آج کا دن

آج کا دن

اسپیشل فیچر

تحریر :


امریکہ کا نیا نام
9 ستمبر 1776ء کو دوسری کانٹی نینٹل کانگریس نے نئی قائم ہونے والی ریاست کے لیے سرکاری طور پر یونائیٹڈ سٹیٹس کا نام اختیار کیا۔ اس سے پہلے امریکی نوآبادیوں کے اتحاد کے لیے یونائیٹڈ کالونیزکی اصطلاح استعمال ہوتی تھی۔ جولائی 1776ء میں تیرہ برطانوی نوآبادیوں نے برطانیہ سے آزادی کا اعلان کیا تھا۔ اعلانِ آزادی میں بھی ''یونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ‘‘ کی اصطلاح استعمال ہوئی تھی لیکن 9 ستمبر کو کانگریس کے فیصلے نے اسے سرکاری استعمال کے لیے واضح طور پر اختیار کرلیا گیا۔ نام کی تبدیلی اس بات کی علامت تھی کہ یہ علاقے اب خود کو برطانوی سلطنت کی نوآبادیاں نہیں بلکہ آزاد اور متحد ریاستیں سمجھ رے تھے۔
کیلیفورنیا 31ویں ریاست
9 ستمبر 1850ء کو کیلیفورنیا امریکہ کی 31ویں ریاست بن گیا۔ یہ واقعہ امریکی تاریخ میں اس لیے بھی غیر معمولی تھا کہ کیلیفورنیا نے عام نوآبادیاتی یا علاقائی مرحلے سے گزرے بغیر نسبتاً مختصر مدت میں ریاست کا درجہ حاصل کرلیا۔ اس وقت کیلیفورنیا میں سونے کی دریافت کے نتیجے میں آبادی بہت تیزی سے بڑھ رہی تھی اور دنیا کے مختلف حصوں سے ہزاروں لوگ دولت اور نئے مواقع کی تلاش میں وہاں پہنچنے لگے۔ اس عمل کو ''کیلیفورنیا گولڈ رش‘‘ کہا جاتا ہے۔ آبادی میں تیزی سے اضافے نے علاقے کو باقاعدہ ریاست بنانے کی ضرورت پیدا کردی۔ 9 ستمبر کو ریاست بننے کے بعد کیلیفورنیا نے امریکی سیاست، معیشت اور مغربی علاقوں کی ترقی میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔
شمالی کوریا کا قیام
9 ستمبر 1948ء کو جزیرہ نما کوریا کے شمالی حصے میں ڈیموکریٹک پیپلز ریپبلک آف کوریا یعنی شمالی کوریا کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ یہ واقعہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد پیدا ہونے والی عالمی سیاسی کشمکش اور سرد جنگ کے اہم نتائج میں شمار ہوتا ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے اختتام سے پہلے پورا کوریا جاپانی قبضے میں تھا۔ 1945ء میں جاپان کی شکست کے بعد کوریا کو عارضی طور پر 38ویں متوازی لکیر کے قریب دو انتظامی علاقوں میں تقسیم کیا گیا۔ شمالی حصے میں سوویت یونین کا اثر قائم ہوا جبکہ جنوبی حصے میں امریکہ کا اثر بڑھ گیا۔اگست 1948ء میں جنوبی حصے میں جمہوریہ کوریا قائم ہوئی تو اس کے تقریباً ایک ماہ بعد 9 ستمبر کو شمالی حصے میں نئی ریاست کے قیام کا اعلان کردیا گیا۔ کِم اِل سنگ اس نئی ریاست کے مرکزی رہنما بنے۔
اٹیکا جیل بغاوت
9 ستمبر 1971ء کو امریکہ کی ریاست نیویارک میں واقع اٹیکا جیل میں قیدیوں کی ایک بڑی بغاوت شروع ہوئی۔ یہ واقعہ بعد میں امریکی تاریخ میں قیدیوں کے حقوق، جیلوں کے حالات اور ریاستی طاقت کے استعمال کے حوالے سے ایک انتہائی اہم مثال بن گیا۔ اس روز قیدیوں نے جیل کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کرلیا اور درجنوں جیل اہلکاروں کو یرغمال بنالیا۔ بغاوت کے پیچھے جیل کے خراب حالات اور قیدیوں کی شکایات بنیادی عوامل تھے۔ قیدی بہتر طبی سہولتوں، مناسب رہائش، مذہبی آزادی، ملاقات اور خط و کتابت کی سہولت، بہتر خوراک اور انسانی سلوک کا مطالبہ کر رہے تھے۔اٹیکا بغاوت کے بعد امریکی جیلوں کے نظام، قیدیوں کے بنیادی حقوق اور پولیس و ریاستی اداروں کے اختیارات پر طویل بحث شروع ہوئی۔
ماؤ زے تنگ کا انتقال
9 ستمبر 1976ء کو چین کے انقلابی رہنما اور عوامی جمہوریہ چین کے بانی ماؤ زے تنگ کا انتقال ہوگیا۔ وہ 20ویں صدی کی عالمی سیاست کی سب سے بااثر شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی قیادت نے چین کی سیاست، معیشت، سماج اور خارجہ پالیسی پر کئی دہائیوں تک گہرا اثر ڈالا۔ماؤ زے تنگ چینی کمیونسٹ تحریک کے اہم رہنما تھے۔ چینی خانہ جنگی کے دوران انہوں نے کمیونسٹ تحریک کی قیادت کی اور 1949ء میں عوامی جمہوریہ چین کے قیام کے بعد ملک کے سب سے طاقتور سیاسی رہنما بن گئے۔ ان کی حکومت نے چین کے معاشی اور سماجی نظام میں بنیادی تبدیلیاں متعارف کرائیں۔ماؤ کے دور کی دو بڑی مہمات ''گریٹ لیپ فارورڈ‘‘ اور ''کلچرل ریوولوشن‘‘ تھیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
انٹرنیشنل سوڈوکو ڈے

