شباب کیرانوی پاکستانی فلمی صنعت کا ایک بڑا نام!

شباب کیرانوی  پاکستانی فلمی صنعت کا ایک بڑا نام!

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالحفیظ ظفر


پاکستانی فلمی صنعت کی جن لوگوں نے آبیاری کی اور اس کی نشو و نما کے لیے گرانقدر خدمات سرانجام دیں ان میں بہت سے نام شامل ہیں۔ اگر فلمساز اور ہدایت کاروں کی بات کی جائے تو انور کمال پاشا‘ مسعود پرویز، ریا ض شاہد، منشی دل، ایم جے رانا اور حسن طارق کے نام لیے جا سکتے ہیں۔ ایک نام اور بھی ہے، جن کے بغیر پاکستانی فلمی صنعت کی تاریخ نامکمل رہے گی اور وہ نام ہے، شباب کیرانوی!1925ء میں اتر پردیش (بھارت) کے ضلع مظفر نگر کے علاقے کیرانہ میں پیدا ہونے والے شباب کیرانوی کا اصل نام حافظ نذیر احمد تھا۔ وہ بنیادی طور پر صحافی تھے جنہوں نے صحافت کا آغاز فلمی جریدے ’’ڈائریکٹر‘‘ سے کیا۔ فلمساز کی حیثیت سے ان کی پہلی فلم ’’جلن‘‘ تھی جبکہ ’’ثریا‘‘ وہ فلم تھی جس کی سب سے پہلے انہوں نے ہدایات دیں۔ پھر ان کی فلم ’’مہتاب‘‘ ریلیز ہوئی جو سپر ہٹ ثابت ہوئی۔ اس فلم نے شباب صاحب پر دولت کی بارش کر دی اور انہوں نے اپنا فلم سٹوڈیو بنا لیا۔ انہوں نے اپنے دیرینہ دوست اے احمد (سنگیت کار اے حمید نہیں) کے ساتھ اپنے پروڈکشن ہائوس کی بنیاد رکھی۔ اپنے پروڈکشن ہائوس کے بینر تلے انہوں نے جو پہلی فلم بنائی اس کا نام تھا ’’انسانیت‘‘، یہ فلم بے حد کامیاب رہی ۔ اس میں طارق عزیز اور علی اعجاز نے اپنے فلم کیرئر کا آغاز کیا۔ اس کے بعد انہوں نے ’’سنگدل‘‘ انسان اور آدمی، انصاف اور قانون، دامن اور چنگاری ،میرا نام ہے محبت، سہیلی ، نوکر ، شمع ،آئینہ اور صورت اور شمع محبت جیسی کامیاب فلمیں دیں۔ شباب صاحب کو سماجی موضوعات پر فلمیں بنانے میں ملکہ حاصل تھا ۔ دوسری اہم بات یہ تھی کہ ان کی فلموں کی موسیقی بہت معیاری ہوتی تھی۔ انہوں نے ایک مصلح (Reformer) کا کردار ادا کیا کیونکہ ان کی فلموں میں سماجی برائیوں کے خاتمے کی بات کی جاتی تھی۔ اسی طرح اگر غور سے دیکھا جائے تو ایک اور حقیقت سامنے آتی ہے ۔شباب صاحب طبقاتی تفاوت کے سخت خلاف تھے ۔وہ اعلیٰ انسانی اقدار پر یقین رکھتے تھے ان کی اکثر فلموں میں امیر اور غریب کا ٹکرائو دکھائی دیتا تھا اور وہ دولت مندوں کو یہ پیغام دیتے تھے کہ غریبوں اور ناداروں کو بھی انسان سمجھیں اور انہیں حقارت سے نہ دیکھیں۔ فلم کے اختتام پر وہ امیر اور غریب کو یکجا کر دیتے تھے اور یوں فلم بینوں سے داد و تحسین حاصل کرتے تھے۔ اس کے علاوہ وہ اپنی فلموں میں مشرقی عورت کی خوبیاں اجاگر کرتے تھے۔انہوں نے اپنی فلموں میں مغربی تہذیب کی دلدادہ عورتوں کو ہمیشہ تنقید کا نشانہ بنایا اور پاکستانی خواتین کو پیغام دیا کہ وہ مشرقی روایات سے روگردانی نہ کریں۔ شباب صاحب کی فلموں میں مزاحیہ اداکاری بھی کمال کی ہوتی تھی۔ ننھا ،علی اعجاز، رنگیلا اور منور ظریف کی صلاحیتوں کو انہوں نے خوب نکھارا۔شباب صاحب کی فلموں کی زیادہ تر موسیقی ایم اشرف نے مرتب کی اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ایم اشرف نے شباب صاحب کی فلموں کے جن گیتوں کی موسیقی دی ان میں 80فیصد سے زیادہ گیت سپرہٹ ثابت ہوئے۔ شباب صاحب کے بارے میں یہ کہنا بھی درست ہے کہ انہوں نے اداکار محمد علی کے فن کو انتہائی خوبصورتی سے استعمال کیا۔ یہ شباب صاحب کا ہی کمال تھا کہ اداکار محمد علی نے ان کی فلموں ’’انسان اورآدمی‘‘ اور’’ انصاف اور قانون‘‘ میں اپنی زندگی کے یادگار کردار ادا کیے۔ انہوں نے میڈم نورجہاں ،احمد رشدی، آئرن پروین اورمسعود رانا سے بڑے شاندار گیت گوائے۔ 