مسرت نذیر

مسرت نذیر

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالحفیظ ظفر


انور کمال پاشا پاکستان فلمی صنعت کے محسن تھے۔ انہوں نے اس نوزائیدہ صنعت کو بہت سے فنکار دیئے جنہوں نے بعد میں اپنی ذہانت کے بل بوتے پر اپنی ایک الگ شناخت بنائی۔ بعض شہرت کے آسمان پر سورج بن کر چمکنے لگے اور آج تک لوگ ان فنکاروں کو یاد کرتے ہیں۔مسرت نذیر بھی وہ فنکارہ تھیں جنہیں سب سے پہلے انور کمال پاشا نے اداکارہ کی حیثیت سے متعارف کرایا تھا۔ اس کے بعد اس فنکارہ نے اپنی صلاحیتوںکے ایسے جوہر دکھائے کہ فلمی پنڈت انگشت بدنداں رہ گئے۔ مسرت نذیر کا کمال یہ تھا کہ انہوں نے صبیحہ خانم اور نیئرسلطانہ کے عروج کے زمانے میں اپنے آپ کو منوایا۔ صبیحہ خانم کی طرح وہ بھی اردو اور پنجابی دونوں زبانوں کی فلموں میں اداکاری کرتی تھیں۔ ان کے مداحین کا وسیع حلقہ موجود تھا جو نہ صرف ان کی اداکاری بلکہ دلکش شخصیت سے بھی بہت متاثر تھا۔مسرت نذیر13 اکتوبر1940ء کو لاہور میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد نذیر احمد کارپوریشن میں ٹھیکیدار تھے۔ مسرت کے والد اپنی بیٹی کو ڈاکٹر بنانے کے آرزو مند تھے،لیکن محدود وسائل کی وجہ سے ان کی یہ خواہش پوری نہ ہوسکی۔ مسرت نذیر نے میٹرک کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیاجس کے بعد انہوں نے کنیئرڈ کالج سے انٹر کا امتحان پاس کیا۔ وہ بڑی ذہین طالبہ تھیں۔ شروع میں انہیں گلوکاری کا شوق تھا۔1950ء کے عشرے میں وہ ریڈیو پاکستان سے گیت گاتی رہیں۔ لیکن انہیں بہت کم معاوضہ ملتا تھا۔1955ء میں انور کمال پاشا سے ان کا رابطہ ہوا۔ انہوں نے پاشا صاحب سے کہا کہ وہ گلوکارہ بننے کی خواہشمند ہیں اور اس سلسلے میں انہیں موقع دیئے جائیں۔ انور کمال پاشا بلا کے ذہین ہدایتکار تھے اور کہا جاتا ہے کہ وہ نئے فنکاروں کی صلاحیتوں کو جانچنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ انہوں نے مسرت نذیر کو اداکاری کرنے کا مشورہ دیا۔ مسرت نذیر نے انور کمال پاشا کو بتایا کہ وہ اپنے والد کی اجازت کے بغیر فلموں میں کام کرنے کی حامی نہیں بھر سکتیں۔ اس پر انور کمال پاشا خود مسرت کے والد سے ملے اور انہیں قائل کیا کہ وہ اپنی بیٹی کو فلموں میں کام کرنے کی اجازت دے دیں۔ مسرت نذیر کو بالآخر ان کے والد نے فلموں میں اداکاری کرنے کی اجازت دے دی۔ انور کمال پاشا نے ان کا فلمی نام چاندنی رکھا۔ 1955ء میں چاندنی نے صبیحہ خانم اور نیئر سلطانہ کے ساتھ پاشا کی فلم ’’قاتل‘‘ میں کام کیا۔ پھر چاندنی نے 1955ء میں ہی فلمساز شیخ لطیف اور ہدایتکار لقمان کی پنجابی فلم ’’پتن‘‘ میں سنتوش کمار کے ہمراہ مرکزی کردار ادا کیا۔ اس فلم میں وہ اپنے اصلی نام مسرت نذیر کے ساتھ جلوہ گر ہوئیں۔ یہ فلم زبردست کامیابی سے ہمکنار ہوئی، جس کے بعد مسرت نذیر پر پنجابی فلموں کے دروازے کھل گئے۔ اس کے بعد انہوں نے پاٹے خان جیسی مشہور فلم میں کام کیا۔1957ء میں انہوں نے ’’یکے والی‘‘ جیسی شاندار فلم میں اداکاری کے جوہر دکھائے جس نے ریکارڈکامیابی حاصل کی۔ اس فلم کے ہدایتکار ایم جے رانا تھے اور فلمساز تھے باری ملک۔ ’’یکے والی‘‘ میں مسرت نذیر نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ ان کے ساتھ سدھیر، نیلو، اجمل، الیاس کاشمیری اور ظریف کی اداکاری کو بھی شائقین فلم نے بہت پسند کیا۔ اس فلم کی کمائی سے ہی باری ملک نے باری سٹوڈیو تعمیر کیا۔ ان کی دیگر مشہور پنجابی فلموں میں ’’ماہی منڈا‘یار بیلی اور کرتار سنگھ‘‘ شامل ہیں۔ انہوں نے زیادہ تر سدھیر اور سنتوش کمار کے ساتھ کام کیا۔ ان کی دیگر مشہور فلموں میں ’’نوکری، آنکھ کا نشہ، باپ کا گناہ، جھومر، شہید، زہر عشق، قسمت، جٹی، وطن، سولہ آنے، گڈی گڈا، باغی، لکن میٹی ، ٹھنڈی سڑک، مستی، مرزا صاحباں، عشق پر زور نہیں، مفت بر اور گلفام‘‘ شامل ہیں۔ان کی اردو فلموں میں ’’جھومر، زہر عشق اور شہید‘‘ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ان فلموں میں وہ اداکاری کے عروج پر نظر آتی ہیں۔ مسرت نذیر کو گانے پکچرائز کرنے میں بھی ملکہ حاصل تھا۔ مذکورہ بالا فلموں کے گیت بھی سپرہٹ ہوئے۔ ان کی موسیقی خواجہ خورشید انور اوررشید عطرے جیسے نابغۂ روزگار موسیقاروں نے ترتیب دی تھی۔ ’’زہر عشق‘‘ میں انہوں نے اپنے کیریئر کا سب سے انوکھا کردار ادا کیا جس پر انہیں نگار ایوارڈ بھی دیا گیا۔ ’’زہر عشق‘‘ ایک شاندار فلم تھی لیکن یہ فلم باکس آفس پر فلاپ ہوگئی۔ ’’جھومر‘‘ میں ان پر ناہید نیازی کے گائے ہوئے یادگار نغمات عکسبند کیے گئے۔ یہ نغمات بہت مقبول ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ خواجہ خورشید انور پہلے’’جھومر‘‘ کے گیت نورجہاں سے گوانا چاہتے تھے ، لیکن نور جہاں نے شرط عائد کردی کہ مسرت نذیر کا کردار انہیں دیا جائے۔ خواجہ صاحب نے انکار کردیا اور پھر ’’جھومر‘‘ کے گیتوں کیلئے انہوں نے ناہید نیازی کا انتخاب کیا۔ خواجہ خورشید انور سمجھتے تھے کہ ناہید نیازی کی آواز میں گیتا دت کی جھلک واضح طورپر ملتی ہے۔ خواجہ صاحب کا ناہید نیازی سے گیت گوانے کا فیصلہ درست ثابت ہوا۔ اب ان کی یادگار فلم ’’شہید‘‘ کا بھی ذکر ضروری ہے۔ اس فلم میں ہدایتکار خلیل قیصر نے مسرت نذیر کو ایسا کردار دیا جسے انہوں نے کمال مہارت سے ادا کیا۔ ’’شہید‘‘ کو پاکستان کی بہترین اردو فلموں میں سے ایک قرار دیاجاتا ہے۔ اس فلم میں منیرنیازی کی مشہور زمانہ غزل ’’اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو‘‘ بھی شامل تھی۔ یہ غزل نسیم بیگم نے گائی تھی اور اسے مسرت نذیر پر پکچرائز کیا گیا تھا۔ مسرت نذیر نے جتنے عمدہ طریقے سے گانے کی عکسبندی کرائی‘ اس کی مثال بہت کم ملتی ہے۔ یہ فلم 1962ء میں ریلیز ہوئی تھی اور اس میں بھی بہترین اداکاری کرنے پر مسرت نذیر کو نگارایوارڈ دیا گیا۔ انہوں نے مجموعی طور پر تین نگار ایوارڈ حاصل کیے۔مسرت نذیر کو پنجاب کی جٹی کے نام سے بھی پکارا جاتا تھا۔ وہ جتنی خوبصورت تھیں اتنی ہی اعلیٰ اداکارہ بھی تھیں۔ انہوں نے 1963 میں ڈاکٹر ارشد مجید سے شادی کی اور بعدازاں وہ دونوں کینیڈا شفٹ ہوگئے۔ ان کے فنی سفر کا دوسرا دور اس وقت شروع ہوا جب وہ ایک گلوکارہ کی حیثیت سے سامنے آئیں۔ انہوں نے کچھ لوک گیت گائے اور خوب شہرت حاصل کی۔ ان کے مشہور لوک گیتوں میں یہ دوگیت بہت زیادہ ہٹ ہوئے۔ (1) میرا لونگ گواچا (2) لٹھے دی چادر اُتے سلیٹی رنگ ماہیا۔ اس کے علاوہ ان کے گائے ہوئے یہ گیت بہت پسند کیے گئے (1) گلشن کی بہاروں میں (2) چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر (3) اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں۔مسرت نذیر نے اپنے بعد میں آنے والی کئی ہیروئنوں کو متاثر کیا۔ نئی ہیروئنیں انہیں اپنا آئیڈیل قرار دیتی تھیں۔ ایک دفعہ سرکاری ٹی وی پر بابرہ شریف نے کہا تھا کہ مسرت نذیر نے انہیں سب سے زیادہ متاثر کیا۔ مسرت نذیر حیات ہیں اور اپنے خاندان کے ساتھ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ایک اداکارہ اور گلوکارہ کی حیثیت سے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
چنیوٹ کی شاھی مسجد

