لارا لپا لارا لپا لائی رکھدا : مینا شوری نے ایک ہی گانے سے پورے ہندوستان میں تہلکہ مچا دیا
اسپیشل فیچر
تقسیم ہند کے بعدکئی مسلمان اداکار اور اداکارائیں پاکستان آ گئے۔ کچھ فنکار تقسیم کے فوری بعد ہجرت کرکے پاکستان نہیں آئے بلکہ کچھ عرصہ ہندوستان میں قیام کے بعدان لوگوں نے پاکستان کی راہ لی۔ ان میں ایک فنکار، مینا شوری بھی تھیں جو 40ء اور50ء کی دہائی میں ہندوستان اور پاکستان کی مشہور ترین ہیروئن تھیں۔1921ء میں رائیونڈ میں پیدا ہونیوالی میناشوری کا اصل نام خورشید جہاں تھا۔ جب وہ اپنی بہن کے ساتھ ممبئی شفٹ ہوئیں تو ان کی ملاقات ہندوستان کے مشہور اداکار اورفلم میکر سہراب مودی سے ہوئی۔ اس وقت وہ فلم ’’سکندر‘‘ بنانے کا سوچ رہے تھے۔ سہراب مودی نے مینا شوری کی چھپی صلاحیتوں کو بھانپ لیا اور ’’سکندر‘‘ میں کاسٹ کرلیا۔ ’’سکندر‘‘ کا مرکزی کردار پرتھوی راج کپور ادا کر رہے تھے۔ ’’سکندر‘‘ سپرہٹ ثابت ہوئی اوراس کے ساتھ ہی مینا شوری کی شاندار کامیابیوں کا سفر شروع ہو گیا۔ 1949ء میں روپ کے شوری کی فلم ’’ایک تھی لڑکی‘‘ ریلیز ہوئی جوزبردست کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ اس فلم میں مینا شوری ہیروئن تھیں اورموتی لال ان کے ہیرو تھے۔ اس فلم کا ایک کورس بے حد مشہورہوا۔’’لارا لپا لارا لپا لائی رکھدا‘‘ اس کورس کو لتا منگیشکر اور دیگر ساتھی گلوکارائوں نے گایا تھا۔ اس کورس نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کیے اور اس کی شہرت 65 برس گزرنے کے بعد بھی برقرار ہے۔ اس کورس کو لتا منگیشکر آج بھی یاد کرتی ہیں۔ ’’ایک تھی لڑکی‘‘ کی موسیقی ونود نے مرتب کی تھی جنہیں لوگ بالکل فراموش کرچکے ہیں۔ لتا منگیشکر نے ایک مرتبہ بھارتی ٹی وی پر ایک پروگرام کے دوران اس امر پر افسوس کا اظہار کیا تھا کہ ہم لوگ اپنے کئی ایسے فنکاروںکو بھول جاتے ہیں جنہوں نے قابل قدرخدمات سرانجام دیں۔ مذکورہ بالا کورس مینا شوری اوران کی ساتھی اداکارائوں پر فلمبند کیا گیا اور اس کی پکچرائزیشن بھی نہایت عمدہ تھی۔ مینا شوری نے کمال مہارت سے یہ کورس عکس بند کروایا۔ اس کے بعدمینا شوری کو ’’لارا لپا گرل‘‘ کا خطاب دے دیا گیا۔ اس فلم کے بعد انہوںنے روپ کے شوری سے شادی کرلی اور پھر انہیں مینا شوری کے نام سے پکارا جانے لگا۔ یہ مینا شوری کی خوش بختی تھی کہ انہوںنے پرتھوی راج اورموتی لال جیسے اداکاروں کے ساتھ کام کیا۔ موتی لال کے ساتھ انہوں نے ایک اور فلم ’’ایک دو تین‘‘ میں بھی کام کیا۔ وہ بھارتی فلمی صنعت کی سب سے زیادہ خوش لباس ہیروئن تھیں اور وہ جدید موسیقی میں بھی بہت دلچسپی لیتی تھیں۔ قسمت کی دیوی جب کسی پر مہربان ہوتی ہے تو اس کے کئی راستے نکل آتے ہیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ سہراب مودی کی فلم ’’سکندر‘‘ میں سب سے پہلے پری چہرہ نسیم بانو پرتھوی راج کے ساتھ ہیروئن کا کردار ادا کر رہی تھیںلیکن کسی وجہ سے انہوں نے یہ فلم چھوڑ دی اور یوں مینا شوری کوموقع مل گیا۔’’ایک تھی لڑکی‘‘ کی بے مثال کامیابی کے بعد جے سی آنند نے روپ کے شوریٰ اورلارا لپا گرل کو لاہور بلوالیا۔