قائد اعظم ہاؤس میوزیم

 قائد اعظم ہاؤس میوزیم

اسپیشل فیچر

تحریر : شیخ نوید اسلم


بانی ٔ پاکستان کی زندگی کی یادوں سے جڑاکراچی کے ضلع جنوبی میں شاہراہ فیصل پر ہوٹل مہران اور فاطمہ جناح روڈ کے درمیان ایک پرشکوہ عمارت ایستادہ ہے، جسے قائد اعظم میوزیم ہاؤس کا نام دیا گیا ہے۔ اس سے قبل اس کا نام فلیگ سٹاف ہاؤس تھا ۔یہ قائد اعظم محمد علی جناح اور محترمہ فاطمہ جناح کے حوالے سے ایک تاریخی اہمیت کی حامل ہے۔ یہ گھر قائداعظم نے 115,000کا خریدا تھا ۔اس کا سیل ایگریمنٹ 14اگست 1943ء کو سہراب کائوس جی کڑاک سے طے پایا تھاجو کراچی کے مئیر بھی رہے ۔ یہ تو پتہ نہیں چل سکا کہ یہ عمارت کب قائم ہوئی، تاہم دستیاب شدہ ریکارڈ کے مطابق 1922ء میں اس کے مالک رام چند ہنسوج لومانا تھے۔ بعد ازاں یہ گھر برٹش انڈین آرمی کے لیے کرائے پر حاصل کر لیا گیا۔ اس عمارت میں برٹش انڈین آرمی اور رائل پاکستان آرمی کے کمانڈر انچیف یا دیگر افسران کرائے پر رہتے رہے۔ ستمبر 1947ء میں قائد اعظم محمد علی اپنی دہلی کی رہائش گاہ 10اورنگ زیب روڈ سے فلیگ سٹاف ہاؤس منتقل ہوگئے ،مگر زندگی نے قائد اعظم کو اس گھر میں زیادہ عرصہ رہنے کی مہلت نہ دی ۔اس بات کا مصدقہ ریکارڈ تو نہیں ملتا کہ قائد نے کبھی یہاں مستقل یا باضابطہ رہائش اختیار کی ہو، تاہم بعض دستیاب شدہ روائتی گھریلو اشیاء یہ ظاہر کرتی ہیںکہ قائد اعظم نے کئی بار اس گھر کا دورہ کیا اور آرام کیا۔ قائد اعظم کے انتقال کے بعد ان کی بہن اور سیاسی مشیر محترمہ فاطمہ جناح جو قائد کے ساتھ ہی گورنر جنرل ہاؤس میں مقیم تھیں، 13ستمبر 1948ء کو فلیگ سٹاف ہاؤس میں منتقل ہوگئیں۔ یہاں ان کا قیام 1964ء تک رہا، جس کے بعد وہ اپنے ذاتی گھر موہاٹا پیلس ( قصر فاطمہ) میں منتقل ہوگئی تھیں۔9جولائی 1967ء کو متحرمہ فاطمہ جناح کے انتقال کے بعد ایک صدراتی حکم نامے کے تحت ایک کمیشن تشکیل دیا گیا ،جس کی یہ ذمہ داری ٹھہرائی گئی کہ وہ قائد سے متعلق اہم تاریخی اشیاء کو اکٹھا کرکے جدید سائنسی طریقے سے اسے محفوظ کر کے عوامی نمائش کے لیے رکھے جائیں۔ قائد اعظم کے انتقال کے بعد ان کی بہن شیریں بائی ہاشم رضا ( سابق میئر کراچی) محمد لیاقت مرچنٹ (قائد کے بھانجے) کے اشتراک سے قائد اعظم ٹرسٹ قائم ہوا۔ ان ٹرسٹی سے فروری 1985ء کو 5,10,7000روپے کے عوض یہ گھر حکومت پاکستان نے خرید لیا۔ باضابطہ طور پر حکومت کو 1985ء میں منتقلی سے قبل ہی 14جون 1984ء کو فلیگ سٹاف ہاؤس کو محکمہ ٔ آثار قدیمہ نے اپنی تحویل میں لے کر تزئین و آرائش و مرمت کا کام شروع کر دیا تھا اور 2کروڑ روپے اس مد میں خرچ کئے گئے۔ از سرنو اس بلڈنگ کی تزئین کی گئی ۔80فی صد میٹریل اصلی استعمال کیا گیا۔ باغات کو بسایا گیا۔ قائدا عظم و محترمہ فاطمہ جناح سے متعلق اشیاء کو محفوظ کیا گیا ۔مثلاً قائد اعظم کے کمرے کی سیٹنگ ان کے دہلی والے گھر کی طرح سے رکھی گئی ہے، وہی فرنیچر کا رپٹ، قائد کی قانونی کتابیں بمعہ ان کے دستخط ، چھڑیاں، ماربل کا عمدہ سیٹ، ماربل ہی کا ٹیلی فون سیٹ جواب بھی درست حالت میں ہے ۔قائد کے استعمال میں آنے والے جوتے، قائد اعظم کے بیڈ روم میں کافور کی لکڑی سے بنا خوبصورت بکس جو اس وقت بھی کافور کی مکمل مہک دے رہا ہے۔ سگار بکس ، ایزی چیئر و آرام دہ کرسی میسور بھارت کا بنا ہوا اگر بتی کیس ، جس کی نمایاں خوبی اس پر یا محمدؐ اور درود شریف لکھا ہوا ہے۔ قائد کے زیر استعمال قرآن مجید، ان کی ایک آنکھ کا چشمہ اور فاطمہ جناح کے ڈریسنگ روم میں ان کے پلنگ کی وہی سیٹنگ جو ان کی زندگی میں تھی، ان کے پاؤں کی کھڑاواں نما چپل، لکھنے کی میز ، الماری، شو پیس لکڑی سے بنی ہوئی خوبصورت الماری وغیرہ اور پرانا فرنیچر یہ سب اتنی عمدہ کو الٹی کی ہے کہ دیکھنے کے قابل ہے ۔متحرمہ شریں جناح کے استعمال میں آنے والی اخروٹ کی لکڑی کا فرنیچر جس پر ان کا نشان SJبنا ہوا ہے ۔1993ء میں فلیگ سٹاف ہاؤس کا نام تبدیل کرکے قائد اعظم ہاؤس میوزیم رکھا گیا اور 25نومبر 1993ء کو سندھ کے سابق گورنر مرحوم حکیم محمد سعید نے اس میوزیم کا افتتاح کیا۔ فلیگ سٹاف ہاؤس کا طرز تعمیر کا نونیل آرکیٹکچر سے ملتا جلتا ہے۔ اس کا ڈیزائن انجینئر مونکروف نے بنایا تھا ۔10,241 مربع گز پر پھیلی ہوئی، اس عمارت میں وسیع باغ کے ساتھ تین کمرے گراؤنڈ فلور پر جبکہ تین کمرے پہلی منزل پرواقع ہیں ۔دو بیرونی کمرے 16فٹ 10انچ کشادہ ہیں۔ پہلی منزل پر واقع کمرے بھی اتنے ہی کشادہ ہیں۔ ہر ایک کمرہ برآمدے میں کھلتا ہے ۔انہی کمروں سے منسلک گراؤنڈ فلور پر ایک انیکسی بھی واقع ہے، جسے اب آڈٹیوریم میں تبدیل کر دیا ہے۔ جہاں تقریری مقابلے ، تعلیمی مقالے ، آڈیو ویژیل شوز ، نمائش وغیرہ ( قائد اعظم سے متعلق) ہوتی ہے۔ اس عمارت میں 18سرونٹ کوارٹرز، 4گیراج 3گارڈ روم اور ایک کچن بھی موجود ہے ۔