اقبال حسن کا عروج زوال

 اقبال حسن کا عروج زوال

اسپیشل فیچر

تحریر :


پاکستانی سینما میں جب پنجابی فلموں کا تذکرہ آئے گا تو ایک نام اداکار’’اقبال حسن‘‘ کا ضرور ہوگا۔ جنہوں نے برسوں شائقین فلم کے دلوں پر راج کیا۔ یہ لاہور کے اندرون گیٹ میں پیدا ہونے والے متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ فن کار گھرانہ تھا۔ اقبال حسن کے بڑے بھائی خورشید حسن بھی اداکار تھے اور چاہتے تھے کہ اقبال حسن جلد اپنے پیروں پر کھڑا ہوجائے،خورشید حسن نے ان کو ایک کیمرہ مین کا اسسٹنٹ بنادیا۔ فنی زندگی کی ابتداء ٹرالی مین سے کی۔ ٹرالی کھینچ کھینچ کر جب اقبال حسن کو احساس ہْوا کہ منزل دور ہوتی جاری ہے تو اپنے استاد سے کہا کہ مجھے لائٹیں سیٹ کرنا سکھائیں۔ استاد نے انہیںیہ طریقہ سمجھا دیا۔ لیکن اس کے باوجود دل مطمئن نہ تھا۔ انہوں نے یونٹ میں رہ کر 1965ء میں پہلی بار اپنے بہنوئی کہانی نویس آغا حسن امتثال کی بحیثیت فلمساز پہلی پنجابی فلم ’’پنجاب دا شیر‘‘ میں اکمل اور نغمہ کے ساتھ کام کیا۔ لیکن اس فلم سے ان کوکوئی کریڈٹ نہ مل سکا۔ وہ فن کار کے طور پر اپنا مقام بنانا چاہتے تھے۔ ان کے استاد ہدایت کار ریاض احمد نے انہیں پنجابی فلم ’’سسّی پنّوں‘‘ میں مرکزی کردار د ے دیا۔ اس فلم میں سسّی اداکارہ نغمہ تھیں۔ ابھی یہ فلم زیر تکمیل تھی کہ ہدایت کار حیدر چوہدری کی فلم ’’سوہنا‘‘ میں ہیرو کاسٹ کرلیے گئے۔ دونوں فلمیں تیزی سے تکمیل کے مراحل طے کررہی تھیں۔ریاض احمد کوشش کررہے تھے کہ ان کی فلم پہلے ریلیز ہوجائے لیکن فلم ’’سوہنا‘‘ پہلے ریلیز ہوگئی۔ فلم ’’سسّی پنّوں‘‘ بھی ایک کام یاب فلم کے طور پر سامنے آئی، ایسے وقت میں جب پنجابی فلموں میں اکمل، یوسف خان اور حبیب جیسے کام یاب اداکارموجود تھے ان اسٹارز کی موجودگی میں اپنا نام بنانا بے حد مشکل نظر آرہا تھا لیکن اقبال حسن ان سب میں ایک نمایاں فن کار کی حیثیت سے سامنے آئے۔ اس کے بعد بے شمار کام یاب پنجابی فلموں میں کام کیا جن میں دھی رانی، خان چاچا، میراخون، نشان، عشق میرا ناں، بھولا سجن، یار مستانے، وحشی جٹ، ہتھکڑی، شوکن میلے دی، وحشی گجر ان کی کام یاب فلموں میں شامل ہیں۔ ان کی اردو زبان میں صرف تین فلمیں ہی ریلیز ہوسکیں۔ حالاں کہ وہ اردو فلموں میں بھی کام کرنا چاہتے تھے۔ ہدایت کار ریاض شاہد کی اردو فلم ’’یہ امن‘‘ جو کشمیر کے موضوع پر مبنی فلم تھی جس میں انہوںنے کشمیری حریت پسند کا کردار کمال خوبی سے ادا کیا۔ جب خود فلم پروڈیوس کی تو اردو فلم ’’بدلے گی دنیا ساتھی‘‘ بنائی جس میں محمد علی اور زیبا کے ساتھ اپنے چھوٹے بھائی ’’تنظیم حسن‘‘ کو پہلی بار فلم میں کام کرنے کا موقع دیا۔ تنظیم حسن نے بہت سی فلموں میں کام کیا لیکن اپنے بھائی اقبال حسن کی طرح شہرت و مقبولیت حاصل نہ کرسکے۔ اقبال حسن کا ستارہ گردش میں آیا تو فلم سازوں نے آنکھیں پھیر لیں اس وقت پنجابی سینما پر سلطان راہی چھائے ہوئے تھے۔ ایسے میں اقبال حسن کو فنی زندگی میں دوسری بار اپنے آپ منوانے کی ضرورت پیش آئی۔ اپنے وقت کی کامیاب ترین فلم مولا جٹ کے ہدایت کار یونس ملک نے 1980ء میں پنجابی فلم ’’شیر خان‘‘ بنانے کا اعلان کیا۔ یونس ملک اس فلم میں ’’شیر خان‘‘ کا مرکزی کردار اداکار حبیب کو دینا چاہتے تھے۔ لیکن حبیب نے یہ کردار کرنے سے معذرت کرلی۔ حبیب کے علاوہ محمد علی اس کردار کے لیے مناسب تھے لیکن وہ اردو فلموں میں مصروفیات کی وجہ سے پنجابی فلم میںکام نہیں کرسکتے تھے۔ یونس ملک اس کردار کے لیے کوئی منجھا ہوا اداکار چاہیے تھا۔ ان کے پاس کوئی چوائس نہ تھی۔ ایسے میں اقبال حسن اس کردار میں منتخب کرلیے گئے۔ اس فلم میں ان کے ساتھ سلطان راہی کے علاوہ اداکارہ انجمن کسی پنجابی فلم میں پہلی بار ہیروئن آرہی تھیں۔ یونس ملک کی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ اقبال حسن کو کتنا معاوضہ ادا کریں۔ اس لیے کہ اقبال حسن پنجابی فلموں میں اپنا مقام گنواچکے تھے اب وہ صرف اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ واپس لانا چاہ رہے تھے۔ یونس ملک اور اقبال حسن میں ایک معاہدہ ہوا کہ اگر فلم کام یاب ہوئی تو ان کو منہ مانگی رقم ادا کی جائے گی اور اگر ناکام رہی تو معاوضہ نہیں دیا جائے گا۔ فلم مکمل ہوئی اور1981ء عید الفطر کا دن بھی آیا ،جب لاہور میں ایک ساتھ پنجابی زبان کی پانچ فلمیں ’’شیر خان‘‘ نغمہ سینما کے علاوہ ہدایت کار الطاف حسین کی فلم’’سالا صاحب‘‘میٹروپول سینما، ہدایت کار جہانگیر قیصر کی فلم ’’چن وریام‘‘ گلستان سینما، ہدایت کار کیفی کی فلم’’ملے گاظلم دا بدلہ‘‘محفل سینما اور ہدایت کار حیدر چوہدری کی فلم ’’چاچا بھتیجا‘‘ شبستان سینما میںریلیز ہوئیں ان پانچوں فلموں میںشیر خان اور سالا صاحب نے نمایاں کامیابی حاصل کی۔ جمعہ 15اپریل 1983ء کو ہدایت کار الطاف حسین کی پنجابی فلم ’’صاحب جی‘‘ ریلیز ہوئی تو ’’شیر خان‘‘ مرکزی سینما پر ڈیڑھ سال تک چلنے کے بعد اتارلی گئی۔ یہ فلم 300 سے زائد ہفتے تک چلی۔ اس فلم سے فلم ساز کو بے حد منافع حاصل ہوا۔ جب اقبال حسن کو معاوضہ دینے کی بات آئی تو یونس ملک نے نوٹوں سے بھرا بریف کیس ان کے سامنے رکھ دیا اور کہا کہ جتنے پیسے لے سکتے ہو لے لو۔ اس پر اقبال حسن نے دولت کے انبار سے صرف اتنے ہی نوٹ سمیٹے کہ جو ان کے ہاتھوں میں سماسکے اور ساتھ یہ کہا کہ بس یہی دولت میرے نصیب کی ہے۔ ان کی یہ اعلیٰ ظرفی آج بھی یاد کی جاتی ہے۔ فلم ’’شیر خان‘‘ کے مرکزی کردار نے ان کو دوبارہ فن کی بلندیوں پر پہنچا دیا اور یہ کردار اقبال حسن کے روپ میں ایک حقیقت بن گیا۔ اقبال حسن کی زندگی کا آخری دن 14 نومبر 1984ء کا تھا جب وہ اپنے دوست اور ساتھی اداکار اسلم پرویز کے ساتھ کار میں جارہے تھے کہ یہ حادثے کا شکار ہوگئی۔ اقبال حسن کا تو اسی وقت انتقال ہوگیا جب کہ اسلم پرویز جو شدید زخمی تھے ٹھیک ایک ہفتے بعد اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
مینڈکوں کی دیوانی امریکی خاتون

