قائد اعظم ہاؤس میوزیم

 قائد اعظم ہاؤس میوزیم

اسپیشل فیچر

تحریر : شیخ نوید اسلم


بانی ٔ پاکستان کی زندگی کی یادوں سے جڑاکراچی کے ضلع جنوبی میں شاہراہ فیصل پر ہوٹل مہران اور فاطمہ جناح روڈ کے درمیان ایک پرشکوہ عمارت ایستادہ ہے، جسے قائد اعظم میوزیم ہاؤس کا نام دیا گیا ہے۔ اس سے قبل اس کا نام فلیگ سٹاف ہاؤس تھا ۔یہ قائد اعظم محمد علی جناح اور محترمہ فاطمہ جناح کے حوالے سے ایک تاریخی اہمیت کی حامل ہے۔ یہ گھر قائداعظم نے 115,000کا خریدا تھا ۔اس کا سیل ایگریمنٹ 14اگست 1943ء کو سہراب کائوس جی کڑاک سے طے پایا تھاجو کراچی کے مئیر بھی رہے ۔ یہ تو پتہ نہیں چل سکا کہ یہ عمارت کب قائم ہوئی، تاہم دستیاب شدہ ریکارڈ کے مطابق 1922ء میں اس کے مالک رام چند ہنسوج لومانا تھے۔ بعد ازاں یہ گھر برٹش انڈین آرمی کے لیے کرائے پر حاصل کر لیا گیا۔ اس عمارت میں برٹش انڈین آرمی اور رائل پاکستان آرمی کے کمانڈر انچیف یا دیگر افسران کرائے پر رہتے رہے۔ ستمبر 1947ء میں قائد اعظم محمد علی اپنی دہلی کی رہائش گاہ 10اورنگ زیب روڈ سے فلیگ سٹاف ہاؤس منتقل ہوگئے ،مگر زندگی نے قائد اعظم کو اس گھر میں زیادہ عرصہ رہنے کی مہلت نہ دی ۔اس بات کا مصدقہ ریکارڈ تو نہیں ملتا کہ قائد نے کبھی یہاں مستقل یا باضابطہ رہائش اختیار کی ہو، تاہم بعض دستیاب شدہ روائتی گھریلو اشیاء یہ ظاہر کرتی ہیںکہ قائد اعظم نے کئی بار اس گھر کا دورہ کیا اور آرام کیا۔ قائد اعظم کے انتقال کے بعد ان کی بہن اور سیاسی مشیر محترمہ فاطمہ جناح جو قائد کے ساتھ ہی گورنر جنرل ہاؤس میں مقیم تھیں، 13ستمبر 1948ء کو فلیگ سٹاف ہاؤس میں منتقل ہوگئیں۔ یہاں ان کا قیام 1964ء تک رہا، جس کے بعد وہ اپنے ذاتی گھر موہاٹا پیلس ( قصر فاطمہ) میں منتقل ہوگئی تھیں۔9جولائی 1967ء کو متحرمہ فاطمہ جناح کے انتقال کے بعد ایک صدراتی حکم نامے کے تحت ایک کمیشن تشکیل دیا گیا ،جس کی یہ ذمہ داری ٹھہرائی گئی کہ وہ قائد سے متعلق اہم تاریخی اشیاء کو اکٹھا کرکے جدید سائنسی طریقے سے اسے محفوظ کر کے عوامی نمائش کے لیے رکھے جائیں۔ قائد اعظم کے انتقال کے بعد ان کی بہن شیریں بائی ہاشم رضا ( سابق میئر کراچی) محمد لیاقت مرچنٹ (قائد کے بھانجے) کے اشتراک سے قائد اعظم ٹرسٹ قائم ہوا۔ ان ٹرسٹی سے فروری 1985ء کو 5,10,7000روپے کے عوض یہ گھر حکومت پاکستان نے خرید لیا۔ باضابطہ طور پر حکومت کو 1985ء میں منتقلی سے قبل ہی 14جون 1984ء کو فلیگ سٹاف ہاؤس کو محکمہ ٔ آثار قدیمہ نے اپنی تحویل میں لے کر تزئین و آرائش و مرمت کا کام شروع کر دیا تھا اور 2کروڑ روپے اس مد میں خرچ کئے گئے۔ از سرنو اس بلڈنگ کی تزئین کی گئی ۔80فی صد میٹریل اصلی استعمال کیا گیا۔ باغات کو بسایا گیا۔ قائدا عظم و محترمہ فاطمہ جناح سے متعلق اشیاء کو محفوظ کیا گیا ۔مثلاً قائد اعظم کے کمرے کی سیٹنگ ان کے دہلی والے گھر کی طرح سے رکھی گئی ہے، وہی فرنیچر کا رپٹ، قائد کی قانونی کتابیں بمعہ ان کے دستخط ، چھڑیاں، ماربل کا عمدہ سیٹ، ماربل ہی کا ٹیلی فون سیٹ جواب بھی درست حالت میں ہے ۔قائد کے استعمال میں آنے والے جوتے، قائد اعظم کے بیڈ روم میں کافور کی لکڑی سے بنا خوبصورت بکس جو اس وقت بھی کافور کی مکمل مہک دے رہا ہے۔ سگار بکس ، ایزی چیئر و آرام دہ کرسی میسور بھارت کا بنا ہوا اگر بتی کیس ، جس کی نمایاں خوبی اس پر یا محمدؐ اور درود شریف لکھا ہوا ہے۔ قائد کے زیر استعمال قرآن مجید، ان کی ایک آنکھ کا چشمہ اور فاطمہ جناح کے ڈریسنگ روم میں ان کے پلنگ کی وہی سیٹنگ جو ان کی زندگی میں تھی، ان کے پاؤں کی کھڑاواں نما چپل، لکھنے کی میز ، الماری، شو پیس لکڑی سے بنی ہوئی خوبصورت الماری وغیرہ اور پرانا فرنیچر یہ سب اتنی عمدہ کو الٹی کی ہے کہ دیکھنے کے قابل ہے ۔متحرمہ شریں جناح کے استعمال میں آنے والی اخروٹ کی لکڑی کا فرنیچر جس پر ان کا نشان SJبنا ہوا ہے ۔1993ء میں فلیگ سٹاف ہاؤس کا نام تبدیل کرکے قائد اعظم ہاؤس میوزیم رکھا گیا اور 25نومبر 1993ء کو سندھ کے سابق گورنر مرحوم حکیم محمد سعید نے اس میوزیم کا افتتاح کیا۔ فلیگ سٹاف ہاؤس کا طرز تعمیر کا نونیل آرکیٹکچر سے ملتا جلتا ہے۔ اس کا ڈیزائن انجینئر مونکروف نے بنایا تھا ۔10,241 مربع گز پر پھیلی ہوئی، اس عمارت میں وسیع باغ کے ساتھ تین کمرے گراؤنڈ فلور پر جبکہ تین کمرے پہلی منزل پرواقع ہیں ۔دو بیرونی کمرے 16فٹ 10انچ کشادہ ہیں۔ پہلی منزل پر واقع کمرے بھی اتنے ہی کشادہ ہیں۔ ہر ایک کمرہ برآمدے میں کھلتا ہے ۔انہی کمروں سے منسلک گراؤنڈ فلور پر ایک انیکسی بھی واقع ہے، جسے اب آڈٹیوریم میں تبدیل کر دیا ہے۔ جہاں تقریری مقابلے ، تعلیمی مقالے ، آڈیو ویژیل شوز ، نمائش وغیرہ ( قائد اعظم سے متعلق) ہوتی ہے۔ اس عمارت میں 18سرونٹ کوارٹرز، 4گیراج 3گارڈ روم اور ایک کچن بھی موجود ہے ۔کچن کو اب ایڈمنسٹریٹو آفس میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔کراچی کے معروف معمار یاسمین لاری کو اس منصوبے پر مقرر کیا گیا اور ان کے ہی مشوروں سے قائد اعظم میوزیم کا پورا کام کیا گیا۔ میوزیم کے مرکزی گھر کو مکمل طور سے درست کر کے اس کی اصل حالت کو برقرار رکھا گیا ہے۔ اس کی بگڑی ہوئی اور خستہ حالت کو تزئین و آرائش کرکے دوبارہ نکھارا گیا۔ صرف گراؤنڈ فلور کی چھت کو کنکریٹ سیمنٹ تبدیل کرنے کے بعد اس پر لکڑی کے ٹکڑوں سے چھت بنانے سے اس کی اصلی حالت نظر آتی ہے ۔قائد اعظم میوزیم میں واقع باغ کو بھی از سر نو ڈیزائن کیا گیا ہے اس میں پانی کی سپلائی کو بحال کرنے کے ساتھ ساتھ روشنی کا موثر انتظام ( برائے سیکورٹی اور خصوصی تقاریب منعقد کرانے کے حوالے سے) کیا گیا ہے اس کا ڈیزائن مونکروف نے بنایا ہے مگر معروف آرکیٹیکٹ یاسمین لاری نے اس خیال کو مسترد کرتے ہوئے بتایا کہ اس عمارت کو سومک نے تعمیر کیا ہے سومک کی یہ عادت تھی کہ وہ اپنی تیار کردہ عمارتوں پر کسی کونے میں اپنا نام نقش کر دیتا تھا اور اس عمارت کی ڈیوڑھی میں نقش و نگار میں اس کا نام دیکھا جاسکتا ہے۔ بشرطیکہ تھوڑی سی ہمت کی جائے ۔فلیگ سٹاف ہاؤس ، سومک کی پہچان بن جانے والی پہلی عمارت تھی جس میں اس کی تخلیقی و ذہنی صلاحیتوں کا بھر پور اظہار ملتا ہے یہ بات تعجب انگیز ہو سکتی ہے کہ جب اس معمار سومک کو یہ عمارت بنانے کا کہا گیا تھا تو اسے بہت کم لوگ جانتے تھے ،مگر ان دونوں معروف معمار اسٹربچن اس قدر دوسرے کاموں میں مصروف تھا کہ اس کے پاس اس عمارت کی تعمیر کے لیے وقت نکالنا مشکل تھا چنانچہ یہ کام سومک کے سپرد ہوا۔ یہ عمارت غالباً 1890ء کے لگ بھگ تعمیر ہوئی اور کے ڈی اے کے ریکارڈ میں جو 1865ء درج ہے، غلط ہے ۔یہ واضح ہوتا ہے کہ ان نقشوں سے جو کہ 1874ء اور 1869-70ء میں شائع ہوئے ان نقشوں کو دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ عمارت ان نقشوں کی اشاعت کے بعد مکمل ہوئی سومک کا فلیگ سٹاف پر کیا گیا کام ڈبل سٹوری عمارت تک محدود ہے جبکہ انیکسی والا حصہ اس کے بعد تیار کیا گیا ممکنہ طور پر محدود بجٹ میں رہتے ہوئے مرکزی حصے کو با سلیقہ طریقے سے تعمیر کیا گیا ہے ۔محترمہ فاطمہ جناح جن دونوں اس عمارت میں رہیں ان کی سیاسی جدوجہد کے دونوں میں یہ عمارت کمبائنڈ اپوزیشن پارٹیز (C.O.P) کا ہیڈ کوارٹر بھی رہی مادر ملت سے نامور شخصیات مثلاً خواجہ ناظم الدین ، مولانا مودودی ، جسٹس زید ایچ لاری، چین کی عظیم خاتون مادام سن یات سن ، چو این لائی ، سوئیکارنو، شہنشاہ ایران، الجزائر کے فرحت عباس، مسز اندرا گاندھی ، پنڈت جواہر لال نہرو، مسز روز ویلٹ ، مادام ڈیگال، مسز سروجنی نائیڈو ، مسز نکلسن نے اسی فلیگ سٹاف ہاؤس میں ملاقاتیں کیں۔ اس عمارت کی شاندار اہمیت اور محل وقوع کی وجہ سے بہت سی پارٹیاں اسے خریدنا چاہتی تھیں ،اس لیے نہیں کہ اس عمارت کو بچایا جائے بلکہ اس لیے کہ اسے توڑ پھوڑ کر از سر نو کوئی نئی عمارت ایستادہ کی جائے ۔ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے ایڈمرل یو اے سعید کے علاوہ 1973ء میں نیشنل بنک کے جمیل نشتر نے 300روپے فی مربع گز کے حساب سے پیش کش کی ان کا ارادہ بنک کے لیے ملٹی سٹوری بلڈنگ بنام جناح مرکز بنانا مقصود تھا۔ قائد اعظم سے متعلق جائیدا کے ٹرسٹی معروف سیاسی لیڈر ایم اے اصفہانی نے اس شرط پر بولی کی منظوری دینے کا کہا کہ نئی عمارت کی ایک منزل قائد اعظم لائبریری اور ان کی یادگار اشیاء کے لیے مختص کر دی جائے، مگر یہ مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے۔ اگلی بولی 1975ء میں 675 روپے مربع گز کے حساب سے وصول ہوئی خوش قسمتی سے نیشنل بنک یا دیگر ادارے اونچی بولی دینے سے قاصر رہے اور یوں یہ عمارت ملٹی سٹوری پلازہ کی شکل اختیار نہ کر سکی ۔ اس بنگلے کو 1985ء تک نظر انداز کر دیا گیا اس کے بعد محکمہ آثار قدیمہ کے کہنے پر حکومت نے اس بنگلے کو خرید کر اسے قومی یادگار قرار دے دیا واضح رہے کہ اس عمارت کی نیلامی کا اشتہار اکتوبر 1980ء میں شائع ہوا تھا، جس کے بعد قائد اعظم کے سیکرٹری رضوان احمد نے اخبارات کے ذریعے اس طرف توجہ دلائی کہ اسے نیلا م نہ کیا جائے اور قومی یادگار قرار دیا جائے ۔ممتاز قانون دان شریف الدین پیرزادہ نے اس بلڈنگ کی فروخت کے بعد سٹے(Stay) آرڈر بھی لیا تھا۔قائد اعظم میوزیم میں داخلہ مفت ہے ۔صبح نو بجے سے شام چار بجے تک ماسوائے بدھ کے یہ میوزیم کھلا رہتا ہے۔ میوزیم کے باغ کے صحن میں فوارہ بھی اس کے حسن کو بڑھاتا دکھائی دیتا ہے۔یہ میوزیم واحد میوزیم ہے، جہاں آنے والے مہمانوں کو سٹاف خود بہ نفس نفیس میوزیم دکھاتا اور تاریخ سے آگاہ کرتا ہے۔ ٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
عالمی معیشت کی شہ رگیں