انٹرنیشنل سوڈوکو ڈے

ذہنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے والا دنہر سال 9 ستمبر کو دنیا بھر میں انٹرنیشنل سوڈوکو ڈے (International Sudoku Day) منایا جاتا ہے۔ یہ دن دنیا کے مقبول ترین ذہنی کھیلوں میں شمار ہونے والے سوڈوکو کی اہمیت، مقبولیت اور ذہنی سرگرمی کے طور پر اس کے کردار کو اجاگر کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ سوڈوکو بظاہر اعداد کاایک سادہ سا کھیل ہے لیکن اسے حل کرنے کے لیے توجہ، منطقی سوچ، صبر اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔انٹرنیشنل سوڈوکو ڈے کا انتخاب بھی دلچسپ وجہ سے کیا گیا۔ روایتی سوڈوکو 9×9 خانوں پر مشتمل ہوتا ہے اس لیے 9 ستمبر یعنی 9؍9 اس کھیل کے لیے ایک علامتی تاریخ بن جاتی ہے۔ ورلڈ پزل فیڈریشن نے 2013ء میں 9 ستمبر کو انٹرنیشنل سوڈوکو ڈے کے طور پر مقرر کیا تھا۔سوڈوکو کیا ہے؟سوڈوکو ایک منطق پر مبنی عداد کا کھیل ہے جس میں 9×9 کا گرڈ ہوتا ہے۔ یہ گرڈ مزید نو چھوٹے 3×3 خانوں میں تقسیم ہوتا ہے۔ کھلاڑی کو ایک سے 9 تک کے اعداد اس طرح رکھنے ہوتے ہیں کہ ہر قطار، ہر کالم اور ہر 3×3 خانے میں کوئی عدد دوبارہ نہ آئے۔ کچھ اعداد پہلے سے درج ہوتے ہیں اور انہی اشاروں کی مدد سے باقی خانے مکمل کیے جاتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سوڈوکو کو حل کرنے کے لیے ریاضی کے پیچیدہ فارمولوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اصل ضرورت منطق اور مشاہدے کی ہوتی ہے۔ یہی خصوصیت اسے بچوں، نوجوانوں اور بڑوں سب کے لیے قابلِ رسائی بناتی ہے۔سوڈوکو کی تاریخاگرچہ سوڈوکو کی موجودہ شکل نسبتاً جدید ہے لیکن اس کے بنیادی تصورات کا تعلق عداد پر مبنی پرانے کھیلوں سے ملتا ہے۔ 19ویں صدی کے آخر میں فرانس کے اخبارات میں ایسے معمے شائع ہوتے تھے جن میں موجودہ سوڈوکو سے کچھ مماثلت پائی جاتی تھی۔جدید سوڈوکو کے قریب ترین معمے کو Howard Garnsنے 1979ء میں Number Placeکے نام سے تخلیق کیا۔ بعد میں یہ جاپان پہنچا جہاں اسےSudoku کا نام دیا گیا۔ جاپانی پزل پبلشر اور سوڈوکو کے فروغ میں اہم کردار ادا کرنے والےMaki Kaji نے اس کھیل کو جاپان میں مقبول بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔1990ء کی دہائی کے آخر اور 2000ء کی دہائی کے آغاز میں سوڈوکو نے برطانیہ سمیت مغربی دنیا میں تیزی سے مقبولیت حاصل کی۔ اخبارات نے اسے روزانہ شائع کرنا شروع کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ ایک عالمی سطح پر معروف ذہنی کھیل بن گیا۔انٹرنیشنل سوڈوکو ڈے کی اہمیتاس دن کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ یہ لوگوں کو تفریح کے ساتھ ساتھ ذہنی سرگرمی میں حصہ لینے کی ترغیب دیتا ہے۔ آج کے دور میں جب موبائل فون، سوشل میڈیا اور مختصر ویڈیوز نے ہماری روزمرہ زندگی کا بڑا حصہ لے لیا ہے، سوڈوکو جیسی سرگرمی انسان کو کچھ دیر کے لیے پرسکون انداز میں سوچنے اور توجہ مرکوز کرنے کا موقع دیتی ہے۔سوڈوکو حل کرتے ہوئے کھلاڑی کو ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا پڑتا ہے۔ ایک غلط عدد کئی دوسرے خانوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس لیے یہ کھیل انسان کو جلد بازی کے بجائے غور و فکر اور صبر سے کام لینے کی عادت ڈالتا ہے۔یہ بچوں کے لیے بھی مفید سرگرمی ہو سکتی ہے کیونکہ اس کے ذریعے وہ منطقی انداز میں مسائل کو حل کرنے، امکانات کا جائزہ لینے اور اپنی غلطیوں سے سیکھنے کی مشق کرتے ہیں۔ بالغ افراد بھی اسے اپنے فارغ وقت میں ایک دلچسپ ذہنی مشق کے طور پر اختیار کرتے ہیں۔سوڈوکو صرف اعداد کا کھیل نہیںبہت سے لوگ سوڈوکو کو ریاضی کا کھیل سمجھتے ہیں لیکن حقیقت میں اسے حل کرنے کے لیے اعلیٰ درجے کی ریاضی ضروری نہیں۔ اس کا اصل تعلق منطق سے ہے۔مثلاً اگر کسی قطار میں ایک سے 9 تک آٹھ اعداد موجود ہوں تو کھلاڑی آسانی سے معلوم کر سکتا ہے کہ خالی خانے میں کون سا عدد ہونا چاہیے۔ مشکل پہیلیوں میں یہی عمل متعدد قطاروں، کالموں اور 3×3 خانوں کے درمیان تعلق کو سمجھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔اس طرح سوڈوکو توجہ، یادداشت، مشاہدے اور مسئلہ حل کرنے کی ذہنی مشق فراہم کرتا ہے۔ انٹرنیشنل سوڈوکو ڈے کیسے منایا جاتا ہے؟سوڈوکو ڈے منانے کے لیے کسی بڑی تقریب یا خاص انتظام کی ضرورت نہیں، اس دن کو انتہائی سادہ انداز میں بھی منایا جا سکتا ہے۔ سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ ایک سوڈوکو پزل حل کیا جائے۔ سکولوں میں سوڈوکو مقابلے بھی منعقد کیے جا سکتے ہیں۔ طلبہ کو مختلف سطح کے پزل دیے جا سکتے ہیں۔ اس سے بچوں میں منطقی سوچ اور مسائل حل کرنے کا شوق پیدا ہو گا ۔گھروں میں والدین اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر سوڈوکو حل کر سکتے ہیں۔ یہ خاندان کے افراد کو ایک مشترکہ ذہنی سرگرمی میں شامل کرنے کا اچھا طریقہ ہے۔آج سوڈوکو صرف اخبارات اور کتابوں تک محدود نہیں رہا، موبائل فون اور کمپیوٹر پر بے شمار سوڈوکو ایپس اور آن لائن پلیٹ فارم دستیاب ہیں جہاں آسان سے لے کر انتہائی مشکل پزل تک حل کیے جا سکتے ہیں۔انٹرنیشنل سوڈوکو ڈے ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تفریح ہمیشہ سکرین، ویڈیو یا گیمز تک محدود نہیں ہوتی۔ ایک کاغذ پر بنے 81 خانے بھی انسان کو گھنٹوں مصروف رکھ سکتے ہیں اور اسے سوچنے، غور کرنے اور مسئلہ حل کرنے کا موقع دے سکتے ہیں۔

