شباب کیرانوی پاکستانی فلمی صنعت کا ایک بڑا نام!

شباب کیرانوی  پاکستانی فلمی صنعت کا ایک بڑا نام!

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالحفیظ ظفر


پاکستانی فلمی صنعت کی جن لوگوں نے آبیاری کی اور اس کی نشو و نما کے لیے گرانقدر خدمات سرانجام دیں ان میں بہت سے نام شامل ہیں۔ اگر فلمساز اور ہدایت کاروں کی بات کی جائے تو انور کمال پاشا‘ مسعود پرویز، ریا ض شاہد، منشی دل، ایم جے رانا اور حسن طارق کے نام لیے جا سکتے ہیں۔ ایک نام اور بھی ہے، جن کے بغیر پاکستانی فلمی صنعت کی تاریخ نامکمل رہے گی اور وہ نام ہے، شباب کیرانوی!1925ء میں اتر پردیش (بھارت) کے ضلع مظفر نگر کے علاقے کیرانہ میں پیدا ہونے والے شباب کیرانوی کا اصل نام حافظ نذیر احمد تھا۔ وہ بنیادی طور پر صحافی تھے جنہوں نے صحافت کا آغاز فلمی جریدے ’’ڈائریکٹر‘‘ سے کیا۔ فلمساز کی حیثیت سے ان کی پہلی فلم ’’جلن‘‘ تھی جبکہ ’’ثریا‘‘ وہ فلم تھی جس کی سب سے پہلے انہوں نے ہدایات دیں۔ پھر ان کی فلم ’’مہتاب‘‘ ریلیز ہوئی جو سپر ہٹ ثابت ہوئی۔ اس فلم نے شباب صاحب پر دولت کی بارش کر دی اور انہوں نے اپنا فلم سٹوڈیو بنا لیا۔ انہوں نے اپنے دیرینہ دوست اے احمد (سنگیت کار اے حمید نہیں) کے ساتھ اپنے پروڈکشن ہائوس کی بنیاد رکھی۔ اپنے پروڈکشن ہائوس کے بینر تلے انہوں نے جو پہلی فلم بنائی اس کا نام تھا ’’انسانیت‘‘، یہ فلم بے حد کامیاب رہی ۔ اس میں طارق عزیز اور علی اعجاز نے اپنے فلم کیرئر کا آغاز کیا۔ اس کے بعد انہوں نے ’’سنگدل‘‘ انسان اور آدمی، انصاف اور قانون، دامن اور چنگاری ،میرا نام ہے محبت، سہیلی ، نوکر ، شمع ،آئینہ اور صورت اور شمع محبت جیسی کامیاب فلمیں دیں۔ شباب صاحب کو سماجی موضوعات پر فلمیں بنانے میں ملکہ حاصل تھا ۔ دوسری اہم بات یہ تھی کہ ان کی فلموں کی موسیقی بہت معیاری ہوتی تھی۔ انہوں نے ایک مصلح (Reformer) کا کردار ادا کیا کیونکہ ان کی فلموں میں سماجی برائیوں کے خاتمے کی بات کی جاتی تھی۔ اسی طرح اگر غور سے دیکھا جائے تو ایک اور حقیقت سامنے آتی ہے ۔شباب صاحب طبقاتی تفاوت کے سخت خلاف تھے ۔وہ اعلیٰ انسانی اقدار پر یقین رکھتے تھے ان کی اکثر فلموں میں امیر اور غریب کا ٹکرائو دکھائی دیتا تھا اور وہ دولت مندوں کو یہ پیغام دیتے تھے کہ غریبوں اور ناداروں کو بھی انسان سمجھیں اور انہیں حقارت سے نہ دیکھیں۔ فلم کے اختتام پر وہ امیر اور غریب کو یکجا کر دیتے تھے اور یوں فلم بینوں سے داد و تحسین حاصل کرتے تھے۔ اس کے علاوہ وہ اپنی فلموں میں مشرقی عورت کی خوبیاں اجاگر کرتے تھے۔انہوں نے اپنی فلموں میں مغربی تہذیب کی دلدادہ عورتوں کو ہمیشہ تنقید کا نشانہ بنایا اور پاکستانی خواتین کو پیغام دیا کہ وہ مشرقی روایات سے روگردانی نہ کریں۔ شباب صاحب کی فلموں میں مزاحیہ اداکاری بھی کمال کی ہوتی تھی۔ ننھا ،علی اعجاز، رنگیلا اور منور ظریف کی صلاحیتوں کو انہوں نے خوب نکھارا۔شباب صاحب کی فلموں کی زیادہ تر موسیقی ایم اشرف نے مرتب کی اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ایم اشرف نے شباب صاحب کی فلموں کے جن گیتوں کی موسیقی دی ان میں 80فیصد سے زیادہ گیت سپرہٹ ثابت ہوئے۔ شباب صاحب کے بارے میں یہ کہنا بھی درست ہے کہ انہوں نے اداکار محمد علی کے فن کو انتہائی خوبصورتی سے استعمال کیا۔ یہ شباب صاحب کا ہی کمال تھا کہ اداکار محمد علی نے ان کی فلموں ’’انسان اورآدمی‘‘ اور’’ انصاف اور قانون‘‘ میں اپنی زندگی کے یادگار کردار ادا کیے۔ انہوں نے میڈم نورجہاں ،احمد رشدی، آئرن پروین اورمسعود رانا سے بڑے شاندار گیت گوائے۔ 70ء کی دہائی میں شباب صاحب نے ناہید اختر کی دلکش آوازکو اپنی فلموں کے نغمات کے لیے استعمال کیا۔ فلم ’’نوکر اور شمع‘‘ میں ناہید اختر نے ایم اشرف کی موسیقی میں بڑے دلکش گیت گائے جنہیں آج بھی پسند کیا جاتا ہے۔شباب صاحب پر یہ الزام عائد کیا جاتا تھا کہ ان کی اکثر فلمیں بھارتی فلموں کا چربہ ہوتی ہیں ۔ کچھ فلموں کی حد تک تو یہ بات تسلیم کی جا سکتی ہے لیکن ان کی ساری فلمیں چربہ نہیں تھیں۔ البتہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ان کی بہت سی فلمیں باکس آفس پر بے حد کامیاب ثابت ہوئیں۔ سب سے پہلے ان پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ ان کی فلم’’ انسانیت‘‘ بھارتی فلم ’’دل ایک مندر‘‘ کا چربہ ہے ۔اسی طرح چند اور فلموں کے بارے میں بھی یہی کچھ کہا گیا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ شباب صاحب نے اسلم پرویزکو بھی ولن کی حیثیت جو کردار دیئے۔ انہوں نے اسلم پرویز کے فن کو ایک نئی سمت سے روشناس کرایا۔ خاص طورپر انسان اورآدمی ، انصاف اورقانون اور دامن اور چنگاڑی میں اسلم پرویز فن کی بلندیوں پر نظر آتے ہیں۔شباب کیرانوی کے کریڈٹ میں یہ بات بھی جاتی ہے کہ انہوں نے پاکستانی فلموں کو کئی ایک نئے چہرے دیے ۔ انہوں نے جن فنکاروں کو متعارف کرایا ان میں عنایت حسین بھٹی ،کمال، احمد رشدی، نغمہ، شیریں، ننھا، علی اعجاز ، ندیم(مغربی پاکستان میں پہلی فلم سنگدل) ظفر شباب، صاعقہ، زرقا، مسعود اختر، نذر شباب، آسیہ ، غلام محی الدین اور انجمن شامل ہیں۔شباب صاحب کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ رحم دل اور غریب پرور تھے انہوں نے کبھی فلم کے تکنیک کاروں اور دیگر کارکنوں سے ناانصافی نہیں کی اور ہمیشہ وقت پر انہیں معاوضے کی ادائیگی کرتے رہے۔ اس لحاظ سے ان کی شہرت بہت اچھی تھی۔شباب صاحب سکرین رائٹر اور فلمی گیت نگار بھی تھے۔ ان کے دو شعری مجموعے’’موج شباب‘‘ اور’’ بازارصدا‘‘ ان کی زندگی میں ہی شائع ہو گئے تھے۔شاعری میں وہ احسان دانش کے شاگرد تھے۔ شباب کیرانوی ناول نگار بھی تھے ۔انہوں نے ایک درجن کے قریب ناول لکھے جن میں’’ پھول کے سائے ،ایک عورت ہزار مرحلے ، درد دل اور خلش‘‘ خاص طورپرقابل ذکر ہیں۔ ان کے چند مشہور گیتوں کا تذکرہ ذیل میں کیا جا رہا ہے:1۔ توجہاں کہیں بھی جائے میرا پیار یاد رکھنا(انسان اور آدمی)2۔ کیا ملا ظالم تجھے کیوں دل کے ٹکڑے کر دئیے (میں بھی انسان ہوں)3۔ یہ وعدہ کیا تھا محبت کریں گے(دامن اور چنگاری)4۔ آنکھیں غزل ہیں آپ کی(سہیلی)5۔ اللہ تیری شان یہ اپنوں کی ادا ہے(سہیلی)شباب صاحب ؟کے بیٹوں نذر شباب اورظفر شباب نے بھی ہدایت کاری کے میدان میں قدم رکھا اورکئی ایک کامیاب فلمیں تخلیق کیں شباب صاحب نے کئی دوسرے گیت نگاروں کو بھی اپنی فلموں میں گیت لکھنے کا موقع دیا جیسے بطور فلم ساز ان کی پنجابی فلم ’’تیس مار خان‘‘ کے گیت بابا عالم سیاہ پوش نے لکھے۔ اسی طرح مشیر کاظمی ‘ سعید گیلانی ، تسلیم فاضلی اور خواجہ پرویز نے بھی ان کی فلموں کے گیت لکھے ۔شباب کیرانوی نے 75سے زائد فلمیں بنائیں اور 50فلموں کی ہدایت کاری کی انہوں نے کئی بار نگار ایوارڈ ،گریجویٹ ایوارڈ اور مصور ایوارڈ سے نوازا گیا۔ صاحب ثروت ہونے کے باوجود انہوں نے کبھی تکبر کا مظاہرہ نہیں کیا۔5نومبر1982کو شباب کیرانوی عالم جاوداں کو سدھار گئے ۔پاکستانی فلمی صنعت کے لیے انہوں نے جو خدمات سرانجام دیں انہیں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
اب کپڑے بھی روبوٹ پہنائے گا

