اقبال حسن کا عروج زوال

 اقبال حسن کا عروج زوال

اسپیشل فیچر

تحریر :


پاکستانی سینما میں جب پنجابی فلموں کا تذکرہ آئے گا تو ایک نام اداکار’’اقبال حسن‘‘ کا ضرور ہوگا۔ جنہوں نے برسوں شائقین فلم کے دلوں پر راج کیا۔ یہ لاہور کے اندرون گیٹ میں پیدا ہونے والے متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ فن کار گھرانہ تھا۔ اقبال حسن کے بڑے بھائی خورشید حسن بھی اداکار تھے اور چاہتے تھے کہ اقبال حسن جلد اپنے پیروں پر کھڑا ہوجائے،خورشید حسن نے ان کو ایک کیمرہ مین کا اسسٹنٹ بنادیا۔ فنی زندگی کی ابتداء ٹرالی مین سے کی۔ ٹرالی کھینچ کھینچ کر جب اقبال حسن کو احساس ہْوا کہ منزل دور ہوتی جاری ہے تو اپنے استاد سے کہا کہ مجھے لائٹیں سیٹ کرنا سکھائیں۔ استاد نے انہیںیہ طریقہ سمجھا دیا۔ لیکن اس کے باوجود دل مطمئن نہ تھا۔ انہوں نے یونٹ میں رہ کر 1965ء میں پہلی بار اپنے بہنوئی کہانی نویس آغا حسن امتثال کی بحیثیت فلمساز پہلی پنجابی فلم ’’پنجاب دا شیر‘‘ میں اکمل اور نغمہ کے ساتھ کام کیا۔ لیکن اس فلم سے ان کوکوئی کریڈٹ نہ مل سکا۔ وہ فن کار کے طور پر اپنا مقام بنانا چاہتے تھے۔ ان کے استاد ہدایت کار ریاض احمد نے انہیں پنجابی فلم ’’سسّی پنّوں‘‘ میں مرکزی کردار د ے دیا۔ اس فلم میں سسّی اداکارہ نغمہ تھیں۔ ابھی یہ فلم زیر تکمیل تھی کہ ہدایت کار حیدر چوہدری کی فلم ’’سوہنا‘‘ میں ہیرو کاسٹ کرلیے گئے۔ دونوں فلمیں تیزی سے تکمیل کے مراحل طے کررہی تھیں۔ریاض احمد کوشش کررہے تھے کہ ان کی فلم پہلے ریلیز ہوجائے لیکن فلم ’’سوہنا‘‘ پہلے ریلیز ہوگئی۔ فلم ’’سسّی پنّوں‘‘ بھی ایک کام یاب فلم کے طور پر سامنے آئی، ایسے وقت میں جب پنجابی فلموں میں اکمل، یوسف خان اور حبیب جیسے کام یاب اداکارموجود تھے ان اسٹارز کی موجودگی میں اپنا نام بنانا بے حد مشکل نظر آرہا تھا لیکن اقبال حسن ان سب میں ایک نمایاں فن کار کی حیثیت سے سامنے آئے۔ اس کے بعد بے شمار کام یاب پنجابی فلموں میں کام کیا جن میں دھی رانی، خان چاچا، میراخون، نشان، عشق میرا ناں، بھولا سجن، یار مستانے، وحشی جٹ، ہتھکڑی، شوکن میلے دی، وحشی گجر ان کی کام یاب فلموں میں شامل ہیں۔ ان کی اردو زبان میں صرف تین فلمیں ہی ریلیز ہوسکیں۔ حالاں کہ وہ اردو فلموں میں بھی کام کرنا چاہتے تھے۔ ہدایت کار ریاض شاہد کی اردو فلم ’’یہ امن‘‘ جو کشمیر کے موضوع پر مبنی فلم تھی جس میں انہوںنے کشمیری حریت پسند کا کردار کمال خوبی سے ادا کیا۔ جب خود فلم پروڈیوس کی تو اردو فلم ’’بدلے گی دنیا ساتھی‘‘ بنائی جس میں محمد علی اور زیبا کے ساتھ اپنے چھوٹے بھائی ’’تنظیم حسن‘‘ کو پہلی بار فلم میں کام کرنے کا موقع دیا۔ تنظیم حسن نے بہت سی فلموں میں کام کیا لیکن اپنے بھائی اقبال حسن کی طرح شہرت و مقبولیت حاصل نہ کرسکے۔ اقبال حسن کا ستارہ گردش میں آیا تو فلم سازوں نے آنکھیں پھیر لیں اس وقت پنجابی سینما پر سلطان راہی چھائے ہوئے تھے۔ ایسے میں اقبال حسن کو فنی زندگی میں دوسری بار اپنے آپ منوانے کی ضرورت پیش آئی۔ اپنے وقت کی کامیاب ترین فلم مولا جٹ کے ہدایت کار یونس ملک نے 1980ء میں پنجابی فلم ’’شیر خان‘‘ بنانے کا اعلان کیا۔ یونس ملک اس فلم میں ’’شیر خان‘‘ کا مرکزی کردار اداکار حبیب کو دینا چاہتے تھے۔ لیکن حبیب نے یہ کردار کرنے سے معذرت کرلی۔ حبیب کے علاوہ محمد علی اس کردار کے لیے مناسب تھے لیکن وہ اردو فلموں میں مصروفیات کی وجہ سے پنجابی فلم میںکام نہیں کرسکتے تھے۔ یونس ملک اس کردار کے لیے کوئی منجھا ہوا اداکار چاہیے تھا۔ ان کے پاس کوئی چوائس نہ تھی۔ ایسے میں اقبال حسن اس کردار میں منتخب کرلیے گئے۔ اس فلم میں ان کے ساتھ سلطان راہی کے علاوہ اداکارہ انجمن کسی پنجابی فلم میں پہلی بار ہیروئن آرہی تھیں۔ یونس ملک کی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ اقبال حسن کو کتنا معاوضہ ادا کریں۔ اس لیے کہ اقبال حسن پنجابی فلموں میں اپنا مقام گنواچکے تھے اب وہ صرف اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ واپس لانا چاہ رہے تھے۔ یونس ملک اور اقبال حسن میں ایک معاہدہ ہوا کہ اگر فلم کام یاب ہوئی تو ان کو منہ مانگی رقم ادا کی جائے گی اور اگر ناکام رہی تو معاوضہ نہیں دیا جائے گا۔ فلم مکمل ہوئی اور1981ء عید الفطر کا دن بھی آیا ،جب لاہور میں ایک ساتھ پنجابی زبان کی پانچ فلمیں ’’شیر خان‘‘ نغمہ سینما کے علاوہ ہدایت کار الطاف حسین کی فلم’’سالا صاحب‘‘میٹروپول سینما، ہدایت کار جہانگیر قیصر کی فلم ’’چن وریام‘‘ گلستان سینما، ہدایت کار کیفی کی فلم’’ملے گاظلم دا بدلہ‘‘محفل سینما اور ہدایت کار حیدر چوہدری کی فلم ’’چاچا بھتیجا‘‘ شبستان سینما میںریلیز ہوئیں ان پانچوں فلموں میںشیر خان اور سالا صاحب نے نمایاں کامیابی حاصل کی۔ جمعہ 15اپریل 1983ء کو ہدایت کار الطاف حسین کی پنجابی فلم ’’صاحب جی‘‘ ریلیز ہوئی تو ’’شیر خان‘‘ مرکزی سینما پر ڈیڑھ سال تک چلنے کے بعد اتارلی گئی۔ یہ فلم 300 سے زائد ہفتے تک چلی۔ اس فلم سے فلم ساز کو بے حد منافع حاصل ہوا۔ جب اقبال حسن کو معاوضہ دینے کی بات آئی تو یونس ملک نے نوٹوں سے بھرا بریف کیس ان کے سامنے رکھ دیا اور کہا کہ جتنے پیسے لے سکتے ہو لے لو۔ اس پر اقبال حسن نے دولت کے انبار سے صرف اتنے ہی نوٹ سمیٹے کہ جو ان کے ہاتھوں میں سماسکے اور ساتھ یہ کہا کہ بس یہی دولت میرے نصیب کی ہے۔ ان کی یہ اعلیٰ ظرفی آج بھی یاد کی جاتی ہے۔ فلم ’’شیر خان‘‘ کے مرکزی کردار نے ان کو دوبارہ فن کی بلندیوں پر پہنچا دیا اور یہ کردار اقبال حسن کے روپ میں ایک حقیقت بن گیا۔ اقبال حسن کی زندگی کا آخری دن 14 نومبر 1984ء کا تھا جب وہ اپنے دوست اور ساتھی اداکار اسلم پرویز کے ساتھ کار میں جارہے تھے کہ یہ حادثے کا شکار ہوگئی۔ اقبال حسن کا تو اسی وقت انتقال ہوگیا جب کہ اسلم پرویز جو شدید زخمی تھے ٹھیک ایک ہفتے بعد اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
کوارٹر ہارس ایم کے-1