مینڈکوں کی دیوانی امریکی خاتون

13 ہزار اشیاء جمع کر کے نیا عالمی ریکارڈ بنا دیادنیا میں شوق رکھنے والوں کی کمی نہیں، مگر بعض افراد کا شوق اس قدر منفرد ہوتا ہے کہ وہ ان کی پہچان بن جاتا ہے۔ امریکا سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے مینڈکوں سے اپنی غیر معمولی محبت کو محض پسند تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے زندگی بھر کے شوق میں بدل دیا۔ انہوں نے برسوں کے دوران مینڈکوں سے متعلق 13 ہزار سے زائد اشیاء جمع کرلیں، جن میں مختلف نوعیت کی یادگاری اور آرائشی چیزیں شامل ہیں۔ ان کا یہ حیرت انگیز ذخیرہ دنیا کے سب سے بڑے مینڈکوں سے متعلق مجموعوں میں شمار ہوتا ہے، جو ان کے منفرد ذوق، محنت اور غیر معمولی لگن کی دلچسپ داستان بیان کرتا ہے۔مینڈک عام طور پر ایسے جانوروں میں شمار ہوتے ہیں جنہیں دیکھ کر بہت سے لوگ خوش ہونے کے بجائے گھبرا جاتے ہیں، لیکن اس امریکی خاتون کیلئے مینڈک محض ایک جانور نہیں بلکہ دلچسپی اور خوشی کا ذریعہ ہیں۔ ان کی زندگی میں مینڈکوں کی موجودگی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ ان سے متعلق مختلف اشیاء ان کے گھر اور ذاتی مجموعے کا نمایاں حصہ بن چکی ہیں۔ چھوٹی بڑی یادگاری اشیاء جمع کرنے کے اس منفرد شوق نے انہیں ایک ایسے مقام تک پہنچا دیا جہاں ان کا مجموعہ دیکھنے والے حیران رہ جاتے ہیں۔سوزن برگوس (Susan Burgos) مینڈکوں کی دیوانی ہیں اور وہ بھی اس حد تک کہ ان کے گھر میں مینڈک ہی مینڈک دکھائی دیتے ہیں۔ درحقیقت انہیں مختلف اقسام کی مینڈکوں سے متعلق اشیاء جمع کرنے کا جنون ہے۔خاتون کے پاس باضابطہ طور پر دنیا میں مینڈکوں سے متعلق اشیاء کا سب سے بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ ان کے پاس ایسی حیرت انگیز طور پر 13,201 اشیاء ہیں، جنہیں انہوں نے کیلیفورنیا کے شہر کیمارِیلو میں واقع اپنے گھر میں جمع کر رکھا ہے۔یہ ذخیرہ اتنا بڑا ہے کہ ان کے گھر میں ننھے سبز مینڈکوں سے متعلق اشیاء ہر طرف نظر آتی ہیں۔درحقیقت ان کا ذخیرہ اس قدر وسیع ہو چکا ہے کہ تمام اشیاء رکھنے کیلئے انہیں ایک دوسرا گھر خریدنا پڑا، جس میں ایک بڑا گیراج بھی موجود ہے، تاکہ ان کی پوری کلیکشن کو مناسب جگہ مل سکے۔جنوری میں اس ریکارڈ کی باضابطہ تصدیق کی گئی، جس کے بعد سوزن برگوس نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔ اس سے پہلے دنیا میں مینڈکوں سے متعلق اشیاء کا سب سے بڑا ذخیرہ 10,502 اشیا پر مشتمل تھا، جو برطانیہ کی شیلا کراؤن(Sheila Crown) کے پاس تھا۔ یہ ریکارڈ آج نمایاں کرنے کیلئے بھی نہایت موزوں ہے، کیونکہ آج ہی گنیز ورلڈ ریکارڈز 2027ء کی باضابطہ اشاعت کا دن ہے۔ اس کتاب کا سرورق بھی انتہائی دلکش چمکدار سبز رنگ کا ہے، جو مینڈکوں کی اس حیرت انگیز دنیا کی خوب یاد دلاتا ہے۔سوزن نے 1983ء میں مینڈکوں سے متعلق اشیاء جمع کرنا شروع کیں، جب ایک روز انہیں اپنے باورچی خانے میں درخت پر رہنے والا ایک ننھا سا مینڈک نظر آیا۔انہوں نے بتایا کہ اس ننھے مینڈک نے میرا دل موہ لیا۔ اس نے مجھے تحریک دی اور میں نے اپنی کلیکشن کی پہلی چیز خریدی، جو زمرد جیسی سبز آنکھوں والی سونے کی مینڈک کی انگوٹھی تھی۔ اس کے بعد سے سوزن جہاں بھی جاتی ہیں، اپنی کلیکشن میں شامل کرنے کیلئے نئی اشیاء تلاش کرتی رہتی ہیں۔ سفر کے دوران بھی ان کی نظر ایسی منفرد چیزوں پر رہتی ہے، جبکہ اکثر مختلف کیٹلاگز کے صفحات بھی الٹتی رہتی ہیں تاکہ اپنے مینڈکوں کے منفرد خاندان میں شامل کرنے کیلئے بہترین اشیاء تلاش کر سکیں۔نرم و ملائم کھلونوں سے لے کر آرائشی اشیاء، گھریلو استعمال کی چیزوں اور ملبوسات تک، سوزن نے تقریباً ہر قابلِ تصور چیز کا مینڈکوں کی تھیم والا نمونہ تلاش کرلیا ہے۔یہی نہیں، ان کے پاس مینڈکوں سے متعلق کرسمس کی اتنی زیادہ سجاوٹی اشیاء بھی موجود ہیں کہ وہ اپنے کرسمس ٹری کو مکمل طور پر ان ہی سے سجا سکتی ہیں۔تاہم، ان ہزاروں اشیاء میں سوزن کی ایک پسندیدہ چیز بھی ہے۔جب ان سے کہا گیا کہ وہ اپنی کلیکشن میں سے صرف ایک پسندیدہ چیز کا انتخاب کریں تو انہوں نے بتایاکہ میرے ذہن میں فوراً ایک موٹر سائیکل پر سوار گانے والے اینیمیٹڈ مینڈک کا خیال آتا ہے، جو 'کوکومو‘ گانا بجاتا ہے۔ یہ گانا معروف امریکی میوزک بینڈ دی بیچ بوائز کا ہے۔13 ہزار سے زائد مینڈکوں سے متعلق اشیاء کی مالک سوزن کیلئے، جیسا کہ توقع کی جا سکتی ہے، اپنی اس وسیع و عریض کلیکشن کو محفوظ رکھنے اور اس کیلئے مناسب جگہ بنانا سب سے بڑا چیلنج ہے۔

