مسرت نذیر

مسرت نذیر

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالحفیظ ظفر


انور کمال پاشا پاکستان فلمی صنعت کے محسن تھے۔ انہوں نے اس نوزائیدہ صنعت کو بہت سے فنکار دیئے جنہوں نے بعد میں اپنی ذہانت کے بل بوتے پر اپنی ایک الگ شناخت بنائی۔ بعض شہرت کے آسمان پر سورج بن کر چمکنے لگے اور آج تک لوگ ان فنکاروں کو یاد کرتے ہیں۔مسرت نذیر بھی وہ فنکارہ تھیں جنہیں سب سے پہلے انور کمال پاشا نے اداکارہ کی حیثیت سے متعارف کرایا تھا۔ اس کے بعد اس فنکارہ نے اپنی صلاحیتوںکے ایسے جوہر دکھائے کہ فلمی پنڈت انگشت بدنداں رہ گئے۔ مسرت نذیر کا کمال یہ تھا کہ انہوں نے صبیحہ خانم اور نیئرسلطانہ کے عروج کے زمانے میں اپنے آپ کو منوایا۔ صبیحہ خانم کی طرح وہ بھی اردو اور پنجابی دونوں زبانوں کی فلموں میں اداکاری کرتی تھیں۔ ان کے مداحین کا وسیع حلقہ موجود تھا جو نہ صرف ان کی اداکاری بلکہ دلکش شخصیت سے بھی بہت متاثر تھا۔مسرت نذیر13 اکتوبر1940ء کو لاہور میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد نذیر احمد کارپوریشن میں ٹھیکیدار تھے۔ مسرت کے والد اپنی بیٹی کو ڈاکٹر بنانے کے آرزو مند تھے،لیکن محدود وسائل کی وجہ سے ان کی یہ خواہش پوری نہ ہوسکی۔ مسرت نذیر نے میٹرک کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیاجس کے بعد انہوں نے کنیئرڈ کالج سے انٹر کا امتحان پاس کیا۔ وہ بڑی ذہین طالبہ تھیں۔ شروع میں انہیں گلوکاری کا شوق تھا۔1950ء کے عشرے میں وہ ریڈیو پاکستان سے گیت گاتی رہیں۔ لیکن انہیں بہت کم معاوضہ ملتا تھا۔1955ء میں انور کمال پاشا سے ان کا رابطہ ہوا۔ انہوں نے پاشا صاحب سے کہا کہ وہ گلوکارہ بننے کی خواہشمند ہیں اور اس سلسلے میں انہیں موقع دیئے جائیں۔ انور کمال پاشا بلا کے ذہین ہدایتکار تھے اور کہا جاتا ہے کہ وہ نئے فنکاروں کی صلاحیتوں کو جانچنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ انہوں نے مسرت نذیر کو اداکاری کرنے کا مشورہ دیا۔ مسرت نذیر نے انور کمال پاشا کو بتایا کہ وہ اپنے والد کی اجازت کے بغیر فلموں میں کام کرنے کی حامی نہیں بھر سکتیں۔ اس پر انور کمال پاشا خود مسرت کے والد سے ملے اور انہیں قائل کیا کہ وہ اپنی بیٹی کو فلموں میں کام کرنے کی اجازت دے دیں۔ مسرت نذیر کو بالآخر ان کے والد نے فلموں میں اداکاری کرنے کی اجازت دے دی۔ انور کمال پاشا نے ان کا فلمی نام چاندنی رکھا۔ 1955ء میں چاندنی نے صبیحہ خانم اور نیئر سلطانہ کے ساتھ پاشا کی فلم ’’قاتل‘‘ میں کام کیا۔ پھر چاندنی نے 1955ء میں ہی فلمساز شیخ لطیف اور ہدایتکار لقمان کی پنجابی فلم ’’پتن‘‘ میں سنتوش کمار کے ہمراہ مرکزی کردار ادا کیا۔ اس فلم میں وہ اپنے اصلی نام مسرت نذیر کے ساتھ جلوہ گر ہوئیں۔ یہ فلم زبردست کامیابی سے ہمکنار ہوئی، جس کے بعد مسرت نذیر پر پنجابی فلموں کے دروازے کھل گئے۔ اس کے بعد انہوں نے پاٹے خان جیسی مشہور فلم میں کام کیا۔1957ء میں انہوں نے ’’یکے والی‘‘ جیسی شاندار فلم میں اداکاری کے جوہر دکھائے جس نے ریکارڈکامیابی حاصل کی۔ اس فلم کے ہدایتکار ایم جے رانا تھے اور فلمساز تھے باری ملک۔ ’’یکے والی‘‘ میں مسرت نذیر نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ ان کے ساتھ سدھیر، نیلو، اجمل، الیاس کاشمیری اور ظریف کی اداکاری کو بھی شائقین فلم نے بہت پسند کیا۔ اس فلم کی کمائی سے ہی باری ملک نے باری سٹوڈیو تعمیر کیا۔ ان کی دیگر مشہور پنجابی فلموں میں ’’ماہی منڈا‘یار بیلی اور کرتار سنگھ‘‘ شامل ہیں۔ انہوں نے زیادہ تر سدھیر اور سنتوش کمار کے ساتھ کام کیا۔ ان کی دیگر مشہور فلموں میں ’’نوکری، آنکھ کا نشہ، باپ کا گناہ، جھومر، شہید، زہر عشق، قسمت، جٹی، وطن، سولہ آنے، گڈی گڈا، باغی، لکن میٹی ، ٹھنڈی سڑک، مستی، مرزا صاحباں، عشق پر زور نہیں، مفت بر اور گلفام‘‘ شامل ہیں۔ان کی اردو فلموں میں ’’جھومر، زہر عشق اور شہید‘‘ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ان فلموں میں وہ اداکاری کے عروج پر نظر آتی ہیں۔ مسرت نذیر کو گانے پکچرائز کرنے میں بھی ملکہ حاصل تھا۔ مذکورہ بالا فلموں کے گیت بھی سپرہٹ ہوئے۔ ان کی موسیقی خواجہ خورشید انور اوررشید عطرے جیسے نابغۂ روزگار موسیقاروں نے ترتیب دی تھی۔ ’’زہر عشق‘‘ میں انہوں نے اپنے کیریئر کا سب سے انوکھا کردار ادا کیا جس پر انہیں نگار ایوارڈ بھی دیا گیا۔ ’’زہر عشق‘‘ ایک شاندار فلم تھی لیکن یہ فلم باکس آفس پر فلاپ ہوگئی۔ ’’جھومر‘‘ میں ان پر ناہید نیازی کے گائے ہوئے یادگار نغمات عکسبند کیے گئے۔ یہ نغمات بہت مقبول ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ خواجہ خورشید انور پہلے’’جھومر‘‘ کے گیت نورجہاں سے گوانا چاہتے تھے ، لیکن نور جہاں نے شرط عائد کردی کہ مسرت نذیر کا کردار انہیں دیا جائے۔ خواجہ صاحب نے انکار کردیا اور پھر ’’جھومر‘‘ کے گیتوں کیلئے انہوں نے ناہید نیازی کا انتخاب کیا۔ خواجہ خورشید انور سمجھتے تھے کہ ناہید نیازی کی آواز میں گیتا دت کی جھلک واضح طورپر ملتی ہے۔ خواجہ صاحب کا ناہید نیازی سے گیت گوانے کا فیصلہ درست ثابت ہوا۔ اب ان کی یادگار فلم ’’شہید‘‘ کا بھی ذکر ضروری ہے۔ اس فلم میں ہدایتکار خلیل قیصر نے مسرت نذیر کو ایسا کردار دیا جسے انہوں نے کمال مہارت سے ادا کیا۔ ’’شہید‘‘ کو پاکستان کی بہترین اردو فلموں میں سے ایک قرار دیاجاتا ہے۔ اس فلم میں منیرنیازی کی مشہور زمانہ غزل ’’اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو‘‘ بھی شامل تھی۔ یہ غزل نسیم بیگم نے گائی تھی اور اسے مسرت نذیر پر پکچرائز کیا گیا تھا۔ مسرت نذیر نے جتنے عمدہ طریقے سے گانے کی عکسبندی کرائی‘ اس کی مثال بہت کم ملتی ہے۔ یہ فلم 1962ء میں ریلیز ہوئی تھی اور اس میں بھی بہترین اداکاری کرنے پر مسرت نذیر کو نگارایوارڈ دیا گیا۔ انہوں نے مجموعی طور پر تین نگار ایوارڈ حاصل کیے۔مسرت نذیر کو پنجاب کی جٹی کے نام سے بھی پکارا جاتا تھا۔ وہ جتنی خوبصورت تھیں اتنی ہی اعلیٰ اداکارہ بھی تھیں۔ انہوں نے 1963 میں ڈاکٹر ارشد مجید سے شادی کی اور بعدازاں وہ دونوں کینیڈا شفٹ ہوگئے۔ ان کے فنی سفر کا دوسرا دور اس وقت شروع ہوا جب وہ ایک گلوکارہ کی حیثیت سے سامنے آئیں۔ انہوں نے کچھ لوک گیت گائے اور خوب شہرت حاصل کی۔ ان کے مشہور لوک گیتوں میں یہ دوگیت بہت زیادہ ہٹ ہوئے۔ (1) میرا لونگ گواچا (2) لٹھے دی چادر اُتے سلیٹی رنگ ماہیا۔ اس کے علاوہ ان کے گائے ہوئے یہ گیت بہت پسند کیے گئے (1) گلشن کی بہاروں میں (2) چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر (3) اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں۔مسرت نذیر نے اپنے بعد میں آنے والی کئی ہیروئنوں کو متاثر کیا۔ نئی ہیروئنیں انہیں اپنا آئیڈیل قرار دیتی تھیں۔ ایک دفعہ سرکاری ٹی وی پر بابرہ شریف نے کہا تھا کہ مسرت نذیر نے انہیں سب سے زیادہ متاثر کیا۔ مسرت نذیر حیات ہیں اور اپنے خاندان کے ساتھ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ایک اداکارہ اور گلوکارہ کی حیثیت سے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
جوؤں کی دوا، سرطان کا خطرہ؟

