دنیا کی تمام پھولوں کی وادیاں، پاکستان میںایک جگہ!؟
اسپیشل فیچر
امریکی ریاست جیسے ٹیکساس میں اپریل میں کھلے نیلی ٹوپی والے پھول(Blue Bonnets) سڑکوں کے کناروں کوبھر دیتے ہیں، (ایمسٹرڈیم ) نیدر لینڈ میں مارچ تا مئی ہر طرف گل لالہ کی بہار (خصوصاًKenk of Garderns، 1949ء میں تعمیر32 ایکٹر کے 70 لاکھ پھولوں والے ) دیکھی جا سکتی ہے۔ فرانس کا علاقہ(Provence) خوشبو دار، خوشنما، (جون تااگست)گرما میں ارغوانی (Lavender) پھولوں کی مہک، امریکہ کیلی فورنیا کے صحرائوں میں بہار کے موسمMojava کے لال اورنارنجی خشخاش کے پھول، برطانیہ میں ویلیز کی وادی (Cotsworld)میں بہار کا آغاز، نرگسی آبی پودے (ویلز کا قومی پھول) کے نام پر ایک شاہراہ (Daffodil way)پر پھولوں کی دمک، جاپان کے ہٹاچی پارک کے بچوں کی آنکھوںکی طرح چمکتے (Baby blue eyes) نیلے پھولوں کی وادی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتی ہے، کیلی فورنیا (امریکہ) کے علاقے نشان ڈپاگو کے ساحل پر 50ایکٹر سے زائد رنگا رنگ گل اشرفی رومانیت کے نظارے لیے ہوئے، وسط جولائی یا وسط اگست کے دوران واشنگٹن ڈی سی کے برف پوش چوٹیوں کے دامن میںحدنگاہ پھول، اٹلی (تسکانی)میں جولائی کے موسم میں نواحی پہاڑی مقامات میں سورج مکھی کے پھولوں کے لا متناعی سلسلے، برطانیہ کے 1100 جنگلات میں بہار کے دوران نیلی گھنٹی کے پھول کے قالین کی طرح زمین پر بچھے نظارے، دنیا بھر کے شائقین کو دعوت نظارہ دے رہے ہیں، گہلن نرسریاں (رقبہ 18 مربع کلومیٹر) کسی ایک وقت اور سیزن میں دنیا بھر کے ان تمام پھولوں کی ورائٹی اور نظارے لیے پھولوں اور نباتات سے شغف رکھنے والے شائقین کے لئے اپنے دروا کئے محو انتظار رہتی ہیں۔پتوکی (ضلع قصور) میں پھولوں کی باغبانی اور نرسری کا رواج گذشتہ30سال سے تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ گلاب، چمبیلی،ٹیولپس اور دیگر پھولوں کی پنکھڑیوں کو شادی بیاہ اور دیگر تقریبات کے لئے تیار کیا جاتا ہے۔ پاکستان سے پھولوں کونہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ یورپی ممالک میںبھی بھیجا جاتا ہے۔ پاکستان میں کم وبیش گلاب کی ایک سو پچیس اقسام پائی جاتی ہیں۔ جن میں زیادہ اقسام گلاب کے پھول پر تجربات کرکے بنائی گئی ہیں جن میں سفید، پیلا، خوشبو دار اور غیر خوشبودار کے پھول شامل ہیں۔ ان کے مختلف رنگ ہوتے ہیں جن میں سرخ ، سفید ، کالا، نیلا، پیلا، گلابی ،اورینج اور پرپل شامل ہیں ۔ پتوکی میں زیادہ تر پھول موسم سرما میں کاشت کیے جاتے ہیں۔پتوکی میں تجارتی بنیادوں پر اگائے جانے والے بہترین پھولوں میں گلاب، گلیڈ، پولس، ٹیوب روز، گیندا، تعالب مصری اور سوسن شامل ہیں جنہیں بیرون ملک برآمد کیا جاتا ہے جبکہ موسم سرما کے دوران پھولوں کی برآمدات بھی بڑھ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ امپورٹیڈ پھولوں میں سیفرون، کیننا، چیری بلوسم، کولریردوکمبائن، ہائیدرینجیا، لیلی آف دی ویلی ، کلالیلی، بلیک آئڈسوسان، بلیڈنگ ہرٹ، بلیو بیلز، لینتا نا، گلاب، اورینٹل پوپی، موسائنڈااری تھوپائیلا، بیگونیا، لزورا اورڈینڈ روبیم شامل ہیں۔گل دائودی:گل دائودی کا پھول جو اکثر شادی بیاہ کی تقریب میں ہار اور لڑیوں کی مالا میں پرویا جاتا ہے، اس کی پتوکی میں موجود اقسام میں سے چند ایک کے نام یہ ہیں۔ نیم دہرے دائودی ، چاک داماں دائودی، تکمہ دائودی، گولا دائودی، لہنگے دار دائودی، معکوس دائودی، آفتابی دائودی، چینی اور جاپانی دائودی اور مکڑا دائودی۔سرکاری اور غیر سرکاری ادارے:باغبانی کی ترقی کے لئے ہور ٹی کلچر سو سائٹی پاکستان (ایچ ایس پی) کام کررہی ہے۔ اس سوسائٹی کا قیام 1948ء میں ہو ااور سوسائٹی نے 1949ء میں طبی پودوں کی پہلی نمائش کراچی میں کی۔ ایچ ایس پی باغبانی سے متعلق پیغامات کو پھیلانے کے لئے متعدد پھولوں کی نمائشوں اور تربیتی پروگرامز کا انعقاد نہایت کامیابی سے کرچکی ہے۔ گہلن میںیہ سو سائٹی ماحول کو خوبصورت بنانے اور پھولوں کی تازگی بکھیرنے کے لئے ایک اہم کردار ادا کرتی رہی ہے۔(سید ظفر عباس نقوی کی تصنیف ’’ سیاحتِ ضلع قصور‘‘ سے مقتبس)