اقبال حسن کا عروج زوال

 اقبال حسن کا عروج زوال

اسپیشل فیچر

تحریر :


پاکستانی سینما میں جب پنجابی فلموں کا تذکرہ آئے گا تو ایک نام اداکار’’اقبال حسن‘‘ کا ضرور ہوگا۔ جنہوں نے برسوں شائقین فلم کے دلوں پر راج کیا۔ یہ لاہور کے اندرون گیٹ میں پیدا ہونے والے متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ فن کار گھرانہ تھا۔ اقبال حسن کے بڑے بھائی خورشید حسن بھی اداکار تھے اور چاہتے تھے کہ اقبال حسن جلد اپنے پیروں پر کھڑا ہوجائے،خورشید حسن نے ان کو ایک کیمرہ مین کا اسسٹنٹ بنادیا۔ فنی زندگی کی ابتداء ٹرالی مین سے کی۔ ٹرالی کھینچ کھینچ کر جب اقبال حسن کو احساس ہْوا کہ منزل دور ہوتی جاری ہے تو اپنے استاد سے کہا کہ مجھے لائٹیں سیٹ کرنا سکھائیں۔ استاد نے انہیںیہ طریقہ سمجھا دیا۔ لیکن اس کے باوجود دل مطمئن نہ تھا۔ انہوں نے یونٹ میں رہ کر 1965ء میں پہلی بار اپنے بہنوئی کہانی نویس آغا حسن امتثال کی بحیثیت فلمساز پہلی پنجابی فلم ’’پنجاب دا شیر‘‘ میں اکمل اور نغمہ کے ساتھ کام کیا۔ لیکن اس فلم سے ان کوکوئی کریڈٹ نہ مل سکا۔ وہ فن کار کے طور پر اپنا مقام بنانا چاہتے تھے۔ ان کے استاد ہدایت کار ریاض احمد نے انہیں پنجابی فلم ’’سسّی پنّوں‘‘ میں مرکزی کردار د ے دیا۔ اس فلم میں سسّی اداکارہ نغمہ تھیں۔ ابھی یہ فلم زیر تکمیل تھی کہ ہدایت کار حیدر چوہدری کی فلم ’’سوہنا‘‘ میں ہیرو کاسٹ کرلیے گئے۔ دونوں فلمیں تیزی سے تکمیل کے مراحل طے کررہی تھیں۔ریاض احمد کوشش کررہے تھے کہ ان کی فلم پہلے ریلیز ہوجائے لیکن فلم ’’سوہنا‘‘ پہلے ریلیز ہوگئی۔ فلم ’’سسّی پنّوں‘‘ بھی ایک کام یاب فلم کے طور پر سامنے آئی، ایسے وقت میں جب پنجابی فلموں میں اکمل، یوسف خان اور حبیب جیسے کام یاب اداکارموجود تھے ان اسٹارز کی موجودگی میں اپنا نام بنانا بے حد مشکل نظر آرہا تھا لیکن اقبال حسن ان سب میں ایک نمایاں فن کار کی حیثیت سے سامنے آئے۔ اس کے بعد بے شمار کام یاب پنجابی فلموں میں کام کیا جن میں دھی رانی، خان چاچا، میراخون، نشان، عشق میرا ناں، بھولا سجن، یار مستانے، وحشی جٹ، ہتھکڑی، شوکن میلے دی، وحشی گجر ان کی کام یاب فلموں میں شامل ہیں۔ ان کی اردو زبان میں صرف تین فلمیں ہی ریلیز ہوسکیں۔ حالاں کہ وہ اردو فلموں میں بھی کام کرنا چاہتے تھے۔ ہدایت کار ریاض شاہد کی اردو فلم ’’یہ امن‘‘ جو کشمیر کے موضوع پر مبنی فلم تھی جس میں انہوںنے کشمیری حریت پسند کا کردار کمال خوبی سے ادا کیا۔ جب خود فلم پروڈیوس کی تو اردو فلم ’’بدلے گی دنیا ساتھی‘‘ بنائی جس میں محمد علی اور زیبا کے ساتھ اپنے چھوٹے بھائی ’’تنظیم حسن‘‘ کو پہلی بار فلم میں کام کرنے کا موقع دیا۔ تنظیم حسن نے بہت سی فلموں میں کام کیا لیکن اپنے بھائی اقبال حسن کی طرح شہرت و مقبولیت حاصل نہ کرسکے۔ اقبال حسن کا ستارہ گردش میں آیا تو فلم سازوں نے آنکھیں پھیر لیں اس وقت پنجابی سینما پر سلطان راہی چھائے ہوئے تھے۔ ایسے میں اقبال حسن کو فنی زندگی میں دوسری بار اپنے آپ منوانے کی ضرورت پیش آئی۔ اپنے وقت کی کامیاب ترین فلم مولا جٹ کے ہدایت کار یونس ملک نے 1980ء میں پنجابی فلم ’’شیر خان‘‘ بنانے کا اعلان کیا۔ یونس ملک اس فلم میں ’’شیر خان‘‘ کا مرکزی کردار اداکار حبیب کو دینا چاہتے تھے۔ لیکن حبیب نے یہ کردار کرنے سے معذرت کرلی۔ حبیب کے علاوہ محمد علی اس کردار کے لیے مناسب تھے لیکن وہ اردو فلموں میں مصروفیات کی وجہ سے پنجابی فلم میںکام نہیں کرسکتے تھے۔ یونس ملک اس کردار کے لیے کوئی منجھا ہوا اداکار چاہیے تھا۔ ان کے پاس کوئی چوائس نہ تھی۔ ایسے میں اقبال حسن اس کردار میں منتخب کرلیے گئے۔ اس فلم میں ان کے ساتھ سلطان راہی کے علاوہ اداکارہ انجمن کسی پنجابی فلم میں پہلی بار ہیروئن آرہی تھیں۔ یونس ملک کی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ اقبال حسن کو کتنا معاوضہ ادا کریں۔ اس لیے کہ اقبال حسن پنجابی فلموں میں اپنا مقام گنواچکے تھے اب وہ صرف اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ واپس لانا چاہ رہے تھے۔ یونس ملک اور اقبال حسن میں ایک معاہدہ ہوا کہ اگر فلم کام یاب ہوئی تو ان کو منہ مانگی رقم ادا کی جائے گی اور اگر ناکام رہی تو معاوضہ نہیں دیا جائے گا۔ فلم مکمل ہوئی اور1981ء عید الفطر کا دن بھی آیا ،جب لاہور میں ایک ساتھ پنجابی زبان کی پانچ فلمیں ’’شیر خان‘‘ نغمہ سینما کے علاوہ ہدایت کار الطاف حسین کی فلم’’سالا صاحب‘‘میٹروپول سینما، ہدایت کار جہانگیر قیصر کی فلم ’’چن وریام‘‘ گلستان سینما، ہدایت کار کیفی کی فلم’’ملے گاظلم دا بدلہ‘‘محفل سینما اور ہدایت کار حیدر چوہدری کی فلم ’’چاچا بھتیجا‘‘ شبستان سینما میںریلیز ہوئیں ان پانچوں فلموں میںشیر خان اور سالا صاحب نے نمایاں کامیابی حاصل کی۔ جمعہ 15اپریل 1983ء کو ہدایت کار الطاف حسین کی پنجابی فلم ’’صاحب جی‘‘ ریلیز ہوئی تو ’’شیر خان‘‘ مرکزی سینما پر ڈیڑھ سال تک چلنے کے بعد اتارلی گئی۔ یہ فلم 300 سے زائد ہفتے تک چلی۔ اس فلم سے فلم ساز کو بے حد منافع حاصل ہوا۔ جب اقبال حسن کو معاوضہ دینے کی بات آئی تو یونس ملک نے نوٹوں سے بھرا بریف کیس ان کے سامنے رکھ دیا اور کہا کہ جتنے پیسے لے سکتے ہو لے لو۔ اس پر اقبال حسن نے دولت کے انبار سے صرف اتنے ہی نوٹ سمیٹے کہ جو ان کے ہاتھوں میں سماسکے اور ساتھ یہ کہا کہ بس یہی دولت میرے نصیب کی ہے۔ ان کی یہ اعلیٰ ظرفی آج بھی یاد کی جاتی ہے۔ فلم ’’شیر خان‘‘ کے مرکزی کردار نے ان کو دوبارہ فن کی بلندیوں پر پہنچا دیا اور یہ کردار اقبال حسن کے روپ میں ایک حقیقت بن گیا۔ اقبال حسن کی زندگی کا آخری دن 14 نومبر 1984ء کا تھا جب وہ اپنے دوست اور ساتھی اداکار اسلم پرویز کے ساتھ کار میں جارہے تھے کہ یہ حادثے کا شکار ہوگئی۔ اقبال حسن کا تو اسی وقت انتقال ہوگیا جب کہ اسلم پرویز جو شدید زخمی تھے ٹھیک ایک ہفتے بعد اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
سرخ سیارے پر زندگی؟