لاہور میں کچھ عرصہ قیام کے بعد روپ کے شوری نے واپس ممبئی جانے کی ٹھانی لیکن مینا شوری نے واپس جانے سے انکار کردیا۔ مینا شوری کے اس انکار نے روپ کے شوری کوششدر کردیا۔ انہوں نے اپنی بیوی کوساتھ لے جانے کی بھرپور سعی کی لیکن انہیں ناکامی سے دوچارہونا پڑا۔ جب روپ کے شوری واپس ممبئی گئے تو بہت دل شکستہ تھے۔مینا شوری نے پاکستان میں کئی فلموں میں کام کیا اور اپنی صلاحیتوں کے خوب جوہر دکھائے۔ انہوں نے ہیروئن، سائیڈ ہیروئن اور ویمپ کے کردار ادا کیے۔ فلم ’’موسیقار‘‘ میں صبیحہ خانم ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں جبکہ مینا شوری نے ویمپ کا کردارادا کیا۔ صبیحہ خانم کے لئے پلے بیک سنگر نور جہاں تھیں جبکہ مینا شوری کیلئے پلے بیک گلوکارہ مالا تھیں۔1956ء میں انورکمال پاشا کی فلم ’’سرفروش‘‘ ریلیز ہوئی جس میں صبیحہ اور سنتوش کے ساتھ مینا شوری کی کارکردگی کو بھی پسند کیاگیا۔ ان پر زبیدہ خانم کا گایا ہوا یہ گیت ’’تیری الفت میں صنم دل نے بہت درد سہے‘‘ پکچرائز ہوا جو بہت مقبول ہوا۔ انہوں نے اس گانے کی فلمبندی کے دوران چہرے کے تاثرات سے بھرپور کام کیا۔ 1957 ء میں ان کی فلم ’’بیداری‘‘ بھی بہت کامیاب رہی۔ ’’موسیقار‘‘ (1962ء)، جگا، بچہ جمورا، بہروپیا اورجمالو بھی ان کی کامیاب فلمیں تھیں۔ پھر 1964ء میں ’’خاموش رہو‘‘ ریلیز ہوئی جس میں انہوں نے ’’میڈم‘‘ کا کردار ادا کیا جو بہت ہٹ ہوا۔ پاکستان میں ان کی دیگر مشہور فلموں میں ’’ترانہ، الزام، ناجو، اک سی ماں، امام دین گوہاویہ اور بڑا آدمی‘‘ شامل ہیں۔ انہوں نے کئی فلموں میں ماں کا کردار بھی ادا کیا۔ وہ اردواور پنجابی دونوں زبانوں کی فلموں میں یکساں مہارت سے کام کرتی تھیں۔ بھارت میں ان کی مشہور ترین فلموںمیں ’’سکندر، ایک تھی لڑکی، شری متی 420، آگ کا دریا اور پتھروں کے سوداگر‘‘ کا نام لیا جا سکتا ہے۔ انہیں آخری بار سرکاری ٹی وی کے پروگرام ’’سلور جوبلی‘‘میں دیکھا گیا۔مینا شوری کی ذاتی زندگی مصائب و آلام کا شکار رہی۔ انہوں نے پانچ شادیاں کیں۔ پہلی شادی روپ کے شوری، پھر ظہور راجہ، علی ناصر اور رضامیر سے بھی شادی کی۔ آخری شادی انہوں نے اسد بخاری سے کی جو اپنے وقت کے معروف اداکار اور فلمساز تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اسد بخاری کی ذاتی فلم ’’لنڈا بازار‘‘ مینا شوری کی دولت سے ہی بنائی گئی۔ ’’لنڈا بازار‘‘ کو پاکستان کی چند آرٹ فلموں میں شمارکیاجاتا ہے۔بھارت کے صف اول کے فنکار موتی لال نے ایک مرتبہ مینا شوری کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایک نہایت باصلاحیت اداکارہ ہیں۔ ان کے ساتھ کام کرکے انہوں نے بہت طمانیت محسوس کی۔ موتی لال کا کہنا تھا کہ مینا شوری کو ہندوستان واپس آ جانا چاہیے تھا۔ اگر وہ واپس آ جاتیں تو سب سے زیادہ معاوضہ حاصل کرنے والی اداکارہ ہوتیں۔ مینا شوری آخری عمر میں سخت مالی تنگدستی کا شکار رہیں۔ فلمی صنعت نے بھی انہیں فراموش کردیا تھا اور وہ بالکل تنہا ہوچکی تھیں۔ 9 فروری1987ء کو انہوں نے داعی اجل کو لبیک کہا۔وہ ہندوستان اور پاکستان کی فلمی صنعت کا ایسا کردار تھیں جنہیں ہمیشہ یادرکھا جائے گا۔ انسان دنیا سے چلا جاتا ہے لیکن اس کا کام بہرحال زندہ رہتا ہے۔