جوؤں کی دوا، سرطان کا خطرہ؟

سر کی جوئیں ایک عام مسئلہ ہیں، خصوصاً بچوں میں اور ان سے نجات کیلئے مختلف شیمپو، لوشن اور دیگر ادویات استعمال کی جاتی ہیں۔ تاہم ایک مقبول جوؤں کے علاج میں شامل کیمیکل کے حوالے سے سائنسدانوں نے ممکنہ صحت کے خطرات پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کیمیکل کی بعض خصوصیات اور ہارمونز پر اس کے ممکنہ اثرات ایسے خدشات کو جنم دیتے ہیں کہ طویل یا بار بار استعمال کی صورت میں چھاتی کے سرطان کے خطرے سے کوئی تعلق ہو سکتا ہے۔ اگرچہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے، تاہم یہ معاملہ والدین اور صارفین کیلئے ادویات کے اجزا اور محفوظ استعمال کے بارے میں محتاط رہنے کی اہمیت اجاگر کرتا ہے۔ محققین نے خبردار کیا ہے کہ بچوں میں سر کی جوؤں کے علاج کیلئے استعمال ہونے والی ایک مقبول دوا میں شامل کیمیکلز، جسے چھ ماہ تک کی عمر کے بچوں میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، چھاتی کے سرطان کے خطرے میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔یہ انتباہ ایک وسیع پیمانے پر کی جانے والی تحقیق کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں معلوم ہوا کہ کاسمیٹکس اور خوراک کی پیکنگ میں موجود سینکڑوں کیمیکلز سے انسانی جسم کا واسطہ سرطان لاحق ہونے سے کئی سال یا حتیٰ کہ کئی دہائیاں پہلے ہی پڑنا شروع ہو سکتا ہے۔ان کیمیکلز میں ''ملا تھیون‘‘ (Malathion) بھی شامل ہے، جو سر کی جوؤں کے علاج کیلئے استعمال ہونے والی دواکا فعال جزو ہے۔تحقیق میں جن دیگر ممکنہ طور پر نقصان دہ کیمیکلز کی نشاندہی کی گئی ہے، ان میں ''بسفینول اے‘‘ (BPA) بھی شامل ہے، جو مشروبات کے کین اور دکانوں کی خریداری کی رسیدوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح میتھائل پیرا بین (Methylparaben) بھی ان کیمیکلز میں شامل ہے، جو موئسچرائزرز، شیمپو اور ڈیوڈرنٹس میں بطور حفاظتی جزو استعمال کیا جاتا ہے۔تحقیق کی سربراہ مصنفہ جینیفر کے نے کہا کہ لوگ اپنی پوری زندگی مختلف ذرائع سے سینکڑوں کیمیکلز کے اثرات کا سامنا کرتے ہیں اور یہ اثرات وقت کے ساتھ جمع ہوتے رہتے ہیں۔چھاتی کا سرطان لاحق ہونے میں کئی سال لگ سکتے ہیں، اس لیے زندگی کے ابتدائی مراحل میں ممکنہ طور پر نقصان دہ کیمیکلز سے exposure کم کرنا سرطان سے بچاؤ کا ایک اہم حصہ ہے۔ تحقیق کے نتائج''انوائرمنٹل ہیلتھ پرسپیکٹیوز‘‘ (Environmental Health Perspectives) نامی جریدے میں شائع ہوئے ہیں۔ یہ نتائج ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب کم عمر خواتین میں چھاتی کے سرطان کے کیسز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران 20 سے 49 سال کی عمر کی خواتین میں چھاتی کے سرطان کے کیسز میں تقریباً 10 فیصد اضافہ ہوا ہے۔نمائش کے سب سے بڑے ذرائع کا تعین کرنے کیلئے محققین نے امریکی حکومت کے ایک درجن سے زائد ڈیٹا بیسز کا تجزیہ کیا، جن میں کیمیکلز کے استعمال، آلودگی کی سطح اور انسانی جسم کو ان کیمیکلز سے لاحق ہونے والی نمائش سے متعلق معلومات شامل تھیں۔ محققین نے 900 سے زائد ایسے کیمیکلز پر توجہ مرکوز کی جنہیں پہلے ہی ممکنہ طور پر چھاتی کے سرطان سے منسلک قرار دیا جا چکا ہے۔ ان میں ایسے مادے بھی شامل تھے جو ہارمونز کے نظام میں خلل ڈال سکتے ہیں یا جانوروں میں چھاتی کے غدود کی رسولیاں پیدا کرنے کا سبب بننے کے شواہد رکھتے ہیں۔تحقیق میں معلوم ہوا کہ ان میں سے سینکڑوں کیمیکلز اب بھی روزمرہ استعمال کی اشیا میں شامل ہیں، جن میں تعمیراتی سامان اور طبی آلات بھی شامل ہیں۔ ان کیمیکلز میں بینزین (Benzene) بھی شامل ہے، جس کا انسانوں کو عموماً گاڑیوں کے دھوئیں اور سگریٹ کے دھوئیں کے ذریعے سامنا ہوتا ہے۔ اسی طرح اسٹائرین (Styrene) بھی شامل ہے، جو بعض ٹیک اوے کافی کے کپوں اور کھانے کے ڈبوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ محققین نے بسفینول اے (BPA) کی بھی نشاندہی کی، جو بعض دوبارہ استعمال ہونے والے پلاسٹک کے کھانے کے برتنوں، مشروبات کے کین کی اندرونی تہہ اور خریداری کی رسیدوں میں استعمال ہوتا ہے۔ برطانیہ میں اس خدشے کے پیش نظر کہ یہ کیمیکل بوتل کے مواد میں شامل ہو سکتا ہے، 2011ء میں بچوں کی دودھ کی بوتلوں میں BPA کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔یورپی کمیشن نے دسمبر 2024ء میں مزید سخت اقدام کرتے ہوئے خوراک کے ساتھ براہِ راست رابطے میں آنے والے مواد میں BPA کے استعمال پر پابندی عائد کر دی۔ تاہم برطانیہ نے تاحال اس کی پیروی نہیں کی۔محققین نے DEHP نامی کیمیکل کی بھی نشاندہی کی، جو پلاسٹک کو نرم بنانے کیلئے استعمال ہوتا ہے اور اب بھی بعض طبی آلات میں پایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ میتھائل پیرا بین (Methylparaben) بھی قابلِ توجہ قرار دیا گیا، جو موئسچرائزرز، شیمپو اور ڈیوڈرنٹس کی مدتِ استعمال بڑھانے کیلئے بطور حفاظتی مادہ استعمال کیا جاتا ہے۔پیرا بینز جسم میں ایسٹروجن کے اثرات کی نقل کر سکتے ہیں، جو اس لیے اہم بات ہے کہ یہ ہارمون چھاتی کے سرطان کی بعض اقسام کے خلیوں کی افزائش کو تحریک دے سکتا ہے۔تاہم، تحقیق میں جن بعض کیڑے مار ادویات (Pesticides) کی نشاندہی کی گئی ہے، انہیں کئی ممالک میں زرعی استعمال کیلئے منظوری حاصل نہیں ہے۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ تحقیق کے نتائج ممکنہ طور پر ضابطہ سازی میں موجود ایک ''نظر انداز کیے گئے پہلو‘‘ کو سامنے لاتے ہیں، کیونکہ حفاظتی جائزوں میں اکثر کیمیکلز کو الگ الگ دیکھا جاتا ہے، جبکہ روزمرہ زندگی میں لوگوں کو ایک ہی وقت میں مختلف کیمیکلز کے مرکب کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر کے نے کہا کہ چھاتی کا سرطان لاحق ہونے میں کئی سال لگ سکتے ہیں، اس لیے مختلف ذرائع سے لوگوں کے کیڑے مار ادویات کے اثرات کا سراغ لگانا اور انہیں کم کرنا سرطان سے بچاؤ کا ایک اہم حصہ ہے۔چھاتی کے سرطان کی کوئی ایک وجہ نہیں ہے، اور اس تحقیق سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ جن کیمیکلز کی نشاندہی کی گئی ہے، ان میں سے کسی ایک کے اثرات سے لازماً چھاتی کا سرطان لاحق ہو جائے گا۔ تاہم، کئی ایسے عوامل پہلے ہی معلوم ہیں جو اس بیماری کے خطرے میں اضافہ کر سکتے ہیں، جن میں عمر بڑھنا اور خاندان میں اس بیماری کی موجودگی شامل ہیں۔اس کے علاوہ شراب نوشی، تمباکو نوشی، زیادہ وزن، چھاتی کے بافتوں کا زیادہ کثیف ہونا، بشمول ہارمون ریپلیسمنٹ تھراپی کے ذریعے ہارمونز کا استعمال، بھی چھاتی کے سرطان کے خطرے سے منسلک ہیں۔

