مسرت نذیر

مسرت نذیر

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالحفیظ ظفر


انور کمال پاشا پاکستان فلمی صنعت کے محسن تھے۔ انہوں نے اس نوزائیدہ صنعت کو بہت سے فنکار دیئے جنہوں نے بعد میں اپنی ذہانت کے بل بوتے پر اپنی ایک الگ شناخت بنائی۔ بعض شہرت کے آسمان پر سورج بن کر چمکنے لگے اور آج تک لوگ ان فنکاروں کو یاد کرتے ہیں۔مسرت نذیر بھی وہ فنکارہ تھیں جنہیں سب سے پہلے انور کمال پاشا نے اداکارہ کی حیثیت سے متعارف کرایا تھا۔ اس کے بعد اس فنکارہ نے اپنی صلاحیتوںکے ایسے جوہر دکھائے کہ فلمی پنڈت انگشت بدنداں رہ گئے۔ مسرت نذیر کا کمال یہ تھا کہ انہوں نے صبیحہ خانم اور نیئرسلطانہ کے عروج کے زمانے میں اپنے آپ کو منوایا۔ صبیحہ خانم کی طرح وہ بھی اردو اور پنجابی دونوں زبانوں کی فلموں میں اداکاری کرتی تھیں۔ ان کے مداحین کا وسیع حلقہ موجود تھا جو نہ صرف ان کی اداکاری بلکہ دلکش شخصیت سے بھی بہت متاثر تھا۔مسرت نذیر13 اکتوبر1940ء کو لاہور میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد نذیر احمد کارپوریشن میں ٹھیکیدار تھے۔ مسرت کے والد اپنی بیٹی کو ڈاکٹر بنانے کے آرزو مند تھے،لیکن محدود وسائل کی وجہ سے ان کی یہ خواہش پوری نہ ہوسکی۔ مسرت نذیر نے میٹرک کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیاجس کے بعد انہوں نے کنیئرڈ کالج سے انٹر کا امتحان پاس کیا۔ وہ بڑی ذہین طالبہ تھیں۔ شروع میں انہیں گلوکاری کا شوق تھا۔1950ء کے عشرے میں وہ ریڈیو پاکستان سے گیت گاتی رہیں۔ لیکن انہیں بہت کم معاوضہ ملتا تھا۔1955ء میں انور کمال پاشا سے ان کا رابطہ ہوا۔ انہوں نے پاشا صاحب سے کہا کہ وہ گلوکارہ بننے کی خواہشمند ہیں اور اس سلسلے میں انہیں موقع دیئے جائیں۔ انور کمال پاشا بلا کے ذہین ہدایتکار تھے اور کہا جاتا ہے کہ وہ نئے فنکاروں کی صلاحیتوں کو جانچنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ انہوں نے مسرت نذیر کو اداکاری کرنے کا مشورہ دیا۔ مسرت نذیر نے انور کمال پاشا کو بتایا کہ وہ اپنے والد کی اجازت کے بغیر فلموں میں کام کرنے کی حامی نہیں بھر سکتیں۔ اس پر انور کمال پاشا خود مسرت کے والد سے ملے اور انہیں قائل کیا کہ وہ اپنی بیٹی کو فلموں میں کام کرنے کی اجازت دے دیں۔ مسرت نذیر کو بالآخر ان کے والد نے فلموں میں اداکاری کرنے کی اجازت دے دی۔ انور کمال پاشا نے ان کا فلمی نام چاندنی رکھا۔ 1955ء میں چاندنی نے صبیحہ خانم اور نیئر سلطانہ کے ساتھ پاشا کی فلم ’’قاتل‘‘ میں کام کیا۔ پھر چاندنی نے 1955ء میں ہی فلمساز شیخ لطیف اور ہدایتکار لقمان کی پنجابی فلم ’’پتن‘‘ میں سنتوش کمار کے ہمراہ مرکزی کردار ادا کیا۔ اس فلم میں وہ اپنے اصلی نام مسرت نذیر کے ساتھ جلوہ گر ہوئیں۔ یہ فلم زبردست کامیابی سے ہمکنار ہوئی، جس کے بعد مسرت نذیر پر پنجابی فلموں کے دروازے کھل گئے۔ اس کے بعد انہوں نے پاٹے خان جیسی مشہور فلم میں کام کیا۔1957ء میں انہوں نے ’’یکے والی‘‘ جیسی شاندار فلم میں اداکاری کے جوہر دکھائے جس نے ریکارڈکامیابی حاصل کی۔ اس فلم کے ہدایتکار ایم جے رانا تھے اور فلمساز تھے باری ملک۔ ’’یکے والی‘‘ میں مسرت نذیر نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ ان کے ساتھ سدھیر، نیلو، اجمل، الیاس کاشمیری اور ظریف کی اداکاری کو بھی شائقین فلم نے بہت پسند کیا۔ اس فلم کی کمائی سے ہی باری ملک نے باری سٹوڈیو تعمیر کیا۔ ان کی دیگر مشہور پنجابی فلموں میں ’’ماہی منڈا‘یار بیلی اور کرتار سنگھ‘‘ شامل ہیں۔ انہوں نے زیادہ تر سدھیر اور سنتوش کمار کے ساتھ کام کیا۔ ان کی دیگر مشہور فلموں میں ’’نوکری، آنکھ کا نشہ، باپ کا گناہ، جھومر، شہید، زہر عشق، قسمت، جٹی، وطن، سولہ آنے، گڈی گڈا، باغی، لکن میٹی ، ٹھنڈی سڑک، مستی، مرزا صاحباں، عشق پر زور نہیں، مفت بر اور گلفام‘‘ شامل ہیں۔ان کی اردو فلموں میں ’’جھومر، زہر عشق اور شہید‘‘ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ان فلموں میں وہ اداکاری کے عروج پر نظر آتی ہیں۔ مسرت نذیر کو گانے پکچرائز کرنے میں بھی ملکہ حاصل تھا۔ مذکورہ بالا فلموں کے گیت بھی سپرہٹ ہوئے۔ ان کی موسیقی خواجہ خورشید انور اوررشید عطرے جیسے نابغۂ روزگار موسیقاروں نے ترتیب دی تھی۔ ’’زہر عشق‘‘ میں انہوں نے اپنے کیریئر کا سب سے انوکھا کردار ادا کیا جس پر انہیں نگار ایوارڈ بھی دیا گیا۔ ’’زہر عشق‘‘ ایک شاندار فلم تھی لیکن یہ فلم باکس آفس پر فلاپ ہوگئی۔ ’’جھومر‘‘ میں ان پر ناہید نیازی کے گائے ہوئے یادگار نغمات عکسبند کیے گئے۔ یہ نغمات بہت مقبول ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ خواجہ خورشید انور پہلے’’جھومر‘‘ کے گیت نورجہاں سے گوانا چاہتے تھے ، لیکن نور جہاں نے شرط عائد کردی کہ مسرت نذیر کا کردار انہیں دیا جائے۔ خواجہ صاحب نے انکار کردیا اور پھر ’’جھومر‘‘ کے گیتوں کیلئے انہوں نے ناہید نیازی کا انتخاب کیا۔ خواجہ خورشید انور سمجھتے تھے کہ ناہید نیازی کی آواز میں گیتا دت کی جھلک واضح طورپر ملتی ہے۔ خواجہ صاحب کا ناہید نیازی سے گیت گوانے کا فیصلہ درست ثابت ہوا۔ اب ان کی یادگار فلم ’’شہید‘‘ کا بھی ذکر ضروری ہے۔ اس فلم میں ہدایتکار خلیل قیصر نے مسرت نذیر کو ایسا کردار دیا جسے انہوں نے کمال مہارت سے ادا کیا۔ ’’شہید‘‘ کو پاکستان کی بہترین اردو فلموں میں سے ایک قرار دیاجاتا ہے۔ اس فلم میں منیرنیازی کی مشہور زمانہ غزل ’’اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو‘‘ بھی شامل تھی۔ یہ غزل نسیم بیگم نے گائی تھی اور اسے مسرت نذیر پر پکچرائز کیا گیا تھا۔ مسرت نذیر نے جتنے عمدہ طریقے سے گانے کی عکسبندی کرائی‘ اس کی مثال بہت کم ملتی ہے۔ یہ فلم 1962ء میں ریلیز ہوئی تھی اور اس میں بھی بہترین اداکاری کرنے پر مسرت نذیر کو نگارایوارڈ دیا گیا۔ انہوں نے مجموعی طور پر تین نگار ایوارڈ حاصل کیے۔مسرت نذیر کو پنجاب کی جٹی کے نام سے بھی پکارا جاتا تھا۔ وہ جتنی خوبصورت تھیں اتنی ہی اعلیٰ اداکارہ بھی تھیں۔ انہوں نے 1963 میں ڈاکٹر ارشد مجید سے شادی کی اور بعدازاں وہ دونوں کینیڈا شفٹ ہوگئے۔ ان کے فنی سفر کا دوسرا دور اس وقت شروع ہوا جب وہ ایک گلوکارہ کی حیثیت سے سامنے آئیں۔ انہوں نے کچھ لوک گیت گائے اور خوب شہرت حاصل کی۔ ان کے مشہور لوک گیتوں میں یہ دوگیت بہت زیادہ ہٹ ہوئے۔ (1) میرا لونگ گواچا (2) لٹھے دی چادر اُتے سلیٹی رنگ ماہیا۔ اس کے علاوہ ان کے گائے ہوئے یہ گیت بہت پسند کیے گئے (1) گلشن کی بہاروں میں (2) چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر (3) اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں۔مسرت نذیر نے اپنے بعد میں آنے والی کئی ہیروئنوں کو متاثر کیا۔ نئی ہیروئنیں انہیں اپنا آئیڈیل قرار دیتی تھیں۔ ایک دفعہ سرکاری ٹی وی پر بابرہ شریف نے کہا تھا کہ مسرت نذیر نے انہیں سب سے زیادہ متاثر کیا۔ مسرت نذیر حیات ہیں اور اپنے خاندان کے ساتھ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ایک اداکارہ اور گلوکارہ کی حیثیت سے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
سیلفی اسٹک کی چھٹی

