قلعہ روہتاس
اسپیشل فیچر
قلعہ روہتاس، دینہ سے سات کلو میٹر شمال مشرق کی جانب نالہ گھان کے کنارے ٹلہ جوگیاں جانے والی سڑک پر واقع ہے۔اسے ہندوستان کے فرمانروا شیر شاہ سوری نے بنوایا تھا، اس وقت شیر شاہ کی تعمیر کردہ شاہراہ اعظم(جی ٹی روڈ) یہیں سے گزرتی تھی۔ تاریخ کی کتب میں اس قلعہ کی وجہ تعمیر کچھ یوں بیان کی گئی ہے کہ’’ ہندی زبان میں روہ، پہاڑ کو کہا جاتا ہے اور تاس کے معنی ہموار جگہ کے لیے جاتے ہیں چونکہ یہ علاقہ پہاڑی تھا اور پہاڑی پر یہ جگہ ہموار تھی۔ یہ خوبصورت وادی ایک طرف ترکی کی پہاڑیوں تک نظر آتی اور مشرق کی طرف جہلم سے پار کھاریاں کا علاقہ دکھائی دیتا تھا۔ لہٰذا اس خوبصورت پہاڑی پر ہموار جگہ پر اس قلعہ کا نام ’روہتاس‘ رکھا گیا‘‘۔ بنگال میں بھی روہتاس گڑھ کے نام سے ایک قلعہ تعمیر کیا گیا۔لہٰذا اس قلعہ کے نام پر اس کا نام روہتاس رکھا گیا۔ بیشتر ازیں اس شہر کو ’’منڈی‘‘ بھی کہا جاتا تھا۔ مقامی گکھڑوں اور مرزا کامران والئی کابل اور مرزا حکیم بیگ حاکم کشمیر کو مدنظر رکھتے ہوئے شیر شاہ نے اس علاقے کی طرف توجہ منعطف کی اور دیکھا کہ یہ علاقہ حملوں کا شکار ہو سکتا ہے۔یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ قلعے میں شامل یہ تاریخی دروازے 9 سے 25 فٹ تک اونچے ہیں اور 6 میٹر گہرے اور 3 سے 5 میٹر چوڑے ہیں یہ دروازے کابل اور کشمیر کی جانب کھلتے ہیں۔چند دروازے اب بھی اپنی خوبصورتی اور اعلیٰ کام کی وجہ سے دلکش اور قابل توجہ ہیں یہ حقیقت میں شیر شاہ سوری کی عظیم اور پرُشکوہ حکومت کا گہوارہ ہے اور سیاہ پہاڑی سنگلاخ چٹانوں میں اپنا الگ تشخص برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اس عظیم قلعے کو رنجیت سنگھ کے عہد کے بعد کسی اور نے توجہ نہیں دی اور اس میں وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ کافی صورتحال خستہ ہو چکی ہے۔ یہ قلعہ فوجی اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس میں50 توپیں 500 خالص فوجی دستے تین ہزار سوار اور 42 ہزار پیادے آ جاتے تھے، لیکن یہ قلعہ زمانے کے ہاتھوں محفوظ نہیں رہا۔ ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے قلعہ روہتاس کی ضرورت محسوس ہوئی۔یہ قلعہ شرقاً غرباً49 ء73 طول بلد شمالی اور 55ء32 عرض بلد پر واقع ہے، جس کی تعمیر پر ازروئے کتبہ لنگر خانی کم و بیش ایک من ہینگ روزانہ مزدوروں کے لیے دال تیار کرنے میں بطور دھونی استعمال ہوتی تھی ۔’’ تاریخ مخزن پنجاب‘‘ کے مصنف مفتی غلام سرور قریشی کی تحقیق کے مطابق اس قلعے کی تعمیر پر کوئی اس وقت پندرہ لاکھ روپے صرف ہوئے۔ قلعہ دو حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلا حصہ اندر کوٹ کہلاتا ہے، جس میں شیشی دروازہ، مان سنگھ کا محل، رانی محل، چھوٹی سی خوبصورت بادشاہی مسجد اور پھانسی گھر شامل ہیں۔ غالباً موجودہ ریسٹ ہائوس مان سنگھ ہی کا محل ہے۔ مان سنگھ، اکبر اعظم کے عہد میں اس علاقے کا گورنر تھا۔ دوسرا حصہ روہتاس کہلاتا ہے۔ یہ حصہ گھٹالی دروازہ، خاص خوانی دروازہ، سوہل یا سہیل دروازہ اور ایک تالاب پر مشتمل ہے۔ پہلا حصہ شیر شاہ سوری نے بنوایا تھا جبکہ دوسرے حصے کی تعمیر اس کے بیٹے سلیم شاہ کے عہد میں ہوئی۔ قلعہ میں بڑے دروازے کے علاوہ کئی چھوٹے دروازے بھی ہیں، جو اندرون قلعہ نو دروازے ہیں، مگر بیرون قلعہ صرف فصیل نظر آتے ہیں۔قلعہ روہتاس، شیر شاہ سوری نے اپنے دشمنوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے بنوایا ۔پہلا حصہ اندر کوٹ، راجہ اندر سبھا کی وجہ سے مشہور ہے، جو تقریباً12 ہزار سال قبل تعمیر ہوا تھا۔ دوسرا حصہ سلیم شیر شاہ سوری نے بنوایا، جس کی زمین 2400 بیگھ ہے۔ اس کی فصیل تین حصوں میں منقسم ہے ،جو 10 میل طویل ہے۔ اس کا پہلا حصہ 60 سے 90 فٹ تک ہے۔ دوسرا حصہ 20 سے40 فٹ تک چوڑا ہے اور 10 سے 30 فٹ تک اونچا ہے۔ تیسرا درجہ 10 سے 20 فٹ اونچا اور 20 سے 30 فٹ چوڑا ہے۔ قلعہ روہتاس میں سفید محل ہوتا تھا جوکہ 36 کمروں پر مشتمل ہے۔ اس میں 4 مہمان خانے 14 دالان10 مال خانے اور 6 غلام گردشیں ہیں، تاہم ان میں سے اب کئی راستے دکھائی دیتے ہیں۔ قلعہ کے درجن بھر دروازے ہیں جو دیسی فن تعمیر کا لاجواب شاہکار اور سنگ تراشی اور نقاشی کا نادر نمونہ ہیں۔ قلعہ کی دیواریں قریباً 30 فٹ چوڑی اور100-90 فٹ اونچی ہیں جو امتداد زمانہ کے باعث آہستہ آہستہ زمین بوس ہوتی جا رہی ہیں۔ چونے اور پتھر سے بنی ان دیواروں پر چھوٹی چھوٹی برجیاں بنی ہوئی ہیں۔ ان برجیوں میں چھوٹے چھوٹے سوراخ ہیں، جن کے ذریعے دشمن کی نقل و حرکت پربآسانی نظر رکھی جا سکتی ہے اور اسے بخوبی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ دیواروں اور دروازوں کے اوپر پتھروں کو تراش کر کنگرے بنائے گئے ہیں، جہاں سپاہی کھڑے ہو کر نشانہ لگا سکتے ہیں۔ دیواروں اور دروازوں پر پتھروں کی بڑی بڑی سلیں اس سلیقے اور نفاست کے ساتھ لگائی گئی ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ دیواروں پر چڑھنے کے لیے سیڑھیاں بنائی گئی ہیں۔ فصیل کے نیچے سپاہیوں کے ٹھہرنے، آرام کرنے اور سامان ذخیرہ کرنے کے لیے کمرے بنائے گئے ہیں۔ قلعہ میں ایک طرف پانی کا کنواں ہے، اگر اس کنوئیں کی منڈیر پر سے نیچے جھانکنے کی کوشش کریں تو پائوں خود بخود زمین سے اوپر اٹھتے محسوس ہوتے ہیں۔ اس گہرے کنوئیں تک پہنچنے اور پانی میں نہانے کے لیے ایک طرف سیڑھیاں بنی ہوئی ہیں ،جن کے راستے شیر شاہ کے مقربین، وزراء، امراء اور ان کی بیگمات نہانے کے لیے کنوئیں کے پانی کی سطح تک پہنچ جاتے تھے۔ یہ کنواں اس خوبصورتی، محنت اور اہتمام کے ساتھ بنایا گیا کہ اس کے معماروں اور ماہرین ِ تعمیرات کو بے اختیار داد دینے کو جی چاہتا ہے۔ قلعہ کی جانب ایک پھانسی گھر ہے۔ شیر شاہ سوری نے یہ پھانسی گھر شاید باغیوں کے لیے بنوایا تھا۔ قلعہ کے 75 برج اور(1900) کنگرے ہیں، جن میں سے متنوع اقسام کے باعث زیب و زینت میں فن کاری کا نادر نمونہ ہیں۔ فصیل 12 میل 16 کلو میٹر لمبی ہے اور اس پر اوپر تلے چڑھنے اور اترنے کو9500 سیڑھیاں ہیں۔ بلندیوں پر رخصت آسماں سے ہم آغوش نگارچیوں کے نقادوں کی بانگ نقیب کے لیے فصیل پر کم و بیش مختلف جگہوں پر نگار خانے سے بنے ہوئے ہیں۔ فصیل اکثر و بیشتر 45 سے50 فٹ تک چوڑی اور تین منزلوں میں ایک دوسہ قطاری سے تیر اندازوں کے لیے جھرنے اور کنگروں میں مورچے بنے ہوئے ہیں۔ اس طرح سے فصیل 80 فٹ بلند ہے اور یہ قلعہ دو مربع میل میں پھیلا ہوا ہے۔(شیخ نوید اسلم کی کتاب ’’پاکستان کے آثارِ قدیمہ‘‘ سے مقتبس) ٭…٭…٭