کوارٹر ہارس ایم کے-1

کیا دنیا میک 5 کی رفتار سے سفر کے دور میں داخل ہو رہی ہے؟امریکی ایرو سپیس کمپنی Hermeus کے تجرباتی طیارے Quarterhorse Mk 1کی پہلی کامیاب پرواز نے فضائی سفر کی دنیا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اگرچہ یہ طیارہ ابھی ابتدائی آزمائشی مراحل میں ہے لیکن اس کی کامیاب پرواز کو مستقبل کے ایسے مسافر بردار جہازوں کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے جو آواز کی رفتار سے پانچ گنا زیادہ تیز یعنی میک 5 (Mach5) کی رفتار سے سفر کر سکیں گے ۔کوارٹر ہارس ایم کے1 کی پہلی کامیاب پروازگزشتہ برس 21 مئی کو ریاست کیلیفورنیا میں امریکی فضائیہ کے ایڈورڈز ایئر فورس بیس سے ہوئی۔پرواز کا مقصد طیارے کے ٹیک آف، لینڈنگ، کنٹرول سسٹمز، ایویونکس اور ایروڈائنامکس کی جانچ کرنا تھا۔ کوارٹر ہارس ایم کے1 مستقبل کے ہائپر سانک طیاروں کی تیاری کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔کمپنی کا بنیادی مقصد ایسا مسافر بردار طیارہ تیار کرنا ہے جو میک 5 کی رفتار سے پرواز کر سکے۔ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت صرف ایک نئے طیارے کی آزمائش نہیں بلکہ فضائی نقل و حمل میں ایک ممکنہ انقلاب کی بنیاد ہے۔ اگر اس منصوبے میں کامیابی ہو جاتی ہے تو اس صلاحیت کا حامل مسافر بردار طیارہ لندن سے نیویارک کا سفر محض ڈیڑھ گھنٹے کے قریب مکمل کر سکے گا جبکہ موجودہ طیاروں کو یہی فاصلہ طے کرنے میں سات سے آٹھ گھنٹے لگتے ہیں۔پہلی پرواز کیوں اہم ہے؟کوارٹر ہارس ایم کے 1نے اپنی پہلی پرواز امریکی فضائیہ کے مشہور تجرباتی مرکز ایڈورڈز ایئر فورس بیس سے کی۔ اس پرواز کا بنیادی مقصد انتہائی تیز رفتار پرواز سے پہلے طیارے کے بنیادی سسٹمز، ایویونکس، لینڈنگ گیئر، کنٹرول سسٹمز اور فضائی استحکام کا جائزہ لینا تھا۔کمپنی کے مطابق ایم کے1 ماڈل کو محض 19 ماہ میں ڈیزائن اور تیار کیا گیا،جو جدید ہوابازی کی صنعت میں غیر معمولی رفتار سمجھی جاتی ہے۔ اس منصوبے کی خاص بات یہ تھی کہ کمپنی روایتی انداز میں کئی سال تحقیق کرنے کے بجائے ''تیار کرو، آزماؤ اور سیکھو‘‘ کی حکمت عملی پر عمل کر رہی ہے۔رفتار اور تکنیکی خصوصیاتبنیادی طور پرایم کے 1 میک 5 کی رفتار کے لیے نہیں بنایا گیا مگر یہ مستقبل میں برق رفتار طیارے بنانے کے لیے ایک بنیاد فراہم کرنا ہے۔ موجودہ آزمائشی طیارہGE J85 ٹربوجیٹ انجن کا حامل ہے جو بنیادی پرواز اور سسٹمز کی جانچ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔تاہمHermeus کا اصل ہدف ایسے انجن تیار کرنا ہے جو کم رفتار پر عام جیٹ انجن کی طرح کام کریں اور پھر انتہائی تیز رفتار پر رام جیٹ (Ramjet) نظام میں تبدیل ہو جائیں۔ اس ٹیکنالوجی کوTurbine Based Combined Cycle (TBCC) کہا جاتا ہے۔میک 5 کی رفتار تقریباً 6,100 کلومیٹر فی گھنٹہ بنتی ہے اور اس رفتار پر پرواز کرنے والا طیارہ شدید حرارت اور فضائی دباؤ کا سامنا کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہائپرسانک طیاروں کی تیاری دنیا کے مشکل ترین انجینئرنگ منصوبوں میں شمار ہوتی ہے۔سب سے بڑا چیلنجہائپرسانک رفتار پر پرواز کرنے والے طیاروں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ انجن نہیں بلکہ حرارت ہوتی ہے۔ جب کوئی طیارہ میک 5 کی رفتار سے فضا میں سفر کرتا ہے تو اس کے اگلے حصے کا درجہ حرارت کئی سو ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔اس صورتحال میں عام ایلومینیم یا روایتی دھاتی ڈھانچے ناکافی ثابت ہوتے ہیں۔ اسی لیے انجینئرز کو خصوصی دھاتوں، جدید کمپوزٹس اور حرارت برداشت کرنے والے مواد کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ کوارٹر ہارس پروگرام انہی مسائل کے عملی حل تلاش کرنے کی ایک کوشش بھی ہے۔ مستقبل کا مسافر بردار طیارہکوارٹر ہارس پروگرام کا حتمی مقصد Halcyon نامی ایک ہائپرسانک مسافر بردار طیارہ تیار کرنا ہے۔ کمپنی کے ابتدائی تصورات کے مطابق یہ طیارہ تقریباً 20 مسافروں کو لے جانے کی صلاحیت کا حامل ہو گا اور میک 5 کی رفتار سے بین الاقوامی سفر کو موجودہ دور کے مقابلے میں کئی گنا مختصر بنا دے گا۔اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو نیویارک، لندن، ٹوکیو اور سنگاپور جیسے بڑے شہروں کے درمیان سفر کے اوقات نمایاں طور پر کم ہو جائیں گے۔تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ تجارتی سطح پر ہائپرسانک پروازیں شروع ہونے میں ابھی کئی سال لگ سکتے ہیں کیونکہ رفتار کے ساتھ ساتھ حفاظت، ایندھن کی لاگت، شور، ماحولیاتی اثرات اور سرکاری منظوری جیسے مسائل بھی حل کرنا ہوں گے۔مستقبل کی سمتکوارٹر ہارس ایم کے1 کی پہلی پرواز اگرچہ ابتدائی قدم ہے لیکن اس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ آنے والے برسوں میں سپرسانک اور پھر ہائپرسانک رفتار کے حامل مسافر طیارے بنانے میں کامیابی ہو سکتی ہے اور دنیا ایک بار پھر فضائی سفر کے ایسے انقلاب کی گواہ بن سکتی ہے جس کا خواب کانکورڈ کے دور کے بعد تقریباً ختم ہو چکا تھا۔اب نظریں Quarterhorse کے اگلے ماڈلز پر مرکوز ہیں کیونکہ انہی کی کامیابی یا ناکامی مستقبل کے میک 5 مسافر بردار جہاز Halcyon کی قسمت کا فیصلہ کرے گی۔