ہیروشیما ایٹمی دھماکہ

ہیروشیما ایٹمی دھماکہ

ملبے سے ملنے والے نئے راز6 اگست 1945ء کو جاپانی شہر ہیروشیما پر گرایا جانے والا ایٹم بم انسانی تاریخ کے تباہ کن ترین واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ اس ایک دھماکے نے ہزاروں جانیں لیں، شہر کا بیشتر حصہ تباہ کردیا اور انسانی تاریخ پر ایک ایسا زخم چھوڑا جو آج بھی تازہ ہے۔ لیکن آٹھ دہائیوں بعد سائنسدانوں نے اس سانحے کے ملبے میں ایک ایسا غیر معمولی مادہ دریافت کیا ہے جو اس دھماکے کے انتہائی عجیب و غریب طبعی اثرات کی نئی تصویر پیش کرتا ہے۔محققین نے ہیروشیما کے ساحل کی ریت میں موجود شیشے جیسے انتہائی چھوٹے ذرات کا تجزیہ کیا۔ ان ذرات میں ایک تقریباً 10 مائیکرومیٹر چوڑا دھاتی دانہ ملا جس کی کیمیائی ترکیب اور ایٹمی ساخت پہلے کسی معلوم صنعتی مرکب یا سابقہ ایٹمی دھماکے کے ملبے میں رپورٹ نہیں ہوئی تھی۔ اس دریافت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایٹمی دھماکے صرف تباہی ہی نہیں بلکہ انتہائی مختصر وقت کے لیے ایسے حالات بھی پیدا کرسکتے ہیں جن میں غیر معمولی مادے وجود میں آجاتے ہیں۔ہیروشیما کے ملبے میں چھپے شیشے کے ذراتایٹمی دھماکے کے دوران پیدا ہونے والی شدید حرارت نے شہر کی عمارتوں، دھاتوں، مٹی، شیشے اور  دیگر مواد کو پگھلا کر یا بخارات میں تبدیل کرکے ایک دوسرے کے ساتھ ملا دیا۔ دھماکے کے بعد یہ مواد ٹھنڈا ہوا اور انتہائی چھوٹے شیشے جیسے ذرات کی شکل میں زمین پر واپس آیا۔ ان ذرات کو سائنسدان Hiroshimaites کہتے ہیں۔یہ ذرات دراصل ماضی کے اس تباہ کن لمحے کا ایک طرح کا مادی ریکارڈ ہیں۔ ان کے اندر مختلف دھاتوں اور دیگر مواد کے ذرات محفوظ رہ گئے جن سے سائنسدان یہ سمجھ سکتے ہیں کہ دھماکے کے دوران مادے کے ساتھ کیا ہوا تھا۔حالیہ تحقیق میں ماہرین نے ایسے 34 شیشہ نما ذرات کا جائزہ لیا۔ ان میں زیادہ تر دھاتی ٹکڑے لوہے اور کرومیم پر مشتمل تھے اور ان کی ساخت عام فولاد سے مشابہ تھی۔ لیکن ایک چھوٹا سا دانہ باقی سب سے مختلف نکلا۔اس دانے میں بنیادی طور پر آئرن، کرومیم، سلیکان، نکل، مولیبڈینم، مینگنیز اور ایلومینیم موجود تھے۔ صرف یہ بات اسے غیر معمولی نہیں بناتی کیونکہ مختلف دھاتوں پر مشتمل مرکبات پہلے بھی بنائے جاچکے ہیں۔ اصل حیرت اس وقت سامنے آئی جب سائنسدانوں نے دیکھا کہ ان عناصر کے ایٹم کس انداز میں ایک دوسرے کے ساتھ منظم ہوئے تھے۔عام فولاد سے بالکل مختلف ایٹمی ترتیبمحققین نے ان انتہائی چھوٹے ذرات کو خصوصی آلات کی مدد سے الگ کیا اور پھر ان کی اندرونی ساخت کا جائزہ لیا اور ایسے عناصر کا ایک ایسا غیر معمولی امتزاج اور ایٹمی انتظام دریافت کیا جو پہلے معلوم نہیں تھا۔سائنسدانوں کے مطابق اس غیر معمولی مرکب کی تشکیل کو سمجھنے کے لیے دھماکے کے چند لمحوں کے دوران پیدا ہونے والے حالات کو دیکھنا ہوگا۔ہیروشیما کے ایٹمی دھماکے میں درجہ حرارت ہزاروں ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچا۔ اس شدید توانائی نے آس پاس موجود مختلف مواد کو پگھلا دیا یا بخارات میں تبدیل کردیا۔ مختلف ذرائع سے آنے والے دھاتی ایٹم ایک انتہائی گرم بادل میں آپس میں مل گئے۔عام حالات میں مختلف عناصر کو اس طرح یکجا کرکے ایک خاص کرسٹل ساخت بنانا مشکل ہوسکتا ہے ۔ ایٹمی دھماکے کے بعد بننے والا آگ کا گولا تیزی سے پھیلنے اور ٹھنڈا ہونے لگا، اس عمل میں مخلوط دھاتی بخارات دوبارہ ٹھوس ذرات میں تبدیل ہوئے اور انتہائی تیز رفتار ٹھنڈک نے ان کے ایٹمی نظم کو تقریباً اسی حالت میں منجمد کردیا جس میں وہ اس مختصر لمحے میں موجود تھا۔ اسی عمل کوUltrafast quenching کہا جاتا ہے۔ تحقیق کے مطابق نیا مرکب غالباً مخلوط دھاتی بخارات کے گاڑھے ہونے اور پھر انتہائی تیزی سے ٹھنڈا ہونے کے نتیجے میں تشکیل پایا۔ ایٹمی دھماکہ اگرچہ ایک تباہ کن تجربہ تھا لیکن طبیعیات کے نقطہ نظر سے اس نے انتہائی کم وقت کے لیے ایسے حالات پیدا کیے جو عام تجربہ گاہ میں پیدا کرنا بہت مشکل ہیں۔ایک تباہ کن واقعے سے مستقبل کی سائنس تکاس دریافت کی اہمیت صرف اس عجیب و غریب دھاتی دانے تک محدود نہیں، یہ اس بات کا اشارہ بھی ہے کہ انتہائی شدید توانائی، درجہ حرارت اور تیز رفتار ٹھنڈک کے امتزاج سے مادے کی ایسی شکلیں پیدا ہوسکتی ہیں جو عام حالات میں نظر نہیں آتیں۔تحقیق کی ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں جب کسی ایٹمی دھماکے کے ملبے میں غیر معمولی مادہ دریافت ہوا ہو، اس سے قبل امریکی ریاست نیو میکسیکو میں 1945ء کے ٹرینٹی نیوکلیئر ٹیسٹ سے بننے والے شیشے نما ملبہ، جسے trinitite کہا جاتا ہے، میں بھی ایک غیر معمولی کرسٹل دریافت کیا جاچکا ہے۔ اس سے یہ امکان پیدا ہوتا ہے کہ ایٹمی دھماکوں کے ملبے میں مزید ایسے نایاب اور انتہائی چھوٹے مادے موجود ہوسکتے ہیں جنہیں ابھی سائنسدانوں نے دریافت نہیں کیا۔تاہم اس دریافت کو فوری طور پر کسی نئے صنعتی مادے یا مستقبل کی ٹیکنالوجی کا حل سمجھنا قبل از وقت ہوگا۔اس دریافت کا سب سے بڑا سبق شاید یہی ہے کہ مادہ ہماری توقع سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ ایک ہی عنصر مختلف حالات میں مختلف ساختیں اختیار کرسکتا ہے جبکہ کئی معروف عناصر انتہائی غیر معمولی حالات میں مل کر ایسی ترتیب بنا سکتے ہیں جو پہلے کبھی مشاہدے میں نہ آئی ہو۔ہیروشیما کا ملبہ انسانی تباہی کی ایک دردناک یادگار ہے لیکن اس میں محفوظ یہ خوردبینی ذرات سائنسدانوں کو یہ سمجھنے کا ایک نیا موقع فراہم کررہے ہیں کہ انتہائی شدید حالات میں مادہ کیسے تبدیل ہوتا ہے۔ تقریباً 81 سال پہلے رونما ہونے والے ایک تباہ کن واقعے کے اندر چھپا یہ 10 مائیکرومیٹر کا ذراتی راز آج جدید مواد کی سائنس کے لیے ایک حیران کن سوال بن چکا ہے۔

