوقتاً عیاں ہوچکے۔کروڑوں برس قبل ان صوبوں کے جنگلوں میں ڈائنوسار بستے ،تو سمندروں میں قدیم ترین وہیلیں اور ڈولفنیں تیرتی پھرتی تھیں۔درحقیقت سرزمین پاکستان پہ ہی وہیلوں کا جد امجد،’’پاکیسیٹس(Pakicetus)پانچ کروڑ سال پہلے پیدا ہوا۔تب اس کا مسکن،ہمارا خطہ پوٹھوہار ٹیتھیز سمندر (Tethys Ocean) کے بچے کھچے پانی میں ڈوبا ہوا تھا۔یہ بھیڑیا نما جانور خشکی کے علاوہ تری میں بھی خوراک ڈھونڈنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔اسی حیوان کی آنے والی نسلوں نے وہیل کی شکل اختیار کر لی جو آج دنیا کا سب سے بڑا زندہ جانور ہے۔وطن عزیز ہی میں اول اول کرہ ارض کے سب سے بڑے ممالیہ’’بلوچی تھریم‘‘ (Baluchitherium) کے رکاز دریافت ہوئے۔ انھیں 1907ء میں برطانوی ماہر اثریات،گائے ایلیکوک نے ڈیرہ بگٹی کی پہاڑیوں میں دریافت کیا۔ایلیکوک ہی نے اس جانور کو بلوچی تھریم کا نام بھی دیا یعنی بلوچستان کا حیوان!یہ 26فٹ لمبا،16فٹ اونچا اور 18ٹن وزنی جانور تھا جو دو کروڑ سال پہلے وسطی و جنوبی ایشیا کے جنگلوں میں گھومتا پھرتا تھا۔صادق ملکانی اور ان کے ساتھی اب تک پاکستان کے طول و عرض میں ڈائنوساروں اور دیگر معدوم جانوروں کے ’’تین ہزار رکاز‘‘ تلاش کر چکے۔انہی رکازوں کی مدد سے سبزی خورڈائنوساروں کی چھ نئی اقسام دریافت ہوئیں… بروہی سارس، بلوچی سارس، مری سارس،پاکی سارس، کھیترانی سارس اور سیلمانی سارس!نیز گوشت خور ڈائنوسار کی بھی ایک نئی قسم کے رکاز ملے۔چونکہ یہ فوسل بارخان کے علاقے، ویٹکاری سے ملے،سو اسے ’’ویٹکاری درندہ‘‘ (Vitakridrinda) کا نام ملا۔ان تمام پاکستانی ڈائنوساروں میں بلوچی سارس سب سے بڑا تھا۔وہ 40 تا60 فٹ لمبا اور تقریباً 15ٹن وزنی تھا۔آٹھ کروڑ سال پہلے بلوچستان کے جنگلوں میں بستا تھا۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ وطن عزیز میں قدیم رکازات کھوج نکالنے کی تمام بین الاقوامی مہمات میں پاکستانی ماہرین نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ان میں صادق ملکانی کی سعی وجدوجہد قابل تعریف ہے۔ایک اور دلچسپ بات یہ کہ سبھی سبزی خور پاکستانی ڈائنوسار ’’ٹائٹنوسار‘‘ (Titanosaur) نامی ڈائنوساروں کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔روئے ارض پہ جنم لینے والے بیشتر دیو ہیکل ڈائنوساروںمثلاًارجنٹینو سارس (Argentinosaurus) اور پوئورٹا سارس(Puertasaurus)کا تعلق اسی خاندان سے ہے۔نیز چند ہفتے قبل ارجنٹائن میں دریافت ہونے والا نیا ڈائنوسار بھی اسی خاندان کا ہے جسے دنیا کا سب سے بڑا ڈائنوسار قرار دیا جا چکا۔اس ڈائنوسار کے رکاز 2011ء میں ارجنٹائن کے صحرائی علاقے،لافلیچا میں دریافت ہوئے۔پھر ماہرین اثریات کی ایک ٹیم نے ان کا مطالعہ کیا۔تحقیق سے انکشاف ہوا کہ وہ کرہ ارض کی چار ارب سالہ تاریخ میں جنم لینے والے سب سے بڑے ذی حس کے ہڈیاں ہیں۔یاد رہے ،ڈائنوسار 28کروڑ سال پہلے زمین پہ نمودار ہوئے۔وہ پھر اگلے 22کروڑ برس تک زمین پر حکمرانی کرتے رہے۔چھ کروڑ سال پہلے کرہ ارض پہ ایک شہاب ثاقب گرنے کی وجہ سے ان کا صفایا ہو گیا۔صرف اڑن ڈائنوساروں کی باقیات ہی آج پرندوں کی صورت زندہ ہیں۔