جدید گاڑیوں کو انوکھا خطرہ درپیش!
اسپیشل فیچر
شمسی سرگرمیاں گاڑیوں کے حساس الیکٹرانک نظام کو متاثر کرسکتی ہیں
جدید ٹیکنالوجی نے گاڑیوں کو پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ، تیز رفتار اور خودکار بنا دیا ہے، لیکن اب ایک ایسا غیر متوقع خطرہ سامنے آیا ہے جس کا تعلق زمین سے نہیں بلکہ خلائی موسم سے ہے۔ سورج سے خارج ہونے والی شدید شمسی سرگرمیاں اور مقناطیسی طوفان جدید گاڑیوں میں موجود حساس الیکٹرانک نظام اور نیوی گیشن ٹیکنالوجی کو متاثر کرسکتے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ خلائی طوفان شدید نوعیت کے ہوں تو گاڑیوں کے نظام میں خلل پڑنے سے سڑکوں پر ہزاروں حادثات کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔
سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ اچانک آنے والا ایک شدید شمسی طوفان امریکا بھر کی سڑکوں پر افراتفری پیدا کرسکتا ہے، کیونکہ خودکار ڈرائیونگ کرنے والی گاڑیوں کے جی پی ایس نظام میں ایک ایسا خطرناک نقص سامنے آیا ہے جو جان لیوا حادثات کا سبب بن سکتا ہے۔ بوسٹن میں محققین کی ایک ٹیم نے پہلی مرتبہ تصدیق کی ہے کہ طاقتور شمسی شعلوں سے خارج ہونے والی توانائی زمین سے ٹکرانے کے نتیجے میں جی پی ایس کے ریڈیو سگنلز میں خلل پڑ سکتا ہے۔ خودکار گاڑیوں میں اس خلل کے باعث رہنمائی کرنے والے کمپیوٹرز کی نشاندہی میں 30 فٹ سے زیادہ کی غلطی پیدا ہو گئی۔ اس معمولی نظر آنے والے فرق کا مطلب ٹریفک کے دوران گاڑی کا غلط لین میں چلے جانا، سرخ بتی عبور کرنا یا کسی جان لیوا حادثے کا شکار ہونا ہوسکتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ خودکار زرعی مشینری بھی حالیہ شمسی طوفانوں سے متاثر ہوئی۔ یہ مشینیں فصلوں کی بوائی اور کٹائی کے دوران بالکل سیدھی لائنوں میں کام کرنے کیلئے جی پی ایس پر انحصار کرتی ہیں۔ شمسی طوفانوں کے باعث اس نظام میں خلل پڑنے سے تقریباً 50 کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا۔سائنسدانوں کو عموماً ایک سے تین دن پہلے ممکنہ شمسی طوفان کی اطلاع مل جاتی ہے، تاہم وہ اب بھی قابلِ اعتماد طور پر یہ پیش گوئی نہیں کرسکتے کہ طوفان کتنا شدید ہوگا۔
محققین کی ٹیم نے نومبر 2025ء میں آنے والے ایک طاقتور شمسی طوفان کے دوران جی پی ایس اور اسی نوعیت کے دیگر سیٹلائٹ نیوی گیشن سگنلز میں پیدا ہونے والی خرابیوں کا جائزہ لیا۔ تحقیق کے مطابق 12 نومبر کو طوفان کے شدید ترین مرحلے کے دوران جی پی ایس کی غلطیاں کئی گھنٹوں تک برقرار رہیں۔ یہ وہی وقت تھا جب امریکا کے مختلف علاقوں میں آسمان پر شفقِ قطبی (Aurora) کے مناظر بھی اپنے عروج پر دیکھے گئے۔شمسی سرگرمی کی اسی لہر نے مسافر طیاروں کو بھی متاثر کیا۔ تابکاری کے اچانک جھٹکوں سے بعض طیاروں کے آن بورڈ کمپیوٹرز میں خلل پڑا۔ اس واقعے کے بعد فضائی کمپنیوں کو ہزاروں طیاروں کے نظام کو اپ ڈیٹ کرنا پڑا۔