عالمی یومِ خواندگی

عالمی یومِ خواندگی

پاکستان میں تعلیم کی روشنی کہاں تک؟ہر سال 8 ستمبر کو عالمی یومِ خواندگی (International Literacy Day) منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد دنیا کو یہ یاد دلانا ہے کہ پڑھنے لکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت محض ایک تعلیمی ہنر نہیں بلکہ ایک بنیادی انسانی حق ہے۔ یونیسکو کے مطابق خواندگی انسان کو اپنے حقوق سمجھنے، بہتر فیصلے کرنے، معاشی مواقع حاصل کرنے اور معاشرے میں مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے۔ عالمی یومِ خواندگی کا آغاز 1967ء میں ہوا اور رواں سال اس دن کی 60ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔اس سال دنیا بھر میں خواندگی کو بدلتے ہوئے ڈیجیٹل دور کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا جا رہا ہے۔ آج صرف حروف پڑھ لینا کافی نہیں بلکہ انسان کے لیے معلومات کو سمجھنا، درست اور غلط خبر میں فرق کرنا، ڈیجیٹل ذرائع کا ذمہ دارانہ استعمال اور بنیادی حساب کتاب جاننا بھی ضروری ہو چکا ہے۔ پاکستان میں خواندگی کی صورتحالپاکستان کے لیے عالمی یومِ خواندگی محض ایک رسمی دن نہیں بلکہ ایک اہم قومی یاد دہانی ہے۔ ملک نے گزشتہ برسوں میں خواندگی کے میدان میں کچھ پیش رفت ضرور کی ہے تاہم مجموعی صورتحال اب بھی حالات تشویش کا باعث ہیں۔پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کی رپورٹ کے مطابق 10 سال یا اس سے زیادہ عمر کی آبادی میں پاکستان کی شرحِ خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ مردوں میں شرحِ خواندگی 73 فیصد جبکہ خواتین میں 54 فیصد ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ تعلیمی مواقع میں صنفی فرق اب بھی واضح ہے۔شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان بھی نمایاں فرق موجود ہے۔ شہری علاقوں میں شرحِ خواندگی 74 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 55 فیصد ہے۔ خواتین کے معاملے میں یہ فرق مزید نمایاں ہو جاتا ہے۔ شہری خواتین میں خواندگی 68 فیصد ہے جبکہ دیہی خواتین میں یہ شرح تقریباً 44 فیصد ہے۔صوبائی سطح پر بھی صورتحال یکساں نہیں۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق پنجاب تقریباً 68 فیصد شرحِ خواندگی کے ساتھ سب سے آگے ہے، سندھ اور خیبر پختونخوا تقریباً 58 فیصد کے قریب ہیں جبکہ بلوچستان تقریباً 49 فیصد کے ساتھ سب سے پیچھے ہے۔لڑکیوں کی تعلیم اور دیہی علاقوں کے چیلنجزپاکستان میں خواندگی کے فروغ کی سب سے بڑی ضرورت دیہی علاقوں اور خصوصاً لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے محسوس ہوتی ہے۔ غربت، سکولوں کا دور ہونا، محفوظ سفری سہولیات کی کمی، اساتذہ کی کمی، کمزور تعلیمی انفراسٹرکچر اور بعض علاقوں میں سماجی رکاوٹیں بچوں کو تعلیم سے دور رکھنے کی اہم وجوہات ہیں۔لڑکیوں کی تعلیم پر توجہ دینا صرف صنفی مساوات کا معاملہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ترقی کا مسئلہ ہے۔ ایک تعلیم یافتہ ماں اپنے بچوں کی صحت، صفائی، تعلیم اور مستقبل کے بارے میں زیادہ بہتر فیصلے کر سکتی ہے اس لیے خواتین کی خواندگی میں اضافہ اگلی نسل کی تعلیم پر بھی براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔پاکستان میں سکول سے باہر بچوں کی تعداد بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ اکنامک سروے 2025-26 ء کے مطابق پانچ سے 16 سال کی عمر کے سکول سے باہر بچوں کا تناسب 2023 ء کے 38 فیصد سے کم ہو کر 2025ء میں 28 فیصد رہ گیا۔تاہم یہ صورتحال اب بھی تشویش کا باعث ہے کہ ملک میں مجموعی طور پر ڈھائی کروڑ بچے اب بھی سکولوں سے باہر ہیں اور اس حوالے سے عالمی سطح پر پاکستان دوسرے نمبر پر ہے۔اس لیے صرف نئے سکول بنانے، بچوں کو سکول تک لانے، انہیں سکول میں برقرار رکھنے اور معیاری تعلیم فراہم کرنے کا کڑا چیلنج درپیش ہے۔خواندگی کی نئی توجیہاتموجودہ دور میں خواندگی کا تصور روایتی پڑھنے لکھنے سے کہیں آگے بڑھ چکا ہے۔ ایک شخص اگر اپنا نام لکھ سکتا ہے لیکن کسی بینک فارم، دوا کی ہدایت، سرکاری دستاویز یا آن لائن معلومات کو سمجھنے سے قاصر ہے تو اس کی عملی خواندگی محدود ہے۔پاکستان جیسے ملک میں صحت، مالیات اور ڈیجیٹل خواندگی پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ کے بڑھتے ہوئے استعمال نے معلومات تک رسائی آسان تو کی ہے لیکن غلط معلومات، جعلی خبروں اور آن لائن فراڈ کے خطرات بھی بڑھا دیے ہیں لہٰذا نئی نسل کو یہ سکھانا بھی ضروری ہے کہ وہ معلومات حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی صحت اور درستگی کو جانچ سکے۔ کیا کرنا ہوگا؟پاکستان میں خواندگی بڑھانے کے لیے سب سے پہلے تعلیم کو قومی ترجیح بنانا ہوگا۔ حکومت کو سرکاری سکولوں کے معیار، اساتذہ کی تربیت، نصاب، بنیادی سہولیات اور سکولوں تک رسائی پر مسلسل سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔دیہی علاقوں میں بالخصوص لڑکیوں کے لیے قریبی سکول، محفوظ ٹرانسپورٹ، وظائف اور والدین کی حوصلہ افزائی مؤثر اقدامات ثابت ہو سکتے ہیں۔ جو بچے کسی وجہ سے رسمی سکول کا حصہ نہیں بن سکے ان کے لیے بالغ خواندگی مراکز، غیر رسمی تعلیم اور کمیونٹی لرننگ پروگراموں کو مضبوط بنانا بھی ضروری ہے۔ عالمی یومِ خواندگی ہمیں یہ سوچنے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ پاکستان میں تعلیم کے میدان میں پیش رفت کو تیز کیسے کیا جائے۔ایک ایسا پاکستان جہاں ہر بچہ سکول جائے، ہر نوجوان کو معیاری تعلیم اور ہنر حاصل کرنے کا موقع ملے، ہر عورت پڑھ لکھ سکے اور ہر شہری جدید معلومات کو سمجھ کر اپنے فیصلے کر سکے، صرف ایک تعلیمی خواب نہیں بلکہ مضبوط، خوشحال اور بااختیار معاشرے کی بنیاد ہے۔