ورلڈ بائیسکل ڈے

ورلڈ بائیسکل ڈے

صحت مند معاشرے اور صاف ماحول کی جانب ایک قدم 3 جون کو دنیا بھر میں ورلڈ بائیسکل ڈے منایا جاتا ہے۔ اقوامِ متحدہ نے 2018ء میں اس دن کو عالمی سطح پر تسلیم کیا تاکہ سائیکل کی اہمیت، افادیت اور پائیدار نقل و حمل کے طور پر اس کے کردار کو اجاگر کیا جا سکے۔ بائیسکل صرف ایک سواری نہیں بلکہ صحت مند طرزِ زندگی، ماحولیاتی تحفظ اور معاشی بچت کا ایک مؤثر ذریعہ بھی ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں سائیکل کے استعمال کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے ۔ یہ نہ صرف صحت کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ اس کا کم خرچ ہونا ایک الگ خصوصیت ہے۔سائیکل انسانی تاریخ کی سب سے کامیاب اور ماحول دوست ایجادات میں شمار ہوتی ہے۔ دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک، خصوصاً نیدرلینڈز، ڈنمارک اور جرمنی میں لاکھوں افراد روزانہ دفتر، تعلیمی اداروں اور دیگر مقامات تک پہنچنے کے لیے آج بھی سائیکل استعمال کرتے ہیں۔پاکستان میں بھی چند دہائیاں قبل سائیکل عام سواری سمجھی جاتی تھی اور طلبہ، مزدور، کسان اور سرکاری ملازمین بڑی تعداد میں سائیکل پر سفر کیا کرتے تھے۔ پھر ہمارے ہاں موٹر سائیکل انقلاب آیا اور سائیکل قصہ پارینہ بن گئی۔ آج ورلڈ بائیسکل ڈے ہمیں اس مفید روایت کو دوبارہ زندہ کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔صحت مند زندگی کے لیے بہترین انتخابجدید دور میں جسمانی سرگرمیوں کی کمی کے باعث موٹاپا، دل کے امراض، ذیابیطس اور بلڈ پریشر جیسے مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ سائیکل چلانا ایک مکمل جسمانی ورزش ہے جو جسم کے مختلف حصوں کو متحرک کرتی ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق روزانہ 30 سے 45 منٹ سائیکل چلانے سے دل مضبوط ہوتا ہے، خون کی گردش بہتر ہوتی ہے اور جسمانی وزن متوازن رہتا ہے۔سائیکلنگ ذہنی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔ ورزش کے دوران جسم میں ایسے ہارمونز خارج ہوتے ہیں جو ذہنی دباؤ، بے چینی اور تھکن کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں صحت کے ماہرین سائیکلنگ کو ایک آسان اور مؤثر ورزش قرار دیتے ہیں۔ہمارے ہاں نوجوان نسل کا زیادہ وقت موبائل فون، کمپیوٹر اور دیگر ڈیجیٹل آلات کے استعمال میں گزرتا ہے۔ اگر بچے اور نوجوان روزانہ کچھ وقت سائیکل چلانے کے لیے مختص کریں تو ان کی جسمانی اور ذہنی نشوونما بہتر ہو سکتی ہے۔ماحولیاتی آلودگی میں کمی کا ذریعہدنیا اس وقت ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں سے خارج ہونے والی گیسیں فضائی آلودگی میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔ بڑے شہروں میں دھواں، شور اور ٹریفک جام روزمرہ زندگی کو متاثر کر رہے ہیں۔سائیکل ایک ماحول دوست سواری ہے جو کسی طرح بھی ماحول پر منفی اثر نہیں ڈالتی۔ اگر شہری علاقوں میں مختصر فاصلے طے کرنے کے لیے سائیکل کے استعمال کو فروغ دیا جائے تو فضائی آلودگی میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ بھی کم ہوگا اور ایندھن کی بچت ممکن ہو سکے گی۔ہمارے ملک کے بڑے شہروں جیسا کہ لاہور، کراچی، فیصل آباد اور دیگر بڑے شہروں کو فضائی آلودگی کے مسائل کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں سائیکلنگ کلچر کو فروغ دینا ماحول دوست مستقبل کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ سائیکل کلچر کے فروغ کی ضرورتاگرچہ سائیکل کے بے شمار فوائد موجود ہیں لیکن اس کے استعمال میں کئی رکاوٹیں بھی ہیں۔مثال کے طور پر شہروں میں سائیکل سواروں کے لیے مخصوص لینز کی کمی، سڑکوں کی نامناسب حالت اور ٹریفک کے مسائل لوگوں کو سائیکل استعمال کرنے سے روکتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتیں اور مقامی ادارے سائیکل دوست پالیسیاں متعارف کرائیں۔ تعلیمی اداروں، پارکوں اور عوامی مقامات پر سائیکلنگ کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ شہری منصوبہ بندی میں سائیکل ٹریکس شامل کیے جائیں تاکہ لوگ محفوظ انداز میں سفر کر سکیں۔اس کے ساتھ ساتھ والدین بھی اپنے بچوں کو سائیکلنگ کی طرف راغب کریں۔ سکولوں میں سائیکلنگ کے مقابلے، آگاہی مہمات اور کھیلوں کی سرگرمیاں اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ورلڈ بائیسکل ڈے ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ایک سادہ سی سائیکل صحت مند زندگی، صاف ماحول اور معاشی بچت کا بہترین ذریعہ بن سکتی ہے۔ بڑھتی ہوئی آلودگی، ٹریفک کے مسائل اور صحت کے چیلنجز کے پیش نظر سائیکلنگ کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر حکومت، تعلیمی ادارے اور عوام مل کر سائیکل کے استعمال کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں تو نہ صرف انفرادی صحت بہتر ہوگی بلکہ ایک صاف، صحت مند اور پائیدار معاشرہ بھی تشکیل پائے گا۔ یہی ورلڈ بائیسکل ڈے کا اصل پیغام ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

