کمر اور کندھے کے درد کا سستا علاج
اسپیشل فیچر
کمر اور کندھے کا درد روزمرہ زندگی کو اس حد تک متاثر کر سکتا ہے کہ معمول کے کام بھی دشوار محسوس ہونے لگتے ہیں۔ خاص طور پر ''فروزن شولڈر‘‘ میں کندھے کی حرکت محدود ہو جاتی ہے اور درد کے باعث مریض کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے۔ اب ماہرین نے وٹامن ڈی کے ممکنہ کردار کی جانب توجہ دلائی ہے اور اسے ایک نسبتاً سستا غذائی جزو قرار دیا ہے جو بعض افراد میں ہڈیوں اور پٹھوں کی صحت کیلئے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر درد کا علاج وٹامن یا نام نہاد ''قدرتی‘‘ نسخوں میں تلاش کرنا درست نہیں، بلکہ درد کی اصل وجہ معلوم کرکے مناسب علاج اختیار کرنا زیادہ ضروری ہے۔
کندھے کا درد ان عام تکالیف میں سے ایک ہے جس میں معمولی سی حرکت بھی ناقابلِ برداشت درد کا باعث بن سکتی ہے۔ فروزن شولڈر یعنی منجمد کندھے کی کیفیت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب جوڑ کے گرد موجود بافتوں میں سوزش پیدا ہونے کے ساتھ وہ سکڑنے لگیں۔ کم از کم ہر 20 میں سے ایک شخص اس تکلیف کا شکار ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں درد، کھنچاؤ اور کندھے کی حرکت میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے۔ تنگ اور سکڑی ہوئی بافتوں کو ڈھیلا کرنے کیلئے فزیوتھراپی کے علاوہ بہت سے مریضوں کیلئے جنرل پریکٹیشنرز کے پاس محدود علاج موجود ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگسپیلنٹس اور تجرباتی طریقہ علاج کا رخ کرتے ہیں۔
حالیہ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ شاید ان میں سے بعض طریقوں کا کچھ فائدہ ہو سکتا ہے۔ گزشتہ برس سائنسدانوں کی شائع کردہ ایک تحقیق میں فروزن شولڈر اور کمر کے درد کے درمیان ایک دلچسپ تعلق سامنے آیا اور اس کا ربط نام نہاد ''سن شائن وٹامن‘‘ یعنی وٹامن ڈی سے جوڑا گیا۔ سائنسدانوں نے 5 ہزار سے زائد افراد کی طبی رپورٹس کا تجزیہ کیا اور معلوم کیا کہ جن افراد میں وٹامن ڈی کی کمی تھی، ان میں فروزن شولڈر کا شکار ہونے کا امکان کہیں زیادہ تھا۔
ماہرین کے مطابق وٹامن ڈی کی کم سطح ایسی خلیاتی سرگرمی کو متحرک کرسکتی ہے جو سوزش کو بڑھاتی ہے، جس کے نتیجے میں درد اور اکڑاؤ مزید شدت اختیار کرسکتا ہے۔ تو کیا فروزن شولڈر سے متاثرہ افراد کو روزانہ وٹامن ڈی کی گولیاں لینا شروع کردینی چاہئیں؟ اور کیا دیگر غذائی سپلیمنٹس بھی مددگار ثابت ہوسکتے ہیں؟
اس مضمون میں ماہرین نے عام درد اور تکالیف کیلئے ان سپلیمنٹس کے بارے میں بتایا ہے جنہیں وہ ترجیح دیں گے، ان کے بارے میں بھی آگاہ کیا ہے جو مؤثر ثابت نہیں ہوتے۔
وٹامن ڈی مفید، ہلدی نہیں
اس بات کے شواہد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے کہ فروزن شولڈر اور دائمی کمر درد جیسی کیفیات جسم میں ہونے والی سوزش کا نتیجہ ہو سکتی ہیں، جبکہ بعض غذائی اجزا کی کمی اس سوزش کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ میگنیشیم، بی وٹامنز اور وٹامن ڈی کی کم سطح سے پٹھوں، ہڈیوں اور جوڑوں سے متعلق مسائل کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
