مسرت نذیر

مسرت نذیر

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالحفیظ ظفر


انور کمال پاشا پاکستان فلمی صنعت کے محسن تھے۔ انہوں نے اس نوزائیدہ صنعت کو بہت سے فنکار دیئے جنہوں نے بعد میں اپنی ذہانت کے بل بوتے پر اپنی ایک الگ شناخت بنائی۔ بعض شہرت کے آسمان پر سورج بن کر چمکنے لگے اور آج تک لوگ ان فنکاروں کو یاد کرتے ہیں۔مسرت نذیر بھی وہ فنکارہ تھیں جنہیں سب سے پہلے انور کمال پاشا نے اداکارہ کی حیثیت سے متعارف کرایا تھا۔ اس کے بعد اس فنکارہ نے اپنی صلاحیتوںکے ایسے جوہر دکھائے کہ فلمی پنڈت انگشت بدنداں رہ گئے۔ مسرت نذیر کا کمال یہ تھا کہ انہوں نے صبیحہ خانم اور نیئرسلطانہ کے عروج کے زمانے میں اپنے آپ کو منوایا۔ صبیحہ خانم کی طرح وہ بھی اردو اور پنجابی دونوں زبانوں کی فلموں میں اداکاری کرتی تھیں۔ ان کے مداحین کا وسیع حلقہ موجود تھا جو نہ صرف ان کی اداکاری بلکہ دلکش شخصیت سے بھی بہت متاثر تھا۔مسرت نذیر13 اکتوبر1940ء کو لاہور میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد نذیر احمد کارپوریشن میں ٹھیکیدار تھے۔ مسرت کے والد اپنی بیٹی کو ڈاکٹر بنانے کے آرزو مند تھے،لیکن محدود وسائل کی وجہ سے ان کی یہ خواہش پوری نہ ہوسکی۔ مسرت نذیر نے میٹرک کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیاجس کے بعد انہوں نے کنیئرڈ کالج سے انٹر کا امتحان پاس کیا۔ وہ بڑی ذہین طالبہ تھیں۔ شروع میں انہیں گلوکاری کا شوق تھا۔1950ء کے عشرے میں وہ ریڈیو پاکستان سے گیت گاتی رہیں۔ لیکن انہیں بہت کم معاوضہ ملتا تھا۔1955ء میں انور کمال پاشا سے ان کا رابطہ ہوا۔ انہوں نے پاشا صاحب سے کہا کہ وہ گلوکارہ بننے کی خواہشمند ہیں اور اس سلسلے میں انہیں موقع دیئے جائیں۔ انور کمال پاشا بلا کے ذہین ہدایتکار تھے اور کہا جاتا ہے کہ وہ نئے فنکاروں کی صلاحیتوں کو جانچنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ انہوں نے مسرت نذیر کو اداکاری کرنے کا مشورہ دیا۔ مسرت نذیر نے انور کمال پاشا کو بتایا کہ وہ اپنے والد کی اجازت کے بغیر فلموں میں کام کرنے کی حامی نہیں بھر سکتیں۔ اس پر انور کمال پاشا خود مسرت کے والد سے ملے اور انہیں قائل کیا کہ وہ اپنی بیٹی کو فلموں میں کام کرنے کی اجازت دے دیں۔ مسرت نذیر کو بالآخر ان کے والد نے فلموں میں اداکاری کرنے کی اجازت دے دی۔ انور کمال پاشا نے ان کا فلمی نام چاندنی رکھا۔ 1955ء میں چاندنی نے صبیحہ خانم اور نیئر سلطانہ کے ساتھ پاشا کی فلم ’’قاتل‘‘ میں کام کیا۔ پھر چاندنی نے 1955ء میں ہی فلمساز شیخ لطیف اور ہدایتکار لقمان کی پنجابی فلم ’’پتن‘‘ میں سنتوش کمار کے ہمراہ مرکزی کردار ادا کیا۔ اس فلم میں وہ اپنے اصلی نام مسرت نذیر کے ساتھ جلوہ گر ہوئیں۔ یہ فلم زبردست کامیابی سے ہمکنار ہوئی، جس کے بعد مسرت نذیر پر پنجابی فلموں کے دروازے کھل گئے۔ اس کے بعد انہوں نے پاٹے خان جیسی مشہور فلم میں کام کیا۔1957ء میں انہوں نے ’’یکے والی‘‘ جیسی شاندار فلم میں اداکاری کے جوہر دکھائے جس نے ریکارڈکامیابی حاصل کی۔ اس فلم کے ہدایتکار ایم جے رانا تھے اور فلمساز تھے باری ملک۔ ’’یکے والی‘‘ میں مسرت نذیر نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ ان کے ساتھ سدھیر، نیلو، اجمل، الیاس کاشمیری اور ظریف کی اداکاری کو بھی شائقین فلم نے بہت پسند کیا۔ اس فلم کی کمائی سے ہی باری ملک نے باری سٹوڈیو تعمیر کیا۔ ان کی دیگر مشہور پنجابی فلموں میں ’’ماہی منڈا‘یار بیلی اور کرتار سنگھ‘‘ شامل ہیں۔ انہوں نے زیادہ تر سدھیر اور سنتوش کمار کے ساتھ کام کیا۔ ان کی دیگر مشہور فلموں میں ’’نوکری، آنکھ کا نشہ، باپ کا گناہ، جھومر، شہید، زہر عشق، قسمت، جٹی، وطن، سولہ آنے، گڈی گڈا، باغی، لکن میٹی ، ٹھنڈی سڑک، مستی، مرزا صاحباں، عشق پر زور نہیں، مفت بر اور گلفام‘‘ شامل ہیں۔ان کی اردو فلموں میں ’’جھومر، زہر عشق اور شہید‘‘ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ان فلموں میں وہ اداکاری کے عروج پر نظر آتی ہیں۔ مسرت نذیر کو گانے پکچرائز کرنے میں بھی ملکہ حاصل تھا۔ مذکورہ بالا فلموں کے گیت بھی سپرہٹ ہوئے۔ ان کی موسیقی خواجہ خورشید انور اوررشید عطرے جیسے نابغۂ روزگار موسیقاروں نے ترتیب دی تھی۔ ’’زہر عشق‘‘ میں انہوں نے اپنے کیریئر کا سب سے انوکھا کردار ادا کیا جس پر انہیں نگار ایوارڈ بھی دیا گیا۔ ’’زہر عشق‘‘ ایک شاندار فلم تھی لیکن یہ فلم باکس آفس پر فلاپ ہوگئی۔ ’’جھومر‘‘ میں ان پر ناہید نیازی کے گائے ہوئے یادگار نغمات عکسبند کیے گئے۔ یہ نغمات بہت مقبول ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ خواجہ خورشید انور پہلے’’جھومر‘‘ کے گیت نورجہاں سے گوانا چاہتے تھے ، لیکن نور جہاں نے شرط عائد کردی کہ مسرت نذیر کا کردار انہیں دیا جائے۔ خواجہ صاحب نے انکار کردیا اور پھر ’’جھومر‘‘ کے گیتوں کیلئے انہوں نے ناہید نیازی کا انتخاب کیا۔ خواجہ خورشید انور سمجھتے تھے کہ ناہید نیازی کی آواز میں گیتا دت کی جھلک واضح طورپر ملتی ہے۔ خواجہ صاحب کا ناہید نیازی سے گیت گوانے کا فیصلہ درست ثابت ہوا۔ اب ان کی یادگار فلم ’’شہید‘‘ کا بھی ذکر ضروری ہے۔ اس فلم میں ہدایتکار خلیل قیصر نے مسرت نذیر کو ایسا کردار دیا جسے انہوں نے کمال مہارت سے ادا کیا۔ ’’شہید‘‘ کو پاکستان کی بہترین اردو فلموں میں سے ایک قرار دیاجاتا ہے۔ اس فلم میں منیرنیازی کی مشہور زمانہ غزل ’’اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو‘‘ بھی شامل تھی۔ یہ غزل نسیم بیگم نے گائی تھی اور اسے مسرت نذیر پر پکچرائز کیا گیا تھا۔ مسرت نذیر نے جتنے عمدہ طریقے سے گانے کی عکسبندی کرائی‘ اس کی مثال بہت کم ملتی ہے۔ یہ فلم 1962ء میں ریلیز ہوئی تھی اور اس میں بھی بہترین اداکاری کرنے پر مسرت نذیر کو نگارایوارڈ دیا گیا۔ انہوں نے مجموعی طور پر تین نگار ایوارڈ حاصل کیے۔مسرت نذیر کو پنجاب کی جٹی کے نام سے بھی پکارا جاتا تھا۔ وہ جتنی خوبصورت تھیں اتنی ہی اعلیٰ اداکارہ بھی تھیں۔ انہوں نے 1963 میں ڈاکٹر ارشد مجید سے شادی کی اور بعدازاں وہ دونوں کینیڈا شفٹ ہوگئے۔ ان کے فنی سفر کا دوسرا دور اس وقت شروع ہوا جب وہ ایک گلوکارہ کی حیثیت سے سامنے آئیں۔ انہوں نے کچھ لوک گیت گائے اور خوب شہرت حاصل کی۔ ان کے مشہور لوک گیتوں میں یہ دوگیت بہت زیادہ ہٹ ہوئے۔ (1) میرا لونگ گواچا (2) لٹھے دی چادر اُتے سلیٹی رنگ ماہیا۔ اس کے علاوہ ان کے گائے ہوئے یہ گیت بہت پسند کیے گئے (1) گلشن کی بہاروں میں (2) چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر (3) اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں۔مسرت نذیر نے اپنے بعد میں آنے والی کئی ہیروئنوں کو متاثر کیا۔ نئی ہیروئنیں انہیں اپنا آئیڈیل قرار دیتی تھیں۔ ایک دفعہ سرکاری ٹی وی پر بابرہ شریف نے کہا تھا کہ مسرت نذیر نے انہیں سب سے زیادہ متاثر کیا۔ مسرت نذیر حیات ہیں اور اپنے خاندان کے ساتھ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ایک اداکارہ اور گلوکارہ کی حیثیت سے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
ایل نینو کی واپسی

