انسان کی بنائی ذہانت انسان کی دشمن؟
اسپیشل فیچر
مصنوعی ذہانت نے انسانی زندگی کو آسان بنانے سے لے کر پیچیدہ ترین مسائل حل کرنے تک اپنی حیرت انگیز صلاحیت ثابت کردی ہے، مگر یہی ٹیکنالوجی اب ایک ایسے سوال کو جنم دے رہی ہے جس نے سائنسدانوں اور ماہرین کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اگر مصنوعی ذہانت انسان سے کہیں زیادہ ذہین ہوگئی تو کیا وہ خود اپنے خالق کیلئے خطرہ بن سکتی ہے؟ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ انتہائی ذہین اے آئی نظام اگر انسانی مفادات اور قابو سے باہر ہوگئے تو وہ ایسے فیصلے کرنے کی صلاحیت حاصل کرسکتے ہیں جن کے نتائج پوری نسل انسانی کیلئے تباہ کن ثابت ہوں۔ یوں انسان کی اپنی تخلیق کردہ ذہانت مستقبل میں اس کے وجود کیلئے سب سے بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔
سان فرانسسکو میں قائم اے آئی کمپنی Anthropic میں جدید ترین مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی تربیت میں معاونت کرنے والے جیکب کوکسن نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ اے آئی کی طاقت کو ''کم نہ سمجھیں‘‘، خصوصاً اس صورت میں جب یہ ٹیکنالوجی ''انتہائی ذہین‘‘ بن جائے۔ کوکسن کا دعویٰ ہے کہ Anthropic، جو اے آئی نظام Claude تیار کرنے والی کمپنی ہے، اور ChatGPT کی خالق کمپنی OpenAI، دونوں ہی اے آئی کی حفاظت کے معاملے میں ''ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار نہیں کر رہیں‘‘۔
لیکن آخر یہ ٹیکنالوجی انسانیت کے خاتمے کا باعث کیسے بن سکتی ہے؟ماہرین کے مطابق انسانیت کی تباہی کے کئی ممکنہ راستے موجود ہیں جو درج ذیل ہیں۔
اہم نظاموں کی ہیکنگ
انتہائی ذہین مصنوعی ذہانت سے لاحق زیادہ تر خطرات کی بنیاد اس مسئلے میں ہے جسے ماہرین ''الائنمنٹ پرابلم‘‘ کہتے ہیں۔ بنیادی تصور یہ ہے کہ جب ہم انسانوں سے زیادہ ذہین اے آئی تیار کرلیں گے تو شاید اس بات کو یقینی بنانا مشکل ہوجائے کہ اس کے مقاصد اور ترجیحات انسانی مفادات کے مطابق رہیں۔ دنیا کو حال ہی میں ان خطرات کی ایک واضح جھلک اس وقت دیکھنے کو ملی جب OpenAI کے تیار کردہ ایک ہزار سے زائد بے قابو اے آئی بوٹس اپنے محفوظ ماحول سے باہر نکل گئے اور اوپن سورس ماڈلز کی میزبانی کرنے والی عوامی ویب سائٹ ''Hugging Face‘‘ کو ہیک کر لیا۔ ان بوٹس کو اس پر حملہ کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا بلکہ انہیں غلطی سے ایک ایسا کام سونپ دیا گیا تھا جسے پورا کرنا ممکن نہیں تھا۔ چنانچہ انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس مسئلے کو حل کرنے کا بہترین طریقہ جوابات چوری کرنا ہے۔ بعض محققین کو خدشہ ہے کہ زیادہ طاقتور اے آئی ماڈلز میں بھی یہی الائنمنٹ کی خرابی کہیں زیادہ تباہ کن پیمانے پر پیدا ہوسکتی ہے۔
برمنگھم یونیورسٹی کے مصنوعی ذہانت کے ماہر پروفیسر مارک لی کے مطابق یہ خطرہ ''مسلح روبوٹس‘‘ سے بھی زیادہ بڑا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ بڑی اے آئی کمپنیاں ایسی مصنوعی ذہانت تیار کرنے کی دوڑ میں ہیں جو انسانوں جتنی یا ان سے بھی زیادہ ذہین ہو، ہمارے پاس انہیں قابو میں رکھنے کے ذرائع موجود نہیں ہیں‘‘۔
معاشرتی انتشار اور افراتفری پیدا کرنا
