شباب کیرانوی پاکستانی فلمی صنعت کا ایک بڑا نام!

شباب کیرانوی  پاکستانی فلمی صنعت کا ایک بڑا نام!

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالحفیظ ظفر


پاکستانی فلمی صنعت کی جن لوگوں نے آبیاری کی اور اس کی نشو و نما کے لیے گرانقدر خدمات سرانجام دیں ان میں بہت سے نام شامل ہیں۔ اگر فلمساز اور ہدایت کاروں کی بات کی جائے تو انور کمال پاشا‘ مسعود پرویز، ریا ض شاہد، منشی دل، ایم جے رانا اور حسن طارق کے نام لیے جا سکتے ہیں۔ ایک نام اور بھی ہے، جن کے بغیر پاکستانی فلمی صنعت کی تاریخ نامکمل رہے گی اور وہ نام ہے، شباب کیرانوی!1925ء میں اتر پردیش (بھارت) کے ضلع مظفر نگر کے علاقے کیرانہ میں پیدا ہونے والے شباب کیرانوی کا اصل نام حافظ نذیر احمد تھا۔ وہ بنیادی طور پر صحافی تھے جنہوں نے صحافت کا آغاز فلمی جریدے ’’ڈائریکٹر‘‘ سے کیا۔ فلمساز کی حیثیت سے ان کی پہلی فلم ’’جلن‘‘ تھی جبکہ ’’ثریا‘‘ وہ فلم تھی جس کی سب سے پہلے انہوں نے ہدایات دیں۔ پھر ان کی فلم ’’مہتاب‘‘ ریلیز ہوئی جو سپر ہٹ ثابت ہوئی۔ اس فلم نے شباب صاحب پر دولت کی بارش کر دی اور انہوں نے اپنا فلم سٹوڈیو بنا لیا۔ انہوں نے اپنے دیرینہ دوست اے احمد (سنگیت کار اے حمید نہیں) کے ساتھ اپنے پروڈکشن ہائوس کی بنیاد رکھی۔ اپنے پروڈکشن ہائوس کے بینر تلے انہوں نے جو پہلی فلم بنائی اس کا نام تھا ’’انسانیت‘‘، یہ فلم بے حد کامیاب رہی ۔ اس میں طارق عزیز اور علی اعجاز نے اپنے فلم کیرئر کا آغاز کیا۔ اس کے بعد انہوں نے ’’سنگدل‘‘ انسان اور آدمی، انصاف اور قانون، دامن اور چنگاری ،میرا نام ہے محبت، سہیلی ، نوکر ، شمع ،آئینہ اور صورت اور شمع محبت جیسی کامیاب فلمیں دیں۔ شباب صاحب کو سماجی موضوعات پر فلمیں بنانے میں ملکہ حاصل تھا ۔ دوسری اہم بات یہ تھی کہ ان کی فلموں کی موسیقی بہت معیاری ہوتی تھی۔ انہوں نے ایک مصلح (Reformer) کا کردار ادا کیا کیونکہ ان کی فلموں میں سماجی برائیوں کے خاتمے کی بات کی جاتی تھی۔ اسی طرح اگر غور سے دیکھا جائے تو ایک اور حقیقت سامنے آتی ہے ۔شباب صاحب طبقاتی تفاوت کے سخت خلاف تھے ۔وہ اعلیٰ انسانی اقدار پر یقین رکھتے تھے ان کی اکثر فلموں میں امیر اور غریب کا ٹکرائو دکھائی دیتا تھا اور وہ دولت مندوں کو یہ پیغام دیتے تھے کہ غریبوں اور ناداروں کو بھی انسان سمجھیں اور انہیں حقارت سے نہ دیکھیں۔ فلم کے اختتام پر وہ امیر اور غریب کو یکجا کر دیتے تھے اور یوں فلم بینوں سے داد و تحسین حاصل کرتے تھے۔ اس کے علاوہ وہ اپنی فلموں میں مشرقی عورت کی خوبیاں اجاگر کرتے تھے۔انہوں نے اپنی فلموں میں مغربی تہذیب کی دلدادہ عورتوں کو ہمیشہ تنقید کا نشانہ بنایا اور پاکستانی خواتین کو پیغام دیا کہ وہ مشرقی روایات سے روگردانی نہ کریں۔ شباب صاحب کی فلموں میں مزاحیہ اداکاری بھی کمال کی ہوتی تھی۔ ننھا ،علی اعجاز، رنگیلا اور منور ظریف کی صلاحیتوں کو انہوں نے خوب نکھارا۔شباب صاحب کی فلموں کی زیادہ تر موسیقی ایم اشرف نے مرتب کی اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ایم اشرف نے شباب صاحب کی فلموں کے جن گیتوں کی موسیقی دی ان میں 80فیصد سے زیادہ گیت سپرہٹ ثابت ہوئے۔ شباب صاحب کے بارے میں یہ کہنا بھی درست ہے کہ انہوں نے اداکار محمد علی کے فن کو انتہائی خوبصورتی سے استعمال کیا۔ یہ شباب صاحب کا ہی کمال تھا کہ اداکار محمد علی نے ان کی فلموں ’’انسان اورآدمی‘‘ اور’’ انصاف اور قانون‘‘ میں اپنی زندگی کے یادگار کردار ادا کیے۔ انہوں نے میڈم نورجہاں ،احمد رشدی، آئرن پروین اورمسعود رانا سے بڑے شاندار گیت گوائے۔ 