زمین کی گہرائیوں کے اسرار

زمین کی گہرائیوں کے اسرار

مصنوعی ذہانت نے اندرونی دنیا کا نیا نقشہ کیسے بنایاہم جس زمین پر رہتے ہیں اس کا بڑا حصہ آج بھی انسان کے لیے ایک راز ہے۔ ہم نے سمندروں کی تہہ، بلند ترین پہاڑوں اور خلا کے دور دراز حصوں تک تحقیق کی ہے لیکن زمین کے اندر چند ہزار کلومیٹر کی گہرائی میں موجود دنیا تک براہِ راست پہنچنا اب بھی ہماری ٹیکنالوجی کی پہنچ سے باہر ہے۔ سائنسدان زمین کے اندرونی حصے کو سمجھنے کے لیے زلزلوں سے پیدا ہونے والی لہروں کا سہارا لیتے ہیں کیونکہ یہ لہریں زمین کے مختلف طبقات سے گزرتے ہوئے اپنے راستے اور رفتار میں تبدیلی پیدا کرتی ہیں۔اب چینی سائنسدانوں کی ایک نئی تحقیق نے زمین کے انتہائی گہرے حصے کے بارے میں اہم معلومات فراہم کی ہیں۔ محققین نے مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ کی مدد سے 1990ء سے 2024ء کے دوران دنیا بھر میں ریکارڈ کیے گئے بیس لاکھ سے زائد زلزلوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا۔ اس تجزیے کے دوران تقریباً ایک لاکھ 75 ہزار ایسے انتہائی کمزور زلزلہ سگنلز شناخت کیے گئے جنہیں ''PKP precursors‘‘ کہا جاتا ہے۔ ان سگنلز کی مدد سے زمین کے مینٹل اور کور کے درمیان موجود خطے میں چھ ایسی ممکنہ ساختوں کی نشاندہی ہوئی ہے جنہیں پہلے اس انداز میں دستاویزی شکل نہیں دی گئی تھی۔زمین کے اندر 2,900 کلومیٹر کی گہرائی میں کیا ہو رہا ہے؟زمین کی اندرونی ساخت کئی بڑے حصوں پر مشتمل ہے۔ بیرونی پرت یا کرسٹ، مینٹل، مائع بیرونی کور اور ٹھوس اندرونی کور۔ نئی تحقیق کا مرکز زمین کے مینٹل اور بیرونی کور کے درمیان واقع وہ انتہائی گہرا علاقہ ہے جو سطح سے تقریباً 2900 کلومیٹر نیچے ہے۔یہ وہ مقام ہے جہاں ٹھوس مینٹل کے نیچے انتہائی گرم اور مائع دھاتی بیرونی کور موجود ہے۔ یہاں درجہ حرارت اور دباؤ اس قدر شدید ہوتاہے کہ سطح زمین پر پائی جانے والی چٹانیں ان حالات میں بالکل مختلف خصوصیات اختیار کرسکتی ہیں۔ جب زلزلے کی لہریں ان سے گزرتی ہیں تو ان کی سمت اور رفتارمیں تبدیلی آتی ہے۔ یہ تبدیلیاں محققین کو زمین کے اندر چھپی ساختوں کا سراغ فراہم کرتی ہیں۔مصنوعی ذہانت کا استعمالاس تحقیق کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اتنے بڑے ڈیٹا سیٹ کا تجزیہ روایتی طریقوں سے کرنا انتہائی مشکل تھا۔ PKP precursorsانتہائی کمزور ہوتے ہیں اور انہیں الگ شناخت کرنامحنت طلب کام ہے۔اسی مسئلے کو حل کرنے کے لیے محققین نے مشین لرننگ کا استعمال کیا۔ الگورتھم کو لاکھوں زلزلہ جاتی لہروں کا تجزیہ کرنے کے لیے تربیت دی گئی تاکہ وہ ان انتہائی کمزور سگنلز کو شناخت کرسکے۔ محققین نے مصنوعی ذہانت کے نتائج کی جانچ اور تصحیح بھی کی جس سے نظام کو مزید بہتر بنایا گیا۔نتیجہ حیران کن تھا۔ الگورتھم نے تقریباً 175,000 اعلیٰ معیار کےPKP precursors سگنلز شناخت کیے جو سابقہ مطالعات میں مجموعی طور پر شناخت کیے گئے سگنلز سے تقریباً دس گنا زیادہ ہیں۔ اس وسیع ڈیٹا سے سائنسدان زمین کے نچلے مینٹل اور کور کے قریب موجود غیر معمولی علاقوں کا پہلے سے کہیں زیادہ جامع نقشہ بنانے میں کامیاب ہوئے۔اس نئے نقشے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ ماضی میں زمین کے اندر موجود یہ غیر معمولی علاقے الگ الگ، چھوٹے ٹکڑوں کی شکل میں دکھائی دیتے تھے۔ نئے ڈیٹا سے اشارہ ملتا ہے کہ ان میں سے بعض ممکنہ طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے وسیع علاقوں یا مسلسل پٹیوں کی شکل اختیار کرسکتے ہیں۔ یہ قدیم براعظموں یا سمندری تہہ کے ٹکڑے ہیں؟محققین کے مطابق یہ ساختیں مختلف ارضیاتی عملوں کا نتیجہ ہوسکتی ہیں۔ ایک اہم امکان زمین کی ٹیکٹونک پلیٹس سے متعلق ہے کہ جب ایک سمندری ٹیکٹونک پلیٹ دوسری پلیٹ کے نیچے دھنس جاتی ہے تو اسے subduction کہا جاتا ہے۔ اس عمل میں سمندری پرت، تلچھٹ اور دیگر مادّہ لاکھوں سال کے دوران زمین کے اندر بہت زیادہ گہرائی تک پہنچ سکتا ہے۔ انتہائی دباؤ اور درجہ حرارت کے باعث یہ مادہ کیمیائی اور معدنیاتی طور پر تبدیل ہوسکتا ہے اور اردگرد کے مینٹل سے مختلف خصوصیات اختیار کرسکتا ہے۔زمین کے اندرونی رازوں کی طرف ایک قدمیہ دریافت اس لیے بھی اہم ہے کہ انسان زمین کے اندر چند ہزار کلومیٹر گہرائی تک براہِ راست مشاہدہ نہیں کرسکتا۔ اس کے باوجود زلزلوں کی لہریں ہمیں ایک طرح کا قدرتی سکین فراہم کرتی ہیں۔ ہر زلزلہ زمین کے اندر سے گزرنے والی بے شمار لہروں کے ذریعے اس کے اندرونی ڈھانچے کے بارے میں معلومات چھوڑ جاتا ہے۔مصنوعی ذہانت نے اب ان بے شمار کمزور سگنلز کو ایک ساتھ سمجھنے کی صلاحیت میں بڑا اضافہ کردیا ہے۔ تقریباًایک لاکھ 75ہزار PKP precursors کی شناخت اور چھ نئے ممکنہ علاقوں کا سامنے آنا اس بات کی مثال ہے کہ بڑے پیمانے پر ڈیٹا اور جدید کمپیوٹنگ زمین کے اربوں سال پرانے رازوں کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے۔ ان ساختوں کی اصل نوعیت جاننے کے لیے مزید تحقیق ضروری ہے۔ زمین کے اندرونی حصے کا نقشہ جتنا بہتر ہوگا سائنسدان اتنا ہی بہتر انداز میں سمجھ سکیں گے کہ ہمارے سیارے کی موجودہ ساخت کیسے بنی، ٹیکٹونک پلیٹیں کروڑوں سال کے دوران کہاں گئیں، زمین کے مینٹل میں مادہ کس طرح گردش کرتا ہے اور سطح پر نظر آنے والی ارضیاتی سرگرمیوں کے پیچھے کون سے گہرے عوامل کارفرما ہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

