کرامات ِ علی ہجویری ؒ

کرامات ِ علی ہجویری ؒ

اسپیشل فیچر

تحریر : حافظ کریم اللہ چشتی


حضرت داتا علی ہجویریؒ کا نام سید ابوالحسن علی بن عثمان ہے اور آپؒ حسنی حسینی سید ہیں۔ آپؒ کی والدہ بڑی ولیہ تھیں،ماموں جان بھی ولی اللہ تھے بلکہ تاج اولیاء کے لقب سے جانے جاتے تھے۔ آپ ؒکی والدہ اور ماموں کا مزار آج بھی افغانستان میں مرجع خلائق ہے ،داتاگنج بخشؒ افغانستان میں ۰۴۴ ھ یا ۱۰۴ ھ میں غزنی میں پیدا ہوئے۔ علی ہجویری ؒکے پیر و مرشد کا نام سید ابو الفضل ختلیؒ تھا، آپؒ کا سلسلہ جنیدی تھا۔ داتاگنج بخش ؒ نے دین کی طرف بہت رغبت و محبت پائی، علم دین کے حصول کیلئے کوشاں رہے بڑے بڑے بزرگوں سے مل کر علم حاصل کیا اور خوب سیاحت کی، سفر کرتے کرتے ملک شام پہنچ گئے۔ شام میں ہمارے دلوں کی دھڑکن ہے جن کا نام لیکر دلوں کو بڑا سکون ملتاہے ،یعنی بلال حبشی رضی اللہ عنہ ان کا مزار شام کے شہر حلب میں ہے ۔ داتاگنج بخشؒ فیض حاصل کرنے کیلئے بلال حبشیؓ کے مزار پر حاضر ہوئے ۔آپؒ خود فرماتے ہیں کہ میں موذن رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت بلالؓ کے سرہانے سوگیا ۔ لاہور بڑا مقدس شہر ہے ۔حضرت مجدد الف ثانیؒ شیخ احمد سرہندی اپنے مکتوبات حصہ اول میں فرماتے ہیں ، یہ شہر لاہور ہندوستان کے تمام شہروں میں قطب ارشاد کی طرح ہے۔اس شہر کی برکت تمام ہندوستان کے شہروں میں پھیلی ہوئی ہے۔علی ہجویری ؒ نے سیاحت کرتے کرتے لاہور کو رخ کیا ۱۵۴ھ میں لاہور تشریف لائے ۔اس وقت لاہور میں جادوگروں نے ڈیرہ جما رکھا تھا ،بڑے بڑے نذرانے اوربھینٹ وصول کی جاتی تھی۔ جو اِن جادوگروں کی خاطر مدارت نہ کرتا اسے جادو کے ذریعے نقصان پہنچاتے ۔ اللہ کے کرم سے داتا گنج بخش ؒکے قدم لاہور کی دھرتی پر لگے ، آپؒ نے ایک بوڑھی عورت سے دودھ خریدنا چاہا تو وہ ڈرگئی کیونکہ وہ لوگ مسلمانوں کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے تھے ۔ اس بوڑھی عورت نے انکار کیا اگر میں دودھ آپ کو بیچ دوں گی تو جادوگر مجھے مار دے گا، میری بھینسوں سے خون آئے گا۔آپؒ نے اسے تسلی دے کر سمجھایا انشاء اللہ ایسا نہیں ہوگا۔ وہ سمجھ گئی دودھ بیچ کر اپنے گھر پہنچی اب جو اس نے اپنے مویشوں کا دودھ دھویاتو اتنا نکلا کہ سنبھالنا مشکل ہوگیا ۔ جب دوسرے گوالوں کو پتہ چلا کہ اس مسلمان میں بڑی کرامات ہیں تو وہ بھی آپؒ کے پاس آنے لگے۔آپؒ ان کو نیکی کی دعوت دیتے یہاں تک کہ دودھ میں برکت کیلئے آنیوالا ایمان کی برکت لیکر جاتا ۔ آپؒ کی نیکی کی دعوت سے پورے لاہور میں ہلچل مچ گئی، جادوگر رائے کو پتہ چلا کہ جو کہ گورنر کا نائب تھا ہنستا اور طعنہ کشی کرتا ہواآپ ؒکے پاس حاضر ہوا،بولا کہ میرے ساتھ مقابلہ کرو۔آپؒ نے اس کوسمجھانے کی کوشش کی لیکن نہ مانا آپؒ ٹالتے رہے وہ سمجھا کہ آپؒ ڈر گئے اور آپؒ میں مقابلے کی طاقت نہیں ہے اس لئے جان چھڑا رہے ہیں۔اس نے جادو دکھانا شروع کردئیے اور ہوا میں اُڑنا شروع کردیا تاکہ لوگ ڈر جائیں ۔ آپؒ نے اپنی پاپوش (جوتا ) کو حکم دیا اس کو مزہ چکھا تو جوتے نے ہوا میںپرواز کی اور جادوگر کے سرپر پڑنے لگااور اس کو ماڑتے ہوئے آپؒ کے قدموں میں ڈال دیا ۔ قدموں میں گرتے ہی اس کو حق جلوے نظر آنے لگے، آپ ؒسے معافی مانگی ۔ آیا تھا لڑنے کیلئے ہار کر غلامی قبول کرلی مسلمان ہوگیا اور ظاہری باطنی علوم کی تربیت کے بعد اسلام کا مبلغ بن گیا۔ اس کے قبول اسلام سے ہر طرف ہلچل مچ گئی ، جادوگروں کا جادو مانند پڑگیا پنجاب سے ہندو آتے جاتے آپؒ انہیں مسلمان بناتے جاتے ۔ الحمد للہ اسلام کی روشنی لاہور میںخوب پھیلی یہ رائے راجوبعد میں شیخ ہندیؒ کے نام سے مشہور ہوئے کہا جاتا ہے کہ ان کا مزار بھی آپؒ کے دربار کے احاطے میں موجود ہے اوراب تک ان کی اولاد داتا صاحبؒ کے دربار کی خدمت سر انجام د ے رہی ہے۔ داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ نے، جہاں آپؒ کا مزار ہے مکان بنایا اور مسجد کی بنیا د رکھی۔مگر اس کی محراب کوجانب جنوب رکھا علماء نے اعتراض کیا کہ قبلہ سے ہٹ کر ہے ۔ ایک دن سارے علماء کو اکٹھاکیا نماز پڑھائی نماز پڑھنے کے بعد آپؒ نے کہا کہ میں نے اس سمت میں نماز پڑھائی ہے ذرا دیکھو اُد ھر کیا ہے؟ علماء نے دیکھا نہ محراب ہے نہ محراب کی دیوار سب نے کعبہ شریف کا جلوہ دیکھا ۔ آپؒنے اسلام کی بہت خدمت کی بڑے بڑے کفارنے آپؒ کے دست مبارک پر اسلام قبول کیا۔آپؒ کی کتاب کشف المحجوب کا معنی ہے چھپے ہوئے کو ظاہر کرنے والی ، ہر مسلمان اس کا مطالعہ کرے اور پڑھ کر اپنی اصلاح کرے،آپؒ نے اور بھی کتابیں لکھیں۔حضرت خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ نے آپؒ سے متاثر ہوکر ایک شعر کہا۔گنج بخش فیضِ عالم مظہرِ نورِ خداناقصاں را پیر کامل کاملاں را راہنماولی کی صحبت سے ایک آن میں بندے کی تقدیر بدل جاتی ہے۔ ولی کی صحبت مغفرت کا سبب ہے ۔ ولی کے قدموں میں رہنا سعادت کا باعث ہے بلکہ ان کے قدموں میںدفن ہوجانا بہت بڑی برکت کے حصول کا سبب ہے۔ شرح صدور میں ایک واقعہ لکھا ہے۔ایک جگہ قبر نرم ہوکر کھل گئی ۔ عزیز اقارب جمع ہوگئے دیکھا لاش نظر آرہی ہے،ایک شاخ لپٹی ہوئی ہے، دوشاخیں ناک میں داخل ہیں۔ انہوں نے قبر کھول کر لاش کو خشک زمین میں دورجاکر دفن کیا اب جیسے ہی قبر میںاتاراتو لوگوں کی چیخیں نکل گئیں کہ وہ شاخ سانپ بن گئی اور لاش کے منہ کو نوچنے لگی۔لوگ پریشان ہوگئے کہ اس کو اس مصیبت سے کیسے بچایا جائے ،ا تنے میں ایک ولی اللہ آئے انہوں نے کہا کہ اگر تم اپنے مرحوم کی خیریت چاہتے ہوتو اس کو وہیں دفن کردو کیونکہ وہاں ایک ولی کی قبر ہے اس کی برکت سے یہ سانپ وہاں شاخ بن گیا پھول بن گیا اور اس کو فائدہ دے رہا تھا۔جب لاش کو دوبارہ پہلی قبر میں رکھا تو فوراً وہ سانپ شاخ اور پھول بن گیا۔ولی کے قدموں کی بہت برکت ہے ۔ بہرحال حضرت داتا گنج بخش کا مزار مرجع الخلائق ہے ،اللہ عزوجل کی ان پر رحمت ہو ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
یادرفتگاں:بروس لی : مارشل آرٹ کا شہنشاہ