70ء کی دہائی میں شباب صاحب نے ناہید اختر کی دلکش آوازکو اپنی فلموں کے نغمات کے لیے استعمال کیا۔ فلم ’’نوکر اور شمع‘‘ میں ناہید اختر نے ایم اشرف کی موسیقی میں بڑے دلکش گیت گائے جنہیں آج بھی پسند کیا جاتا ہے۔شباب صاحب پر یہ الزام عائد کیا جاتا تھا کہ ان کی اکثر فلمیں بھارتی فلموں کا چربہ ہوتی ہیں ۔ کچھ فلموں کی حد تک تو یہ بات تسلیم کی جا سکتی ہے لیکن ان کی ساری فلمیں چربہ نہیں تھیں۔ البتہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ان کی بہت سی فلمیں باکس آفس پر بے حد کامیاب ثابت ہوئیں۔ سب سے پہلے ان پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ ان کی فلم’’ انسانیت‘‘ بھارتی فلم ’’دل ایک مندر‘‘ کا چربہ ہے ۔اسی طرح چند اور فلموں کے بارے میں بھی یہی کچھ کہا گیا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ شباب صاحب نے اسلم پرویزکو بھی ولن کی حیثیت جو کردار دیئے۔ انہوں نے اسلم پرویز کے فن کو ایک نئی سمت سے روشناس کرایا۔ خاص طورپر انسان اورآدمی ، انصاف اورقانون اور دامن اور چنگاڑی میں اسلم پرویز فن کی بلندیوں پر نظر آتے ہیں۔شباب کیرانوی کے کریڈٹ میں یہ بات بھی جاتی ہے کہ انہوں نے پاکستانی فلموں کو کئی ایک نئے چہرے دیے ۔ انہوں نے جن فنکاروں کو متعارف کرایا ان میں عنایت حسین بھٹی ،کمال، احمد رشدی، نغمہ، شیریں، ننھا، علی اعجاز ، ندیم(مغربی پاکستان میں پہلی فلم سنگدل) ظفر شباب، صاعقہ، زرقا، مسعود اختر، نذر شباب، آسیہ ، غلام محی الدین اور انجمن شامل ہیں۔شباب صاحب کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ رحم دل اور غریب پرور تھے انہوں نے کبھی فلم کے تکنیک کاروں اور دیگر کارکنوں سے ناانصافی نہیں کی اور ہمیشہ وقت پر انہیں معاوضے کی ادائیگی کرتے رہے۔ اس لحاظ سے ان کی شہرت بہت اچھی تھی۔شباب صاحب سکرین رائٹر اور فلمی گیت نگار بھی تھے۔ ان کے دو شعری مجموعے’’موج شباب‘‘ اور’’ بازارصدا‘‘ ان کی زندگی میں ہی شائع ہو گئے تھے۔شاعری میں وہ احسان دانش کے شاگرد تھے۔ شباب کیرانوی ناول نگار بھی تھے ۔انہوں نے ایک درجن کے قریب ناول لکھے جن میں’’ پھول کے سائے ،ایک عورت ہزار مرحلے ، درد دل اور خلش‘‘ خاص طورپرقابل ذکر ہیں۔ ان کے چند مشہور گیتوں کا تذکرہ ذیل میں کیا جا رہا ہے:1۔ توجہاں کہیں بھی جائے میرا پیار یاد رکھنا(انسان اور آدمی)2۔ کیا ملا ظالم تجھے کیوں دل کے ٹکڑے کر دئیے (میں بھی انسان ہوں)3۔ یہ وعدہ کیا تھا محبت کریں گے(دامن اور چنگاری)4۔ آنکھیں غزل ہیں آپ کی(سہیلی)5۔ اللہ تیری شان یہ اپنوں کی ادا ہے(سہیلی)شباب صاحب ؟کے بیٹوں نذر شباب اورظفر شباب نے بھی ہدایت کاری کے میدان میں قدم رکھا اورکئی ایک کامیاب فلمیں تخلیق کیں شباب صاحب نے کئی دوسرے گیت نگاروں کو بھی اپنی فلموں میں گیت لکھنے کا موقع دیا جیسے بطور فلم ساز ان کی پنجابی فلم ’’تیس مار خان‘‘ کے گیت بابا عالم سیاہ پوش نے لکھے۔ اسی طرح مشیر کاظمی ‘ سعید گیلانی ، تسلیم فاضلی اور خواجہ پرویز نے بھی ان کی فلموں کے گیت لکھے ۔شباب کیرانوی نے 75سے زائد فلمیں بنائیں اور 50فلموں کی ہدایت کاری کی انہوں نے کئی بار نگار ایوارڈ ،گریجویٹ ایوارڈ اور مصور ایوارڈ سے نوازا گیا۔ صاحب ثروت ہونے کے باوجود انہوں نے کبھی تکبر کا مظاہرہ نہیں کیا۔5نومبر1982کو شباب کیرانوی عالم جاوداں کو سدھار گئے ۔پاکستانی فلمی صنعت کے لیے انہوں نے جو خدمات سرانجام دیں انہیں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
مسوڑھوں سے خون!