2024ء میں فلوریڈا کے روتھ مین آرتھو پیڈک انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین نے اس موضوع پر ہونے والی متعدد تحقیقات کا جائزہ لیا۔ ماہرین نے نتیجہ اخذ کیا کہ وٹامن ڈی میں سوزش کم کرنے کی خصوصیات پائی جاتی ہیں، جبکہ یہ پٹھوں کی کارکردگی اور بافتوں کی بحالی کے عمل پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق وٹامن ڈی کی کمی کو دور کرنا، جو تقریباً ہر پانچ میں سے ایک شخص کو لاحق ہے، کندھے کے مسائل کے علاج میں مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم فزیوتھراپسٹ سیمی مارگوٹ واضح کرتی ہیں کہ وٹامن ڈی کا ممکنہ فائدہ غالباً صرف ان افراد کو ہوگا جن میں واقعی اس کی کمی پائی جاتی ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ پٹھوں، ہڈیوں اور جوڑوں کے کسی بھی مسئلے میں جسم میں وٹامن ڈی کی مناسب مقدار یقینی بنانا اہم ہے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ وٹامن ڈی فوری طور پر درد ختم کرنے والی دوا ثابت ہو گا۔
دوسری جانب، فروزن شولڈر کے علاج میں دیگر غذائی سپلیمنٹس کے کردار پر تحقیق ابھی محدود اور غیر واضح ہے۔ سیمی مارگوٹ کے مطابق بہت سے مریض یہ سمجھتے ہیں کہ ہلدی جیسے سپلیمنٹس، جنہیں سوزش کم کرنے کی خصوصیات کیلئے جانا جاتا ہے، فروزن شولڈر کی علامات میں کمی لاتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ان کے علم کے مطابق ایسی کوئی مخصوص تحقیق موجود نہیں جس سے ثابت ہو کہ ہلدی فروزن شولڈر کے علاج میں مؤثر ہے۔ہلدی اور جوڑوں کے درد پر ہونے والی بیشتر تحقیقات گھٹنے کے اوسٹیو آرتھرائٹس سے متعلق ہیں، جو فروزن شولڈر سے مختلف بیماری ہے۔
تو پھر کونسا علاج مؤثر ہے؟ فزیو تھراپسٹ سیمی مارگوٹ کے مطابق اسٹیرائیڈ انجیکشنز مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کے ذریعے سوزش کم کرنے والی دوا براہِ راست کندھے کے جوڑ میں پہنچائی جاتی ہے، جس سے درد اور سوجن میں کمی آتی ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ علاج کی کامیابی کا انحصار اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ مریض بیماری کے کس مرحلے میں علاج شروع کرتا ہے۔ اگر بیماری کے ابتدائی اور زیادہ تکلیف دہ مرحلے میں انجیکشن لگایا جائے تو اس کے مؤثر ہونے کے شواہد زیادہ ہیں۔ جب درد کی کیفیت کم ہونا شروع ہوجائے تو ورزشیں اور اسٹریچنگ کندھے کی حرکت بحال کرنے کیلئے اہم ہوجاتی ہیں۔ بعض ماہرین انجیکشن کے ساتھ فزیوتھراپی بھی تجویز کرتے ہیں۔
اومیگا تھری اور ہلدی کا امتزاج
کمر درد ان عام تکالیف میں شامل ہے جن سے نجات کیلئے لوگ اکثر درد کش ادویات، غذائی سپلیمنٹس اور متبادل طریقۂ علاج کا سہارا لیتے ہیں۔ زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے میں ہر شخص اس تکلیف کا سامنا کرتا ہے۔ سیمی مارگوٹ کے مطابق بعض سپلیمنٹس کمر درد کی علامات میں بہتری لانے میں ''کچھ کردار‘‘ ادا کرسکتے ہیں۔ ہلدی میں موجود سوزش کم کرنے والا جزو کرکیومِن کمر کی شدید تکلیف میں مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ گزشتہ برس طبی جریدے SAGE میں شائع ہونے والی ایک معیاری تحقیق میں بتایا گیا کہ زیادہ مقدار والی ہلدی کی ایک خوراک، جب اسے بوسویلیا نامی جڑی بوٹی کے ساتھ استعمال کیا گیا، تو زیرِمطالعہ 90 فیصد افراد میں صرف چار گھنٹے کے اندر کمر کے درد میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