مسرت نذیر

مسرت نذیر

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالحفیظ ظفر


انور کمال پاشا پاکستان فلمی صنعت کے محسن تھے۔ انہوں نے اس نوزائیدہ صنعت کو بہت سے فنکار دیئے جنہوں نے بعد میں اپنی ذہانت کے بل بوتے پر اپنی ایک الگ شناخت بنائی۔ بعض شہرت کے آسمان پر سورج بن کر چمکنے لگے اور آج تک لوگ ان فنکاروں کو یاد کرتے ہیں۔مسرت نذیر بھی وہ فنکارہ تھیں جنہیں سب سے پہلے انور کمال پاشا نے اداکارہ کی حیثیت سے متعارف کرایا تھا۔ اس کے بعد اس فنکارہ نے اپنی صلاحیتوںکے ایسے جوہر دکھائے کہ فلمی پنڈت انگشت بدنداں رہ گئے۔ مسرت نذیر کا کمال یہ تھا کہ انہوں نے صبیحہ خانم اور نیئرسلطانہ کے عروج کے زمانے میں اپنے آپ کو منوایا۔ صبیحہ خانم کی طرح وہ بھی اردو اور پنجابی دونوں زبانوں کی فلموں میں اداکاری کرتی تھیں۔ ان کے مداحین کا وسیع حلقہ موجود تھا جو نہ صرف ان کی اداکاری بلکہ دلکش شخصیت سے بھی بہت متاثر تھا۔مسرت نذیر13 اکتوبر1940ء کو لاہور میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد نذیر احمد کارپوریشن میں ٹھیکیدار تھے۔ مسرت کے والد اپنی بیٹی کو ڈاکٹر بنانے کے آرزو مند تھے،لیکن محدود وسائل کی وجہ سے ان کی یہ خواہش پوری نہ ہوسکی۔ مسرت نذیر نے میٹرک کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیاجس کے بعد انہوں نے کنیئرڈ کالج سے انٹر کا امتحان پاس کیا۔ وہ بڑی ذہین طالبہ تھیں۔ شروع میں انہیں گلوکاری کا شوق تھا۔1950ء کے عشرے میں وہ ریڈیو پاکستان سے گیت گاتی رہیں۔ لیکن انہیں بہت کم معاوضہ ملتا تھا۔1955ء میں انور کمال پاشا سے ان کا رابطہ ہوا۔ انہوں نے پاشا صاحب سے کہا کہ وہ گلوکارہ بننے کی خواہشمند ہیں اور اس سلسلے میں انہیں موقع دیئے جائیں۔ انور کمال پاشا بلا کے ذہین ہدایتکار تھے اور کہا جاتا ہے کہ وہ نئے فنکاروں کی صلاحیتوں کو جانچنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ انہوں نے مسرت نذیر کو اداکاری کرنے کا مشورہ دیا۔ مسرت نذیر نے انور کمال پاشا کو بتایا کہ وہ اپنے والد کی اجازت کے بغیر فلموں میں کام کرنے کی حامی نہیں بھر سکتیں۔ اس پر انور کمال پاشا خود مسرت کے والد سے ملے اور انہیں قائل کیا کہ وہ اپنی بیٹی کو فلموں میں کام کرنے کی اجازت دے دیں۔ مسرت نذیر کو بالآخر ان کے والد نے فلموں میں اداکاری کرنے کی اجازت دے دی۔ انور کمال پاشا نے ان کا فلمی نام چاندنی رکھا۔ 1955ء میں چاندنی نے صبیحہ خانم اور نیئر سلطانہ کے ساتھ پاشا کی فلم ’’قاتل‘‘ میں کام کیا۔ پھر چاندنی نے 1955ء میں ہی فلمساز شیخ لطیف اور ہدایتکار لقمان کی پنجابی فلم ’’پتن‘‘ میں سنتوش کمار کے ہمراہ مرکزی کردار ادا کیا۔ اس فلم میں وہ اپنے اصلی نام مسرت نذیر کے ساتھ جلوہ گر ہوئیں۔ یہ فلم زبردست کامیابی سے ہمکنار ہوئی، جس کے بعد مسرت نذیر پر پنجابی فلموں کے دروازے کھل گئے۔ اس کے بعد انہوں نے پاٹے خان جیسی مشہور فلم میں کام کیا۔1957ء میں انہوں نے ’’یکے والی‘‘ جیسی شاندار فلم میں اداکاری کے جوہر دکھائے جس نے ریکارڈکامیابی حاصل کی۔ اس فلم کے ہدایتکار ایم جے رانا تھے اور فلمساز تھے باری ملک۔ ’’یکے والی‘‘ میں مسرت نذیر نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ ان کے ساتھ سدھیر، نیلو، اجمل، الیاس کاشمیری اور ظریف کی اداکاری کو بھی شائقین فلم نے بہت پسند کیا۔ اس فلم کی کمائی سے ہی باری ملک نے باری سٹوڈیو تعمیر کیا۔ ان کی دیگر مشہور پنجابی فلموں میں ’’ماہی منڈا‘یار بیلی اور کرتار سنگھ‘‘ شامل ہیں۔ انہوں نے زیادہ تر سدھیر اور سنتوش کمار کے ساتھ کام کیا۔ ان کی دیگر مشہور فلموں میں ’’نوکری، آنکھ کا نشہ، باپ کا گناہ، جھومر، شہید، زہر عشق، قسمت، جٹی، وطن، سولہ آنے، گڈی گڈا، باغی، لکن میٹی ، ٹھنڈی سڑک، مستی، مرزا صاحباں، عشق پر زور نہیں، مفت بر اور گلفام‘‘ شامل ہیں۔ان کی اردو فلموں میں ’’جھومر، زہر عشق اور شہید‘‘ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ان فلموں میں وہ اداکاری کے عروج پر نظر آتی ہیں۔ مسرت نذیر کو گانے پکچرائز کرنے میں بھی ملکہ حاصل تھا۔ مذکورہ بالا فلموں کے گیت بھی سپرہٹ ہوئے۔ ان کی موسیقی خواجہ خورشید انور اوررشید عطرے جیسے نابغۂ روزگار موسیقاروں نے ترتیب دی تھی۔ ’’زہر عشق‘‘ میں انہوں نے اپنے کیریئر کا سب سے انوکھا کردار ادا کیا جس پر انہیں نگار ایوارڈ بھی دیا گیا۔ ’’زہر عشق‘‘ ایک شاندار فلم تھی لیکن یہ فلم باکس آفس پر فلاپ ہوگئی۔ ’’جھومر‘‘ میں ان پر ناہید نیازی کے گائے ہوئے یادگار نغمات عکسبند کیے گئے۔ یہ نغمات بہت مقبول ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ خواجہ خورشید انور پہلے’’جھومر‘‘ کے گیت نورجہاں سے گوانا چاہتے تھے ، لیکن نور جہاں نے شرط عائد کردی کہ مسرت نذیر کا کردار انہیں دیا جائے۔ خواجہ صاحب نے انکار کردیا اور پھر ’’جھومر‘‘ کے گیتوں کیلئے انہوں نے ناہید نیازی کا انتخاب کیا۔ خواجہ خورشید انور سمجھتے تھے کہ ناہید نیازی کی آواز میں گیتا دت کی جھلک واضح طورپر ملتی ہے۔ خواجہ صاحب کا ناہید نیازی سے گیت گوانے کا فیصلہ درست ثابت ہوا۔ اب ان کی یادگار فلم ’’شہید‘‘ کا بھی ذکر ضروری ہے۔ اس فلم میں ہدایتکار خلیل قیصر نے مسرت نذیر کو ایسا کردار دیا جسے انہوں نے کمال مہارت سے ادا کیا۔ ’’شہید‘‘ کو پاکستان کی بہترین اردو فلموں میں سے ایک قرار دیاجاتا ہے۔ اس فلم میں منیرنیازی کی مشہور زمانہ غزل ’’اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو‘‘ بھی شامل تھی۔ یہ غزل نسیم بیگم نے گائی تھی اور اسے مسرت نذیر پر پکچرائز کیا گیا تھا۔ مسرت نذیر نے جتنے عمدہ طریقے سے گانے کی عکسبندی کرائی‘ اس کی مثال بہت کم ملتی ہے۔ یہ فلم 1962ء میں ریلیز ہوئی تھی اور اس میں بھی بہترین اداکاری کرنے پر مسرت نذیر کو نگارایوارڈ دیا گیا۔ انہوں نے مجموعی طور پر تین نگار ایوارڈ حاصل کیے۔مسرت نذیر کو پنجاب کی جٹی کے نام سے بھی پکارا جاتا تھا۔ وہ جتنی خوبصورت تھیں اتنی ہی اعلیٰ اداکارہ بھی تھیں۔ انہوں نے 1963 میں ڈاکٹر ارشد مجید سے شادی کی اور بعدازاں وہ دونوں کینیڈا شفٹ ہوگئے۔ ان کے فنی سفر کا دوسرا دور اس وقت شروع ہوا جب وہ ایک گلوکارہ کی حیثیت سے سامنے آئیں۔ انہوں نے کچھ لوک گیت گائے اور خوب شہرت حاصل کی۔ ان کے مشہور لوک گیتوں میں یہ دوگیت بہت زیادہ ہٹ ہوئے۔ (1) میرا لونگ گواچا (2) لٹھے دی چادر اُتے سلیٹی رنگ ماہیا۔ اس کے علاوہ ان کے گائے ہوئے یہ گیت بہت پسند کیے گئے (1) گلشن کی بہاروں میں (2) چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر (3) اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں۔مسرت نذیر نے اپنے بعد میں آنے والی کئی ہیروئنوں کو متاثر کیا۔ نئی ہیروئنیں انہیں اپنا آئیڈیل قرار دیتی تھیں۔ ایک دفعہ سرکاری ٹی وی پر بابرہ شریف نے کہا تھا کہ مسرت نذیر نے انہیں سب سے زیادہ متاثر کیا۔ مسرت نذیر حیات ہیں اور اپنے خاندان کے ساتھ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ایک اداکارہ اور گلوکارہ کی حیثیت سے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
خلائی دوربین کو بچانے کا مشن

