خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان
اسپیشل فیچر
خودکشی صرف ایک فرد کی موت کا واقعہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے موجود معاشرتی، نفسیاتی، خاندانی اور معاشی مسائل کی ایک پیچیدہ تصویر ہوتی ہے۔ جب کوئی انسان اپنی زندگی کے بارے میں انتہائی مایوس ہو جاتا ہے تو اس کیفیت کو صرف ایک لمحے کا فیصلہ قرار دینا مسئلے کی اصل نوعیت کو سمجھنے کیلئے کافی نہیں۔ عموماً اس کے پیچھے طویل عرصے سے جمع ہونے والا ذہنی دباؤ، تنہائی، گھریلو تنازعات، معاشی مشکلات، تعلیمی یا پیشہ ورانہ پریشانی اور مدد حاصل نہ کر پانے کی صورت حال شامل ہو سکتی ہے۔ اسی لیے پاکستان میں خودکشی کے مسئلے کو محض اعداد و شمار کے بجائے ایک اہم عوامی اور ذہنی صحت کے مسئلے کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔
آج کے دور میں نوجوان نسل کے اندر خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان نے پوری سوسائٹی، والدین اور ماہرین نفسیات کو شدید تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ جو عمر جینے، خواب دیکھنے اور اپنے مستقبل کی بنیاد رکھنے کی ہوتی ہے، اسی عمر میں مایوسی اور ذہنی دباؤ کے بادل اس قدر گہرے ہو جاتے ہیں کہ کچھ نوجوان موت کو ہی اس کا واحد حل سمجھ بیٹھتے ہیں۔
جدید دور کی تیز رفتار زندگی، سوشل میڈیا کے بے جا استعمال اور مجازی دنیا کی چمک دمک نے نوجوانوں کو حقیقی رشتوں اور خاندانی محفلوں سے دور کر دیا ہے۔ ہجوم میں گھیرے رہنے کے باوجود نوجوان اندر سے شدید تنہائی کا شکار ہیں۔ ہر وقت دوسروں کی فرضی اور مثالی زندگیوں سے اپنا مقابلہ کرنا، تعلیمی اداروں کا شدید مقابلہ بازی کا ماحول اور مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال ان کے ذہنوں پر ایک مستقل بوجھ بن جاتی ہے، جسے وہ تنہا برداشت کرنے کے قابل نہیں رہتے۔
والدین اور اولاد کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج اس بحران کا ایک اور اہم سبب ہے۔ روزمرہ کی دوڑ دھوپ میں والدین کے پاس اتنی فرصت نہیں ہوتی کہ وہ اپنے بچوں کے دل کا حال جان سکیں۔ جب نوجوان اپنے جذبات، ناکامیوں یا اندرونی کشمکش کا اظہار گھر میں نہیں کر پاتے، تو وہ شدید فرسٹریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ گھر کا ماحول جہاں انہیں ڈانٹ ڈپٹ یا تنقید کا سامنا رہتا ہے، بچوں کو باہر کی دنیا کے سرد رووں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہے۔
موجودہ معاشرتی اور معاشی حالات نے نوجوانوں کے سامنے ایک اور بڑا پہاڑ کھڑا کر رکھا ہے۔ ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد بھی مناسب روزگار کا نہ ملنا، مہنگائی کا طوفان اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کی مجبوری نوجوانوں میں احساسِ کمتری کو جنم دیتی ہے۔ وہ خود کو اپنے خاندان اور معاشرے پر بوجھ سمجھنے لگتے ہیں، جو آہستہ آہستہ ڈپریشن اور پھر اس انتہائی قدم کی طرف لے جاتا ہے۔
اس ناسور پر قابو پانے کیلئے معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ تعلیمی اداروں اور میڈیا پر اس حوالے سے کھل کر بات ہونی چاہیے تاکہ ذہنی صحت سے جڑے مسائل کو تبصرہ یا عیب سمجھنے کے بجائے ایک قابلِ علاج بیماری سمجھا جائے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے دوست بنیں، ان کی بات کو بغیر کسی فیصلے یا طعنے کے سنیں اور انہیں یہ احساس دلائیں کہ ان کی زندگی کسی بھی کامیابی یا ناکامی سے بڑھ کر قیمتی ہے۔