یادرفتگاں:بروس لی : مارشل آرٹ کا شہنشاہ

مارشل آرٹس کے ماہر اور اداکار بروس لی کی آج 51ویں برسی منائی جا رہی ہے۔ بروس لی 27 نومبر 1940ء میں پیدا ہوئے تھے اور ان کا انتقال 32 سال کی عمر میں 20 جولائی 1973ء کو ہوا۔ انہوں نے ہالی وڈ کی متعدد فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے اور فلمی دنیا میں ہانگ کانگ کا مارشل آرٹس متعارف کروایا۔ انہوں نے ہدایت کاری، اداکاری اور مارشل آرٹ میں اپنی خداداد صلاحیتوں کا لوہا دنیا بھر سے منوایا اور آج بھی بروس لی کو مارشل آرٹ کا شہنشاہ مانا جاتا ہے۔بروس لی ایک بہترین مارشل آرٹ کھلاڑی تھے، جنہوں نے فلم کی دنیا میں کنگ فو کا جنون پیدا کیا۔ وہ روزانہ پانچ ہزار پنج (مکے) ، ایک ہزار ککس، آٹھ کلو میٹر رننگ اور پندرہ کلو میٹر سائیکلنگ (سائیکل چلانا ) کرتے تھے۔ ان کی بیوی لنڈا کے مطابق وہ مارشل آرٹ کو لے کر جنونی تھے۔ ان کی کک اور اور مکے کی رفتار اتنی زیادہ تیز ہوتی تھی کہ اس دور میں ایجاد کیمرے اس کی رفتار کو واضح دکھا نہیں پاتے تھے لہٰذا وہ فلموں میں اگر اپنی اصل رفتار سے فائٹ کرتے تو لوگوں کو صرف اس کا دھندلا سا سایہ دکھائی دیتا۔ موویز میں کیمرہ مین کی درخواست پر اس نے ہمیشہ ہی اپنی اصل رفتار سے ہٹ کر ایکشن کیا۔وہ نن چاقو کا اتنے ماہر تھے کہ نن چاقو سے ٹیبل ٹینس کھیلا کرتے تھے۔ 1973ء میں ریلیز ہونے والی فلم ''انٹر دی ڈریگن‘‘ میں کنگ فو لیجنڈ بروس لی کو آخر بار دیکھا گیا تھا۔ فلم نے زبردست بزنس کیا تھا۔ اس فلم کا کُل بجٹ ساڑھے 8 لاکھ ڈالر تھا لیکن اس نے حیران کن طور پر 400 ملین ڈالر کمائے۔ اسے اب بھی سب سے زیادہ بزنس کرنے والی فلموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کی دیگر بہترین فلموں میں ''وے آف دا ڈریگن‘‘ اور ''فسٹ آف فیوری‘‘ شامل ہیں۔ایک سیریز کے سکرپٹ میں اسے اپنے مخالف کردار سے لڑنا تھا اور یہ لڑائی ہارنا تھی لیکن بروس لی کو سیریز یا سکرین کی خاطر بھی لڑائی ہارنا برداشت نہ تھی لہٰذا ڈائریکٹرز اور پروڈیوسرز کی درخواست کے باوجود اس نے ہارنے سے انکار کر دیا اور نا صرف سیریز چھوڑنے کی دھمکی دے دی بلکہ مخالف کو حقیقی زندگی میں لڑنے کا چیلنج دے دیا۔سکرپٹ میں رد و بدل کر کے سیریز میں وہ لڑائی بنا کسی ہار جیت کے ختم کی گئی۔فلمی دنیا کے عظیم ترین مارشل آرٹ آرٹسٹ بروس لی کا انتقال 20 جولائی 1973ء کو 32 سال کی عمر میں ہوا۔ اتنی کم عمری میں موت کی وجہ سے اسے پراسرار قرار دیا گیا جس کے بعد متعدد عجیب تھیوریز سامنے آئیں۔ چند سال قبل ایک نئی تحقیق میں لٹل ڈریگن کی عرفیت سے مشہور بروس لی کی موت کی ممکنہ وجہ بتائی گئی۔ تحقیق میں دعویٰ کیا گیا کہ بروس لی کی موت کی وجہ بہت زیادہ پانی پینے کی وجہ سے ہوئی، ابھی اس تھیوری کی تصدیق تو نہیں ہوئی مگر اس مقصد کیلئے محققین نے بروس لی کی موت سے جڑے حقائق کا تجزیہ کیا تھا۔معروف اداکار کو موت کے دن شام ساڑھے 7 بجے پانی پینے کے بعد سردرد ہوا تھا، جس کے بعد انہوں نے ایک درد کش دوا کھائی، 2 گھنٹے بعد وہ مردہ پائے گئے۔ موت کے بعد پوسٹ مارٹم سے انکشاف ہوا تھا کہ بروس لی کا دماغ سوج گیا تھا جس سے یہ نتیجہ نکالا گیا کہ ان کی موت دوا کے مضر ری ایکشن کے باعث ہوئی۔ کلینیکل کڈنی جرنل میں شائع تحقیق میں یہ نکتہ اٹھایا گیا کہ بروس لی نے یہ دوا سردرد اور سر چکرانے کے بعد کھائی تھی، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ دوا کھانے سے پہلے ہی ان کا دماغ سوجن کا شکار ہوچکا تھا۔ محققین کے مطابق تفصیلات پر مبنی ہمارے تجزیے میں یہ خیال پیش کیا گیا ہے کہ دماغی سوجن درحقیقت ہائپو نیٹریمیا کا نتیجہ تھی۔ ہمارا خیال ہے گردوں کا بہت زیادہ پانی کو فلٹر نہ کرپانا بروس لی کی موت کی وجہ بنا۔بروس لی کی اہلیہ اور ڈاکٹروں نے بتایا تھا کہ اداکار نے ٹھوس خوراک کو چھوڑ کر صرف گاجر اور سیب کے جوس تک خود کو محدود کرلیا تھا، اس طرح کی غذا سے بھی ہائپو نیٹریمیا کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ ہائپو نیٹریمیا کا سامنا اس وقت ہوتا ہے جب کوئی فرد بہت کم وقت میں بہت زیادہ مقدار میں پانی پی لیتا ہے اور گردے اس پانی کو فلٹر کر نہیں پاتے، مگر ایسے شواہد موجود نہیں جن سے عندیہ ملتا ہو کہ بروس لی نے ایسا کیا تھا۔محققین کے مطابق ہمارا خیال میں بروس لی کی موت گردوں کے غیرفعال ہونے کا نتیجہ تھی کیونکہ گردے اضافی سیال کو کنٹرول نہیں کرسکے۔بروس لی ایک اچھا مارشل آرٹسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین ڈانسر بھی تھے۔اپنے فلمی کریئر سے پہلے اس نے ہانگ کانگ میں ہوئے ایک مخصوص ڈانس کا مقابلہ جیت رکھا تھا۔ 1960ء کی دہائی میں مارشل آرٹ کی پرائیویٹ کلاس یا کوچنگ دینے کا بروس لی ایک گھنٹے کا دو سو پچھتر ڈالر (آج کے اڑھائی ہزار ڈالر) صرف ایک گھنٹے کے لیتے تھے۔وہ مطالعے کا شوقین بھی تھے اور اس کی لائبریری میں دو ہزار سے زائد کتب تھیں۔ وہ شاعری کا بھی شوق رکھتے تھے۔ہاتھ پاوں چلانے والا یہ انسان ایک بہترین سینس آف ہیومر بھی رکھتا تھا۔اس کے قریبی دوست کہتے ہیں یہ جب موڈ میں ہوتا تو دوستوں کو ہنسانے میں ید طولی رکھتا تھا۔ مشہور مارشل آرٹ اداکار بروس لی موت کے 51 سال بعد بھی عوام کے دلوں پر راج کر رہے ہیں۔  