ایل نینو کی واپسی

کیا پاکستان شدید موسموں کے نئے دور میں داخل ہو رہا ہے؟دنیا ایک بار پھر ایک ایسے موسمی رجحان کے اثرات کی طرف بڑھ رہی ہے جس نے ماضی میں کئی ممالک کو شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور قدرتی آفات سے دوچار کیا تھا۔ عالمی موسمیاتی ادارے (WMO) نے خبردار کیا ہے کہ ایل نینو نامی موسمیاتی نظام دوبارہ فعال ہو سکتا ہے جس کے نتیجے میں دنیا کے مختلف خطوں میں موسم کے معمولات بری طرح متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔ پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جو اس عالمی موسمیاتی تبدیلی کے زیر اثر آ سکتے ہیں۔ایل نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے لیکن موجودہ دور میں بڑھتی ہوئی گلوبل وارمنگ اس کے اثرات کو مزید شدید بنا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارے مسلسل حکومتوں اور عوام کو محتاط رہنے کی ہدایت کر رہے ہیں۔ایل نینو کیا ہے ؟ایل نینو(El Niño) بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی حصوں میں سمندر کے پانی کے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کو کہا جاتا ہے۔ جب سمندر کا پانی معمول سے زیادہ گرم ہو جاتا ہے تو دنیا بھر میں ہوا کے دباؤ، بارشوں کے نظام اور درجہ حرارت کے توازن میں تبدیلی آتی ہے۔یہ رجحان عام طور پر ہر چند سال بعد نمودار ہوتا ہے اور کئی مہینوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ اس دوران بعض علاقوں میں شدید بارشیں اور سیلاب آتے ہیں جبکہ دیگر خطوں میں خشک سالی اور گرمی کی شدت بڑھ جاتی ہے۔ اگرچہ ایل نینو ایک قدرتی عمل ہے لیکن موسمیاتی تبدیلی کے باعث اس کے اثرات پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں۔پاکستان کیلئے ممکنہ خطراتپاکستان کا شمار اُن ممالک میں ہوتا ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ عالمی کاربن اخراج میں پاکستان کا حصہ نہایت کم ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں ملک شدید گرمی کی لہروں، غیر معمولی بارشوں، گلیشیئرز کے پگھلاؤ اور تباہ کن سیلابوں کا سامنا کر چکا ہے۔ایل نینو کی صورت میں پاکستان میں مون سون بارشوں کا نظام متاثر ہو سکتا ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق اس رجحان کے دوران جنوبی ایشیا کے کئی علاقوں میں بارشیں معمول سے کم ہو جاتی ہیں جس سے پانی کی قلت اور زرعی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب بعض خطوں میں اچانک اور شدید بارشوں کا خطرہ بھی موجود رہتا ہے، جو سیلابی صورتحال کو جنم دے سکتا ہے۔ جنوبی پنجاب،سندھ اور بلوچستان جیسے علاقے پہلے ہی پانی کی کمی اور شدید گرمی کا سامنا کرتے ہیں۔ اگر ایل نینو کے باعث درجہ حرارت مزید بڑھتا ہے تو ان علاقوں میں خشک سالی کے خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شہری علاقوں میں بجلی کی طلب بڑھنے سے توانائی کا بحران بھی شدت اختیار کر سکتا ہے۔زراعت اور معیشت پر اثراتپاکستان کی معیشت کا ایک بڑا حصہ زراعت سے وابستہ ہے۔ چاول، کپاس، گندم اور گنے جیسی فصلیں موسمی حالات پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں۔ اگر بارشوں کے نظام میں تبدیلی آتی ہے یا گرمی کی شدت غیر معمولی حد تک بڑھ جاتی ہے تو زرعی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔پانی کی قلت نہ صرف فصلوں بلکہ مویشیوں کے شعبے کے لیے بھی مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ زرعی پیداوار میں کمی کا براہ راست اثر خوراک کی قیمتوں پر پڑتا ہے جس کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موسمیاتی ماہرین کسانوں کو جدید زرعی طریقوں اور پانی کے بہتر استعمال کی طرف توجہ دینے کا مشورہ دے رہے ہیں۔عالمی سطح پر بھی ایل نینو غذائی اجناس کی پیداوار کو متاثر کر سکتا ہے جس کے نتیجے میں بین الاقوامی منڈیوں میں قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔ ایسے حالات پاکستان جیسے درآمدی ضروریات رکھنے والے ممالک کے لیے معاشی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔صحت اور زندگی کیلئے چیلنجزشدید گرمی کی لہریں انسانی صحت کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں۔ پاکستان میں ہر سال گرمی کے موسم میں ہیٹ سٹروک اور پانی کی کمی کے واقعات سامنے آتے ہیں۔ اگر ایل نینو کے باعث درجہ حرارت میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو بچوں، بزرگوں اور بیمار افراد کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔اس کے علاوہ شدید بارشیں اور سیلاب مختلف متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتے ہیں۔ صحت کے شعبے کو ان ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر پیشگی منصوبہ بندی کی ضرورت ہوگی۔ تیاری اور احتیاط موسمیاتی خطرات سے مکمل طور پر بچنا ممکن نہیں لیکن بہتر منصوبہ بندی سے نقصانات کو کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کو موسمیاتی نگرانی کے نظام، ارلی وارننگ سسٹمز اور آفات سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہوگا۔زرعی شعبے میں پانی بچانے والی ٹیکنالوجی، بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے منصوبے اور موسمی پیش گوئیوں کی بنیاد پر کاشتکاری کے طریقوں کو فروغ دینا ہوگا۔ اسی طرح شہری علاقوں میں درخت لگانے، پانی کے ضیاع کو روکنے اور توانائی کے متبادل ذرائع اختیار کرنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ایل نینو کی متوقع واپسی صرف ایک موسمی خبر نہیں بلکہ ایک ایسا انتباہ ہے جس کے اثرات پاکستان کے ماحول، معیشت، زراعت اور عوامی زندگی پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ اس کے حتمی اثرات کا اندازہ لگانا ابھی قبل از وقت ہے لیکن عالمی اداروں کی وارننگ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آنے والے مہینوں میں غیر معمولی موسمی حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ایسے میں حکومت، متعلقہ اداروں اور عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔ موسمیاتی تبدیلی کے اس دور میں بروقت تیاری ہی مستقبل کے نقصانات کو کم کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔

تہذیبوں میں مکالمے کا عالمی دن

تہذیبوں میں مکالمے کا عالمی دن

امن اور باہمی احترام کی ضرورتدنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، ذرائع ابلاغ اور گلوبلائزیشن نے مختلف ممالک، ثقافتوں اور تہذیبوں کے درمیان فاصلے کم کر دیے ہیں۔ آج مختلف پس منظر کے حامل لوگ ایک دوسرے کے ساتھ نہ صرف رابطے میں ہیں بلکہ تجارت، تعلیم، کاروبار، سیاحت اور دیگر شعبوں میں مسلسل تعاون بھی کر رہے ہیں۔ تاہم اس قربت کے باوجود دنیا کو تعصب، نفرت، نسلی امتیاز اور ثقافتی تنازعات جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ انہی چیلنجز کے پیشِ نظر اقوامِ متحدہ نے 10 جون کوInternational Day for Dialogue among Civilization کے طور پر منانے کا اعلان کیا تاکہ مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کے درمیان افہام و تفہیم، احترام اور تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔تہذیبوں کے درمیان مکالمے کی اہمیتانسانی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ مختلف تہذیبوں کے درمیان رابطے اور تبادلہ خیال نے ترقی کی نئی راہیں کھولی ہیں۔ علم، ادب، فنونِ لطیفہ، سائنس اور فلسفے کے شعبوں میں ہونے والی پیش رفت مختلف معاشروں کے باہمی تعامل کا نتیجہ رہی ہے۔ جب قومیں ایک دوسرے کے تجربات اور خیالات سے استفادہ کرتی ہیں تو نہ صرف علم میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ باہمی اعتماد بھی فروغ پاتا ہے۔تہذیبوں میں مکالمہ مختلف ثقافتی اور فکری پس منظر رکھنے والے افراد اور معاشروں کے درمیان تعمیری گفتگو کا نام ہے۔ اس کا مقصد اختلافات کو ختم کرنا نہیں بلکہ انہیں سمجھنا اور ان کے باوجود باہمی احترام کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔آج دنیا کو متعدد سماجی اور ثقافتی چیلنجز درپیش ہیں۔ نسلی امتیاز، ثقافتی تعصبات، انتہا پسندانہ رویے، پناہ گزینوں کے مسائل اور نفرت انگیز بیانیے عالمی سطح پر تشویش کا باعث ہیں۔ ایسے مسائل صرف سیاسی یا قانونی اقدامات سے مکمل طور پر حل نہیں ہو سکتے بلکہ مختلف معاشروں کے درمیان اعتماد سازی اور مسلسل مکالمہ بھی ضروری ہے۔جب لوگ ایک دوسرے کی تاریخ، ثقافت اور نقطہ نظر کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تو غلط فہمیاں کم ہوتی ہیں اور تنازعات کے امکانات بھی محدود ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی ادارے مکالمے کو امن کے قیام کا ایک مؤثر ذریعہ قرار دیتے ہیں۔پاکستان میں تہذیبی ہم آہنگی پاکستان ایک متنوع معاشرہ ہے جہاں مختلف زبانیں، ثقافتیں اور علاقائی روایات پائی جاتی ہیں۔ پنجابی، سندھی، پشتون، بلوچ، سرائیکی، کشمیری اور دیگر ثقافتی اکائیاں ملک کی اجتماعی شناخت کو مضبوط بناتی ہیں۔ اس تنوع کو مثبت انداز میں قبول کرنا قومی یکجہتی اور سماجی استحکام کے لیے ضروری ہے۔پاکستان میں تعلیمی ادارے، سماجی تنظیمیں اور ذرائع ابلاغ مختلف ثقافتوں کے درمیان احترام اور ہم آہنگی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر نوجوان نسل کو برداشت، احترامِ اختلاف اور مکالمے کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے تو زیادہ پُرامن اور متحد معاشرے کی تشکیل ممکن ہے۔نوجوانوں اور میڈیا کا کردارڈیجیٹل دور میں نوجوان نسل اور میڈیا معاشرتی رویوں کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا مختلف معاشروں کو قریب لانے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے لیکن اس کا غیر ذمہ دارانہ استعمال نفرت اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کا سبب بھی بنتا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان اور میڈیا مثبت گفتگو، تحقیق پر مبنی معلومات اور تعمیری خیالات کو فروغ دیں۔ ثقافتی تبادلوں، آن لائن مباحثوں اور تعلیمی سرگرمیوں کے ذریعے مختلف معاشروں کے درمیان بہتر روابط قائم کیے جا سکتے ہیں۔تہذیبوں کے مابین مکالمے کا بین الاقوامی دن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ اختلافات انسانی معاشروں کا فطری حصہ ہیں لیکن ان اختلافات کو تصادم کے بجائے مکالمے کے ذریعے حل کرنا ہی دانشمندی ہے۔ موجودہ دور میں امن، ترقی اور سماجی ہم آہنگی کے لیے ضروری ہے کہ مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کے درمیان احترام، برداشت اور تعاون کو فروغ دیا جائے۔ یہی اس عالمی دن کا بنیادی مقصد ہے اور یہی ایک بہتر، محفوظ اور پُرامن دنیا کی ضمانت بھی۔