عالمی معیشت کی شہ رگیں

اہم آبی گزر گاہیں اورتوانائی کی سیاستدنیا کی جغرافیائی سیاست میں سمندری گزرگاہوں کو ہمیشہ غیر معمولی اہمیت حاصل رہی ہے مگر چند مخصوص راہداریاں جنہیں آبنائے (Straits) کہا جاتا ہے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ حالیہ صورتحال، جس میں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کیا گیا ہے، ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ یہ آبی گزر گاہیں کس قدر حساس اور عالمی معیشت کے لیے ناگزیر ہیں۔آبنائے کیا ہے اور اس کی اہمیت؟دو بڑے سمندروں یا واٹر باڈیز کو ملانے والا تنگ سمندری راستہ آبنائے کہلاتا ہے۔ورلڈ بینک اور اقوام متحدہ کے مطابق تقریباً 80 تا 90 فیصد عالمی تجارت (حجم کے لحاظ سے) سمندری راستوں کے ذریعے ہوتی ہے اور اس تجارت کا بڑا حصہ انہی اہم گزرگاہوں سے گزرتا ہے۔آبنائے ہرمز: توانائی کی سب سے بڑی گزرگاہآبنائے ہرمز دنیا میںتوانائی کی سب سے اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (EIA) کے مطابق روزانہ تقریباً 20 سے 21 ملین بیرل تیل اس راستے سے گزرتا ہے یہ عالمی تیل کی کھپت کا تقریباً 20 فیصد بنتا ہے۔ اس کے علاوہ دنیا کی مائع قدرتی گیس (LNG) کا تقریباً 25 فیصد بھی اسی راستے سے منتقل ہوتا ہے ۔سعودی عرب، ایران، عراق، کویت اور متحدہ عرب امارات اپنی برآمدات کے لیے اسی راستے پر انحصار کرتے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے حالیہ بحران نے تقریباً 400 ملین بیرل یعنی عالمی سپلائی کے تقریباً چار دن کے برابر تیل مارکیٹ سے نکال دیا جس کی وجہ سے قیمتوں میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔آبنائے ملاکا: ایشیا کی معاشی لائف لائنآبنائے ملاکا جنوب مشرقی ایشیا میں واقع ہے اور بحر ہند کو بحیرہ جنوبی چین سے ملاتی ہے۔ بین الاقوامی بحری تنظیم (IMO) کے اندازوں کے مطابق سالانہ 90 ہزار سے زیادہ بحری جہاز اس راستے سے گزرتے ہیں اورعالمی تجارت کا تقریباً 30 فیصد اسی راستے سے ہوتا ہے۔روزانہ تقریباً 16 ملین بیرل تیل یہاں سے گزرتا ہے۔چین اپنی توانائی کی ضروریات کا تقریباً 60 فیصد اسی راستے سے حاصل کرتا ہے، اسی لیے اسےMalacca Dilemma بھی کہا جاتا ہے۔آبنائے باسفورس: اناج اور توانائی کا درہترکی میں واقع آبنائے باسفورس بحیرہ اسود کو بحیرہ روم سے ملاتی ہے۔سالانہ تقریباً 48 ہزار بحری جہاز یہاں سے گزرتے ہیں۔روس اور یوکرین کی 90 فیصد سے زائد اناج کی برآمدات اسی راستے سے ہوتی رہی ہیں۔ یومیہ لاکھوں بیرل تیل اور گیس بھی اس کے ذریعے منتقل ہوتی ہے۔روس یوکرین جنگ کے دوران اس راستے کی بندش یا محدودیت نے عالمی گندم کی قیمتوں میں 20 فیصد تک اضافہ کیا۔سویز کینال: یورپ اور ایشیا کاشارٹ کٹمصر میں واقع سویز کینال عالمی تجارت کا ایک اہم مرکز ہے۔عالمی تجارت کا تقریباً 12 فیصد اس راستے سے گزرتا ہے اورروزانہ 50 سے 60 بحری جہاز یہاں سے گزرتے ہیں۔2021ء میں سویز کینال میں ایک جہاز پھنسنے سے عالمی تجارت کو تقریباً نو سے 10 ارب ڈالر یومیہ نقصان ہوا۔یہ راستہ یورپ اور ایشیا کے درمیان سفر کو تقریباً سات ہزار کلومیٹر کم کر دیتا ہے۔آبنائے جبرالٹر: بحر اوقیانوس اور بحیرہ روم کا سنگمیہ آبنائے یورپ اور افریقہ کے درمیان واقع ہے اورروزانہ تقریباً 300 بحری جہاز یہاں سے گزرتے ہیں۔یورپ کی توانائی درآمدات کا بڑا حصہ بھی اسی راستے سے آتا ہے۔نیٹو ممالک کے لیے یہ ایک اہم عسکری گزرگاہ بھی ہے۔پاناما کینال: دو سمندروں کو ملانے والا شاہکارپاناما کینال بحر اوقیانوس اور بحرالکاہل کو ملاتی ہے اورعالمی تجارت کا تقریباً پانچ فیصد اس راستے سے گزرتا ہے۔سالانہ 14 ہزار سے زائد جہاز اس سے گزرتے ہیں۔امریکہ کی 40 فیصد کنٹینر ٹریفک اسی راستے سے ہوتی ہے۔یہ کینال جہازوں کو جنوبی امریکہ کے گرد 13ہزار کلومیٹر طویل سفر سے بچاتی ہے۔عالمی معیشت پر اثراتان اہم آبناؤں میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کے اثرات فوری طور پر عالمی معیشت پر ظاہر ہوتے ہیں مثال کے طور پرتیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ،سپلائی چین میں خلل،اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ اورعالمی مہنگائی میں اضافہ۔ دنیا کی بڑی طاقتیں ان آبناؤں پر اثر و رسوخ قائم رکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔دنیا کی اہم آبنائیں عالمی معیشت کی شہ رگیں ہیں۔ ان کے ذریعے نہ صرف تجارت بلکہ توانائی، خوراک اور صنعتی پیداوار کا نظام چلتا ہے۔ آبنائے ہرمز جیسے حساس علاقوں میں کشیدگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جغرافیہ صرف نقشے تک محدود نہیں بلکہ عالمی سیاست، معیشت اور امن و استحکام کا بنیادی عنصر ہے۔مستقبل میں اگرچہ متبادل توانائی اور نئے تجارتی راستوں پر کام جاری ہے مگر فی الحال دنیا کا انحصار انہی چند انتہائی اہم آبی گزرگاہوں پر برقرار ہے اور یہی حقیقت انہیں عالمی طاقتوں کے درمیان کشمکش کا مرکز بناتی ہے۔

