ہیروشیما ایٹمی دھماکہ
اسپیشل فیچر
ملبے سے ملنے والے نئے راز
6 اگست 1945ء کو جاپانی شہر ہیروشیما پر گرایا جانے والا ایٹم بم انسانی تاریخ کے تباہ کن ترین واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ اس ایک دھماکے نے ہزاروں جانیں لیں، شہر کا بیشتر حصہ تباہ کردیا اور انسانی تاریخ پر ایک ایسا زخم چھوڑا جو آج بھی تازہ ہے۔ لیکن آٹھ دہائیوں بعد سائنسدانوں نے اس سانحے کے ملبے میں ایک ایسا غیر معمولی مادہ دریافت کیا ہے جو اس دھماکے کے انتہائی عجیب و غریب طبعی اثرات کی نئی تصویر پیش کرتا ہے۔محققین نے ہیروشیما کے ساحل کی ریت میں موجود شیشے جیسے انتہائی چھوٹے ذرات کا تجزیہ کیا۔ ان ذرات میں ایک تقریباً 10 مائیکرومیٹر چوڑا دھاتی دانہ ملا جس کی کیمیائی ترکیب اور ایٹمی ساخت پہلے کسی معلوم صنعتی مرکب یا سابقہ ایٹمی دھماکے کے ملبے میں رپورٹ نہیں ہوئی تھی۔ اس دریافت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایٹمی دھماکے صرف تباہی ہی نہیں بلکہ انتہائی مختصر وقت کے لیے ایسے حالات بھی پیدا کرسکتے ہیں جن میں غیر معمولی مادے وجود میں آجاتے ہیں۔
ہیروشیما کے ملبے میں چھپے شیشے کے ذرات
ایٹمی دھماکے کے دوران پیدا ہونے والی شدید حرارت نے شہر کی عمارتوں، دھاتوں، مٹی، شیشے اور دیگر مواد کو پگھلا کر یا بخارات میں تبدیل کرکے ایک دوسرے کے ساتھ ملا دیا۔ دھماکے کے بعد یہ مواد ٹھنڈا ہوا اور انتہائی چھوٹے شیشے جیسے ذرات کی شکل میں زمین پر واپس آیا۔ ان ذرات کو سائنسدان Hiroshimaites کہتے ہیں۔یہ ذرات دراصل ماضی کے اس تباہ کن لمحے کا ایک طرح کا مادی ریکارڈ ہیں۔ ان کے اندر مختلف دھاتوں اور دیگر مواد کے ذرات محفوظ رہ گئے جن سے سائنسدان یہ سمجھ سکتے ہیں کہ دھماکے کے دوران مادے کے ساتھ کیا ہوا تھا۔حالیہ تحقیق میں ماہرین نے ایسے 34 شیشہ نما ذرات کا جائزہ لیا۔ ان میں زیادہ تر دھاتی ٹکڑے لوہے اور کرومیم پر مشتمل تھے اور ان کی ساخت عام فولاد سے مشابہ تھی۔ لیکن ایک چھوٹا سا دانہ باقی سب سے مختلف نکلا۔اس دانے میں بنیادی طور پر آئرن، کرومیم، سلیکان، نکل، مولیبڈینم، مینگنیز اور ایلومینیم موجود تھے۔ صرف یہ بات اسے غیر معمولی نہیں بناتی کیونکہ مختلف دھاتوں پر مشتمل مرکبات پہلے بھی بنائے جاچکے ہیں۔ اصل حیرت اس وقت سامنے آئی جب سائنسدانوں نے دیکھا کہ ان عناصر کے ایٹم کس انداز میں ایک دوسرے کے ساتھ منظم ہوئے تھے۔
عام فولاد سے بالکل مختلف ایٹمی ترتیب
