بوسنیا، عثمانی فتوحات کی یادگار سرزمین
اسپیشل فیچر
مشرقی یورپ کے نقشے پر واقع بوسنیا اپنی تاریخ، اسلامی تہذیب، قدرتی حسن اور جغرافیائی اہمیت کے باعث ایک منفرد ملک کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس خطے نے صدیوں کے دوران مختلف تہذیبوں اور سلطنتوں کے عروج و زوال کا مشاہدہ کیا، تاہم عثمانی ترکوں کی آمد نے بوسنیا کی تاریخ کا ایک نیا باب رقم کیا۔ 1398ء میں بوسنیا میں عثمانی ترکوں کی فتوحات کا آغاز ہوا۔ اس وقت خطے کی مختلف عیسائی ریاستیں متحد ہو کر بھی عثمانی لشکر کے مقابلے میں زیادہ دیر تک مزاحمت نہ کرسکیں۔ یوں بوسنیا کی عیسائی مملکت کے زوال کا آغاز ہوگیا اور بالآخر سلطان محمد فاتح کے عہد حکومت میں 1463ء میں بوسنیا کی فتوحات مکمل ہوئیں۔
عثمانی فتوحات کے دوران بوسنیا کے مقامی باشندوں، خصوصاً لوگومل قبائل نے اہم کردار ادا کیا۔ عثمانی اقتدار کے قیام کے ساتھ ہی اسلام کی دعوت اور اسلامی تہذیب کے اثرات بھی اس خطے میں پھیلنے لگے۔ مقامی آبادی بڑی تعداد میں حلقہ بگوش اسلام ہونے لگی اور رفتہ رفتہ بوسنیا یورپ میں مسلم تہذیب کا ایک اہم مرکز بن گیا۔
پاکستان میں تعینات رہنے والی بوسنیا کی پہلی سفیر محترمہ ساجدہ سلاجک کے مطابق، معروف صوفی بزرگ حضرت شہاب الدین سہروردیؒ بھی بوسنیا تشریف لے گئے تھے۔ ان کے بقول جب بوسنیا عثمانی سلطنت کا حصہ بنا تو بڑی تعداد میں لوگ اسلام میں داخل ہونے لگے۔ یہاں تک کہ ایک روایت کے مطابق ایک ہی روز 26 ہزار بوسنی باشندوں نے اسلام قبول کیا۔ یہ واقعات اس خطے میں اسلام کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی ایک اہم تاریخی جھلک پیش کرتے ہیں۔
راقم کو بوسنیا کے سفر کے دوران حضرت محمد بہاؤالدین شاہ نقشبندؒ کے مزار پر حاضری کا موقع بھی ملا۔ یہ مزار بوسنیا کے دوسرے بڑے شہر موستار سے تقریباً دس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ مزار ایک مسجد سے ملحق اور پہاڑ کے دامن میں قائم ہے۔ مسجد کے بالکل نیچے سے دریائے بونا اپنے سفر کا آغاز کرتا ہے۔ یہ مقام بوسنیا کے قدرتی حسن، روحانی وابستگی اور اسلامی تاریخ کا خوبصورت امتزاج محسوس ہوتا ہے۔
جغرافیائی اعتبار سے بوسنیا مشرقی یورپ میں واقع ہے۔ اس کے مشرق میں سربیا، شمال اور مغرب میں کروشیا جبکہ جنوب میں مونٹی نیگرو واقع ہے۔ بوسنیا کو بحیرہ ایڈریاٹک تک بھی رسائی حاصل ہے، اگرچہ اس کا ساحلی علاقہ نہایت مختصر ہے۔ ملک کا بیشتر حصہ سرسبز پہاڑوں، گھنے درختوں، دریاؤں اور قدرتی چشموں پر مشتمل ہے، جس کی وجہ سے یہاں کے مناظر انتہائی دلکش دکھائی دیتے ہیں۔
بوسنیا قدرتی معدنی وسائل سے بھی مالا مال ہے۔ یہاں کوئلہ، لوہا، تانبا، جست، کرومائیٹ اور نمک کے ذخائر وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ دریاؤں کی فراوانی کے باعث پن بجلی بھی بڑی مقدار میں پیدا کی جاتی ہے۔ ملک کی معیشت میں ملازمت اور تجارت کے ساتھ ساتھ زراعت، ماہی گیری اور مویشی پالنے کا بھی اہم کردار ہے۔
2008ء میں راقم کے قیام کے دوران حکومت پاکستان نے اپنے سفارت خانے کے ذریعے بوسنیا کے کاشتکاروں کو 225 چھوٹے زرعی ٹریکٹر تحفتاً فراہم کیے۔ اس اقدام سے دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کے ساتھ ساتھ زرعی شعبے میں تعاون کو بھی فروغ ملا۔ بوسنیا کی زمین کا ایک بڑا حصہ چراگاہوں اور سرسبز مرغزاروں پر مشتمل ہے، جو مویشی پالنے کیلئے موزوں ماحول فراہم کرتے ہیں۔
بوسنیا کی تاریخ میں عثمانی دور اور اسلام کا پھیلاؤ آج بھی اس ملک کی تہذیب، ثقافت، مساجد، مزارات اور طرزِ زندگی میں نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ سرسبز پہاڑوں، بہتے دریاؤں، تاریخی شہروں اور اسلامی آثار سے مزین یہ خطہ یورپ میں مسلمانوں کی تاریخ اور تہذیبی ورثے کی ایک خوبصورت علامت ہے۔