برٹش میوزیم

برٹش میوزیم

لندن میں قائم برطانوی عجائب گھر کا شمار دنیا کے چند مشہور اور چوٹی کے عجائب گھروں میں ہوتا ہے۔ اس میوزیم میں دو ملین سال سے زیادہ کی انسانی تاریخ اور ثقافت کی جھلک نظر آتی ہے۔ گریٹ رسل سٹریٹ پر واقع برٹش میوز یم 1753ء میں قائم کیا گیا۔ اس میوزیم میں کم و بیش 80لاکھ انسان کی صناعی کے نمونے رکھے ہوئے ہیں۔ نایاب قسم کے تراشے ہوئے پتھر، مورتیاں، طغرے، انسان کے ہاتھوں سے بنائے ہوئے مجسمے از تاریخ سے تعلق رکھنے والی مصری ممیاں، یونان، برصغیر اور افریقہ سے لائی گئی قیمتی اور نادر اشیاء اس میوزیم کی زینت ہیں۔ اس میوزیم کو ہر سال دیکھنے والوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ سال آنے والوں کی تعداد 41لاکھ تھی۔برٹش میوزیم آج سے270سال قبل جون 1753ء میں قائم کیا گیا۔ اس کا کل رقبہ 8لاکھ 7ہزار (807000)مربع فٹ ہے اور اس میں 95گیلریاں ہیں۔ اسے عوام کیلئے تزئین و آرائش کے بعد 1759ء میں کھولا گیا۔ اس مشہور برطانوی میوزیم کے قیام کا سہرا ایک برٹش آئرش میڈیکل ڈاکٹر سرہینزسلون کے سر جاتا ہے جو لندن میں مقیم تھا۔ اس نے اپنی جمیکن بیوی کے ساتھ مل کرنادر اشیاء کو اکٹھا کیا جو ان کے پاس ایک بہت بڑے قیمتی ذخیرے کی شکل اختیار کر گیا تھا۔ اس نے وصیت کی کہ میری زندگی کے بعد اس خزانے کو اس وقت کے بادشاہ جارج دوم کے سپرد کردیا جائے۔ اس وقت ان نوادرات کی تعداد ستر ہزار تھی، جن میں 40ہزار کتب کے علاوہ ڈرائنگ، خشک پودے، سوڈان، مصر، یونان، روم، مشرق بعید، امریکہ اور کینیڈا سے حاصل کی گئی بیش قیمت اشیاء بھی شامل تھیں۔ یقیناً یہ ایک بہت بڑا اور قیمتی ذخیرہ تھا۔عجائب گھر کی موجودہ عمارت کی جگہ20ہزار پائونڈ میں خریدی گئی۔ اس عمارت کے تین اطراف یونانی طرز تعمیر کے 44 ستون ہیں جو عمارت کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔ ہر ستون کی اونچائی 45فٹ ہے۔ سامنے پیشانی کے اندر انسانی تہذیب و ثقافت کی ترقی کی عکاسی کی گئی ہے۔ گول شکل میں ریڈنگ روم کا قطر140فٹ ہے۔ اس وقت اس ریڈنگ روم کا گنبد روم کے گنبد کے بعد دوسرے نمبر پر تھا۔جنگ عظیم دوم کی تباہ کاریوں سے یہ عجائب گھر بھی نہ بچ سکا۔ مئی 1941ء میں اس کے ریڈنگ روم کی چھت پر آتش گیر بم پھینکے گئے جس کے نتیجہ میں اڑھائی لاکھ نایاب کتب جل کر خاکستر ہو گئیں۔ آج نہ صرف رقبہ کی وسعت سے بلکہ اس میں رکھی نادر اشیاء اور دستاویزات کی تعداد کے لحاظ سے یہ دنیا کے ایک بڑے میوزیم میں شمار ہوتا ہے۔ اس وقت توسیع کے بعد اس کا رقبہ نو لاکھ نوے ہزار (990,000)مربع فٹ ہے۔برٹش میوزیم میں مصری نوادرات کا بہت بڑا ذخیرہ بھی موجود ہے، جن کی تعداد تقریباً ایک لاکھ ہے۔ فرعون کی حنوط شدہ لاش کے علاوہ سب سے نایاب اور بیش قیمت وہ پتھر ہے جسے روسیٹا سٹون کہا جاتا ہے۔ روسیٹا سٹون کے اوپر 196 قبل مسیح کی تحریر کنندہ ہے جو کہ یونانی اور مصری زبان میں ہے۔ یہ پتھر 44انچ لمبا، 33انچ چوڑا اور 11انچ موٹا ہے۔ یہ پتھر کھدائی میں 1799ء میں دریافت ہوا اور یہ 1802ء سے اس میوزیم میں رکھا ہوا ہے۔ کافی اشیاء مصر میں کھدائی کے دوران حاصل کی گئی تھیں۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ مصری تہذیب بھی کتنی پرانی ہے۔ روسیٹا سٹون گرینائٹ پتھر کا ہے اور اس کا وزن 760کلو گرام ہے۔برٹش میوزیم (تنازعات کی زد میں)یہ مشہور زمانہ برٹش میوزیم جو عالمی تاریخ کے موضوع پر دنیا کا سب سے بڑا میوزیک ہے۔ ہر سال لاکھوں افراد اس میں موجود 80لاکھ سے زائد ثقافتی و تاریخی نوادرات اور فن پارے دیکھنے کیلئے آتے ہیں۔ یہ رکھی ہوئی اشیاء انسان کی 20لاکھ سال کی تاریخ کا احاطہ کئے ہوئے ہیں۔اس میوزیم کی قابل دید اور قیمتی نوادرات کی فہرست میں کئی اشیاء ایسی ہیں جن کی ملکیت میں اس وقت تنازع ہے۔سترہویں صدی میں جب برطانیہ نے دنیا کے مختلف علاقوں پر اپنے آہنی پنجے گاڑنا شروع کئے اور قبضہ کے بعد کئی صدیوں تک ان علاقوں کا استحصال جاری رکھا۔ جنوبی افریقہ سے لے کر برصغیر، آسٹریلیا سے لے کر نائیجیریا کینیڈا تک نہ صرف وہاں کے وسائل اور دولت کو لوٹا بلکہ وہاں کی ثقافتی نوادرات اور آثار قدیمہ کو بھی نہ بخشا۔ ایسی مار دھاڑ سے حاصل کی گئی نو ادرات اور قیمتی اشیاء کو آج کے برٹش میوزیم کی زینت بنا دیا گیا ہے۔سلطنت برطانیہ اپنے زمانے کی سب سے بڑی نوآبادیات پر ہاتھ صاف کرنے والی قوت تھی۔ اس قوت کیلئے ہندوستان کو تاج برطانیہ کا نگینہ تصور کیا جاتا تھا۔ اسے عام طور پر ''سونے کی چڑیا‘‘ کہا جاتا تھا۔ اس دور میں برطانیہ نے جو نوادرات یہاں سے حاصل کیں، بزور شمشیر چرائیں، ضبط کیں یا زبردستی تحفتاً وصول کیں۔ ان میں ایک دس ہزار 506(10506) قیراط کا کوہ نورہیرا بھی شامل ہے جو آج بھی شاہ برطانیہ کے تاج پر ضوفشاں ہے۔ اس کے علاوہ ٹیپو سلطان کا لکڑی کا شیر بھی لندن ہی کے میوزیم کی زینت ہے۔جرمنی کے ریڈیو ڈوئچے ویلے کی ایک رپورٹ کے مطابق آج یہ نو ادرات برٹش میوزیم اور وکٹوریہ اینڈ البرٹ میوزیم میں موجود ہیں۔ زیادہ تر کئی ایسی نوادرات ہیں جو بھارت کے مندروں سے حاصل کی گئی ہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