چنیوٹ کی شاھی مسجد

شاہ جہاں کے عہد کی یادگارچنیوٹ شہر اپنی تاریخی عمارتوں، لکڑی کے نفیس کام اور قدیم طرزِ تعمیر کی وجہ سے برصغیر میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ دریائے چناب کے کنارے آباد اس شہر میں مغلیہ دور کی کئی یادگاریں موجود ہیں مگر ان میں سب سے نمایاں اور اہم عمارت چنیوٹ کی شاہی مسجد ہے۔چنیوٹ کی شاہی مسجد کی تعمیر سترہویں صدی میں مغل شہنشاہ شاہ جہاں کے دورِ حکومت میں ہوئی۔ اس مسجد کی نسبت مغل دربار کے طاقتور وزیرِاعظم سعد اللہ خان (1595ء تا 1655ء ) سے کی جاتی ہے۔ تاریخی شواہد کے مطابق مسجد کی تعمیر کا آغاز 1646ء میں ہوا اور یہ تقریباً 1655ء تک مکمل ہوئی۔ اس دور میں مغل سلطنت اپنے عروج پر تھی اور فنِ تعمیر میں خوبصورتی، توازن اور شان و شوکت کو خاص اہمیت دی جاتی تھی۔ یہی خصوصیات اس مسجد میں بھی واضح طور پر نظر آتی ہیں۔سعد اللہ خان چنیوٹ کے رہنے والے تھے اور مغل دربار میں ان کا شمار انتہائی بااثر شخصیات میں ہوتا تھا۔ انہوں نے اپنے آبائی شہر کی ترقی اور مذہبی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس عظیم الشان مسجد کی تعمیر کروائی۔ اس طرح یہ مسجد نہ صرف عبادت گاہ بلکہ ایک فلاحی اور سماجی مرکز کے طور پر بھی قائم کی گئی۔چنیوٹ کی شاہی مسجد شہر کے وسط میں واقع ہے اور قدیم بازاروں کے درمیان بلند مقام پر واقع ہے۔ مسجد کا مقام اس طرح منتخب کیا گیا تھا کہ یہ شہر کی مذہبی اور سماجی سرگرمیوں کا مرکز بن سکے۔مسجد کے اردگرد تاریخی بازار موجود ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس علاقے میں صدیوں سے تجارتی سرگرمیاں جاری رہی ہیں۔ مغل دور میں مذہبی عمارتوں کو اکثر ایسے مقامات پر تعمیر کیا جاتا تھا جہاں لوگ آسانی سے جمع ہو سکیں، چنیوٹ کی شاہی مسجد بھی اسی روایت کی عکاسی کرتی ہے۔فنِ تعمیر کی نمایاں خصوصیاتچنیوٹ کی شاہی مسجد کا فنِ تعمیر مغل طرزِ تعمیر کی بہترین مثال ہے۔ مسجد کی مجموعی ساخت مغل دور میں رائج سات محرابی یا سات خانے (Seven Bay) طرز پر مبنی ہے۔ اس طرز میں مرکزی عبادت گاہ کے سامنے محرابوں کی ایک قطار ہوتی ہے جو عمارت کو متوازن اور خوبصورت بناتی ہے۔مسجد کے مرکز میں ایک کشادہ صحن ہے۔ مغل مساجد میں کشادہ صحن ایک اہم عنصر ہوتا تھا کیونکہ جمعہ اور عیدین کے اجتماعات میں بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوتے تھے۔صحن کے چاروں طرف محرابی برآمدے بنائے گئے ہیں جو نہ صرف سایہ فراہم کرتے ہیں بلکہ عمارت کو ایک خاص جمالیاتی حسن بھی دیتے ہیں۔ ان برآمدوں کی محرابیں مغل فنِ تعمیر کی روایتی سادگی اور وقار کی نمائندگی کرتی ہیں۔اس مسجد کی ایک اہم خصوصیت اس کا بلند چبوترہ ہے۔ اس بلند بنیاد کے اندر دکانیں بنائی گئی ہیں۔ دکانوں کا مقصد مسجد کے اخراجات کے لیے مستقل آمدنی کا ذریعہ فراہم کرنا تھا۔ اس طرح مسجد نہ صرف ایک عبادت گاہ بلکہ ایک خود کفیل ادارہ بھی تھی۔ مغل دور میں مذہبی عمارتوں کے ساتھ ایسی معاشی سرگرمیوں کا انتظام عام تھا تاکہ ان کی دیکھ بھال اور مرمت کے اخراجات پورے کیے جا سکیں۔ستونوں کا منفرد استعمالچنیوٹ کی شاہی مسجد کی ایک منفرد خصوصیت یہ ہے کہ محرابِ قبلہ کے سامنے بنے برآمدوں کو سہارا دینے کے لیے ستونوں کا استعمال کیا گیا ہے۔ مغل مساجد میں عام طور پر دیواروں اور محرابوں کے ذریعے چھت کو سہارا دیا جاتا تھا لیکن اس مسجد میں ستونوں کا استعمال نسبتاً غیر معمولی سمجھا جاتا ہے۔ماہرینِ فنِ تعمیر کے مطابق اس طرز کی ایک مثال لاہور کے قلعہ میں موجود موتی مسجد میں بھی ملتی ہے جو شاہ جہاں کے دور ہی میں تعمیر ہوئی تھی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس زمانے میں معمار مختلف تجربات کے ذریعے عمارتوں میں نئے انداز متعارف کروا رہے تھے۔سادگی اور وقار کا امتزاجچنیوٹ کی شاہی مسجد کا ڈیزائن اگرچہ شاندار ہے لیکن اس میں غیر ضروری تزئین و آرائش کم نظر آتی ہے۔ یہ سادگی مغل فنِ تعمیر کے اس رجحان کی عکاسی کرتی ہے جس میں حسن اور توازن کو نمایاں رکھا جاتا تھا۔مسجد کی محرابیں، گنبد اور برآمدے نہایت متناسب انداز میں بنائے گئے ہیں۔ اینٹوں اور چونے کے استعمال سے بنائی گئی یہ عمارت آج بھی اپنی مضبوطی اور خوبصورتی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ وقت گزرنے کے باوجود اس کی اصل ساخت بڑی حد تک محفوظ ہے۔تاریخی اور ثقافتی اہمیتچنیوٹ کی شاہی مسجد صرف ایک مذہبی عمارت نہیں بلکہ ایک تاریخی دستاویز بھی ہے جو مغل دور کی تہذیب، مذہبی زندگی اور شہری منصوبہ بندی کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ مسجد صدیوں سے شہر کے لوگوں کے لیے عبادت، تعلیم اور سماجی رابطے کا مرکز رہی ہے۔ اس سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مغل دور میں مقامی اشرافیہ اور درباری شخصیات اپنے آبائی علاقوں میں عوامی فلاح کے منصوبے شروع کرتی تھیں۔ سعد اللہ خان کی جانب سے اس مسجد کی تعمیر اسی روایت کی ایک نمایاں مثال ہے۔آج بھی چنیوٹ کی شاہی مسجد شہر کی اہم تاریخی یادگاروں میں شمار ہوتی ہے۔ مقامی لوگ اسے عقیدت اور احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں جبکہ تاریخ اور فنِ تعمیر سے دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے یہ ایک اہم مقام ہے۔اگر اس مسجد کی مناسب دیکھ بھال اور تاریخی حیثیت کے مطابق تحفظ کیا جائے تو یہ نہ صرف پاکستان کے ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے بلکہ سیاحت کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