سرخ سیارے پر زندگی؟

مریخ کے راز پھر بے نقاب ہونے لگےناسا کی تصویر اور خلائی مخلوق کی نئی قیاس آرائیاںکیا کائنات میں زمین کے علاوہ بھی کہیں زندگی موجود ہے؟ یہ وہ سوال ہے جس نے صدیوں سے سائنس دانوں، فلسفیوں اور عام انسانوں کے تجسس کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ جب بھی خلا سے موصول ہونے والی کوئی نئی تصویر یا غیرمعمولی ساخت منظر عام پر آتی ہے تو یہ بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر لیتی ہے۔ حال ہی میں ناسا کی جانب سے مریخ کی سطح سے لی گئی ایک تصویر نے دنیا بھر میں نئی قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے۔ اس تصویر میں نظر آنے والی ایک پراسرار چٹانی ساخت کو بعض افراد مصنوعی تعمیر یا کسی ذہین مخلوق کے آثار قرار دے رہے ہیں، جبکہ ماہرین ارضیات اور خلائی سائنس دان اسے قدرتی ارضیاتی عمل کا نتیجہ بتا رہے ہیں۔ حقیقت خواہ کچھ بھی ہو، اس واقعے نے ایک مرتبہ پھر سرخ سیارے پر ممکنہ حیات، خلائی مخلوق اور کائنات کے ان گنت رازوں کے بارے میں عالمی دلچسپی کو نئی مہمیز دے دی ہے۔مریخ کی سطح پر موجود ایک عجیب و غریب شکل کے حامل جسم کی تصویر نے ایک بار پھر سرخ سیارے پر خلائی مخلوق کی موجودگی سے متعلق حیران کن نظریات کو ہوا دے دی ہے۔ یہ تصویر ناسا کے ''اپرچیونٹی (Opportunity) روور‘‘ نے 2014ء میں لی تھی، تاہم حال ہی میں سوشل میڈیا پر دوبارہ وائرل ہوگئی، جہاں متعدد صارفین نے دعویٰ کیا کہ تصویر میں نظر آنے والی شے کسی ''خلائی مخلوق کی بندوق‘‘ سے مشابہت رکھتی ہے۔ویب سائٹ ''UFO Sighting Daily‘‘ سے وابستہ مریخ پر تحقیق کرنے والے اسکاٹ سی وارنگ (Scott C Waring)نے دعویٰ کیا کہ یہ مبینہ ''بندوق‘‘ اس بات کا ثبوت ہے کہ ناسا نے مریخ پر روور بھیجنے کا مقصد وہاں موجود خلائی مخلوق کی ٹیکنالوجی حاصل کرنا تھا۔وارنگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر لکھا: ''مریخ پر خلائی مخلوق کی بندوق کی تصاویر میں سے اب صرف ایک باقی رہ گئی ہے، جبکہ دیگر تصاویر ناسا نے حذف کر دی ہیں‘‘۔اس سے قبل بھی وارنگ نے اپنے ایک بلاگ میں اس تصویر کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ مبینہ ہتھیار کی لمبائی تقریباً ایک فٹ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے اعتراف کرنا پڑے گا کہ یہ واقعی حیران کن ہے۔ اس بندوق کی درست جگہ ''ایس او ایل 3773‘‘ پر ہے، جو ماؤنٹ ایجکمب (Mt Edgecumbe) اور وڈوویاک رج (Wdowiak Ridge)کے درمیان واقع ہے۔دوسری جانب ناسا کے مطابق اپرچیونٹی روور نے 25جنوری 2004ء کو مریخ پر کامیاب لینڈنگ کی تھی۔ یہ روور مریڈیانی پلانم (Meridiani Planum) کے علاقے میں واقع ایک چھوٹے تصادمی گڑھے، ایگل کریٹر (Eagle Crater) میں اترا تھا۔تاہم جون 2018ء میں پورے مریخ کو اپنی لپیٹ میں لینے والے شدید گرد و غبار کے طوفان کے باعث سورج کی روشنی روور کے سولر پینلز تک نہ پہنچ سکی، جس کے نتیجے میں اس کا رابطہ منقطع ہوگیا۔ کئی ماہ تک رابطہ بحال کرنے کی کوششوں کے باوجود ناسا نے فروری 2019ء میں باضابطہ طور پر اس تاریخی مشن کے اختتام کا اعلان کر دیا تھا۔ واضح رہے کہ ناسا نے اس تصویر کو کبھی بھی خلائی مخلوق یا کسی مصنوعی ہتھیار کا ثبوت قرار نہیں دیا۔ ماہرین کے مطابق مریخ پر نظر آنے والی ایسی بیشتر اشکال قدرتی چٹانی ساختیں ہیں، جنہیں انسانی دماغ بعض اوقات مانوس اشیاء کی شکل میں دیکھتا ہے، جسے نفسیات میں پیریڈولیا (Pareidolia) کہا جاتا ہے۔تاہم، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یو ایف او کے محققین کے یہ دعوے محض ''پیریڈولیا‘‘ کا ایک نمونہ ہیں۔ یہ ایک نفسیاتی کیفیت ہے جس میں انسانی دماغ بے ترتیب اشکال، چٹانوں یا سائے میں چہروں، جانوروں یا روزمرہ استعمال کی مانوس اشیاء کی شکلیں دیکھنے لگتا ہے، حالانکہ حقیقت میں وہاں ایسی کوئی چیز موجود نہیں ہوتی۔دوسری جانب ناسا مسلسل اس مؤقف پر قائم ہے کہ اب تک اسے خلائی مخلوق کے وجود کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں ملا اور نہ ہی مریخ پر موجودہ یا ماضی کی کسی بھی قسم کی حیات کے واضح شواہد دریافت ہوئے ہیں۔اگرچہ اسکاٹ سی وارنگ کو یقین ہے کہ اپرچیونٹی روور نے مریخ کی سطح پر ایک بندوق نما شے کی تصویر محفوظ کی ہے، لیکن بہت سے لوگ اس دعوے سے اتفاق نہیں کرتے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا: ''میں کوئی ماہر نہیں ہوں، لیکن میرے خیال میں یہ محض ایک چٹان ہے۔جبکہ ایک اور صارف نے طنزیہ انداز میں کہا: اگر یہ واقعی خلائی مخلوق کی بندوق ہے تو پھر اسے انسانی ہاتھوں اور انگلیوں کے مطابق کیوں بنایا گیا ہوگا؟۔اسکاٹ سی وارنگ گزشتہ تقریباً ایک دہائی سے مریخ پر موجود غیر معمولی شکل و صورت رکھنے والی چٹانوں کو خلائی مخلوق سے جوڑتے رہے ہیں۔ 2016ء میں بھی انہوں نے ایک چٹان کو جوتا قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ یہ کسی قدیم مخلوق کی باقیات کا ثبوت ہوسکتی ہے۔انہوں نے اپنی ویب سائٹ پر لکھا: مریخ کے روور کی تصاویر کا جائزہ لیتے ہوئے مجھے ایک گڑھے کے کنارے ایک تنہا جوتا دکھائی دیا۔مزید انہوں نے قیاس آرائی کرتے ہوئے کہاکہ ممکن ہے یہ کسی ایسی مخلوق کا جوتا ہو جو بہت پہلے کسی جنگ میں شامل رہی ہو، اور یہ جوتا ہی اس بات کا واحد ثبوت ہو کہ وہ مخلوق کبھی موجود تھی۔وارنگ کے مطابق یہ مبینہ دریافت 24 اگست 2016ء کو سامنے آئی، تاہم جس اصل تصویر کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا گیا، وہ اپرچیونٹی روور نے 2013ء میں مریخ کی سطح سے کھینچی تھی۔