مصنوعی ذہانت پر بڑھتا انحصار

مصنوعی ذہانت پر بڑھتا انحصار

کیا ہم اپنی ذہنی صلاحیتیں کھو رہے ہیں؟ڈیجیٹل دور میں مصنوعی ذہانت (AI) ہماری زندگی کا لازمی حصہ بنتی جا رہی ہے۔ تحقیق، تحریر، فیصلہ سازی اور روزمرہ مسائل کے حل میں AI ٹولز جیسے چیٹ بوٹس اور سمارٹ اسسٹنٹس تیزی سے استعمال ہو رہے ہیں، تاہم حالیہ سائنسی رپورٹس ایک اہم سوال اٹھا رہی ہیں کہ کیا AI پر ضرورت سے زیادہ انحصار ہماری ذہنی صلاحیتوں کو متاثر کر رہا ہے؟ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے فوائد اپنی جگہ مگر اس کا بے جا استعمال انسانی دماغ کی کارکردگی کو کمزور کر سکتا ہے۔ یہ مسئلہ محض ایک مفروضہ نہیں بلکہ مختلف تحقیقی مطالعات سے اس کے شواہد سامنے آ رہے ہیں۔ کگنیٹو آف لوڈنگ کا رجحانAI کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ ایک اصطلاحCognitive offloading سامنے آئی ہے جس کا مطلب ہے کہ انسان اپنے ذہنی کام مشینوں کے حوالے کرنے لگتا ہے۔ مثال کے طور پر پہلے ہم معلومات یاد رکھنے کی کوشش کرتے تھے مگر اب ہم فوری طور پر AI یا انٹرنیٹ سے جواب حاصل کر لیتے ہیں۔تحقیقی ماہرین کے مطابق جب ہم مسلسل AI پر انحصار کرتے ہیں تو ہمارا دماغ کم محنت کرتا ہے، جس کے نتیجے میں یادداشت، تجزیاتی سوچ اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔ تنقیدی سوچ اور تخلیقی صلاحیت پر اثراتAI ٹولز فوری اور جامع جوابات فراہم کرتے ہیں لیکن اس سہولت میں ایک خامی بھی ہے کہ جب صارف خود سوچنے کے بجائے تیار شدہ جواب پر انحصار کرتا ہے تو اس کی تنقیدی سوچ کمزور پڑ جاتی ہے۔MIT اور دیگر اداروں کی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ AI کی مدد سے تحریر کرنے والے افراد نہ صرف کم سیکھتے ہیں بلکہ ان کی تخلیقی صلاحیت بھی محدود ہو جاتی ہے۔ اسی طرح تعلیمی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر طلبہ ابتدائی مراحل میں ہی AI پر انحصار شروع کر دیں تو وہ بنیادی مہارتیں جیسے تجزیہ اور منطقی استدلال صحیح طور پر نہیں سیکھ پاتے۔ایک اور اہم مسئلہ False Masteryیا جھوٹی مہارت کا ہے۔ AI کی مدد سے بظاہر بہتر نتائج حاصل ہو جاتے ہیں لیکن درحقیقت صارف خود اس علم کو سمجھ نہیں پاتا۔OECDکی رپورٹ کے مطابق AI طلبہ کو ایسی غلط فہمی میں مبتلا کر سکتا ہے کہ وہ کسی موضوع پر عبور رکھتے ہیںحالانکہ حقیقت میں ان کی بنیادی سمجھ بوجھ کمزور ہوتی ہے۔ یہ رجحان نہ صرف تعلیمی کارکردگی بلکہ طویل المدتی ذہنی نشوونما کیلئے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔کیا AI واقعی نقصان دہ ہے؟یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ AI مکمل طور پر نقصان دہ ہے۔ درحقیقت یہ ایک طاقتور ٹول ہے جو انسانی صلاحیتوں کو بڑھا سکتا ہے بشرطیکہ اسے درست طریقے سے استعمال کیا جائے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مسئلہ AI میں نہیں بلکہ اس کے استعمال کے طریقے میں ہے۔ اگر AI کو ایک مددگار کے طور پر استعمال کیا جائے نہ کہ مکمل متبادل کے طور پر تو یہ سیکھنے اور کارکردگی کو بہتر بنا سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت بلاشبہ انسانی ترقی کا ایک اہم سنگ میل ہے لیکن اس پر اندھا اعتماد خطرناک ہو سکتا ہے۔ اگر ہم اپنی ذہنی صلاحیتوں کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں AI کو ایک معاون کے طور پر استعمال کرنا ہوگا نہ کہ اس کا متبادل بننے دینا ہوگا۔ آنے والے دور میں اصل چیلنج یہ نہیں ہوگا کہ AI کیا کر سکتا ہے بلکہ یہ ہوگا کہ ہم اس کے ساتھ کس طرح کام کرتے ہیں۔ اگر ہم نے توازن برقرار نہ رکھا تو سہولت کی یہ ٹیکنالوجی ہماری سوچنے کی صلاحیت کو کمزور بھی کر سکتی ہے۔AI کے منفی اثرات سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کا متوازن استعمال کیا جائے۔ چند اہم اصول درج ذیل ہیں:٭AI کو رہنمائی کے لیے استعمال کریں، مکمل انحصار نہ کریں٭خود تحقیق اور تجزیہ کی عادت برقرار رکھیں٭یادداشت اور سوچنے کی مشق جاری رکھیں٭طلبہ کو بنیادی مہارتیں سکھانے پر زور دیا جائے

آج تم یاد بے حساب آئے!اقبال باہو صوفیا نہ گائیکی  کے ماہر(2012-1944)

آج تم یاد بے حساب آئے!اقبال باہو صوفیا نہ گائیکی کے ماہر(2012-1944)

٭... 1944ء میں گورداسپور میں پیدا ہوئے ،اصل نام محمد اقبال تھا ٭... قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان لاہور منتقل ہوا ،یہیں ان کی تعلیم و تربیت ہوئی۔٭...تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے ایک بینک میں ملازمت اختیار کر لی ، گائیکی کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔٭... ریڈیو پاکستان سے شہرت کا سفر شروع ہوا پھر ٹیلی ویژن پر ناظرین نے انھیں دیکھا اور سنا۔٭... لوک گیتوں کے علاوہ جب انہیں صوفی شاعر سلطان باہو کے کلام سے بھی شہرت ملی۔٭...سلطان باہو کے علاوہ بابا فرید کے کلام کو بھی ان کی آواز میں بہت پسند کیا گیا٭...وہ ان گلوکاروں میں شامل تھے جو صوفیا کا کلام گاتے ہوئے زبان و بیان اور کلاسیکی الفاظ کے تلفظ کا خاص خیال رکھتے تھے۔ ٭... 2008ء میں انہیں تمغہ امتیاز سے نوازا گیا۔٭...68سال کی عمر میں دل کا جان لیوا دورہ پڑنے کے باعث 24مارچ 2012ء کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔

آج کا دن

آج کا دن

ارجنٹینا میں فوجی بغاوت24 مارچ 1976ء کو جنوبی امریکہ کے ملک ارجنٹینا میں فوجی بغاوت ہوئی جس نے ملک کی جمہوری حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ اُس وقت کی صدر اسابیل پیرون کو اقتدار سے ہٹا کر جنرل جارج رافیل وڈیلا کی قیادت میں فوج نے اقتدار سنبھال لیا۔ اس بغاوت کے بعد سخت گیر فوجی حکومت قائم ہوئی جسے نیشنل ری آرگنائزیشن پروسیس کہا گیا۔اُس دور کو ارجنٹینا کی تاریخ میںDirty War کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جس میں ہزاروں افراد کو اغوا، تشدد اور قتل کا نشانہ بنایا گیا۔ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہوئیں اور سیاسی مخالفین کو بے رحمی سے کچلا گیا۔ بعد ازاں 1983ء میں جمہوریت بحال ہوئی اور اس دور کے جرائم کی تحقیقات شروع ہوئیں۔ ٹی بی کے جراثیم کی دریافت24 مارچ 1882ء کو جرمن سائنسدان رابرٹ کوچ نے تپ دق (Tuberculosis) کے جراثیم کی دریافت کا اعلان کیا۔ یہ ایک انقلابی سائنسی پیش رفت تھی کیونکہ اس سے پہلے اس مہلک بیماری کی اصل وجہ معلوم نہیں تھی۔اس دریافت نے طب کے میدان میں انقلاب برپا کیا اور بیماریوں کے جراثیمی نظریے (Germ Theory) کو مزید مضبوط کیا۔ اس کے بعد ٹی بی کے علاج اور تشخیص کے لیے جدید طریقے متعارف ہوئے۔ کوچ کو 1905ء میں نوبل انعام بھی دیا گیا۔آج بھی 24 مارچ کو عالمی یومِ تپ دق(World TB Day) کے طور پر منایا جاتا ہے تاکہ اس بیماری کے خلاف آگاہی پیدا کی جا سکے۔ یہ دریافت انسانی تاریخ میں ایک سنگِ میل سمجھی جاتی ہے کیونکہ اس نے لاکھوں جانیں بچانے میں مدد دی۔ یوگوسلاویہ پر حملوں کا آغاز24 مارچ 1999ء کو نیٹو (NATO) نے یوگوسلاویہ (موجودہ سربیا) کے خلاف فضائی حملوں کا آغاز کیا۔ یہ کارروائی کوسوو میں جاری نسلی تنازع کے تناظر میں کی گئی جہاں سرب فورسز پر البانوی مسلمانوں کے خلاف مظالم کے شواہد موجود تھے۔یہ آپریشن الائیڈ فورس کے نام سے جانا جاتا ہے اور تقریباً 78 دن جاری رہا۔ اس دوران یوگوسلاویہ کے فوجی اور شہری اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ اس جنگ نے عالمی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دیا کہ کیا انسانی حقوق کے نام پر کسی ملک کی خودمختاری کو نظرانداز کیا جا سکتا ہے۔اس حملے کے نتیجے میں سرب افواج کو کوسوو سے پسپا ہونا پڑا اور اقوام متحدہ کی نگرانی میں وہاں امن مشن تعینات کیا گیا۔ تاہم اس جنگ نے خطے میں طویل مدتی سیاسی کشیدگی کو بھی جنم دیا۔ ملکہ الزبتھ اول کا انتقال24 مارچ 1603ء کو انگلینڈ کی مشہور ملکہ الزبتھ اول کا انتقال ہوا۔ وہ ٹیوڈر خاندان کی آخری حکمران تھیں اور اُن کے دور کو الزبتھین ایج کہا جاتا ہے، جو انگلینڈ کی تاریخ کا ایک سنہری دور مانا جاتا ہے۔ ان کے دورِ حکومت میں انگلینڈ نے ثقافتی، ادبی اور بحری میدان میں بے مثال ترقی کی۔ ولیم شیکسپیئر جیسے عظیم ادیب اُسی دور میں ابھرے۔ الزبتھ اول نے مذہبی اور سیاسی استحکام قائم رکھا اور سپین جیسی بڑی طاقت کو بھی شکست دی (1588ء میں ہسپانوی آرمڈا کی شکست)۔ان کی وفات کے بعد سکاٹ لینڈ کے بادشاہ جیمز ششم نے انگلینڈ کا تخت سنبھالا اور یوں سٹورٹ خاندان کا آغاز ہوا۔ الزبتھ اول کی حکمرانی آج بھی مضبوط قیادت اور سیاسی بصیرت کی مثال سمجھی جاتی ہے۔