جینزی، برقی گاڑیوں کی دیوانی

جینزی، برقی گاڑیوں کی دیوانی

دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور نئی نسل کے رجحانات بھی اس تبدیلی کی عکاسی کر رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی سے گہری وابستگی رکھنے والی جنریشن زی کے نوجوان اب نقل و حمل کے روایتی ذرائع کو بھی نئے زاویے سے دیکھنے لگے ہیں۔ ایک حالیہ جائزے میں انکشاف ہوا ہے کہ تقریباً ایک چوتھائی نوجوانوں کے نزدیک پیٹرول سے چلنے والی گاڑی رکھنا اب اتنا ہی فرسودہ تصور ہے جتنا کسی گھر میں لینڈ لائن فون رکھنا۔ یہ نوجوان ماحول دوست ٹیکنالوجی اور جدید طرزِ زندگی کو ترجیح دیتے ہوئے الیکٹرک گاڑیوں کو مستقبل کی سواری سمجھتے ہیں، جس سے گاڑیوں کی دنیا میں آنے والی بڑی تبدیلی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔جینزی کے نوجوان مقبول اشیاء کو ''رد‘‘ کرنے کے حوالے سے خاص شہرت رکھتے ہیں، اور اب ان کا تازہ فیصلہ شاید سب سے زیادہ اختلاف پیدا کرنے والا ہو۔ایک نئے سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ تقریباً ایک چوتھائی نوجوانوں کا خیال ہے کہ پیٹرول سے چلنے والی گاڑی رکھنا اتنا ہی فرسودہ ہوچکا ہے جتنا لینڈ لائن فون رکھنا۔''ای اون نیکسٹ‘‘ کی جانب سے کرائے گئے اس سروے میں 1,500 نوجوان ڈرائیوروں سے گاڑیوں کے بارے میں ان کی آرا معلوم کی گئیں۔نتائج سے معلوم ہوا کہ اب نصف سے زیادہ، یعنی 55فیصد نوجوان چاہتے ہیں کہ ان کی پہلی گاڑی الیکٹرک وہیکل (ای وی) ہو۔ الیکٹرک گاڑیوں کے ماہر رابرٹ لیولین کا کہنا ہے کہ یہ نسل اس مفروضے کے ساتھ بڑی نہیں ہو رہی کہ ان کی پہلی گاڑی لازماً پیٹرول سے چلنے والی ہوگی۔ وہ آج دستیاب سہولتوں اور گاڑیوں کو دیکھتے ہوئے عملی انتخاب کر رہے ہیں۔آج پہلے کے مقابلے میں الیکٹرک گاڑیوں کے کہیں زیادہ ماڈلز دستیاب ہیں، گاڑی حاصل کرنے کیلئے نسبتاً سستے طریقے موجود ہیں اور گھر پر چارجنگ کے ذریعے اخراجاتِ سفر کم رکھنے کا موقع بھی ملتا ہے۔بہت سے نوجوان ڈرائیوروں کیلئے الیکٹرک گاڑی رکھنا مستقبل کے حوالے سے محض ایک علامتی فیصلہ نہیں بلکہ آج کے حالات میں سب سے زیادہ مناسب اور معقول انتخاب ہے۔سروے کیلئے ای اون نیکسٹ نے 17 سے 20 سال عمر کے 1,500 برطانوی نوجوانوں سے الیکٹرک اور پیٹرول گاڑیوں کے بارے میں ان کی رائے دریافت کی۔الیکٹرک گاڑی خریدنے کی خواہش کی سب سے بڑی وجہ اخراجات میں کمی تھی، جس کا ذکر 20 فیصد نوجوانوں نے کیا، جبکہ 19 فیصد نے گھر پر آسانی سے گاڑی چارج کرنے کی سہولت کو اہم وجہ قرار دیا۔پانچ میں سے ایک نوجوان نے کہا کہ وہ خود کو کبھی پیٹرول گاڑی چلاتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے، جبکہ تقریباً دو تہائی نوجوانوں کا خیال ہے کہ ان کی زندگی ہی میں پیٹرول اور ڈیزل گاڑیاں ختم ہوجائیں گی۔24 فیصد نوجوانوں نے یہاں تک کہا کہ وہ نئی پیٹرول یا ڈیزل گاڑی نہیں خریدیں گے، جبکہ 53 فیصد کا کہنا تھا کہ وہ شاید ایسی گاڑیاں معمول کے مطابق چلانے والی آخری نسل ہوں گے۔''ای اون نیکسٹ‘‘ کی پروپوزیشنز ڈائریکٹر گرین ریگن کے مطابق نصف سے زیادہ نوجوان ڈرائیور اپنی پہلی گاڑی الیکٹرک چاہتے ہیں اور واضح طور پر ایسا لگتا ہے کہ ان کا یہ فیصلہ درست سمت میں ہے۔ ایندھن کے مقابلے میں پہلے سال میں 890 پاؤنڈ تک بچت اور رات کے وقت گھر پر صرف 8 پاؤنڈ میں چارجنگ کی سہولت کے باعث الیکٹرک گاڑی نئی نسل کے ڈرائیوروں کیلئے بتدریج زیادہ قابلِ رسائی انتخاب بنتی جا رہی ہے۔یہ نتائج حیران کن بھی ہوسکتے ہیں، کیونکہ ایک حالیہ سروے میں انکشاف ہوا تھا کہ جینزی کے بہت سے نوجوان گاڑی چلانے سے خوفزدہ ہیں۔ٹیمپ کور کی جانب سے ماہرین نے نوجوانوں سے ان عام ڈرائیونگ اور موٹرنگ کے کاموں کے بارے میں سروے کیا جنہیں وہ سب سے زیادہ مشکل اور خوفناک سمجھتے ہیں۔پنکچر ہونے کی صورت میں ٹائر تبدیل کرنا نوجوان ڈرائیوروں کا سب سے بڑا خوف سامنے آیا، جبکہ متوازی پارکنگ، چڑھائی پر گاڑی اسٹارٹ کرنا اور موٹروے پر دوسری سڑک سے شامل ہونا بھی سیکڑوں نوجوان ڈرائیوروں کیلئے انتہائی خوفناک ثابت ہوا۔یہ نتائج جینزی کے بہت سے نوجوانوں کیلئے حیران کن نہیں ہوں گے، کیونکہ وہ باقاعدگی سے ٹک ٹاک پر گاڑی چلانے سے متعلق اپنے خوف اور پریشانیوں کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔آرٹیمس الیکسس کے مطابق''جب آپ کسی نئی جگہ گاڑی لے جانے والے ہوں اور آپ کو وہاں پارکنگ کے بارے میں کچھ معلوم نہ ہو تو اچانک گھبراہٹ طاری ہوجاتی ہے‘‘۔روملی جین نے کہا: ''لوگ ہمیشہ سمجھتے ہیں کہ میں بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہوں، لیکن یہ واقعی بہت خوفناک ہے۔ مجھے یہ بالکل پسند نہیں‘‘۔''جن زی‘‘ کو گاڑی چلانے کے دوران سب سے زیادہ خوفپنکچر ٹائر تبدیل کرنا 36 فیصدبیٹری ختم ہونے پر گاڑی اسٹارٹ کرنا 36 فیصدمتوازی پارکنگ کرنا 24 فیصدگیراج میں ٹائر کا دباؤ چیک کرکے ہوا بھرنا 22 فیصدچڑھائی پر گاڑی اسٹارٹ کرنا 22 فیصدانجن آئل کی سطح چیک کرنا 20 فیصدانشورنس کمپنی کو فون کرنا یا کلیم دائر کرنا 19 فیصدموٹروے پر گاڑی چلانا 18 فیصدموٹروے پر دوسری سڑک سے شامل ہونا 18 فیصدگاڑی خراب ہونے کی صورت میں امدادی کمپنی کو فون کرنا 18 فیصد