کورفو ڈیکلریشن سربیا کے وزیر اعظم نکولا پاسیچ اور یوگوسلاو کمیٹی کے صدر آنٹی ٹرمبیچ کے درمیان 20 جولائی 1917ء کو یونانی جزیرے کورفو میں ایک معاہدہ کیا گیا جسے '' کورفو ڈیکلریشن‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس کا مقصد مستقبل میں متحد ہو کر کام کرنے کا طریقہ کار قائم کرنا تھا۔ فروری انقلاب کے بعد روس کے سربیا کیلئے سفارتی حمایت واپس لینے کے فیصلے کے ساتھ ساتھ یوگوسلاو کمیٹی کی جانب سے آسٹریا،ہنگری میں شروع کئے گئے آزمائشی اصلاحاتی اقدامات سے پہلو تہی نے دونوں فریقوں کو ایک معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کرنے پر مجبور کیا۔ہٹلر پر حملہ20 جولائی 1944ء کو کلاز وان سٹافن برگ اور دیگر سازشیوں نے نازی جرمنی کے ایڈولف ہٹلر کو موجودہ پولینڈ میں واقع اس کے وولفز لیئر فیلڈ ہیڈ کوارٹر کے اندر قتل کرنے کی کوشش کی۔ آپریشن والکیری کا نام ، جو اصل میں سازش کے ایک حصے کا حوالہ دیتا ہے، پورے واقعے کے ساتھ وابستہ ہو گیا ہے۔قاتلانہ حملے کا بظاہر مقصد جرمنی اور اس کی مسلح افواج کا سیاسی کنٹرول نازی پارٹی سے چھیننا اور جلد از جلد مغربی اتحادیوں کے ساتھ امن قائم کرنا تھا۔ یہ سازش نازی جرمن حکومت کا تختہ الٹنے کیلئے جرمن مزاحمت میں کئی گروہوں کی کوششوں کا خاتمہ تھا۔ قتل کی کوشش کی ناکامی کے بعد 7ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا اور 4ہزار980افراد کو بھانسی دی گئی۔کوریاکی فضائی لڑائی20جولائی1950ء کو جنوبی اور شمالی کوریا کے درمیان ایک ماہ سے جاری فصائی لڑائی کا خاتمہ ہوا۔یہ لڑائی جنگ کے آغاز میں ایک فصائی مہم تھی جس نے جنگ کی صورت اختیار کر لی۔یہ جنگ جنوبی کوریا ،شمالی کوریا اور اقوام متحدہ کی فضائی افواج کے درمیان لڑی گئی۔ فضائی بالادستی کیلئے ایک ماہ تک جاری رہنے والی لڑائی نے سیئول اور تائیجون کے ہوائی اڈوں پر کئی چھوٹی چھوٹی لڑائیاں ہوئیں جو بالآخر اقوام متحدہ کی فضائیہ کی فتح کے ساتھ ختم ہوئی جس نے شمالی کوریا فضائیہ کو تباہ کر کے رکھ دیا۔جانس ٹاؤں سیلاب19جولائی1977ء کو ریاستہائے متحدہ امریکہ میں بڑے پیمانے پر سیلاب آیا جس میں جانس ٹاؤن بھی شامل تھا۔سیلاب رات کے وقت آیا اور جانس ٹاؤن کے گرد و نواح میں پانی بھرنا شروع ہو گیا۔ 24 گھنٹوں میں تقریباً 12 انچ (300 ملی میٹر) گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی ۔اس علاقے میں چھ ڈیم اوور ٹاپ اور ناکام ہوگئے۔ ناکام ہونے والا سب سے بڑا ڈیم لورل رن ڈیم تھا، جس نے 101 ملین گیلن پانی چھوڑا جو ٹینری وِل کے گاؤں سے گزرا، جس سے 41 افراد ہلاک ہوئے۔دیگر پانچ ڈیموں کے امتزاج نے مزید 27 ملین گیلن چھوڑے۔ صرف ڈیموں سے 128 ملین گیلن سے زیادہ پانی وادی میں بہا اور صبح ہوتے ہی جانس ٹاؤن چھ فٹ پانی میں ڈوب گیا۔   