70ء کی دہائی میں شباب صاحب نے ناہید اختر کی دلکش آوازکو اپنی فلموں کے نغمات کے لیے استعمال کیا۔ فلم ’’نوکر اور شمع‘‘ میں ناہید اختر نے ایم اشرف کی موسیقی میں بڑے دلکش گیت گائے جنہیں آج بھی پسند کیا جاتا ہے۔شباب صاحب پر یہ الزام عائد کیا جاتا تھا کہ ان کی اکثر فلمیں بھارتی فلموں کا چربہ ہوتی ہیں ۔ کچھ فلموں کی حد تک تو یہ بات تسلیم کی جا سکتی ہے لیکن ان کی ساری فلمیں چربہ نہیں تھیں۔ البتہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ان کی بہت سی فلمیں باکس آفس پر بے حد کامیاب ثابت ہوئیں۔ سب سے پہلے ان پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ ان کی فلم’’ انسانیت‘‘ بھارتی فلم ’’دل ایک مندر‘‘ کا چربہ ہے ۔اسی طرح چند اور فلموں کے بارے میں بھی یہی کچھ کہا گیا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ شباب صاحب نے اسلم پرویزکو بھی ولن کی حیثیت جو کردار دیئے۔ انہوں نے اسلم پرویز کے فن کو ایک نئی سمت سے روشناس کرایا۔ خاص طورپر انسان اورآدمی ، انصاف اورقانون اور دامن اور چنگاڑی میں اسلم پرویز فن کی بلندیوں پر نظر آتے ہیں۔شباب کیرانوی کے کریڈٹ میں یہ بات بھی جاتی ہے کہ انہوں نے پاکستانی فلموں کو کئی ایک نئے چہرے دیے ۔ انہوں نے جن فنکاروں کو متعارف کرایا ان میں عنایت حسین بھٹی ،کمال، احمد رشدی، نغمہ، شیریں، ننھا، علی اعجاز ، ندیم(مغربی پاکستان میں پہلی فلم سنگدل) ظفر شباب، صاعقہ، زرقا، مسعود اختر، نذر شباب، آسیہ ، غلام محی الدین اور انجمن شامل ہیں۔شباب صاحب کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ رحم دل اور غریب پرور تھے انہوں نے کبھی فلم کے تکنیک کاروں اور دیگر کارکنوں سے ناانصافی نہیں کی اور ہمیشہ وقت پر انہیں معاوضے کی ادائیگی کرتے رہے۔ اس لحاظ سے ان کی شہرت بہت اچھی تھی۔شباب صاحب سکرین رائٹر اور فلمی گیت نگار بھی تھے۔ ان کے دو شعری مجموعے’’موج شباب‘‘ اور’’ بازارصدا‘‘ ان کی زندگی میں ہی شائع ہو گئے تھے۔شاعری میں وہ احسان دانش کے شاگرد تھے۔ شباب کیرانوی ناول نگار بھی تھے ۔انہوں نے ایک درجن کے قریب ناول لکھے جن میں’’ پھول کے سائے ،ایک عورت ہزار مرحلے ، درد دل اور خلش‘‘ خاص طورپرقابل ذکر ہیں۔ ان کے چند مشہور گیتوں کا تذکرہ ذیل میں کیا جا رہا ہے:1۔ توجہاں کہیں بھی جائے میرا پیار یاد رکھنا(انسان اور آدمی)2۔ کیا ملا ظالم تجھے کیوں دل کے ٹکڑے کر دئیے (میں بھی انسان ہوں)3۔ یہ وعدہ کیا تھا محبت کریں گے(دامن اور چنگاری)4۔ آنکھیں غزل ہیں آپ کی(سہیلی)5۔ اللہ تیری شان یہ اپنوں کی ادا ہے(سہیلی)شباب صاحب ؟کے بیٹوں نذر شباب اورظفر شباب نے بھی ہدایت کاری کے میدان میں قدم رکھا اورکئی ایک کامیاب فلمیں تخلیق کیں شباب صاحب نے کئی دوسرے گیت نگاروں کو بھی اپنی فلموں میں گیت لکھنے کا موقع دیا جیسے بطور فلم ساز ان کی پنجابی فلم ’’تیس مار خان‘‘ کے گیت بابا عالم سیاہ پوش نے لکھے۔ اسی طرح مشیر کاظمی ‘ سعید گیلانی ، تسلیم فاضلی اور خواجہ پرویز نے بھی ان کی فلموں کے گیت لکھے ۔شباب کیرانوی نے 75سے زائد فلمیں بنائیں اور 50فلموں کی ہدایت کاری کی انہوں نے کئی بار نگار ایوارڈ ،گریجویٹ ایوارڈ اور مصور ایوارڈ سے نوازا گیا۔ صاحب ثروت ہونے کے باوجود انہوں نے کبھی تکبر کا مظاہرہ نہیں کیا۔5نومبر1982کو شباب کیرانوی عالم جاوداں کو سدھار گئے ۔پاکستانی فلمی صنعت کے لیے انہوں نے جو خدمات سرانجام دیں انہیں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
رمضان کے مشروب و پکوان