آج تم یاد بے حساب آئے! میجر راجہ عزیز بھٹی شہید جنگ ستمبر65کا ہیرو (1965-1928ء)

آج تم یاد بے حساب آئے! میجر راجہ عزیز بھٹی شہید جنگ ستمبر65کا ہیرو (1965-1928ء)

٭... 6اگست1928ء کو ہانگ کانگ میں پیدا ہوئے۔٭...ان کے والد رائو عبداللہ ہانگ کانگ میں پولیس میں ملازمت کرنے کے ساتھ ساتھ درس و تدریس کے شعبے سے منسلک تھے ۔بڑے بھائی نذیر احمد بھٹی بھی ایک استاد تھے۔ ٭...میٹرک تک تعلیم ہانگ کانگ میں حاصل کی، بعد میں کوئنز کالج میں داخلہ لے لیا۔٭...قیام پاکستان سے قبل ان کے خاندان نے ضلع گجرات کے گاؤں لادیاں میں رہائش اختیار کی۔٭...21 جنوری 1948ء کو پنجاب رجمنٹ میں سیکنڈ لیفٹیننٹ کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی۔ ٭...1950ء میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کے پہلے ریگولر کورس کی پاسنگ آوٹ پریڈ میں انہیں بہترین کیڈٹ کے اعزازکے ساتھ شمشیر اعزازی اور نارمن گولڈ میڈل کے اعزاز سے نوازا گیا۔٭... 1952 ء میں اعلیٰ فوجی ٹریننگ کیلئے کینیڈا بھی گئے۔ ٭...1957ء سے 1959ء تک جی ایس سیکنڈ آپریشنز کی حیثیت سے جہلم اور کوہاٹ میں خدمات سر انجام دیں۔ ٭...1960ء سے1962ء تک پنجاب رجمنٹ جبکہ 1962ء سے1964ء تک انفنٹری سکول کوئٹہ سے وابستہ رہے۔ ٭...جنوری 1965 ء سے مئی 1965ء تک سیکنڈ کمانڈر کے طورپر خدمات سرانجام دیں۔٭...6 ستمبر 1965ء کو جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو میجر عزیز بھٹی لاہور سیکٹر میں برکی کے علاقے میں کمپنی کی کمان کررہے تھے۔ ٭...میجر راجہ عزیز بھٹی شہید نے سترہ پنجاب رجمنٹ کے اٹھائیس افسروں سمیت پانچ دن اور پانچ راتوں تک دشمن کے ہر وار کو ناکام بنائے رکھا۔٭...12ستمبر کو ایک گولہ ان کے سینے کے آرپار ہوگیا۔ جس سے وہ موقع پر ہی شہید ہوگئے۔٭...وطن کی خاطر اپنی جان نثار کرنے پر انہیں پاکستان کا سب سے بڑا فوجی اعزاز نشان حیدر دیا گیا، جو 23 مارچ 1966ء کو ان کی اہلیہ نے وصول کیا۔ عزیز بھٹی شہید یہ اعزاز حاصل کرنے والے پاکستان کے تیسرے سپوت تھے۔

آج کا دن

آج کا دن

جنگ ستمبر: ٹینکوں کا حملہ پسپا 1965ء میں آج کے روز پاک بھارت جنگ کے دوران افواج پاکستان نے چونڈہ (پسرور) کے محاذ پر ٹینکوں کا بڑا حملہ پسپا کیا ، اس لڑائی میں دشمن کے 187 ٹینک تباہ ہوئے۔ بین الاقوامی مبصرین نے جنگ عظیم کے بعد اسے ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ قرار دیا۔آج ہی کے دن کھیم کرن میں بھارتی فوج کے لیفٹیننٹ کرنل اننت سنگھ نے تین سو سپاہیوں کے ساتھ پاکستانی فوج کے سامنے ہتھیار ڈالے۔ خلائی تحقیق کا نیا سنگ میل2013ء میں ناسا نے تصدیق کی کہ خلائی تحقیقاتی مشن ''وائجر 1‘‘ نظامِ شمسی سے باہر بین النجمی خلا میں داخل ہونے والی انسان کی بنائی ہوئی پہلی شے بن گیا ہے۔ یہ تاریخی کامیابی خلائی تحقیق کے میدان میں اہم سنگ میل قرار دی گئی۔ اس کامیابی سے سائنسدانوں کو نظامِ شمسی کی حدود اورماحول کے بارے میں اہم معلومات حاصل ہوئیں۔فرانس:قدیم غار دریافتفرانس میں12 ستمبر 1940ء کو 17 ہزار سالہ پرانا غار ''لاسکاو‘‘ دریافت ہوا۔یہ قدیم فن پاروں کی سب سے محفوظ شکلوں میں سے ایک ہے۔ غار میں600 پینٹگز اور ایک ہزار نقش نگاریاں ملیں۔1963ء میں دیواروں پر فنگس آنے کی وجہ سے اسے بند کر دیا گیا ۔ 1979ء میں اس غار کو یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا۔ انڈونیشیا کے زلزلے12ستمبر2007ء کو انڈونیشیا کے جزیرے سماٹرا میں دو شدید زلزلے آئے، جن کی شدت ریکٹر اسکیل پر بالترتیب 8.4 اور 7.9 ریکارڈ کی گئی۔ ان طاقتور زلزلوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی اور عمارتوں و دیگر املاک کو نقصان پہنچا۔ قدرتی آفت کے باعث 25 افراد جاں بحق جبکہ 161 زخمی ہوئے۔ بارودفیکٹری تباہ12ستمبر1634ء کو مالٹا کے شہر والیٹا میں بارود بنانے والی ایک فیکٹری دھماکے سے تباہ ہو گئی۔ اس دھماکے میں 22افراد ہلاک اور متعدد عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔یہ کارخانہ شہر میں غلاموں کی جیل کے قریب بنایا گیا تھا۔ دھماکے سے قریبی جیسوئٹ چرچ اور کالج کو نقصان پہنچا۔ چرچ کو 1647ء میں دوبارہ تعمیر کیا گیا۔ائیر فرانس حادثہ12 ستمبر 1961ء کی ایئر فرانس کی پرواز 2005ء اورلی ہوائی اڈے سے کاسا بلانکا ہوائی اڈے کیلئے ایک طے شدہ بین الاقوامی مسافر پرواز تھی۔جہا ز رن وے سے تقریباًآٹھ کلومیٹر دور گر کر تباہ ہو گیا۔جہاز میں موجود تمام77افراد ہلاک ہو گئے۔ جہاز میں عملے کے 6ارکان بھی سوار تھے۔ یہ حادثہ موسم خراب ہونے کی وجہ سے پیش آیا۔سارہ گڑھی کی لڑائیسارہ گڑھی کی لڑائی برطانوی راج اور افغان قبائلیوں کے درمیان لڑی گئی۔12ستمبر 1897ء کو 12 سے24 ہزار افغانیوں نے سارہ گڑھی کی چوکی پر حملہ کیا اور قلعہ کو گھیرے میں لے لیا۔ قلعہ میں موجود 21 سپاہیوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ دو دن بعد برطانوی ہندوستانی دستہ نے دوبارہ قلعہ پر قبضہ کر لیا۔ ان 21 فوجیوں کو بعد از مرگ ''انڈین آرڈر آف میرٹ‘‘ سے نوازا گیا، جو اس وقت ایک ہندوستانی فوجی کو ملنے والا سب سے بڑا بہادری اعزاز تھا۔