مائیکل اینجلو کے شاہکار کی رونمائی 8 ستمبر 1504ء کو اٹلی کے شہر فلورنس میں عظیم اطالوی فن کار مائیکل اینجلو کا مشہور مجسمہ ''ڈیوڈ‘‘ پہلی مرتبہ عوام کے سامنے پیش کیا گیا۔ یہ مجسمہ سنگِ مرمر کے ایک ہی بڑے ٹکڑے سے تراشا گیا تھا جسے اس سے پہلے دوسرے فن کار مشکل سمجھ کر چھوڑ چکے تھے۔اصل منصوبہ یہ تھا کہ مجسمے کو فلورنس کے گرجا گھر کی عمارت کے ایک بلند حصے پر دیگر مجسموں کے ساتھ نصب کیا جائے لیکن شہر کے حکام اور فنکاروں پر مشتمل ایک کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ اتنا شاندار مجسمہ ایسی جگہ رکھا جائے جہاں عوام اسے قریب سے دیکھ سکیں؛ چنانچہ اسے فلورنس کے مشہور چوک پیاتسا دَلا سینیوریا میں نصب کیا گیا۔بعد میں اصل مجسمے کو محفوظ رکھنے کے لیے اسے فلورنس کی اکیڈیمیا گیلری میں منتقل کر دیا گیا جبکہ اس کی نقل پیاتسا دَلا سینیوریا میں نصب ہے۔ سینٹ آگسٹین کی بنیاد 8 ستمبر 1565ء کو ہسپانوی مہم جُو پیڈرو مینیندیز دے آویلیس نے موجودہ امریکی ریاست فلوریڈا میں سینٹ آگسٹین شہر کی بنیاد رکھی۔پیڈرو مینیندیز کو سپین کے بادشاہ فلپ دوم نے فلوریڈا میں ہسپانوی مفادات کے تحفظ کی ذمہ داری دی تھی۔ اُس وقت فرانس کے کچھ آباد کار بھی فلوریڈا کے علاقے میں موجود تھے اور انہوں نے وہاں اپنی بستی قائم کر رکھی تھی۔ سپین کو خدشہ تھا کہ فرانسیسی آباد کار شمالی امریکہ کے اس حصے میں مستقل قدم جما سکتے ہیں۔ مینیدیز اپنی مہم کے ساتھ فلوریڈا پہنچا اور 8 ستمبر کو وہاں اترنے کے بعد ایک مذہبی تقریب منعقد کی اور اس موقع پر نئی بستی کی بنیاد رکھی گئی۔ بعد میں یہ علاقہ برطانیہ اور پھر امریکہ کے زیرِ اقتدار آیالیکن سینٹ آگسٹین اپنی تاریخی شناخت برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔ اٹلی کی جنگ بندی8 ستمبر 1943ء دوسری جنگِ عظیم کی تاریخ کا ایک فیصلہ کن دن تھا۔ اسی روز اٹلی اور اتحادی طاقتوں کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کیا گیا۔ اٹلی اس سے پہلے جرمنی اور جاپان کے ساتھ محوری طاقتوں کے اتحاد میں شامل تھا لیکن 1943ء میں جنگ کی صورتحال تیزی سے تبدیل ہوگئی۔اتحادی افواج نے جولائی 1943ء میں سسلی پر حملہ کیا۔ اس شکست کے بعد اٹلی میں فاشسٹ حکومت کے خلاف شدید سیاسی دباؤ پیدا ہوا۔ بینیٹو مسولینی کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا اور ایک نئی حکومت قائم ہوئی جس نے اتحادی طاقتوں کے ساتھ خفیہ مذاکرات شروع کیے۔3 ستمبر 1943ء کو سسلی کے قصبے کاسیبیلے میں جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ لینن گراڈ کا محاصرہ8 ستمبر 1941ء کو دوسری جنگِ عظیم کے دوران جرمن افواج نے سوویت شہر لینن گراڈ، جسے آج سینٹ پیٹرزبرگ کہا جاتا ہے، کا محاصرہ شروع کیا۔ یہ انسانی تاریخ کے طویل ترین اور انتہائی تباہ کن فوجی محاصروں میں سے ایک تھا۔لینن گراڈ سوویت یونین کا ایک اہم صنعتی، ثقافتی اور سیاسی مرکز تھا۔ محاصرے کے دوران خوراک، ایندھن اور طبی سامان کی شدید قلت پیدا ہوگئی۔ خاص طور پر 1941ء اور 1942ء کی سخت سردیوں میں حالات انتہائی سنگین ہوگئے۔ بہت سے لوگ بھوک، سردی، بیماری اور مسلسل بمباری کے باعث ہلاک ہوئے۔اس کے باوجود شہر نے جرمن افواج کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے۔محاصرہ تقریباً 872 دن جاری رہا اور جنوری 1944ء میں سوویت افواج نے اسے توڑنے میں کامیابی حاصل کی۔ رچرڈ نکسن کو معافی 8 ستمبر 1974ء کو امریکی صدر جیرالڈ فورڈ نے سابق امریکی صدر رچرڈ نکسن کو مکمل اور غیر مشروط صدارتی معافی دے دی۔ یہ واقعہ جدید امریکی سیاسی تاریخ کے انتہائی متنازع واقعات میں شمار ہوتا ہے اور اس کا تعلق واٹرگیٹ سکینڈل سے تھا۔واٹرگیٹ سکینڈل امریکی سیاست کا ایک بڑا بحران تھا۔ اس سکینڈل کے نتیجے میں نکسن پر سیاسی دباؤ مسلسل بڑھتا گیا۔ امریکی کانگریس میں ان کے خلاف مواخذے کی کارروائی آگے بڑھ رہی تھی۔ بالآخر 9 اگست 1974ء کو رچرڈ نکسن نے امریکی صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ ان کے استعفے کے بعد نائب صدر جیرالڈ فورڈ نے صدر کا منصب سنبھال لیا۔