سیلفی اسٹک کی چھٹی

اب روبوٹ بنائے گا آپ کی تصاویر!ٹیکنالوجی کی دنیا میں نت نئی ایجادات نے انسانی زندگی کو پہلے سے کہیں زیادہ آسان اور دلچسپ بنا دیا ہے۔ کبھی اپنی تصویر بنانے کیلئے دوسروں کی مدد لینا پڑتی تھی اور پھر سیلفی اسٹک نے یہ مشکل دور کر دی، لیکن اب سائنس دانوں نے اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے دو ٹانگوں والا ایسا جدید روبوٹ تیار کیا ہے جو اسمارٹ فون اٹھا کر اپنے مالک کے پیچھے پیچھے چل سکتا ہے۔ یہ روبوٹ نہ صرف تصاویر اور ویڈیوز بنانے میں مدد دے سکتا ہے بلکہ انسان کے ساتھ حرکت کرتے ہوئے اسے مختلف زاویوں سے فلم بند کرنے کی سہولت بھی فراہم کر سکتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ مستقبل میں سیلفی لینے کیلئے ہاتھ میں اسٹک پکڑنے کی ضرورت نہیں رہے گی، کیونکہ ایک ننھا روبوٹ ہی آپ کا ذاتی کیمرہ مین بن کر ہر قدم پر آپ کے ساتھ ہوگا۔ ''فون بوٹ‘‘ (PhoneBot) نامی یہ چھوٹا سا آلہ تقریباً 19 انچ (48 سینٹی میٹر) اونچا ہے اور اس کا وزن لگ بھگ چار پاؤنڈ (1.8 کلو گرام) ہے۔ ابتدائی مظاہروں میں تحقیقاتی ٹیم نے دکھایا کہ 400 ڈالر مالیت کا یہ روبوٹ چل سکتا ہے، کسی شخص کی نقل و حرکت پر نظر رکھ سکتا ہے اور اوندھے منہ گرنے کی حالت سے دوبارہ کھڑا بھی ہو سکتا ہے۔ اس روبوٹ کے جسم کے اوپری حصے میں، اس کے ''کولہوں‘‘ کے اوپر، اسمارٹ فون نصب کیا جا سکتا ہے ۔ فون میں موجود کیمرے کی مدد سے روبوٹ لوگوں کو پہچاننے اور ان کا تعاقب کرنے کے قابل ہوتا ہے، جبکہ فون کے موشن سینسرز جسم کی حرکت اور سمت کے بارے میں معلومات جمع کر سکتے ہیں۔ اگرچہ اس روبوٹ کو بنیادی طور پر تحقیقی مقاصد کیلئے تیار کیا گیا ہے، تاہم یہ ایک چلتے پھرتے فوٹوگرافر کے طور پر بھی کام کر سکتا ہے۔ یہ خودکار طور پر اپنی جگہ تبدیل کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنا سکتا ہے کہ تصویر میں موجود تمام افراد کیمرے کے فریم میں سما جائیں۔محققین نے تحقیقی مقالے کے ابتدائی آن لائن نسخے میں، جو ویب سائٹ آرکائیو (arXiv) پر شائع کیا گیا، لکھا ہے کہ ''فون بوٹ‘‘ کم لاگت پر تیار ہونے والا، اوپن سورس اور مختصر جسامت کا انسان نما روبوٹک پلیٹ فارم ہے۔ اس میں عام دستیاب اسمارٹ فون کو ایک ایسے ماڈیولر جسم کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے جو ماحول سے متعلق معلومات حاصل کرنے، روبوٹ کے اندر ہی کمپیوٹنگ کے عمل اور انسانوں کے ساتھ تعامل کی سہولت فراہم کرتا ہے۔یونیورسٹی آف کیلیفورنیاکے محققین کے مطابق روبوٹ کی حرکات کو کنٹرول کرنے والا سافٹ ویئر اسمارٹ فون پر چلتا ہے۔ فون وائی فائی کے ذریعے ایک چھوٹے سے کمپیوٹر کو ہدایات بھیجتا ہے، جو آگے یہ احکامات روبوٹ کی موٹروں تک پہنچاتا ہے۔ مجموعی طور پر فون بوٹ میں 13 موٹریں نصب ہیں، جن میں سے چھ چھ دونوں ٹانگوں میں جبکہ ایک موٹر اس کے دھڑ کو گھمانے کیلئے استعمال ہوتی ہے۔ یہ اضافی جوڑ روبوٹ کو اس قابل بناتا ہے کہ اس کے پاؤں اپنی جگہ قائم رہیں، لیکن کیمرا مختلف زاویوں سے منظر عکس بند کرنے کیلئے دائیں یا بائیں جانب گھوم سکے۔ تحقیقاتی ٹیم نے مختلف اسمارٹ فونز کے ساتھ اس نظام کی آزمائش کی اور معلوم کیا کہ تمام آزمودہ فون بنیادی سینسنگ، حرکات کو کنٹرول کرنے اور بصری معلومات حاصل کرنے کے افعال کی معاونت کرتے ہیں۔ فی الحال اس روبوٹ کے بازو موجود نہیں ہیں، تاہم سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں اس میں ہلکے وزن والے بازو نصب کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تاکہ یہ مختلف اشیا کو پکڑنے اور سنبھالنے کے قابل ہو سکے۔ محققین یہ بھی جانچنا چاہتے ہیں کہ ناہموار سطحوں پر یہ روبوٹ کس طرح حرکت کرتا ہے، کیونکہ اب تک اس کی آزمائش صرف ہموار زمین پر کی گئی ہے۔یہ نظام اسمارٹ فون کے مائیکروفون اور اسپیکر کی مدد سے بول کر دی جانے والی ہدایات پر بھی عمل کر سکتا ہے۔ تاہم، فی الحال آواز کو پہچاننے اور زبان کو سمجھنے سے متعلق افعال ایک الگ لیپ ٹاپ کے ذریعے انجام دیے جاتے ہیں۔ سائنسدانوں کو امید ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے ان ماڈلز کو براہِ راست اسمارٹ فون پر چلانے کے قابل بنا دیا جائے گا۔تحقیقاتی ٹیم کو امید ہے کہ یہ کم لاگت والا پلیٹ فارم تعلیم، تحقیق اور نئے نمونوں کی تیز رفتار تیاری کیلئے ایک سستا اور قابلِ تکرار نظام فراہم کرے گا، جس سے انسان نما روبوٹس کو تیار کرنا اور ان تک رسائی حاصل کرنا مزید آسان ہو جائے گا۔