اب کپڑے بھی روبوٹ پہنائے گا

مصنوعی ذہانت کا حیران کن کارنامہمصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کی دنیا روز بروز ایسے حیرت انگیز کارنامے انجام دے رہی ہے جو چند برس پہلے تک صرف سائنسی فلموں اور تصوراتی کہانیوں کا حصہ سمجھے جاتے تھے۔ اب ایک ایسا جدید روبوٹ متعارف کرایا گیا ہے جو محض 10 سیکنڈ میں انسان کو کپڑے پہنا سکتا ہے۔ یہ منفرد ایجاد نہ صرف ٹیکنالوجی کی برق رفتار ترقی کا مظہر ہے بلکہ معمر افراد، جسمانی معذوری کا شکار مریضوں اور روزمرہ زندگی میں دوسروں کی مدد کے محتاج افراد کیلئے بھی ایک بڑی سہولت ثابت ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی وسیع پیمانے پر کامیاب ہو جاتی ہے تو مستقبل میں گھریلو روبوٹس انسانی زندگی کا معمول بن سکتے ہیں، جو صرف گھریلو کام ہی نہیں بلکہ ذاتی نگہداشت کی ذمہ داریاں بھی انجام دیں گے۔ یہ تصور سب سے پہلے اینیمیشن فلم ''والیس اینڈ گرومٹ‘‘ (Wallace & Gromit) میں دکھایا گیا تھا، جہاں ایک شخص بغیر ہاتھ لگائے کپڑے تبدیل کر لیتا ہے۔ اب سائنسدانوں نے ایسا خودکار روبوٹک لباس تیار کر لیا ہے جو محض 10 سیکنڈ میں خود ہی جسم پر چڑھ جاتا ہے۔ اس جدید ٹیکنالوجی پر مبنی لباس کے اندر پھولنے والی باریک ''بیل نما نالیاں‘‘ (Vines Inflatable) نصب کی گئی ہیں، جو آہستہ آہستہ پھیلتے ہوئے لباس کو پہننے والے کے جسم پر چڑھا دیتی ہیں۔ روبوٹک ڈریسنگ سسٹمز کے برعکس یہ نیا نظام اس وقت بھی کام کرتا ہے جب لباس پہننے والا شخص حرکت کر رہا ہو، یعنی اسے کپڑے پہننے کیلئے ساکن کھڑے رہنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔محققین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی بزرگ افراد، جسمانی معذوری کا شکار لوگوں اور ایسے مریضوں کیلئے انتہائی مددگار ثابت ہو سکتی ہے، جس سے وہ دوسروں کی مدد کے بغیر خود لباس پہن سکیں گے۔ اس کے علاوہ ہنگامی حالات میں فائر فائٹرز، ریسکیو اہلکاروں اور طبی عملے کو بھی چند سیکنڈ میں حفاظتی لباس پہننے میں یہ ٹیکنالوجی مدد فراہم کر سکتی ہے، جس سے قیمتی وقت کی بچت ممکن ہوگی۔تحقیقی ٹیم نے اپنے مقالے میں، جو سائنسی جریدے میں شائع ہوا، لکھا ہے کہ ہم نے ایک نیا نرم روبوٹک لباس پہنانے والا نظام پیش کیا ہے، جسے ''سیلف ویئرنگ ایڈاپٹو گارمنٹ‘‘ (SWAG) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ نظام کھلنے اور بتدریج پھیلنے کے منفرد طریقۂ کار کے ذریعے خودکار انداز میں لباس پہننے کے عمل کو ممکن بناتا ہے۔ محققین کے مطابق روایتی روبوٹک ڈریسنگ سسٹمز کے برعکس ''SWAG‘‘ انسانی جسم کی ساخت کے مطابق خود کو ڈھال لیتا ہے۔ اس کا منفرد انفولڈنگ بیسڈ ڈیپلائمنٹ طریقہ لباس اور جلد کے درمیان رگڑ کو تقریباً ختم کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں لباس پہننے کا عمل محفوظ، آرام دہ اور مؤثر بن جاتا ہے۔اس منفرد روبوٹک لباس کو تیار کرنے والی تحقیقی ٹیم، جس میں اسٹینفورڈ یونیورسٹی اور کوریا ایڈوانسڈ انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے سائنس دان شامل ہیں کا کہنا ہے کہ انہیں اس ایجاد کا خیال اس بیل سے ملا جو دیواروں پر آہستہ آہستہ چڑھتی جاتی ہے۔ جب لباس کے اندر موجود نرم اور لچکدار ''بیل نما نالیاں‘‘ ہوا کے دباؤ سے پھولتی ہیں تو وہ لباس کو پہننے والے کے جسم کے ساتھ ساتھ اوپر کی طرف سرکاتی ہیں، بالکل اسی طرح جیسے کوئی بیل کسی دیوار یا سہارے پر چڑھتی ہے۔تحقیق کے مرکزی مصنف کم نامگیون نے بتایا کہ انہیں اس ایجاد کا خیال ایک بار بارش کے دوران آیا۔ میں سائیکل چلا رہا تھا کہ اچانک بارش شروع ہو گئی۔ اسی لمحے میرے ذہن میں خیال آیا کہ اگر برساتی کوٹ سائیکل چلاتے ہوئے خود بخود پہنایا جا سکے تو یہ کتنا مفید ہوگا۔انہوں نے مزید بتایا کہ بیل نما روبوٹ انسان کے جسم کے قریب رہتے ہوئے لباس کو حرکت کے دوران اندر سے باہر کی جانب پلٹتے ہوئے پہناتا ہے، جس سے وہ جسم کی ساخت کے مطابق مستحکم انداز میں اوپر کی طرف بڑھتا جاتا ہے۔ محققین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی سب سے اہم خوبی یہ ہے کہ لباس پہننے والے شخص کو بالکل ساکن کھڑے رہنے کی ضرورت نہیں پڑتی، جبکہ یہ نظام کسی پیچیدہ کنٹرول الگورتھم کے بغیر بھی مؤثر طریقے سے کام کرتا ہے۔ یہ روبوٹ اپنے اگلے حصے کو مسلسل آگے بڑھاتے ہوئے کام کرتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے پارٹی میں استعمال ہونے والی کاغذی سیٹی میں پھونک مارنے پر وہ کھل کر آگے بڑھ جاتی ہے۔ ہوا بھرنے کے ساتھ یہ بیل نما نالیاں جسم کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتی ہیں اور اسی دوران لباس کو اندر سے باہر کی طرف پلٹتے ہوئے پہننے والے کے جسم پر چڑھا دیتی ہیں۔ محققین کے مطابق یہ نظام پورے جسم کا لباس تقریباً 10 سیکنڈ میں پہنا سکتا ہے۔ماحولیاتی انجینئرنگ کے پروفیسر ریو جی ہوان کے مطابق یہ روبوٹک نظام تنگ جگہوں سے آسانی سے گزر سکتا ہے، اپنے اردگرد کے ماحول اور جسم کی ساخت کے مطابق خود کو ڈھالتے ہوئے آگے بڑھتا ہے، اور سطح چاہے پھسلن والی ہو، چپکنے والی ہو یا ڈھلوان پر مشتمل ہو، ہر حالت میں مؤثر انداز سے حرکت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تحقیقی ٹیم کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے استعمال کے امکانات صرف بزرگ اور جسمانی معذوری کا شکار افراد تک محدود نہیں، مستقبل میں اسے ایسے تمام مواقع پر استعمال کیا جا سکتا ہے جہاں کسی شخص کو اپنے ہاتھ استعمال کیے بغیر نہایت تیزی سے لباس پہن کر فوری طور پر کام پر روانہ ہونا ہو۔ اسی طرح آگ بجھانے والا عملہ، ریسکیو اہلکاروں، طبی امدادی کارکنوں اور دیگر ہنگامی خدمات انجام دینے والے افراد بھی اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، کیونکہ یہ انہیں چند سیکنڈ میں ذاتی حفاظتی لباس پہننے کے قابل بنا سکتی ہے، جس سے ہنگامی صورتحال میں قیمتی وقت کی بچت ممکن ہوگی۔اس پیش رفت نے ایک بار پھر یہ سوال بھی اٹھا دیا ہے کہ آیا مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس انسانی زندگی کو مزید آسان بنائیں گے یا مستقبل میں انسانوں کی بہت سی روایتی ذمہ داریوں کی جگہ لے لیں گے۔