تخلیقی مصنوعی ذہانت، چین کا پہلا نمبر

تخلیقی مصنوعی ذہانت، چین کا پہلا نمبر

''ورلڈ انٹلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن‘‘ (WIPO) کے مطابق تخلیقی مصنوعی ذہانت (GenAI) پر مبنی ایجادات کے ملکیتی حقوق کی درخواست دینے والوں میں چین کے موجدین کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ تخلیقی مصنوعی ذہانت (GenAI) کی موجودہ صورتحال پر ''ورلڈ انٹلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن‘‘ (WIPO )کی رپورٹ جو رواں برس جولائی کے شروع میں جاری کی گئی، کے مطابق اس معاملے میں چین نے امریکہ، جنوبی کوریا، جاپان اور بھارت کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ علاوہ ازیں 2014ء سے 2023ء کے درمیان دنیا بھر میں ''GenAI‘‘ پر مبنی 54 ہزار ایجادات ہوئیں جن میں 25 فیصد سے زیادہ گزشتہ برس ریکارڈ کی گئیں۔اس عرصہ میں چین سے تخلیقی مصنوعی ذہانت (GenAI)کی 38 ہزار سے زیادہ ایجادات سامنے آئیں جو کہ امریکہ اور انڈیا سے چھ گنا زیادہ ہیں۔ سب سے زیادہ ایجادات کے اعتبار سے امریکہ دوسرے اور انڈیا پانچویں درجے پر ہے۔ اس عرصہ میں ان پانچوں ممالک میں اس ٹیکنالوجی پر مبنی ایجادات میں اضافے کی سالانہ شرح 56 فیصد رہی۔ اب ''GenAI‘‘ کا دائرہ روز مرہ زندگی سے متعلق سائنس، صنعتوں، نقل و حمل، سلامتی اور ٹیلی مواصلات تک پھیل رہا ہے۔''GenAI‘‘ یا تخلیقی مصنوعی ذہانت انقلابی ٹیکنالوجی کے طور پر سامنے آئی ہے جو لوگوں کے کام کرنے، رہن سہن اوردیگر بہت سے امور کے طریقوں کو مثبت اور نمایاں طور سے تبدیل کر سکتی ہے۔ورلڈ انٹلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن کو امید ہے کہ ملکیتی حقوق سے متعلق رحجانات اور معلومات کا تجزیہ کرنے سے ہر ایک کو تیزی سے ترقی پاتی اس ٹیکنالوجی اور اس کی سمت کے بارے میں بہتر سمجھ بوجھ فراہم کی جا سکتی ہے۔ورلڈ انٹلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر جنرل ڈیرن ٹینگ کا کہنا ہے کہ اس تجزیے سے پالیسی سازوں کو سبھی کے عام فائدے کیلئے ''GenAI‘‘ کی ترقی کو انسان دوست انداز سے متشکل کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ رپورٹ موجدین، محققین اور ایسے دیگر لوگوں کیلئے ''GenAI‘‘سے بہتر طور پر کام لینے میں بھی معاون ہو گی۔گزشتہ سال دنیا بھر میں ''GenAI‘‘ پر مبنی ٹیکنالوجی کے جاری کردہ ملکیتی حقوق کی تعداد 25 فیصد اور اس ٹیکنالوجی سے متعلق شائع ہونے والے مضامین کی تعداد 45 فیصد تک بڑھ گئی۔ اس وقت'' GenAI‘‘سے متعلق جاری ہونے والے ملکیتی حقوق کی تعداد دنیا بھر میں تمام ایجادات کے جاری ہونے والے ملکیتی حقوق کا 6 فیصد ہے۔ 2014ء اور 2023ء کے درمیان تخلیقی مصنوعی ذہانت سے متعلق 54 ہزار ایجادات کے ملکیتی حقوق کیلئے درخواستیں دی گئیں اور اس ٹیکنالوجی کے بارے میں 75 ہزار سائنسی مضامین شائع ہوئے۔ 2017ء میں ''لارج لینگوئج ماڈل‘‘ کے پیچھے ڈیپ نیورل نیٹ ورک آرکیٹیکچر متعارف ہونے کے بعد ''GenAI ‘‘ کے ملکیتی حقوق کی تعداد میں آٹھ گنا اضافہ ہوا ہے۔''GenAI‘‘کے ملکیتی حقوق کیلئے سب سے زیادہ درخواستیں دینے والوں میں چینی ٹیکنالوجی کمپنی Tencent (2,074 )،Ping An Insurance (1,564) ، Baidu(1,234) ، ''چائینز اکیڈمی آف سائنسز‘‘ (607)، ''آئی بی ایم‘‘ (601) ، علی باب گروپ(571)، سام سنگ الیکٹرانکس (468)، الفابیٹ (443)، بائٹ ڈانس (418) اور مائیکروسافٹ (377) شامل ایجادات ہیں۔طبی ٹیکنالوجی میں ترقیطبی ٹیکنالوجی پر مبنی سب سے زیادہ ایجادات چین (38,210)، امریکہ (6,276)، کوریا (4,155)، جاپان (3,409) اور انڈیا (1,350) میں ہوئیں۔ ''GenAI‘‘کی ٹیکنالوجی کے حوالے سے جن ایجادات کے ملکیتی حقوق جاری کیے گئے ان میں بیشتر (17,996) کا تعلق تصاویر اور ویڈیو سے تھا۔ اس کے بعد تحریری مواد پر مبنی ایجادات (13,494) کو ملکیتی حقوق جاری کیے گئے۔ گفتگو/موسیقی پر مبنی مواد کی 13,480 ایجادات رجسٹرڈ ہوئیں۔مالیکیول، جین اور پروٹین سے متعلق معلومات پر مبنی ٹیکنالوجی کی ایجادات میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ 2014 کے بعد ایسی 1,494 ایجادات کے لیے ملکیتی حقوق جاری کیے گئے جبکہ گزشتہ پانچ برس کے دوران ان میں اوسط سالانہ اضافے کی شرح 78 فیصد تک رہی۔مصنوعی ذہانت مستقبل کے امکاناتیہ ملکیتی حقوق بہت سے شعبوں سے متعلق ٹیکنالوجی کیلئے جاری کیے گئے جن روزمرہ زندگی کی سائنس سے متعلق 5,346، دستاویزات کے انتظام و اشاعت سے متعلق 4,976 اور کاروباری طریقوں، صنعت اور اشیا کی تیاری، نقل و حمل، سلامتی اور ٹیلی مواصلات کے شعبوں میں سے ہر ایک میں 2,000 ایجادات کے لیے ملکیتی حقوق جاری کیے گئے۔''ورلڈ انٹلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن‘‘ (WIPO) کا کہنا ہے کہ مستقبل میں تخلیقی مصنوعی ذہانت (GenAI)نئے مالیکیول کی تیاری اور ادویہ سازی کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے جبکہ اس سے دستاویزات کے انتظام و اشاعت کو خودکار بنایا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں، نچلی سطح پر اشیا کی فروخت، پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام اور خودکار ڈرائیونگ سمیت صارفین کی خدمات کیلئے کام کرنے والے چیٹ بوٹس میں اس کا استعمال بڑھنے کا امکان ہے۔  