انٹرنیشنل سوڈوکو ڈے

انٹرنیشنل سوڈوکو ڈے

ذہنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے والا دنہر سال 9 ستمبر کو دنیا بھر میں انٹرنیشنل سوڈوکو ڈے (International Sudoku Day) منایا جاتا ہے۔ یہ دن دنیا کے مقبول ترین ذہنی کھیلوں میں شمار ہونے والے سوڈوکو کی اہمیت، مقبولیت اور ذہنی سرگرمی کے طور پر اس کے کردار کو اجاگر کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ سوڈوکو بظاہر اعداد کاایک سادہ سا کھیل ہے لیکن اسے حل کرنے کے لیے توجہ، منطقی سوچ، صبر اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔انٹرنیشنل سوڈوکو ڈے کا انتخاب بھی دلچسپ وجہ سے کیا گیا۔ روایتی سوڈوکو 9×9 خانوں پر مشتمل ہوتا ہے اس لیے 9 ستمبر یعنی 9؍9 اس کھیل کے لیے ایک علامتی تاریخ بن جاتی ہے۔ ورلڈ پزل فیڈریشن نے 2013ء میں 9 ستمبر کو انٹرنیشنل سوڈوکو ڈے کے طور پر مقرر کیا تھا۔سوڈوکو کیا ہے؟سوڈوکو ایک منطق پر مبنی عداد کا کھیل ہے جس میں 9×9 کا گرڈ ہوتا ہے۔ یہ گرڈ مزید نو چھوٹے 3×3 خانوں میں تقسیم ہوتا ہے۔ کھلاڑی کو ایک سے 9 تک کے اعداد اس طرح رکھنے ہوتے ہیں کہ ہر قطار، ہر کالم اور ہر 3×3 خانے میں کوئی عدد دوبارہ نہ آئے۔ کچھ اعداد پہلے سے درج ہوتے ہیں اور انہی اشاروں کی مدد سے باقی خانے مکمل کیے جاتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سوڈوکو کو حل کرنے کے لیے ریاضی کے پیچیدہ فارمولوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اصل ضرورت منطق اور مشاہدے کی ہوتی ہے۔ یہی خصوصیت اسے بچوں، نوجوانوں اور بڑوں سب کے لیے قابلِ رسائی بناتی ہے۔سوڈوکو کی تاریخاگرچہ سوڈوکو کی موجودہ شکل نسبتاً جدید ہے لیکن اس کے بنیادی تصورات کا تعلق عداد پر مبنی پرانے کھیلوں سے ملتا ہے۔ 19ویں صدی کے آخر میں فرانس کے اخبارات میں ایسے معمے شائع ہوتے تھے جن میں موجودہ سوڈوکو سے کچھ مماثلت پائی جاتی تھی۔جدید سوڈوکو کے قریب ترین معمے کو Howard Garnsنے 1979ء میں Number Placeکے نام سے تخلیق کیا۔ بعد میں یہ جاپان پہنچا جہاں اسےSudoku کا نام دیا گیا۔ جاپانی پزل پبلشر اور سوڈوکو کے فروغ میں اہم کردار ادا کرنے والےMaki Kaji نے اس کھیل کو جاپان میں مقبول بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔1990ء کی دہائی کے آخر اور 2000ء کی دہائی کے آغاز میں سوڈوکو نے برطانیہ سمیت مغربی دنیا میں تیزی سے مقبولیت حاصل کی۔ اخبارات نے اسے روزانہ شائع کرنا شروع کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ ایک عالمی سطح پر معروف ذہنی کھیل بن گیا۔انٹرنیشنل سوڈوکو ڈے کی اہمیتاس دن کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ یہ لوگوں کو تفریح کے ساتھ ساتھ ذہنی سرگرمی میں حصہ لینے کی ترغیب دیتا ہے۔ آج کے دور میں جب موبائل فون، سوشل میڈیا اور مختصر ویڈیوز نے ہماری روزمرہ زندگی کا بڑا حصہ لے لیا ہے، سوڈوکو جیسی سرگرمی انسان کو کچھ دیر کے لیے پرسکون انداز میں سوچنے اور توجہ مرکوز کرنے کا موقع دیتی ہے۔سوڈوکو حل کرتے ہوئے کھلاڑی کو ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا پڑتا ہے۔ ایک غلط عدد کئی دوسرے خانوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس لیے یہ کھیل انسان کو جلد بازی کے بجائے غور و فکر اور صبر سے کام لینے کی عادت ڈالتا ہے۔یہ بچوں کے لیے بھی مفید سرگرمی ہو سکتی ہے کیونکہ اس کے ذریعے وہ منطقی انداز میں مسائل کو حل کرنے، امکانات کا جائزہ لینے اور اپنی غلطیوں سے سیکھنے کی مشق کرتے ہیں۔ بالغ افراد بھی اسے اپنے فارغ وقت میں ایک دلچسپ ذہنی مشق کے طور پر اختیار کرتے ہیں۔سوڈوکو صرف اعداد کا کھیل نہیںبہت سے لوگ سوڈوکو کو ریاضی کا کھیل سمجھتے ہیں لیکن حقیقت میں اسے حل کرنے کے لیے اعلیٰ درجے کی ریاضی ضروری نہیں۔ اس کا اصل تعلق منطق سے ہے۔مثلاً اگر کسی قطار میں ایک سے 9 تک آٹھ اعداد موجود ہوں تو کھلاڑی آسانی سے معلوم کر سکتا ہے کہ خالی خانے میں کون سا عدد ہونا چاہیے۔ مشکل پہیلیوں میں یہی عمل متعدد قطاروں، کالموں اور 3×3 خانوں کے درمیان تعلق کو سمجھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔اس طرح سوڈوکو توجہ، یادداشت، مشاہدے اور مسئلہ حل کرنے کی ذہنی مشق فراہم کرتا ہے۔ انٹرنیشنل سوڈوکو ڈے کیسے منایا جاتا ہے؟سوڈوکو ڈے منانے کے لیے کسی بڑی تقریب یا خاص انتظام کی ضرورت نہیں، اس دن کو انتہائی سادہ انداز میں بھی منایا جا سکتا ہے۔ سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ ایک سوڈوکو پزل حل کیا جائے۔ سکولوں میں سوڈوکو مقابلے بھی منعقد کیے جا سکتے ہیں۔ طلبہ کو مختلف سطح کے پزل دیے جا سکتے ہیں۔ اس سے بچوں میں منطقی سوچ اور مسائل حل کرنے کا شوق پیدا ہو گا ۔گھروں میں والدین اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر سوڈوکو حل کر سکتے ہیں۔ یہ خاندان کے افراد کو ایک مشترکہ ذہنی سرگرمی میں شامل کرنے کا اچھا طریقہ ہے۔آج سوڈوکو صرف اخبارات اور کتابوں تک محدود نہیں رہا، موبائل فون اور کمپیوٹر پر بے شمار سوڈوکو ایپس اور آن لائن پلیٹ فارم دستیاب ہیں جہاں آسان سے لے کر انتہائی مشکل پزل تک حل کیے جا سکتے ہیں۔انٹرنیشنل سوڈوکو ڈے ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تفریح ہمیشہ سکرین، ویڈیو یا گیمز تک محدود نہیں ہوتی۔ ایک کاغذ پر بنے 81 خانے بھی انسان کو گھنٹوں مصروف رکھ سکتے ہیں اور اسے سوچنے، غور کرنے اور مسئلہ حل کرنے کا موقع دے سکتے ہیں۔

