جینزی، برقی گاڑیوں کی دیوانی
اسپیشل فیچر
دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور نئی نسل کے رجحانات بھی اس تبدیلی کی عکاسی کر رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی سے گہری وابستگی رکھنے والی جنریشن زی کے نوجوان اب نقل و حمل کے روایتی ذرائع کو بھی نئے زاویے سے دیکھنے لگے ہیں۔ ایک حالیہ جائزے میں انکشاف ہوا ہے کہ تقریباً ایک چوتھائی نوجوانوں کے نزدیک پیٹرول سے چلنے والی گاڑی رکھنا اب اتنا ہی فرسودہ تصور ہے جتنا کسی گھر میں لینڈ لائن فون رکھنا۔ یہ نوجوان ماحول دوست ٹیکنالوجی اور جدید طرزِ زندگی کو ترجیح دیتے ہوئے الیکٹرک گاڑیوں کو مستقبل کی سواری سمجھتے ہیں، جس سے گاڑیوں کی دنیا میں آنے والی بڑی تبدیلی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
جینزی کے نوجوان مقبول اشیاء کو ''رد‘‘ کرنے کے حوالے سے خاص شہرت رکھتے ہیں، اور اب ان کا تازہ فیصلہ شاید سب سے زیادہ اختلاف پیدا کرنے والا ہو۔ایک نئے سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ تقریباً ایک چوتھائی نوجوانوں کا خیال ہے کہ پیٹرول سے چلنے والی گاڑی رکھنا اتنا ہی فرسودہ ہوچکا ہے جتنا لینڈ لائن فون رکھنا۔''ای اون نیکسٹ‘‘ کی جانب سے کرائے گئے اس سروے میں 1,500 نوجوان ڈرائیوروں سے گاڑیوں کے بارے میں ان کی آرا معلوم کی گئیں۔نتائج سے معلوم ہوا کہ اب نصف سے زیادہ، یعنی 55فیصد نوجوان چاہتے ہیں کہ ان کی پہلی گاڑی الیکٹرک وہیکل (ای وی) ہو۔ الیکٹرک گاڑیوں کے ماہر رابرٹ لیولین کا کہنا ہے کہ یہ نسل اس مفروضے کے ساتھ بڑی نہیں ہو رہی کہ ان کی پہلی گاڑی لازماً پیٹرول سے چلنے والی ہوگی۔ وہ آج دستیاب سہولتوں اور گاڑیوں کو دیکھتے ہوئے عملی انتخاب کر رہے ہیں۔آج پہلے کے مقابلے میں الیکٹرک گاڑیوں کے کہیں زیادہ ماڈلز دستیاب ہیں، گاڑی حاصل کرنے کیلئے نسبتاً سستے طریقے موجود ہیں اور گھر پر چارجنگ کے ذریعے اخراجاتِ سفر کم رکھنے کا موقع بھی ملتا ہے۔
بہت سے نوجوان ڈرائیوروں کیلئے الیکٹرک گاڑی رکھنا مستقبل کے حوالے سے محض ایک علامتی فیصلہ نہیں بلکہ آج کے حالات میں سب سے زیادہ مناسب اور معقول انتخاب ہے۔سروے کیلئے ای اون نیکسٹ نے 17 سے 20 سال عمر کے 1,500 برطانوی نوجوانوں سے الیکٹرک اور پیٹرول گاڑیوں کے بارے میں ان کی رائے دریافت کی۔الیکٹرک گاڑی خریدنے کی خواہش کی سب سے بڑی وجہ اخراجات میں کمی تھی، جس کا ذکر 20 فیصد نوجوانوں نے کیا، جبکہ 19 فیصد نے گھر پر آسانی سے گاڑی چارج کرنے کی سہولت کو اہم وجہ قرار دیا۔