پاکستان میں اس مسئلے کی شدت کا درست اندازہ لگانا خود ایک بڑا چیلنج ہے۔ ملک میں خودکشی کے واقعات کا ایسا مکمل قومی نظام موجود نہیں جس میں ہر واقعہ یکساں طریقے سے درج، تصدیق اور مرکزی سطح پر جمع کیا جاتا ہو۔ ایک تحقیقی جائزے کے مطابق پاکستان میں خودکشی کے سرکاری قومی اعداد و شمار موجود نہیں اور مختلف علاقوں میں پولیس، میڈیکو لیگل مراکز اور طبی اداروں کے ریکارڈ رکھنے کے طریقے ایک جیسے نہیں ہیں۔ بعض واقعات پولیس اسٹیشن میں درج ہونے کے باوجود مرکزی سطح تک نہیں پہنچتے۔
یہی وجہ ہے کہ یہ سوال کہ ''پاکستان میں ہر سال پولیس اسٹیشنوں میں کتنے خودکشی کے کیس درج ہوتے ہیں؟‘‘ اس کا ایک مستند قومی عدد دینا ممکن نہیں۔کیونکہ خودکشی کے واقعات زیادہ تر پولیس میں رپورٹ نہیں ہوتے۔صنفی اعتبار سے بھی صورتحال یکساں نہیں ہے۔ پاکستان کے مجموعی دستیاب شواہد میں مردوں کے درمیان خودکشی سے ہونے والی اموات کی شرح عموماً خواتین سے زیادہ نظر آتی ہے۔
خودکشی کے خطرے سے دوچار افراد میں صرف ایک خاص طبقہ شامل نہیں ہوتا۔ طالب علم، بے روزگار نوجوان، مالی مشکلات کا سامنا کرنے والے افراد، خاندانی تنازعات سے متاثرہ لوگ، گھریلو دباؤ برداشت کرنے والے افراد اور مختلف ذہنی صحت کے مسائل سے گزرنے والے افراد سب مدد کے محتاج ہو سکتے ہیں۔ کسی شخص کے مالی طور پر مضبوط یا کمزور ہونے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ ذہنی پریشانی سے محفوظ ہے۔ اسی طرح تعلیمی کامیابی بھی کسی فرد کو جذباتی مشکلات سے مکمل طور پر محفوظ نہیں کرتی۔
خاندانی ماحول اس معاملے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ گھر وہ جگہ ہونی چاہیے جہاں انسان اپنی پریشانی بیان کرتے ہوئے خود کو محفوظ محسوس کرے۔ اگر والدین ہر مسئلے کا جواب صرف ڈانٹ، سزا، طنز یا دوسروں سے موازنہ کی صورت میں دیں تو نوجوان اپنی اصل کیفیت چھپانا شروع کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس نرم گفتگو، توجہ سے سننا، جذبات کو سنجیدگی سے لینا اور ضرورت پڑنے پر کسی ماہرِ نفسیات یا دوسرے قابلِ اعتماد بالغ فرد سے مدد لینا نوجوان کو تنہائی سے باہر آنے میں مدد دے سکتا ہے۔
سوشل میڈیا نے بھی نوجوانوں کی ذہنی دنیا کو تبدیل کیا ہے۔ آن لائن دنیا میں لوگ عموماً اپنی زندگی کا بہترین حصہ دکھاتے ہیں، جس کے باعث دیکھنے والا اپنی حقیقی زندگی کا موازنہ دوسروں کی منتخب اور خوبصورت دکھائی دینے والی زندگی سے کرنے لگتا ہے۔ اس مسلسل موازنے سے بعض افراد میں ناکامی، محرومی اور کم اعتمادی کا احساس بڑھ سکتا ہے۔ تاہم سوشل میڈیا کو خودکشی کی واحد وجہ قرار دینا بھی درست نہیں، یہ مسئلہ کئی عوامل کے باہمی اثر سے پیدا ہوتا ہے۔
پاکستان میں ایک اور اہم مسئلہ ذہنی صحت سے متعلق سماجی بدنامی ہے۔ بہت سے لوگ ذہنی پریشانی کو بیماری کے بجائے کمزوری سمجھتے ہیں۔ نتیجتاً وہ مدد لینے میں جھجھک محسوس کرتے ہیں۔ اس سوچ کو تبدیل کرنا ضروری ہے۔ جس طرح جسمانی بیماری کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کرنا معمول کی بات ہے، اسی طرح مسلسل ذہنی دباؤ، شدید مایوسی یا جذباتی بحران کی صورت میں کسی قابلِ اعتماد ماہرِ نفسیات سے بات کرنا بھی معمول ہونا چاہیے۔