  پاکستان میں تھیلیسیمیا کے خلاف فیصلہ کن جنگ

پاکستان میں تھیلیسیمیا کے خلاف فیصلہ کن جنگ

کسی بھی معاشرے کی اصل طاقت اس کے بچے ہوتے ہیں۔ یہی بچے مستقبل کے معمار، سائنس دان، اساتذہ اور رہنما بنتے ہیں۔ مگر ذرا ایک لمحے کیلئے اُس بچے کا تصور کیجیے جس کی زندگی کتابوں، کھیل کے میدانوں اور خوابوں کے بجائے اسپتال کے بستروں، خون کی بوتلوں اور سوئیوں کے گرد گھومتی ہو۔ جو ہر پندرہ سے بیس دن بعد صرف زندہ رہنے کیلئے خون لگوانے پر مجبور ہو۔ پاکستان میں ہزاروں بچوں کی زندگی اسی کربناک حقیقت کی عکاس ہے اور یہی حقیقت تھیلیسیمیا کو ہمارے ملک کے سب سے بڑے مگر سب سے زیادہ نظرانداز کیے جانے والے عوامی صحت کے مسائل میں شامل کرتی ہے۔تھیلیسیمیا کوئی لاعلاج یا ناقابلِ روک تھام بیماری نہیں۔ جدید طبی سائنس نے برسوں پہلے ایسے مؤثر طریقے فراہم کر دیے ہیں جن کے ذریعے اس بیماری کے نئے کیسز کو روکا جا سکتا ہے۔ مسئلہ بیماری نہیں بلکہ ہماری غفلت، کمزور پالیسی سازی اور صحت کے نظام کی ناکامی ہے۔پاکستان میں ساٹھ ہزار سے زائد رجسٹرڈ مریض تھیلیسیمیا میجر کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں جبکہ ہر سال تقریباً چھ ہزار نئے بچے اس بیماری کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ اس مسئلے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں لاکھوں نہیں بلکہ ایک کروڑ سے زائد افراد تھیلیسیمیا جین کے کیریئر ہیں۔ یہ لوگ مکمل طور پر صحت مند دکھائی دیتے ہیں اور انہیں اپنی کیفیت کا علم بھی نہیں ہوتا۔ یہی خاموشی اس بیماری کو مزید خطرناک بنا دیتی ہے۔جب دو ایسے افراد، جو بظاہر صحت مند ہوں مگر دونوں تھیلیسیمیا جین کے حامل ہوں، آپس میں شادی کرتے ہیں تو ہر حمل میں پچیس فیصد امکان ہوتا ہے کہ پیدا ہونے والا بچہ تھیلیسیمیا میجر کا مریض ہوگا۔ پچاس فیصد امکان یہ ہوتا ہے کہ بچہ بھی صرف کیریئر ہوگا، جبکہ صرف پچیس فیصد امکان رہ جاتا ہے کہ بچہ مکمل طور پر محفوظ ہوگا۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں زیادہ تر والدین کو اس حقیقت کا علم اُس وقت ہوتا ہے جب ان کی گود میں ایک متاثرہ بچہ آ چکا ہوتا ہے۔اصل المیہ یہ ہے کہ تھیلیسیمیا صرف مریض کو متاثر نہیں کرتا بلکہ پورے خاندان کی زندگی بدل دیتا ہے۔ ایک بچے کے مسلسل علاج کیلئے والدین کو بار بار اسپتال جانا پڑتا ہے، ملازمت سے چھٹیاں لینا پڑتی ہیں، معاشی منصوبہ بندی متاثر ہوتی ہے اور خاندان کے دیگر بچوں کی تعلیم اور ضروریات بھی پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ یوں یہ بیماری صرف جسمانی نہیں بلکہ سماجی، نفسیاتی اور معاشی بحران کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔اگر پاکستان واقعی صحت مند اور مضبوط معاشرہ بنانا چاہتا ہے تو ہمیں بیماری کے علاج سے زیادہ اس کی روک تھام پر توجہ دینا ہوگی۔ ترقی یافتہ ممالک نے یہی راستہ اختیار کیا اور کامیاب ہوئے، جبکہ ہم اب بھی اُن بچوں کا انتظار کرتے ہیں جو ہر سال اس بیماری کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔تھیلیسیمیا میجر کے مریض کی زندگی ایک مستقل آزمائش ہوتی ہے۔ اس بیماری کا کوئی آسان علاج نہیں بلکہ مریض کو پوری زندگی باقاعدگی سے خون کی منتقلی اور خصوصی طبی نگہداشت کی ضرورت رہتی ہے۔ ہر چند ہفتوں بعد خون نہ لگایا جائے تو جسم میں خون کی شدید کمی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ دوسری طرف مسلسل خون لگنے سے جسم میں آئرن کی مقدار خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے، جسے کم کرنے کیلئے آئرن چیلیشن تھراپی ناگزیر ہوتی ہے۔ اگر یہ علاج بروقت نہ ہو تو دل، جگر اور دیگر اہم اعضا نقصان کا شکار ہو سکتے ہیں۔اس بیماری کا معاشی بوجھ بھی کسی سانحے سے کم نہیں۔ مختلف مطالعات کے مطابق پاکستان میں تقریباً 85 فیصد متاثرہ خاندان علاج کے اخراجات پورے کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ نجی اسپتال میں صرف ایک مرتبہ خون کی منتقلی پر ہزاروں روپے خرچ ہو جاتے ہیں، جبکہ ادویات، لیبارٹری ٹیسٹ، سفر اور دیگر اخراجات اس کے علاوہ ہیں۔ بہت سے والدین اپنی جمع پونجی ختم کر دیتے ہیں، قرض لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں یا اپنے دوسرے بچوں کی تعلیم اور بنیادی ضروریات قربان کر دیتے ہیں تاکہ ایک بچے کی زندگی بچائی جا سکے۔دنیا کے کئی ممالک نے ثابت کیا ہے کہ مؤثر منصوبہ بندی اور سیاسی عزم کے ذریعے تھیلیسیمیا کے نئے کیسز میں حیرت انگیز حد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔ایران اس کی سب سے نمایاں مثال ہے۔ 1990ء کی دہائی میں وہاں شادی سے قبل لازمی تھیلیسیمیا اسکریننگ کا قومی پروگرام متعارف کرایا گیا۔ شادی کے خواہشمند جوڑوں کے ٹیسٹ کیے گئے، جبکہ کیریئر ثابت ہونے والے جوڑوں کو جینیاتی مشاورت فراہم کی گئی۔ مسلسل حکومتی سرپرستی، عوامی آگاہی اور مؤثر نظام کی بدولت ایران نے تھیلیسیمیا میجر کے نئے کیسز کو تقریباً ختم کر دیا۔ اس کامیابی نے دنیا کو یہ سبق دیا کہ بیماری کے علاج سے کہیں زیادہ مؤثر اور کم خرچ راستہ اس کی بروقت روک تھام ہے۔اسی طرح سعودی عرب نے بھی 2004ء میں تھیلیسیمیا اور سکل سیل بیماری کیلئے شادی سے قبل لازمی اسکریننگ کا پروگرام نافذ کیا۔ حکومت نے صرف قانون سازی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ علماء، طبی ماہرین، میڈیا اور کمیونٹی کو بھی اس مہم کا حصہ بنایا۔ نتیجتاً عوامی اعتماد میں اضافہ ہوا اور موروثی خون کی بیماریوں کی شرح میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔یہ دونوں مثالیں اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ تھیلیسیمیا کے خلاف کامیابی صرف اسپتالوں میں نہیں بلکہ مؤثر پالیسی، عوامی شعور، سیاسی عزم اور معاشرتی تعاون سے حاصل ہوتی ہے۔پاکستان کو تھیلیسیمیا کے خلاف جنگ جیتنے کیلئے کسی نئے معجزے یا مہنگی ٹیکنالوجی کی ضرورت نہیں۔ ہمارے پاس قابل ڈاکٹرز، تربیت یافتہ طبی عملہ، تشخیصی لیبارٹریاں اور سائنسی مہارت موجود ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ اس مسئلے کو ایک انفرادی بیماری نہیں بلکہ قومی ترجیح کے طور پر دیکھا جائے۔اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت ایک جامع قومی پالیسی مرتب کرے جس میں شادی سے قبل تھیلیسیمیا کیریئر اسکریننگ کو مرحلہ وار قومی سطح پر نافذ کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ جینیاتی مشاورت کی سہولت ہر ضلع تک پہنچائی جائے، تاکہ نوجوان اور ان کے خاندان سائنسی معلومات کی بنیاد پر باخبر فیصلے کر سکیں۔ اسکریننگ کا مقصد کسی کی شادی روکنا یا سماجی رکاوٹ پیدا کرنا نہیں بلکہ آئندہ نسلوں کو ایک موذی مرض سے محفوظ رکھنا ہے۔اس کے ساتھ محفوظ خون کی فراہمی کو مزید مؤثر بنانا ہوگا۔ ملک بھر میں جدید بلڈ بینکنگ سسٹم، رضاکارانہ خون عطیہ کرنے کی ثقافت اور خون کی سخت جانچ کے نظام کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ تھیلیسیمیا کے تمام مریضوں کو معیاری خون، آئرن چیلیشن ادویات اور خصوصی طبی مراکز تک مساوی رسائی حاصل ہونی چاہیے۔ علاج کسی خاندان کی مالی حیثیت پر منحصر نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہر مریض کا بنیادی حق ہونا چاہیے۔اگر ہم نے آج احتیاط، آگاہی اور سائنسی منصوبہ بندی کو ترجیح دی تو ہم آنے والی نسلوں کو ایک ایسی بیماری سے محفوظ بنا سکتے ہیں جو بڑی حد تک قابلِ روک تھام ہے۔ لیکن اگر ہم نے مزید تاخیر کی تو ہر سال ہزاروں نئے بچے اور ان کے خاندان اسی اذیت ناک سفر کا آغاز کریں گے جسے ہم آج بھی خاموشی سے دیکھ رہے ہیں۔فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔ ہم یا تو ایک قابلِ روک تھام بحران کو مسلسل برداشت کرتے رہیں یا پھر قومی عزم، سائنسی شواہد اور اجتماعی ذمہ داری کے ساتھ ایسا پاکستان تعمیر کریں جہاں کسی بچے کا مستقبل ہر پندرہ دن بعد خون کی ایک بوتل کا محتاج نہ ہو۔اب صرف آگاہی کافی نہیں، عمل کا وقت آ چکا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