حساب سے باہر

حساب سے باہر

ہم نے اپنے عہد میں ہر چیز کا حساب سیکھ لیا ہے؛ سوائے اس قیمت کے جو حساب رکھنے کی عادت ہم سے وصول کرتی ہے۔روپے کا مصرف پوچھا جاتا ہے، عمر کا نہیں۔ کاروبار میں ڈوبی ہوئی رقم مدتوں یاد رہتی ہے، کاروبار بچاتے ہوئے جو آدمی اپنے اندر ڈوب گیا، اس کا ذکر کسی گوشوارے میں نہیں آتا۔ بازار کی مندی پر ہمیں تشویش ہوتی ہے، اپنی طبیعت کی مندی کو ہم مصروفیت کہہ کر ٹال دیتے ہیں۔رفتہ رفتہ مصروفیت اتنی معتبر ہو جاتی ہے کہ اس کے سامنے ہر شکایت بے محل معلوم ہونے لگتی ہے۔باپ کچھ کہنا چاہتا ہے، مگر بیٹے کی میٹنگ ہے۔ بچہ اپنی ڈرائنگ دکھانا چاہتا ہے، مگر باپ فون پر ہے۔ بیوی کئی دن سے ایک بات مناسب وقت کے انتظار میں رکھے ہوئے ہے۔ گھر میں سب کے پاس گھڑیاں ہیں مناسب وقت کسی کے پاس نہیں۔اور جس شخص کے پاس وقت نہیں، وہ یہ سب کچھ انہی لوگوں کیلئے کر رہا ہے۔''میں تمہارے لیے ہی تو کما رہا ہوں‘‘۔اس جملے کے بعد گھر میں بہت سی باتیں کہی نہیں جا سکتیں۔ روٹی کی ضرورت اپنی جگہ قائم رہتی ہے، مگر ساتھ بیٹھ کر کھانے کی خواہش شرمندہ ہو جاتی ہے۔رزق کی مشقت کا انکار کون کرے؟ فیس کی آخری تاریخ فلسفہ نہیں سنتی۔ دوا فروش کو مریض سے محبت کا یقین دلا کر دوا نہیں لی جا سکتی۔ تنگ دستی میں آدمی کی نیند ہی نہیں، بعض اوقات اس کا لہجہ بھی گروی ہو جاتا ہے۔ اس لیے آسودہ کرسی پر بیٹھ کر تھکے ہوئے آدمی کو قناعت کا درس دینا آسان ہے، اس کے مہینے کے آخری چار دن گزارنا مشکل۔مگر کمائی کی اس ناگزیریت میں ایک سوال پھر بھی باقی رہتا ہے: ضرورت پوری ہونے کے بعد بھی ضرورت کا لہجہ کیوں باقی رہتا ہے؟ہم میں سے بعض لوگ مدت ہوئی محتاجی سے نکل آئے، مگر محرومی سے نہیں نکلے۔ اب انہیں روٹی کی کمی نہیں ستاتی، یہ بات ستاتی ہے کہ دوسرے کی میز پر کیا رکھا ہے۔ وہ اپنے گھر میں رہتے ہیں، لیکن اپنی آسودگی کا پتہ پڑوسی سے پوچھتے ہیں۔حساب کی ایک اور باریکی ہے۔ آدمی جب دینے لگتا ہے تو کبھی کبھی اس کے اندر ایک نادیدہ منشی بیٹھ جاتا ہے۔ وہ رقم ہی نہیں لکھتا، لہجے بھی درج کرتا ہے۔ کس نے کتنا شکریہ ادا کیا، کس نے کتنی بار فون کیا، کس نے محفل میں ہمارا ذکر کس انداز سے کیا۔محبت کے حساب میں اکثر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ہم اپنی قربانی کو دوسرے کی اطاعت کی دلیل بنا لیتے ہیں۔ پھر محبوب کی الگ رائے بے وفائی معلوم ہوتی ہے اور اولاد کا اپنا راستہ ناشکری۔ ہم رشتے کو بچانے نکلتے ہیں، مگر راستے میں اس کی گنجائش چھین لیتے ہیں۔اپنا حساب دیکھنے کے لیے صرف یادداشت کافی نہیں؛ انصاف بھی چاہیے۔ ورنہ ہمیں اپنی دی ہوئی رقم تو یاد رہے گی، دوسرے کی بچائی ہوئی عزت نہیں۔ اپنا انتظار یاد رہے گا، کسی اور کی وہ خاموشی نہیں جس نے ہماری بات کا پردہ رکھا تھا۔