بڑھتے  سیلاب اور پیاسا پاکستان

بڑھتے سیلاب اور پیاسا پاکستان

کبھی پنجاب اور سندھ کے تقریباً ہر گائوں میں ایک جوہڑ ضرور ہوتا تھا۔ یہ صرف پانی کا تالاب نہیں بلکہ گائوں کی زندگی کا مرکز ہوتا تھا۔ بارش کا پانی یہیں جمع ہوتا، مویشی سیراب ہوتے، پرندے بسیرا کرتے، کنول کے پھول پانی کی سطح پر لہراتے اور زمین کے نیچے موجود آبی ذخائر بھی انہی جوہڑوں کے ذریعے دوبارہ بھر جاتے تھے۔ وقت بدلا، ترقی کے نام پر زمین کا استعمال بدل گیا، ٹیوب ویل عام ہو گئے، آبادی پھیلتی گئی اور یہ جوہڑ ماضی کا قصہ بنتے چلے گئے۔ آج پاکستان ایک ایسے ماحولیاتی بحران سے دوچار ہے جس پر ابھی تک سنجیدگی سے توجہ نہیں دی گئی۔ یہ بحران ملک کے ویٹ لینڈز، یعنی قدرتی آبی اور دلدلی علاقوں کے تیزی سے ختم ہونے کا ہے۔ یہی وہ قدرتی نظام ہیں جو سیلاب کی شدت کم کرتے ہیں، زیرزمین پانی کو دوبارہ بھرنے میں مدد دیتے ہیں، آلودگی کو قدرتی انداز میں صاف کرتے ہیں اور ہزاروں اقسام کے جانوروں اور پرندوں کو زندگی فراہم کرتے ہیں۔ پاکستان خوش قسمت ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں قدرت نے بے شمار ویٹ لینڈز عطا کیے۔ ملک میں بین الاقوامی اہمیت کے حامل 19 رامسر ویٹ لینڈز موجود ہیں جن میں دریائے سندھ کے سیلابی میدان، شمالی علاقوں کی خوبصورت جھیلیں اور سندھ کے ساحلی مینگرووز شامل ہیں۔ مگر افسوس کہ شہری آبادی میں اضافہ، زرعی تجاوزات، صنعتی آلودگی، دریائوں میں پانی کی کمی اور موسمیاتی تبدیلی نے ان قدرتی نعمتوں کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سب سے بڑی غلط فہمی یہ رہی کہ ویٹ لینڈز کو اکثر غیر استعمال شدہ یا بیکار زمین سمجھ لیا گیا، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہ علاقے قدرتی اسفنج کی طرح کام کرتے ہیں۔ جب بارشیں زیادہ ہوں تو اضافی پانی جذب کر لیتے ہیں اور خشک موسم میں آہستہ آہستہ وہی پانی زمین اور ماحول کو واپس فراہم کرتے ہیں۔ اگر یہ نظام موجود نہ ہو تو سیلاب زیادہ تباہ کن اور خشک سالی شدید تر ہو جاتی ہے۔پاکستان کے دیہی معاشرے میں جوہڑ اسی قدرتی نظام کا اہم حصہ تھے۔ کنول اور دیگر آبی پودے پانی کو قدرتی طور پر صاف کرتے جبکہ زمین کے اندر پانی کا ذخیرہ مسلسل بڑھتا رہتا۔ بزرگ آج بھی یاد کرتے ہیں کہ ان جوہڑوں میں صرف پانی نہیں بلکہ ایک مکمل ماحولیاتی نظام آباد تھا۔پھر ٹیوب ویلوں کا دور آیا۔ کسانوں نے زیرزمین پانی پر انحصار بڑھا لیا، خاص طور پر شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویلوں کے بعد پانی نکالنا مزید آسان ہو گیا۔ جب ہر کھیت میں ٹیوب ویل لگ گیا تو جوہڑ غیر ضروری محسوس ہونے لگے۔ ان کی صفائی بند ہوئی، دیکھ بھال ختم ہوئی اور بالآخر کئی جوہڑ مٹی سے بھر دیے گئے یا ان پر مکانات تعمیر کر دیے گئے۔ اس تبدیلی نے ایک ایسا نقصان پہنچایا جس کا احساس آج ہو رہا ہے۔ زیرزمین پانی تو مسلسل نکالا جاتا رہا مگر اسے دوبارہ بھرنے والے قدرتی ذرائع ختم ہوتے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہو چکا ہے جہاں زیرزمین پانی تیزی سے کم ہو رہا ہے۔دیہات سے شہروں کی طرف ہجرت نے بھی اس مسئلے کو مزید بڑھا دیا۔ پہلے جوہڑ پورے گائوں کی مشترکہ ذمہ داری ہوتے تھے، مگر جب آبادی منتشر ہوئی تو اجتماعی نظام بھی ٹوٹ گیا۔ نتیجتاً بہت سے جوہڑوں کو رہائشی اور زرعی زمین میں تبدیل کر دیا گیا۔ یہی صورتحال بڑے شہروں کے گرد موجود قدرتی ویٹ لینڈز کے ساتھ بھی پیش آئی، جہاں ہائوسنگ سوسائٹیز اور سڑکوں نے قدرتی آبی راستوں کو ختم کر دیا۔ایک اور مسئلہ آلودگی کا ہے۔ ماضی میں دیہات کا فضلہ جوہڑوں میں آتا تھا جہاں قدرتی حیاتیاتی عمل اسے کافی حد تک صاف کر دیتا تھا، مگر جدید دور کے پلاسٹک، کیمیائی مادوں اور صنعتی فضلے نے اس قدرتی نظام کی صلاحیت کو ختم کر دیا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان قدرتی آبی ذخائر کو بحال کرنے کے بجائے انہیں ہی ختم کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں آج بغیر صاف کیا گیا گندا پانی براہِ راست نہروں اور دریائوں میں شامل ہو رہا ہے۔ویٹ لینڈز کی تباہی کا سب سے بڑا اثر موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں سامنے آ رہا ہے۔ دریائوں کے کنارے موجود قدرتی سیلابی میدان پہلے اضافی پانی کو جذب کر لیتے تھے، مگر اب ان پر بند، سڑکیں اور آبادیاں قائم ہو چکی ہیں۔ اسی طرح سندھ کے ساحلی علاقوں میں موجود مینگرووز کے جنگلات بھی تیزی سے سکڑ رہے ہیں۔ دریائے سندھ سے میٹھے پانی کی کم ہوتی مقدار اور سمندر کے بڑھتے ہوئے دبائو نے ان جنگلات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت صرف کنکریٹ کے ڈیموں، بندوں اور مہنگے منصوبوں پر انحصار کرنے کے بجائے قدرتی نظام کو بحال کرنے پر توجہ دے تو کم لاگت میں زیادہ مؤثر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اسی سوچ کے تحت ''ری چارج پاکستان‘‘ جیسے منصوبے شروع کیے گئے ہیں، جن کا مقصد ویٹ لینڈز کی بحالی، قدرتی سیلابی میدانوں کی حفاظت اور زیرزمین پانی کی ری چارجنگ کو فروغ دینا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مسئلے کا حل مکمل طور پر نیا نہیں بلکہ ہماری اپنی روایات میں موجود ہے۔ اگر دیہی علاقوں کے پرانے جوہڑ دوبارہ بحال کر دیے جائیں، ان پر قبضے ختم کیے جائیں اور مقامی آبادی کو ان کی دیکھ بھال میں شریک کیا جائے تو نہ صرف زیرزمین پانی کی سطح بہتر ہو سکتی ہے بلکہ سیلابی خطرات بھی کم کیے جا سکتے ہیں۔اصل ضرورت سوچ بدلنے کی ہے۔ جب تک ویٹ لینڈز کو بیکار زمین سمجھا جاتا رہے گا، ان کا تحفظ ممکن نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ زمین نہیں بلکہ پانی، ماحول، زراعت، جنگلی حیات اور انسانی زندگی کے محافظ ہیں۔ آج اگر ہم نے ان قدرتی آبی نظاموں کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش نہ کی تو آنے والی نسلوں کو صرف پانی کی کمی ہی نہیں بلکہ زیادہ تباہ کن سیلاب، بڑھتی ہوئی آلودگی اور شدید موسمی خطرات کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔قدرت نے پاکستان کو پانی محفوظ رکھنے کے بے شمار قدرتی طریقے عطا کیے تھے، مگر ہم نے ترقی کے نام پر انہی محافظوں کو ختم کر دیا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ایک بار پھر جوہڑوں، دلدلی علاقوں، سیلابی میدانوں اور مینگرووز کی اہمیت کو سمجھیں۔ کیونکہ جب ویٹ لینڈز ختم ہوتے ہیں تو صرف تالاب خشک نہیں ہوتے، بلکہ ایک پوری قوم اپنی قدرتی حفاظتی ڈھال سے محروم ہو جاتی ہے۔