خلائی دوربین کو بچانے کا مشن

ناسا نے جدید روبوٹ روانہ کر دیاجو دوربین کو محفوظ مدار میں پہنچائے گاخلائی تحقیق کی تاریخ میں اب تک بیشتر مشن نئے سیاروں، ستاروں اور کہکشاؤں کی کھوج کیلئے روانہ کیے جاتے رہے ہیں، لیکن اب انسان ایک ایسے دور میں داخل ہو چکا ہے جہاں خلا میں برسوں سے خدمات انجام دینے والے سائنسی آلات کو بچانے کیلئے بھی باقاعدہ امدادی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک غیر معمولی مثال امریکی خلائی ادارے ناسا کا وہ جرات مندانہ مشن ہے، جس کے تحت تقریباً دو دہائیوں سے کائنات کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھانے والی سوئفٹ خلائی دوربین کو زمین کی فضا میں جل کر تباہ ہونے سے بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس مقصد کیلئے ایک جدید روبوٹ خلا میں بھیجا ہے، جو دوربین کو تھام کر دوبارہ محفوظ مدار میں پہنچائے گا۔ اگر یہ تجربہ کامیاب ہو گیا تو نہ صرف سوئفٹ دوربین کی عمر میں اضافہ ہوگا بلکہ مستقبل میں دیگر قیمتی خلائی دوربینوں اور مصنوعی سیاروں کو بھی اسی انداز میں بچانے کی نئی راہیں کھل جائیں گی، جس سے خلائی تحقیق کا ایک نیا باب رقم ہونے کی توقع ہے۔''نارتھروپ گرومن‘‘ (Northrop Grumman) کے فضاء سے داغے جانے والے ''پیگاسس ایکس ایل‘‘ (Pegasus XL) راکٹ نے اپنی آخری پرواز مکمل کرتے ہوئے ایک نجی خلائی جہاز کو ایسے امدادی مشن پر روانہ کر دیا ہے، جس کا مقصد ناسا کی معروف ترین خلائی دوربینوں میں سے ایک کو زمین پر واپس گرنے سے بچانا ہے۔ ناسا کے مطابق ''سوئفٹ بوسٹ‘‘ (Swift Boost) مشن کے تحت ''کٹالسٹ اسپیس ٹیکنالوجیز‘‘ (Katalyst Space Technologies) کی تیار کردہ لنک (LINK) سیٹلائٹ کو جمعہ 3 جولائی کو صبح 4 بج کر 36 منٹ (مشرقی امریکی وقت)، یعنی 08:36 جی ایم ٹی پر کامیابی سے خلا میں روانہ کیا گیا۔ لنک سیٹلائٹ ناسا کی ''نیل گیریلز سوئفٹ آبزرویٹری‘‘ کے ساتھ جا کر ملے گی اور اسے کھینچتے ہوئے دوبارہ ایک محفوظ اور مستحکم مدار میں لے جائے گی، تاکہ اس کی زمین کی فضا میں داخل ہو کر تباہ ہونے سے بچایا جا سکے۔پیگاسس ایکس ایل راکٹ کو اس کے انجن کے سٹارٹ ہونے سے قبل نارتھروپ گرومن کے ''ایل1011 اسٹارگیزر‘‘ (L 1011 Stargazer)طیارے سے مارشل جزائر کے اوپر فضا میں چھوڑا گیا۔ اس کے بعد راکٹ نے اپنا انجن جلایا اور لنک سیٹلائٹ کو کامیابی کے ساتھ مدار میں پہنچا دیا۔ اس کامیاب لانچ سے قبل مشن کو دو مرتبہ مؤخر کرنا پڑا تھا۔ پہلی بار خراب موسم اور بعد ازاں راکٹ کے نیوی گیشن سسٹم سے متعلق سافٹ ویئر خرابی کے باعث پرواز منسوخ کر دی گئی تھی۔ تاہم تمام تکنیکی مسائل حل ہونے کے بعد یہ تاریخی مشن بالآخر کامیابی سے روانہ کر دیا گیا۔پیگاسس (Pegasus) تین مراحل پر مشتمل ایک ٹھوس ایندھن سے چلنے والا لانچ راکٹ ہے، جس کی لمبائی 55 فٹ (16.9 میٹر) ہے۔ یہ راکٹ 1,000 پونڈ (454 کلو گرام) تک وزنی پے لوڈ کو زمین کے نچلے مدار میں پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسٹارگیزر (Stargazer) طیارے سے علیحدہ ہونے کے بعد پیگاسس کے تینوں مراحل یکے بعد دیگرے فعال ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں راکٹ تقریباً 10 منٹ کے اندر اپنی مطلوبہ بلندی اور مدار تک پہنچ جاتا ہے۔پیگاسس راکٹ نے 1990ء میں اپنی پہلی پرواز کی تھی، اور اس کے بعد سے اب تک 45 خلائی مشن کامیابی سے مکمل کر چکا ہے۔ اس راکٹ کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اسے فضا میں موجود طیارے سے داغا جاتا ہے، جس کی بدولت اسے مختلف ہوائی اڈوں سے روانہ کیا جا سکتا ہے۔ یہی لچک اسے ایسے مشکل اور منفرد مداری زاویوں تک رسائی دیتی ہے، جہاں دنیا کے کئی بڑے خلائی اڈوں سے براہِ راست پہنچنا ممکن نہیں ہوتا۔ یہی خصوصیت اس بات کی بھی ایک اہم وجہ ہے کہ پیگاسس کو لنک (LINK) نامی روبوٹک سروسنگ سیٹلائٹ کے لانچ کیلئے منتخب کیا گیا۔ یہ سیٹلائٹ ناسا کی سوئفٹ خلائی دوربین تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو زمین کے خط استوا کے مقابلے میں محض 20.6 درجے کے کم مداری زاویے پر گردش کر رہی ہے۔اس مشن کیلئے ناسا کی جانب سے پیگاسس راکٹ کے انتخاب کی ایک اور اہم وجہ وقت کی کمی بھی تھی، کیونکہ سوئفٹ خلائی دوربین کے پاس زیادہ وقت باقی نہیں رہ گیا تھا۔ تقریباً 50 کروڑ ڈالر کی لاگت سے تیار کی گئی سوئفٹ آبزرویٹری کو نومبر 2004ء میں خلا میں بھیجا گیا تھا تاکہ کائنات میں رونما ہونے والے ''گیما رے برسٹس‘‘ (Gamma Ray Bursts) اور دیگر انتہائی طاقتور فلکیاتی مظاہر کا مطالعہ کیا جا سکے۔ دو دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود یہ دوربین آج بھی سائنسدانوں کیلئے نہایت قیمتی سائنسی معلومات فراہم کر رہی ہے۔ تاہم اس کا مدار اب خطرناک حد تک نیچے آ چکا ہے۔ حالیہ برسوں میں سورج کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے باعث زمین کے نچلے مدار میں فضائی مزاحمت میں اضافہ ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے سوئفٹ کی رفتار اور بلندی مسلسل کم ہو رہی ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو بالآخر یہ دوربین زمین کی فضا میں داخل ہو کر جل کر تباہ ہو جائے گی۔بدقسمتی سے سوئفٹ کو اس انداز میں ڈیزائن نہیں کیا گیا تھا کہ خلا میں اس کی مرمت یا سروسنگ کی جا سکے۔ اسی طرح اس میں ایسے تھرسٹرز (Thrusters) بھی نصب نہیں کیے گئے تھے جو اسے اپنے زور پر دوبارہ بلند اور محفوظ مدار میں منتقل کرنے کے قابل بناتے۔ یہی وجہ ہے کہ اب اسے بچانے کیلئے ایک علیحدہ روبوٹک امدادی مشن ناگزیر ہو گیا تھا۔