رمضان کے مشروب و پکوان

فروٹ سلاداجزا: سیب: ایک عدد، پپیتا:آدھا، سرخ مرچ: کٹی ہوئی ایک عدد، لیمن جوس: دو کھانے کے چمچ، مونگ پھلی:چوتھائی کپ، کیلا:ایک عدد، کوکونٹ ملک: ایک کپ، تازہ دھنیا :کٹا ہوا ایک چمچ، فش ساس: ایک چمچ، سلاد کے پتے :6عددترکیب:سیب کو آدھا کاٹ لیں اور درمیان سے بیج اور سخت حصہ نکال دیں۔ پھر سیب کے باریک سلائس بنالیں، پپیتا کے باریک ٹکڑے بنالیں۔ کوکونٹ ملک، مرچ، دھنیا،لیمن جوس ، فش ساس اور سیب ایک بائول میں ڈال دیں اور اچھی طرح مکس کرلیں ۔اسے ڈھانپ کر ایک گھنٹہ کیلئے فریج میں رکھ دیں۔ چاروں طرف سلاد کے پتوں سے بارڈر لگادیں۔ملکی لیموئنیڈاجزا: لیمن جوس:آدھی پیالی، سوفٹ ڈرنک :ایک چھوٹی بوتل، دودھ: دو پیالی، چینی: چار کھانے کے چمچ، فریش کریم: آدھی پیالی، کُٹی ہوئی برف: حسب پسند۔ترکیب: دودھ، سوفٹ ڈرنک اور فریش کریم کو علیحدہ علیحدہ پیالوں میں رکھ کر یخ ٹھنڈا کر لیں۔ بلینڈر میں پہلے چینی اور لیمن جوس ڈال کر بلینڈ کر لیں پھر اس میں سوفٹ ڈرنک ڈال کر بلینڈر کو ایک سے دو منٹ چلائیں۔ آخر میں اس میں دودھ ، فریش کریم اور کٹی ہوئی برف ڈال کر بلینڈ کر لیں۔