رمضان کےمشروب و پکوان

رمضان کےمشروب و پکوان

ڈھاکہ چکن اجزاء:چکن: 500 گرام ،دہی: آدھا کپ ادرک لہسن پیسٹ: 1 کھانے کا چمچ،لال مرچ پاؤڈر: 1 چائے کا چمچ،ہلدی: آدھا چائے کا چمچ،نمک: حسبِ ذائقہ،گرم مصالحہ: آدھا چائے کا چمچ،لیموں کا رس: 1 کھانے کا چمچ،بیسن: 2 کھانے کے چمچ،انڈا: 1 عدد،ہری مرچ: 2 باریک کٹی ہوئی،تیل: تلنے کے لیےترکیب:چکن کو اچھی طرح دھو کر ایک برتن میں رکھیں۔اس میں دہی، ادرک لہسن پیسٹ، لال مرچ، ہلدی، نمک، گرم مصالحہ اور لیموں کا رس شامل کریں۔پھر بیسن اور انڈا ڈال کر اچھی طرح مکس کریں تاکہ چکن پر اچھی کوٹنگ ہو جائے۔آخر میں ہری مرچ ڈال دیں اور 30 منٹ کے لیے میرینیٹ ہونے دیں۔کڑاہی میں تیل گرم کریں اور چکن کو درمیانی آنچ پر سنہری ہونے تک فرائی کریں۔گرم گرم چٹنی اور سلاد کے ساتھ پیش کریں۔شاہی ٹکڑےاجزاء :ڈبل روٹی کے سلائس: 6،دودھ: 1 لیٹر،چینی: آدھا کپ،گھی یا تیل: فرائی کرنے کے لیے،الائچی پاؤڈر: آدھا چائے کا چمچ،بادام، پستہ: سجاوٹ کے لیے،کیوڑہ یا گلاب جل: چند قطرے (اختیاری)ترکیب: ڈبل روٹی کے سلائس کو تکون شکل میں کاٹ کر گھی میں سنہری ہونے تک تل لیں۔ایک پتیلی میں دودھ ابالیں اور اس میں چینی اور الائچی ڈال دیں۔دودھ کو تھوڑا گاڑھا ہونے تک پکائیں۔تلی ہوئی بریڈ کو ایک ڈش میں رکھ کر اوپر سے گاڑھا دودھ ڈال دیں۔بادام اور پستے سے سجا کر ٹھنڈا کر لیں۔

آج تم یاد بے حساب آئے!حبیب جالب اردو کے انقلابی شاعر ( 1993 - 1928ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!حبیب جالب اردو کے انقلابی شاعر ( 1993 - 1928ء)