آج کا دن

آج کا دن

فریڈرک بارباروسا کی موت 10 جون 1190ء کورومی سلطنت کا شہنشاہ فریڈرک اول جو بارباروسا کے نام سے مشہور تھا تیسری صلیبی جنگ کے دوران دریائے سیلیف (موجودہ ترکی) عبور کرتے ہوئے ڈوب گیا۔ یہ واقعہ قرونِ وسطیٰ کی تاریخ کا ایک نہایت اہم موڑ سمجھا جاتا ہے۔ بارباروسا اس وقت یورپ کے طاقتور ترین حکمرانوں میں شمار ہوتا تھا۔اس کی فوج ہزاروں سپاہیوں پر مشتمل تھی اور یورپ سے مشرقِ وسطیٰ کی طرف پیش قدمی کر رہی تھی تاہم دریائے سیلیف کو عبور کرتے ہوئے وہ پانی کے تیز بہاؤ کا شکار ہو گیا اور ڈوب کر ہلاک ہوگیا۔ اس کی اچانک موت نے صلیبی فوج کے حوصلے شدید متاثر کیے۔ بہت سے سپاہی واپس لوٹ گئے جبکہ باقی منتشر ہو گئے۔ سیلم وِچ ٹرائلز10 جون 1692ء کو بریجٹ بشپ نامی عورت کو امریکی نوآبادیاتی تاریخ کے مشہور سیلم وِچ ٹرائلز (Salem witch trials) کے دوران پھانسی دی گئی۔ وہ اس سلسلے میں سزائے موت پانے والی پہلی شخص تھی۔یہ مقدمات میساچوسٹس کی نوآبادی میں اس وقت شروع ہوئے جب چند نوجوان لڑکیوں نے دعویٰ کیا کہ وہ جادو کے اثر میں ہیں۔ اس کے بعد خوف اور افواہوں کا ایسا ماحول پیدا ہوا کہ تقریباً دو سو افراد پر جادوگری کے الزامات لگائے گئے۔ ان میں سے متعدد افراد کو قید کیا گیا اور بیس افراد کو موت کی سزا دی گئی۔بعد ازاں مؤرخین نے اس واقعے کو اجتماعی خوف، مذہبی انتہاپسندی اور عدالتی غلطیوں کی ایک مثال قرار دیا۔ اٹلی دوسری جنگِ عظیم میں شامل 10 جون 1940ء کو اٹلی کے آمر مسولینی نے برطانیہ اور فرانس کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا اور یوں اٹلی باضابطہ طور پر دوسری جنگِ عظیم میں شامل ہو گیا۔ اس وقت جرمنی یورپ میں تیزی سے کامیابیاں حاصل کر رہا تھا اور مسولینی کو یقین تھا کہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی اور اٹلی کو بھی فتح کے ثمرات حاصل ہوں گے۔جنگ میں شمولیت کے بعد اٹلی نے شمالی افریقہ، بحیرہ روم اور یورپ کے مختلف محاذوں پر کارروائیاں شروع کیں تاہم اٹلی کی فوجی تیاری جرمنی کے مقابلے میں کمزور تھی اور اسے متعدد محاذوں پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد میں جرمنی کو اپنے اتحادی کی مدد کے لیے کئی علاقوں میں مداخلت کرنا پڑی۔ اورادورسرگلان قتلِ عام 10 جون 1944ء کو فرانس کے گاؤں اورادورسرگلان (Oradour-s ur-Glane) میں دوسری جنگِ عظیم کے دوران جرمن فوجیوں نے ایک ہولناک قتلِ عام کیا۔ اس واقعے میں 642 شہریوں کو قتل کر دیا گیا۔گاؤں کو گھیر کر تمام لوگوں کو جمع کیا گیا۔ مردوں کو الگ کر کے گولیوں سے نشانہ بنایا گیا جبکہ خواتین اور بچوں کو ایک چرچ میں بند کر کے آگ لگا دی گئی۔ چند افراد ہی زندہ بچ سکے۔ یہ واقعہ نازی جرائم کی بدترین مثالوں میں شمار کیا جاتا ہے۔جنگ کے بعد فرانسیسی حکومت نے گاؤں کے کھنڈرات کو اسی حالت میں محفوظ رکھا تاکہ آنے والی نسلیں اس سانحے کو یاد رکھ سکیں۔