اس تحقیق کی قیادت ایرو اسپیس کارپوریشن سے وابستہ خلائی طبیعیات دان اینڈاووک ییزینگاو (Endawoke Yizengaw) نے کی۔ محققین نے اپنے نتائج کو ''اہم پوزیشننگ غلطیاں‘‘ قرار دیا، جو امریکا کے براعظمی علاقوں میں درست زرعی نظام اور خودکار نقل و حمل کی صنعتوں میں خلل ڈالنے کیلئے کافی بڑی ہو سکتی ہیں۔
دنیا بھر میں اس وقت تقریباً 10ہزار مکمل طور پر بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیاں تجارتی بنیادوں پر استعمال ہورہی ہیں۔ ان میں امریکا کے مختلف شہروں میں چلنے والی ویمو روبو ٹیکسیاں بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ زوکس اور ٹیسلا کی روبوٹیکسی سروس کے چھوٹے بیڑے بھی موجود ہیں۔ اگرچہ یہ خودکار گاڑیاں راستہ تلاش کرنے کیلئے کیمروں، ریڈار اور تفصیلی نقشوں سے بھی مدد لیتی ہیں، تاہم سڑک پر اپنی درست پوزیشن معلوم کرنے کیلئے جی پی ایس پر انحصار کرتی ہیں۔
ایک بڑا شمسی طوفان سورج سے توانائی کا ایک زبردست اخراج کرسکتا ہے، جو آئنوسفیئر میں خلل ڈالتا ہے۔ آئنوسفیئر زمین کی سطح سے تقریباً 50 سے 600 میل کی بلندی پر موجود برقی طور پر چارج شدہ فضا کی ایک تہہ ہے۔ جی پی ایس سگنلز کو اسی متاثرہ تہہ سے گزر کر زمین تک پہنچنا ہوتا ہے۔ شمسی طوفان کے باعث اس تہہ میں پیدا ہونے والی بے ترتیبی سے سگنلز میں ارتعاش پیدا ہوسکتا ہے، وہ قدرے تاخیر سے پہنچ سکتے ہیں یا ان کی طاقت کم ہوسکتی ہے۔ نتیجتاً گاڑی کا کمپیوٹر اس کی غلط جغرافیائی پوزیشن کا تعین کرسکتا ہے۔ سڑک پر 30 سے 33 فٹ کی پوزیشننگ غلطی امریکا کی بیشتر ڈرائیونگ لینز کی چوڑائی سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔ اس صورت حال سے گاڑی میں سوار مسافروں کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے یا ڈرائیور کو خودکار نظام سے دوبارہ گاڑی کا کنٹرول سنبھالنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔
شمسی سرگرمی کے 11 سالہ چکر کے دوران معمولی شمسی طوفان نسبتاً عام ہوتے ہیں۔ تاہم امریکا بھر میں جی پی ایس سگنلز کو متاثر کرنے کی حد تک طاقتور شمسی طوفان کم ہی آتے ہیں۔ تحقیقی جریدے''جیو فزیکل ریسرچ لیٹرز‘‘ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ اسی نوعیت کا ایک جغرافیائی مقناطیسی طوفان مئی 2024ء میں بھی آیا تھا، جس کے نتیجے میں امریکا کے کسانوں کو شدید مشکلات اور بڑے پیمانے پر خلل کا سامنا کرنا پڑا۔
شمسی تابکاری صرف جی پی ایس کمپیوٹرز کے نظام کو متاثر کرنے تک محدود نہیں۔ زمین سے ٹکرانے والے برقی چارج شدہ ذرات کے طاقتور اخراج سے ریڈیو مواصلاتی نظام بھی متاثر ہو سکتے ہیں، جبکہ شدید شمسی طوفان بجلی کے ٹرانسفارمرز اور پاور لائنز پر اضافی دباؤ ڈال کر انہیں اوورلوڈ کرسکتا ہے، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر بجلی کی بندش کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ماضی میں آنے والے شمسی طوفانوں نے دنیا بھر میں سیٹلائٹ مواصلاتی نظام میں بھی خلل ڈالا ہے، جن میں ایلون مسک کی اسٹارلنک انٹرنیٹ سروس میں پیدا ہونے والی بندشیں بھی شامل ہیں۔