٭...24مارچ 1928ء کو ہوشیار پور، مشرقہ پنجاب میں پیدا ہوئے ۔ اصل نام حبیب احمد تھا۔٭...قیام پاکستان کے بعد پاکستان چلے آئے ۔ امروز کراچی میں پروف ریڈر کے طور پر کام کرنے لگے۔٭... کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے رکن بنے۔ 1954ء میں پارٹی پر پابندی لگی تو نیشنل عوامی پارٹی (نیپ ) میں شمولیت اختیار کر لی۔٭...پسے ہوئے طبقات کے لیے جدوجہد کے تمام رنگ اُن کی شاعری میں ملتے ہیں۔٭...جالب کے شعری مجموعوں میں ''حرفِ سرِ دار‘‘،''عہدِ سزا‘‘ ،'سرِ مقتل ‘‘،''ذکر بہتے خون کا‘‘،''گنبدِ بے در‘‘ ،''ا س شہر خرابی میں‘‘،''گوشے میں قفس کے‘‘ اور' حرفِ حق ‘‘شامل ہیں۔٭...حبیب جالب نے فلمی گیت بھی لکھے جو خاصے پسند کئے گئے۔٭...فلم ''زرقا‘‘ میں اُن کا مشہورِ زمانہ گیت''رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے‘‘ تو گویا حبیب جالب کی شناخت بن گیا۔٭...1973ء میں ریلیز ہونے والی فلم''سماج‘‘ میں بھی حبیب جالب کے گیت بہت مقبول ہوئے۔٭...حبیب جالب 12مارچ 1993ء کواس جہان رنگ بو سے رخصت ہوئے، لیکن اُن کی شاعری ہمیشہ عوامی احساسات کی ترجمانی کرتی رہے گی۔ ٭... حبیب جالب کی وفات کے بعد 2008ء میں حکومت پاکستان نے انہیں نشان امتیاز کے اعزاز سے نوازا ۔چند اشعاراور سب بھول گئے حرف صداقت لکھنارہ گیا کام ہمارا ہی بغاوت لکھنانہ صلے کی نہ ستائش کی تمنا ہم کوحق میں لوگوں کے ہماری تو ہے عادت لکھناہم نے جو بھول کے بھی شہہ کا قصیدہ نہ لکھاشاید آیا اسی خوبی کی بدولت لکھناتم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھااس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھادشمنوں نے جو دشمنی کی ہےدوستوں نے بھی کیا کمی کی ہےدنیا تو چاہتی ہے یونہی فاصلے رہیںدنیا کے مشوروں پہ نہ جا اس گلی میں چلپا سکیں گے نہ عمر بھر جس کوجستجو آج بھی اسی کی ہےکچھ لوگ خیالوں سے چلے جائیں تو سوئیںبیتے ہوئے دن رات نہ یاد آئیں تو سوئیںجن کی یادوں سے روشن ہیں میری آنکھیںدل کہتا ہے ان کو بھی میں یاد آتا ہوں

آج کا دن

آج کا دن

ماریشس کی آزادی12 مارچ 1968 ء کو جزیرہ نما ملک ماریشس نے برطانوی راج سے آزادی حاصل کی۔ ماریشس تقریباً ڈیڑھ سو سال تک برطانیہ کی نوآبادی رہا اور اس دوران یہاں مختلف قومیتوں کے لوگ آ کر آباد ہوئے جن میں بھارتی، افریقی، چینی اور یورپی نسل کے لوگ شامل تھے۔آزادی کی تحریک کئی دہائیوں تک جاری رہی، جس میں مقامی سیاسی رہنماؤں اور عوام نے اہم کردار ادا کیا۔ آزادی کے بعد ماریشس نے ایک جمہوری ریاست کے طور پر ترقی کی راہ اختیار کی۔ برلن معاہدہ 12 مارچ 1918 کو روس اور جرمنی کے درمیان ایک اہم معاہدہ طے پایا جسے برلن معاہدہ کہا جاتا ہے۔ یہ معاہدہ پہلی عالمی جنگ کے دوران پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال کے پس منظر میں کیا گیا۔ اس وقت روس میں روسی انقلاب ہو چکا تھا اور نئی بالشویک حکومت کو اندرونی مسائل اور جنگی دباؤ کا سامنا تھا۔نئی حکومت کے سربراہ ولادیمیر لینن جنگ سے نکلنا چاہتے تھے تاکہ وہ ملک کے اندرونی حالات کو بہتر بنا سکیں۔ اسی مقصد کے تحت روس نے جرمنی کے ساتھ مذاکرات شروع کیے۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں مختلف معاہدے طے پائے جن کا مقصد جنگ بندی اور سیاسی تعلقات کو منظم کرنا تھا۔پہلی عوامی لائبریری کا قیام12 مارچ 1798ء کو امریکہ کی ریاست کینٹکی میں پہلی عوامی لائبریری قائم کی گئی۔لائبریری کا قیام دراصل اس خیال پر مبنی تھا کہ علم اور معلومات صرف امیر طبقے تک محدود نہیں ہونی چاہئیں بلکہ ہر شہری کو اس تک رسائی حاصل ہونی چاہیے۔ اس مقصد کے لیے مقامی دانشوروں اور سماجی رہنماؤں نے مل کر ایک ایسی لائبریری قائم کی جہاں لوگ مطالعہ کر سکیں اور کتابیں حاصل کر سکیں۔ابتدائی دور میں اس لائبریری میں زیادہ تر تاریخ، فلسفہ، مذہب اور سائنس سے متعلق کتابیں موجود تھیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کا ذخیرہ بڑھتا گیا اور یہ مقامی کمیونٹی کے لیے ایک اہم علمی مرکز بن گئی۔پہلے ویب براؤزر کا اجرا12 مارچ 1993 کو دنیا کے پہلے گرافیکل ویب براؤزر موزیک (Mosaic) کا ابتدائی ورژن جاری کیا گیا۔ یہ براؤزر نیشنل سینٹر فار سپرکمپیوٹنگ ایپلی کیشنز (NCSA) کے سائنسدانوں نے تیار کیا تھا۔ اس ٹیم کی قیادت نوجوان پروگرامر مارک اینڈریسن کر رہے تھے۔موزیک کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ اس نے انٹرنیٹ کو عام صارفین کے لیے بہت آسان بنا دیا۔ موزیک نے گرافیکل انٹرفیس متعارف کرایا جس میں تصاویر اور متن کو ایک ہی صفحے پر دیکھا جا سکتا تھا۔اس براؤزر کی مقبولیت بہت تیزی سے بڑھی اور اس نے انٹرنیٹ کے استعمال میں انقلاب برپا کر دیا۔