 اردو اور مصنوعی ذہانت: موقع بھی، امتحان بھی

اردو اور مصنوعی ذہانت: موقع بھی، امتحان بھی

دفتر میں ایک کلرک موبائل پر انگریزی خط کا اردو ترجمہ کروا رہا ہے۔ایک طالبہ اسائنمنٹ کے مشکل سوال پر مصنوعی ذہانت سے الجھ رہی ہے۔ بزرگ کو اردو کی بورڈ سے اب بھی الجھن ہوتی ہے، سو وہ بولتا جاتا ہے اور فون لکھتا جاتا ہے۔ چند برس پہلے کوئی یہ منظر بیان کرتا تو شاید ہم اسے سائنس فکشن کہتے۔ اب کسی کو حیرت بھی نہیں ہوتی۔ مشین اردو بولنے لگی ہے۔پڑھ بھی لیتی ہے، لکھ بھی دیتی ہے، ترجمہ بھی کر دیتی ہے۔ کبھی ایسی اردو کہ آدمی داد دے، کبھی ایسا جملہ کہ فوراً پتا چل جائے صاحب اردو گھر کی زبان نہیں۔مصنوعی ذہانت اردو کیلئے ایک نیا دروازہ کھول رہی ہے یا ہم اپنی زبان کو آہستہ آہستہ مشین کے مزاج پر ڈھال رہے ہیں؟شاید دونوں باتیں درست ہیں۔کسی زمانے میں انگریزی کا خط آ جائے تو دفتر میں وہ شخص تلاش کیا جاتا تھا جس کی انگریزی اچھی ہو۔ آج موبائل نکالیے، تصویر لیجیے اور ترجمہ سامنے۔ درخواست لکھوانی ہو، کسی لمبی تحریر کا خلاصہ چاہیے، انگریزی پیغام سمجھ نہیں آ رہا یا جواب اردو میں دینا ہے، بہت سے کام چند لمحوں میں ہو جاتے ہیں۔آواز سے اردو لکھنے کی سہولت نے تو ایک اور رکاوٹ ختم کر دی ہے۔ ہمارے ہاں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو عمدہ اردو بول سکتے ہیں مگر موبائل پر اردو ٹائپ کرتے ہوئے ان کی رفتار آدھی رہ جاتی ہے۔ اب وہ بولتے ہیں اور فون لکھتا جاتا ہے۔ یعنی زبان اور ٹیکنالوجی کے درمیان جو دروازہ مدت سے آدھا بند تھا، وہ کچھ کھلا ہے۔مگر پورا نہیں۔نستعلیق صرف فونٹ نہیںبرسوں ہم نے اخبار، رسالہ اور کتاب انٹرنیٹ پر ڈالنے کو یہ سمجھا کہ اس کے صفحے کی تصویر چڑھا دی، کام ختم۔ انسان اسے پڑھ لیتا تھا، مشین کیلئے اکثر وہ صرف تصویر تھی۔پھر ہمارا نستعلیق ہے۔اردو والے جانتے ہیں کہ نستعلیق صرف حروف نہیں، ہماری آنکھ کی عادت بھی ہے۔ شعر نستعلیق میں نظر آئے تو کچھ اور لگتا ہے۔ مگر مشین کیلئے یہی حسن مصیبت بن جاتا ہے۔ حروف جڑتے ہیں،نقطے اپنی جگہیں بدلتے ہیں۔ پرانی کتاب کا زرد صفحہ، مدھم روشنائی اور اوپر سے نستعلیق،مشین سے کہیے اسے حرف بہ حرف درست پڑھو، تو اس کا امتحان شروع ہو جاتا ہے۔ اسی لیے مصنوعی ذہانت بازار، دفتر اور سوشل میڈیا والی اردو میں خاصی تیز ہے، لیکن محاورہ ذرا ٹیڑھا ہو، طنز دبا ہوا ہو یا شعر میں بات لفظ کے بجائے اشارے سے کہی گئی ہو تو اس کے قدم لڑکھڑا سکتے ہیں۔ الماریوں میںپڑا خزانہکبھی کسی پرانے گھر کی کتابوں والی الماری کھولیے۔کتاب کا کاغذ زرد، جلد کے کنارے اکھڑے ہوئے ۔ بعض کتابیں ایسی ہیں جن کا نیا نسخہ شاید بازار میں ملے ہی نہ۔