کچن کو اب ایڈمنسٹریٹو آفس میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔کراچی کے معروف معمار یاسمین لاری کو اس منصوبے پر مقرر کیا گیا اور ان کے ہی مشوروں سے قائد اعظم میوزیم کا پورا کام کیا گیا۔ میوزیم کے مرکزی گھر کو مکمل طور سے درست کر کے اس کی اصل حالت کو برقرار رکھا گیا ہے۔ اس کی بگڑی ہوئی اور خستہ حالت کو تزئین و آرائش کرکے دوبارہ نکھارا گیا۔ صرف گراؤنڈ فلور کی چھت کو کنکریٹ سیمنٹ تبدیل کرنے کے بعد اس پر لکڑی کے ٹکڑوں سے چھت بنانے سے اس کی اصلی حالت نظر آتی ہے ۔قائد اعظم میوزیم میں واقع باغ کو بھی از سر نو ڈیزائن کیا گیا ہے اس میں پانی کی سپلائی کو بحال کرنے کے ساتھ ساتھ روشنی کا موثر انتظام ( برائے سیکورٹی اور خصوصی تقاریب منعقد کرانے کے حوالے سے) کیا گیا ہے اس کا ڈیزائن مونکروف نے بنایا ہے مگر معروف آرکیٹیکٹ یاسمین لاری نے اس خیال کو مسترد کرتے ہوئے بتایا کہ اس عمارت کو سومک نے تعمیر کیا ہے سومک کی یہ عادت تھی کہ وہ اپنی تیار کردہ عمارتوں پر کسی کونے میں اپنا نام نقش کر دیتا تھا اور اس عمارت کی ڈیوڑھی میں نقش و نگار میں اس کا نام دیکھا جاسکتا ہے۔ بشرطیکہ تھوڑی سی ہمت کی جائے ۔فلیگ سٹاف ہاؤس ، سومک کی پہچان بن جانے والی پہلی عمارت تھی جس میں اس کی تخلیقی و ذہنی صلاحیتوں کا بھر پور اظہار ملتا ہے یہ بات تعجب انگیز ہو سکتی ہے کہ جب اس معمار سومک کو یہ عمارت بنانے کا کہا گیا تھا تو اسے بہت کم لوگ جانتے تھے ،مگر ان دونوں معروف معمار اسٹربچن اس قدر دوسرے کاموں میں مصروف تھا کہ اس کے پاس اس عمارت کی تعمیر کے لیے وقت نکالنا مشکل تھا چنانچہ یہ کام سومک کے سپرد ہوا۔ یہ عمارت غالباً 1890ء کے لگ بھگ تعمیر ہوئی اور کے ڈی اے کے ریکارڈ میں جو 1865ء درج ہے، غلط ہے ۔یہ واضح ہوتا ہے کہ ان نقشوں سے جو کہ 1874ء اور 1869-70ء میں شائع ہوئے ان نقشوں کو دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ عمارت ان نقشوں کی اشاعت کے بعد مکمل ہوئی سومک کا فلیگ سٹاف پر کیا گیا کام ڈبل سٹوری عمارت تک محدود ہے جبکہ انیکسی والا حصہ اس کے بعد تیار کیا گیا ممکنہ طور پر محدود بجٹ میں رہتے ہوئے مرکزی حصے کو با سلیقہ طریقے سے تعمیر کیا گیا ہے ۔محترمہ فاطمہ جناح جن دونوں اس عمارت میں رہیں ان کی سیاسی جدوجہد کے دونوں میں یہ عمارت کمبائنڈ اپوزیشن پارٹیز (C.O.P) کا ہیڈ کوارٹر بھی رہی مادر ملت سے نامور شخصیات مثلاً خواجہ ناظم الدین ، مولانا مودودی ، جسٹس زید ایچ لاری، چین کی عظیم خاتون مادام سن یات سن ، چو این لائی ، سوئیکارنو، شہنشاہ ایران، الجزائر کے فرحت عباس، مسز اندرا گاندھی ، پنڈت جواہر لال نہرو، مسز روز ویلٹ ، مادام ڈیگال، مسز سروجنی نائیڈو ، مسز نکلسن نے اسی فلیگ سٹاف ہاؤس میں ملاقاتیں کیں۔ اس عمارت کی شاندار اہمیت اور محل وقوع کی وجہ سے بہت سی پارٹیاں اسے خریدنا چاہتی تھیں ،اس لیے نہیں کہ اس عمارت کو بچایا جائے بلکہ اس لیے کہ اسے توڑ پھوڑ کر از سر نو کوئی نئی عمارت ایستادہ کی جائے ۔ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے ایڈمرل یو اے سعید کے علاوہ 1973ء میں نیشنل بنک کے جمیل نشتر نے 300روپے فی مربع گز کے حساب سے پیش کش کی ان کا ارادہ بنک کے لیے ملٹی سٹوری بلڈنگ بنام جناح مرکز بنانا مقصود تھا۔ قائد اعظم سے متعلق جائیدا کے ٹرسٹی معروف سیاسی لیڈر ایم اے اصفہانی نے اس شرط پر بولی کی منظوری دینے کا کہا کہ نئی عمارت کی ایک منزل قائد اعظم لائبریری اور ان کی یادگار اشیاء کے لیے مختص کر دی جائے، مگر یہ مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے۔ اگلی بولی 1975ء میں 675 روپے مربع گز کے حساب سے وصول ہوئی خوش قسمتی سے نیشنل بنک یا دیگر ادارے اونچی بولی دینے سے قاصر رہے اور یوں یہ عمارت ملٹی سٹوری پلازہ کی شکل اختیار نہ کر سکی ۔ اس بنگلے کو 1985ء تک نظر انداز کر دیا گیا اس کے بعد محکمہ آثار قدیمہ کے کہنے پر حکومت نے اس بنگلے کو خرید کر اسے قومی یادگار قرار دے دیا واضح رہے کہ اس عمارت کی نیلامی کا اشتہار اکتوبر 1980ء میں شائع ہوا تھا، جس کے بعد قائد اعظم کے سیکرٹری رضوان احمد نے اخبارات کے ذریعے اس طرف توجہ دلائی کہ اسے نیلا م نہ کیا جائے اور قومی یادگار قرار دیا جائے ۔ممتاز قانون دان شریف الدین پیرزادہ نے اس بلڈنگ کی فروخت کے بعد سٹے(Stay) آرڈر بھی لیا تھا۔قائد اعظم میوزیم میں داخلہ مفت ہے ۔صبح نو بجے سے شام چار بجے تک ماسوائے بدھ کے یہ میوزیم کھلا رہتا ہے۔ میوزیم کے باغ کے صحن میں فوارہ بھی اس کے حسن کو بڑھاتا دکھائی دیتا ہے۔یہ میوزیم واحد میوزیم ہے، جہاں آنے والے مہمانوں کو سٹاف خود بہ نفس نفیس میوزیم دکھاتا اور تاریخ سے آگاہ کرتا ہے۔ ٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
اشاروں کی زبان کا عالمی دن

