آج کا دن
اسپیشل فیچر
امریکہ کا نیا نام
9 ستمبر 1776ء کو دوسری کانٹی نینٹل کانگریس نے نئی قائم ہونے والی ریاست کے لیے سرکاری طور پر یونائیٹڈ سٹیٹس کا نام اختیار کیا۔ اس سے پہلے امریکی نوآبادیوں کے اتحاد کے لیے یونائیٹڈ کالونیزکی اصطلاح استعمال ہوتی تھی۔ جولائی 1776ء میں تیرہ برطانوی نوآبادیوں نے برطانیہ سے آزادی کا اعلان کیا تھا۔ اعلانِ آزادی میں بھی ''یونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ‘‘ کی اصطلاح استعمال ہوئی تھی لیکن 9 ستمبر کو کانگریس کے فیصلے نے اسے سرکاری استعمال کے لیے واضح طور پر اختیار کرلیا گیا۔ نام کی تبدیلی اس بات کی علامت تھی کہ یہ علاقے اب خود کو برطانوی سلطنت کی نوآبادیاں نہیں بلکہ آزاد اور متحد ریاستیں سمجھ رے تھے۔
کیلیفورنیا 31ویں ریاست
9 ستمبر 1850ء کو کیلیفورنیا امریکہ کی 31ویں ریاست بن گیا۔ یہ واقعہ امریکی تاریخ میں اس لیے بھی غیر معمولی تھا کہ کیلیفورنیا نے عام نوآبادیاتی یا علاقائی مرحلے سے گزرے بغیر نسبتاً مختصر مدت میں ریاست کا درجہ حاصل کرلیا۔ اس وقت کیلیفورنیا میں سونے کی دریافت کے نتیجے میں آبادی بہت تیزی سے بڑھ رہی تھی اور دنیا کے مختلف حصوں سے ہزاروں لوگ دولت اور نئے مواقع کی تلاش میں وہاں پہنچنے لگے۔ اس عمل کو ''کیلیفورنیا گولڈ رش‘‘ کہا جاتا ہے۔ آبادی میں تیزی سے اضافے نے علاقے کو باقاعدہ ریاست بنانے کی ضرورت پیدا کردی۔ 9 ستمبر کو ریاست بننے کے بعد کیلیفورنیا نے امریکی سیاست، معیشت اور مغربی علاقوں کی ترقی میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔
شمالی کوریا کا قیام
9 ستمبر 1948ء کو جزیرہ نما کوریا کے شمالی حصے میں ڈیموکریٹک پیپلز ریپبلک آف کوریا یعنی شمالی کوریا کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ یہ واقعہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد پیدا ہونے والی عالمی سیاسی کشمکش اور سرد جنگ کے اہم نتائج میں شمار ہوتا ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے اختتام سے پہلے پورا کوریا جاپانی قبضے میں تھا۔ 1945ء میں جاپان کی شکست کے بعد کوریا کو عارضی طور پر 38ویں متوازی لکیر کے قریب دو انتظامی علاقوں میں تقسیم کیا گیا۔ شمالی حصے میں سوویت یونین کا اثر قائم ہوا جبکہ جنوبی حصے میں امریکہ کا اثر بڑھ گیا۔اگست 1948ء میں جنوبی حصے میں جمہوریہ کوریا قائم ہوئی تو اس کے تقریباً ایک ماہ بعد 9 ستمبر کو شمالی حصے میں نئی ریاست کے قیام کا اعلان کردیا گیا۔ کِم اِل سنگ اس نئی ریاست کے مرکزی رہنما بنے۔
اٹیکا جیل بغاوت
9 ستمبر 1971ء کو امریکہ کی ریاست نیویارک میں واقع اٹیکا جیل میں قیدیوں کی ایک بڑی بغاوت شروع ہوئی۔ یہ واقعہ بعد میں امریکی تاریخ میں قیدیوں کے حقوق، جیلوں کے حالات اور ریاستی طاقت کے استعمال کے حوالے سے ایک انتہائی اہم مثال بن گیا۔ اس روز قیدیوں نے جیل کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کرلیا اور درجنوں جیل اہلکاروں کو یرغمال بنالیا۔ بغاوت کے پیچھے جیل کے خراب حالات اور قیدیوں کی شکایات بنیادی عوامل تھے۔ قیدی بہتر طبی سہولتوں، مناسب رہائش، مذہبی آزادی، ملاقات اور خط و کتابت کی سہولت، بہتر خوراک اور انسانی سلوک کا مطالبہ کر رہے تھے۔اٹیکا بغاوت کے بعد امریکی جیلوں کے نظام، قیدیوں کے بنیادی حقوق اور پولیس و ریاستی اداروں کے اختیارات پر طویل بحث شروع ہوئی۔
ماؤ زے تنگ کا انتقال
9 ستمبر 1976ء کو چین کے انقلابی رہنما اور عوامی جمہوریہ چین کے بانی ماؤ زے تنگ کا انتقال ہوگیا۔ وہ 20ویں صدی کی عالمی سیاست کی سب سے بااثر شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی قیادت نے چین کی سیاست، معیشت، سماج اور خارجہ پالیسی پر کئی دہائیوں تک گہرا اثر ڈالا۔ماؤ زے تنگ چینی کمیونسٹ تحریک کے اہم رہنما تھے۔ چینی خانہ جنگی کے دوران انہوں نے کمیونسٹ تحریک کی قیادت کی اور 1949ء میں عوامی جمہوریہ چین کے قیام کے بعد ملک کے سب سے طاقتور سیاسی رہنما بن گئے۔ ان کی حکومت نے چین کے معاشی اور سماجی نظام میں بنیادی تبدیلیاں متعارف کرائیں۔ماؤ کے دور کی دو بڑی مہمات ''گریٹ لیپ فارورڈ‘‘ اور ''کلچرل ریوولوشن‘‘ تھیں۔