مسوڑھوں سے خون!

گردوں کی بیماری کا خاموش انتباہ؟انسانی جسم اکثر بڑی بیماریوں کے بارے میں ابتدا ہی میں کچھ ایسے اشارے دے دیتا ہے جنہیں ہم معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ مسوڑھوں سے خون آنا بھی ایک ایسی ہی علامت ہے، جسے اکثر لوگ صرف دانتوں کی صفائی یا مسوڑھوں کی سوزش کا مسئلہ سمجھتے ہیں۔ تاہم جدید طبی تحقیق نے اس عام علامت کو ایک نہایت سنگین بیماری، یعنی گردوں کے مہلک امراض سے بھی جوڑ دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق مسوڑھوں کی خراب صحت نہ صرف منہ کے امراض بلکہ جسم میں بڑھتی ہوئی سوزش، انفیکشن اور گردوں کے افعال میں خرابی کی بھی عکاسی کر سکتی ہے۔ اگر اس علامت کو بروقت سنجیدگی سے لیا جائے اور مناسب طبی معائنہ کرایا جائے تو گردوں کی بیماری کی ابتدائی مرحلے میں تشخیص ممکن ہو سکتی ہے، جس سے پیچیدگیوں، ڈائیلاسز اور جان لیوا نتائج سے بچنے کے امکانات بھی نمایاں طور پر بڑھ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اب منہ اور دانتوں کی صحت کو مجموعی جسمانی صحت کا ایک اہم آئینہ قرار دے رہے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق تقریباً ہر دو میں سے ایک بالغ فرد کسی نہ کسی درجے کی مسوڑھوں کی بیماری کا شکار ہے۔ اس بیماری کی علامات میں مسوڑھوں کا سوج جانا، دانت صاف کرتے وقت خون آنا اور مسوڑھوں میں جلن یا حساسیت شامل ہیں۔عام طور پر مسوڑھوں کی بیماری کی بنیادی وجہ منہ اور دانتوں کی مناسب صفائی نہ کرنا ہوتی ہے۔ جب دانتوں پر ڈینٹل پلاک یا جراثیمی تہہ جمع ہو کر سخت ہو جاتی ہے تو یہ مسوڑھوں میں جلن، سوزش اور انفیکشن پیدا کرتی ہے، جس کے نتیجے میں خون آنا شروع ہو سکتا ہے۔تاہم اب ماہرین کا کہنا ہے کہ مسوڑھوں کی بیماری صرف منہ کی صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ کسی زیادہ سنگین بیماری، خصوصاً گردوں کی خرابی، کی ابتدائی علامت بھی ہو سکتی ہے۔جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں محققین نے چھ ہزار سے زائد افراد کے دانتوں کے طبی ریکارڈ کا جائزہ لیا۔ تحقیق کے دوران انہیں شدید مسوڑھوں کی بیماری اور گردوں کی ابتدائی خرابی کے درمیان ایک تشویشناک تعلق ملا۔تحقیق کے مطابق جن افراد کے گردے معمول کے مطابق کام کر رہے تھے، ان میں سے صرف 14 فیصد شدید مسوڑھوں کی بیماری میں مبتلا تھے۔اس کے برعکس جن افراد کے گردوں کی کارکردگی درمیانے درجے تک متاثر ہو چکی تھی، ان میں شدید مسوڑھوں کی بیماری کی شرح بڑھ کر 35 فیصد سے بھی زیادہ ہو گئی۔یہ نتائج ان بڑھتے ہوئے سائنسی شواہد میں ایک اہم اضافہ ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منہ اور دانتوں کی صحت کا تعلق صرف زبانی امراض تک محدود نہیں بلکہ یہ انسان کی مجموعی جسمانی صحت، خصوصاً گردوں جیسے اہم اعضا کی کارکردگی، پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔اس سے قبل بھی متعدد طبی تحقیقات یہ ثابت کر چکی ہیں کہ مسوڑھوں کی بیماری کے باعث پیدا ہونے والی دائمی سوزش کئی سنگین امراض، مثلاً دل کی بیماریوں اور ذیابیطس کے خطرے میں اضافہ کر سکتی ہے۔تازہ تحقیق جو معروف سائنسی جریدے انٹرنیشنل جرنل آف اورل سائنس میں شائع ہوئی، میں جرمنی کے ہیمبرگ سٹی ہیلتھ اسٹڈی کے تحت شامل 6,179 افراد کے گردوں کی صحت کا طویل عرصے تک جائزہ لیا گیا۔ تحقیق کے آغاز میں تمام شرکاء کا نہایت تفصیلی دندان سازی کا معائنہ کیا گیا تاکہ مسوڑھوں کی بیماری کی علامات کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔اس کے بعد ان کے گردوں کی صحت کا مختلف طبی ٹیسٹوں کے ذریعے تجزیہ کیا گیا، جن میں جسم میں موجود دائمی سوزش اور گردوں کی کارکردگی سے متعلق اہم اشاریوں کا بھی جائزہ شامل تھا۔تحقیق کے نتائج انتہائی اہم اور توجہ طلب ثابت ہوئے۔ محققین نے دریافت کیا کہ مسوڑھوں کی خراب صحت اور گردوں کی کارکردگی میں مسلسل کمی کے درمیان واضح اور مستقل تعلق موجود ہے۔جن افراد کے جسم میں البیومن (Albumin) نامی پروٹین کی مقدار زیادہ پائی گئی، ان میں مسوڑھوں کی شدید بیماری کا امکان بھی زیادہ تھا۔ طبی ماہرین کے مطابق جب گردے متاثر ہوتے ہیں تو یہ پروٹین پیشاب میں خارج ہونے لگتی ہے، اس لیے پیشاب میں البیومن کی موجودگی گردوں کے نقصان کی ایک اہم علامت سمجھی جاتی ہے۔تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ منہ کی صحت سے متعلق دیگر مسائل، مثلاً دانتوں کا گر جانا اور دانتوں کو سہارا دینے والے بافتوں (Tissues) کی تباہی، گردوں کی صحت بگڑنے کے ساتھ ساتھ مزید سنگین ہوتی چلی جاتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ محققین نے اپنی تحقیق میں عمر، جنس، ذیابیطس اور تمباکو نوشی جیسے معروف خطراتی عوامل کو بھی مدنظر رکھا، لیکن اس کے باوجود مسوڑھوں کی بیماری اور گردوں کی خرابی کے درمیان تعلق برقرار رہا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تعلق محض اس وجہ سے نہیں کہ کمزور عمومی صحت رکھنے والے افراد دونوں بیماریوں کا بیک وقت شکار ہو جاتے ہیں، بلکہ ان دونوں امراض کے درمیان واقعی ایک سائنسی ربط موجود ہے۔سائنس دانوں کا خیال ہے کہ دائمی سوزش وہ بنیادی عنصر ہو سکتی ہے جو مسوڑھوں کی بیماری اور گردوں کے امراض کو آپس میں جوڑتی ہے۔ مسلسل سوزش نہ صرف مسوڑھوں کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ خون کے ذریعے پورے جسم میں پھیل کر گردوں سمیت دیگر اہم اعضا کی کارکردگی کو بھی متاثر کر سکتی ہے، جس کے باعث مختلف پیچیدہ بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ جن افراد کو مسوڑھوں کی شدید بیماری اور گردوں کی کارکردگی میں کمی دونوں مسائل لاحق تھے، ان کے خون میں ایسے پروٹینز کی مقدار زیادہ پائی گئی جو جسم میں دائمی سوزش کی نشاندہی کرتے ہیں۔تاہم تحقیقاتی ٹیم اس نتیجے پر بھی پہنچی کہ صرف سوزش کی بلند سطح اس تعلق کی مکمل وضاحت نہیں کر سکتی۔

