دست شناسی !
اسپیشل فیچر
انسان کو دیگر مخلوقات پر حاصل فوقیت اور بر تری جہاں علم و زبان، عقل و شعور،دانش ودانائی اور فہم و فراست کی صلاحیتیں ہیں وہیں یہ حقیقت بھی اظہر من الشمس ہے کہ انسانی دماغ جو منصوبے سوچتا اور بنا تا ہے انہیں عملی جامہ اپنے ہاتھوں سے پہناتا ہے۔ انسانی خوابوں میں تعبیر کا رنگ اس کے ہاتھ بھرتے ہیں۔آج کی تمام تر جدید ترقیوں کا سہرا انسانی دماغ کے ساتھ ساتھ ہاتھوں کو جاتا ہے۔ یوں ہم وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ کائنات کی تمام تر خوبصورتیوں کا واحد ذریعہ انسانی ہاتھ ہے۔ اگر ہاتھ انسانی دماغی منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے میں اپنا کردار ادا نہ کرتے تو آج جدید ارتقا تو کجا بلکہ دنیا پتھر کے دور سے باہر نہ نکل سکی ہوتی۔ آئیے! ہم اپنے ہاتھوں میں چھپی ان خوبیوں کے متعلق جاننے کی کوشش کریں جن کو جان کر ہم اپنی دماغی وذہنی صلاحیتوں،مادی مواقعوں اور دیگر سہولیات کا بہتر سے بہتر استعمال کرنے والے بن جائیں۔ہاتھ کے متعلقہ علم کو دست شناسی(palmistry) کہا جاتا ہے۔ پامسٹری میں انسانی ہاتھ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ بعض اعتراض کرنے والے یہ کہتے نہیں تھکتے کہ ہاتھ کی لکیریں محض ہتھیلی کھولنے اور بند کرنے سے وجود میں آتی ہیںجو کہ حقیقت کے سراسر منافی ہے۔کیو نکہ انسان اور دیگر حیوانوں میں سب سے بڑا اور واضح فرق ہاتھ ہی ہیں اس لئے کہ انسان بھی حیوانِ ناطق ہے۔ماہرین کے مطابق تمام جانداروں میں محبت،نفرت،در گزر،انتقام اور اپنے اچھے برے کی تمیز کرنے کی صلاحیتیں موجود ہو تی ہیں۔لیکن وہ اپنے منصوبوں کو ہاتھ نہ ہونے کی وجہ سے پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچا پاتے۔ جبکہ انسان مشا ہداتی و تخیلاتی صلاحیتوں کو عملی جامہ ہاتھوں کی مدد سے پہناتا ہے۔ لہٗذا ہم انسانی ارتقاء اور عروج کا سبب اگر ہاتھ کو کہیں تو ہر گز بے جا نہ ہو گا۔اگر کائنات کی وسعت اور ارتقائی مراحل پر غور کیا جائے تو یہ حقیقت ہم پر روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جائے گی کہ فضائوں کو چیرتے ہوائی جہاز ،سمندروں کے سینوں پر دندناتے بحری جہاز اور سورج کی شعائوں پر قابو پانے والے انسانی ہاتھ ہی تو ہیں۔چاند و مریخ کے چہروں پر اپنی کامیابیوں کی مہر ثبت کرنے کا سہرا بھی انسانی ہاتھ کے سر جاتا ہے۔ہم یہ کہنے میں ذرا بھر بھی تامل نہیں کرتے کہ انسانیت کی تمام تر کامیابیوں کا انحصار ہاتھ پر ہے۔علاوہ ازیں جدید دور کی ٹیکنالوجی موبائل،انٹر نیٹ اور سیٹلائیٹ وغیرہ کی ایجاد بھی انسانی دماغ کے ساتھ ساتھ ہاتھ کے مرہون منت ہے۔ہاتھ کا مشاہدہ کرتے وقت ماہر دست شناس ہاتھ کو دو حصوں میں تقسیم کر لیتے ہیں۔پہلے حصے میں ہاتھ کی بناوٹ،قسم اور اسکی ساخت ہوتی ہے۔انگلیوں کی اشکال و اقسام بھی اسی زمرے میں آتی ہیں۔جبکہ دوسرے حصے میں ہتھیلی اور اس پر واقع علامات، نشانات اور ابھاروں کے تحت پیشین گوئی کی جاتی ہے۔ ماہرین دست شناسی کے مطابق پامسٹری کے مندرجہ ذیل دو حصے ہیں:دست شناسی (cheirognomy) ،کف شناسی (cheiromancy) دست بمعنی ہاتھ اور کف کے معنی ہتھیلی کے ہیں۔ہمارے ہاں عام طور پر پامسٹری کو صرف دست شناسی کہا جاتا ہے۔علمی رو سے دست شناسی میں صرف ہاتھ کی بناوٹ،قسم اور انگلیوں کی اقسام و اشکال شامل ہیںجبکہ کف شناسی میں ہتھیلی، ہتھیلی میں واقع لکیریں، ابھار اور دیگر علامات و نشانات شامل ہوتے ہیں۔دست شناسی اور کف شناسی باہم لازم و ملزوم ہیں۔عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ چند لکیروں کے بارے سر سری واقفیت حاصل کرلینے والے عقلِ کل ہو نے کا مظاہرہ کرنے لگتے ہیں۔حالانکہ لکیروں کی معلومات سے زیادہ اہمیت ہاتھوںکی بناوٹ،شکل اور قسم کی مانی جاتی ہے کیونکہ آپ ہاتھوں کا بیرونی نظارہ تو بآسانی کر سکتے ہیں ۔یوں دفتر میں اپنے ساتھیوں،سفر میں اپنے ہمسفروں ،بازار میں راہ گیروںاور گلی محلے کے لوگوں کے ہاتھوں کو دیکھ کر ان کے طور واطوار اور عادات ورجحانات وغیرہ سے ہم آگاہی حاصل کرنے میں آرام سے کامیاب ہوسکتے ہیں۔لہٰذا ہمارے نزدیک لکیروں سے زیادہ ہاتھ بارے ’’معلومات‘‘ جاننا زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ ہاتھ انسانی کردار کے تمام پہلوئوں کو اجاگر کرتے ہیں۔ کسی ہاتھ ملاتے ہی آپ حامل دست کی خوبیوں و خامیوں سے واقف ہوسکتے ہیں۔ دوستی، وفاداری، خلوص، محبت، دیانت، لالچ،طمع خود غرضی ،دھوکہ اور ہمدردی کے جذبات کا پتہ چلا سکتے ہیں۔المختصر ہتھیلی کی لکیروں کودیکھنے کے لیے حامل کی مرضی کا ہونا ضروری ہوتا ہے جبکہ ہاتھ کا مشاہدہ آپ کسی خواہش اور مرضی کے بغیر بھی کر سکتے ہیں،اور اس کی پوشیدہ صلاحیتوںاور کمزوریوں سے واقف ہو سکتے ہیں۔ ماہرین نے اقسام کے لحاظ سے ہا تھوں کی سات بڑی انواع بیان کی ہیں۔(1)مربع یا مفید ہاتھ(2) چپٹا ہاتھ(3)فلسفی یا گرہ دار ہاتھ(4)نفسیاتی یا خیالی ہاتھ(5) مخروطی یا فن کارا نہ ہاتھ(6)مخلوط یا ملا جلا ہاتھ(7)ابتدائی یا نیچ ہاتھ۔ہاتھوں کی اقسام پر تفصیلی روشنی ہم آئندہ ماہ ڈالیں گے ۔ زیر نظر مضمون میں ہم ہاتھ اور ہاتھ سے متعلقہ علم کی اہمیت اور ضرورت کو بیان کرتے ہیں۔ ہاتھ بدنِ انسانی سب سے اہم عضو ہے،جس کے بارے میں مشہور ومعروف فلسفی ارسطو نے کہا تھا کہ’’ ہاتھ انسانی اعضاء کا بادشاہ ہے اور یہ تمام جسمانی قوتوںکا علمبردار ہے‘‘ ایک دوسرے مفکر کے بقول’’ مردکا حسن اس کے ہاتھوں میں ہے‘‘ خالقِ کائنات نے انسانی جسم کی تخلیق میں ہاتھ اور دماغ کا تعلق اس طرح قائم کیا ہے کہ ہاتھ دماغ کے نوکر ہیں۔قارئین!دست شناسی ایک ایسا آرٹ ہے، جس کی باریکیاں علم کے متلاشیوں پر بتدریج اور سعی کے مطابق روز افزوں کھلتی چلی جاتی ہیں۔تحقیق و جستجو اور طلب و پیاس جس قدر زیادہ ہوتی ہے طالبانِ فن اس کے علمی فیوض اور برکات سے اسی قدر جلد اور بہتر مستفید ہوتے ہیں۔علم کوئی بھی ہو یہ ایک مسلسل عمل کا نام ہے۔٭…٭…٭