ایک واقعہ

ایک واقعہ

میری زندگی میں کوئی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا جس پر یہ اصرار ہو کہ میں اسے ضرور یاد رکھوں۔ مجھے اپنے بارے میں یہ خوش فہمی بھی ہے کہ کسی اور کی زندگی میں کوئی ایسا واقعہ پیش نہ آیا ہوگا جس کا تعلق مجھ سے رہا ہو اور وہ اسے بھول نہ گیا ہو۔ میں تو اس درجہ بدنصیب سر پھرا ہوں کہ لکھتے وقت یہ بھی بھول جاتاہوں کہ ادب میں صرف 'اشتراکیت‘ ترقی پسندی کی علامت ہے، اس کا سبب کیا ہے، مجھے بالکل نہیں معلوم، مجھے اس کی فکر بھی نہیں کہ معلوم کروں۔ اگر آپ اس کے درپے ہیں کہ کوئی نہ کوئی وجہ دریافت کرلیں تو پھر صبر کیجیے اور اس وقت کا انتظار کیجیے، جب میں عزیزوں اور دوستوں سے زیادہ خوش حال اور نیک نام ہوجاؤں یا مجھ پر غبن یااغوا کا مقدمہ دائر ہوجائے۔ اس وقت آپ میرے عزیزوں یا دوستوں ہی سے میرے بارے میں ایسے واقعات سن لیں گے جو مجھ پر گزرے ہوں یا نہیں، آپ خود ان کو کبھی نہ بھلائیں گے۔ اربابِ ریڈیو نے مجھے اس پر مامور کیا ہے کہ آپ کو کوئی واقعہ سناؤں ضرور، اور میں سناؤں گا بھی ضرور۔زیادہ دنوں کی بات ہے، میں دلّی آرہا تھا۔ جس ڈبے میں مجھے جگہ ملی وہ خلاف توقع اتنابھرا ہوا نہ تھا جتنا کہ ریلوے والے چاہتے تھے۔ یہ بات بھی میں بھول نہیں سکتا لیکن اس اعتبار سے ڈبہ بھرپور تھا کہ اس میں ہرجنس، ہرعمر اورہر طرح کے لوگ موجود تھے۔ ایک اسٹیشن پر گاڑی رکی تو ایک بوڑھا کسان بھی گرتا پڑتا داخل ہوا۔ زندگی میں اس طرح کے بڈھے کم دیکھے گئے ہیں، بڑی چوڑی چکلی ہڈی، بہت لمبا قد لیکن اس طورپر جھکا ہوا جیسے بڑھاپے میں قد سنبھلتا نہ تھا اس لیے جھک گیا تھا۔ جسم پر کچھ ایسا گوشت نہ تھا لیکن اس کی شکل اور نوعیت کچھ اس طرح کی تھی کہ اس کے دیکھنے سے اس کے چھولینے کا احساس ہوتا تھا جیسے گوشت اور چمڑے کے بجائے مصنوعی اور مرکب ربر وغیرہ قسم کی کوئی چیز منڈھ دی گئی ہو۔ سخت ناہموار موسم پروف ہی نہیں، رگڑ پروف بھی۔ ہتھیلی اور اس سے متصل انگلیوں کی سطح ایسی ہوگئی تھی کہ جیسے کچھوے کی پیٹھ کی ہڈی کے چھوٹے بڑے ٹکڑوں کی پچے کاری کردی گئی ہو۔ میرے دل میں کچھ وہم سا پیدا ہوا جیسے یہ آدمی نہ تھا۔ کھیت، کھاد، ہل، بیل، مرض، قحط، فاقہ، سردی، گرمی، بارش سب نبٹنے اور اپنی جیسی کرگزرنے کی ایک ہندوستانی علامت سامنے آگئی ہو۔ڈبے میں کوئی ایسا نہ تھا جس نے اس کی پذیرائی اس طورپر نہ کی ہو جیسے کوئی معذور، مریل، خارشی کتا آگیا ہو۔بے دردی اور اپنی اپنی بڑائی بگھارنے کا ایسا بھونچال آیا کہ میں نے محسوس کیا کہ تعجب نہیں کہ ڈبہّ بغیر انجن کے چلنے لگے گا۔ نووارد کی نظر ایک دوسرے بڈھے پرپڑی جو شاید اس قسم کے سلوک سے دوچار ہوکر ایک گوشے میں سہما سمٹا اپنے ہی بستر پر جو فرش پڑاہوا تھا، دونوں یکجا ہوگئے آنے والا اپنی لٹھیا کے سہارے فرش پر اکڑوں بیٹھ گیا اور سر کو اپنے دونوں گھٹنوں میں اس طور سے ڈال لیا کہ دور سے کوئی اچٹتی ہوئی نظر ڈالے تو چونک پڑے کہ یہ کیسا شخص تھا جس کے کندھوں پر سر نہ تھا۔ شور اور ہنگامہ کم نہ ہوا تھاکہ گاڑی پلیٹ فارم سے سرکنے لگی۔ ایک کلکٹر صاحب نازل ہو گئے۔ ڈبے میں کچھ ایسے لوگ تھے جن کے پاس ٹکٹ نہ تھے۔ صرف قیمتی سگریٹ کیس، فاونٹین پن، گھڑی اور سونے کے بٹن تھے۔ ٹکٹ کلکٹر کو کسی نے سگریٹ پیش کیا، کسی نے دو بڑے بڑے انناس دیے، کسی نے اپنی ساتھی خاتون کا یوں تعارف کرایاکہ وہ بی اے پاس تھیں اورفلم میں کام کرتی تھیں۔ سب کو نجات مل گئی، بڈھا پکڑاگیا اور وہ سب جو ٹکٹ نہ لینے کے مواخذہ سے نجات پاچکے تھے، ٹکٹ کلکٹر کی حمایت میں بڈھے کو برا بھلا کہنے لگے اور وہی قصے پھر سے شروع ہوگئے۔ یعنی پھبتی، پھکڑ، گالی گلوج اور معلوم نہیں کیا کیا۔بڈھا بھوچکا تھا اور برابر کہے جارہا تھا کہ اس کے پاس کچھ نہیں ہے۔ وہ بڑی مصیبت اور تکلیف میں تھا۔ کسی کے پاؤں پکڑ لیتا، کسی کی دہائی دیتا۔ اس کی بیوہ لڑکی کا اکیلا نوعمر ناسمجھ لڑکا گھر سے خفا ہوکر دلی بھاگ گیا تھا۔ بغیر کچھ کھائے پیئے یا لیے، جس کے فراق میں ماں پاگل ہورہی تھی اور گھر کے مویشیوں کے گلے میں بانہیں ڈال ڈال کر روتی تھی، جس طرح بڈھا ہم سب کے پاؤں میں سر ڈال کر منتیں کرتا اور روتا تھا۔ گاؤں والے کہتے تھے کہ ماں پر آسیب ہے۔ بڈھا بے اختیار ہوہوکر کہتا تھا، حجور سچ مانوں میری بہو پاگل نہیں ہے، اس پر آسیب نہیں ہے، وہ تو میری خدمت کرتی تھی، ڈھور، ڈنگر کی دیکھ بھال کرتی ہے، کھیتی باڑی کابوجھ اٹھاتے ہوئے گھر کاسارا دھندا کرتی ہے۔ ٹکٹ کلکٹر نے ایک موٹی سی گالی دی اور بولا، ''ٹکٹ کے دام لا، بڑا بہو والا بنا ہے‘‘۔ بڈھا پھر گڑگڑانے لگا۔ اس پر کسی صاحب نے، جن کا لباس میلا، فاونٹین پن امریکن اور شکل بنجاروں جیسی تھی اور پتے پر سے انگلی سے چاٹ چاٹ کر دہی بڑے ختم کیے تھے، سنی ہوئی انگلی سے بالوں کو خلال کرتے ہوئے فرمایا، کیوں رے بڈھے! منہ پر آنکھ نہ تھی کہ ہمارے ڈبے میں گھس آیا۔ شریفوں میں کبھی تیرے پرکھا بھی بیٹھے تھے۔ بڈھا گھگھیا کر بولا، ''بابو! سراپھوں ہی کو دیکھ کر چلا آیا، سراپھ دیالو ہوتے ہیں۔ تمہارے چرنوں میں سکھ اور چھایا ہے، تھرڈکلاس میں گیاتھا۔ ایک نے ڈھکیل دیا گرپڑا۔ بہونے بچے کیلئے ایک نئی ٹوپی اور کچھ سوکھی جلیبی دی تھی جوانگوچھا میں بندھی تھی کہ لونڈا بھوکا ہوگا، دے دینا۔ ٹوپی پہن کر جلیبی کھائے گا تو خوشی کے مارے چلاآئیگا۔ ہڑبڑ میں نہ جانے کس نے انگوچھیا ہتھیالی‘‘۔ٹکٹ کلکٹر نے سگریٹ کاآخری ٹکڑاکھڑکی کے باہر پھینکا اور فیصلہ کن انداز سے کھڑے ہوکر فیصلہ دیا۔ بڈھا تو یوں نہ مانے گا، اچھا کھڑا ہوجا اور جامہ تلاشی دے ورنہ لے چلتا ہوں ڈپٹی صاحب ہاں، جو پاس کے ڈبے میں موجود ہیں اور ایسوں کو جیل خانے بھیج دیتے ہیں۔ بڈھا جلد تلاشی کیلئے اس خوشی اور مستعدی سے تیار ہوگیا جیسے بے زری اور ناکسی نے بڑے آڑے وقت میں بڑے سچے دوست یا بڑے کاری اسلحہ کا کام کیا تھا۔ اب دوسرے بڈھے سے نہ رہا گیا۔ اس نے کہا، '' بابو صاحب بڈھے نے برا کیا جو اس ڈبے میں چلا آیا اور ٹکٹ نہیں خریدا لیکن اس کو سزا بھی کافی مل چکی ہے۔ اب ماردھاڑ ختم کردیجئے، بڈھا بڑا دکھی معلوم ہوتاہے‘‘۔