مصنوعی ذہانت اور پانی کی کھپت

مصنوعی ذہانت اور پانی کی کھپت

اقوام متحدہ نے خبر دار کر دیامصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) نے حالیہ کچھ عرصے میں دنیا کو حیران کن رفتار سے بدل دیا ہے۔ تعلیم، طب، صنعت، تجارت، صحافت اور تحقیق سمیت زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں AI کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ تاہم اس ٹیکنالوجی کے فوائد کے ساتھ کچھ ایسے چیلنجز بھی سامنے آ رہے ہیں جن پر ابھی تک خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ حال ہی میں یونائیٹڈ نیشنز یونیورسٹی کے محققین کی ایک رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ اگر AI کا پھیلاؤ اسی طرح جاری رہا تو 2030 ء تک اس سے وابستہ ڈیٹا سینٹرز اتنا پانی استعمال کر سکتے ہیں جو دنیا بھر کے انسانوں کیلئے مجموعی پینے کے پانی کی مقدار سے بھی زیادہ ہو گا۔ یہ پیشگوئی ماہرینِ ماحولیات، پالیسی سازوں اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کے لیے تشویش کا باعث بن گئی ہے۔مصنوعی ذہانت اور پانی کا تعلقعام طور پر جب ہم AI کے بارے میں سوچتے ہیں تو ہمارے ذہن میں کمپیوٹر، سافٹ ویئر اور جدید الگورتھمز آتے ہیں۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ ایک مکمل ڈیجیٹل ٹیکنالوجی ہے جس کا قدرتی وسائل سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔AI ماڈلز کو چلانے اور تربیت دینے کے لیے ہزاروں طاقتور سرورز پر مشتمل ڈیٹا سینٹرز درکار ہوتے ہیں۔ یہ سرورز مسلسل کام کرتے ہوئے بڑی مقدار میں حرارت پیدا کرتے ہیں۔ اس حرارت کو کم کرنے کے لیے جدید کولنگ سسٹمز استعمال کیے جاتے ہیں جن میں پانی ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مزید یہ کہ ان مراکز کو بجلی فراہم کرنے والے پاور پلانٹس بھی پانی استعمال کرتے ہیں جبکہ کمپیوٹر چپس کی تیاری میں بھی بڑی مقدار میں پانی درکار ہوتا ہے۔بڑھتی ہوئی طلب اور ماحولیاتی دباؤدنیا بھر میں AI کی مقبولیت میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے۔ روزانہ کروڑوں افراد مختلف AI ٹولز کے ذریعے سوالات پوچھتے ہیں، تصاویر بناتے ہیں، ویڈیوز تیار کرتے ہیں اور پیچیدہ ڈیٹا کا تجزیہ کرتے ہیں۔ ہر پرامپٹ کے پیچھے طاقتور کمپیوٹرز کی ایک وسیع دنیا کام کر رہی ہوتی ہے۔اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اگر AI کے استعمال میں اسی رفتار سے اضافہ جاری رہا تو 2030 ء تک اس سے وابستہ انفراسٹرکچر کھربوں لیٹر پانی استعمال کر سکتا ہے۔ اگرچہ یہ ایک تخمینہ ہے لیکن اس سے مسئلے کی سنگینی کا اندازہ ضرور ہوتا ہے۔ٹیکنالوجی کی تاریخ بتاتی ہے کہ ہر نئی ایجاد اپنے ساتھ فوائد اور نقصانات دونوں لاتی ہے۔ مصنوعی ذہانت بھی اس سے مختلف نہیں۔ ایک طرف AI بیماریوں کی تشخیص بہتر بنا رہی ہے، زرعی پیداوار میں اضافہ کر رہی ہے اور کاروباری کارکردگی کو بہتر بنا رہی ہے، تو دوسری طرف اس کے ماحولیاتی اثرات نئی بحث کو جنم دے رہے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف توانائی اور پانی کے مؤثر استعمال سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب کوئی ٹیکنالوجی زیادہ مؤثر اور سستی ہو جاتی ہے تو اس کا استعمال بھی کئی گنا بڑھ جاتا ہے، نتیجتاً مجموعی وسائل کی کھپت کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ جاتی ہے۔ یہی رجحان AI کے معاملے میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔پانی کی کمی اور چیلنجپانی کی قلت پہلے ہی دنیا کے کئی ممالک کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں آبی وسائل پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ آبادی میں اضافہ، موسمیاتی تبدیلی، غیر مؤثر آبی انتظام اور زرعی ضروریات پانی کے بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ایسے حالات میں اگر عالمی سطح پر AI انفراسٹرکچر کی وجہ سے پانی اور توانائی کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات بالواسطہ طور پر ترقی پذیر ممالک پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ بجلی کی بڑھتی ہوئی عالمی طلب توانائی کی قیمتوں کو متاثر کر سکتی ہے جبکہ پانی کے وسائل کے بہتر انتظام کی ضرورت مزید بڑھ جائے گی۔کیا اس مسئلے کا حل موجود ہے؟خوش آئند بات یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں اس چیلنج سے پوری طرح آگاہ ہیں۔ دنیا کی کئی بڑی کمپنیاں ایسے ڈیٹا سینٹرز تیار کر رہی ہیں جو کم پانی استعمال کرتے ہیں۔ بعض مقامات پر سمندری پانی، ری سائیکل شدہ پانی اور جدید کولنگ ٹیکنالوجیز کو بھی آزمایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ توانائی کی بچت کرنے والے AI ماڈلز اور زیادہ مؤثر کمپیوٹر چپس پر بھی کام جاری ہے۔حکومتیں بھی ماحول دوست ڈیٹا سینٹرز کی حوصلہ افزائی کے لیے نئی پالیسیاں تشکیل دے سکتی ہیں۔ اگر صنعت، حکومت اور سائنسی ادارے مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں تو AI کی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان بہتر توازن قائم کیا جا سکتا ہے۔مصنوعی ذہانت بلاشبہ اکیسویں صدی کی سب سے اہم ٹیکنالوجی بن چکی ہے اور اس کے فوائد سے انکار ممکن نہیں تاہم اقوام متحدہ کی مذکورہ رپورٹ اس حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہے کہ ہر تکنیکی انقلاب کی ایک ماحولیاتی قیمت بھی ہوتی ہے؛چنانچہ AI کے بڑھتے استعمال کے ساتھ پانی، توانائی اور قدرتی وسائل کے تحفظ پر سنجیدگی سے غور کرنا ہو گا۔اصل سوال یہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت کو روکا جائے یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ اسے کس طرح اس انداز میں فروغ دیا جائے کہ انسانی ترقی کے ساتھ ساتھ زمین کے وسائل بھی محفوظ رہ سکیں۔ اگر آج سے منصوبہ بندی کی جائے تو AI مستقبل کی ترقی کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے اور ماحول کے لیے خطرہ بننے سے بھی بچ سکتی ہے۔