فون چارجنگ کی عادت بدلیں

فون چارجنگ کی عادت بدلیں

یہ ایک عمل گھروں میں آگ کے خطرات کو کم کر سکتاہےفائر ڈیپارٹمنٹس کے ماہرین موبائل فون چارج کرنے کی ایک عام عادت کو گھروں میں آگ لگنے کی بڑی وجہ قرار دیتے ہیں۔فائر سیفٹی حکام کے مطابق سب سے خطرناک عادت یہ ہے کہ لوگ موبائل فون کو بستر، تکیے یا کمبل کے نیچے رکھ کر چارج کرتے ہیں یا رات بھر چارجنگ پر لگا چھوڑ دیتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک معمولی بات لگتی ہے لیکن یہ عادت حرارت کے غیر معمولی اضافے سے آگ بھڑکنے کا سبب بن سکتی ہے۔حرارت کیوں بڑھتی ہے؟زیادہ تر سمارٹ فونز میں لیتھیم آئن بیٹریاں استعمال ہوتی ہیں۔ یہ بیٹریاں طاقتور اور مؤثر ضرور ہیں مگر ان کی ایک کمزوری یہ ہے کہ زیادہ حرارت برداشت نہیں کر پاتیں۔ جب فون کو بستر یا تکیے پر رکھا جاتا ہے تو ہوا کا گزر رک جاتا ہے نتیجتاً فون اور چارجر کی پیدا کردہ حرارت باہر نہیں نکل پاتی۔اگر یہ درجہ حرارت ایک حد سے بڑھ جائے تو بیٹری میں کیمیائی ردعمل تیز ہو جاتا ہے جسے ماہرین تھرمل رن اوے کہتے ہیں۔ اس مرحلے پر بیٹری پھول سکتی ہے، دھواں نکل سکتا ہے یا شعلہ بھڑک سکتا ہے۔ فائر ڈیپارٹمنٹس بار بار اس عادت سے بچنے کا مشورہ دیتے ہیں۔رات بھر چارجنگ ، خطرات اکثر لوگ سونے سے پہلے فون کو چارج پر لگا دیتے ہیں اور پوری رات وہ بجلی سے منسلک رہتا ہے۔ اگرچہ جدید فونز میں اوورچارجنگ سے بچاؤ کے کچھ نظام موجود ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود چارجر، کیبل یا ساکٹ میں خرابی ہو تو خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ غیر معیاری چارجرز اس حوالے سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔ ان میں حفاظتی سرکٹس کمزور ہوتے ہیں جس کے باعث شارٹ سرکٹ یا اوور ہیٹنگ کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ فائر حکام کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کے متعدد واقعات میں غیر معیاری چارجر یا خراب کیبل بنیادی وجہ بنے۔ بستر، صوفہ یا قالین جیسی سطح نہ صرف حرارت کو جذب کرتی ہیں بلکہ خود بھی آتش گیر مواد سے بنی ہوتی ہیں۔ اگر فون یا چارجر میں چنگاری پیدا ہو تو یہ نرم سطح فوراً آگ پکڑ سکتی ہے۔ اگر فون کو کسی سخت سطح جیسے لکڑی کی میز یا ماربل پر رکھا جائے تو حرارت نسبتاً کم جمع ہوتی ہے اور اوورہیٹنگ کا امکان بھی کم ہوتا ہے۔بچوں کے لیے اضافی خطرہآج کل بچے اور نوجوان موبائل فون کو تکیے کے نیچے رکھ کر ویڈیوز دیکھتے دیکھتے سو جاتے ہیں۔ اس دوران فون چارجنگ پر بھی لگا ہوتا ہے۔ یہ نہ صرف آگ کے خطرے کو بڑھاتی ہے بلکہ زیادہ حرارت کی وجہ سے جلد یا آنکھوں کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ماہرین والدین کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ بچوں کو محفوظ چارجنگ عادات سکھائیں اور سونے کے کمرے میں چارجنگ کے بجائے کسی کھلی اور محفوظ جگہ کا انتخاب کریں۔محفوظ چارجنگ کے اصولفائر سیفٹی ماہرین نے چند بنیادی احتیاطی تدابیر تجویز کی ہیں:1 ۔موبائل فون کو ہمیشہ سخت، ہموار اور غیر آتش گیر سطح پر چارج کریں۔2۔ بستر، تکیے، کمبل یا صوفے پر چارجنگ سے گریز کریں۔3 ۔ممکن ہو تو فون کو رات بھر چارجنگ پر نہ چھوڑیں۔4 ۔صرف اصل یا مستند برانڈ کے چارجر اور کیبل استعمال کریں۔5 ۔اگر کیبل کٹی ہوئی، جلی ہوئی یا ڈھیلی ہو تو فوراً تبدیل کریں۔6 ۔اگر فون غیر معمولی حد تک گرم ہو جائے یا بیٹری پھول جائے تو فوری طور پر استعمال بند کر دیں۔سموک الارم کی اہمیتفائر ڈیپارٹمنٹس کا یہ بھی کہنا ہے کہ گھروں میں سموک الارم کا فعال ہونا انتہائی ضروری ہے۔ اگر خدانخواستہ چارجنگ کے دوران آگ لگ جائے تو سموک الارم ابتدائی مرحلے میں خبردار کر سکتا ہے جس سے جانی و مالی نقصان کم کیا جا سکتا ہے۔پاکستان کے تناظر میںپاکستان میں بجلی کے اتار چڑھاؤ، غیر معیاری ایکسٹینشن بورڈز اور سستے چارجرز کے استعمال کی وجہ سے یہ خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ خصوصاً گرمیوں کے موسم میں جب درجہ حرارت پہلے ہی زیادہ ہو موبائل فون اور چارجر مزید گرم ہو سکتے ہیں۔ اس لیے صارفین کو اضافی احتیاط کی ضرورت ہے۔موبائل فون ہماری روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے مگر اس سہولت کے ساتھ ذمہ داری بھی جڑی ہوئی ہے۔ چند احتیاطی تدابیر نہ صرف آپ کے گھر کو کسی بڑے نقصان سے محفوظ رکھ سکتی ہیں بلکہ آپ اور آپ کے اہل خانہ کی جان بھی بچا سکتی ہیں۔