اشاروں کی زبان کا عالمی دن

ہر سال 23 ستمبر کو دنیا بھر میں اشاروں کی زبان کا عالمی دن (World Sign Language Day)منایا جاتا ہے۔ یہ دن ان لاکھوں افراد کی نمائندگی کرتا ہے جو سننے اور بولنے کی صلاحیت سے محروم ہیں،مگر اشاروں کی زبان سے ابلاغ کرتے ہیں۔ یہ دن نہ صرف اشاروں کی زبان کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے بلکہ سماعت سے محروم افراد کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ بھی کرتا ہے۔اشاروں کی زبان کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ہمارا مشاہدہ ہے کہ جب انسان کو بولنا نہیں آتا وہ ہاتھوں کے اشاروں سے اپنی بات سمجھاتا ہے۔ 1620ء میں ایک ہسپانوی پادری نے گونگے بہرے لوگوں کو اشاروں کی مدد سے تقریر سکھانے پر پہلی کتاب لکھی۔ 1817ء میں امریکہ میں سماعت سے محروم افراد کے لیے ایک سکول قائم کیا گیا جہاں امریکن سائن لینگویج ایجاد کی گئی۔1951ء میں روم، اٹلی میں ورلڈ فیڈریشن آف دی ڈیف (WFD) کی بنیاد رکھی گئی جو اپنے شعبے میں دنیا کی سب سے قدیم بین الاقوامی تنظیم ہے۔ اسی تنظیم کی کوششوں سے 1958ء میں انٹرنیشنل ڈے آف دی ڈیف کا آغاز ہوا۔ دسمبر 2017 ء کی جنرل اسمبلی کی قرارداد کے ذریعے، 2018ء میں اقوام متحدہ نے پہلی بار 23 ستمبر کو اشاروں کی زبان کا عالمی دن قرار دیا۔ یہ تاریخ ورلڈ فیڈریشن آف دی ڈیف کے قیام کی سالگرہ کے طور پر منتخب کی گئی۔ پہلا عالمی دن 2018ء میں منایا گیا۔اشاروں کی زبان کیا ہے؟اشاروں کی زبان صرف ہاتھوں کے اشاروں کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مکمل زبان ہے جو ہاتھوں، چہرے کے تاثرات اور جسمانی حرکات کے امتزاج سے بنتی ہے، اور اس کی اپنی گرامر اور ساخت ہے۔ دنیا بھر میں تقریباً 300 سے زائد مختلف اشاروں کی زبانیں استعمال ہوتی ہیں۔ ورلڈ فیڈریشن آف دی ڈیف کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً سات کروڑ سے زائد افراد بولنے اور سننے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ ان میں سے 80 فیصد ترقی پذیر ممالک میں رہتے ہیں۔ پاکستان میں تقریباً 2 لاکھ 40 ہزار افراد قوت سماعت و گویائی سے محروم ہیں، جو ملک میں خصوصی افراد کی مجموعی آبادی کا ساڑھے سات فیصد ہیں۔اشاروں کی زبان کے عالمی دن کا بنیادی مقصد سماعت سے محروم افراد کے انسانی حقوق کے مکمل ادراک کے لیے اشاروں کی زبان کی اہمیت کے بارے میں شعور اجاگر کرنا ہے۔ یہ دن اشاروں کی زبان کو بولی جانے والی زبانوں کے برابر حیثیت دلانے اور گونگے بہرے افراد کی لسانی پہچان کو محفوظ بنانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ہر سال اس دن کا ایک خاص موضوع ہوتا ہے۔ 2026ء کا تھیم Declaring deaf people's human rightsہے۔پاکستان کے تناظر میںاشاروں کی زبان کا عالمی دن پاکستان میں بھی بھرپور طریقے سے منایا جاتا ہے۔ پاکستان سائن لینگویج (PSL) کے نام سے مشہور اشاروں کی زبان تقریباًڈھائی لاکھ قوت گویائی سے محروم پاکستانیوں کی بنیادی زبان ہے۔ حالیہ برسوں میںPSL کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔ دسمبر 2025ء میں وزارت وفاقی تعلیم نے 948 PSL اشاروں کے معیار پر قومی اتفاق رائے حاصل کیا جبکہ اس سال مارچ میں 1800 PSL اشاروں کا قومی مجموعہ جاری کرنے کا اعلان کیا گیا۔اس دن کی اہمیت کے باوجود قوتِ سماعت و گویائی سے محروم افراد کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ پاکستان سائن لینگویج کے لیے معیاری وسائل کی کمی، پیشہ ور مترجمین کی عدم دستیابی اور تعلیمی اداروں میں PSL کے نصاب کی عدم موجودگی جیسے مسائل موجود ہیں۔ ایک ماہر نے درست نشاندہی کی کہ اشاروں کی زبان کوئی احسان نہیں بلکہ ایک حق ہے جو خصوصی افرادکے لیے مساوی مواقع کا ایک لازمی پل ہے۔اشاروں کی زبان کا عالمی دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خاموشی بھی اظہار کی ایک زبان ہے۔ یہ دن سماعت سے محروم افراد کے حقوق کے تحفظ، ان کی لسانی پہچان کے احترام اور معاشرے میں ان کی مکمل شمولیت کے عزم کی تجدید کا موقع ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس دن کو صرف ایک رسمی تقریب تک محدود نہ رکھیں بلکہ اپنی روزمرہ زندگی میں اشاروں کی زبان کی اہمیت کو سمجھیں اور اس حوالے سے آگاہی پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔

سولر پینلز اب سمندر کی گہرائیوں میں

سولر پینلز اب سمندر کی گہرائیوں میں

سورج کو توانائی کا سب سے بڑا قدرتی ذریعہ مانا جاتا ہے اور گزشتہ کئی دہائیوں میں شمسی توانائی نے دنیا کے توانائی کے منظرنامے کو نمایاں طور پر تبدیل کیا ہے۔ گھروں کی چھتوں، صحراؤں، کھلے میدانوں اور حتیٰ کہ خلا میں بھی سولر پینلز استعمال کیے جا رہے ہیں۔ لیکن اگر یہی ٹیکنالوجی سمندر کی گہرائی میں بھی بجلی پیدا کرنے لگے تو یہ ایک غیر معمولی پیش رفت ہوگی۔ چین کی یونیورسٹی آف یوننان سے وابستہ سائنسدانوں نے ایسا ہی ایک تجربہ کرکے دکھایا ہے۔ محققین نے ایسے خصوصی شمسی سیل تیار کیے جو سمندر کے پانی کے اندر بھی سورج کی روشنی سے بجلی پیدا کرسکتے ہیں۔ ان سیلز کو ساؤتھ چائنا سی میں پانی کی سطح سے 10 میٹر نیچے آزمایا گیا اور وہاں بھی انہوں نے قابلِ استعمال مقدار میں بجلی پیدا کی۔یہ تحقیق 11 ستمبر 2026ء کو معروف سائنسی جریدے ''Joule‘‘ میں شائع ہوئی۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ تجربہ زیرِ آب شمسی توانائی کے عملی استعمال کی جانب ایک اہم قدم ہے کیونکہ اس سے پہلے زیرِ آب سولر سیلز کے زیادہ تر تجربات صرف دو میٹر یا اس سے کم گہرائی تک محدود رہے تھے۔سمندر کے اندر سولر پینل کیسے کام کرتے ہیں؟یہ سوال فطری ہے کہ جب سمندر کی گہرائی میں سورج کی روشنی بہت کم رہ جاتی ہے تو وہاں سولر سیل بجلی کیسے بنا سکتا ہے؟اس کا جواب روشنی کی خصوصیات اور نئے شمسی سیلز کے ڈیزائن میں پوشیدہ ہے۔ پانی سورج کی روشنی کو جذب اور منتشر کرتا ہے۔ جیسے جیسے روشنی پانی میں نیچے جاتی ہے اس کی شدت کم ہوتی جاتی ہے اور روشنی کے سپیکٹرم میں بھی تبدیلی آتی ہے۔ سرخ رنگ کی زیادہ ویو لینتھ والی روشنی نسبتاً جلد پانی میں جذب ہوجاتی ہے جبکہ نیلی اور سبز روشنی زیادہ گہرائی تک پہنچ سکتی ہے۔ محققین نے اسی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے روایتی سولر سیلز کے بجائے لیڈ ہیلائیڈ پیروسکائٹ پر مبنی شمسی سیلز تیار کیے۔ ان میں ایسے مواد اور تکنیک استعمال کی گئی جس سے وہ پانی کے اندر موجود محدود روشنی بالخصوص تقریباً 400 سے 600 نینو میٹر کی نیلی سبز روشنی، کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرسکیں۔تحقیق میں تیار کیے گئے سیلز کا پاور کنورژن ایفیشنسی تقریباً 34.71 فیصد تک ریکارڈ کیا گیا جب انہیں 10 میٹر گہرائی کے برابر مصنوعی روشنی کے حالات میں آزمایا گیا۔ یہ نتیجہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ عام سولر پینل کے لیے تیار کیا گیا ڈیزائن زیرِ آب روشنی کے بدلتے ہوئے سپیکٹرم کے مطابق نہیں ہوتا۔10 میٹر گہرائی میں کتنی بجلی پیدا ہوئی؟تجربے کا سب سے دلچسپ حصہ اس وقت سامنے آیا جب سائنسدانوں نے لیبارٹری سے نکل کر حقیقی سمندری ماحول میں ان سولر سیلز کو آزمایا۔محققین نے تقریباً 115 مربع سینٹی میٹر رقبے والے شمسی ماڈیولز کو جنوبی بحیرہ چین میںWeizhou Island کے قریب پانی کے اندر دو، چھ اور 10 میٹر کی گہرائی پر پہنچایا۔ اس کام کے لیے ریموٹ کنٹرول زیرِ آب روبوٹس بھی استعمال کیے گئے۔دو گھنٹے تک سورج کی روشنی میں تجربہ کرنے کے بعد دو میٹر گہرائی پر سولر سیل نے 1416 ملی واٹ آور توانائی پیدا کی، چھ میٹر پر یہ مقدار 752 ملی واٹ آور رہی جبکہ 10 میٹر گہرائی پر بھی 324 ملی واٹ آور بجلی پیدا ہوئی۔ یہ مقدار بظاہر بہت بڑی نہیں لگتی لیکن تجربے کا مقصد گھروں یا شہروں کو بجلی فراہم کرنا نہیں تھا۔ اہم بات یہ تھی کہ 10 میٹر پانی کے نیچے بھی شمسی سیل نے اتنی توانائی پیدا کی کہ لیتھیم آئن بیٹریاں چارج کی جاسکیں اور ان بیٹریوں سے ایل ای ڈی روشن کی جاسکی۔یہ مظاہرہ اس امکان کو تقویت دیتا ہے کہ مستقبل میں سمندر کے اندر نصب ایسے آلات کو بار بار سطح پر لاکر بیٹری تبدیل کرنے کی ضرورت کم ہوسکتی ہے۔زیرِ آب دنیا میں نئی توانائی کا دروازہاس ٹیکنالوجی کا سب سے اہم ممکنہ فائدہ عام بجلی گھروں کے لیے نہیں بلکہ ایسے آلات کے لیے ہے جو سمندر میں طویل عرصے تک انسان کی براہِ راست نگرانی کے بغیر کام کرتے ہیں۔سمندر میں مختلف مقامات پر ماحولیاتی سینسرز، کیمرے، مواصلاتی آلات، سائنسی ڈیٹیکٹرز اور دیگر نگرانی کے نظام نصب کیے جاتے ہیں۔ ان آلات کو مسلسل بجلی فراہم کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ اکثر انہیں بیٹریوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے جنہیں وقتاً فوقتاً تبدیل کرنے کے لیے خصوصی کشتیوں یا زیرِ آب مشینوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔اگر زیرِ آب سولر سیلز قابلِ اعتماد اور طویل عرصے تک کام کرنے کے قابل ہوجائیں تو ایسے آلات کو خود اپنی بجلی پیدا کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ محققین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں زیرِ آب سینسرز، کیمروں، مواصلاتی نظام اور خودکار زیرِ آب آلات کے لیے توانائی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔یہ پیش رفت ہمیں توانائی کے بارے میں ایک اہم سبق بھی دیتی ہے کہ مستقبل کی قابلِ تجدید توانائی صرف زمین پر نصب سولر پینلز اور ہوا سے چلنے والی ٹربائنز تک محدود نہیں ہوسکتی، ممکن ہے آنے والے برسوں میں سمندر کی گہرائی بھی شمسی توانائی کے ایک نئے میدان کے طور پر سامنے آئے۔