آج تم یاد بے حساب آئے!اداکار تنویر جمال پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کا درخشاں ستارہ (2022-1960ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!اداکار تنویر جمال پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کا درخشاں ستارہ (2022-1960ء)

٭...30جون 1960ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔گریجویشن کے بعد بطور ماڈل فنی کریئر کا آغاز کیا۔٭...اعلیٰ تعلیم فرانس سے حاصل کی،جاپان میں بھی بطور ماڈل کام کیا اور جاپانی لڑکی سے شادی کی۔٭...1989ء میں پہلی بار بطور اداکر ڈرامہ ''جانگلوس‘‘میں جلوہ گر ہوئے اور ملک گیر شہرت حاصل کی۔ ٭...35سالہ کریئر میں درجنوں لازوال ڈراموں میں کام کیا، مقبول ڈراموں میں ''جناح ٹو قائد،سمجھوتہ، بابر، جنم جلی ، جلتا سورج، ہم تم، خلش، راز الفت، مہلت‘‘ شامل ہیں۔٭... بہترین اداکاری پر پی ٹی وی کی جانب سے بیسٹ ایکٹر کے ایوارڈ سے نوازاگیا۔٭...1993ء میں اپنی ذاتی پروڈکشن کمپنی کی بنیاد رکھی ، ایکشن سے بھرپور میگا ڈرامہ سیریل ''گاڈ فادر‘‘ کو ڈائریکٹ اور پروڈیوس کیا۔یہ ڈرامہ پاکستان اور جاپان میں ریکارڈ کیا گیا۔٭...اداکار کے علاوہ وہ سکواش کے ایک بہترین کھلاڑی بھی تھے۔ سینماٹو گرافی اور پینٹنگ کے بھی ماہر تھے۔٭...مختلف کاروبار بھی کیے جو ناکام ہوئے، کروڑوں کا نقصان ہوا لیکن کسی سے تکلیف بیان نہیں کی۔٭... وہ پاکستان اور جاپان سے بہت محبت کرتے تھے، پاکستان کے کئی بڑے فنکاروں کو جاپان لے کر گئے۔٭...بدقسمتی سے ان کی دو فلمیں تیار ہونے کے باوجود ریلیز نہ ہوسکیں ۔٭...وہ 35سال شوبز کی دنیا سے وابستہ رہے، اس دوران اداکاری کے ساتھ ڈائریکشن اور پروڈکشن بھی کی۔٭...2016ء میں پہلی دفعہ کینسر کا مرض تشخیص ہوا تھا تاہم فوری طور پر آپریشن کے بعد کینسر کو ان کے جسم سے نکال دیا گیا تھا۔٭... 2021ء میں انہیں ایک دفعہ پھر کینسر کے مرض نے آگھیرا۔٭...13 جولائی 2022ء کو ٹوکیو میں وفات پائی۔