سرائیوو……بلقان کا ہیرا

سرائیوو……بلقان کا ہیرا

سرائیوو کا خوبصورت شہر جو بوسنیا کا پایہ تخت بھی ہے، چہار اطراف سے سبز اور اونچے پہاڑوں کے درمیان کوہ ملیچکہ کی پیالہ نما وادی میں دریائے ملیچکہ کے کنارے پر آباد ہے۔ گزشتہ جنگ(1992 ء تا 1995 ء ) کے خاتمے کے بعد اپنی اصل سے بھی بہتر حالت میں لوٹ رہا ہے۔ پہاڑیوں کی چوٹیوں سے نیچے جب شہر کا نظارہ کیا جائے تو ایک دلفریب منظر آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے۔ سرائیوو کا شہر سطح سمندر سے 2272 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ اپنے خوبصورت محل وقوع اور سبزہ وباغات کی وجہ سے سرائیوو کو جزیرہ نمائے بلقان کا ہیرا کہا جاتا ہے۔ سرائیوو کے کھلے اور مسقف بازار گاہکوں کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔ جن کے درمیان پتھروں سے جڑی ہوئی خوبصورت سڑکیں سلطنت عثمانیہ کے انجینئروں کی اعلیٰ کاریگری کا شاہکار دکھائی دیتی ہیں۔ سرائیوو شہر میں عثمانیوں نے فراہمی آب کا جو نظام قائم کیا تھا،وہ ابھی تک کام کر رہا ہے۔ چھ سو برس گزرنے اور کئی جنگوں کے باوجود آب رسائی کا نظام اس لیے برقرار ہے کہ سب تعمیرات پتھر کی بنی ہوئی ہیں۔ بازاروں اور گلیوں میں صفائی کو دیکھ کر کوئی بھی مسافر تعریف کیے بنا نہیں رہ سکتا۔سرائیوو میں ایک سو سے زائد بڑی جامع مساجد ہیں۔ جن کے لمبے اور چار کونی مینار ترکش ڈیزائن اور عہد کی یاد تازہ کر دیتے ہیں۔ خصوصاً جمعہ کے دن مساجد کے اندرونی ہال صحن اور اطراف کے پارکوں میں جگہ حاصل کرنا بڑا مشکل ہو جاتا ہے۔ بوسنیا کے مسلمانوں پر دین اسلام کی چھاپ بہت گہری ہے۔ کیونکہ اس خطے پر ترکوں نے کم و بیش چار صدیوں تک حکمرانی کی، اس لیے یہاں کے کلچر، رہن سہن، مساجد کے ڈیزائن و مینار اور عمارت کی آرائش و زیبائش پر ترکی رنگ کی عکاسی نمایاں نظر آتی ہے۔ شاہراہوں کے کنارے درمیانے درجے کے ریستورانوں میں ترکی انداز کے لکڑی کے تخت پوش بچھے ہوئے نظر آتے ہیں۔ سرائیوو کا شہر پندرہویں اور سولہویں صدی میں ایک اہم تجارتی مرکز بن چکا تھا۔ مشرق اور یورپ سے تجارتی قافلے اپنی اپنی اشیا یہاں لا کر فروخت کر کے اپنے اپنے ملکوں کو واپس چلے جاتے اور آج کل بڑے بڑے ہوٹلوں کی طرح بڑی بڑی سرائیں تاجروں کی آمد سے بھری ہوتی تھیں، جن میں دن رات رونق رہتی تھی۔سرائیوو کا شہر ایک ایسی جگہ واقع ہے جو جنت ارضی کہلوانے کا مستحق ہے۔ شہر کے بالکل درمیان میں دریائے ملیچکہ بہہ رہا ہے۔ جس کا منبع سرائیوو کے اردگرد پھیلی پہاڑیوں کے دامن میں واقع ہے۔دریا کے دونوں اطراف بڑی بڑی کشادہ سڑکیں ہیں جو شام پانچ بجے کے بعد عام ٹریفک کیلئے بند کر دی جاتی ہیں۔ جسے پیدل مال کا نام دیا گیا ہے، جس پر ہر عمر کے لوگ جوگنگ کرتے اوربنچوں پر بیٹھے خوش گپیاں لگاتے رات گئے تک نظر آتے ہیں۔ دریا کے دونوں اطراف بڑے بڑے کثیر المنزلہ شاپنگ مال کے علاوہ خوبصورت ریستوران اپنے مہمانوں کو دعوت خورو نوش دینے کیلئے آراستہ نظر آتے ہیں۔ سرائیوو بوسنیا کا صدر مقام ہونے کے علاوہ سب سے بڑا شہر بھی ہے۔ جس کی آبادی تقریباً چار لاکھ ہے۔ پہاڑوں میں گھرا ہونے کی بنا پر گرمیوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 25 اور 27 سنٹی گریڈ تک رہتا ہے۔ موسم سرما میں دو تین فٹ برف باری بھی ہو جاتی ہے۔ سرائیوو شہر کی ٹرام سروس نہایت آرام دہ ہے۔ سرائیوو کے شہر کو بین الاقوامی کھیلوں کی دُنیا میں اس لیے بھی ایک ممتاز مقام حاصل ہے کہ چودھویں سرمائی اولمپک کھیلوں کی میزبانی کا شرف بھی اس شہر کو حاصل ہوا جو7 فروری 1984 ء کو منعقد ہوئے۔

آج تم یاد بے حساب آئے:سیف الدین سیف  شاعر، نغمہ نگار، مصنف،ہدایتکار (1993-1922ء)

آج تم یاد بے حساب آئے:سیف الدین سیف شاعر، نغمہ نگار، مصنف،ہدایتکار (1993-1922ء)