ہمارے کتب خانوں، پرانے اداروں اور گھروں میں ایسا کتنا مواد پڑا ہے۔یہاں مصنوعی ذہانت اردو کی بڑی خدمت کر سکتی ہے۔ اگر اردو کی تحریر پہچاننے کے نظام بہتر ہو جائیں تو لاکھوں صفحات صرف تصویروں کی صورت محفوظ نہیں ہوں گے بلکہ باقاعدہ متن بن سکتے ہیں۔ کسی پرانی کتاب میں نام، شعر یا واقعہ تلاش کرنا ممکن ہوگا۔ جو کتاب لاہور یا کراچی کی کسی الماری میں بند ہے، اسے دنیا کے دوسرے سرے پر بیٹھا طالب علم پڑھ سکے گا۔مشین کی عادت ذرا خطرناک ہےوہ غلط بھی ہو تو بعض اوقات لہجہ ایسا رکھتی ہے جیسے بات پتھر پر لکھی ہو۔ آپ کسی شعر کا شاعر پوچھیں، وہ نام بتا دے گی۔ نام غلط بھی ہو سکتا ہے۔ کتاب کا حوالہ مانگیں تو کبھی ایسی کتاب یا صفحہ بھی سامنے آ سکتا ہے جس کا وجود تلاش کرنے پر مشکل سے ملے،یا ملے ہی نہیں۔ اردو میں یہ خطرہ زیادہ ہے، کیونکہ ہمارے پاس پہلے ہی اشعار کی غلط نسبت کا پورا بازار آباد ہے۔ سوشل میڈیا پر اقبال، غالب اور فراز کے نام سے وہ کچھ گردش کرتا رہا ہے جو شاید ان تینوں نے خواب میں بھی نہ کہا ہو۔اور پھر لکھنے کا معاملہ ہے۔آج چند سطریں لکھ کر کہیں کہ غزل بنا دو، افسانہ لکھ دو، کالم تیار کر دو۔ جواب حاضر۔سوال یہ نہیں کہ مشین ایسا کر سکتی ہے یا نہیںکر سکتی ہے۔سوال یہ ہے کہ پھر لکھنے والا کہاں ہے؟اگر خیال بھی ادھار، جملہ بھی تیار، استعارہ بھی مشین کا اور آخری سطر بھی وہی دے رہی ہے توکیا صفحے کے اوپر اپنا نام لکھ دینے سے تحریر اپنی ہو جاتی ہے؟ ۔مجھے ایک اور خطرہ اس سے بھی بڑا لگتا ہے،بے رنگ اردو۔وہ اردو جس میں املا درست ہو، جملہ مکمل ہو، قواعد بھی سلامت ہوںمگر پڑھ کر معلوم نہ ہو کہ اسے لاہور والے نے لکھا، لکھنؤ والے نے، کراچی والے نے یا کسی مشین نے۔ زبان صرف درست جملے نہیں ہوتی۔اس میں محلے کی آواز ہوتی ہے، ماں کا بولا ہوا کوئی لفظ، دادی کی کہاوت، گلی کی پھبتی، پنجابی کی آمیزش، دکنی کی مٹھاس، کراچی کا اپنا لہجہ اور لکھنے والے کی اپنی کجی بھی ہوتی ہے۔ہر کجی درست کر دی جائے تو کبھی کبھی زبان بھی سیدھی نہیں، سپاٹ ہو جاتی ہے۔اب کام ہمارا ہےمصنوعی ذہانت سے یہ شکایت کرنا آسان ہے کہ اسے اچھی اردو نہیں آتی۔مگر سوال یہ بھی ہے کہ ہم نے اسے پڑھنے کیلئے دیا کیا ہے؟ کتنی پرانی کتابیں قابلِ تلاش متن میں موجود ہیں؟ کتنے رسائل صرف بوسیدہ جلدوں میں بند ہیں؟ ہماری جامعات نے کتنا معیاری اردو مواد ڈیجیٹل صورت میں محفوظ کیا؟ ناشر اپنے پرانے ذخیرے کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟مشین خلا میں زبان نہیں سیکھتی۔ اسے جو ملتا ہے، اسی سے سیکھتی ہے۔اس لیے کام صرف ٹیکنالوجی کمپنیوں کا نہیں۔ جامعات، کتب خانے، اخبارات، ناشر، ادبی ادارے اور لکھنے والے سب اس میں شریک ہیں۔