شہاب ثاقب کا گرنا بھی خدا کی حکمت تھی،کیونکہ ڈائنوسار نابود نہ ہوتے ،تو انسان بھی زمین کا حکمران نہیں بن پاتا۔22کروڑ سال کے طویل عرصے میں ڈائنوساروں کی ’’ایک ہزار ‘‘سے زائد اقسام پیدا ہوئیں۔رب ِکائنات کی قدرت کہ ان میں عظیم الشان ڈائنوسار شامل تھے اور چڑیا جیسے ننھے منے ڈائنوسار بھی!…سچ ہے،’’اہل دانش کے لیے (خدا تعالی کے کاموں میں )بہت سی نشانیاں ہیں۔‘‘(30:22)قیلیانیا(Qiliania)نامی ڈائنوسار چڑیا سے ملتا جلتا تھا۔محض 15گرام کا وزن اسے دنیا کا سب سے چھوٹا ڈائنوسار بنا ڈالتا ہے۔جبکہ اب تک ارجنٹینوسارس دنیا کا ’’معلوم‘‘سب سے بڑا ڈائنوسار تھا۔یہ 115فٹ تک لمبا،24فٹ تک اونچا اور 100ٹن تک وزنی ہوتا تھا۔مگر اب ارجنٹائن ہی میں دریافت ہونے والی نئی قسم نے ارجنٹینوسارس کو اپنے اعزاز سے محروم کر دیا۔لافلیچا سے ملنے والی ہڈیوں کی لمبائی و موٹائی جانچ کر ماہرین اثریات نے اندازہ لگایا ہے کہ ان کا حامل ڈائنوسار 130فٹ تک لمبا اور 65 فٹ اونچا تھا۔نیز وہ 80 تا 100ٹن وزن رکھتا تھا۔یہ اعداد وشمار اس ڈائنوسار کو زمینی تاریخ کا کلاّں ترین ’’معلوم‘حیوان بنا ڈالتے ہیں۔گویا آپ ایسی سات منزلہ اونچی عمارت ذہن میں لایئے جو 130فٹ چوڑی ہو۔پھر اس میں دانت اور آنکھیں فٹ کر دیجیے۔لیجیے ایسا ڈائنوسار تیار ہو گیا جو نو دس کروڑ سال پہلے ارجنٹائن کے جنگلوں میں گھومتا پھرتا تھا۔ماہرین نے ابھی اس کا نام نہیں رکھا۔یاد رہے،ڈائنوساروں کے دو بڑے گروہ تھے:سبزی خور اور گوشت خور(گو بعض ڈائنوسار گوشت اور نباتات،دونوں کھا لیتے تھے)۔سبزی خور لمبی گردن ،لمبوترے جسم اور چھوٹے سر کے مالک تھے۔جبکہ گوشت خور گٹھا ہوا بدن اور نوکیلے دانتوں والا بڑا سا منہ رکھتے ۔گوشت خورڈائنوساروں میں سب سے بڑا سپائنوسارس (Spinosaurus)گذرا ہے جو 59فٹ لمبا اور 20ٹن وزنی جانور تھا۔ ٹائرنوسارس (Tyrannosaurus) بھی دیوہیکل گوشت خور ڈائنوسار تھا۔اسے جراسک پارک اور کنگ کانگ جیسی فلموں نے عوام الناس میںمقبول بنایا۔مگر ماہرین اس امر پہ متفق نہیں کہ سب سے بڑا سبزی خور ڈائنوسار کون تھا؟وجہ یہ ہے کہ اب تک کسی دیوہیکل ڈائنوسار کا مکمل ڈھانچہ دریافت نہیں ہوا۔بس مختلف اعضائے جسمانی کی ہڈیاں ہی ملتی ہیں۔انہی ہڈیوں کی لمبائی و چوڑائی سے اندازہ لگایا جاتا ہے کہ ان کا حامل ڈائنوسار کتنا لمبا،اونچا اور وزنی تھا۔بعض ماہرین کی رو سے امفیکوئلیاس (Amphicoelias) دنیا کا سب سے بڑا ڈائنوسار گذرا ہے۔ یہ200 فٹ تک لمبا اور 120ٹن وزنی تھا۔مگر یہ تخمینہ ان چند ہڈیوں سے لگایا گیا جو 1877ء میں امریکہ سے ملی تھیں اور اب ضائع ہو چکیں۔اسی لیے بیشتر ماہرین اسے سب سے بڑا ڈائنوسار تسلیم نہیں کرتے۔اسی طرح ایک زمانے میں بروہا تھیکایوسارس (Bruhathkayosaurus) کلاّں ترین ڈائنوسار قرار پایا۔اس سبزی خور ڈائنوسار کے رکاز بھارتی ریاست،تامل ناڈو میں دریافت ہوئے۔بعض ماہرین اثریات کا تخمینہ ہے کہ وہ 145فٹ تک لمبا تھا۔مگر اس ڈائنوسار کے رکاز بھی ضائع ہو چکے۔اسی لیے ’’معلوم‘‘ رکاز ارجنٹینوسارس یا حالیہ دریافت شدہ ڈائنوسار کو سب سے بڑا حیوان بنا ڈالتے ہیں۔٭…٭…٭