کے ٹو پر بدترین سانحہیکم اگست 2008ء کو دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ کے ٹو (K2) پر بین الاقوامی مہماتی ٹیموں کے 11 کوہ پیماؤں کی موت واقع ہوئی۔ یہ حادثہ کے ٹو کی کوہ پیمائی کی تاریخ کا بدترین سانحہ قرار دیا جاتا ہے۔ بلند ترین چوٹیوں کو سر کرنے کے مشن پر نکلنے والے ان کوہ پیماؤں کو شدید موسمی حالات، برفانی تودوں اور خطرناک راستوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس حادثے نے دنیا بھر میں کوہ پیمائی کی خطرناک نوعیت کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا۔پیراگوئے: سپر مارکیٹ آتشزدگی 2004ء میں آج کے روز پیراگوئے کے دارالحکومت کی ایک سپر مارکیٹ میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں 424 افراد ہلاک جبکہ 360 دیگر زخمی ہوئے۔ یہ حادثہ ملک کی تاریخ کے بدترین آتشزدگی کے واقعات میں شمار کیا جاتا ہے۔ آگ لگنے کے بعد عمارت کے اندر موجود لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور بڑی تعداد میں افراد جان بچانے میں ناکام رہے۔جرمنی میں سمر اولمپکسیکم اگست1936ء کو جرمنی میں'' سمر اولمپکس‘‘ کا آغاز ہوا جسے ''نازی اولمپکس‘‘ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔یہ ایک بین الاقوامی ملٹی سپورٹس ایونٹ تھا۔ جس میں دنیا بھر سے سیکڑوں اتھلیٹ شریک ہوئے۔ یہ ہٹلر کے دور حکومت میں ہونے والے چند سپورٹس ایونٹس میں سے ایک تھا جس کیلئے جرمن حکومت نے نئے سٹیڈیم، جم اور ٹریک تعمیر کئے۔ یہ پہلا ایونٹ تھا جس کو ٹیلی ویژن کے ذریعے41ممالک میں نشر کیا گیا۔جرمن اولمپک کمیٹی نے 7ملین ڈالر میں کھیلوں کی کوریج کا ٹھیکہ دیا۔''آپریشن ٹائیڈ ویو‘‘''آپریشن ٹائیڈ ویو‘‘ دوسری عالمی جنگ کے دوران کیا جانے والے ایک اہم امریکی آپریشن تھا۔ یکم اگست 1943ء کو رومانیہ کے ارد گرد نو آئل ریفائنریوں پر لیبیا میں مقیم ریاستہائے متحدہ امریکہ کی فضائیہ کے بمباروں کا حملہ تھا۔ یہ ایک اسٹریٹجک بمباری کا مشن تھا اور محوری طاقتوں کو پیٹرولیم پر مبنی ایندھن سے انکار کرنے کیلئے ''تیل کی مہم‘‘ کا حصہ تھا۔ اس مشن کے نتیجے میں ''مصنوعات کی مجموعی پیداوار میں کوئی کمی نہیں آئی‘‘۔اس لڑائی کو دوسری عالمی جنگ کے دوران بڑے محاذوں میں شمار کیا جاتا ہے۔سائنس فکشن ناول ''ڈیون‘‘ کی اشاعتیکم اگست 1965ء میں امریکی مصنف فرینک ہربرٹ کا شہرہ آفاق سائنس فکشن ناول ''ڈیون‘‘ (Dune) پہلی مرتبہ شائع ہوا۔ یہ ناول مستقبل کی ایک خیالی دنیا، سیاست، ماحولیات اور انسانی بقا کے موضوعات پر مبنی تھا۔ اپنی منفرد کہانی، گہرے تصورات اور تخلیقی انداز کے باعث ''ڈیون‘‘نے دنیا بھر میں بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔ 2003ء میں اسے دنیا کا سب سے زیادہ فروخت ہونے والا سائنس فکشن ناول قرار دیا گیا۔سانحہ یونیورسٹی آف ٹیکساسچارلس جوزف سفید فارم ایک امریکی قاتل تھا جو ''ٹیکساس ٹاور سنائپرک‘‘ کے نام سے مشہور ہوا۔ یکم اگست 1966ء کو چارلس جوزف نے اپنی ماں اور بیوی کوچاقو کے وار کر کے قتل کیا اور اس کے بعد آتشیں اسلحہ کے ساتھ یونیورسٹی آف ٹیکساس ایٹ آسٹن میں گھس کرلوگوں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔اس نے مرکزی بلڈنگ کے اندر تین افراد کو گولی ماری پھر عمارت کے کلاک ٹاور میں رسائی حاصل کی، وہاں بھی اس نے گھنٹوں تک لوگوں پر فائرنگ کی۔ اس سانحہ میں 17افراد ہلاک اور 31افراد زخمی ہوئے۔