حکایت سعدیؒ:عیبوں کی ٹوہ

حکایت سعدیؒ:عیبوں کی ٹوہ

حضرت سعدیؒ بیان کرتے ہیں، ایک نوجوان حُسنِ صورت اور حُسنِ سیرت کے ساتھ علم کی دولت سے بھی مالا مال تھا۔ وہ جس موضوع پر لب کشا ہوتا تھا، لوگ اس کی بات بہت شوق اور توجہ سے سنتے تھے اور اس کے فیصلوں کو درست مانتے تھے۔ وہ ایسا روشن چراغ تھا کہ اس کے سامنے کسی اور کا چراغ مشکل ہی سے جلتا تھا لیکن ان ساری خوبیوں کے باوصف اس میں ایک کمزوری یہ تھی کہ وہ الفاظ کو ان کے صحیح تلفظ کے ساتھ ادا نہ کر سکتا تھا۔ ایک دن ایک بزرگ کی محفل میں اس ہمہ صفت موصوف نوجوان کا ذکر چھڑا تو میں نے اس کی اس کمزوری کا ذکر کرنے کے بعد رائے ظاہر کی کہ میرے نزدیک اس کی تقریر میں یہ نقص اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ اس کے سامنے کے دانت درست نہیں ہیں۔ میری یہ بات سن کر بزرگ بہت ناراض ہوئے۔ انہوں نے فرمایا:تعجب ہے کہ اس نوجوان کی اتنی بہت سی خوبیوں کے مقابلے میں تمہاری نگاہ اس کے اس معمولی عیب کی طرف گئی۔ کیا یہ افسوس کی بات نہیں کہ طاؤس کو دیکھنے والے کی نگاہ اس کے بدزیب پیروں پر ہی مرکوز رہ جائے۔ مناسب تو یہ ہے کہ انسان ہنر اور خوبیاں دوسروں کی ذات میں تلاش کرے اور عیب اپنی ذات کے یاد رکھے۔ دنیا میں اچھائیاں بھی ہیں اور برائیاں بھی۔ جس طرح گلزار میں پھول بھی ہوتے ہیں اور خار بھی۔ جس کے دل کا آئینہ میلا ہو، اسے ہر چیز دھندلی اور جس کا روشن ہو اسے ہر چیز روشن نظر آتی ہے۔ شیشۂ دل کو مجلا کرنے پر سب سے زیادہ توجہ صرف کرنی چاہیے۔

آج تم یاد بے حساب آئے!آغا طالش: ایک بڑا اداکار (1998-1923ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!آغا طالش: ایک بڑا اداکار (1998-1923ء)

٭... 10 نومبر 1923ء کو لدھیانہ میں پیدا ہوئے۔ اصل نام آغا علی عباس قزلباش تھا۔٭... والد پولیس میں ملازم تھے جن کے مختلف شہروں میں تبادلوں کی وجہ سے آغا طالش کو شہروں اور انسانوں کو دیکھنے کا بھر پور موقع ملا۔٭... قیامِ پاکستان کے بعدریڈیو پشاور سینٹر سے عملی زندگی میں قدم رکھا اور پھر فلم کی طرف آگئے۔٭... تقسیم سے قبل انہوں نے بمبئی میں بننے والی ایک فلم میں بھی کام کیا تھا۔٭... 1962ء میں فلم ''شہید‘‘ نے آغا طالش کو شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔٭...اپنی طویل فنی زندگی میں 400سے زائد اردو، پنجابی فلموں میں کام کیا۔٭... ان کی مشہور فلموں میں نتھ، جھیل کنارے، سات لاکھ، باغی، شہید، سہیلی، فرنگی، زرقا، وطن، نیند، زینت، امرائو جانِ ادا اپنے وقت کی کامیاب فلمیں تھیں۔٭...وہ کبھی نواب کے بہروپ میں سکرین پر نظر آئے تو کہیں ایمان دار اور فرض شناس پولیس افسر، کسی فلم میں انہوں نے ڈاکو کا روپ دھارا تو کہیں ایک مجبور باپ کے رول میں شائقین کے دل جیتے۔٭... فلم کے سیٹ پر بروقت پہنچنا، اپنے سکرپٹ اور کردار پر غور کرنا، کوئی بات سمجھ نہ آئے تو ڈائریکٹر سے پوچھنا اس بڑے اداکار کا شیوہ تھا۔ ٭... شاندار اداکاری کی بدولت انہوں نے پاکستان فلم نگری کا نگار ایوارڈ سات مرتبہ اپنے نام کیا۔٭... چند مفاد پرست فلمسازوں کے رویے کے باعث فلمی دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ ٭... 19فروری 1998ء کو اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔

آج کا دن

آج کا دن

روزویلٹ کا ایگزیکٹو آرڈر19فروری1942ء کو امریکہ کے صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ نے ایگزیکٹو آرڈر 9066 پر دستخط کیے جو دوسری جنگِ عظیم کے دوران امریکی شہری حقوق کی تاریخ میں ایک سیاہ باب کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے۔ یہ آرڈر امریکی حکومت کو اختیار دیتا تھا کہ وہ تقریباً 125,000 لوگوں ،جن میں اکثر جاپانی نژاد امریکی تھے ، کو فوجی زونوں سے باہر منتقل کر کے انٹرنمنٹ کیمپوں میں قید کر دے۔ اس فیصلے کا پسِ منظر جنگ کی خوفناک شدت اور جاپان کے حملے کے بعد پیدا شدہ بے یقینی تھا۔ حکومت نے دلیل دی کہ اس اقدام سے سکیورٹی کو تحفظ ملے گا، مگر حقیقت میں پوری برادری کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم کرنا پڑا۔ایڈیسن کا فونوگراف پر پیٹنٹ 19فروری1878ء کو مشہور امریکی موجدایڈیسن نے فونوگراف (دنیا بھر میں پہلی مشین جو ریکارڈ شدہ آواز کو محفوظ اور دوبارہ بجاسکتی تھی) پر پیٹنٹ حاصل کیا ۔ یہ ایجاد دنیا کے صوتی تجربات میں انقلاب لے آئی۔ فونوگراف دراصل گھومتے ہوئے سلنڈر اور ایک سلیکون سٹائل سے مل کر کام کرتا تھا۔ ایڈیسن نے پہلے اس مشین کو اپنی وائس میں ایک نظم ریکارڈ کر کے چلایا، جس نے لوگوں کو حیران اور محظوظ کیا۔ یہ ایجاد دنیا بھر میں انفارمیشن اور تفریح کے علاقے میں ایک نئے دور کا آغاز تھا۔ فونوگراف بعد میں ریکارڈ پلیئرز، ٹیپ ریکارڈرز، اور جدید ڈیجیٹل آڈیو کی سمت گامزن ہوا۔ ڈونر پارٹی کی بچاؤ مہم 19فروری1847ء کو ڈونر پارٹی کے اراکین کو سیرا نیوا پہاڑوں میں شدید سردی اور برف میں پھنس جانے کے بعد آخرکار بچا لیا گیا۔ڈونر پارٹی ایک گروپ تھا جو مغربی سفر کے دوران غلط راستہ اختیار کرنے کی وجہ سے برفانی طوفان میں پھنس گیا تھا اور کئی ماہ تک خوراک کی شدید کمی کا شکار رہا۔ ان حالات میں کچھ لوگوں کو بچاؤ کے لیے خطرناک راستہ اختیار کر کے مدد طلب کرنی پڑی۔ بالآخر 19فروری کوریسکیو ٹیموں نے انہیں برف سے نکال لیا مگر اس تک پہنچنے تک بہت سے افراد کا زندہ رہنا مشکل ہو چکا تھا۔ یو ایس مارینز کا حملہ19فروری 1945ء کو دوسری جنگِ عظیم کے دوران امریکی بحری فوج نے جزیرہ Iwo Jima پر حملہ کیا۔یہ جاپان کے ساحل سے قریب ایک چھوٹا مگر اہم جزیرہ تھا جسے امریکی فوج نے اپنے فضائی بمباروں کی خدمات کے لیے ایک سٹریٹیجک مقام کے طور پر استعمال کرنا تھا۔ جاپانی فوج نے جزیرے کی حفاظتی پوزیشن مضبوط کی تھی۔ Iwo Jima کی فتح نے امریکہ کو جاپانی دفاع کی گہرائیوں میں مزید حملوں کی راہ ہموار کی۔ سوویت یونین کاخلائی سٹیشن 19فروری1986ء کو سوویت یونین نے Mir (میر) خلائی سٹیشن کو زمین کی مدار میں بھیجا۔ Mir دنیا کا پہلا ماڈیولر خلائی سٹیشن تھا جسے مختلف ماڈیولوں کے جوڑ سے بنایا گیا تھا۔Mir نے 28 طویل مدت کے مشنز کو ہوسٹ کیا جس میں مختلف ممالک کے خلائی مسافر شامل تھے۔ اس نے سائنسی تحقیق، خلائی رہائش اور عالمی تعاون کی مثال قائم کی، جس نے بعد میں انٹر نیشنل سپیس سٹیشن جیسے بڑے پراجیکٹس میں مدد دی۔ 2001ء میں Mir کو واپس زمین کی فضا میں لایا گیا۔Mir کے اثرات آج بھیخلائی تحقیق میں محسوس کیے جاتے ہیں۔