3 جون پلان3 جون 1947ء برصغیر کی تاریخ کا ایک نہایت اہم دن ہے کیونکہ اس روز برطانوی حکومت نے ہندوستان کی تقسیم کا منصوبہ پیش کیا تھا جسے 3 جون پلان کہا جاتا ہے۔ اس منصوبے کا اعلان برطانوی وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے کیا تھا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد برطانیہ کی حکومت کمزور ہو چکی تھی اور ہندوستان میں آزادی کی تحریک اپنے عروج پر تھی۔3 جون کے منصوبے کے مطابق پنجاب اور بنگال کی تقسیم، عوامی نمائندوں کی رائے اور سرحدوں کے تعین کیلئے خصوصی کمیشن قائم کرنے کی تجاویز دی گئیں۔اسی فیصلے کے نتیجے میں 14 اگست 1947ء کو پاکستان اور 15 اگست 1947ء کو بھارت آزاد ہوئے۔ انطاکیہ کی فتح3 جون 1098ء کو پہلی صلیبی جنگ کے دوران صلیبی افواج نے انطاکیہ کے عظیم اور تاریخی شہر پر قبضہ کر لیا۔ انطاکیہ اس وقت مشرقِ وسطیٰ کا ایک اہم فوجی، تجارتی اور مذہبی مرکز تھا۔ یہ شہر موجودہ ترکی کے جنوبی حصے میں واقع تھا اور اس پر سلجوقی مسلمانوں کی حکومت تھی۔صلیبی افواج نے تقریباً آٹھ ماہ تک انطاکیہ کا محاصرہ کیے رکھا۔آخرکار شہر کے ایک محافظ کی مدد سے صلیبی فوج شہر میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئی اور 3 جون 1098ء کو انطاکیہ پر قبضہ کر لیا گیا۔انطاکیہ کی فتح پہلی صلیبی جنگ کا ایک اہم موڑ ثابت ہوئی کیونکہ اس سے صلیبی افواج کا حوصلہ بلند ہوا اور انہیں بیت المقدس کی جانب پیش قدمی کا موقع ملا۔ پہلی امریکی خلائی چہل قدمی3 جون 1965ء کو امریکہ نے ناسا کے تحت جیمنی 4 (Gemini 4) مشن کا آغاز کیا جو خلائی تحقیق کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا کیونکہ اسی مشن کے دوران امریکی خلانورد نے پہلی مرتبہ خلا میں چہل قدمی کی۔ جیمنی 4 میں دو خلانورد شامل تھے۔ مشن کے دوران ایک خلا نورد خلائی جہاز سے باہر نکلا اور تقریباً 20 منٹ تک خلا میں رہا۔ یہ منظر پوری دنیا میں براہِ راست نشر کیا گیا اور لاکھوں لوگوں نے اسے دیکھا۔۔ جیمنی 4 مشن نے خلائی تحقیق میں نئی راہیں کھولیں اور امریکہ کی سائنسی ترقی کو عالمی سطح پر نمایاں کیا۔ آپریشن بلیو سٹار3 جون 1984ء کو بھارتی حکومت نے پنجاب میں آپریشن بلیو سٹار کا آغاز کیا۔ اس فوجی کارروائی کا مقصد امرتسر میں واقع سکھوں کے مقدس ترین مقام، گولڈن ٹیمپل، میں موجود مسلح افراد کو نکالنا تھا۔ 3 جون کو علاقے کا محاصرہ کیا گیا ۔ اس آپریشن میں ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور ہزاروں فوجی شامل تھے۔کارروائی کے دوران بڑی تعداد میں لوگ ہلاک ہوئے اور گولڈن ٹیمپل کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا جس پر دنیا بھر کی سکھ برادری نے شدید ردِعمل ظاہر کیا۔ اس واقعے کے چند ماہ بعد بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کو ان کے سکھ محافظوں نے قتل کر دیا۔فرانس پر جرمن فضائی حملے3 جون 1940ء دوسری جنگِ عظیم کے دوران ایک اہم دن تھا جب نازی جرمنی نے فرانس کے مختلف شہروں خصوصاً پیرس، پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے۔ اس وقت جرمن افواج مغربی یورپ میں تیزی سے پیش قدمی کر رہی تھیں اور فرانس کو شکست کے قریب پہنچا چکی تھیں۔ جرمن فضائیہ نے فرانسیسی دفاع کو کمزور کرنے کے لیے شدید بمباری کی۔ پیرس سمیت کئی شہروں میں تباہی پھیلی، عمارتیں منہدم ہوئیں اور بڑی تعداد میں شہری متاثر ہوئے۔ ان فضائی حملوں نے جرمن زمینی افواج کی پیش قدمی کو مزید آسان بنا دیا اور بالآخر 22 جون 1940ء کو فرانس نے جرمنی کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔

80 سال پرانا مسئلہ اور مصنوعی ذہانت کا حیران کن حل  جس نے ریاضی دانوں کو حیران کر دیا

80 سال پرانا مسئلہ اور مصنوعی ذہانت کا حیران کن حل جس نے ریاضی دانوں کو حیران کر دیا

مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ تو کر ہی رہی ہے لیکن گزشتہ ہفتے OpenAI کے اس انکشاف نے دنیا بھر کے ریاضی دانوں کو حیرت میں مبتلا کر دیا کہ اس کے ایک AI ماڈل نے معروف ریاضی دان پال ایرڈوش کے اُس مسئلے کا نیا حل تجویز کیا ہے جوتقریباً 80 سال سے ریاضی دانوں کے لیے معمہ بنا ہوا تھا۔ اس پیش رفت کو بعض ماہرین مصنوعی ذہانت کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل قرار دے رہے ہیں کیونکہ یہ محض تیز رفتار حساب کتاب ہی نہیں بلکہ ایک نئے ریاضیاتی ماڈل کی دریافت سے متعلق ہے۔یہ مسئلہ ہنگری کے معروف ریاضی دان پال ایرڈوش (Paul Erdos) نے 1946ء میں پیش کیا تھا۔ ایرڈوش بیسویں صدی کے عظیم ترین ریاضی دانوں میں شمار ہوتے ہیں اور انہوں نے ہزاروں ریاضیاتی مسائل اور نظریات پر کام کیا۔تاہم ان کا مذکورہ مسئلہ کئی دہائیوں تک دنیا بھر کے ریاضی دانوں کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔مسئلہ کیا تھا؟ایرڈوش نے سوال اٹھایا تھا کہاگر ایک ہموار سطح پر بہت سے نقطے لگائے جائیں تو ان نقطوں کے درمیان ایسے نقطوں کی جوڑیوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد کتنی ہو سکتی ہے جن کا باہمی فاصلہ بالکل ایک یونٹ ہو۔ ایسے دو نقاط جن کے درمیان فاصلہ ایک یونٹ ہو، یونٹ ڈسٹنس جوڑی (Unit Distance Pair) کہلاتے ہیں۔اس مسئلے کو Planar Unit Distance Problem کہا جاتا ہے اور بظاہر یہ ایک سادہ سا سوال معلوم ہوتا ہے لیکن اس کے پیچھے موجود ریاضی انتہائی پیچیدہ ہے۔ کئی دہائیوں تک ریاضی دان مختلف جیومیٹریکل ترتیبوں یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے رہے کہ زیادہ سے زیادہ کتنے نقاط اس انداز میں رکھے جا سکتے ہیں کہ ان کے درمیان ایک یونٹ فاصلے والے جوڑوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ ہو۔وقت گزرنے کے ساتھ ایک عمومی تصور قائم ہو گیا کہ سکوئر گرڈ (Square Grid)اس مسئلے کے لیے تقریباً بہترین حل فراہم کرسکتا ہے، اگرچہ اس تصور کو مکمل طور پر ثابت نہیں کیا جا سکا لیکن بیشتر ماہرین اسے درست مانتے تھے۔بہرکیف اس مسئلے سے متعلق کئی دہائیوں تک تحقیق جاری رہی۔مصنوعی ذہانت نے کیا نیا دریافت کیا؟ جب ایک جدید AI ماڈل کے ذریعے ریاضی کے اس مسئلے پر غور کیا گیا تو حیران کن طور پر اس ماڈل نے ایک ایسی نئی جیومیٹریکل شکل (Construction) تجویز کی جو مروجہ نظریات سے مختلف تھی۔اس نئی جیومیٹریکل شکل نے اس بات کے شواہد فراہم کیے ہیں کہ کئی دہائیوں سے رائج گرڈ سکوئر کا تصور مکمل طور پر درست نہیں تھا۔ دوسرے الفاظ میں AI نے ایک ایسا حل دریافت کیا جس نے پرانے اندازوں کو غلط ثابت کر دیا ہے۔مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت نے اس حل تک پہنچنے کے لیے ریاضی کے ایک نسبتاً غیر متوقع شعبے، Algebraic Number Theory، سے تعلق رکھنے والے خیالات استعمال کیے ہیں۔ عام طور پر اس مسئلے کے بارے میں سوچتے وقت ریاضی دان جیومیٹری پر زیادہ توجہ دیتے تھے لیکن AI نے مختلف ریاضیاتی شعبوں کے درمیان تعلق تلاش کرتے ہوئے ایک نئی راہ دریافت کی۔یہی وہ پہلو ہے جس نے ماہرین کو سب سے زیادہ متاثر کیا کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت بعض اوقات ایسے راستے تلاش کر سکتی ہے جن کے بارے میں انسانوں نے پہلے غور نہ کیا ہو۔ماہرین ِ ریاضی کا ردِعملاس پیش رفت پر دنیا کے کئی ممتاز ریاضی دانوں نے مثبت ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ معروف برطانوی ریاضی دان ٹموتھی گوورز (Timothy Gowers) جو فیلڈز میڈل حاصل کر چکے ہیں، نے کہا کہ اگر یہی نتیجہ کسی انسانی محقق کی جانب سے پیش کیا جاتا تو میں اسے اعلیٰ درجے کے جرنل میں شائع کرنے کی سفارش کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہ کرتا۔اسی طرح دیگر ماہرین نے بھی اس کام کو غیر معمولی قرار دیا ہے۔ بعض ریاضی دانوں کے مطابق یہ پہلی بار ہے کہ مصنوعی ذہانت نے ایسا ریاضیاتی نتیجہ پیش کیا ہے جو اپنی ذات میں تحقیقی اہمیت رکھتا ہے اور جسے صرف کمپیوٹر کی حسابی طاقت کا نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔اگرچہ بعد میں انسانی محققین نے اس دریافت کا تفصیلی جائزہ لیا اور مزید بہتریاں بھی تجویز کیں لیکن بنیادی خیال مصنوعی ذہانت کی جانب سے سامنے آیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کامیابی کو AI اور انسانی تحقیق کے اشتراک کی ایک اہم مثال سمجھا جا رہا ہے۔کیا مسئلہ مکمل طور پر حل ہو گیا؟یہاں ایک اہم نکتہ سمجھنا ضروری ہے کہ AI نے پورے Planar Unit Distance Problemکا مکمل حل پیش نہیں کیا اور مسئلہ اب بھی ریاضی دانوں کے لیے ایک چیلنج ہے اور اس کے کئی پہلو ابھی تحقیق طلب ہیں۔البتہ مصنوعی ذہانت نے اس مسئلے سے متعلق ایک معروف اندازے کو غلط ثابت کر کے تحقیق کا رخ موڑ دیا ہے۔ ریاضی کی دنیا میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی مسئلے کا مکمل حل حاصل ہونے سے پہلے کئی اہم جزوی نتائج سامنے آتے ہیں۔ یہ دریافت بھی انہی اہم سنگِ میل میں سے ایک تصور کی جا رہی ہے۔مستقبل میں مصنوعی ذہانت کا کرداراس پیش رفت نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ آیا مستقبل میں مصنوعی ذہانت سائنسی اور ریاضیاتی تحقیق میں ایک فعال معاون بن سکتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ AI انسانی محققین کی جگہ نہیں لے گی لیکن یہ پیچیدہ مسائل میں نئی راہیں اور غیر متوقع خیالات ضرور فراہم کر سکتی ہے۔ریاضی، فزکس ، بیالوجی اور دیگر سائنسی شعبوں میں ایسے بے شمار مسائل موجود ہیں جن پر کئی دہائیوں سے تحقیق جاری ہے۔ اگر مصنوعی ذہانت اسی رفتار سے ترقی کرتی رہی تو ممکن ہے کہ مستقبل میں یہ نئی دریافتوں اور نظریات کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرے۔