عباسی مسجد قلعہ دراوڑ

عباسی مسجد قلعہ دراوڑ

 چولستان کے صحرا میں مغل طرزِ تعمیر کی جھلکپنجاب کے ضلع بہاولپور میں واقع چولستان کے وسیع و عریض صحرا میں قلعہ دراوڑ اپنی شان و شوکت کے باعث صدیوں سے سیاحوں اور مؤرخین کی توجہ کا مرکز ہے۔ اس عظیم الشان قلعے کے قریب واقع مسجد جسے عام طور پر عباسی مسجد یا قلعہ دراوڑ کی شاہی مسجد بھی کہا جاتا ہے، اپنی خوبصورت مغل طرزِ تعمیر اور تاریخی اہمیت کے باعث خطے کی نمایاں مذہبی و ثقافتی عمارتوں میں شمار ہوتی ہے۔قلعہ دراوڑ اگرچہ دسویں صدی میں تعمیر ہوا اور وقتاً فوقتاً اس کی ازسرِ نو تعمیر ہوتی رہی تاہم عباسی مسجد نسبتاً بعد کی تعمیر ہے۔ اس کی بنیاد 1835ء میں ریاست بہاولپور کے حکمران نواب بہاول خان سوم نے رکھی۔ بعض تاریخی حوالوں میں اس کی تعمیر 1849ء بتائی جاتی ہے، مگر عمومی طور پر 1835ء کو ہی اس کا سنِ تعمیر مانا جاتا ہے۔نواب بہاول خان سوم ریاست بہاولپور کے پانچویں حکمران تھے اور ان کا تعلق عباسی خاندان سے تھا، جس نے بہاولپور کو مضبوط اور خوشحال ریاست کے طور پر قائم رکھا۔ برطانوی دور کے سرکاری گزٹ میں ان کی شخصیت کو خاصی تعریف کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ انہیں سخی بہاول خان کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا کیونکہ وہ اپنی سخاوت اور رعایا پروری کی وجہ سے مشہور تھے۔ برطانوی حکومت کے ساتھ ان کے خوشگوار تعلقات بھی تاریخ میں درج ہیں خصوصاً ملتان کی مہم کے دوران انہوں نے انگریزوں کا ساتھ دیا۔مغل طرزِ تعمیر کی جھلکعباسی مسجد کو عموماً دہلی کی معروف جامع مسجد کی طرز پر تعمیر شدہ مسجد قرار دیا جاتا ہے۔ دہلی کی یہ عظیم مسجد سترہویں صدی میں مغل شہنشاہ شاہ جہاں کے دور میں تعمیر ہوئی تھی اور برصغیر کی بڑی جامع مساجد میں شمار ہوتی ہے۔ اگرچہ انیسویں صدی تک مغل سلطنت کمزور ہو چکی تھی اور اس کا اقتدار عملاً محدود ہو گیا تھا تاہم مغل طرزِ تعمیر اب بھی اقتدار، وقار اور عظمت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ اسی وجہ سے برصغیر کی مختلف ریاستوں کے حکمران اپنی عمارتوں میں مغل طرز کو اپنانا باعثِ فخر سمجھتے تھے۔ عباسی مسجد کی تعمیر بھی اسی روایت کا تسلسل ہے۔ یہ مسجد ایک وسیع صحن کے سامنے پانچ محرابی دروازوں والی سیدھی قطار میں تعمیر کی گئی ہے۔ اس طرزِ تعمیر کی مثالیں دہلی کے قدیم دورِ لودھی کی مساجد میں بھی ملتی ہیں۔ مسجد کے دونوں اطراف پر بلند و بالا مینار تعمیر کیے گئے ہیں جو عمارت کو مزید شان و شوکت عطا کرتے ہیں۔یہ مینار اس طرز کی یاد دلاتے ہیں جو لاہور کی مسجد وزیر خان میں پہلی مرتبہ نمایاں طور پر سامنے آیا تھا۔ بعد ازاں یہی طرز برصغیر کی بڑی جامع مساجد میں عام ہو گیا۔گنبد اور ساختمسجد کے تین بڑے گنبد اونچی بنیاد پر قائم ہیں اور دور سے دیکھنے پر نہایت دلکش منظر پیش کرتے ہیں۔ مغل دور کی بعض ابتدائی مساجد میں گنبدوں کو عمارت کے اگلے حصے کے پیچھے چھپانے کی کوشش کی جاتی تھی جیسا کہ فتح پور سیکری کی بعض مساجد میں دیکھا جا سکتا ہے لیکن عباسی مسجد میں گنبدوں کو نمایاں انداز میں بلند رکھا گیا ہے تاکہ وہ آسمان کی طرف ابھرتے ہوئے دکھائی دیں۔