منہ کے جراثیم اورجسمانی پیچیدگیاں

منہ کے جراثیم اورجسمانی پیچیدگیاں

درست طریقے سے برش نہ کرنا 50سے زائد بیماریوں کی وجہجدید طبی تحقیق نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ صحت مند زندگی کی بنیاد چھوٹی مگر باقاعدہ عادات میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق دانتوں کو صحیح طریقے سے برش کرنا نہ صرف منہ کی صفائی اور خوشبو کیلئے ضروری ہے بلکہ یہ ڈیمنشیااور گٹھیا سمیت پچاس سے زائد دیگر بیماریوں سے بچاؤ میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ بظاہر ایک سادہ سا عمل، اگر نظر انداز کر دیا جائے تو اس کے اثرات پورے جسم پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ مسوڑھوں کی بیماری اور منہ میں موجود جراثیم خون کے ذریعے جسم کے مختلف حصوں تک پہنچ کر سوزش اور دیگر پیچیدگیوں کا باعث بن سکتے ہیں۔ یہی سوزش دل، دماغ اور جوڑوں سمیت کئی اعضا کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس تناظر میں روزانہ کم از کم دو مرتبہ درست طریقے سے برش کرنا، فلاس کا استعمال اور باقاعدہ ڈینٹل چیک اپ محض ذاتی صفائی نہیں بلکہ مجموعی صحت کی ضمانت بن سکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق دانتوں کو درست طریقے سے برش کرنا ڈیمنشیا (dementia)، ریمیٹائیڈ آرتھرائٹس (rheumatoid arthritis )(گٹھیا کی ایک قسم) اور پارکنسنز(Parkinson's) سمیت پچاس سے زائد بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ بات دنیا کی سب سے بڑی عمومی سائنسی کانفرنس میں ماہرین کے ایک پینل نے پیش کی، جہاں بتایا گیا کہ منہ میں موجود بیکٹیریا سے پیدا ہونے والی سوزش اور انفیکشن کے پھیلاؤ کا تعلق جسم کے مختلف حصوں میں پیدا ہونے والے مسائل سے جوڑا جا رہا ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ وہ ابھی اس تعلق کو مکمل طور پر سمجھنے کے ابتدائی مرحلے میں ہیں، تاہم یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ منہ کی صحت جوڑوں، دماغ اور آنتوں سمیت مختلف اعضا اور بافتوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ یونیورسٹی آف مینیسوٹا (Minnesota) کے شعبہ دندان سازی کے پروفیسر الپدوگان کانترچی (Alpdogan Kantarci)نے کہا کہ مسوڑھوں کی شدید بیماری، جسے پیریوڈونٹائٹس (periodontitis) کہا جاتا ہے، لازمی طور پر ڈیمنشیا جیسی بیماریوں کی براہِ راست وجہ نہیں بنتی، تاہم یہ مشترکہ خطرے کے عوامل کو متحرک کر سکتی ہے اور ان افراد میں بیماری کی رفتار تیز کر سکتی ہے جو پہلے ہی اس کیلئے حساس ہوں۔تحقیقات سے ظاہر ہو رہا ہے کہ ہلکی یا درمیانی نوعیت کی بیماریوں میں مبتلا وہ افراد جو باقاعدگی سے برش کرتے ہیں، دانتوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں یا ڈینٹسٹ سے رجوع کر کے مکمل صفائی کرواتے ہیں، ان میں ذہنی کارکردگی کے نتائج کہیں بہتر دیکھے گئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اب ہمیں یقین ہونے لگا ہے کہ دانتوں کو صحت مند رکھنا پچاس سے زائد جسمانی امراض کے خطرے میں کمی سے وابستہ ہو سکتا ہے۔