پینانگ برج

پینانگ برج

سمندر پر انجینئرنگ کا شاہکارملائیشیا کے جزیرے پینانگ کو ملک کے مغربی ساحلی علاقے سے ملانے والا پینانگ برج محض ایک پل نہیں بلکہ جدید انجینئرنگ، معاشی ترقی اور انسانی عزم کی ایک شاندار علامت ہے۔ آبنائے پینانگ کے نیلگوں پانیوں پر پھیلا یہ پل جزیرہ پینانگ کے شہر جیلگور کو آبنائے کے دوسری جانب واقع پرائی سے ملاتا ہے۔ تقریباً 13.5 کلومیٹر طویل یہ پل اپنے قیام کے وقت ایک غیر معمولی انجینئرنگ منصوبہ تھا۔ پینانگ جزیرہ طویل عرصے تک ملائیشیا کے مرکزی علاقے سے بنیادی طور پر کشتیوں اور فیری سروس کے ذریعے منسلک تھا۔ آبادی میں اضافے، صنعتی سرگرمیوں کے فروغ اور تجارت کے بڑھتے ہوئے حجم نے ایک مستقل زمینی رابطے کی ضرورت پیدا کی۔ 1970ء کی دہائی میں جزیرے کو سرزمین سے ملانے کیلئے پل کی تعمیر کا تصور سنجیدگی سے آگے بڑھایا گیا۔بالآخر 1982ء میں پل کی تعمیر کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ تقریباً ساڑھے تین سال کی محنت کے بعد یہ عظیم منصوبہ مکمل ہوا اور 14 ستمبر 1985ء کو ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا۔ تعمیر پر اس وقت تقریباً 800 ملین ملائیشین رنگٹ خرچ ہوئے۔ 13.5 کلومیٹر طویل شاہکارپینانگ برج کی مجموعی لمبائی تقریباً 13.5 کلومیٹر ہے، جس میں تقریباً 8.4 کلومیٹر حصہ پانی کے اوپر قائم ہے۔ پل کا مرکزی حصہ کیبل اسٹیڈ ڈیزائن پر مشتمل ہے، جس میں مضبوط ٹاورز اور کیبلز پل کے مرکزی حصے کو سہارا دیتے ہیں۔ اس کا مرکزی اسپین تقریباً 225 میٹر ہے جبکہ پل کے نیچے پانی کی سطح سے مناسب بلندی رکھی گئی ہے تاکہ بحری جہازوں کی آمدورفت متاثر نہ ہو۔ اس پل کا ڈیزائن اس لحاظ سے بھی اہم تھا کہ اسے مستقبل میں ٹریفک کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے مطابق وسیع کرنے کی گنجائش کے ساتھ تیار کیا گیا تھا۔ ابتدائی دور میں پل کے مختلف حصوں پر لینز کی تعداد کم تھی، تاہم بعد میں اسے وسیع کیا گیا اور پل کو چھ لینز پر مشتمل بنا دیا گیا۔ ترقی کی نئی راہیںپینانگ برج نے جزیرے اور زمین کے درمیان سفر کو نمایاں طور پر آسان بنایا۔ اس سے پہلے فیری سروس پر انحصار کرنے والے مسافروں اور تجارتی گاڑیوں کو اب ایک مستقل اور تیز رفتار راستہ میسر آ گیا۔ پل کے ذریعے پینانگ کے صنعتی علاقوں، شہری مراکز، بندرگاہوں اور دیگر تجارتی مقامات کے درمیان رابطہ مضبوط ہوا۔ ماہرین کے مطابق اس پل نے پینانگ کی صنعتی اور سیاحتی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ بڑھتی ہوئی ٹریفک اور توسیعوقت گزرنے کے ساتھ پینانگ برج پر گاڑیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوا۔ پل کی تعمیر کے وقت جس ٹریفک کا اندازہ لگایا گیا تھا، بعد کے برسوں میں اس سے کہیں زیادہ گاڑیاں اس راستے کو استعمال کرنے لگیں۔ نتیجتاً پل کی گنجائش بڑھانے کی ضرورت محسوس ہوئی۔2008ء کے دوران پل کو وسیع کرنے کا کام شروع کیا گیا اور 2009ء تک اسے مکمل کر لیا گیا۔ اس توسیع کے بعد پل پر ہر سمت تین لینز فراہم کی گئیں، جس سے ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر بنانے میں مدد ملی۔دوسرے پینانگ برج کی ضرورتپینانگ کی معاشی سرگرمیوں میں اضافے اور پہلے پل پر ٹریفک کے دباؤ کے باعث بعد میں ایک دوسرے پل کی تعمیر کا منصوبہ بنایا گیا۔ سلطان عبدالحلیم معظم شاہ برج کے نام سے دوسرا پینانگ برج 24 کلومیٹر طویل ہے اور اس کا بڑا حصہ سمندر کے اوپر واقع ہے۔ اسے 2014ء میں کھولا گیا۔ اس نئے پل کا بنیادی مقصد پہلے پینانگ برج پر ٹریفک کا دباؤ کم کرناتھا۔ سیاحت اور خوبصورتی کا مرکزپینانگ برج صرف مسافروں اور تجارتی گاڑیوں کیلئے اہم راستہ نہیں بلکہ سیاحوں کیلئے بھی ایک دلکش منظر پیش کرتا ہے۔ دن کے وقت سمندر کے نیلے پانی، دور تک پھیلا پل اور پس منظر میں پینانگ جزیرے کا منظر ایک خوبصورت تصویر پیش کرتا ہے، جبکہ رات کے وقت روشنیوں سے سجا پل مزید دلکش دکھائی دیتا ہے۔یہ پل پینانگ کے پوسٹ کارڈز، سیاحتی تصاویر اور مختلف تشہیری مواد میں نمایاں نظر آتا ہے۔انجینئرنگ کی کامیابیپینانگ برج کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اسے اپنے دور میں ایک نمایاں انجینئرنگ کامیابی قرار دیا گیا۔ ملائیشیا کے تعمیراتی شعبے کیلئے بھی یہ منصوبہ ایک اہم تجربہ ثابت ہوا۔آج پینانگ برج کو محض ایک سڑک یا شاہراہ کے طور پر نہیں دیکھا جاتا۔ یہ انسانی عزم، جدید انجینئرنگ اور معاشی ترقی کے باہمی تعلق کی علامت بن چکا ہے۔ سمندر کے سینے پر پھیلا یہ پل اس بات کا ثبوت ہے کہ جب ترقی کا وژن، انجینئرنگ کی مہارت اور قومی ضرورت ایک جگہ جمع ہو جائیں تو ایک ایسا شاہکار وجود میں آتا ہے جو کئی دہائیوں تک آنے والی نسلوں کیلئے راستے کھولتا رہتا ہے۔پینانگ برج کی تعمیراتی تفصیل1970ء سیبیرانگ پِرائی کو پینانگ جزیرے سے ملانے والے پل کی تعمیر کا خیال وزیراعظم عبدالرزاق حسین اور پینانگ کے وزیراعلیٰ لم چونگ یو نے پیش کیا۔23جولائی 1971ءوزیر تعمیرات سامی ویلو نے اعلان کیا کہ پینانگ برج کی تعمیر سان فرانسسکو کے گولڈن گیٹ برج کے طرز پر اسٹیل کے بجائے کیبلز سے منسلک کنکریٹ گرڈرز کے ذریعے کی جائے گی نہ کہ سڈنی ہاربر برج کے انداز میں بنائے جانے والے اسٹیل کے محرابی ڈھانچے کی طرز پر۔ وزیراعظم مہاتیر محمد نے اپنی پہلی کابینہ کے اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اس منصوبے کیلئے ایک ٹھیکیدار کا انتخاب کرلیا ہے، تاہم انہوں نے ٹھیکیدار کا نام بتانے سے گریز کیا۔1982ءپینانگ برج کی تعمیر کا باضابطہ آغاز ہوا۔3اگست1985ءوزیراعظم مہاتیر محمد نے پینانگ برج کا باضابطہ افتتاح کیا۔14ستمبر1985ءپینانگ برج کو باضابطہ طور پر ٹریفک کے لیے کھولا گیا۔ 