آج کا دن

آج کا دن

جان پال جونز کا معرکہ23 ستمبر 1779ء کو امریکی جنگِ آزادی کے دوران برطانوی ساحل کے قریب ایک مشہور بحری معرکہ ہوا۔ امریکی بحری جہاز کی کمان جان پال جونز کر رہے تھے جس کا مقابلہ برطانوی جنگی جہازوں سے ہوا۔ برطانوی جہاز نسبتاً مضبوط اور بہتر حالت میں تھے جبکہ امریکی جہاز کو شدید نقصان پہنچا۔ اس کے باوجود جان پال جونز نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا اور کئی گھنٹوں تک لڑائی جاری رکھی۔ بالآخر دونوں برطانوی جہازوں نے ہتھیار ڈال دیے۔ یہ کامیابی جان پال جونز کو امریکی بحری تاریخ کی نمایاں شخصیات میں شامل کرنے کا سبب بنی۔ لیوس اور کلارک مہم 23 ستمبر 1806ء کو امریکی مہم جُو میری ویدر لیوس اور ولیم کلارک اپنی تاریخی مہم مکمل کرکے سینٹ لوئس واپس پہنچے۔ یہ مہم تقریباً ڈھائی سال جاری رہی تھی۔ امریکی صدر تھامس جیفرسن نے ریاست لوزیانا کی خریداری کے بعد نئے حاصل ہونے والے وسیع علاقوں کی تلاش، نقشہ سازی اور جغرافیائی معلومات جمع کرنے کے لیے یہ مہم شروع کروائی تھی۔ لیوس اور کلارک نے دریائے مسوری کے راستے مغرب کی طرف سفر کیا، راکی پہاڑ عبور کیے اور بحرالکاہل تک پہنچے، پھر واپس سینٹ لوئس آئے۔ مہم کے دوران انہوں نے جغرافیہ، نباتات، جانوروں اور مقامی قبائل کے بارے میں وسیع معلومات جمع کیں۔یہ مہم موجودہ مغربی امریکہ کے علاقے کو عبور کرنے والی پہلی امریکی مہم تھی۔نیپچون کی دریافت23 ستمبر 1846ء کو فلکیات کی تاریخ کا ایک غیر معمولی واقعہ پیش آیا جب جرمن ماہرِ فلکیات جوہان گوٹ فریڈ گالے نے برلن آبزرویٹری میں نیپچون کو پہلی مرتبہ شناخت کیا۔ اس دریافت کی خاص بات یہ تھی کہ نیپچون کو محض اتفاق سے نہیں بلکہ ریاضیاتی حسابات کی مدد سے تلاش کیا گیا تھا۔ ماہرینِ فلکیات نے یورینس کے مدار میں ایسی بے قاعدگیاں دیکھی تھیں جن سے اندازہ ہوا کہ کوئی دور موجود سیارہ اس پر کششِ ثقل کے ذریعے اثر انداز ہو رہا ہے۔ فرانسیسی ماہرِ فلکیات اربین لے وئیر اور برطانوی ماہرجان کاؤچ ایڈمز نے آزادانہ طور پر اس ممکنہ سیارے کے مقام کا حساب لگایا۔لے وئیر کے حسابات کی بنیاد پر گالے نے 23 ستمبر کی رات نیپچون کو تلاش کیا اور اس کے پس منظر کے ستاروں کے مقابلے میں حرکت دیکھ کر اس کی سیاروی حیثیت کی تصدیق کی۔یہ نظامِ شمسی کے آٹھویں سیارے کی دریافت تھی۔ مملکتِ سعودی عرب کا قیام23 ستمبر 1932ء کو ملک عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود کی قیادت میں حجاز اور نجد سمیت مختلف علاقوں کو ایک ریاست کے تحت متحد کیا گیا اور نئی ریاست کا نام مملکت سعودی عرب رکھا گیا۔ اس واقعے نے جزیرہ نما عرب کے سیاسی نقشے کو نمایاں طور پر تبدیل کیا اور ایک ایسی ریاست کی بنیاد رکھی گئی جس نے بعد میں خطے کی سیاست، معیشت اور عالمی توانائی کے نظام میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق 1932ء میں مملکت کے نام اور اتحاد کا باقاعدہ اعلان کیا گیااسی نسبت سے ہر سال 23 ستمبر کو سعودی قومی دن منایا جاتا ہے۔پاک بھارت جنگ بندی 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جنگ بندی کے لیے کوششیں کیں اور 20 ستمبر کو سلامتی کونسل نے قرارداد 211 منظور کرتے ہوئے 22 ستمبر 1965ء کو صبح 7 بجے GMT سے جنگ بندی نافذ کرنے کا مطالبہ کیا۔ دونوں حکومتوں نے جنگ بندی قبول کی اور 22 ستمبر کو جنگ بندی کا آغاز ہوا۔ 23 ستمبر کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے پاکستان اور بھارت کی قیادت کو اطلاع دی کہ اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین علاقے میں بھیجے جا رہے ہیں تاکہ بین الاقوامی سرحد کے علاقوں میں جنگ بندی کی نگرانی کی جا سکے۔ اس طرح 23 ستمبر 1965ء جنگ بندی کے بعد اقوام متحدہ کی نگرانی کے باقاعدہ مرحلے کے آغاز سے بھی منسلک ہے۔

