انکم ٹیکس والے
اسپیشل فیچر
منکر نکیر اور محکمہ انکم ٹیکس کے انسپکٹروں میں یہی فرق ہے کہ منکر نکیر مرنے کے بعد حساب مانگتے ہیں اور موخر الذکر مرنے سے پہلے۔ بلکہ یہ کہ منکر نکیر صرف ایک بار مانگتے ہیں اور انکم ٹیکس کے انسپکٹر بار بار نیز یہ کہ منکر نکیر گناہوں کا حساب لیتے وقت ثواب کو نظر انداز نہیں کرتے مگر انکم ٹیکس تجویز کرنے والے صرف گناہوں میں دلچسپی رکھتے ہیں، ثواب سے انہیں کوئی سروکار نہیں۔ آمدنی کو گناہ میں اشتراکیوں کی اصطلاح میں کہہ رہا ہوں۔ ملاحظہ ہو ایک اشتراکی فلاسفر کا نظریہ کہ ''تمام صاحب جائیداد چور ہیں‘‘۔
ادھر مارچ کا مہینہ آیا ادھر ان کے پیام آنے شروع ہو ئے کہ صاحب ایک ہفتے کے اندر اندر آمدنی کا نقشہ پر کر کے دفتر میں بھیج دیجئے۔ ورنہ آپ پر زیر دفعہ ''فلاں‘‘ مقدمہ چلایا جائے گا۔ اسے کہتے ہیں مفت خوری اور سینہ زوری۔ بھلا کوئی ان سے پوچھے کہ صاحب جب ہم سارا دن دفتر میں پنسل گھساتے تھے، افسروں کی جھڑکیاں سہتے تھے، سپرنٹنڈنٹوں کے ناز اٹھاتے تھے اس وقت آپ کہاں تھے۔ کبھی پھوٹے منہ سے یہ نہ کہا، ''لاؤ ان رقموں کی میزان میں کردوں، یا اس فائل سے میں نپٹ لوں گا۔‘‘ اور جب پیسوں کامنہ دیکھنا نصیب ہوا تو آپ آ دھمکے اور لگے رعب جمانے کہ ہمارا حصہ لاؤ۔ اگر عاجزی سے مانگیں تو کوئی عیب نہیں کہ راہ خدا ہم غریبوں کو بھی دو ''ہے ملی گر تم کو ثروت چند روز‘‘۔
مگر صرف مطالبے پر ہی معاملہ ختم نہیں ہو جاتا، آمدنی کا نقشہ پر کرنے کے بعد ایک دن دفتر میں بھی تشریف لائیے تاکہ اندراج کی تصدیق کی جا سکے۔ اور جب آپ اپنا قیمتی وقت ضائع کر کے وہاں جاتے ہیں تو آپ کی کیا گت بنائی جاتی ہے؟ برآمدے میں جہاں آپ کو گھنٹوں انتظار کرنا ہے، کوئی بینچ یا کرسی نہیں۔ دوسرے جتنا عرصہ آپ برآمدے میں کھڑے رہتے ہیں دفتر میں کام کرنے والے بابو اور چپڑاسی آپ کو اس طرح گھور گھور کر دیکھتے ہیں گویا آپ جیل سے بھاگے ہوئے مجرم ہیں۔ مگر سب سے بڑی کوفت یہ کہ محکمہ انکم ٹیکس کے انسپکٹر اپنے آپ کو فرعون یا کم از کم ہٹلر سے کم نہیں سمجھتے، اس لئے جب آپ جھک کر سلام بجالاتے ہیں تو وہ یا تو منہ دوسری طرف پھیر لیتے ہیں یا پھر سگار کا دھواں آپ کے منہ کی طرف چھوڑتے ہوئے آپ پر یوں نگاہ غلط انداز ڈالتے ہیں جیسے آپ انسان نہیں بلکہ رینگنے والے کیڑے اور اس کے بعد گستاخانہ استفسارات کا سلسلہ۔
''یہ نقشہ آپ نے پر کیا ہے‘‘
''جی ہاں‘‘
''آپ ہی کا نام ہے دین دیال‘‘
''جی ہاں‘‘
''آپ کہاں پروفیسر ہیں‘‘
''کلچرل کالج میں‘‘
''آپ کی تنخواہ‘‘
''ایک سو بیس روپیہ ماہانہ‘‘
اور آپ دل ہی دل میں جھنجلا کر کہتے ہیں، کم بخت اندھا ہے، پڑھ نہیں سکتا؟ نقشے میں ان تمام سوالوں کے جواب لکھ تو دیئے تھے۔ اس قسم کے تین چار بے ضرر سوالات کرنے کے بعد آمدم بر سر مطلب والا معاملہ شروع ہوتا ہے۔
''ہاں تو آپ نے تنخواہ کے علاوہ اپنی بالائی آمدنی کیوں نہیں دکھائی‘‘۔
''جناب‘‘ آپ منکسرانہ لہجے میں کہتے ہیں، ''تنخواہ کے علاوہ میری کوئی اور آمدنی نہیں‘‘۔
''ہوں‘‘ وہ منہ سے پائپ یا سگار نکال کر طنزیہ انداز میں فرماتے ہیں، ''اور وہ جو جناب نے کبوتر نامہ لکھا تھا، اس کی رائلٹی کیا ہوئی‘‘۔
''جی کیا عرض کروں، بندہ پرور، سال بھر میں کل تین کاپیاں فروخت ہوئیں جن پر ساڑھے تیرہ آنے رائلٹی ملی‘‘۔
''ساڑھے تیرہ آنے سے مطلب نہیں‘‘۔ وہ گرج کر فرماتے ہیں، ''آمدنی کے نقشے میں اسے بھی دکھانا چاہئے‘‘۔
آپ دبی زبان سے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہیں۔ وہ غرا کر پھر پوچھتے ہیں۔
''اور وہ جو آپ کو ریڈیو سے معاوضہ ملا، وہ کیوں نہیں دکھایا‘‘۔
''اجی حضرت وہ کیا معاوضہ تھا۔ ڈھائی منٹ کیلئے بچوں کے ایک فیچر پروگرام میں گیدڑ کا پارٹ ادا کیا تھا۔ جس کے ڈھائی روپے ملے۔ ا ب میں وہ کیا آمدنی کے نقشہ میں دکھاتا‘‘۔
وہ اسی فرعونیت کے ساتھ جواب دیتے ہیں، ''کچھ بھی ہو اندراج مکمل ہونا چاہئے‘‘۔
چند ثانیوں کی اذیت بخش خاموشی کے بعد وہ پھر آپ سے مخاطب ہوتے ہیں، ''ہاں اور وہ جو آپ رائے بہادر مستیا مل کی لڑکی کو بطور معلم پڑھاتے رہے، وہ ٹیوشن فیس آپ نے درج نہیں کی‘‘۔''جناب، رائے بہادر بیس روپے ماہوار ہی تو دیتے تھے اور ان کی کوٹھی تھی غریب خانے سے چھ میل دور، پندرہ روپے ماہوار تانگے والا لے لیتا۔ باقی رہے پانچ۔ ان سے بمشکل سگریٹ پان کا خرچ چلتا‘‘۔
مگر وہ دہاڑ کر کہتے ہیں،''آمدنی آمدنی ہے، پانچ ہو یا پچاس‘‘۔اور آپ بے حد مرعوب ہوکر سوچنے لگتے ہیں، یہ کم بخت انکم ٹیکس والے حساب دان ہونے کے علاوہ غضب کے سراغ رساں بھی ہیں۔ آپ کی آمدنی کے متعلق آپ سے بھی زیادہ جانتے ہیں۔