پانچ میں سے ایک نوجوان نے کہا کہ وہ خود کو کبھی پیٹرول گاڑی چلاتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے، جبکہ تقریباً دو تہائی نوجوانوں کا خیال ہے کہ ان کی زندگی ہی میں پیٹرول اور ڈیزل گاڑیاں ختم ہوجائیں گی۔24 فیصد نوجوانوں نے یہاں تک کہا کہ وہ نئی پیٹرول یا ڈیزل گاڑی نہیں خریدیں گے، جبکہ 53 فیصد کا کہنا تھا کہ وہ شاید ایسی گاڑیاں معمول کے مطابق چلانے والی آخری نسل ہوں گے۔
''ای اون نیکسٹ‘‘ کی پروپوزیشنز ڈائریکٹر گرین ریگن کے مطابق نصف سے زیادہ نوجوان ڈرائیور اپنی پہلی گاڑی الیکٹرک چاہتے ہیں اور واضح طور پر ایسا لگتا ہے کہ ان کا یہ فیصلہ درست سمت میں ہے۔ ایندھن کے مقابلے میں پہلے سال میں 890 پاؤنڈ تک بچت اور رات کے وقت گھر پر صرف 8 پاؤنڈ میں چارجنگ کی سہولت کے باعث الیکٹرک گاڑی نئی نسل کے ڈرائیوروں کیلئے بتدریج زیادہ قابلِ رسائی انتخاب بنتی جا رہی ہے۔
یہ نتائج حیران کن بھی ہوسکتے ہیں، کیونکہ ایک حالیہ سروے میں انکشاف ہوا تھا کہ جینزی کے بہت سے نوجوان گاڑی چلانے سے خوفزدہ ہیں۔ٹیمپ کور کی جانب سے ماہرین نے نوجوانوں سے ان عام ڈرائیونگ اور موٹرنگ کے کاموں کے بارے میں سروے کیا جنہیں وہ سب سے زیادہ مشکل اور خوفناک سمجھتے ہیں۔پنکچر ہونے کی صورت میں ٹائر تبدیل کرنا نوجوان ڈرائیوروں کا سب سے بڑا خوف سامنے آیا، جبکہ متوازی پارکنگ، چڑھائی پر گاڑی اسٹارٹ کرنا اور موٹروے پر دوسری سڑک سے شامل ہونا بھی سیکڑوں نوجوان ڈرائیوروں کیلئے انتہائی خوفناک ثابت ہوا۔
یہ نتائج جینزی کے بہت سے نوجوانوں کیلئے حیران کن نہیں ہوں گے، کیونکہ وہ باقاعدگی سے ٹک ٹاک پر گاڑی چلانے سے متعلق اپنے خوف اور پریشانیوں کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔آرٹیمس الیکسس کے مطابق''جب آپ کسی نئی جگہ گاڑی لے جانے والے ہوں اور آپ کو وہاں پارکنگ کے بارے میں کچھ معلوم نہ ہو تو اچانک گھبراہٹ طاری ہوجاتی ہے‘‘۔روملی جین نے کہا: ''لوگ ہمیشہ سمجھتے ہیں کہ میں بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہوں، لیکن یہ واقعی بہت خوفناک ہے۔ مجھے یہ بالکل پسند نہیں‘‘۔
''جن زی‘‘ کو گاڑی چلانے کے دوران سب سے زیادہ خوف
پنکچر ٹائر تبدیل کرنا 36 فیصد
بیٹری ختم ہونے پر گاڑی اسٹارٹ کرنا 36 فیصد
متوازی پارکنگ کرنا 24 فیصد
گیراج میں ٹائر کا دباؤ چیک کرکے ہوا بھرنا 22 فیصد
چڑھائی پر گاڑی اسٹارٹ کرنا 22 فیصد
انجن آئل کی سطح چیک کرنا 20 فیصد
انشورنس کمپنی کو فون کرنا یا کلیم دائر کرنا 19 فیصد
موٹروے پر گاڑی چلانا 18 فیصد
موٹروے پر دوسری سڑک سے شامل ہونا 18 فیصد
گاڑی خراب ہونے کی صورت میں امدادی کمپنی کو فون کرنا 18 فیصد