بین الاقوامی یومِ آرکائیوز

بین الاقوامی یومِ آرکائیوز

قومی یاداشت کے تحفظ کا عالمی دنہر قوم کی تاریخ اس کی شناخت، ثقافت اور اجتماعی شعور کی بنیاد ہوتی ہے۔ ماضی کے واقعات، سرکاری دستاویزات، تاریخی تصاویر، اخبارات، نقشے، عدالتی ریکارڈز اور اہم شخصیات کے خطوط کسی بھی ملک کی اجتماعی یادداشت کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان قیمتی تاریخی ریکارڈز کو محفوظ رکھنے کے لیے آرکائیوز کا نظام قائم کیا جاتا ہے۔ اسی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے دنیا بھر میں ہر سال 9 جون کو بین الاقوامی یومِ آرکائیوز (International Archives Day) منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد تاریخی اور سرکاری ریکارڈز کے تحفظ، ان کی افادیت اور مستقبل کی نسلوں کے لیے ان کی اہمیت کے بارے میں شعور بیدار کرنا ہے۔ یومِ آرکائیوز ، پس منظربین الاقوامی یومِ آرکائیوز پہلی بار 2008ء میں منایا گیا۔ اس تاریخ کا انتخاب اس لیے کیا گیا کیونکہ 9 جون 1948ء کو انٹرنیشنل کونسل آن آرکائیوز (ICA) کا قیام عمل میں آیا تھا۔ یہ ادارہ آرکائیوز کے تحفظ، ترقی اور پیشہ ورانہ معیار کو فروغ دینے کے لیے کام کرتا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک اس دن کو سیمینارز، نمائشوں، کانفرنسوں اور تعلیمی سرگرمیوں کے ذریعے مناتے ہیں تاکہ لوگوں کو تاریخی دستاویزات کی اہمیت سے آگاہ کیا جا سکے۔آرکائیوز اور ان کی اہمیتآرکائیوز ایسے ریکارڈز اور دستاویزات کا منظم ذخیرہ ہوتے ہیں جنہیں تاریخی، قانونی، انتظامی یا ثقافتی اہمیت کی وجہ سے محفوظ رکھا جاتا ہے۔ ان میں سرکاری فائلیں، مردم شماری کے ریکارڈ، عدالتی فیصلے، تاریخی تصاویر، اخبارات، صوتی و بصری مواد اور اہم شخصیات کی تحریریں شامل ہوتی ہیں۔اگر آرکائیوز موجود نہ ہوں تو قومیں اپنے ماضی سے محروم ہو جا ہیں۔ تاریخ کے بہت سے اہم واقعات، حکومتی فیصلے اور سماجی تبدیلیاں صرف انہی محفوظ ریکارڈز کے ذریعے ہمارے علم میں آتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک اپنے آرکائیوز کے تحفظ پر خصوصی توجہ دیتے ہیں اور انہیں قومی ورثے کا حصہ تصور کرتے ہیں۔پاکستان میں آرکائیوزپاکستان ایک ایسی ریاست ہے جس کی تاریخ برصغیر کی صدیوں پر محیط تہذیبی اور سیاسی روایات سے جڑی ہوئی ہے۔ تحریک پاکستان ، قراردادِ لاہور، تقسیمِ ہند اور قائداعظم محمد علی جناح کی سیاسی جدوجہد سے متعلق بے شمار تاریخی دستاویزات آج بھی قومی آرکائیوز میں محفوظ ہیں۔ یہ ریکارڈ نہ صرف محققین بلکہ عام شہریوں کے لیے بھی قومی تاریخ کو سمجھنے کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔پاکستان میں قومی آرکائیوز، صوبائی ریکارڈ دفاتر، یونیورسٹی لائبریریاں اور تحقیقی ادارے اہم تاریخی مواد محفوظ کر رہے ہیں۔ تاہم اب بھی بہت سی قیمتی دستاویزات، مخطوطات اور مقامی تاریخ سے متعلق ریکارڈ مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے ضائع ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ آرکائیوز کے شعبے کو جدید تقاضوں کے مطابق مزید مضبوط بنایا جائے۔تعلیم، تحقیق اور شفافیت میں کردارآرکائیوز صرف پرانی دستاویزات کا ذخیرہ نہیں بلکہ علم اور تحقیق کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ یونیورسٹیوں کے طلبہ، اساتذہ، صحافی اور تاریخ دان تحقیق کے لیے انہی محفوظ ریکارڈز سے استفادہ کرتے ہیں۔ اصل دستاویزات کی موجودگی تحقیق کو مستند اور قابلِ اعتماد بناتی ہے۔اس کے علاوہ آرکائیوز جمہوری نظام میں شفافیت اور احتساب کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جب سرکاری فیصلوں اور پالیسیوں کا ریکارڈ محفوظ ہوتا ہے تو عوام اور محققین ان کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ اس طرح حکومتی اداروں کی کارکردگی کا تجزیہ ممکن ہوتا ہے اور شفاف حکمرانی کو فروغ ملتا ہے۔ڈیجیٹل دور اور آرکائیوز کا مستقبلٹیکنالوجی کی ترقی نے آرکائیوز کے شعبے میں نئی جہتیں پیدا کی ہیں۔ آج دنیا کے بیشتر ممالک اپنے تاریخی ریکارڈز کو ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کر رہے ہیں۔ ڈیجیٹل آرکائیوز کے ذریعے قیمتی دستاویزات کو طویل عرصے تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے اور دنیا بھر کے محققین ان تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔پاکستان میں بھی اس سمت میں پیش رفت ہو رہی ہے، لیکن مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ اگر قومی اور صوبائی سطح پر آرکائیوز کی ڈیجیٹائزیشن کو تیز کیا جائے تو تاریخی ورثے کے تحفظ اور تحقیق و تعلیم کے مواقع میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ جدید دور میں صرف کاغذی ریکارڈ محفوظ رکھنا کافی نہیں، انہیں ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کرنا بھی ضروری ہے۔ چیلنجزآرکائیوز کو مختلف قسم کے چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے۔ نمی، آگ، سیلاب، زلزلے اور دیگر قدرتی آفات تاریخی دستاویزات کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ اسی طرح مناسب وسائل، تربیت یافتہ عملے اور جدید آلات کی کمی بھی آرکائیوز کے تحفظ میں رکاوٹ بنتی ہے۔پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک میں مالی وسائل کی محدود دستیابی کے باعث آرکائیوز کے شعبے کو وہ توجہ نہیں مل پاتی جس کا وہ مستحق ہے۔ تاہم قومی تاریخ اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے اس شعبے میں سرمایہ کاری وقت کی اہم ضرورت ہے۔بین الاقوامی یومِ آرکائیوز ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ آرکائیوز نہ صرف تاریخی دستاویزات کی حفاظت کرتے ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو اپنی شناخت، ثقافت اور قومی ورثے سے جوڑے رکھتے ہیں۔ ہماری تاریخ، تحریکِ پاکستان سے متعلق قیمتی ریکارڈز محفوظ رکھنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