ورلڈ کا ر فری ڈے

ورلڈ کا ر فری ڈے

دنیا بھر میں 22 ستمبر کو کار فری ڈے (World Car-Free Day) منایا جاتا ہے۔ اس دن کا بنیادی مقصد لوگوں کو ایک دن کے لیے ذاتی گاڑیوں کے استعمال میں کمی لانے اور پیدل چلنے، سائیکل چلانے یا پبلک ٹرانسپورٹ جیسے وسائل استعمال کرنے کی ترغیب دینا ہے۔ یہ دن محض گاڑی نہ چلانے کا نام نہیں بلکہ اس بات پر غور کرنے کا موقع ہے کہ ہمارے شہروں میں بڑھتی ہوئی گاڑیوں کی تعداد ماحول، صحت، معیشت اور شہری زندگی پر کس طرح اثر انداز ہو رہی ہے۔ورلڈ کار فری ڈے کی اہمیتآج دنیا کے بڑے شہروں میں آبادی کے ساتھ ساتھ گاڑیوں کی تعداد بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ سڑکوں پر گاڑیوں کا بڑھتا ہوا رش ٹریفک جام، فضائی آلودگی، شور اور ایندھن کے زیادہ استعمال کا باعث بنتا ہے۔ گاڑیوں سے خارج ہونے والا دھواں اور گیسیں فضا کے معیار کو متاثر کرتی ہیں اور ماحولیاتی تبدیلی کے مسئلے میں بھی اضافہ کرتی ہیں۔ورلڈکار فری ڈے ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ شہری زندگی صرف ذاتی گاڑیوں پر منحصر نہیں ہونی چاہیے۔ اگر لوگ مختصر فاصلے کے لیے پیدل چلیں، سائیکل استعمال کریں یا پبلک ٹرانسپورٹ کو ترجیح دیں تو نہ صرف سڑکوں پر ٹریفک کم ہو سکتی ہے بلکہ ماحول کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔اس دن کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ افراد کے ساتھ ساتھ حکومتوں اور شہری اداروں کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے۔ اگر شہریوں کو محفوظ فٹ پاتھ، سائیکل لین، بہتر بس سروس اور قابلِ اعتماد پبلک ٹرانسپورٹ دستیاب ہو تو لوگوں کے لیے ذاتی گاڑی کے بجائے متبادل ذرائع اختیار کرنا آسان ہو جاتا ہے۔فضائی آلودگی اور ماحولیاتی تحفظفضائی آلودگی آج دنیا کے بڑے ماحولیاتی مسائل میں شامل ہے۔ شہروں میں گاڑیوں کا دھواں فضائی آلودگی کی ایک اہم وجہ ہے۔ خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں ٹریفک بہت زیادہ ہو، وہاں گاڑیوں سے خارج ہونے والے آلودہ ذرات صحت اور ماحول کو متاثر کر تے ہیں۔ہمارے ملک کے بڑے شہروں خصوصاً لاہور، کراچی، راولپنڈی اور اسلام آباد میں ٹریفک کا دباؤ ایک اہم شہری مسئلہ ہے۔ لاہور جیسے بڑے شہر میں لاکھوں افراد روزانہ سفر کرتے ہیں اور بڑی تعداد میں گاڑیاں سڑکوں پر موجود ہوتی ہیں۔ اگر شہری مختصر فاصلے کے لیے پیدل چلنے، سائیکل یا پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال بڑھائیں تو گاڑیوں کی تعداد اور ایندھن کے استعمال میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔ورلڈکار فری ڈے ہمیں یاد دلاتا ہے کہ صاف ہوا صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری کا بھی کردار ہے۔ چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں اجتماعی طور پر بڑا فرق پیدا کر سکتی ہیں۔صحت مند زندگی کاروں کے کم استعمال کا تعلق صرف ماحول سے نہیں بلکہ انسانی صحت سے بھی ہے۔ روزمرہ زندگی میں پیدل چلنا جسمانی سرگرمی کا ایک آسان ذریعہ ہے۔ باقاعدگی سے چہل قدمی کرنے سے جسمانی سرگرمی میں اضافہ ہوتا ہے اور فعال طرزِ زندگی کو فروغ ملتا ہے۔آج کے دور میں بہت سے لوگ گھر، دفتر، بازار اور دیگر مقامات تک پہنچنے کے لیے کار استعمال کرتے ہیں حتیٰ کہ بعض اوقات بہت کم فاصلے کے لیے بھی، مگران میں سے کچھ سفر پیدل یا سائیکل کے ذریعے کیے جا سکتے ہیں۔ٹریفک کے مسائل اور شہری زندگیبڑھتی ہوئی آبادی اور گاڑیوں کی تعداد نے دنیا کے کئی شہروں میں ٹریفک کے مسائل کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ٹریفک جام میں قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے، ایندھن زیادہ استعمال ہوتا ہے اور شہریوں کو ذہنی دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔اگر زیادہ لوگ پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کریں تو ایک ہی گاڑی میں زیادہ افراد سفر کر سکتے ہیں، جس سے سڑکوں پر گاڑیوں کا دباؤ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام محفوظ، باقاعدہ، آرام دہ اور قابلِ اعتماد ہو۔کار فری ڈے اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ شہر صرف گاڑیوں کے لیے نہیں بلکہ انسانوں کے لیے بنائے جانے چاہئیں۔ ایسے شہر جہاں پیدل چلنے والوں، سائیکل سواروں اور پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والوں کے لیے مناسب سہولیات موجود ہوں، شہری زندگی کو زیادہ آسان اور پائیدار بنا سکتے ہیں۔پاکستان میں کار فری ڈے کی ضرورتپاکستان میں اس دن کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے کیونکہ ہمارے بڑے شہروں کو ٹریفک، فضائی آلودگی اور پارکنگ جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ کار فری ڈے کے موقع پر آگاہی پروگرام منعقد کرنے چاہئیں اوراس دن کچھ سڑکوں یا مخصوص علاقوں میں محدود مدت کے لیے گاڑیوں کا داخلہ محدود کرکے پیدل چلنے اور سائیکلنگ کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ طلبہ کو ماحول کے تحفظ کے بارے میں آگاہ کرنا چاہییاور شہریوں کو پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال کی ترغیب دینی چاہیے۔کار فری ڈے ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ صاف، صحت مند اور پائیدار شہر صرف جدید سڑکوں اور زیادہ گاڑیوں سے نہیں بنتے بلکہ بہتر منصوبہ بندی اور متوازن شہری نظام سے بنتے ہیں۔ حکومت بہتر پبلک ٹرانسپورٹ، محفوظ فٹ پاتھ اور سائیکلنگ کے لیے مناسب راستے فراہم کرے اور شہری اپنی عادات میں تبدیلی لائیں تو شہروں کے ماحول میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔  