داخلی دروازے اور خطاطیاس مسجد کی ایک دلچسپ خصوصیت اس کے نسبتاً چھوٹے دروازے ہیں۔ عمارت کے سامنے والے بڑے اور بلند حصے کے مقابلے میں یہ دروازے چھوٹے دکھائی دیتے ہیں جو اس دور کی کچھ دیگر مساجد میں بھی نظر آتا ہے مگر دراوڑ مسجد میں یہ تناسب خاصا منفرد ہے۔معماروں نے اگلے حصے کی خالی جگہ کو خوبصورت محرابی طاقچوں اور خطاطی کے پینلوں سے بھر دیا ہے۔ مرکزی دروازہ خاص طور پر نہایت نفیس انداز میں بنایا گیا ہے جس میں دو تہہ دار محرابیں ہیں۔ ان محرابوں کے گرد قرآن مجید کی آیات اور اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ خوبصورت خطاطی میں کندہ کیے گئے ہیں۔چھت کے کناروں پر شعلہ نما محرابی کنگرے بنائے گئے ہیں۔مغربی دیوار کا منفرد جھروکہمسجد کی مغربی دیوار میں ایک منفرد جھروکہ نما کھڑکی بھی موجود ہے جو محراب کے مقام کی نشاندہی کرتی ہے۔ برصغیر کی اکثر مساجد میں مغربی دیوار سادہ رکھی جاتی ہے کیونکہ یہ قبلہ کی سمت ہوتی ہے اور عام طور پر وہاں سے آمد و رفت نہیں ہوتی مگر عباسی مسجد کے معماروں نے اس حصے کو بھی آرائشی انداز دیا۔ماہرینِ تعمیرات کے مطابق اس جھروکے کا مقصد شاید یہ تھا کہ جب نواب قلعے سے نماز کے لیے مسجد آتے تو امام یہاں کھڑے ہو کر ان کا استقبال کر سکتے تھے۔ چونکہ مسجد قلعہ دراوڑ کے مشرق میں واقع ہے اس لیے مغربی دیوار قلعے کی سمت پڑتی ہے اور اس پر آرائش کرنا ضروری سمجھا گیا۔صحرا میں عظیم مسجد کی تعمیرچولستان کے سنسان صحرا کے کنارے اتنی خوبصورت اور بڑی مسجد کی تعمیر بظاہر حیران کن معلوم ہوتی ہے۔ تاہم اس کی وجہ اس علاقے میں عباسی خاندان کی موجودگی تھی۔ قلعہ دراوڑ کے قریب عباسی حکمرانوں کے مقبرے بھی موجود ہیں جو اس جگہ کی سیاسی اور روحانی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ نواب بہاول خان اور ان کا خاندان قلعے کے اندر ایک وسیع رہائش گاہ بھی رکھتے تھے۔وقت گزرنے کے باوجود عباسی مسجد آج بھی کافی اچھی حالت میں ہے۔ قلعہ دراوڑ کی کہنہ سال فصیلیں جگہ جگہ سے بیٹھ گئی ہیں مگر مسجد کی عمارت نسبتاً محفوظ اور مضبوط نظر آتی ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ اسے بعد کے دور میں تعمیر کیا گیا اور اس کی دیکھ بھال بھی نسبتاً بہتر رہی۔یہ مسجد نہ صرف مذہبی اہمیت رکھتی ہے بلکہ برصغیر کی اسلامی فنِ تعمیر کی ایک خوبصورت مثال بھی ہے۔ اس کی تعمیر اس بات کی علامت ہے کہ بہاولپور کے نواب خود کو مغل سلطنت کی تہذیبی و سیاسی روایت کا وارث سمجھتے تھے اور اسی طرزِ تعمیر کو اپناتے ہوئے اپنی حکمرانی کی شان و شوکت ظاہر کرنا چاہتے تھے۔یوں چولستان کے خاموش صحرا میں عباسی مسجد تاریخ، فنِ تعمیر اور روحانیت کا حسین امتزاج پیش کرتی ہے۔ آج بھی جب سیاح قلعہ دراوڑ کی فصیلوں کے سائے میں اس مسجد کو دیکھتے ہیں تو انہیں ماضی کی وہ جھلک دکھائی دیتی ہے جب ریاست بہاولپور اپنی شان و شوکت کے عروج پر تھی اور اس کے حکمران فن و ثقافت کے سرپرست سمجھے جاتے تھے۔