کیا بلیک ہولز کے گرد خلائی مخلوق کی ٹیکنالوجی ہو سکتی ہے ؟

کیا بلیک ہولز کے گرد خلائی مخلوق کی ٹیکنالوجی ہو سکتی ہے ؟

کائنات کے راز ہمیشہ سے انسان کے لیے تجسس کا باعث رہے ہیں۔ انہی رازوں میں بلیک ہولز اور زمین سے باہر ذہین مخلوق (Extraterrestrial Intelligence) کا موضوع بھی شامل ہے۔ حال ہی میں امریکہ کے معروف ادارے میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) میں سائنسدانوں کی ایک خصوصی نشست منعقد ہوئی جس میں اس غیر معمولی سوال پر غور کیا گیا کہ کیا ممکن ہے کہ انتہائی ترقی یافتہ خلائی مخلوقات بلیک ہولز کے گرد اپنی جدید ٹیکنالوجی قائم کر چکی ہوں؟ اس نشست میں کسی دریافت کا اعلان نہیں کیا گیا بلکہ یہ اس بات پر سائنسی غور و فکر تھا کہ اگر ایسی ٹیکنالوجی موجود ہو تو اسے دریافت کرنے کے لیے کن طریقوں سے تحقیق کی جا سکتی ہے۔بلیک ہولز کیوں اہم ہیں؟بلیک ہولز کائنات کے وہ اجسام ہیں جن کی کششِ ثقل اس قدر طاقتور ہوتی ہے کہ روشنی بھی ان سے فرار نہیں ہو سکتی۔ سائنسدانوں کے مطابق خاص طور پر گھومنے والے بلیک ہولز اپنے اردگرد بے پناہ توانائی پیدا کرتے ہیں۔ نظریاتی طور پر اگر کوئی مخلوق انسانوں سے لاکھوں یا کروڑوں گنا زیادہ ترقی یافتہ ہو تو وہ اس توانائی کو استعمال کرنے کے قابل ہو سکتی ہے۔یہ تصور محض سائنسی تخیل نہیں بلکہ طبیعیات کے بعض اصولوں پر مبنی ایک نظریاتی امکان ہے۔ اسی وجہ سے محققین نے اس موضوع کو سنجیدگی سے زیرِ بحث لایا۔ایم آئی ٹی کی نشست کا سوال؟اس سال جون میں ہونے والے اس دو روزہ اجلاس میں فلکیات، طبیعیات، بلیک ہولز اور SETI (Search for extraterrestrial intelligence) کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے دو درجن سے زائد ماہرین شریک ہوئے۔ ان کا مقصد یہ نہیں تھا کہ وہ خلائی مخلوق کے وجود کو ثابت کریں بلکہ یہ جاننا تھا کہ اگر ایسی تہذیبیں واقعی موجود ہوں تو ان کے آثار کیسے تلاش کیے جا سکتے ہیں۔سائنسدانوں نے مختلف نظریات، مشاہداتی طریقوں اور مستقبل کی تحقیق کے امکانات پر گفتگو کی۔ ان کے مطابق جدید دوربینیں اور فلکیاتی مشاہدات اب اتنے ترقی یافتہ ہو چکے ہیں کہ پہلے سے جمع شدہ ڈیٹا کو بھی نئے زاویے سے دیکھا جا سکتا ہے۔ٹیکنوسگنیچر کیا ہوتے ہیں؟روایتی طور پر خلائی مخلوق کی تلاش میں ریڈیو سگنلز پر زیادہ توجہ دی جاتی رہی ہے لیکن اب سائنس دان ٹیکنوسگنیچر (Technosignatures) کے تصور پر زیادہ کام کر رہے ہیں۔ٹیکنوسگنیچر سے مراد ایسے غیر معمولی آثار یا اشارے ہیں جو قدرتی فلکیاتی عمل سے مطابقت نہ رکھتے ہوں اور جنہیں کسی ذہین تہذیب کی ٹیکنالوجی سے منسلک کیا جا سکے۔مثال کے طور پر غیر معمولی روشنی کے نمونے، غیر متوقع انفرا ریڈ شعاعیں یا بلیک ہول کے گرد ایسے ڈھانچے یا سرگرمیاں جو قدرتی قوانین سے مختلف نظر آئیں۔اگر مستقبل میں ایسے شواہد ملتے ہیں تو ان کا انتہائی احتیاط سے تجزیہ کیا جائے گا تاکہ پہلے تمام قدرتی وضاحتوں کو جانچا جا سکے۔کیا بلیک ہول توانائی کا ذریعہ بن سکتے ہیں؟طبیعیات کے بعض نظریات کے مطابق گھومنے والے بلیک ہولز سے توانائی حاصل کرنا اصولی طور پر ممکن ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی انتہائی ترقی یافتہ تہذیب اس قابل ہو تو وہ ایسی ٹیکنالوجی بنا سکتی ہے جو بلیک ہول سے توانائی حاصل کر کے اپنی ضروریات پوری کرے۔یہ تصور انسانی ٹیکنالوجی سے بہت آگے ہے لیکن سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ناممکن اور غیر دریافت شدہ چیز میں فرق ہوتا ہے۔ آج کی بہت سی سائنسی حقیقتیں بھی کبھی صرف نظریات سمجھی جاتی تھیں۔موجودہ مشاہدات سے کیا معلوم ہو سکتا ہے؟ایم آئی ٹی کے اجلاس میں اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ کیا موجودہ فلکیاتی مشاہدات خصوصاً ایونٹ ہورائزن ٹیلی سکوپ اور دیگر رصدگاہوں کا ڈیٹا دوبارہ جانچنے سے کوئی غیر معمولی اشارہ سامنے آ سکتا ہے۔محققین کے مطابق اگر مستقبل میں کوئی عجیب یا غیر متوقع مشاہدہ سامنے آئے تو اس کا مطلب فوری طور پر خلائی مخلوق نہیں ہوگا۔ سب سے پہلے اس کی قدرتی وجوہات تلاش کی جائیں گی اور صرف تمام سائنسی امکانات ختم ہونے کے بعد ہی کسی غیر معمولی وضاحت پر غور کیا جائے گا۔کیا خلائی مخلوق دریافت ہو گئی ہے؟اس سوال کا واضح جواب نہیں ہےایم آئی ٹی کی اس نشست میں ایسی کوئی دریافت یا ثبوت پیش نہیں کیا گیا جس سے ثابت ہو کہ بلیک ہولز کے گرد خلائی مخلوق کی ٹیکنالوجی موجود ہے۔ یہ صرف ایک تحقیقی اور فکری نشست تھی جس کا مقصد مستقبل کی تحقیق کے نئے راستے تلاش کرنا تھا۔سائنس دان اس بات پر متفق ہیں کہ غیر معمولی دعووں کے لیے غیر معمولی اور مضبوط شواہد درکار ہوتے ہیں۔ جب تک قابلِ اعتماد سائنسی ثبوت موجود نہ ہوں، کسی بھی امکان کو حقیقت قرار نہیں دیا جا سکتا۔مستقبل کی تحقیقکائنات کے بارے میں ہماری معلومات مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ نئی دوربینیں، طاقتور کمپیوٹرز اور مصنوعی ذہانت فلکیاتی ڈیٹا کے تجزیے کو پہلے سے کہیں زیادہ مؤثر بنا رہے ہیں۔ ممکن ہے آنے والے برسوں میں سائنس دان بلیک ہولز، کہکشاؤں اور دیگر فلکیاتی اجسام میں ایسے اشارے تلاش کر سکیں جو آج ہماری نظر سے اوجھل ہیں۔اگرچہ خلائی مخلوق کے وجود کا کوئی ثبوت ابھی تک نہیں ملا، لیکن سائنس کا بنیادی اصول یہی ہے کہ ہر قابلِ آزمائش امکان کی تحقیق کی جائے۔ اسی سوچ کے تحت ایم آئی ٹی کی یہ نشست منعقد ہوئی، جس نے سائنس دانوں کو نئی تحقیق، نئے سوالات اور نئی حکمتِ عملیوں پر غور کرنے کا موقع فراہم کیا۔ایم آئی ٹی میں ہونے والی اس سائنسی نشست نے یہ واضح کیا کہ جدید سائنس صرف معلوم حقائق تک محدود نہیں بلکہ نامعلوم امکانات کی بھی منظم اور منطقی تحقیق کرتی ہے۔ بلیک ہولز کے گرد ممکنہ خلائی ٹیکنالوجی کا تصور فی الحال ایک نظریاتی امکان ہے،حقیقت۔ تاہم اس موضوع پر ہونے والی گفتگو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ انسان کائنات کے سربستہ رازوں کو سمجھنے کے لیے مسلسل کوشش کر رہا ہے۔ مستقبل میں اگر کوئی غیر معمولی ثبوت سامنے آتا ہے تو وہ سائنسی دنیا کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی، لیکن فی الحال یہ موضوع تحقیق، تجسس اور سائنسی جستجو کا حصہ ہے۔