طنز و مزاح:سوئز بینک میں کھاتہ ہمارا

طنز و مزاح:سوئز بینک میں کھاتہ ہمارا

حضرات! میں کسی مجبوری اور دباؤ کے بغیر اور پورے ہوش و حواس کے ساتھ یہ اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ سوئٹزرلینڈ کے ایک بینک میں میرا اکاؤنٹ موجود ہے۔ آپ اس بات کو نہیں مانتے تو نہ مانئے۔ میری بیوی بھی پہلے اس بات کو نہیں مانتی تھی۔ اب نہ صرف اس بات کو مان رہی ہے بلکہ مجھے بھی ماننے لگی ہے۔آپ یقیناً یہ سوچ رہے ہوں گے کہ جب سارے لوگ اپنے کھاتوں کو پوشیدہ رکھنے کے سو سو جتن کررہے ہیں تو ایسے میں مجھے اپنے آپ ہی اپنے کھاتے کی موجودگی کا اعلان کرنے کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے۔ ایک دن میں دفتر سے بے حد تھکا ماندہ گھر پہنچا تو بیوی نے کہا، ''آپ جو اتنا تھک جاتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ دفتر میں کام بھی کرتے ہیں‘‘۔میں نے کہا، ''بھلا یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے۔ آدمی کام کرنے سے ہی تو تھکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک میں نے کسی سیاستدان اور مولوی کو تھکا ماندہ نہیں پایا‘‘۔بولی، ''آدمی محنت کرتا ہے تو پھر اسے اس کا صلہ بھی ملتا ہے۔ تم جو اتنی محنت کرتے ہو تو تمہیں کیا مل رہا ہے؟‘‘۔ظاہر ہے کہ اس مشکل سوال کا آسان جواب جب ملک کے ماہرین معاشیات کے پاس بھی نہیں ہے تو میں کیا خاک جواب دیتا۔ سو میں خاموش ہوگیا۔ میں نے سوچا کہ تیس برس کی رفاقت میں، میں نے اپنی بیوی کو روز کی خوشیاں اسی روز دینے کے سوائے اور کیا کیا ہے۔ اس کی جھولی میں ایک ایک دن اور ایک ایک پل کو جوڑ کر جمع کیا ہوا تیس برسوں کے عرصہ پر پھیلا ہوا ماضی تو ہے لیکن آنے والے کل کا کوئی ایسا لمحہ نہیں ہے جسے عام زبان میں خوش آئند مستقبل کہتے ہیں۔ میں نے سوچا آج اسے تھوڑا سا مستقبل بھی دے دیتے ہیں۔ لہٰذا میں نے کہا، ''یہ تم کیا محنت اور صلہ کے پیچھے حیران ہو رہی ہو۔ آج میں تمہیں ایک خوشخبری سنانا چاہتا ہوں کہ سوئٹزرلینڈ کے ایک بینک میں میرا اکاؤنٹ موجود ہے‘‘۔ یہ سنتے ہی میری بیوی کا منہ حیرت سے کھلا کا کھلا رہ گیا۔ بڑی دیر بعد جب وہ بند ہوا تو اس نے اچانک گھر کے دروازے اور کھڑکیاں بند کرنی شروع کر دیں۔میں نے کہا، ''یہ کیا کر رہی ہو؟‘‘بولی، ''سوئٹزرلینڈ کے بینک کے کھاتے کی بات کوئی یوں کھلم کھلا کرتا ہے۔ اگر بفرض ِمحال سوئٹزرلینڈ کے کسی بینک میں تمہارا کھاتہ ہے بھی تو تمہیں اس کا اعلان کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ اگر مجھے اس کھاتے کا سراغ لگانا ہو تو میں کسی خفیہ ایجنسی کے ذریعے اس کا پتہ لگا سکتی ہوں یا پھر ایک دن ملک کے کسی اخبار میں خود بخود اس کی خبر چھپ جائے گی۔ مگر پہلے یہ بتاؤ کیا سچ مچ سوئٹزرلینڈکے بینک میں تمہارا کھاتہ موجود ہے؟‘‘میں نے کہا، ''سچ بتاؤ! آج تک میں نے تم سے کبھی جھوٹ کہا ہے؟‘‘۔بولی، ''سوتو ہے مگر یہ کھاتہ تم نے کھولا کب؟‘‘۔میں نے کہا، ''چار سال پہلے جب میں یوروپ گیا تھا؟‘‘میرے اس جواب نے میری بیوی کو اور بھی حیرت میں ڈال دیا کیونکہ اسے پتہ تھا کہ جب میں یورپ کیلئے روانہ ہوا تھا تو میری جیب میں صرف بیس ڈالر تھے۔ اگرچہ حکومت نے مجھے اجازت دی تھی کہ اگر میں بیرونی زرِمبادلہ حاصل کرنا چاہوں تو پانچ سو ڈالر تک خرید سکتا ہوں۔ لیکن بیرونی کرنسی خریدنے کیلئے پہلے مجھے ملکی کرنسی کی ضرورت تھی۔ بیرونی کرنسی تو مجھے مل رہی تھی لیکن اصل سوال ملکی کرنسی کا تھا۔ اتنے میں میری بیوی دنیا کا نقشہ اٹھا کر لے آئی اور بولی، ''ذرا دکھاؤ تو سہی۔ یہ موا سوئٹزرلینڈ ہے کہاں؟ اور اس میں ہمارا اکاؤنٹ کہاں رکھا ہوا ہے؟‘‘میں نے دنیا کے نقشہ میں اسے سوئٹزرلینڈکو دکھانے کی کوشش شروع کردی۔لیکن کمبخت سوئٹزرلینڈ اتنا چھوٹا نکلا کہ اس پر جب جب انگلی رکھتا تو پورے کا پورا سوئٹزرلینڈ غائب ہو جاتا تھا۔ بالآخر قلم کی نوک سے سوئٹزرلینڈ کے حدودِ اربع اس پر واضح کئے تو بولی، ''یہ تو اتنا چھوٹا ہے کہ اس میں کسی بینک کی عمارت شاید ہی سما سکے۔ ہمارے بینک اکاؤنٹ کے سمانے کا نمبر تو بعد میں آئے گا‘‘۔ بیوی نے کہا، ''مگر تم تو سوئٹزرلینڈسیر سپاٹے کیلئے گئے تھے۔ وہاں کے قدرتی مناظر کو دیکھنے گئے تھے۔ یہ اکاؤنٹ کھولنے والا معاملہ کب ظہور میں آیا؟‘‘۔میں نے کہا، ''بیگم! کان کھول کر سن لو۔ یہ پہاڑ اورقدرتی مناظر سب بہانے بنانے کی باتیں ہیں۔ آج تک کوئی سوئٹزرلینڈمیں صرف پہاڑ دیکھنے کیلئے نہیں گیا۔ پہاڑ کی آڑ میں وہ کچھ اور کرنے جاتا ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے پہاڑ اس لئے اچھے لگتے ہیں کہ ان کے دامن میں سوئٹزرلینڈ کے وہ مشہور و معروف بینک ہیں جن میں اپنا پیشہ جمع کراؤ تو پیسہ جمع کرنے والے کی بیوی تک کو معلوم نہیں ہوتا کہ اس میں اس کے شوہر کا پیسہ جمع ہے۔