کوٹ ڈیجی: وادیٔ سندھ کی تہذیب کے آغاز کی کہانی

کوٹ ڈیجی: وادیٔ سندھ کی تہذیب کے آغاز کی کہانی

ملکِ عزیز پاکستان کی سرزمین دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں کی امین ہے۔ وادیٔ سندھ کی تہذیب کو طویل عرصے تک موئن جو دڑو اور ہڑپہ کے تناظر میں دیکھا جاتا رہا لیکن 1957-58ء میں سندھ کے تاریخی مقام کوٹ ڈیجی میں ہونے والی آثارِ قدیمہ کی کھدائیوں نے اس تصور کو نئی جہت عطا کی۔ محکمہ آثارِ قدیمہ کے اُس وقت کے سربراہ ڈاکٹر ایف اے خان کی سربراہی میں ہونے والی ان کھدائیوں نے ثابت کیا کہ وادیٔ سندھ کی ترقی یافتہ شہری تہذیب اچانک وجود میں نہیں آئی بلکہ اس کے پیچھے ایک قدیم اور منظم ثقافتی پس منظر موجود تھا۔ڈاکٹر ایف اے خان کے مطابق کوٹ ڈیجی کی تہذیب موئن جو دڑو اور ہڑپہ کی معروف تہذیب سے پہلے کی ایک اہم ثقافتی کڑی ہے۔ اس دریافت نے ماہرین آثارِ قدیمہ کو یہ سمجھنے میں مدد دی کہ وادیٔ سندھ کی تہذیب کے ارتقا کا عمل کئی صدیوں پر محیط تھا۔قلعہ بند شہر اور منظم شہری زندگیکوٹ ڈیجی کا آثارِ قدیمہ کا مقام دو حصوں پر مشتمل ہے، ایک بلند قلعہ نما حصہ اور دوسرا اس کے گرد پھیلا ہوا شہری علاقہ۔ کھدائیوں سے معلوم ہوا کہ یہاں کے باشندوں نے مضبوط دفاعی فصیلیں تعمیر کی تھیں جن میں پتھر اور کچی اینٹیں استعمال کی گئی تھیں۔ دیواروں کو برجوں کے ذریعے مزید مضبوط بنایا گیا تھا، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہاں کے لوگ دفاعی حکمتِ عملی اور تعمیراتی مہارت سے بخوبی واقف تھے۔کھدائی کے دوران کشادہ کمروں، فرشوں، ذخیرہ گاہوں اور رہائشی ڈھانچوں کے آثار بھی دریافت ہوئے۔ گھروں میں مٹی کے برتن، ذخیرہ کرنے کے بڑے مرتبان، بچوں کے کھلونے، گیندیں، کنچے، چوڑیاں اور مختلف قسم کے زیورات ملے۔ یہ اشیا ظاہر کرتی ہیں کہ کوٹ ڈیجی کے باشندے ایک منظم اور نسبتاً خوشحال معاشرے میں زندگی گزار رہے تھے۔تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہاں کے مکانات منصوبہ بندی کے تحت تعمیر کیے گئے تھے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شہری نظم و نسق اور اجتماعی منصوبہ بندی کا تصور اس دور میں بھی موجود تھا جو بعد میں ہڑپہ اور موئن جو دڑو کی ترقی یافتہ شہری تہذیب میں مزید نکھر کر سامنے آیا۔کوٹ ڈیجی کی منفرد ثقافت اور فنڈاکٹر ایف اے خان کی رپورٹ میں کوٹ ڈیجی کے برتنوں کو اس تہذیب کی نمایاں ترین خصوصیات میں شمار کیا گیا ہے۔ یہاں سے دریافت ہونے والی مٹی کی اشیا نہایت عمدہ معیار کی ہیں۔ ان کا رنگ گلابی سے سرخی مائل ہے اور ان پر سیاہ، بھورے اور سرخی مائل رنگوں سے دلکش نقش و نگار بنائے گئے ہیں۔خاص طور پر مچھلی کے چھلکوں جیسے ڈیزائن، لہردار خطوط، حلقے اور دیگر جیومیٹریکل نمونے اس فن کے اعلیٰ معیار کی نشاندہی کرتے ہیں۔ بعض برتنوں پر سینگوں والے دیوتا کی تصویر بھی پائی گئی جسے ڈاکٹر خان نے نہایت منفرد اور نادر قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق اس قسم کا ڈیزائن اس سے پہلے برصغیر کی کسی قدیم تہذیب کے برتنوں پر دریافت نہیں ہوا ۔یہ برتن اس بات کا ثبوت ہیں کہ کوٹ ڈیجی کے باشندے نہ صرف فنی ذوق رکھتے تھے بلکہ ان کے ہاں ایک مضبوط ثقافتی شناخت بھی موجود تھی۔ کوٹ ڈیجی طرز کے برتن ہڑپہ اور دیگر مقامات پر بھی دریافت ہوئے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ثقافت کے اثرات وسیع علاقے تک پھیلے ہوئے تھے۔موئن جو دڑو سے پہلے کی تہذیبکوٹ ڈیجی کی سب سے بڑی اہمیت اس حقیقت میں پوشیدہ ہے کہ اس نے وادیٔ سندھ کی تہذیب کے آغاز کے بارے میں رائج تصورات کو تبدیل کر دیا۔ کھدائیوں سے واضح ہوا کہ موئن جو دڑو کی ابتدائی آبادی دراصل کوٹ ڈیجی کے قدیم باشندوں کی بستی کے اوپر آباد ہوئی تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوٹ ڈیجی کی تہذیب موئن جو دڑو اور ہڑپہ کی ترقی یافتہ تہذیب سے پہلے موجود تھی۔ڈاکٹر ایف اے خان کے مطابق کوٹ ڈیجی کی تہذیب ممکنہ طور پر 3000 قبل مسیح کے آس پاس موجود تھی، جبکہ ہڑپہ اور موئن جو دڑو کی تہذیب کا دور عموماً 2500 تا 2300 قبل تھا۔ اس طرح کوٹ ڈیجی وادیٔ سندھ کی تہذیبی تاریخ کو کئی صدیوں پیچھے لے جاتی ہے۔کھدائیوں میں آگ اور سیلاب کے شواہد بھی ملے اور قلعے کے بالائی حصوں میں جلی ہوئی مٹی کی موٹی تہہ دریافت ہوئی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آتش زدگی کے کسی بڑے واقعے نے اس بستی کو تباہ کیا۔ ڈاکٹر خان کا خیال ہے کہ اسی تباہی کے بعد ہڑپہ اور موئن جو دڑو سے وابستہ ثقافت نے اس مقام پر جگہ بنائی۔یہ دریافت اس نظریے کو تقویت دیتی ہے کہ وادیٔ سندھ کی عظیم تہذیب مقامی ارتقائی عمل کا نتیجہ تھی۔ اگرچہ اس کے بیرونی روابط موجود تھے لیکن اس کی بنیادی ترقی اسی خطے میں ہوئی۔ کوٹ ڈیجی اس ارتقائی سفر کی ایک اہم کڑی ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ انسانی تہذیبیں اچانک جنم نہیں لیتیں بلکہ صدیوں کے تجربات، اختراعات اور ثقافتی ترقی کے نتیجے میں پروان چڑھتی ہیں۔کوٹ ڈیجی کی کھدائیاں آج بھی پاکستان کی آثارِ قدیمہ کی تاریخ میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ مقام نہ صرف سندھ بلکہ پوری جنوبی ایشیا کی قدیم تاریخ کو سمجھنے کی کلید فراہم کرتا ہے اور ثابت کرتا ہے کہ اس خطے کے باشندے پانچ ہزار سال قبل بھی تعمیر، فن، تجارت اور سماجی تنظیم کے اعلیٰ معیار سے واقف تھے۔