قلعہ روہتاس کی بحالی اور یونیسکو کے تحفظات

قلعہ روہتاس کی بحالی اور یونیسکو کے تحفظات

قومی ورثے کے تحفظ کا اہم امتحان قلعہ روہتاس پاکستان کے تاریخی ورثے کی ایک عظیم علامت ہے، جو ضلع جہلم میں واقع ہے۔ یہ قلعہ سولہویں صدی میں شیر شاہ سوری نے تعمیر کروایا تھا اور اپنی منفرد فوجی تعمیر، بلند فصیلوں، عظیم الشان دروازوں اور مضبوط دفاعی نظام کی وجہ سے دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے۔ 1997ء میں یونیسکو نے اسے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کرلیا جس کے بعد اس کی حفاظت اور بحالی عالمی اصولوں کے مطابق کرنا پاکستان کی ذمہ داری بن گئی۔مگر حالیہ دنوں قلعے میں جاری مرمتی کاموں پر یونیسکو کی جانب سے اظہارِ تشویش نے اس تاریخی ورثے کے تحفظ کے حوالے سے ایک اہم بحث چھیڑ دی ہے۔یونیسکو کے تحفظات کی وجہخبروں کے مطابق یونیسکو کو اطلاع ملی کہ قلعہ روہتاس میں ہونے والے بعض بحالی کے کام عالمی معیار کے مطابق نہیں۔ اس اطلاع کے بعد یونیسکو کے نمائندوں نے وزارتِ قومی ورثہ و ثقافت کے تعاون سے قلعے کا معائنہ کیا۔ معائنے کا مقصد یہ جانچنا تھا کہ مرمت کے دوران استعمال ہونے والے تعمیراتی طریقے، مواد اور تکنیک عالمی اصولوں کے مطابق ہے یا نہیں۔اطلاعات کے مطابق بعض مقامات پر جدید تعمیراتی مواد استعمال کیے جانے اور اصل تاریخی ساخت میں تبدیلی کے خدشات سامنے آئے ہیں۔ یونیسکو کے مطابق کسی بھی عالمی ثقافتی ورثے کی بحالی اس انداز میں ہونی چاہیے کہ اس کی اصل شناخت، تاریخی اہمیت اور قدامت برقرار رہے۔ اگر غیر موزوں مواد یا جدید تعمیراتی انداز اختیار کیا جائے تو یادگار کی تاریخی حیثیت متاثر ہو سکتی ہے۔تاریخی ورثے کی بحالی کے اصولدنیا بھر میں تاریخی عمارتوں کی مرمت کے کچھ اصول ہیں۔ ان اصولوں کے مطابق مرمت صرف اتنی ہی کی جاتی ہے جتنی عمارت کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہو۔ اس دوران اصل پتھر، اینٹ، چونا یا دیگر روایتی مواد کو ترجیح دی جاتی ہے تاکہ عمارت کی تاریخی حیثیت برقرار رہے۔ماہرین آثارِ قدیمہ کا کہنا ہے کہ اگر کسی تاریخی عمارت میں جدید سیمنٹ، نئی اینٹیں یا مختلف طرزِ تعمیر استعمال کی جائے تو اس سے اس کی اصل تاریخی اہمیت کم ہو سکتی ہے یہی وجہ ہے کہ یونیسکو ہر مرمتی منصوبے پر گہری نظر رکھتا ہے، خاص طور پر ان مقامات پر جو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل ہوں۔یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستان میں کسی تاریخی مقام کی بحالی پر سوالات اٹھے ہوں۔ اس سے قبل ٹیکسلا کے بعض آثارِ قدیمہ پر بھی یونیسکو نے غیر معیاری مرمت کے حوالے سے تحفظات ظاہر کیے تھے اور متعلقہ اداروں کو اصلاحی اقدامات کی سفارش کی تھی۔ قلعہ روہتاس کی تاریخی اہمیت قلعہ روہتاس برصغیر میں فوجی فنِ تعمیر کا ایک بے مثال نمونہ سمجھا جاتا ہے۔ تقریباً چار کلومیٹر طویل فصیل، بارہ عظیم الشان دروازے، متعدد برج، شاہی مسجد، باؤلی اور دیگر تاریخی عمارتیں اس قلعے کی شان میں اضافہ کرتی ہیں۔ یہ قلعہ نہ صرف شیر شاہ سوری کی عسکری حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اس دور کی تعمیراتی مہارت کا بھی زندہ ثبوت ہے۔ہر سال ملک و بیرونِ ملک سے ہزاروں سیاح اس تاریخی مقام کی سیر کے لیے آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی اصل ساخت کو محفوظ رکھنا نہ صرف تاریخی اعتبار سے بلکہ سیاحتی اور معاشی لحاظ سے بھی بے حد اہم ہے۔ اگر بحالی کا عمل عالمی معیار کے مطابق نہ ہو تو اس سے پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ بھی متاثر ہو سکتی ہے۔مستقبل کیلئے ضروری اقدامات قلعہ روہتاس کے حوالے سے سامنے آنے والے تحفظات متعلقہ اداروں کے لیے ایک اہم موقع ہیں کہ وہ اپنے پیشہ ورانہ طریقہ کار کا ازسرِنو جائزہ لیں۔ ضروری ہے کہ مستقبل میں ہر بحالی منصوبہ بین الاقوامی اصولوں، ماہرین آثارِقدیمہ کی سفارشات اور یونیسکو کی ہدایات کے مطابق مکمل شفافیت کے ساتھ انجام دیا جائے۔اس مقصد کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں، آثارِ قدیمہ کے ماہرین، انجینئرز اور تحفظِ آثار قدیمہ کے بین الاقوامی ماہرین میں قریبی رابطہ اور تعاون ناگزیر ہے۔ ہر مرمتی مرحلے کی مکمل دستاویزات، تصاویر اور تکنیکی رپورٹس بھی محفوظ رکھی جائیں تاکہ کسی بھی وقت اس عمل کا جائزہ لیا جا سکے۔ قلعہ روہتاس صرف ایک تاریخی عمارت نہیں بلکہ پاکستان کی تہذیبی شناخت، تاریخی عظمت اور ثقافتی ورثے کی علامت ہے۔ یونیسکو کے تحفظات کو تنقید کے بجائے اصلاح کا موقع سمجھنا چاہیے تاکہ اس عالمی ورثے کی اصل حیثیت محفوظ رہے۔ اگر عالمی معیار کے مطابق بحالی کو یقینی بنایا جائے تو قلعہ روہتاس آنے والی نسلوں کے لیے بھی اسی شان و شوکت کے ساتھ محفوظ رہے گا اور ملک عزیز کا ثقافتی تشخص عالمی سطح پر مزید مستحکم ہوگا۔