دی شارڈ

دی شارڈ

یورپ کی فضاؤں سے ہم کلام عظیم شاہکارانسان نے جب سے تعمیرات کے فن میں مہارت حاصل کی ہے، تب سے وہ آسمان کو چھونے کی آرزو لئے نت نئی اور بلند و بالا عمارتیں تعمیر کرتا چلا آ رہا ہے۔ جدید دور میں فلک بوس عمارتیں صرف رہائش یا کاروبار کا ذریعہ نہیں رہیں بلکہ وہ کسی بھی ملک کی معاشی ترقی، فنی مہارت، انجینئرنگ کی صلاحیت اور شہری منصوبہ بندی کی آئینہ دار بن چکی ہیں۔ برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں واقع ''دی شارڈ‘‘ بھی جدید تعمیراتی فن کا ایک ایسا ہی بے مثال شاہکار ہے، جو اپنی منفرد ساخت، شیشے سے مزین دلکش بیرونی خدوخال اور فلک بوس بلندی کے باعث دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے۔ 5 جولائی 2012ء کو افتتاح کے بعد یہ عمارت 310 میٹر (1,020 فٹ) کی بلندی کے ساتھ یورپ کی بلند ترین عمارت بن گئی اور آج بھی لندن کی شناخت سمجھی جاتی ہے۔''دی شارڈ‘‘ دریائے ٹیمز کے جنوبی کنارے پر لندن برج کے قریب واقع ہے۔ اس مقام کا انتخاب اس لیے کیا گیا تاکہ لندن کے تاریخی اور جدید حصوں کو ایک دوسرے سے بہتر انداز میں جوڑا جا سکے۔ اس منصوبے کا مقصد صرف ایک بلند عمارت تعمیر کرنا نہیں تھا بلکہ ایسا شہری مرکز قائم کرنا تھا جہاں رہائش، تجارت، سیاحت اور تفریح کی تمام جدید سہولتیں ایک ہی مقام پر دستیاب ہوں۔''دی شارڈ‘‘ کا ڈیزائن عالمی شہرت یافتہ اطالوی معمار رینزو پیانو نے تیار کیا۔ ان کے مطابق اس عمارت کی ساخت چرچ کے میناروں، بحری جہازوں کے بادبانوں اور آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے شیشے کے ایک نوکیلے ٹکڑے سے متاثر ہے۔ اسی مناسبت سے اس کا نام ''دی شارڈ‘‘ رکھا گیا، جس کا مطلب شیشے کا نوکیلا ٹکڑا ہے۔ عمارت کے بیرونی حصے میں ہزاروں شیشے کے پینل نصب کیے گئے ہیں جو دن کے مختلف اوقات میں سورج کی روشنی اور موسم کے مطابق اپنا رنگ بدلتے محسوس ہوتے ہیں، جس سے یہ عمارت مزید دلکش دکھائی دیتی ہے۔تقریباً 310 میٹر بلند اس عمارت میں 95منزلیں ہیں، جن میں سے 72 منزلیں قابلِ استعمال ہیں۔ اس میں جدید دفاتر، پرتعیش رہائشی اپارٹمنٹس، عالمی معیار کا ہوٹل، اعلیٰ درجے کے ریستوران، کانفرنس ہال اور عوام کیلئے خصوصی مشاہداتی گیلری قائم کی گئی ہے۔ عمارت کی بالائی منزلوں پر موجود مشاہداتی پلیٹ فارم سے لندن شہر کا تقریباً 65کلومیٹر تک پھیلا ہوا دلکش منظر دیکھا جا سکتا ہے۔ صاف موسم میں دریائے ٹیمز، لندن آئی، ٹاور برج، سینٹ پال کیتھیڈرل اور دیگر تاریخی عمارتیں نہایت خوبصورتی سے نظر آتی ہیں۔دی شارڈ جدید انجینئرنگ کا بھی ایک شاندار نمونہ ہے۔ اس کی تعمیر میں مضبوط فولادی ڈھانچے، اعلیٰ معیار کے کنکریٹ اور توانائی بچانے والے جدید شیشے استعمال کیے گئے ہیں۔ عمارت کی بیرونی سطح اس انداز سے تیار کی گئی ہے کہ قدرتی روشنی زیادہ سے زیادہ اندر داخل ہو سکے، جبکہ حرارت کا ضیاع کم سے کم ہو۔ اس کے باعث توانائی کی بچت ہوتی ہے اور ماحول پر بھی نسبتاً کم منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دی شارڈ کو جدید اور ماحول دوست تعمیرات کی ایک کامیاب مثال بھی قرار دیا جاتا ہے۔معاشی اعتبار سے بھی دی شارڈ نے لندن کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کی تعمیر کے دوران ہزاروں افراد کو روزگار ملا، جبکہ افتتاح کے بعد بھی دفاتر، ہوٹل، ریستوران اور دیگر کاروباری مراکز میں بڑی تعداد میں ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوئے۔ دنیا بھر کی متعدد بین الاقوامی کمپنیاں یہاں اپنے دفاتر قائم کر چکی ہیں، جس سے لندن کی حیثیت ایک عالمی تجارتی مرکز کے طور پر مزید مضبوط ہوئی ہے۔سیاحت کے میدان میں بھی ''دی شارڈ‘‘ ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ ہر سال لاکھوں ملکی اور غیر ملکی سیاح اس عمارت کا رخ کرتے ہیں۔ دن کے وقت اس کی شفاف شیشے کی دیواریں سورج کی روشنی میں چمکتی ہیں، جبکہ رات کے وقت جدید روشنیوں سے مزین یہ عمارت لندن کے افق پر ایک روشن مینار کی طرح دکھائی دیتی ہے۔ کرسمس، نئے سال اور دیگر قومی تقریبات کے دوران دی شارڈ پر خصوصی روشنیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے، جو شہر کی رونق میں مزید اضافہ کر دیتا ہے۔اگرچہ یورپ میں وقتاً فوقتاً نئی فلک بوس عمارتیں تعمیر ہوتی رہتی ہیں، تاہم دی شارڈ اپنی منفرد شناخت، فن تعمیر، سیاحتی اہمیت اور جدید سہولتوں کے باعث آج بھی دنیا کی نمایاں عمارتوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جدید انجینئرنگ، تخلیقی سوچ اور مؤثر منصوبہ بندی کسی بھی شہر کو عالمی سطح پر منفرد شناخت دلا سکتی ہے۔دی شارڈ محض شیشے اور فولاد کا ایک بلند ڈھانچہ نہیں بلکہ جدید برطانیہ کی ترقی، اختراع اور تعمیراتی مہارت کی علامت ہے۔ یہ عمارت اس حقیقت کی غماز ہے کہ جب فن، سائنس اور انجینئرنگ یکجا ہو جائیں تو انسان نہ صرف زمین پر حیرت انگیز تعمیرات تخلیق کر سکتا ہے بلکہ آسمان سے ہم کلام ہونے کا خواب بھی حقیقت کا روپ دھار لیتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