آج کا دن

آج کا دن

ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ13جولائی 2024ء کو امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ ٹرمپ ریاست پنسلوانیا کے شہر بٹلر میں انتخابی جلسے سے خطاب کر رہے تھے کہ اسی دوران ایک مسلح شخص نے ان پر فائرنگ کر دی۔ قاتلانہ حملے میں گولی ان کے دائیں کان کو چھوتی ہوئی گزر گئی، جس سے وہ زخمی ہوگئے۔ حملے کے نتیجے میں جلسے میں موجود ایک شخص ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ حملہ آور کو موقع پر ہی سکیورٹی اہلکاروں نے ہلاک کر دیا۔ برطانوی وزیر اعظم کیمرون مستعفی برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے 13جولائی 2016ء کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے یہ فیصلہ یونائیٹڈ کنگڈم یورپیئن یونین ممبرشپ ریفرنڈم میں یورپی یونین سے علیحدگی (بریگزٹ) کے حق میں آنے والے نتائج کے بعد کیا، کیونکہ وہ یورپی یونین میں برطانیہ کی رکنیت برقرار رکھنے کے حامی تھے۔ ان کے استعفے کے بعد تھریسا مے نے برطانیہ کی نئی وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالا ۔مصنوعی ذہانت13جولائی 1956ء مصنوعی ذہانت پر ڈارٹ ماؤتھ ریسرچ پراجیکٹ کا آغاز ہوا۔ یہ موسم گرما کی ایک ورکشاپ تھی جسے مصنوعی ذہانت کا بانی بھی سمجھا جاتا ہے۔ اس ایونٹ سے دنیا میں مصنوعی ذہانت پر بحث کا آغاز ہوا تھا۔یہ ورکشاپ تقریباً چھ سے آٹھ ہفتوں تک جاری رہی۔ یہ بنیادی طور پر ایک سیشن تھا جس میں مصنوعی ذہانت کی صلاحیت پر بات کی گئی تھی۔ ایونٹ کو گیارہ ریاضی دانوں اور سائنسدانوں نے ڈیزائن کیا تھا۔جرمنی فٹ بال کا چیمپئن بنا13جولائی2014ء کو کھیلے گئے فیفا ورلڈ کپ 2014 کے فائنل میں جرمنینے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ارجنٹائن کو اضافی وقت میں 0-1 سے شکست دے کر چوتھی مرتبہ عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ فائنل کا واحد اور فیصلہ کن گول جرمنی کے کھلاڑی میریو گوٹز نے میچ کے 113ویں منٹ میں کیا۔ جرمنی نے یورپ سے باہر پہلی بار ورلڈ کپ جیت کر نئی تاریخ رقم کی۔اوگاڈن کی جنگ13جولائی1977ء میں ایتھوپیا اور صومالیہ کے درمیان جنگ کا آغاز ہوا ، اس جنگ کو اوگاڈن کی لڑائی بھی کہتے ہیں۔ یہ1977ء سے 1978ء تک ایتھوپیا کے علاقے اوگاڈن میں لڑی جانے والی لڑائی تھی۔اس لڑائی نے جنگ کی صورتحال اس وقت اختیار کی جب صومالیہ نے اوگاڈن پر باقاعدہ حملہ کیا۔ اسی وجہ سے اسے اس وقت کی بڑی طاقت سوویت یونین کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے سپر پاور نے صومالیہ کی حمایت ختم کردی اور اس کی بجائے ایتھوپیا کی حمایت کرنے کا اعلان کیا۔ برلن معاہدہبرلن معاہدہ بنیادی طور پر آسٹریا، ہنگری، فرانس، جرمنی، برطانیہ، آئرلینڈ، اٹلی، روس اور سلطنت عثمانیہ کے درمیان مشرق میں معاملات کے حل کیلئے کیا گیا معاہدہ تھا۔ اس معاہدے پر 13 جولائی 1878ء کو دستخط کیے گئے۔ 1877ء تا 1878ء کی روس اورترک جنگ میں سلطنت عثمانیہ کے خلاف روسی فتح کے بعد بڑی طاقتوں نے بلقان کے علاقے کے نقشے کی تشکیل نو کی اور اس کے ساتھ ہی عثمانیوں نے یورپ میں اپنی بڑی ملکیت کھو دی۔ راؤنڈوے کی لڑائیراؤنڈ وے ڈاؤن کی جنگ 13 جولائی 1643ء کو پہلی انگریزی خانہ جنگی کے دوران ولٹ شائر میں ڈیوائز کے قریب لڑی گئی۔ آکسفورڈ سے ساری رات سفر کرنے کے بعد تعداد میں بہت زیادہ اور تھک جانے کے باوجود، لارڈ ولموٹ کے ماتحت ایک رائلسٹ کیولری فورس نے سر ولیم والر کے ماتحت مغرب کی پارلیمنٹرین آرمی پر زبردست فتح حاصل کی۔اس جنگ کو ان کی سب سے فیصلہ کن فتح کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ رائلسٹوں نے جنوبی مغربی انگلینڈ کا کنٹرول حاصل کر لیا جو 1645ء کے آخر تک ان کے پاس رہا۔

مسوڑھوں سے خون!

مسوڑھوں سے خون!