آج کا دن

آج کا دن

آرک دے تریومف کا افتتاح29 جولائی 1836ء کوپیرس میں مشہور یادگار، آرک دے تریومف کا افتتاح کیا گیا۔ اس یادگار کی تعمیر کا حکم 1806ء میں نپولین بوناپارٹ نے آسٹرلٹز کی جنگ میں فتح کے بعد دیا تھا۔ اگرچہ نپولین اپنی زندگی میں اس کی تکمیل نہ دیکھ سکا لیکن تقریباً تیس سال بعد یہ عظیم الشان یادگار مکمل ہوئی۔ اس کی دیواروں پر فرانسیسی جرنیلوں اور اہم جنگوں کے نام کندہ کیے گئے ہیں۔ بعد میں پہلی جنگِ عظیم کے نامعلوم سپاہی کی قبر بھی اسی یادگار کے نیچے بنائی گئی جہاں آج بھی شمع روشن رہتی ہے۔ آرک دے تریومف نہ صرف فرانس کی قومی شناخت کی علامت ہے بلکہ آزادی، حب الوطنی اور قومی اتحاد کی بھی نمائندگی کرتا ہے۔ لندن اولمپکس 29 جولائی 1948ء کو لندن میں چودہویں جدید اولمپک کھیلوں کا افتتاح ہوا۔ یہ مقابلے دوسری جنگِ عظیم کے بعد منعقد ہونے والے پہلے اولمپکس تھے کیونکہ 1940ء اور 1944ء کے اولمپکس جنگ کی وجہ سے منسوخ کر دیے گئے تھے۔ جنگ کے بعد بیشتر ممالک معاشی مشکلات کا شکار تھے اسی لیے ان کھیلوں کو سادگی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ تقریباً ساٹھ ممالک کے چار ہزار سے زائد کھلاڑیوں نے مختلف کھیلوں میں حصہ لیا۔ لندن اولمپکس نے بین الاقوامی کھیلوں کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا اور بعد کے اولمپکس کے لیے نئی امید پیدا کی۔The Lord of the Rings29 جولائی 1954ء کو برطانوی ادیب جے آر آر ٹولکین کے شہرہ آفاق ناول The Lord of the Rings کی پہلی جلد شائع ہوئی۔ یہ کتاب جدید فینٹسی ادب کی تاریخ میں ایک سنگِ میل سمجھی جاتی ہے۔ ٹولکین نے کئی برسوں کی محنت سے ایک مکمل خیالی دنیا تخلیق کی جہاں انسان، ہوبٹ، ایلف، بونے اور دیگر مخلوقات خیر و شر کی عظیم جنگ میں شریک ہوتی ہیں۔ اس ناول کی کہانی ایک طاقتور انگوٹھی کے گرد گھومتی ہے جسے تباہ کرنا دنیا کو تاریکی کی قوتوں سے بچانے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ 2001ء سے 2003ء کے درمیان اسی ناول پر بننے والی فلمی سیریز نے عالمی سطح پر بے مثال کامیابی حاصل کی اور متعدد آسکر ایوارڈز جیتے۔آئی اے ای اے کا قیام29 جولائی 1957ء کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کا قیام عمل میں آیا۔ اس ادارے کا مقصد دنیا بھر میں ایٹمی توانائی کے پرُامن استعمال کو فروغ دینا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ جوہری ٹیکنالوجی کو ہتھیار بنانے کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ IAEA مختلف ممالک کے جوہری پروگراموں کا معائنہ کرتی ہے، حفاظتی معیارات مقرر کرتی ہے اور عالمی جوہری سلامتی کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک اس کے رکن ہیں اور جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی نظام میں اس کا بنیادی کردار ہے۔ شہزادہ چارلس اور لیڈی ڈیانا کی شادی29 جولائی 1981ء کو شہزادہ چارلس اور لیڈی ڈیانا کی شادی لندن کے سینٹ پال کیتھیڈرل میں منعقد ہوئی۔ یہ تقریب بیسویں صدی کی سب سے زیادہ دیکھی جانے والی تقریبات میں شمار ہوتی ہے۔ اندازاً دنیا بھر میں 70 کروڑ سے زائد افراد نے اسے ٹیلی ویژن پر دیکھا۔ اگرچہ یہ شادی بعد میں کامیاب نہ رہی اور 1996ء میں طلاق ہو گئی لیکن اس تقریب کو آج بھی برطانوی شاہی تاریخ کا ایک اہم واقعہ سمجھا جاتا ہے۔ اس نے برطانوی شاہی خاندان کی عالمی مقبولیت میں اضافہ کیا اور شاہی تقریبات کی بین الاقوامی نشریات کا ایک نیا معیار قائم کیا۔