''جونو مشن‘‘ کی کامیابی4 جولائی 2016ء کو امریکی خلائی ادارے ناسا کا خلائی تحقیقاتی مشن ''جونو‘‘ (Juno) کامیابی کے ساتھ نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کے مدار میں داخل ہوا۔ اس تاریخی کامیابی کے بعد ''جونو‘‘ نے تقریباً بیس ماہ تک مشتری کے ماحول، مقناطیسی میدان، کشش ثقل، اندرونی ساخت اور قطبی علاقوں کا تفصیلی سائنسی جائزہ لیا۔ اس مشن سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار نے مشتری کی تشکیل، ارتقا اور پورے نظامِ شمسی کی ابتدائی تاریخ کو بہتر طور پر سمجھنے میں سائنس دانوں کی اہم مدد کی۔امریکی سیکرٹ سروس کا قیام5 جولائی 1865ء کو امریکا کی سیکرٹ سروس نے باقاعدہ طور پر اپنے فرائض انجام دینا شروع کیے۔ ابتدا میں اس ادارے کا بنیادی مقصد جعلی کرنسی کی روک تھام اور مالیاتی جرائم کا خاتمہ تھا۔ بعدازاں اس کے فرائض میں امریکی صدر، نائب صدر، سابق صدور اور دیگر اہم قومی شخصیات کی حفاظت بھی شامل کر دی گئی، جس کے بعد یہ ادارہ دنیا کی اہم ترین حفاظتی اور تحقیقاتی ایجنسیوں میں شمار ہونے لگا۔برطانیہ میں عام انتخابات 1945ء میں برطانیہ میں دس سال کے طویل وقفے کے بعد پہلے عام انتخابات منعقد ہوئے۔ دوسری جنگ عظیم کے باعث انتخابات مؤخر کر دیے گئے تھے، تاہم جنگ کے اختتام پر عوام نے نئی قیادت کے انتخاب کیلئے ووٹ ڈالے۔ ان انتخابات میں کلیمنٹ ایٹلے کی قیادت میں لیبر پارٹی نے تاریخی کامیابی حاصل کی، جبکہ ونسٹن چرچل کی جماعت کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ انتخاب برطانوی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔نیوٹن کی '' پرنسپیا‘‘ شائع ہوئیآئزک نیوٹن کے فطری فلسفے کے ریاضیاتی اصولوں جنہیں لاطینی زبان میں ''پرنسپیا‘‘ کہا جاتا ہے پر مبنی کتاب 1687ء میں آج کے روز شائع ہوئی۔لاطینی زبان میں لکھی گئی یہ کتاب تین جلدوں پر مشتمل تھی۔پہلے ایڈیشن کی تشریح اور تصحیح کرنے کے بعد نیوٹن نے 1713ء کے دوران اس کے دو مزید ایڈیشن شائع کئے۔پرنسپیا کو سائنس کی تاریخ میں سب سے اہم کاموں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔اس کتاب سے قبل تک سائنس گمانوں اور مفروضوں کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی۔چیسمی کی جنگ5جولائی 1770ء کو سلطنت عثمانیہ اور روسی سلطنت کے درمیان ایک بحری جنگ کا آغاز ہوا۔یہ لڑائی اناطولیہ کے مغربی سرے اور جزیرہ چائیوس کے درمیان میں واقع چیسمی کے قریب ہوئی۔یہ علاقہ ماضی میں بھی سلطنت عثمانیہ اور جمہوریہ وینس کے درمیان متعدد مرتبہ لڑائی کی وجہ بن چکا تھا۔عثمانی اور روسی افواج کے درمیان ہونے والی یہ لڑائی لوف بغاوت کا ایک حصہ تھی جو بعد میں یونان کی جنگ آزادی کا پیش خیمہ بنی۔پہلی کلون بھیڑ ''ڈولی‘‘ 1996ء میں آج کے روزسکاٹ لینڈ میں دنیا کی پہلی کلون شدہ بھیڑ ''ڈولی‘‘ کی پیدائش ہوئی۔جو کسی بالغ جانور سے کلون کی جانے والی پہلی ممالیہ تھی۔ یہ تجربہ کلوننگ ٹیکنالوجی کی دنیا میں پہلا کامیاب قدم تھا جس میں کسی بالغ ممالیہ کا سومیٹک سیل (Somatic Cell) استعمال کیا گیا۔