پروفیسر کانترچی نے چوہوں پر کی گئی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پیریوڈونٹائٹس دماغی سوزش میں اضافہ کر سکتی ہے اور منہ کے مضر بیکٹیریا خون اور دماغ کے درمیان موجود حفاظتی رکاوٹ (بلڈ برین بیریئر) کو عبور کر سکتے ہیں، خصوصاً عمر رسیدہ چوہوں میں۔اسی دوران جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے شعبۂ طب کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر فیلیپ اینڈریڈ(Dr Felipe Andrade) نے شواہد پیش کیے کہ مسوڑھوں کی بیماری پیدا کرنے والے جراثیم ریمیٹائیڈ آرتھرائٹس (rheumatoid arthritis)کی نشوؤنما میں بھی کردار ادا کر سکتے ہیں۔اسی طرح یونیورسٹی آف مشی گن سے وابستہ ڈاکٹر نوبوہیکو کامادا( Dr Nobuhiko Kamada) نے وضاحت کی کہ منہ کے بیکٹیریا آنتوں کے مائیکرو بائیوم (جرثومی نظام) کو متاثر کر سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں آنتوں کی سوزشی بیماری (Inflammatory Bowel Disease) اور بڑی آنت کے کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق دل کے امراض، فالج اور ذیابیطس بھی ان بیماریوں میں شامل ہیں جن کا تعلق منہ کی صحت سے جوڑا جا رہا ہے۔پروفیسر کانترچی نے خبردار کیا کہ زیادہ چینی اور حد سے زیادہ پراسیس شدہ غذاؤں کا استعمال دانتوں کی خرابی اور مسوڑھوں کی بیماری میں تیزی سے اضافے کا سبب بن رہا ہے۔ انہوں نے منہ کی دیکھ بھال کے حوالے سے برطانیہ کا موازنہ تیسرے درجے کے ملک سے کرتے ہوئے کہا کہ پراسیس شدہ خوراک، نرم غذا اور موٹاپا لوگوں کو دانتوں کے مسائل کی طرف مائل کر رہے ہیں۔انگلینڈ کے اورل ہیلتھ سروے کے اعداد و شمار کے مطابق 1998ء سے 2009ء کے درمیان واضح دانتوں کی خرابی کی شرح 46 فیصد سے کم ہو کر 28 فیصد رہ گئی تھی، تاہم اب یہ رجحان الٹ چکا ہے۔ 2023ء کے تازہ ترین سروے کے مطابق قدرتی دانت رکھنے والے 41 فیصد بالغ افراد میں نمایاں کیویٹیز یا دانتوں کی خرابی پائی گئی۔مزید یہ کہ تقریباً 93فیصد افراد میں مسوڑھوں کی بیماری کی کم از کم ایک علامت موجود تھی، جیسے سوزش، ٹارٹر (میل) کا جماؤ یا دانتوں اور مسوڑھوں کے درمیان خلا بن جانا۔پروفیسر کانترچی نے کہا کہ فوڈ ڈیلیوری سروسز کے بڑھتے ہوئے رجحان اور پراسیس شدہ غذاؤں کے زیادہ استعمال نے لوگوں کو قدرتی غذا اور گھر کے پکے کھانوں سے دور کر دیا ہے۔اس کا اثر لوگوں کے دانتوں اور منہ کی صحت پر پڑ رہا ہے۔ اس لیے یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ بیماریاں زیادہ دیکھنے میں آ رہی ہیں۔حل بالکل واضح ہے، ہمیں مجموعی جسمانی صحت کیلئے منہ کی صحت سے متعلق آگاہی کو بہتر بنانا ہوگا۔ یہ ماہرِ دندان سازی اور مسوڑھوں کے سرجن ان محققین کی ایک ٹاسک فورس کا بھی حصہ ہیں جو اس بات کا اندازہ لگانے پر کام کر رہی ہے کہ عوام کی منہ کی صحت بہتر بنانے سے معاشی اور سماجی سطح پر کیا فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