٭...20مارچ1922ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے۔٭...غزل ، رباعی ، طویل ومختصر نظمیں اور گیت سبھی کچھ لکھا ہے۔ غزل سے فطری لگاؤ تھا۔٭...1946ء میں ممبئی کی فلمی دنیا سے وابستہ ہوئے، نغمہ نگاری او رمکالمہ نویسی کو ذریعہ معاش بنایا۔٭...قیام پاکستان کے بعد ہجرت کرکے لاہور کی فلمی دنیا سے وابستہ ہوئے۔ ٭...1954ء میں اپنا ذاتی ادارہ ''راہنما فلمز‘‘ قائم کیا۔٭...بطور فلمساز سات فلمیں بنائیں،'' رات کی بات‘‘ (1954ء) پہلی، جبکہ '' کالو‘‘ (1977ء) آخری فلم تھی۔٭...بطور مصنف (کہانی ، مکالمے اور منظرنامہ) 14 فلمیں ان کے کریڈٹ پر ہیں۔٭...60 سے زائد فلموں میں 200 سے زائد گیت لکھے۔٭...فلم ''وعدہ ‘‘کیلئے لکھے گئے ان کے شاہکار گیت ''تیری رسوائیوں سے ڈرتا ہوں ، جب تیرے شہر سے گزرتا ہوں‘‘نے مقبولیت کے نئے ریکارڈز قائم کیے تھے۔٭... فلم نگری میں رہنے کے باوجود ادب سے اپنا رابطہ بحال رکھا، ان کی شاعری کے مجموعہ کلام میں '' خم کاکل ، کف گل فروش اور دور دراز‘‘ شامل ہیں۔٭... 12 جولائی، 1993ء کو لاہور میں انتقال ہوااور ماڈل ٹاؤن قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے۔مشہور گیت٭...جلتے ہیں ارمان میرا دل روتا ہے ٭...وہ خواب سہانا ٹوٹ گیا امید گئی ارمان گئے ٭...چل ہٹ ری ہوا گھونگھٹ نہ اٹھا ٭...میں تیرا شہر چھوڑ جائوں گا ٭...اظہار بھی مشکل ہے کچھ کہہ بھی نہیں سکتے ٭...جو بچا تھا لٹانے کے لیے آئے ہیں ٭...آئے موسم رنگیلے سہانے تو چھٹی لے کے آجا بالما ٭...میں تیرے اجنبی شہر میں

آج کا دن

آج کا دن

لبنان اسرائیل جنگیہ جنگ دراصل لبنان،شمالی اسرائیل اور گولان کی پہاڑیوں میں 34روزہ فوجی تنازع تھا۔ اسے دوسری لبنان اسرائیل جنگ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ جنگ میں اہم فریق حزب اللہ کے نیم فوجی دستے اور اسرائیلی فوج تھی۔ 12جولائی2006ء کو شروع ہونے والا یہ تنازعہ 14اگست2006ء کو اقوام متحدہ کی ثالثی میں جنگ بندی نافذ ہونے تک جاری رہا۔نائیجیریا ٹنکر دھماکہ12جولائی 2012ء کو نائیجیریا کے علاقے اوکوبی میں ایک خوفناک سانحہ اس وقت پیش آیا جب ایندھن سے بھرا ایک ٹینکر ٹرک دھماکے سے پھٹ گیا۔ اس ہولناک حادثے کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ متعدد افراد شدید زخمی ہوئے۔ دھماکا اس قدر شدید تھا کہ اردگرد کا علاقہ بھی بری طرح متاثر ہوا۔ یہ واقعہ نائیجیریا کی تاریخ کے مہلک ترین ٹینکر دھماکوں میں شمار کیا جاتا ہے۔فرانس فٹ بال کا چیمپئن بنا12جولائی 1998ء کو فرانس نے پیرس میں کھیلے گئے فیفا ورلڈ کپ کے فائنل میں دفاعی چیمپئن برازیل کو 0-3 سے شکست دے کر اپنی تاریخ کا پہلا عالمی کپ اپنے نام کیا۔ میزبان ٹیم کی جانب سے زین الدین زیدان نے دو شاندار گول کیے، جبکہ آخری گول ایمانوئل پیٹی نے کیا۔ اس تاریخی فتح نے فرانس کو پہلی مرتبہ عالمی فٹ بال کا چیمپئن بنا دیا اور یہ کامیابی ملکی کھیلوں کی تاریخ کا ایک یادگار باب بن گئی۔زلزلے کی بروقت پیش گوئی1995ء میں آج کے روز چینی ماہرین زلزلہ نے میانماراورچین کے سرحدی علاقے میں آنے والے طاقتور زلزلے کی بروقت پیش گوئی کر کے ایک اہم سائنسی کامیابی حاصل کی۔ حکام نے پیشگی انتباہ جاری کرتے ہوئے متاثرہ علاقوں سے لوگوں کے انخلا اور حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا، جس کے باعث بڑے پیمانے پر جانی نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔ اس زلزلے میں صرف 11 افراد جان کی بازی ہارے، جبکہ بروقت وارننگ کو اس کامیابی کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا۔نیگرو پوٹنے کا محاصرہیہ دراصل ایک زبردست فوجی لڑائی تھی جو سلطنت عثمانیہ اور وسطی یونان کے وینیشین قصبے میں لڑی گئی۔ عثمانی فوج کی قیادت سلطان محمد ثانی خود کر رہے تھے۔ لڑائی سے قبل ہی عثمانی فوجوں نے نیگروپوٹنے کا محاصرہ کر لیا تھا جو تقریباً ایک ماہ تک جاری رہا۔یہ محاصرہ عثمانی افواج کی فتح پر اختتام پزیر ہوا اور سلطان محمد ثانی ایبویا شہر اور جزیرہ پر قبضہ کرنے میں کامیاب رہے۔یہ لڑائی سلطنت عثمانیہ کی یورپ کی جانب پیش قدمی کا حصہ تھی جسے بعد میں جاری رکھا گیا۔کیریباتی کی آزادیکیریباتی ( Kiribati) بے شمار جزیروں پر مشتمل ایک چھوٹا ملک ہے۔ یہ جزائر 35لاکھ مربع کلومیٹر کے علاقے پر وسطی بحر اوقیانوس میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اس ملک کا کل زمینی رقبہ 726 مربع کلومیٹر ہے اور آبادی کا تخمینہ 2005ء میں ایک لاکھ5ہزار 432 لگایا گیا تھا۔ کیریباتی کا دار الحکومت تاراوا ہے۔ان جزائر میں سے بیشتر خط استوار کے سمندری موسمی زون کی خشک پٹی میں ہیں ۔ یہاں بارشیں کم اور زیادہ تر موسم خشک رہتا ہے۔

چینی سائنس دانوں کی انقلابی کامیابی!