طنز و مزاح:کرسی

طنز و مزاح:کرسی

کرسی اورانسان میں اس لیے چولی دامن کا ساتھ ہے کہ کرسی میں چار پائے ہوتے ہیں۔ انسان بھی چوپایہ ہے۔ اس مماثلت کی وجہ سے انسان کی بہت سی فضیلتیں کرسی میں بھی پائی جاتی ہیں۔ مثلاً آدمی تنگ دل سے سنگ دل تک ہو جاتا ہے، جبکہ کرسی کے سرے سے دل ہی نہیں ہوتا۔ انسان میں وفا کا بھی مادّہ ہے، لیکن کرسی اس کوچے سے آشنا تک نہیں۔کرسیاں بھانت بھانت کی ہوتی ہیں۔ جن میں سب سے متاثر کن کرسی حجام کی ہوتی ہے۔ یہ بالکل لائبریرین کی کرسی کی طرح بلند و بالا ہوتی ہے جس تک پہنچنے کیلئے انتظار یہ کرسی پر بیٹھنا ہوتا ہے۔ حجام کی کرسی بڑی شاندار ہوتی ہے، بالکل کسی راجہ مہاراجہ کی کرسی کی پیروڈی معلوم ہوتی ہے، جس پر شان سے ٹیک لگا کر بیٹھتے ہی حجام کی ڈبل قینچی چلنے لگتی ہے۔ ایک اس کے ہاتھ کی، دوسری زبان کی۔ اس کرسی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ حجامت کے ساتھ ساتھ آٹے دال کا بھائو بھی معلوم ہوتا رہتا ہے۔ زمانے نے آپ کے ساتھ جو بھی سلوک کیا ہو، یا اس وقت پر جو بھی گزر رہی ہو۔ اس پر آپ حجام کے آئینے میں مسکرا بھی سکتے ہیں۔حجامت کے بعد رہی سہی کسر ڈاکٹر کے یہاں نکل جاتی ہے۔ سب سے اہم کرسی وہ ہوتی ہے جو ڈاکٹر کے سامنے رکھی ہوتی ہے۔ یہ فاصلہ مریضوں اور تیمار داروں کو درمیانی کرسیوں کی مدد سے کھسک کھسک کر طے کرنا ہوتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ اگر ڈاکٹرکی کرسی کسی کو زندہ اٹھادے تو اسے وکیل کی کرسی کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔ اس سے زیادہ دائوں پیچ کی کرسی ابھی تک دریافت نہیں ہو سکی ہے۔ اسی لیے اونٹ کی طرح اس کی کوئی کل سیدھی نہیں ہوتی۔ کسی بھی کچہری میں کسی درخت یا ٹین کے سائے میں یہ زمانے کا چھپر اٹھائے رہتی ہے۔ ایسی کرسی پر شاید یتیم خانے ہی میں نظرآئے۔ جس پر تعجب اس لیے نہ کرنا چاہیے کہ یتیم خانے اور یتیم، زیادہ تر وکیل ہی بناتے ہیں۔ اس کرسی پر زمانے کے ان جنّات کا ستایا ہوا موکل بھی بیٹھ سکتا ہے۔ مثل مشہور ہے کہ وکیل سے ہارے کو پھانسی کی کرسی پر ہی پناہ ملتی ہے۔پھانسی کی کرسی آٹومیٹک ہوتی ہے۔ ایک ہی جھٹکے میں اپنے نشیں کو پار لگا دیتی ہے۔ یہ اتنی شان دار ہوتی ہے کہ پھر گورکن کو کسی کرسی کے استعمال کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ کرسی تو وہ اس پر بھی استعمال کرتا مگر ابھی ہمارے یہاں گورکن کی کرسی ایجاد نہیں ہوئی۔ یورپی گورکن مردے کو ٹھکانے لگانے تک میں کرسی کا استعمال کرلیتے ہیں، لیکن کرسی برآمد نہیں کرتے۔ غیر ملکی مبادلہ زر کی اگر کمی نہ ہوتی تو یہاں بھی بذریعہ کرسی تدفین کی صورت پیدا ہوچکی ہوتی۔دنیامیں شورگورکن کا نہیں افسر کی کرسی کا ہے۔ افسری والی کرسی تک آدمی گھسٹ گھِسٹ کر پہنچتاہے لیکن اگر آدمی خاندانی ہے تو اس پر کود کر یا چھین کر بھی بیٹھ سکتا ہے۔ ایگزیکٹو چیئر افسر کے عہدے اور سائزکے مطابق ہوتی ہے۔ ہوم سکریٹری اور تھانیدار کی کرسی میں وہی فرق ہوتا ہے جو شیر اور بلی میں ہے۔ چوہوں کیلئے بلی بھی شیر ہے مگر شیرتو شیر کیلئے بھی شیر ہی ہوتا ہے۔ انتہائی غیر محفوظ کرسیاں وزیروں کی ہوتی ہیں۔ بالکل دندان ساز اور کھٹمل والی کرسی کی طرح۔ دندان سازکی کرسی پر بیٹھنے کا مطلب ہی بتیسی سے ہاتھ دھو لینا ہوتا ہے۔ یہ کارروائی قسطوں میں بھی ممکن ہے۔

آج تم یاد بے حساب آئے!امید فاضلی:اردو کے ممتاز شاعر (2005-1923ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!امید فاضلی:اردو کے ممتاز شاعر (2005-1923ء)