بے قابو مصنوعی ذہانت کو انسانیت کے خاتمے کا سبب بننے کیلئے براہِ راست انسانوں کو نقصان پہنچانا بھی ضروری نہیں۔ یہ ٹیکنالوجی معاشرے میں ایسی افراتفری پیدا کر سکتی ہے جو ہماری موجودہ زندگی کے نظام کو ہی بدل کر رکھ دے۔ سرے انسٹی ٹیوٹ فار پیپل سینٹرڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ڈاکٹر اینڈریو روگوئسکی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایک ''واقعی ذہین اے آئی یہ سمجھ لے گی کہ وہ انسانیت پر منحصر ہے اور انسان بھی اس پر انحصار کرتے ہیں۔ ہمیں اپنے مطلوبہ کام انجام دینے کیلئے اے آئی کی ضرورت ہوگی، جبکہ اے آئی کو خام مال، بجلی، ٹھنڈک، نیٹ ورکس اور ڈیٹا کیلئے ہماری ضرورت ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ممکنہ طور پر کسی انتہائی ذہین اے آئی کیلئے انسانیت کو ایک تباہ کن جنگ یا کسی ہولناک حادثے کے ذریعے ختم کرنا اس کے اپنے بہترین مفاد میں نہیں ہو گا۔
جوہری جنگ بھڑکانے کا خطرہ
جب یہ بات سامنے آتی ہے کہ مصنوعی ذہانت موجودہ دنیا میں انسانی زندگی کے خاتمے کا سبب عملی طور پر کیسے بن سکتی ہے تو سب سے واضح خطرات ان ہتھیاروں سے وابستہ ہیں جو پہلے ہی ہمارے پاس موجود ہیں۔ اس وقت دنیا کے نو ممالک جوہری ہتھیار رکھتے ہیں اور ان کے پاس مجموعی طور پر تقریباً 12,187 جوہری وار ہیڈز موجود ہیں۔ اگر ان میں سے کسی ایک ملک میں انتہائی غیر ہم آہنگ یا بے قابو مصنوعی ذہانت نظام کا کنٹرول حاصل کر لے تو یہ ہتھیار انسانیت کے خلاف استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
تشویش کی بات یہ ہے کہ اے آئی کے مقاصد اور انسانی مفادات کے درمیان عدم مطابقت کے باعث کسی انتہائی ذہین اے آئی کا بدنیت ہونا بھی ضروری نہیں کہ وہ ایسی تباہی کا سبب بنے۔ مثلاً کوئی اے آئی اپنے مالک کے منافع میں اضافے کیلئے اسٹاک مارکیٹ میں ایسی ہلچل پیدا کرنے کی کوشش کر سکتا ہے جس کے نتیجے میں حالات قابو سے باہر ہو جائیں، یا عالمی درجہ حرارت کم کرنے کیلئے یہ غیر متوقع نتیجہ اخذ کر سکتا ہے ۔ تاہم، یہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب طاقتور ممالک جنگی نظاموں میں مصنوعی ذہانت شامل کرنے کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
جان لیوا حیاتیاتی ہتھیاروں کا خطرہ
آخرکار مصنوعی ذہانت انسانیت کو اپنی خواہشات کے تحت تباہ کرنے کے بجائے خطرناک آلات ایسے لوگوں کے ہاتھ میں پہنچا کر بھی تباہی کا سبب بن سکتی ہے جو انہیں استعمال کرنے پر آمادہ ہوں۔ ماضی میں خطرناک بیکٹیریا یا وائرس کو بطور ہتھیار تیار کرنے کیلئے عموماً پوری پوری ریاستوں کی اجتماعی علمی صلاحیت، مہارت اور مالی وسائل درکار ہوتے تھے۔ تاہم ماہرین بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے جدید آلات نے مہلک حیاتیاتی ہتھیار تیار کرنا کہیں زیادہ آسان بنا دیا ہے۔ پروفیسر لی کا کہنا ہے کہ زیادہ حقیقی خطرہ دہشت گردوں یا بے قابو ریاستوں جیسے عناصر سے ہے، جو اے آئی کی مدد سے ایسا نیا وائرس تیار کرسکتے ہیں جو ایک اور، پہلے سے زیادہ مہلک عالمی وبا کا باعث بن جائے۔
Anthropic نے انکشاف کیا ہے کہ اسے اپنے Claude ماڈل کو حیاتیاتی ہتھیار تیار کرنے کیلئے استعمال کرنے کی ''بدنیتی پر مبنی‘‘ کوششوں کو ناکام بنانا پڑا۔ کمپنی کے مطابق اسے ایسے پانچ واقعات کا پتا چلا جن میں صارفین نے ایسی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جو حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری میں معاون ثابت ہوسکتی تھیں۔ یہ انکشاف ایک ایسی رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں خبردار کیا گیا تھا کہ مارکیٹ میں عام دستیاب ''آف دی شیلف‘‘ اے آئی ماڈلز میں معمولی تبدیلیاں کرکے ان کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرنا ممکن ہے۔