چینی سائنس دانوں کی انقلابی کامیابی!

دماغی ماڈلنگ کیلئے دنیا کی پہلی نیورل ڈائنامیکل سسٹم چپ تیارکرلیانسانی دماغ کو کائنات کا پیچیدہ ترین نظام قرار دیا جاتا ہے، جس کے اسرار جاننے کیلئے سائنس دان دہائیوں سے کوشاں ہیں۔ مصنوعی ذہانت، سپر کمپیوٹنگ اور جدید سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی نے اس تحقیق کو نئی جہت عطا کی ہے، مگر دماغی سرگرمیوں کی برق رفتار نقل (Brain Modeling) ہمیشہ ایک بڑا تکنیکی چیلنج رہی ہے۔ اب چین کے سائنسدانوں نے ایک نئی چپ تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو دماغی ماڈلنگ میں ہونے والی تاخیر کو سیکنڈز سے کم کرکے محض ملی سیکنڈز تک لے آئی ہے۔ اگر یہ پیشرفت عملی میدان میں اپنی افادیت ثابت کر دیتی ہے تو نہ صرف دماغی بیماریوں کی تشخیص اور علاج میں انقلابی تبدیلیاں آسکتی ہیں بلکہ مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، برین کمپیوٹر انٹرفیس اور اعصابی تحقیق کے شعبوں میں بھی ترقی کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔ یہ کامیابی اس بات کا بھی مظہر ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کی عالمی دوڑ میں سیمی کنڈکٹرز اور مصنوعی ذہانت اب مستقبل کی معیشت اور سائنسی برتری کا بنیادی محور بنتے جا رہے ہیں۔چینی سائنسدانوں نے ''فیز چینج میمریسٹرز‘‘ (phase-change memristors) پر مبنی دنیا کی پہلی نیورل ڈائنامیکل سسٹم چپ تیار کر لی ہے، جس نے دماغی ماڈلنگ کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ اس جدید چپ نے ایک مرحلے (Single Step) کی کمپیوٹیشنل تاخیر کو محض 2.12 ملی سیکنڈ تک محدود کر دیا ہے، جبکہ دماغ کے بیرونی حصے (Brain Cortex) کی تھری ڈی ساخت کی تشکیل نو کے دوران موجودہ جدید ترین گرافکس پروسیسنگ یونٹس (GPUs) کے مقابلے میں 50 سے 478 گنا تک زیادہ تیز رفتار ثابت ہوئی ہے۔یہ اہم تحقیق گزشتہ ہفتے عالمی شہرت یافتہ سائنسی جریدے ''سائنس‘‘ میں شائع ہوئی۔ اس منصوبے کی قیادت پیکنگ یونیورسٹی کے اسکول آف انٹیگریٹڈ سرکٹس کے پروفیسر یانگ یوچاؤ (Yang Yuchao) نے کی۔ انہوں نے چینی اخبار گوانگ منگ ڈیلی (Guangming Daily) کو بتایا کہ اگر مشینوں کو حقیقی وقت (Real Time) میں طبعی دنیا کو سمجھنے اور اس کا درست ماڈل تیار کرنے کے قابل بنانا ہے تو اس کیلئے نیورل ڈائنامیکل سسٹم ناگزیر ہے۔ یہ نظام مصنوعی اعصابی نیٹ ورکس (Neural Networks) اور تفاضلی مساوات (Differential Equations) کو یکجا کرتا ہے۔پروفیسر یانگ کے مطابق ایسا نظام نامکمل، شور زدہ اور غیر مکمل معلومات سے بھی دماغ کی نہایت ہموار، درست اور سہ جہتی ساخت دوبارہ تشکیل دے سکتا ہے۔ جس کے باعث طب، مصنوعی ذہانت اور اعصابی سائنس سمیت متعدد شعبوں میں اس کے بے شمار عملی استعمال ممکن ہیں۔ تاہم روایتی کمپیوٹنگ نظام ایک بنیادی رکاوٹ کا شکار ہیں، جسے میموری اور کمپیوٹیشن کی علیحدگی کہا جاتا ہے۔ موجودہ کمپیوٹر آرکیٹیکچر میں حساب کتاب کے دوران بے شمار درمیانی متغیرات مسلسل میموری اور پروسیسر کے درمیان منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ یہ عمل بالکل ایسے ہے جیسے کسی بڑی فیکٹری میں زیادہ وقت مصنوعات بنانے کے بجائے انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے پر صرف ہو رہا ہو۔ نتیجتاً کمپیوٹنگ میں تاخیر بڑھ جاتی ہے، توانائی کا بے جا استعمال ہوتا ہے اور مجموعی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔اسی مسئلے کے حل کیلئے چینی محققین نے فیز چینج میموری کی ایک منفرد طبعی خصوصیت، یعنی کنڈکٹنس ڈرفٹ (Conductance Drift) سے فائدہ اٹھایا۔ اس خاصیت کی اہم بات یہ ہے کہ ایک مخصوص مدت کے دوران اس کی تبدیلی نہ صرف قابل پیشگوئی ہوتی ہے بلکہ اسے انتہائی درست انداز میں قابو بھی کیا جا سکتا ہے۔