قلعہ روہتاس کی شاہی مسجد

قلعہ روہتاس کی شاہی مسجد

سادگی میں پوشیدہ عظمت کی داستانقلعہ روہتاس وسیع رقبے، بلند و بالا فصیلوں اور ناقابلِ تسخیر دفاعی نظام کے باعث برصغیر کی عظیم عسکری تعمیرات میں شمار ہوتا ہے۔اسے افغان بادشاہ شیر شاہ سوری نے شمال سے پنجاب کے میدانوں کی طرف آنے والی پرانی جرنیلی سڑک پر تعمیر کیا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ معزول مغل بادشاہ ہمایوں کو اپنی سابقہ سلطنت میں واپس آنے سے روکا جائے۔ ہمایوں کو شیر شاہ سوری نے چوسہ میں شکست دی تھی اور وہ ایران فرار ہو گیا لیکن شیر شاہ کو خدشہ تھا کہ ہمایوں پنجاب واپس آنے میں کامیاب ہو گیا تو اس کی حکومت قائم ہو سکتی ہے۔ شیر شاہ کی دوسری تشویش گکھڑ قبائل تھے جوپوٹھوہار وادی پر قابض تھے اور مغلوں کے روایتی اتحادی تھے۔ قلعہ روہتاس میں جنوبی سمت، کابلی دروازے کے قریب واقع شاہی مسجد ایک ایسی یادگار ہے جو اپنی سادگی میں ایک پوری تاریخ سموئے ہوئے ہے۔ یہ مسجد اُس دور کے فنِ تعمیر، عسکری حکمتِ عملی اور طرزِ فکر کی عکاسی کرتی ہے۔پہلی نظر میں یہ مسجد اپنی سادہ ساخت کے باعث توجہ کا مرکز نہیں بنتی۔ نہ اس میں بلند مینار ہیں، نہ رنگین کاشی کاری اور نہ ہی پیچیدہ نقش و نگار۔ لیکن اس کی ساخت اور محلِ وقوع پر غور کیا جائے تو اس کی اہمیت واضح ہونے لگتی ہے۔ مسجد کو قلعے کی دیواروں میں اس مہارت سے ضم کیا گیا ہے کہ یہ دفاعی نظام کا حصہ محسوس ہوتی ہے۔ یہ انداز اس بات کی دلیل ہے کہ اُس دور میں تعمیرات محض جمالیاتی نہیں بلکہ عملی اور دفاعی تقاضوں کے تحت بھی کی جاتی تھیں۔مسجد کا بنیادی ڈھانچہ ایک مختصر صحن اور ایک سادہ ہال پر مشتمل ہے جسے تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر حصہ محرابی دروازوں کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ یہ محرابیں نہ صرف تعمیراتی حسن رکھتی ہیں بلکہ اندرونی فضا میں توازن اور وسعت کا احساس بھی پیدا کرتی ہیں۔ چھت پر گنبد سادہ اور بغیر کسی آرائش کے ہیں جو اس دور کے سادہ طرزِ تعمیر کی بہترین مثال پیش کرتے ہیں۔اس مسجد کی ایک نہایت دلچسپ اور منفرد خصوصیت یہ ہے کہ اس کے گنبد باہر سے نظر نہیں آتے۔ عام طور پر مساجد کی شناخت ان کے گنبدوں اور میناروں سے ہوتی ہے مگر یہاں ان عناصر کو جان بوجھ کر پوشیدہ رکھا گیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ قلعے کی عسکری نوعیت ہے جہاں ہر تعمیر کو دفاعی حکمتِ عملی کے مطابق ڈھالا جاتا تھا۔ مسجد کو اس انداز میں تعمیر کیا گیا کہ وہ دشمن کی نظروں سے اوجھل رہے اور قلعے کے مجموعی دفاعی ڈھانچے میں خلل نہ ڈالے۔مزید برآں مسجد کا ایک داخلی راستہ ایسا بھی ہے جو قلعے کی دیواروں کے اندر سے گزرتے ہوئے براہِ راست کابلی دروازے کے اندرونی حصے تک پہنچتا ہے۔ یہ راستہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مسجد کو قلعے کی روزمرہ زندگی کا لازمی جزو سمجھا گیا تھا۔ قلعے میں موجود سپاہیوں اور عملے کے لیے یہ ایک محفوظ اور قریب ترین عبادت گاہ تھی۔تاریخی لحاظ سے یہ مسجد خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہ شہر شاہ سوری کے دور کی چند محفوظ مذہبی عمارتوں میں سے ایک ہے۔ سوری عہد اپنی مضبوط فوجی تعمیرات کے لیے مشہور تھا مگر مذہبی عمارات نسبتاً کم تعمیر کی گئیں۔ اس لیے روہتاس قلعہ کی یہ شاہی مسجد اس دور کے فنِ تعمیر کا ایک نادر نمونہ ہے، جو ہمیں اس عہد کی سادگی، سنجیدگی اور عملی سوچ سے روشناس کراتا ہے۔اگر اس مسجد کا تقابل بعد کے مغل دور کی مساجد سے کیا جائے تو واضح فرق نظر آتا ہے۔ مغل طرزِ تعمیر میں شان و شوکت، تزئین و آرائش اور جمالیاتی پہلوؤں کو نمایاں اہمیت دی گئی جبکہ اس مسجد میں سادگی اور افادیت کو ترجیح دی گئی ہے۔ یہی فرق دونوں ادوار کے فکری اور ثقافتی رجحانات کو ظاہر کرتا ہے۔آج جب ہم اس مسجد کو دیکھتے ہیں تو یہ ہمیں ماضی کی ایک ایسی دنیا میں لے جاتی ہے جہاں سادگی میں حسن اور ضرورت میں حکمت پوشیدہ تھی۔ یہ مسجد بظاہر معمولی دکھائی دیتی ہے مگر اس کے اندر ایک مکمل داستان چھپی ہوئی ہے،ایک ایسی داستان جو ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اصل عظمت ظاہری شان و شوکت میں نہیں بلکہ مقصدیت، توازن اور فکری گہرائی میں ہوتی ہے۔یوں روہتاس قلعہ کی شاہی مسجد نہ صرف ایک تاریخی ورثہ ہے بلکہ ایک فکری علامت بھی ہے جو ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ فنِ تعمیر کا اصل حسن اس کی افادیت اور معنویت میں پوشیدہ ہوتا ہے۔