بچوں کے دانتوں کی پراسرار بیماری

بچوں کے دانتوں کی پراسرار بیماری

بچوں کے مستقل دانت نکلتے ہی بد رنگ، کمزور اور بھربھرے ہو جاتے ہیںبچوں کی مسکراہٹ ان کی صحت، اعتماد اور خوشی کی علامت سمجھی جاتی ہے، لیکن حالیہ برسوں میں دنیا کے مختلف ممالک میں دانتوں کی ایک ایسی پراسرار بیماری تیزی سے سامنے آ رہی ہے جس نے ماہرین صحت کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس بیماری کے باعث بچوں کے مستقل دانت نکلتے ہی بد رنگ، کمزور اور بھربھرے ہو جاتے ہیں، یہاں تک کہ معمولی دباؤ یا چبانے کے دوران بھی ٹوٹنے لگتے ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ مسئلہ صرف صفائی کی کمی یا زیادہ میٹھا کھانے کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کے پس پردہ کئی پیچیدہ حیاتیاتی اور ماحولیاتی عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں۔ ماہرین اس بیماری کی وجوہات جاننے کیلئے مسلسل تحقیق کر رہے ہیں، کیونکہ اگر بروقت اس کی تشخیص اور علاج نہ کیا جائے تو بچوں کی خوراک، بولنے کی صلاحیت، اعتماد اور مجموعی صحت پر دیرپا منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس بڑھتے ہوئے طبی مسئلے نے والدین، دانتوں کے ڈاکٹروں اور محققین سب کو ایک نئے چیلنج سے دوچار کر دیا ہے۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بچوں کی ایک بڑی تعداد دانتوں کی ایک کم معروف بیماری کا شکار ہو رہی ہے، جس کے باعث ان کے دانت زرد، کمزور اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس بیماری کو ''مولر اِنسائزر ہائپو منرلائزیشن‘‘ (molar incisor hypomineralisation ) کہا جاتا ہے۔ اس میں دانتوں کی حفاظتی بیرونی تہہ، یعنی اینیمل (Enamel)، مناسب طور پر مضبوط نہیں بن پاتی، جس کے نتیجے میں دانت کمزور ہو جاتے ہیں اور ان میں کیڑا لگنے یا ٹوٹنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس بیماری کو عام طور پر ''چاک جیسے دانت‘‘ بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ متاثرہ دانت معمول سے زیادہ نرم اور بھربھرے ہوتے ہیں۔ اس کی علامات اس وقت ظاہر ہونا شروع ہوتی ہیں جب تقریباً چھ سال کی عمر سے بچے کے مستقل دانت نکلتے ہیں۔ شدید نوعیت کے مریضوں میں دانت اتنے نازک ہو جاتے ہیں کہ نکلنے کے صرف چند ماہ بعد ہی ٹوٹنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بچوں کو برسوں تک دانتوں کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جن میں بار بار فلنگ کروانا، دانت نکلوانا اور طویل المدتی و مہنگا علاج شامل ہیں۔اہم بات یہ ہے کہ یہ بیماری دانت صاف نہ کرنے، زیادہ چینی کھانے یا روزمرہ کی ناقص عادات کی وجہ سے پیدا نہیں ہوتی، بلکہ اس کی اصل وجہ زندگی کے ابتدائی مراحل میں دانتوں کے اینیمل کی تشکیل میں خرابی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ گزشتہ چند دہائیوں میں دانتوں کی صفائی سے متعلق عام خرابیوں اور کیڑے لگنے کے واقعات میں کمی آئی ہے، لیکن ''مولر اِنسائزر ہائپو منرلائزیشن‘‘ (MIH) کی تشخیص پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہونے لگی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس بیماری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس بیماری کو پہلی بار 1980ء کی دہائی میں شناخت کیا گیا تھا، لیکن آج اندازاً ہر چھ میں سے ایک بچہ اس عارضے کا شکار ہے۔ اسکینڈے نیوین ممالک میں صورتحال اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہے۔ ناروے کے سائنسدانوں کی حالیہ تحقیق کے مطابق اس خطے میں تقریباً ہر تین میں سے ایک بچہ اس بیماری سے متاثر ہے۔برطانوی ماہرین دندان سازی کا کہنا ہے کہ ان کے کلینکس میں ''مولر اِنسائزر ہائپو منرلائزیشن‘‘ کے شکار بچوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ یہ بیماری بچوں کیلئے کھانا کھانے، مشروبات پینے اور یہاں تک کہ دانت صاف کرنے کے عمل کو بھی انتہائی تکلیف دہ بنا سکتی ہے۔ تاہم سائنس دان اب تک اس بیماری کی اصل وجہ جاننے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔شیفیلڈ یونیورسٹی میں بچوں کے دانتوں کی ماہر اور پروفیسر ڈاکٹر ہیلن راڈ کا کہنا ہے کہ ہمیں ابھی تک معلوم نہیں کہ یہ بیماری کیوں ہو رہی ہے۔ اس کا تعلق بچوں کے دانتوں کی صفائی یا دیکھ بھال سے نہیں، کیونکہ یہ دانت پیدائش کے وقت ہی بننا شروع ہو جاتے ہیں۔ جب تقریباً چھ سال کی عمر میں مستقل دانت نکلتے ہیں تو وہ پہلے ہی بد رنگ اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتے ہیں، مگر ہم اس کی واضح وجہ بیان نہیں کر سکتے۔ اسی طرح نیوکاسل یونیورسٹی میں بچوں کے دانتوں کے کلینیکل لیکچرر اور برٹش سوسائٹی آف پیڈیاٹرک ڈینٹسٹری کے ترجمان پروفیسر گریگ ٹیلر کے مطابق اصل مسئلہ دانتوں میں موجود معدنیات کی مقدار سے متعلق ہے۔ دانتوں کی بیرونی حفاظتی تہہ، جسے اینیمل کہا جاتا ہے، انسانی جسم کا سب سے مضبوط مادہ ہے۔ یہ زیادہ تر معدنیات، خصوصاً کیلشیم اور فاسفیٹ، پر مشتمل ہوتی ہے۔ لیکن ''ایم آئی ایچ‘‘سے متاثرہ بچوں میں اینیمل میں ان معدنیات کی مقدار معمول سے کم جبکہ پروٹین کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ اس وجہ سے اینیمل کمزور، نرم اور زیادہ مسام دار (Porous) بن جاتا ہے۔ متاثرہ دانتوں کے چھوٹے چھوٹے حصے آسانی سے ٹوٹ کر الگ ہو سکتے ہیں، جبکہ ان کا رنگ بھی اردگرد کے صحت مند دانتوں سے مختلف ہوتا ہے۔ یہ رنگ دھبے دار سفید، کریمی، زرد یا بھورے رنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔طبی تعریف کے مطابق ''مولر اِنسائزر ہائپو منرلائزیشن‘‘ سب سے پہلے مستقل داڑھوں (پہلی مولر) کو متاثر کرتی ہے، جو عموماً بچے کی چھ سال کی عمر میں نکلتی ہیں۔ اس کے بعد تقریباً ایک سال کے اندر سامنے کے اوپری مستقل دانت (اِنسائزر) بھی اس بیماری سے متاثر ہو سکتے ہیں۔تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ضروری نہیں کہ ہر متاثرہ بچے کے تمام متعلقہ دانت اس بیماری کا شکار ہوں۔