نمل جھیل پہاڑوں کے درمیان خوبصورت تفریحی مقام

نمل جھیل پہاڑوں کے درمیان خوبصورت تفریحی مقام

نمل ڈیم کے ساتھ وادیٔ نمل کے ایک کونے میں واقع نمل جھیل میانوالی، خوشاب، تلہ گنگ، چکوال اور دیگر ملحقہ شہروں کیلئے تفریح گاہ ہے۔ پہاڑیوں کے دامن میں واقع یہ جھیل 1913ء میں بنائی گئی تھی۔ میانوالی سے تقریباً 32 کلومیٹر کی مسافت پر واقع یہ جھیل ساڑھے پانچ مربع کلومیٹر کے لگ بھگ رقبے پر مشتمل ہے۔ اس کے مغرب اور جنوب میں پہاڑ ہیں جبکہ شمال اور مشرق میں زرعی علاقہ ہے۔ پہاڑوں سے چشموں اور برساتی نالوں کا پانی اس جھیل میں آتا ہے۔ جھیل زرعی اراضی کو سیراب کرنے کا بھی باعث ہے۔ یہاں کی زمین بے حد زرخیز اور سر سبز تھی۔ لوگ یہاں پر کاشتکاری کیا کرتے تھے۔ اس وقت اس علاقہ میں کنوؤں کی تعداد لگ بھگ سو کے قریب تھی۔ یہ علاقہ جو وادی نمل کے نام سے جانا جاتا ہے کئی صدیوں سے آباد چلا آرہا ہے۔ اس حقیقت کا پتہ جھیل کے کنارے واقع قدیم قبرستان سے بھی ملتا ہے۔ اس سلسلے میں ایک دلچسپ روایت بھی مشہور ہے فرنگی عہد سے قبل جب پنجاب پر سکھوں کی حکومت تھی اس علاقے کا فرمانروا راجہ سر کپ ہوا کرتا تھا جو اپنے وقت کا عیاش اور سخت گیر حاکم تھا، کہا جاتا ہے کہ ان پہاڑیوں پر اس نے اپنی ایک محل نما حویلی بنا رکھی تھی جس میں وہ جوا کھیلا کرتا تھا۔ اس کی یہ شرط تھی کہ جو کوئی اسے شکست دے گا وہ اسے اس علاقے کا حکمران بنا دے گا لیکن جو اس سے بازی ہار جائے گا اس کا سر قلم کر دیا جائے گا۔چنانچہ اس نے اس دوران سینکڑوں لوگوں کے سر قلم کیے بالآخر سیالکوٹ کے راجہ نے یہ معرکہ سر کر لیا۔ اس نے راجہ سر کپ کو ہرا کر بازی جیت لی اور اس کے نتیجے میں راجہ سر کپ نے اپنی اکلوتی بیٹی کی شادی اس سے کر دی اور یوں وہ اس تمام علاقے کا مالک و خودمختار ٹھہرا۔نمل جھیل 1200 ایکڑ پر مشتمل وسیع رقبے پر پھیلی ہوئی ہے اس کی گہرائی تقریباً 20بیس فٹ ہے پہاڑوں سے آبی چشموں اور برساتی نالہ کے ذریعے آنے والا پانی جب یہاں پہنچتا ہے تو نمل کے کشادہ بازو اسے اپنے دامن میں سمیٹ لیتے ہیں جھیل کا یہ پانی میانوالی شہر اور اس سے ملحقہ دیہات کو سیراب کرتا ہے اس مقصد کیلئے پہاڑوں کے درمیان ایک چھوٹا سا ڈیم تعمیر کیا گیا ہے جب جھیل کا پانی ڈیم کے آہنی درازوں میں سے ہوتا ہوا دوسری طرف نالے میں آبشار کی صورت میں گرتا ہے تو اس سے خوفناک آواز پیدا ہوتی ہے۔ کنارے پر اللہ کے ایک برگزیدہ بندے حضرت حافظ جی کا مزار ہے۔6اور7شعبان کو حافظ جی کا عرس ہوتا ہے۔ سالانہ عرس کے علاوہ ماہ محرم کی ساتویں اور آٹھویں تاریخوں کو بھی دور دراز سے لوگ جوق در جوق یہاں آتے ہیں اور اس مزار پر حاضری دیتے ہیں۔ اس موقع پر یہاں میلے کا سا سماں ہوتا ہے۔ عقیدت مندوں کی غیر معمولی تعداد کے پیش نظر یہاں پر عارضی دکانیں بن جاتی ہیں۔ مزار سے ملحقہ ایک مسجد بھی ہے جس میں آج بھی قال اللہ اور قال الرسول کی صدائے دلنشین سنائی دیتی ہے۔ 1984ء سے مزار کا انتظام محکمہ اوقاف نے سنبھال رکھا ہے۔مزار حافظ کے قریب ایک ریسٹ ہاؤس بھی بنایا گیا ہے جو دو کمروں لان اور خوبصورت صحن پر مشتمل ہے یہاں سے جھیل کا منظر آنکھوں کو بھلا لگتا ہے۔مزار کی جانب آبادی خانقاہ حافظ جی کے نام سے موسوم ہے جبکہ دوسری طرف کی آبادی نمل گاؤں کے نام سے موسوم ہے۔ یہ لوگ کشتیوں کے ذریعے اس جھیل کو عبور کرتے ہیں۔ کشتیوں کے علاوہ ان لوگوں کیلئے کوئی ذریعہ آمدروفت نہیں ہے۔نمل جھیل میں ایک فش فارم بھی بنایا گیا ہے جس کا باقاعدہ ٹھیکہ دیا جاتا ہے اس کا انتظام ضلع کونسل میانوالی کے سپرد ہے۔ یہاں مچھلیوں کا قابل ذکر ذخیرہ موجود ہے لوگ یہاں پر مچھلیاں پکڑتے ہیں۔مچھلی کے علاوہ جھیل میں مرغابیوں کا شکار بھی ہوتا ہے سابق صدر فلیڈ مارشل محمد ایوب خان مرحوم، سابق گورنر مغربی پاکستان نواب امیر محمد خان مرحوم اور دیگر اعلیٰ شخصیات یہاں شکار کرنے اور تفریح کی غرض سے آتی رہی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ میانوالی، خوشاب، تلہ کنگ، چکوال اور دیگر ملحقہ شہروں کیلئے یہ جھیل ایک خوبصورت او ر بے مثال تفریحی مقام کا درجہ رکھتی ہے،لوگ اہل خانہ کے ساتھ پکنک منانے اور ان قدرتی اور حسین مناظر سے لطف اندوز ہونے کیلئے یہاں کھچے چلے آتے ہیں۔ متذکرہ بارانی علاقوں، خشک اور بے مزہ ماحول میں رہنے والوں کیلئے نمل جھیل سے بہتر کوئی تفریحی مقام نہیں ہے۔جھیل کے انتظام سے متعلقہ محکمہ کے ارباب اسے مزید خوبصورت حسین او ر دلکش بنانے کیلئے خصوصی توجہ دیں، تاکہ یہاں آنے والوں کو پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وہ بھر پور طریقے سے ان مناظر سے لطف اندوز ہوں۔ 