صرف چار ہفتوں میں

صرف چار ہفتوں میں

ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ عمر کا بڑھنا ایک ایساہے جسے روکا یا واپس نہیں کیا جا سکتا، لیکن سائنسدان اب یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جسم کی ''حیاتیاتی عمر‘‘ پر خوراک اور طرزِ زندگی کس حد تک اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ ایک نئی تحقیق نے اس حوالے سے ایک دلچسپ امکان پیش کیا ہے کہ صرف چار ہفتوں کی مخصوص غذائی تبدیلی جسم کے بعض ایسے حیاتیاتی اشاریوں کو بدل سکتی ہے جو عمر بڑھنے سے وابستہ ہیں۔چار ہفتوں کے تجربے میں کیا ہوا؟آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف سڈنی سے وابستہ محققین نے 65 سے 75 سال کی عمر کے 104 افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا۔شرکا کو چار مختلف غذائی گروہوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ ان میں کچھ افراد ایسی خوراک استعمال کر رہے تھے جس میں چکنائی زیادہ اور کاربوہائیڈریٹس نسبتاً کم تھے جبکہ دوسرے گروہوں کو نسبتاً کم چکنائی اور زیادہ کاربوہائیڈریٹس والی خوراک دی گئی۔ کچھ گروہوں میں جانوروں سے حاصل ہونے والی پروٹین زیادہ تھی جبکہ دوسرے گروہوں میں پودوں سے حاصل ہونے والی پروٹین کا حصہ زیادہ رکھا گیا۔اہم بات یہ تھی کہ کھانے کا منصوبہ محققین نے تیار کیا تھا اور شرکانے تقریباً چار ہفتوں تک اسی کے مطابق خوراک استعمال کی۔ تحقیق شروع ہونے اور چار ہفتے مکمل ہونے کے بعد مختلف جسمانی اور خون سے متعلق پیمائشوں کی بنیاد پر حیاتیاتی عمر کا ایک تخمینہ لگایا گیا۔نتائج میں سب سے نمایاں تبدیلی اس گروپ میں دیکھی گئی جس نے نسبتاً کم چکنائی اور زیادہ کاربوہائیڈریٹس والی خوراک استعمال کی۔ اس گروپ کے حیاتیاتی عمر کے تخمینے میں زیادہ چکنائی والی تقابلی خوراک کے مقابلے میں تقریباً 3.5 سے 4.1 سال کی کمی کے برابر فرق دیکھا گیا۔کیا واقعی لوگ چار سال جوان ہوگئے؟یہاں ایک اہم وضاحت ضروری ہے۔ تحقیق کا مطلب یہ نہیں کہ 70 سالہ شخص چار ہفتوں بعد حقیقتاً 66 سال کا ہوگیا۔ محققین نےBiological age کا اندازہ خون اور جسمانی صحت سے متعلق متعدد پیمائشوں کو ملا کر لگایا تھا۔ان پیمائشوں میں بلڈ پریشر، خون میں گلوکوز، انسولین، کولیسٹرول، جسمانی وزن، کمر کا گھیر اور دیگر عوامل شامل تھے۔ ان اعداد و شمار کو ایک سائنسی طریقہ کار، Klemera-Doubal biological age method یا KDM کے ذریعے ایک مجموعی تخمینے میں تبدیل کیا گیا۔خوراک کی تبدیلی کے بعد شرکاکے جسم میں ایسے بائیومارکرز کا مجموعہ نظر آیا جو نسبتاً کم عمر افراد میں دیکھا جاسکتا ہے۔زیادہ کاربوہائیڈریٹس کا مطلب زیادہ چینی نہیںاس تحقیق کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس میں زیادہ کاربوہائیڈریٹس والی خوراک نے بہتر نتائج دکھائے، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ کیک، مٹھائیاں، میٹھے مشروبات، سفید ڈبل روٹی یا دیگر ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس زیادہ کھانا صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔محققین کے مطابق متعلقہ غذائی گروپ میں کاربوہائیڈریٹس بنیادی طور پر ثابت اورطبعی طور پر کم سے کم حد تک پراسسڈ خوراک سے حاصل کیے گئے تھے۔ ان گروہوں میں فائبر بھی زیادہ تھا اور چکنائی کم۔ تحقیق میں یہ امکان بھی پیش کیا گیا کہ سیچوریٹڈ فیٹ کی مقدار میں فرق نتائج کی ایک وجہ ہوسکتا ہے۔اس کا عملی مطلب یہ ہے کہ صحت مند کاربوہائیڈریٹس، مثلاً دالیں، چنے، لوبیا، سبزیاں، پھل اور مکمل اناج کو ریفائنڈ چینی یا سفید آٹے والی غذاؤں کے برابر نہیں سمجھنا چاہیے۔چار ہفتے اہم ہیں، مگر پوری کہانی نہیںتحقیق کے نتائج یقیناً دلچسپ ہیں لیکن اس کی کچھ حدود بھی ہیں۔ مطالعہ صرف چار ہفتوں پر مشتمل تھا، شرکاکی تعداد نسبتاً کم تھی اور تمام افراد عمر رسیدہ آسٹریلوی افراد تھے۔ اس لیے یہ معلوم نہیں کہ یہی نتائج نوجوان افراد یا دیگر خطوں کے لوگوں میں کس حد تک نظر آئیں گے۔اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ابھی یہ ثابت نہیں ہوا کہ یہ تبدیلیاں طویل مدت تک برقرار رہتی ہیں یا نہیں، عمر سے متعلق بیماریوں کا خطرہ کم کرتی ہیں یا نہیں اور کیا انسان کی زندگی واقعی طویل کرتی ہیں۔ محققین کے مطابق اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لیے زیادہ طویل مطالعات کی ضرورت ہے۔اس کے باوجود یہ تحقیق ایک اہم پیغام ضرور دیتی ہے کہ جسم خوراک میں تبدیلی کا ردِعمل توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے دے سکتا ہے۔ چند ہفتوں میں بلڈ شوگر، کولیسٹرول، بلڈ پریشر، انسولین اورجسمانی ساخت جیسے عوامل تبدیل ہوسکتے ہیں اور یہی عوامل حیاتیاتی عمر کے بعض تخمینوں کو متاثر کرتے ہیں۔لہٰذا ''چار ہفتوں میں چار سال جوان‘‘ ہونے کے دعوے کے بجائے اس تحقیق کو یوں سمجھنا چاہیے کہ صحت مند خوراک جسم کے عمر سے متعلق حیاتیاتی اشاریوں میں نسبتاً کم مدت میں مثبت تبدیلی پیدا کرسکتی ہے۔ اصل مقصد صرف عمر کے اعداد کو کم کرنا نہیں بلکہ ایسی خوراک اختیار کرنا ہے جو دل، خون کی نالیوں، میٹابولزم اور مجموعی صحت کو طویل عرصے تک بہتر رکھنے میں مدد دے۔فضہ جاوید ماہر غذائیت ہیں اور اس حوالے سے لکھتی ہیں 