ہیروشیما ایٹمی دھماکہ

ہیروشیما ایٹمی دھماکہ

ملبے سے ملنے والے نئے راز6 اگست 1945ء کو جاپانی شہر ہیروشیما پر گرایا جانے والا ایٹم بم انسانی تاریخ کے تباہ کن ترین واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ اس ایک دھماکے نے ہزاروں جانیں لیں، شہر کا بیشتر حصہ تباہ کردیا اور انسانی تاریخ پر ایک ایسا زخم چھوڑا جو آج بھی تازہ ہے۔ لیکن آٹھ دہائیوں بعد سائنسدانوں نے اس سانحے کے ملبے میں ایک ایسا غیر معمولی مادہ دریافت کیا ہے جو اس دھماکے کے انتہائی عجیب و غریب طبعی اثرات کی نئی تصویر پیش کرتا ہے۔محققین نے ہیروشیما کے ساحل کی ریت میں موجود شیشے جیسے انتہائی چھوٹے ذرات کا تجزیہ کیا۔ ان ذرات میں ایک تقریباً 10 مائیکرومیٹر چوڑا دھاتی دانہ ملا جس کی کیمیائی ترکیب اور ایٹمی ساخت پہلے کسی معلوم صنعتی مرکب یا سابقہ ایٹمی دھماکے کے ملبے میں رپورٹ نہیں ہوئی تھی۔ اس دریافت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایٹمی دھماکے صرف تباہی ہی نہیں بلکہ انتہائی مختصر وقت کے لیے ایسے حالات بھی پیدا کرسکتے ہیں جن میں غیر معمولی مادے وجود میں آجاتے ہیں۔ہیروشیما کے ملبے میں چھپے شیشے کے ذراتایٹمی دھماکے کے دوران پیدا ہونے والی شدید حرارت نے شہر کی عمارتوں، دھاتوں، مٹی، شیشے اور  دیگر مواد کو پگھلا کر یا بخارات میں تبدیل کرکے ایک دوسرے کے ساتھ ملا دیا۔ دھماکے کے بعد یہ مواد ٹھنڈا ہوا اور انتہائی چھوٹے شیشے جیسے ذرات کی شکل میں زمین پر واپس آیا۔ ان ذرات کو سائنسدان Hiroshimaites کہتے ہیں۔یہ ذرات دراصل ماضی کے اس تباہ کن لمحے کا ایک طرح کا مادی ریکارڈ ہیں۔ ان کے اندر مختلف دھاتوں اور دیگر مواد کے ذرات محفوظ رہ گئے جن سے سائنسدان یہ سمجھ سکتے ہیں کہ دھماکے کے دوران مادے کے ساتھ کیا ہوا تھا۔حالیہ تحقیق میں ماہرین نے ایسے 34 شیشہ نما ذرات کا جائزہ لیا۔ ان میں زیادہ تر دھاتی ٹکڑے لوہے اور کرومیم پر مشتمل تھے اور ان کی ساخت عام فولاد سے مشابہ تھی۔ لیکن ایک چھوٹا سا دانہ باقی سب سے مختلف نکلا۔اس دانے میں بنیادی طور پر آئرن، کرومیم، سلیکان، نکل، مولیبڈینم، مینگنیز اور ایلومینیم موجود تھے۔ صرف یہ بات اسے غیر معمولی نہیں بناتی کیونکہ مختلف دھاتوں پر مشتمل مرکبات پہلے بھی بنائے جاچکے ہیں۔ اصل حیرت اس وقت سامنے آئی جب سائنسدانوں نے دیکھا کہ ان عناصر کے ایٹم کس انداز میں ایک دوسرے کے ساتھ منظم ہوئے تھے۔عام فولاد سے بالکل مختلف ایٹمی ترتیبمحققین نے ان انتہائی چھوٹے ذرات کو خصوصی آلات کی مدد سے الگ کیا اور پھر ان کی اندرونی ساخت کا جائزہ لیا اور ایسے عناصر کا ایک ایسا غیر معمولی امتزاج اور ایٹمی انتظام دریافت کیا جو پہلے معلوم نہیں تھا۔سائنسدانوں کے مطابق اس غیر معمولی مرکب کی تشکیل کو سمجھنے کے لیے دھماکے کے چند لمحوں کے دوران پیدا ہونے والے حالات کو دیکھنا ہوگا۔