آج کا دن

آج کا دن

ملکہ الزبتھ کی تاج پوشی2 جون 1953 ء کو برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوم کی تاج پوشی لندن کے مشہور چرچ ویسٹ منسٹر ایبے میں ہوئی۔ اگرچہ وہ اپنے والد شاہ جارج ششم کے انتقال کے بعد 1952ء میں تخت نشین ہو چکی تھیں لیکن برطانوی روایات کے مطابق ان کی رسمی تاج پوشی ایک سال بعد منعقد کی گئی۔اس تقریب میں دنیا بھر سے سربراہانِ مملکت، شاہی خاندانوں کے افراد اور سفارتی نمائندوں نے شرکت کی۔ یہ تقریب اس لحاظ سے بھی منفرد تھی کہ پہلی مرتبہ کسی برطانوی تاج پوشی کو ٹیلی ویژن پر براہِ راست نشر کیا گیا۔ ملکہ الزبتھ دوم برطانیہ کی تاریخ کی سب سے طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والی ملکہ بنیں۔ اٹلی کا یوم جمہوریہ 2 جون 1946ء کو اٹلی میں ایک تاریخی ریفرنڈم منعقد ہوا جس کے نتیجے میں صدیوں پرانی بادشاہت کا خاتمہ اور جمہوریہ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد اٹلی شدید سیاسی بحران کا شکار تھا اور عوام کی بڑی تعداد شاہی خاندان کو جنگی تباہی کا ذمہ دار سمجھتی تھی۔ریفرنڈم میں لاکھوں شہریوں نے حصہ لیا اور اکثریت نے جمہوری نظام کے حق میں ووٹ دیا۔اس ریفرنڈم کی ایک اور تاریخی اہمیت یہ تھی کہ اطالوی خواتین نے پہلی مرتبہ قومی سطح پر ووٹ کا حق استعمال کیا۔ جمہوریہ کے قیام کے بعد اٹلی نے نیا آئین تشکیل دیا اور جمہوری اداروں کی بنیاد رکھی۔ پی ایل او کا قیام 2 جون 1964 کوفلسطین لیبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کے قیام کا اعلان کیا گیا۔1960ء کی دہائی میں مسئلہ فلسطین مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کا مرکزی موضوع بن چکا تھا۔ مختلف فلسطینی گروہوں کو ایک متحد پلیٹ فارم فراہم کرنے کے لیے اس تنظیم کی بنیاد رکھی گئی تاکہ وہ اپنی قومی شناخت اور سیاسی مطالبات کو مؤثر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کر سکیں۔بعد ازاں پی ایل او فلسطینی عوام کی سب سے بڑی نمائندہ تنظیم بن گئی۔ 1990ء کی دہائی میں اوسلو امن مذاکرات کے دوران بھی پی ایل او نے مرکزی کردار ادا کیا۔ سرویئر-1 چاند پراترا 2 جون 1966ء کو امریکی خلائی ادارے ناسا کے خلائی جہازسروئیر- 1 نے چاند کی سطح پر کامیاب لینڈنگ کی۔اس مشن کا بنیادی مقصد چاند کی سطح کا مطالعہ کرنا اور یہ جانچنا تھا کہ آیا وہاں مستقبل میں انسانوں کی لینڈنگ ممکن ہوگی یا نہیں۔ سرویئر-1 نے ہزاروں تصاویر زمین پر ارسال کیں جنہوں نے سائنسدانوں کو چاند کی ساخت اور سطح کے بارے میں قیمتی معلومات فراہم کیں۔یہ کامیابی امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان جاری خلائی دوڑ میں ایک اہم پیش رفت تھی۔ انہی معلومات کی بنیاد پر بعد میں اپالو پروگرام کو مزید ترقی دی گئی جس کے نتیجے میں 1969ء میں انسان پہلی مرتبہ چاند پر پہنچا۔وائرلیس ریڈیو پیٹنٹ2 جون 1896ء کو اطالوی موجد مارکونی نے برطانیہ میں وائرلیس ٹیلی گرافی کے اپنے نظام کیلئے پیٹنٹ کی درخواست جمع کروائی۔ یہ واقعہ جدید ریڈیو مواصلات کی تاریخ میں ایک بنیادی سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔اس دور میں مواصلات زیادہ تر تاروں کے ذریعے انجام پاتے تھے، جس کی وجہ سے دور دراز علاقوں اور سمندری راستوں میں رابطہ قائم کرنا مشکل تھا۔ ان کی ایجاد کی بدولت بحری جہازوں اور ساحلی مراکز کے درمیان رابطہ ممکن ہوا۔