اے آئی کیمرے والا ٹوتھ برش

اے آئی کیمرے والا ٹوتھ برش

ڈائیسن کی جدید پیشرفتدانتوں کی صفائی کیلئے استعمال ہونے والا عام ٹوتھ برش اب مصنوعی ذہانت کی جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہو کر ایک اسمارٹ ڈیوائس کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ معروف ٹیکنالوجی کمپنی ڈائیسن نے یہ برش متعارف کرایا ہے، جس میں اے آئی سے لیس کیمرا نصب ہے۔ یہ جدید ٹوتھ برش دانتوں اور مسوڑھوں کی صفائی کا جائزہ لینے کے ساتھ صارف کو بہتر برشنگ کیلئے رہنمائی فراہم کرنے کیلئے تیار کیا گیا ہے۔ تاہم اس کی420 پاؤنڈ قیمت نے اسے عام ٹوتھ برش کے مقابلے میں خاصا مہنگا بنا دیا ہے۔ برطانوی کمپنی ڈائیسن اپنے اعلیٰ معیار کے ویکیوم کلینرز کیلئے مشہور ہے، تاہم گزشتہ کچھ عرصے سے اس نے ذاتی نگہداشت کی مصنوعات کے شعبے میں بھی نمایاں پیش رفت کی ہے۔ کمپنی پہلے ہی ہیئر ڈرائیر، ہیئر اسٹریٹنرز، ہاتھ میں پکڑے جانے والے پنکھے اور ایئر پیوریفائر جیسی مصنوعات مارکیٹ میں پیش کرچکی ہے۔ اب ڈائیسن نے ''کیمرہ جیٹ‘‘ کے ذریعے ڈینٹل مصنوعات کی مارکیٹ میں قدم رکھا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ دانت صاف کرنے کا ''بالکل نیا طریقہ‘‘ ہے، جس میں دانتوں کی صفائی اور فلاسنگ کے عمل کو ایک ہی ڈیوائس کے ذریعے انجام دینے کی کوشش کی گئی ہے۔اس ٹوتھ برش کی سب سے نمایاں خصوصیت اس میں نصب کیمرا ہے، جو مصنوعی ذہانت کی مدد سے دانتوں کے درمیان موجود انتہائی باریک خلا کی نشاندہی کرتا ہے۔ جیسے ہی ڈیوائس کسی خلا کا سراغ لگاتی ہے، وہاں منہ صاف کرنے والے محلول کی ایک انتہائی باریک دھار پہنچائی جاتی ہے۔ ڈائیسن کا کہنا ہے کہ اس طریقے سے منہ کے ان حصوں کی صفائی بھی ممکن ہوتی ہے جہاں عام برش کی رسائی مشکل ہوتی ہے اور یہ عمل فلاسنگ جیسا کام کرتا ہے۔کمپنی کے مطابق اس ٹوتھ برش کی تیاری میں چھ سال لگے ہیں اور یہ مارکیٹ میں دستیاب معروف پریمیم الیکٹرک ٹوتھ برشز کے مقابلے میں 69 فیصد تک زیادہ پلاک ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ڈائیسن کے بانی اور چیف انجینئر سر جیمز ڈائیسن کا کہنا ہے کہ کمپنی کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ لوگ عموماً ان مقامات کی صفائی نظرانداز کردیتے ہیں جہاں پلاک زیادہ بنتا ہے، یعنی دانتوں کے درمیان موجود خلا۔ ان کے مطابق کمپنی نے تین بنیادی مسائل حل کرنے کی کوشش کی، دانتوں کے درمیان موجود خلا کو دیکھنا، وہاں سے پلاک ختم کرنا اور برشنگ کے مجموعی عمل کو مزید مؤثر بنانا۔سر جیمز ڈائیسن کے مطابق کیمرے، مشین لرننگ، انتہائی درست سیال ٹیکنالوجی، جدید برشنگ ٹیکنالوجی، کنیکٹیویٹی اور وائی فائی کو یکجا کرکے ڈائیسن کیمرہ جیٹ منہ کی صحت برقرار رکھنے کا ایک بالکل نیا طریقہ پیش کرتا ہے۔تاہم 420 پاؤنڈ کی قیمت نے اس نئی ایجاد کو خاصی مہنگی مصنوعات بنا دیا ہے۔ اس کے علاوہ صارفین کو دو متبادل برش ہیڈز کیلئے مزید 25 پاؤنڈ جبکہ ڈائیسن کے تیار کردہ غیر جھاگ دار ٹوتھ پیسٹ اور ماؤتھ رِنس کیلئے 8.49 پاؤنڈ اضافی ادا کرنا ہوں گے۔اگرچہ بہت سے لوگ ایک ٹوتھ برش پر 420 پاؤنڈ خرچ کرنے سے گریز کرسکتے ہیں، لیکن قیمتوں کے حوالے سے ڈائیسن کی مصنوعات پہلے بھی توجہ کا مرکز بنتی رہی ہیں۔ اس سے قبل کمپنی نے 820 پاؤنڈ مالیت کے ہیڈ فونز بھی متعارف کرائے تھے، جن میں ہوا صاف کرنے کا ایک غیر معمولی نظام نصب کیا گیا تھا۔زیادہ تر دندان ساز روزانہ دانتوں کو فلاس کرنے کی تجویز دیتے ہیں، تاہم تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ عملی طور پر برطانیہ کے صرف 10 فیصد افراد روزانہ فلاسنگ کرتے ہیں۔ فلاسنگ کو آسان بنانے کیلئے ڈائیسن نے اپنا ٹوتھ برش تیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس منصوبے کو مکمل کرنے میں 661 انجینئرز کی ٹیم کو چھ سال لگے۔ ٹوتھ برش میں نصب کیمرا مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے دانت صاف کرتے وقت ہر سیکنڈ میں 28 براہِ راست تصاویر اسکین کرتا ہے۔ جیسے ہی دانتوں کے درمیان کسی خلا کی نشاندہی ہوتی ہے، تقریباً فوری طور پر، یعنی صرف 0.1 سیکنڈ کے اندر، ایک مخروطی شکل کی باریک دھار فعال ہوجاتی ہے، جو اس خلا میں ماؤتھ رِنس اسپرے کرتی ہے۔ تاہم ڈائیسن کے مطابق زیادہ تر واٹر فلاسرز میں سوئی نما دھار استعمال ہوتی ہے، جو دانتوں پر جمی ہوئی ضدی پلاک کو مؤثر طریقے سے ہٹانے میں مشکلات کا سامنا کرتی ہے۔کمپنی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ڈائیسن کے تیار کردہ مصنوعی پلاک پر جب اس قسم کی دھار کا تجربہ کیا گیا تو اس نے پلاک میں سوراخ تو کردیا، لیکن اس کی چپچپاہٹ پر قابو پانے اور اسے مکمل طور پر ہٹانے میں ناکام رہی۔اس کے برعکس ڈائیسن کی مخروطی دھار ایک منفرد، وسیع مخروطی شکل کا اسپرے استعمال کرتی ہے۔ اس کا وسیع پھیلاؤ ایک ہی وقت میں زیادہ حصے کو صاف کرتے ہوئے پلاک کو ہٹا دیتا ہے، جبکہ اسے نسبتاً کم دباؤ پر استعمال کرنے کیلئے تیار کیا گیا ہے تاکہ مسوڑھوں اور دانتوں کی بیرونی تہہ (اینامل) پر زیادہ نرمی سے اثر پڑے۔ماؤتھ رِنس ایک خصوصی 'اینٹی گریوٹی ٹینک‘ میں محفوظ رہتا ہے، جو ٹوتھ برش کو کسی بھی زاویے پر رکھنے کے باوجود مسلسل ماؤتھ رِنس کی دھار خارج کرتا رہتا ہے۔ڈائیسن کے مطابق، ''ہمارا اینٹی گریوٹی ٹینک اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ اس میں ہوا کے خلاکو ختم کیا جاسکے اور ڈیوائس کو خالی فائر کرنے سے روکا جا سکے۔یہ خصوصیت خاص طور پر دانتوں کے پچھلے حصے کی صفائی کے دوران اہم ہے، کیونکہ اس وقت ڈیوائس عموماً افقی پوزیشن میں ہوتی ہے‘‘۔ جب ماؤتھ رِنس کم ہونے لگتا ہے تو ٹوتھ برش کو اس کے ڈاکنگ اسٹیشن پر رکھتے ہی یہ خودکار طور پر دوبارہ بھر جاتا ہے۔ یہی ڈاکنگ اسٹیشن ٹوتھ برش کو چارج کرنے کا کام بھی انجام دیتا ہے۔جہاں تک برش ہیڈ کا تعلق ہے، سر جیمز ڈائیسن نے اس میں دوہری برسلز پر مشتمل ڈیزائن استعمال کیا ہے، جس میں دو مختلف اقسام کے برسلز شامل ہیں۔اندرونی برسلز قدرے سخت ہیں اور دانتوں پر موجود داغ دھبے دور کرنے میں مدد دیتے ہیں، جبکہ بیرونی برسلز نرم رکھے گئے ہیں تاکہ مسوڑھوں پر تکلیف یا خراش پیدا نہ ہو۔ لائیو ویونگ کا آپشن آپ مائی ڈائیسن ایپ کے ذریعے لائیو ویونگ کا آپشن منتخب کرسکتے ہیں، جس سے آپ اپنے منہ کے اندر کی براہِ راست ویڈیو دیکھ سکیں گے۔ ایپ پر صارفین کو رہنمائی کے ساتھ دانتوں کی صفائی، طریقہ استعمال کی ویڈیوز، برشنگ اور فلاسنگ سے متعلق معلومات، صفائی کے احاطے کی نقشہ بندی اور ذاتی نوعیت کی رہنمائی بھی دستیاب ہوگی۔