اسی بنیاد پر تحقیقاتی ٹیم نے ''کنٹرول ایبل اِن میموری کمپیوٹنگ‘‘ (Controllable In Memory Computing) کے نام سے ایک نیا کمپیوٹنگ تصور پیش کیا۔ سادہ الفاظ میں، وہ تمام پیچیدہ حسابی مراحل جن کیلئے پہلی بار بار ڈیجیٹل کمپیوٹیشن، کیش میموری تک رسائی اور ڈیٹا کی مسلسل منتقلی درکار ہوتی تھی، اب خود میموری ڈیوائس کی طبعی تبدیلیوں کے ذریعے انجام دیے جاتے ہیں۔ اس سے نہ صرف رفتار میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے بلکہ توانائی کی بچت بھی ممکن ہوتی ہے۔تحقیقاتی ٹیم نے مصنوعی اعصابی نیٹ ورک کے ویٹس (Weights) کو فیز چینج میموری کی مختلف ملٹی لیول کنڈکٹنس اسٹیٹس پر منتقل کیا، جس کے نتیجے میں میٹرکس ملٹی پلائی (Matrix Multiplication) اور اکیومولیشن (Accumulation) جیسے بنیادی کمپیوٹیشنل عمل ایک ہی میموری ایرے (Memory Array) کے اندر انجام پانے لگے۔یوں کمپیوٹنگ کے یہ دونوں بنیادی مراحل صرف 0.28 مربع ملی میٹر رقبے پر مشتمل ایک انتہائی چھوٹے میموری کمپیوٹنگ ارے میں یکجا کر دیے گئے۔ اس جدید چپ کو 40 نینو میٹر مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے تیار کیا گیا، جو سیمی کنڈکٹر صنعت میں ایک مستند اور مؤثر پیداواری معیار سمجھا جاتا ہے۔اس چپ کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ صرف 2.12 ملی سیکنڈ میں ایک مکمل کمپیوٹیشنل دور (Single Iteration) مکمل کر لیتی ہے، جس کے ساتھ پہلی مرتبہ نیورل ڈائنامیکل ہارڈ ویئر حقیقی معنوں میں ملی سیکنڈ دور میں داخل ہو گیا ہے۔ پروفیسر یانگ کے مطابق رفتار کے اعتبار سے یہ نئی چپ موجودہ جدید ترین مخصوص کمپیوٹنگ ایکسیلیریٹرز کے مقابلے میں 3.82 سے 36.27 گنا زیادہ تیز ہے، جبکہ اس کی توانائی کی کھپت بھی نمایاں طور پر کم ہے۔دماغ کے بیرونی حصے یعنی برین کورٹیکس کی سطح کی تشکیل نو کے دوران اس چپ نے غیر ملکی جدید ترین ''گرافکس پروسیسنگ یونٹس‘‘ کے مقابلے میں 478.18 گنا زیادہ رفتار کا مظاہرہ کیا۔ اس کے ذریعے تیار کردہ دماغی ماڈلز نہایت ہموار، ساختی اعتبار سے درست (Topologically Consistent) اور دماغ کی پیچیدہ تہہ دار ساخت کی درست عکاسی کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ یہ چپ روایتی طریقوں میں پیدا ہونے والی غیر ضروری ساختی خرابیاں (Artifacts) اور خود ساختہ باہمی تقاطع کو بھی مؤثر انداز میں ختم کر دیتی ہے۔پروفیسر یانگ نے کہا کہ یہ پیشرفت برین کمپیوٹر انٹرفیس اعصابی بیماریوں کی تشخیص اور جدید طبی تحقیق کیلئے نئی راہیں کھول سکتی ہے۔ مستقبل میں ہر فرد کے دماغ کا انفرادی اور ڈائنامک ڈیجیٹل ٹوئن تیار کرنا بھی ممکن ہو سکتا ہے، جو حقیقی وقت میں دماغی سرگرمیوں کی عکاسی کرے گا۔ ایسی ٹیکنالوجی دماغی آپریشنز کے دوران ریئل ٹائم نیورل نیوی گیشن، الزائمر جیسی بیماریوں کی ابتدائی تشخیص، ذاتی نوعیت کے علاج اور اعصابی امراض کے بروقت تدارک کیلئے ایک مضبوط تکنیکی بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق اگر اس تحقیق کو کامیابی کے ساتھ عملی سطح پر منتقل کر دیا گیا تو یہ صرف مصنوعی ذہانت ہی نہیں بلکہ نیورو سائنس، روبوٹکس، طبی تشخیص، ذہین کمپیوٹنگ اور مستقبل کے خودکار نظاموں میں بھی ایک نئے انقلاب کی بنیاد ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کامیابی سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی، میموری کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں چین تیزی سے عالمی قیادت کی جانب بڑھ رہا ہے اور آنے والے برسوں میں یہ شعبہ سائنسی، صنعتی اور طبی دنیا کی سمت متعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔

ورلڈ کپ یا ورلڈ پَپ؟

ورلڈ کپ یا ورلڈ پَپ؟

بونی اور سمبا نے فٹ بال مہارتوں سے دنیا کو حیران کر دیااگر اس ورلڈ کپ میں یہ باصلاحیت فٹ بال کھیلنے والے کتے میدان میں ہوتے تو شاید کرسٹیانو رونالڈو اور لیونل میسی کو بھی سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑتا۔ اسے ورلڈ کپ کہیں یا ''ورلڈ پَپ‘‘، بات ایک ہی ہے!برطانیہ کے شہر ریڈنگ میں اپنی مالک اولگا جونز کے ساتھ رہنے والے پانچ سالہ بارڈر کولی سمبا اور اس کی سات سالہ بہن شو ٹائپ انگلش اسپرنگر اسپینیئل بونی نے ورلڈ کپ کا جشن منفرد انداز میں مناتے ہوئے اپنے اعزازات کی طویل فہرست میں فٹ بال کے نئے عالمی ریکارڈ بھی شامل کر لیے ہیں۔ مسلسل عالمی ریکارڈ قائم کرنے والے سمبا نے ایک منٹ میں سب سے زیادہ فٹ بال گول کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ اس نے صرف ایک منٹ میں 12 گول کر کے نیا عالمی ریکارڈ بنایا۔ دوسری جانب بونی نے صرف 30 سیکنڈ میں 5 گول کر کے اس عرصے میں کسی بھی کتے کی جانب سے سب سے زیادہ فٹ بال گول کرنے کا عالمی ریکارڈ اپنے نام کیا۔اس سے قبل سمبا ایک منٹ میں 5 گول کر کے بھی ریکارڈ قائم کر چکا تھا، مگر اس نے اپنی ہی کارکردگی کو نمایاں طور پر بہتر بناتے ہوئے نیا سنگ میل عبور کر لیا۔بلاشبہ یہ ننھے فٹ بالر اپنی مہارت اور پھرتی سے ہر دیکھنے والے کا دل موہ لیتے ہیں۔ اولگا جونز، جن کا تعلق طب کے شعبے سے رہا ہے لیکن اب وہ اپنے ریکارڈ ساز کتوں کی تربیت پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، نے بتایا کہ ان کے تازہ ترین عالمی ریکارڈ کی کوششوں کا خیال یقیناً فیفا ورلڈ کپ سے ہی متاثر ہو کر آیا۔انہوں نے کہا کہ فٹ بال ان کھیلوں میں سے ایک ہے جو دنیا بھر کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لے آتا ہے۔ جب گنیز ورلڈ ریکارڈز نے فٹ بال سے متعلق ایک نیا ریکارڈ متعارف کرایا تو ہمیں محسوس ہوا کہ یہ سمبا اور بونی کیلئے بہترین موقع ہے۔ دونوں کو پہلے ہی گیند سے کھیلنا، نشانے لگانا اور مختلف مسائل حل کرنے والے کھیل بے حد پسند ہیں، اس لیے ہم نے سوچا کہ کیوں نہ انہیں پینلٹی شوٹ آؤٹ کا اپنا منفرد، کتوں والا انداز آزمانے کا موقع دیا جائے۔اولگا جونز نے مزید بتایا کہ سمبا کو فٹ بال کے گول کرتے دیکھ کر بونی خود کو زیادہ دیر تک روک نہ سکی۔ وہ کچھ دیر خاموشی سے بیٹھ کر دیکھتی رہی، پھر جیسے اس نے خود سے کہا، ''اچھا، اب میری باری ہے‘‘۔ موقع ملتے ہی وہ بے حد جوش و خروش کے ساتھ میدان میں دوڑ پڑی، اپنے گول کیے اور ہمیشہ کی طرح اپنی مخصوص توانائی، دلکشی اور خوشگوار شرارت سے اس لمحے کو مزید یادگار بنا دیا۔ اولگا نے مسکراتے ہوئے مزید کہا کہ بالکل! ہم دل و جان سے انگلینڈ کی حمایت کر رہے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ٹیم بہترین ٹورنامنٹ کھیلے گی۔ سمبا اور بونی نے اگرچہ فٹ بال میں عالمی ریکارڈ قائم کیے ہیں، لیکن انگلینڈ کے گول کیپروں کے برعکس انہیں کسی شاٹ کو روکنے کی ذمہ داری نہیں نبھانا پڑی۔49 سالہ اولگا جونز بونی اور سمبا کی تربیت اُس وقت سے کر رہی ہیں جب وہ بالکل چھوٹے تھے۔ ابتدا میں انہوں نے انہیں تفریحی کرتب اور کھیل سکھائے، پھر بتدریج ان کی تربیت کو مزید اعلیٰ سطح تک لے گئیں۔ آج یہ دونوں کتے مختلف ڈاگ اسپورٹس، فلموں اور ٹیلی وژن پروگراموں میں شرکت، ڈاگ ڈانسنگ اور متعدد گنیز ورلڈ ریکارڈز اپنے نام کرنے جیسے غیرمعمولی کارنامے انجام دے چکے ہیں۔اولگا کے مطابق بونی اور سمبا ان کی جانب سے پیش کیے جانے والے ہر نئے چیلنج کو نہایت شوق سے قبول کرتے ہیں اور نئی چیزیں سیکھنے میں بھرپور دلچسپی لیتے ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ کتوں کی نظر میں یہ سب محض ایک دلچسپ کھیل ہوتا ہے، جو وہ کبھی اپنی مالک اور کبھی ایک دوسرے کے ساتھ کھیلتے ہیں۔ جب وہ کوئی کام کامیابی سے انجام دیتے ہیں تو انہیں انعام کے طور پر مزیدار خوراک دی جاتی ہے، جس سے ان کا جوش اور سیکھنے کا جذبہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ اولگا کے بقول، جب کھیل بھی ہو، تعریف بھی ملے اور پسندیدہ انعام بھی، تو پھر اسے پسند نہ کرنے کی آخر کوئی وجہ ہی کیا ہو سکتی ہے؟بونی اور سمبا سیکڑوں کرتب، احکامات اور زبانی اشاروں کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ متعدد باوقار مقابلوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر چکے ہیں، جبکہ ٹیلی وژن پروگراموں، اشتہارات اور اسٹیج شوز میں بھی مرکزی کردار ادا کر کے خوب شہرت حاصل کر چکے ہیں۔سمبا کو مصوری کا بھی بے حد شوق ہے۔ اس نے اپنی بنائی ہوئی تصاویر فروخت کر کے فلاحی اداروں کیلئے فنڈز جمع کیے ہیں۔ دوسری جانب بونی نے برطانیز گاٹ ٹیلنٹ میں اپنی شاندار کارکردگی پر جج سمیت پورے حاضرین سے کھڑے ہو کر داد وصول کی تھی۔جب اولگا سے پوچھا گیا کہ انہیں اپنے کتوں کی کون سی بات سب سے زیادہ حیران کرتی ہے تو انہوں نے کہاکہ شاید ان کی مکمل طور پر نئے تصورات کو سیکھنے کی صلاحیت۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ کتے صرف حرکات یاد کرتے ہیں، لیکن سمبا اور بونی کسی بھی کام کے اصل مقصد کو غیرمعمولی انداز میں سمجھ لیتے ہیں اور پھر اسے انجام دینے کیلئے اپنا منفرد طریقہ خود تلاش کر لیتے ہیں۔