چارلس ڈکنز کا انتقال9 جون 1870ء کو انگریزی ادب کے عظیم ناول نگار چارلس ڈکنز کا انتقال ہوا۔چارلس ڈکنز نے صنعتی انقلاب کے دور میں غربت، سماجی ناانصافی اور طبقاتی فرق کو اپنے ناولوں کا موضوع بنایا۔ ان کی مشہور تصانیف میں,Oliver Twist David Copperfieldاور A Tale of Two Citiesشامل ہیں۔ان کی تحریروں نے نہ صرف ادب کو متاثر کیا بلکہ سماجی اصلاحات کی تحریکوں کو بھی تقویت دی۔ ڈکنز کی وفات کے وقت وہ اپنے آخری ناولThe Mystery of Edwin Drood پر کام کر رہے تھے جو نامکمل رہ گیا۔نیرو کی خودکشی9 جون 68ء کو رومی سلطنت کے مشہور اور متنازع حکمران نیرو نے خودکشی کر لی۔ نیرو 54ء سے روم کا شہنشاہ تھا اور اسے تاریخ کے سب سے متنازع حکمرانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کے دور میں فنونِ لطیفہ کو فروغ ملا لیکن ظلم، سیاسی مخالفین کے قتل اور عیش و عشرت کی وجہ سے اس کی شہرت خراب ہوئی۔64ء میں روم میں لگنے والی آگ کے بعد نیرو پر الزام لگایا گیا کہ اس نے شہر کو جلانے میں کردار ادا کیا، اگرچہ مؤرخین اس بارے میں متفق نہیں ہیں۔ بعد ازاں اس نے عیسائیوں کو اس آتش زدگی کا ذمہ دار ٹھہرا کر ان پر سخت مظالم ڈھائے۔ سینیٹ نے اسے عوام کا دشمن قرار دے دیا۔ گرفتاری اور ممکنہ ذلت آمیز سزا سے بچنے کے لیے نیرو نے روم کے قریب ایک مقام پر خودکشی کر لی۔ویانا کانگریس معاہدہ9 جون 1815ء کو یورپ کی تاریخ کے اہم ترین سفارتی واقعات میں سے ایک یعنی ویانا کانگریس کے حتمی معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ یہ کانگریس نپولین بوناپارٹ کی شکست کے بعد یورپ کے سیاسی نقشے کو دوبارہ ترتیب دینے کے لیے منعقد کی گئی تھی۔ اس میں آسٹریا، برطانیہ، روس، پروشیا(جرمنی)، فرانس، پرتگال اور سویڈن سمیت بڑی طاقتوں نے شرکت کی۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد یورپ میں طاقت کا توازن قائم کرنا اور مستقبل میں کسی ایک ریاست کو اتنا طاقتور نہ ہونے دینا تھا کہ وہ پورے براعظم کے امن کو خطرے میں ڈال سکے۔ کانگریس کے نتیجے میں متعدد سرحدیں تبدیل کی گئیں، کئی ریاستوں کو ازسرِ نو منظم کیا گیا اور فرانس کو واپس یورپی نظام کا حصہ بنایا گیا۔ جارجیا کا چارٹر9 جون 1732ء کو برطانیہ کے بادشاہ جارج دوم نے شمالی امریکہ میں جارجیا کالونی کے قیام کا شاہی چارٹر جاری کیا۔جارجیا برطانوی امریکہ کی تیرہویں اور آخری کالونی تھی۔ اس کے قیام کا مقصد غریب برطانوی شہریوں کو نئی زندگی فراہم کرنا اور ہسپانوی فلوریڈا کے خلاف ایک حفاظتی بفر قائم کرنا تھا۔کالونی کے بانی نے ابتدا میں سماجی اصلاحات متعارف کرانے کی کوشش کی۔ غلامی اور شراب نوشی پر پابندی لگائی گئی، اگرچہ بعد میں ان پابندیوں کو ختم کر دیا گیا۔جارجیا بعد میں امریکی انقلاب میں شامل ہونے والی کالونیوں میں سے ایک بنی اور آج امریکہ کی ایک اہم ریاست ہے۔براڈ پیک سر کی گئی9 جون 1957ء کو چار آسٹرین کوہ پیماؤں ، ہرمن بول، مارکس شمک، فرٹز ونٹرسٹیلر اور کرٹ ڈیمبرگر نے پہلی مرتبہ براڈ پیک کی چوٹی سر کی۔ براڈ پیک دنیا کا بارہواں بلند ترین پہاڑ ہے جس کی بلندی 8051 میٹر ہے اور یہ پاکستان اور چین کی سرحد کے قریب قراقرم کے سلسلے میں واقع ہے۔ 1950ء کی دہائی کو ہمالیہ اور قراقرم کی عظیم مہمات کا دور کہا جاتا ہے۔ اس زمانے میں دنیا کے کئی بلند ترین پہاڑ پہلی مرتبہ سر کیے جا رہے تھے براڈ پیک بھی ان میں شامل ہے۔یہ مہم اس لحاظ سے منفرد تھی کہ کوہ پیماؤں نے نسبتاً ہلکے سامان اور محدود وسائل کے ساتھ چوٹی سر کی۔ شدید سردی، برفانی طوفانوں اور آکسیجن کی کمی کے باوجود ان کوہ پیماؤں نے غیر معمولی ہمت اور مہارت کا مظاہرہ کیا۔