کیا کالے تِل واقعی صحت کیلئے زیادہ مفید ہیں؟

کیا کالے تِل واقعی صحت کیلئے زیادہ مفید ہیں؟

سوشل میڈیا کے دعوئوں اور سائنسی حقائق کا جائزہحالیہ برسوں میں سوشل میڈیا پر مختلف غذاؤں کو ''سپر فوڈ‘‘ کے طور پر پیش کرنے کا رجحان تیزی سے بڑھا ہے۔ انہی میں ایک نئی غذا کالے تل بھی ہیں جن کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ سفید تل کے مقابلے میں زیادہ فائدہ مند ہیں، بلڈ پریشر کم کرتے ہیں، دل کی بیماریوں سے بچاتے ہیں اور حتیٰ کہ سفید بالوں کو دوبارہ سیاہ بھی کر سکتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی سائنس ان دعوؤں کی تائید کرتی ہے؟ کالے تل کیا ہیں؟تل ایک قدیم غذائی جزو ہے جو صدیوں سے ایشیائی کھانوں میں استعمال ہو رہا ہے۔ یہ سفید اور کالے رنگوں میں پایا جاتا ہے۔ ذائقے کے اعتبار سے کالے تل ہلکی سی خوشبودار اور مغزی ذائقہ رکھتے ہیں اور انہیں میٹھے اور نمکین دونوں قسم کے کھانوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ غذائیت کے لحاظ سے تل ایک توانائی سے بھرپور غذا ہے۔ ان میں تقریباً 50 سے 64 فیصد تک چکنائی ہوتی ہے جس کی وجہ سے ان سے تیل بھی حاصل کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ پروٹین، کاربوہائیڈریٹس اور مختلف وٹامنز اور معدنیات کا بھی اچھا ذریعہ ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض غذائی اجزاکالے تل میں سفید تل کے مقابلے میں زیادہ پائے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ان میں چکنائی، پروٹین اور کئی معدنیات کی مقدار قدرے زیادہ ہوتی ہے، اسی وجہ سے انہیں بعض لوگ زیادہ صحت بخش سمجھتے ہیں۔ اینٹی آکسیڈنٹس اور صحتانسانی جسم میں روزمرہ کے عمل جیسے سانس لینے، حرکت کرنے اور سورج کی شعاعوں کے اثر سے فری ریڈیکلز بنتے ہیں۔ یہ نقصان دہ مرکبات خلیوں، پروٹین اور ڈی این اے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔تل میں ایسے کیمیائی مرکبات پائے جاتے ہیں جنہیں اینٹی آکسیڈنٹس کہا جاتا ہے۔ یہ مرکبات فری ریڈیکلز کو بے اثر کرکے جسم کو ممکنہ نقصان سے بچاتے ہیں۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کالے تل میں فینولز اور لِگنین نامی اینٹی آکسیڈنٹس سفید تل کے مقابلے میں زیادہ مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔ ایک اہم مرکب سیسامِن (Sesamin) بھی تل میں پایا جاتا ہے۔ لیبارٹری اور جانوروں پر ہونے والی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اس میں اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات موجود ہیں اور یہ کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کم کرنے میں مددگار ہو سکتا ہے۔ تاہم سائنسدانوں کے مطابق ان تجربات کے نتائج کو براہ راست انسانوں پر لاگو کرنا ابھی قبل از وقت ہے۔ کچھ سائنسی مطالعات میں تل کے ممکنہ فوائد کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ایک جائزے میں چھ مختلف مطالعات کے 465 افراد کے نتائج کا تجزیہ کیا گیا۔ اس میں دیکھا گیا کہ تل کے استعمال سے جسمانی وزن کے اشاریے (BMI)، بلڈ پریشر اور کولیسٹرول میں کچھ کمی دیکھی گئی۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ان مطالعات میں کئی کمزوریاں موجود تھیں، اس لیے سائنسدانوں نے ان نتائج کو حتمی قرار دینے سے گریز کیا اور مزید مضبوط تحقیق کی ضرورت پر زور دیا۔ ایک چھوٹی تحقیق میں کالے تل کے کیپسول چار ہفتے تک استعمال کرنے سے ہلکے بلند بلڈ پریشر والے افراد میں سسٹولک بلڈ پریشر میں کچھ کمی دیکھی گئی مگر یہ نتیجہ بھی محدود پیمانے پر حاصل ہوا۔ کیا کالے تل سفید بال سیاہ کر سکتے ہیں؟سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ مشہور دعویٰ یہی ہے کہ کالے تل سفید بالوں کو دوبارہ سیاہ بنا سکتے ہیں لیکن موجودہ سائنسی تحقیق اس بات کی تائید نہیں کرتی۔ ماہرین کے مطابق اب تک ایسی کوئی معتبر تحقیق سامنے نہیں آئی جس میں ثابت ہو کہ کسی خاص غذا یا سپلیمنٹ سے سفید بال دوبارہ سیاہ ہو سکتے ہیں۔ سائنسی شواہد کے مطابق کالے تل ایک غذائیت سے بھرپور غذا ضرور ہیں تاہم انہیں کسی جادوئی دوا یا ''سپر فوڈ‘‘ کے طور پر پیش کرنا درست نہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ ہم عموماً تل بہت کم مقدار میں کھاتے ہیں مثلاً سالن، روٹی یا میٹھے پر چھڑک کر،اس لیے کالے اور سفید تل کے درمیان فرق سے صحت پر کوئی بڑا اثر نہیں پڑتا۔ اصل اہمیت متوازن اور متنوع غذا کی ہے جس میں مختلف غذائی اجزا شامل ہوں۔ اگر آپ کو کالے تل کا ذائقہ پسند ہے تو انہیں اپنی غذا میں شامل کیا جا سکتا ہے لیکن سفید بالوں کو سیاہ کرنے یا بیماریوں کے مکمل علاج کی توقع رکھنا حقیقت پسندانہ نہیں۔