لمبی عمر کا راز: غصے سے بچیں اور مثبت سوچ اپنائیں

لمبی عمر کا راز: غصے سے بچیں اور مثبت سوچ اپنائیں

دنیا بھر میں لوگ طویل اور صحت مند زندگی گزارنے کے راز تلاش کرتے رہتے ہیں مگر بعض اوقات یہ راز نہایت سادہ ہوتا ہے۔ معروف امریکی اداکارDick Van Dyke جو اپنی 100 سالہ عمر کے قریب بھی متحرک اور خوش باش نظر آتے ہیں اپنی لمبی عمر کا راز ایک حیرت انگیز مگر سادہ عادت کو قرار دیتے ہیں اور وہ ہے: غصہ نہ کرنا اور مثبت رہنا۔یہ محض ایک ذاتی تجربہ نہیں بلکہ جدید سائنس بھی اس کی تائید کرتی ہے۔ڈک وان ڈائک کا کہنا ہے کہ وہ زندگی میں کبھی غصہ نہیں کرتے اور ہمیشہ مثبت سوچ کو اپناتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک عام سی بات لگتی ہے لیکن ماہرین کے مطابق اس کا انسانی صحت پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مسلسل غصہ اور ذہنی دباؤ دل کی بیماریوں، فالج اور ذیابیطس جیسے امراض کے خطرات کو بڑھا دیتا ہے، جو دنیا میں قبل از وقت اموات کی بڑی وجوہات ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جو افراد اپنے جذبات کو قابو میں رکھتے ہیں اور مثبت اندازِ فکر اپناتے ہیں وہ نہ صرف ذہنی طور پر مطمئن رہتے ہیں بلکہ جسمانی طور پر بھی زیادہ صحت مند ہوتے ہیں۔سٹریس کے جسم پر اثراتسائنس کے مطابق جب انسان مسلسل ذہنی دباؤ یا غصے کی حالت میں رہتا ہے تو اس کے جسم میں ایک خاص قسم کا کیمیائی ردِعمل پیدا ہوتا ہے جو دل اور خون کی نالیوں پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ حالت جسم کے خلیات کو بھی متاثر کرتی ہے، خاص طور پرٹیلومیئرز کو جو ہمارے ڈی این اے کی حفاظت کرتے ہیں۔ ٹیلومیئرز کے کمزور ہونے کا مطلب ہے کہ جسم تیزی سے بوڑھا ہونے لگتا ہے۔ اس کے برعکس پرُسکون اور مثبت ذہن رکھنے والے افراد میں یہ عمل سست ہو جاتا ہے جس سے صحت مند عمر میں اضافہ ممکن ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مثبت سوچ رکھنے والے افراد عام طور پر صحت مند عادات اپناتے ہیں۔ وہ باقاعدگی سے ورزش کرتے ہیں، متوازن غذا کھاتے ہیں اور زندگی کے مسائل کو بہتر انداز میں ہینڈل کرتے ہیں۔خود ڈک وان ڈائک بھی بڑھاپے کے باوجود ہفتے میں کئی بار ورزش کرتے ہیں جو اُن کی جسمانی اور ذہنی صحت کو برقرار رکھنے میں مددگار ہے۔غصہ نکالنا یا قابو کرنا؟عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ غصہ نکال دینا بہتر ہے، مگر تحقیق اس کے برعکس ہے۔ ماہرین کے مطابق اس طرح جسم مزید تناؤ کی حالت میں رہتا ہے اور دل پر دباؤ بڑھتا ہے۔ اس کے بجائے بہتر یہ ہے کہ آدمی گہری سانس لینے کی مشق کرے،دعا‘مراقبہ یا یوگا کرے،حالات کو ٹھنڈے دماغ سے سمجھے۔یہ طریقے نہ صرف غصے کو کم کرتے ہیں بلکہ مجموعی صحت پر بھی مثبت اثر ڈالتے ہیں۔اگرچہ مثبت سوچ ایک اہم عنصر ہے لیکن لمبی عمر صرف اسی پر منحصر نہیں۔ جینیات، خوراک، ورزش اور طرزِ زندگی بھی اس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں مثلاً باقاعدہ جسمانی سرگرمی،متوازن غذا،سماجی روابط،ذہنی سکون۔یہ تمام عوامل مل کر ایک صحت مند اور طویل زندگی کی بنیاد بنتے ہیں۔ڈک وان ڈائک کی مثال ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ لمبی عمر کے لیے کوئی پیچیدہ فارمولا ضروری نہیں۔ ایک سادہ سی عادت،غصے سے بچنا اور مثبت رہنا،انسان کی زندگی میں حیرت انگیز تبدیلی لا سکتی ہے۔جدید سائنس بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ ذہنی سکون اور خوش مزاجی نہ صرف دل کو مضبوط بناتی ہے بلکہ عمر کو بھی بڑھاتی ہے۔ اس لیے اگر ہم واقعی ایک طویل اور صحت مند زندگی چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی سوچ اور رویے پر توجہ دینا ہوگی۔یاد رہے لمبی زندگی کا راز دواؤں میں نہیں بلکہ ہمارے رویے میں چھپا ہوا ہے۔