آج کا دن

آج کا دن

ایسٹ انڈیا کمپنی کی تجویز22 ستمبر 1599ء کو لندن میں مشرقی ممالک خصوصاًہندوستان کے ساتھ تجارت کرنے میں دلچسپی رکھنے والے تاجروں کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں اس بات پر غور کیا کہ انگلینڈ کو مشرقی ممالک کے ساتھ تجارت کے لیے ایک تجارتی ادارہ قائم کرنا چاہیے۔ اس زمانے میں مشرقی ممالک کے ساتھ تجارت انتہائی منافع بخش سمجھی جاتی تھی اور پرتگالی تاجر اس تجارت میں نمایاں حیثیت رکھتے تھے۔ 22 ستمبر کا یہ اجلاس بعد میں قائم ہونے والی ایسٹ انڈیا کمپنی کے قیام کی ابتدائی کوششوں میں ایک اہم مرحلہ سمجھا جاتا ہے۔ تقریباً ایک سال بعد 31 دسمبر 1600ء کو ملکہ الزبتھ اول نے ایک شاہی فرمان کے ذریعے کمپنی کو مشرقی ممالک کے ساتھ تجارت کا اختیار دیا۔نیتھن ہیل کو پھانسی 22 ستمبر 1776ء کو امریکی جنگِ آزادی کے دوران نوجوان فوجی افسر نیتھن ہیل کو برطانوی فوج نے جاسوسی کے الزام میں پھانسی دے دی۔ نیتھن ہیل امریکی فوج میں کیپٹن کے عہدے پر فائز تھا۔ امریکی جنگِ آزادی کے دوران امریکی فوج کو برطانوی فوج کی نقل و حرکت کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی ضرورت تھی۔ نیتھن ہیل نے اس مقصد کے لیے رضاکارانہ طور پر جاسوسی کا مشن قبول کیا۔وہ عام استاد کا روپ دھار کر برطانوی زیرِ قبضہ علاقے میں داخل ہوا تاہم وہ برطانوی فوج کے ہاتھوں گرفتار ہوگیا۔ گرفتاری کے بعد اس پر جاسوسی کا الزام عائد کیا گیا اور 22 ستمبر 1776ء کو اسے پھانسی دے دی گئی۔ غلاموں کی آزادی 22 ستمبر 1862ء کو امریکہ کے صدر ابراہم لنکن نے غلامی کے خاتمے کی تاریخ میں ایک انتہائی اہم اعلان کیا۔ اس وقت امریکہ کی کئی جنوبی ریاستیں وفاقی حکومت کے خلاف بغاوت کرچکی تھیں اور لنکن نے اعلان کیا کہ اگر باغی ریاستیں 1 جنوری 1863ء تک دوبارہ وفاق میں شامل نہ ہوئیں تو ان کے علاقوں میں موجود غلام افراد کو آزاد قرار دیا جائے گا جو وفاقی حکومت کے خلاف بغاوت کر رہے تھے۔ یہ اعلان فوری طور پر پورے امریکہ میں غلامی ختم کرنے کا قانون نہیں تھا بلکہ حتمی اعلان سے پہلے ایک ابتدائی اقدام تھا۔ اس کے باوجود اس کی سیاسی اور تاریخی اہمیت بہت زیادہ تھی کیونکہ اس نے امریکی خانہ جنگی کو غلامی کے مسئلے سے واضح طور پر جوڑ دیا۔ بعد میں 1 جنوری 1863ء کو غلاموں کی آزادی کا حتمی اعلان کیا گیا۔ بسوں میں نسلی تفریق کا خاتمہ22 ستمبر 1961ء کو امریکہ کے بین الریاستی تجارتی کمیشن نے بسوں اور بس اڈوں میں نسل کی بنیاد پر تفریق کے خلاف ایک حکم جاری کیا۔ اس وقت امریکہ میں سیاہ فام اور سفید فام افراد کے لیے عوامی سہولیات میں امتیاز برتا جاتا تھا۔ فریڈم رائڈرز نامی کارکنوں نے 1961ء میں بسوں کے ذریعے سفر کرکے اس کے خلاف احتجاج کیا۔ اس تحریک نے وفاقی حکومت پر عملی اقدامات کے لیے دباؤ بڑھایا۔ 22 ستمبر کو جاری کیے گئے حکم کے تحت بین الریاستی بسوں اور ان کے اڈوں پر نسل، رنگ، مذہب یا قومی پس منظر کی بنیاد پر مسافروں کے ساتھ امتیازی سلوک کا خاتمہ ہوا ۔ایران عراق جنگ 22 ستمبر 1980ء کو عراق نے ایران پر بڑے پیمانے پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں ایران عراق جنگ شروع ہوگئی۔ عراق کی فوج نے ایرانی سرحد عبور کی جبکہ عراقی فضائیہ نے ایران کے مختلف فوجی اور ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ اس جنگ کے پس منظر میں دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازعات، سیاسی اختلافات اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی شامل تھی۔ خاص طور پر شط العرب کے آبی راستے پر دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے اختلاف موجود تھا۔ 1979ء میں ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد خطے کی سیاسی صورتِ حال بھی تیزی سے تبدیل ہوئی۔ عراقی قیادت نے اس وقت ایران کو نسبتاً کمزور سمجھتے ہوئے فوجی کارروائی شروع کی، لیکن ایرانی فوج اور عوامی مزاحمت کے باعث عراق اپنے ابتدائی مقاصد مکمل طور پر حاصل نہ کرسکا۔