محققین نے ان انتہائی چھوٹے ذرات کو خصوصی آلات کی مدد سے الگ کیا اور پھر ان کی اندرونی ساخت کا جائزہ لیا اور ایسے عناصر کا ایک ایسا غیر معمولی امتزاج اور ایٹمی انتظام دریافت کیا جو پہلے معلوم نہیں تھا۔سائنسدانوں کے مطابق اس غیر معمولی مرکب کی تشکیل کو سمجھنے کے لیے دھماکے کے چند لمحوں کے دوران پیدا ہونے والے حالات کو دیکھنا ہوگا۔ہیروشیما کے ایٹمی دھماکے میں درجہ حرارت ہزاروں ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچا۔ اس شدید توانائی نے آس پاس موجود مختلف مواد کو پگھلا دیا یا بخارات میں تبدیل کردیا۔ مختلف ذرائع سے آنے والے دھاتی ایٹم ایک انتہائی گرم بادل میں آپس میں مل گئے۔عام حالات میں مختلف عناصر کو اس طرح یکجا کرکے ایک خاص کرسٹل ساخت بنانا مشکل ہوسکتا ہے ۔ ایٹمی دھماکے کے بعد بننے والا آگ کا گولا تیزی سے پھیلنے اور ٹھنڈا ہونے لگا، اس عمل میں مخلوط دھاتی بخارات دوبارہ ٹھوس ذرات میں تبدیل ہوئے اور انتہائی تیز رفتار ٹھنڈک نے ان کے ایٹمی نظم کو تقریباً اسی حالت میں منجمد کردیا جس میں وہ اس مختصر لمحے میں موجود تھا۔ اسی عمل کوUltrafast quenching کہا جاتا ہے۔ تحقیق کے مطابق نیا مرکب غالباً مخلوط دھاتی بخارات کے گاڑھے ہونے اور پھر انتہائی تیزی سے ٹھنڈا ہونے کے نتیجے میں تشکیل پایا۔ ایٹمی دھماکہ اگرچہ ایک تباہ کن تجربہ تھا لیکن طبیعیات کے نقطہ نظر سے اس نے انتہائی کم وقت کے لیے ایسے حالات پیدا کیے جو عام تجربہ گاہ میں پیدا کرنا بہت مشکل ہیں۔
ایک تباہ کن واقعے سے مستقبل کی سائنس تک
اس دریافت کی اہمیت صرف اس عجیب و غریب دھاتی دانے تک محدود نہیں، یہ اس بات کا اشارہ بھی ہے کہ انتہائی شدید توانائی، درجہ حرارت اور تیز رفتار ٹھنڈک کے امتزاج سے مادے کی ایسی شکلیں پیدا ہوسکتی ہیں جو عام حالات میں نظر نہیں آتیں۔تحقیق کی ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں جب کسی ایٹمی دھماکے کے ملبے میں غیر معمولی مادہ دریافت ہوا ہو، اس سے قبل امریکی ریاست نیو میکسیکو میں 1945ء کے ٹرینٹی نیوکلیئر ٹیسٹ سے بننے والے شیشے نما ملبہ، جسے trinitite کہا جاتا ہے، میں بھی ایک غیر معمولی کرسٹل دریافت کیا جاچکا ہے۔ اس سے یہ امکان پیدا ہوتا ہے کہ ایٹمی دھماکوں کے ملبے میں مزید ایسے نایاب اور انتہائی چھوٹے مادے موجود ہوسکتے ہیں جنہیں ابھی سائنسدانوں نے دریافت نہیں کیا۔تاہم اس دریافت کو فوری طور پر کسی نئے صنعتی مادے یا مستقبل کی ٹیکنالوجی کا حل سمجھنا قبل از وقت ہوگا۔اس دریافت کا سب سے بڑا سبق شاید یہی ہے کہ مادہ ہماری توقع سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ ایک ہی عنصر مختلف حالات میں مختلف ساختیں اختیار کرسکتا ہے جبکہ کئی معروف عناصر انتہائی غیر معمولی حالات میں مل کر ایسی ترتیب بنا سکتے ہیں جو پہلے کبھی مشاہدے میں نہ آئی ہو۔ہیروشیما کا ملبہ انسانی تباہی کی ایک دردناک یادگار ہے لیکن اس میں محفوظ یہ خوردبینی ذرات سائنسدانوں کو یہ سمجھنے کا ایک نیا موقع فراہم کررہے ہیں کہ انتہائی شدید حالات میں مادہ کیسے تبدیل ہوتا ہے۔ تقریباً 81 سال پہلے رونما ہونے والے ایک تباہ کن واقعے کے اندر چھپا یہ 10 مائیکرومیٹر کا ذراتی راز آج جدید مواد کی سائنس کے لیے ایک حیران کن سوال بن چکا ہے۔