٭... 17 نومبر 1923ء کو ڈبائی، ضلع بلند شہر(ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔٭... نام ارشاد احمد فاضلی اور تخلّص اُمید تھا۔٭... ابتدائی تعلیم ڈبائی اور میرٹھ سے حاصل کی اور پھر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے گریجویشن کیا۔٭... 1944ء میں وہ کنٹرولر آف ملٹری اکائونٹس سے وابستہ ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد کراچی میں سکونت اختیار کی اور اسی محکمے سے وابستہ رہے۔ا٭...ان کی غزلیات کا پہلا مجموعہ ''دریا آخر دریا‘‘ کے نام سے اشاعت پذیر ہوا، جسے 1979ء میں بہترین شعری مجموعے کا ''آدم جی ادبی انعام‘‘ دیا گیا۔٭...ان کے مرثیوں کا مجموعہ ''سر نینوا‘‘، نعتوں کا مجموعہ ''میرے آقا‘‘، منقبت کا ''مناقب‘‘ اور قومی شاعری پر مشتمل کلام ''پاکستان زندہ باد‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ ٭...نعتیہ مجموعہ کلام پر بھی انھیں ''رائٹرز گلڈ‘‘ سے نوازا گیا۔ ٭...28 اور29 ستمبر 2005ء کی درمیانی شب ان کا کراچی میں انتقال ہوا۔حجاب اٹھے ہیں لیکن وہ رو بہ رو تو نہیںشریکِ عشق کہیں کوئی آرزو تو نہیں٭٭٭گر قیامت یہ نہیں ہے تو قیامت کیا ہےشہر جلتا رہا اور لوگ نہ گھر سے نکلے٭٭٭اے دوپہر کی دھوپ بتا کیا جواب دوںدیوار پوچھتی ہے کہ سایہ کدھر گیا٭٭٭

آج کا دن

آج کا دن

سمندری طوفان ایان28ستمبر 2022ء میں سمندری طوفان ''ایان‘‘ امریکی ریاست فلوریڈا کے علاقے کایو کوسٹا اسٹیٹ پارک سے کیٹیگری چار کے شدید سمندری طوفان کی حیثیت سے ٹکرایا۔ اس تباہ کن طوفان کے نتیجے میں 169 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ مجموعی طور پر تقریباً 113 ارب ڈالر کا مالی نقصان ہوا۔ یہ طوفان گزشتہ 89برس کے دوران ریاست میں آنے والا سب سے مہلک سمندری طوفان بھی قرار دیا گیا۔ انڈونیشیا میں زلزلہ28 ستمبر 2018ء کو انڈونیشیا کے جزیرے سولاویسی میں 7.5 شدت کا شدید زلزلہ آیا، جس کے نتیجے میں ایک بڑے پیمانے پر سونامی بھی پیدا ہوئی۔ قدرتی آفت نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی اور 4,340 افراد جاں بحق جبکہ 10,679 زخمی ہوئے۔ زلزلے اور اس کے بعد آنے والی سونامی کے باعث متعدد علاقے متاثر ہوئے اور لوگوں کو جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔''فالکن 1‘‘ کا کارنامہ2008ء میں آج کے روز ''فالکن 1‘‘نے تاریخ رقم کرتے ہوئے دنیا کے پہلے ایسے نجی طور پر تیار کردہ مائع ایندھن والے راکٹ کا اعزاز حاصل کیا، جس نے زمین سے لانچ ہو کر کامیابی کے ساتھ پے لوڈ کو مدار میں پہنچایا۔ یہ کامیابی نجی خلائی تحقیق اور تجارتی خلائی پروازوں کے شعبے میں اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔اس کامیابی نے نجی کمپنیوں کیلئے خلائی مشنز کی راہ ہموار کی۔ جنوبی آسٹریلیا کا بلیک آؤٹ28ستمبر2016ء کوجنوبی آسٹریلیا میں بجلی کا ایک بڑا بریک ڈاؤن ہوا، جس کے باعث ریاست کے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔ بعض علاقوں میں یہ تعطل تین روز تک جاری رہا۔ اس واقعے نے روزمرہ زندگی، کاروباری سرگرمیوں اور دیگر ضروری خدمات کو متاثر کیا اور اسے جنوبی آسٹریلیا کی تاریخ میں بجلی کے بڑے تعطل کے واقعات میں شمار کیا گیا۔نیپال میں فضائی حادثہ 1992ء میں آج کے روز پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی پرواز 268 نیپال میں ایک پہاڑی سے ٹکرا کر تباہ ہوگئی۔ یہ طیارہ کھٹمنڈو کے قریب لینڈنگ کیلئے پرواز کر رہا تھا کہ پہاڑی علاقے میں حادثے کا شکار ہو گیا۔ اس المناک سانحے کے نتیجے میں طیارے میں سوار تمام 167 مسافر اور عملے کے ارکان جاں بحق ہوگئے۔ حادثے نے پاکستان اور نیپال سمیت دنیا بھر میں فضائی سفر کے تحفظ سے متعلق تشویش پیدا کی۔ یہ پی آئی اے کی تاریخ کے المناک حادثات میں شامل ہے۔فلڈ لائٹس میں پہلا فٹ بال میچ1892ء میں 28 ستمبر کو امریکی فٹ بال کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل اس وقت قائم ہوا جب وائیومنگ سیمینری اور مینسفیلڈ اسٹیٹ نارمل کے درمیان کھیلے گئے مقابلے کے دوران پہلی مرتبہ رات کے وقت امریکی فٹ بال کا میچ منعقد کیا گیا۔ یہ میچ مصنوعی روشنی میں کھیلا گیا، جس نے کھیلوں کے انعقاد کے انداز میں ایک نئی جہت متعارف کرائی۔ بعد ازاں رات کے میچ عام ہوتے گئے اور جدید کھیلوں میں فلڈ لائٹس کا استعمال معمول بن گیا۔