گردوں کی بیماری کا خاموش انتباہ؟انسانی جسم اکثر بڑی بیماریوں کے بارے میں ابتدا ہی میں کچھ ایسے اشارے دے دیتا ہے جنہیں ہم معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ مسوڑھوں سے خون آنا بھی ایک ایسی ہی علامت ہے، جسے اکثر لوگ صرف دانتوں کی صفائی یا مسوڑھوں کی سوزش کا مسئلہ سمجھتے ہیں۔ تاہم جدید طبی تحقیق نے اس عام علامت کو ایک نہایت سنگین بیماری، یعنی گردوں کے مہلک امراض سے بھی جوڑ دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق مسوڑھوں کی خراب صحت نہ صرف منہ کے امراض بلکہ جسم میں بڑھتی ہوئی سوزش، انفیکشن اور گردوں کے افعال میں خرابی کی بھی عکاسی کر سکتی ہے۔ اگر اس علامت کو بروقت سنجیدگی سے لیا جائے اور مناسب طبی معائنہ کرایا جائے تو گردوں کی بیماری کی ابتدائی مرحلے میں تشخیص ممکن ہو سکتی ہے، جس سے پیچیدگیوں، ڈائیلاسز اور جان لیوا نتائج سے بچنے کے امکانات بھی نمایاں طور پر بڑھ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اب منہ اور دانتوں کی صحت کو مجموعی جسمانی صحت کا ایک اہم آئینہ قرار دے رہے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق تقریباً ہر دو میں سے ایک بالغ فرد کسی نہ کسی درجے کی مسوڑھوں کی بیماری کا شکار ہے۔ اس بیماری کی علامات میں مسوڑھوں کا سوج جانا، دانت صاف کرتے وقت خون آنا اور مسوڑھوں میں جلن یا حساسیت شامل ہیں۔عام طور پر مسوڑھوں کی بیماری کی بنیادی وجہ منہ اور دانتوں کی مناسب صفائی نہ کرنا ہوتی ہے۔ جب دانتوں پر ڈینٹل پلاک یا جراثیمی تہہ جمع ہو کر سخت ہو جاتی ہے تو یہ مسوڑھوں میں جلن، سوزش اور انفیکشن پیدا کرتی ہے، جس کے نتیجے میں خون آنا شروع ہو سکتا ہے۔تاہم اب ماہرین کا کہنا ہے کہ مسوڑھوں کی بیماری صرف منہ کی صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ کسی زیادہ سنگین بیماری، خصوصاً گردوں کی خرابی، کی ابتدائی علامت بھی ہو سکتی ہے۔جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں محققین نے چھ ہزار سے زائد افراد کے دانتوں کے طبی ریکارڈ کا جائزہ لیا۔ تحقیق کے دوران انہیں شدید مسوڑھوں کی بیماری اور گردوں کی ابتدائی خرابی کے درمیان ایک تشویشناک تعلق ملا۔تحقیق کے مطابق جن افراد کے گردے معمول کے مطابق کام کر رہے تھے، ان میں سے صرف 14 فیصد شدید مسوڑھوں کی بیماری میں مبتلا تھے۔اس کے برعکس جن افراد کے گردوں کی کارکردگی درمیانے درجے تک متاثر ہو چکی تھی، ان میں شدید مسوڑھوں کی بیماری کی شرح بڑھ کر 35 فیصد سے بھی زیادہ ہو گئی۔یہ نتائج ان بڑھتے ہوئے سائنسی شواہد میں ایک اہم اضافہ ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منہ اور دانتوں کی صحت کا تعلق صرف زبانی امراض تک محدود نہیں بلکہ یہ انسان کی مجموعی جسمانی صحت، خصوصاً گردوں جیسے اہم اعضا کی کارکردگی، پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔اس سے قبل بھی متعدد طبی تحقیقات یہ ثابت کر چکی ہیں کہ مسوڑھوں کی بیماری کے باعث پیدا ہونے والی دائمی سوزش کئی سنگین امراض، مثلاً دل کی بیماریوں اور ذیابیطس کے خطرے میں اضافہ کر سکتی ہے۔تازہ تحقیق جو معروف سائنسی جریدے انٹرنیشنل جرنل آف اورل سائنس میں شائع ہوئی، میں جرمنی کے ہیمبرگ سٹی ہیلتھ اسٹڈی کے تحت شامل 6,179 افراد کے گردوں کی صحت کا طویل عرصے تک جائزہ لیا گیا۔ تحقیق کے آغاز میں تمام شرکاء کا نہایت تفصیلی دندان سازی کا معائنہ کیا گیا تاکہ مسوڑھوں کی بیماری کی علامات کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔اس کے بعد ان کے گردوں کی صحت کا مختلف طبی ٹیسٹوں کے ذریعے تجزیہ کیا گیا، جن میں جسم میں موجود دائمی سوزش اور گردوں کی کارکردگی سے متعلق اہم اشاریوں کا بھی جائزہ شامل تھا۔تحقیق کے نتائج انتہائی اہم اور توجہ طلب ثابت ہوئے۔ محققین نے دریافت کیا کہ مسوڑھوں کی خراب صحت اور گردوں کی کارکردگی میں مسلسل کمی کے درمیان واضح اور مستقل تعلق موجود ہے۔جن افراد کے جسم میں البیومن (Albumin) نامی پروٹین کی مقدار زیادہ پائی گئی، ان میں مسوڑھوں کی شدید بیماری کا امکان بھی زیادہ تھا۔ طبی ماہرین کے مطابق جب گردے متاثر ہوتے ہیں تو یہ پروٹین پیشاب میں خارج ہونے لگتی ہے، اس لیے پیشاب میں البیومن کی موجودگی گردوں کے نقصان کی ایک اہم علامت سمجھی جاتی ہے۔تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ منہ کی صحت سے متعلق دیگر مسائل، مثلاً دانتوں کا گر جانا اور دانتوں کو سہارا دینے والے بافتوں (Tissues) کی تباہی، گردوں کی صحت بگڑنے کے ساتھ ساتھ مزید سنگین ہوتی چلی جاتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ محققین نے اپنی تحقیق میں عمر، جنس، ذیابیطس اور تمباکو نوشی جیسے معروف خطراتی عوامل کو بھی مدنظر رکھا، لیکن اس کے باوجود مسوڑھوں کی بیماری اور گردوں کی خرابی کے درمیان تعلق برقرار رہا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تعلق محض اس وجہ سے نہیں کہ کمزور عمومی صحت رکھنے والے افراد دونوں بیماریوں کا بیک وقت شکار ہو جاتے ہیں، بلکہ ان دونوں امراض کے درمیان واقعی ایک سائنسی ربط موجود ہے۔سائنس دانوں کا خیال ہے کہ دائمی سوزش وہ بنیادی عنصر ہو سکتی ہے جو مسوڑھوں کی بیماری اور گردوں کے امراض کو آپس میں جوڑتی ہے۔ مسلسل سوزش نہ صرف مسوڑھوں کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ خون کے ذریعے پورے جسم میں پھیل کر گردوں سمیت دیگر اہم اعضا کی کارکردگی کو بھی متاثر کر سکتی ہے، جس کے باعث مختلف پیچیدہ بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ جن افراد کو مسوڑھوں کی شدید بیماری اور گردوں کی کارکردگی میں کمی دونوں مسائل لاحق تھے، ان کے خون میں ایسے پروٹینز کی مقدار زیادہ پائی گئی جو جسم میں دائمی سوزش کی نشاندہی کرتے ہیں۔تاہم تحقیقاتی ٹیم اس نتیجے پر بھی پہنچی کہ صرف سوزش کی بلند سطح اس تعلق کی مکمل وضاحت نہیں کر سکتی۔