ہیروشیما کے ایٹمی دھماکے میں درجہ حرارت ہزاروں ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچا۔ اس شدید توانائی نے آس پاس موجود مختلف مواد کو پگھلا دیا یا بخارات میں تبدیل کردیا۔ مختلف ذرائع سے آنے والے دھاتی ایٹم ایک انتہائی گرم بادل میں آپس میں مل گئے۔عام حالات میں مختلف عناصر کو اس طرح یکجا کرکے ایک خاص کرسٹل ساخت بنانا مشکل ہوسکتا ہے ۔ ایٹمی دھماکے کے بعد بننے والا آگ کا گولا تیزی سے پھیلنے اور ٹھنڈا ہونے لگا، اس عمل میں مخلوط دھاتی بخارات دوبارہ ٹھوس ذرات میں تبدیل ہوئے اور انتہائی تیز رفتار ٹھنڈک نے ان کے ایٹمی نظم کو تقریباً اسی حالت میں منجمد کردیا جس میں وہ اس مختصر لمحے میں موجود تھا۔ اسی عمل کوUltrafast quenching کہا جاتا ہے۔ تحقیق کے مطابق نیا مرکب غالباً مخلوط دھاتی بخارات کے گاڑھے ہونے اور پھر انتہائی تیزی سے ٹھنڈا ہونے کے نتیجے میں تشکیل پایا۔ ایٹمی دھماکہ اگرچہ ایک تباہ کن تجربہ تھا لیکن طبیعیات کے نقطہ نظر سے اس نے انتہائی کم وقت کے لیے ایسے حالات پیدا کیے جو عام تجربہ گاہ میں پیدا کرنا بہت مشکل ہیں۔ایک تباہ کن واقعے سے مستقبل کی سائنس تکاس دریافت کی اہمیت صرف اس عجیب و غریب دھاتی دانے تک محدود نہیں، یہ اس بات کا اشارہ بھی ہے کہ انتہائی شدید توانائی، درجہ حرارت اور تیز رفتار ٹھنڈک کے امتزاج سے مادے کی ایسی شکلیں پیدا ہوسکتی ہیں جو عام حالات میں نظر نہیں آتیں۔تحقیق کی ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں جب کسی ایٹمی دھماکے کے ملبے میں غیر معمولی مادہ دریافت ہوا ہو، اس سے قبل امریکی ریاست نیو میکسیکو میں 1945ء کے ٹرینٹی نیوکلیئر ٹیسٹ سے بننے والے شیشے نما ملبہ، جسے trinitite کہا جاتا ہے، میں بھی ایک غیر معمولی کرسٹل دریافت کیا جاچکا ہے۔ اس سے یہ امکان پیدا ہوتا ہے کہ ایٹمی دھماکوں کے ملبے میں مزید ایسے نایاب اور انتہائی چھوٹے مادے موجود ہوسکتے ہیں جنہیں ابھی سائنسدانوں نے دریافت نہیں کیا۔تاہم اس دریافت کو فوری طور پر کسی نئے صنعتی مادے یا مستقبل کی ٹیکنالوجی کا حل سمجھنا قبل از وقت ہوگا۔اس دریافت کا سب سے بڑا سبق شاید یہی ہے کہ مادہ ہماری توقع سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ ایک ہی عنصر مختلف حالات میں مختلف ساختیں اختیار کرسکتا ہے جبکہ کئی معروف عناصر انتہائی غیر معمولی حالات میں مل کر ایسی ترتیب بنا سکتے ہیں جو پہلے کبھی مشاہدے میں نہ آئی ہو۔ہیروشیما کا ملبہ انسانی تباہی کی ایک دردناک یادگار ہے لیکن اس میں محفوظ یہ خوردبینی ذرات سائنسدانوں کو یہ سمجھنے کا ایک نیا موقع فراہم کررہے ہیں کہ انتہائی شدید حالات میں مادہ کیسے تبدیل ہوتا ہے۔ تقریباً 81 سال پہلے رونما ہونے والے ایک تباہ کن واقعے کے اندر چھپا یہ 10 مائیکرومیٹر کا ذراتی راز آج جدید مواد کی سائنس کے لیے ایک حیران کن سوال بن چکا ہے۔