باسفورس پل

باسفورس پل

دو براعظموں کو ملانے والا عظیم شاہکاردنیا میں بعض تعمیرات محض اینٹ، پتھر، فولاد اور کنکریٹ کا مجموعہ نہیں ہوتیں بلکہ وہ اقوام کی ترقی، فنی مہارت اور تہذیبی شناخت کی علامت بن جاتی ہیں۔ ترکی کے شہر استنبول میں واقع باسفورس پل بھی ایسی ہی ایک عظیم شاہکار تعمیر ہے، جو نہ صرف ایشیا اور یورپ کو آپس میں ملاتا ہے بلکہ مختلف تہذیبوں، ثقافتوں اور معاشی سرگرمیوں کے درمیان رابطے کا ایک مضبوط استعارہ بھی ہے۔ آبنائے باسفورس پر ایستادہ یہ شاندار پل روزانہ لاکھوں افراد اور ہزاروں گاڑیوں کی آمدورفت کو ممکن بناتا ہے، جس کے باعث استنبول کی معاشی، سماجی اور سفری زندگی میں اسے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔ اپنی منفرد انجینئرنگ، دلکش منظر اور تاریخی اہمیت کی وجہ سے باسفورس پل نہ صرف ترکی کی ترقی کی علامت ہے بلکہ دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کیلئے بھی ایک غیرمعمولی کشش رکھتا ہے۔باسفورس برج استنبول میں آبنائے باسفورس کے اوپر بنے ہوئے دو پلوں میں سے پہلا پل ہے۔ یہ لوہے اور سٹیل سے تیار کیا گیا معلق پل ہے۔ باسفورس میں اس پل کے نیچے کوئی ستون نہیں ہے۔ بلکہ باسفورس کے دونوں کناروں پر لمبے ستون کھڑے کرکے مضبوط سٹیل کے رسوں سے پل کو سہارا دیا گیا ہے۔ باسفورس پل4954فٹ لمبا اور 128فٹ چوڑا ہے جبکہ دونوں ستونوں کے درمیان کا فاصلہ3524فٹ ہے اور ستونوں کی بلندی 344 فٹ ہے۔ نیچے پانی کی سطح سے پل 210 فٹ بلندی پر بنایا گیا ہے۔ تاکہ پل کے نیچے سے بڑے سے بڑا جہاز بھی آسانی سے گزر سکے۔ جب یہ پل1973ء میں مکمل ہوا تو اس وقت یہ دنیا کا چوتھا معلق پل اور امریکہ کے پلوں کے بعد سب سے لمبا پل تھا اور اس وقت یہ دنیا کا 17واں طویل معلق پل ہے۔ اس پل کو دو برطانوی انجینئروں سر گلبرٹ رابرٹس اور ولیم برائون نے ڈیزائین کیا۔ انھوں نے دنیا کے کئی مشہور پل ڈیزائن کیے تھے۔ فروری 1970ء میں باسفورس برج کی تعمیر شروع ہوئی اور30اکتوبر1973ء کو یہ مکمل ہوا۔ اس پل کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں ترکی کے صدر جودت ثنائے اور وزیر اعظم سلیمان ڈیمریل نے شرکت کی۔ ایک ٹرکش تعمیراتی کمپنی نے برطانیہ کی کلیو لینڈ برج اینڈ انجینئرنگ کمپنی کے اشتراک سے اس پل کی تکمیل میں حصہ لیا۔ اس پل کی تعمیر میں 35 انجینئروں اور 400 کاریگروں نے حصہ لیا۔ یہ پل 1973ء میں ترکی کے جمہوریہ بننے کی 50سالہ گولڈن جوبلی کی تقریب سے ایک دن بعد مکمل ہو گیا۔ صدر کورو ترک اور وزیر اعظم نعیم ناتونے مل کو اس پل کا افتتاح کیا۔ اس پل کی تعمیر پر200ملین ڈالر لاگت آئی۔ باسفورس برج کے کل8لین ہیں۔ 3،3لین گاڑیوں کیلئے اور ایک ایک لین کوایمرجنسی استعمال کیلئے مخصوص کیا گیا ہے۔ صبح کے وقت کیونکہ زیادہ تر ٹریفک کا بہائو ایشیاسائیڈ سے یورپ سائیڈ کی طرف ہوتا ہے۔ اس لیے صبح چار لین صرف جانے کیلئے اور دو لین یورپ سائیڈ سے ایشیاسائیڈ جانے کیلئے کھولے جاتے ہیں اوریہی صورت شام کو یورپ سائیڈسے ایشیا سائیڈ جانے کیلئے عمل میں لائی جاتی ہے۔ اس پل سے روزانہ ایک لاکھ 85ہزار گاڑیاں گزرتی ہیں اور ایشیاسائیڈ کی طرف13ٹول پلازہ بنائے گئے ہیں اور واپسی پر دوبارہ ٹول ادا نہیں کرنا پڑتا۔ باسفورس پل درمیان میں 35انچ تک جھولتا ہے۔

آج تم یاد بے حساب آئے!علن فقیر:صوفی و لوک گلوکار ( 2000-1932ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!علن فقیر:صوفی و لوک گلوکار ( 2000-1932ء)

٭...1932ء میں پیدا ہوئے، اصل نام علی بخش تھا، سندھ کے ضلع دادو سے تعلق تھا۔٭...ان کے والد دھمالی فقیر مشہور ساز شہنائی بجانے کے حوالے سے معروف تھے۔ ٭...وہ سریلی آوازیں سنتے، مقامی سازوں کو دیکھتے، انھیں تھامنے اور بجانے کے فن کو سمجھتے ہوئے بڑے ہوئے۔ یوں وہ لوک گیت اور موسیقی سے شروع ہی سے مانوس ہوگئے۔٭...انہیں سندھی شاعری کی مشہور صنف وائی گانے میں مہارت حاصل تھی۔ ٭...وہ اپنی گائیکی کے مخصوص انداز کی وجہ سے ہر خاص و عام میں مقبول تھے۔ ٭...پرفارمنس کے دوران سندھ کے روایتی لباس کے ساتھ ان کا منفرد اور والہانہ انداز حاضرین و ناظرین کی توجہ حاصل کر لیتا تھا۔ ٭...گائیکی کے دوران ان کا مخصوص رقص، جھومنا اور مست و سرشاری کا عالم اپنی مثال آپ تھا۔٭...سندھ کے عظیم شاعروں کا کلام گانے والے علن فقیر کا نام ''تیرے عشق میں جو بھی ڈوب گیا، اسے دنیا کی لہروں سے ڈرنا کیا‘‘ اور ''اتنے بڑے جیون ساگر میں تْو نے پاکستان دیا‘‘ جیسے گیتوں کی بدولت فن کی دنیا میں امر ہو گیا۔٭...1987ء میں حکومت پاکستان نے انہیں ''صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی‘‘ سے نوازا۔٭... 1999ء میں پاکستان ٹیلی وژن نے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ عطا کیا۔ ٭...وہ 4 جولائی 2000ء کو کراچی میں فوت ہوئے،جامشورو میں آسودہ خاک ہیں۔