آج کا دن

آج کا دن

''اپالو11‘‘کی روانگی16جولائی 1969ء کو ناسا کا مشن ''اپالو 11‘‘ چاند کے مشن پر روانہ ہوا۔اسے فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے لانچ کیا گیا۔ ''اپالو 11‘‘ امریکی خلائی پرواز تھی جس نے پہلی بار انسانوں کو چاند پر اتارا۔ کمانڈر نیل آرمسٹرانگ اور خلائی جہاز کے پائلٹ بز ایلڈرن نے 20 جولائی 1969ء کوخلائی جہاز کو چاند پر لینڈ کیا اور آرمسٹرانگ چاند کی سطح پر قدم رکھنے والے پہلے شخص بن گئے۔ایلڈرن 19 منٹ بعد آرمسٹرانگ کے ساتھ شامل ہوا، اور دونوں نے تقریباً ڈھائی گھنٹے اکٹھے اس جگہ کی کھوج میں گزارے جس کا نام انہوں نے لینڈنگ کے وقت ٹرنکولیٹی بیس رکھا تھا۔ مونٹ بلانک ٹنل16جولائی1965ء کو فرانس اور اٹلی کو آپس میں ملانے والی ''مونٹ بلانک ٹنل‘‘ کو عام لوگوں کیلئے کھولا گیا۔ ''مونٹ بلانک ٹنل‘‘ فرانس اور اٹلی کے درمیان الپس میں مونٹ بلانک پہاڑ کے نیچے ایک شاہراہ سرنگ ہے۔ یہ گزرگاہ ایک اہم ٹرانس الپائن نقل و حمل کے راستوں میں سے ایک ہے، خاص طور پر اٹلی کیلئے جو شمالی یورپ تک اپنے ایک تہائی مال برداری کیلئے اس سرنگ پر انحصار کرتا ہے۔ یہ فرانس سے ٹورن تک کے راستے کو 50 کلومیٹر اور میلان تک 100 کلومیٹر تک کم کر دیتا ہے۔ مونٹ کی چوٹی کے شمال مشرق میں، سرنگ مونٹ ڈولنٹ کے قریب سوئٹزرلینڈ کے ساتھ سہ رخی کے جنوب مغرب میں تقریباً 15 کلومیٹر ہے۔زہریلا کھانا 16 جولائی 2013ء کوبھارت کے ایک سکول میں زہریلا کھانا کھانے سے درجنوں بچے موت کے منہ میں چلے گئے۔ یہ واقعہ بھارتی ریاست بہار کے سارن ضلع کے گاؤں گنڈامن کے پرائمری سکول میں پیش آیاجہاںلنچ کیلئے لائے کھانے میں کیڑے مار دوا ملی ہوئی تھی۔ کیڑے مار دواسے آلودہ مڈ ڈے میل کھانے کے بعد کم از کم 23 طلباء کی موت ہو گئی جبکہ درجنوں بچے تشویشناک حالت کے باعث آئی سی یو میں زیر علاج رہے۔سانحہ کے بعد بچوں کے والدین و رشتہ داروں نے احتجاج کرتے ہوئے کئی شاہراہوں کو بلاک کر دیا۔جس کے نتیجے میں حکومت کو فوری طور پر حرکت میں آنا پڑا ۔جاپان میں شدید زلزلہجاپان کے چیٹسو آف شور میں16 جولائی 2007ء کو ایک خوفناک زلزلہ آیا۔یہ علاقہ جاپان کے شمال مغرب میںواقع ہے۔یہ زلزلہ ایک فالٹ لائن پر آیا تھا اس لئے اس نے نیگاٹا اور اس کے آس پاس کے علاقوں کو ہلا کر رکھ دیا۔اس زلزے کی شدت 6.6 ریکارڈ کی گئی۔اس خوفناک زلزلے کے جھٹکے ٹوکیو تک محسوس کئے گئے۔ زلزلے کی وجہ سے متعدد افراد جاں بحق جبکہ تقریباً 1100زخمی ہوئے۔ 342عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں جن میں زیادہ تر لکڑی کی بنی ہوئی تھیں۔ عمارتوں کی تباہی کی وجہ سے گیس اور بجلی کا نظام مکمل طور پر معطل ہو گیا جس کی وجہ سے لوگوں میں زیادہ خوف و ہراس پھیلا۔