حکایت سعدیؒ:ذہانت

حکایت سعدیؒ:ذہانت

ایک خراسانی تاجر نے حج کا ارادہ کیا۔ جب اس نے حج کی تیاری کی تو اس کے پاس ضروریات سے زائد ایک ہزار دینار بچ گئے۔ اس نے سوچا کہ اگر میں انہیں ساتھ لے جائوں تو گرجانے کا خطرہ ہے اور اگر کسی کے پاس امانت رکھوں تو ممکن ہے کہ وہ واپس کرنے سے انکار کر دے۔ وہ جنگل میں گیا اور ارنڈی کے درخت کے نیچے گڑھا کھود کر وہ دینار چھپادئیے۔ پھر وہ حج کو چلا گیا جب واپس آیا اور اس جگہ کو کھود اتو کچھ نہ پایا۔ وہ رونے پیٹنے لگا۔ جب اس سے پوچھا گیا تو اس نے بتایا کہ زمین میرے دینار کھا گئی ہے۔ کسی نے اسے مشورہ دیا کہ بادشاہ عضدالدولہ کے پاس جائو، وہ بہت ذہین آدمی ہے۔ تاجر کہنے لگا، کیا بادشاہ علم غیب جانتا ہے؟ اس شخص نے تاجر سے کہا، پوچھنے میں کوئی حرج نہیں۔ چنانچہ تاجر بادشاہ کے سامنے حاضر ہوا اور سارا ماجرا کہہ سنایا۔ بادشاہ نے تمام طبیبوں کو جمع کیا اور پوچھا کہ کیا اس سال تم میں سے کسی نے ارنڈی کے ساتھ کسی کا علاج کیا ہے؟ ایک طبیب نے کہا، ہاں میں نے آپ کے ایک درباری کا علاج کیا ہے۔ بادشاہ نے اس درباری کو بلایا اور پوچھا: کیا تم نے ارنڈی کے ساتھ اپنا علاج کروایا ہے۔ اس نے کہا: ہاں، بادشاہ نے پوچھا: ارنڈی کون لے کر آیا تھا؟ بتایا کہ فلاں خادم۔ بادشاہ نے کہا کہ اسے حاضر کیا جائے۔ جب وہ حاضر ہوا تو اس سے پوچھا کہ یہ ارنڈی تم کہاںسے لائے تھے؟ اس نے جواب دیا فلاں جگہ سے۔ بادشاہ نے کہا: اس تاجر کو ساتھ لے جائو اور اس کو وہ جگہ دکھائو۔ وہ خادم اس تاجرکو ساتھ لے گیا اور وہ جگہ دکھا دی۔ تاجر جب بادشاہ کے پاس پہنچا تو بتایا کہ میں نے اسی جگہ دینار چھپائے تھے۔ بادشاہ نے خادم کو بلایا اور کہا کہ مال لائو۔ خادم نے ٹال مٹول کی جب بادشاہ نے اسے قتل کرنے کی دھمکی دی تو اس نے سارا مال واپس کر دیا۔ تاجر بادشاہ کی ذہانت دیکھ کر انگشت بہ دنداں رہ گیا۔بادشاہ سمجھ گیا تھا کہ جو ارنڈی لینے گیا تھا اسی نے دینار بھی وہاں دیکھ کر چرا لئے ہوں گے، اس کا شک درست نکلا۔

آج تم یاد بے حساب آئے!سلیم ناصر: ہر دلعزیز اداکار (1989-1944ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!سلیم ناصر: ہر دلعزیز اداکار (1989-1944ء)

٭...15 نومبر1944 کو ناگ پور (بھارت) میں پیدا ہونے والے سلیم ناصرکا اصل نام سید شیر خان تھا۔٭...وہ روشن خیال خاندان سے تعلق رکھتے تھے جو قیام پاکستان کے بعد پاکستان آ گیا اور کراچی میں سکونت اختیار کی۔٭... مادری زبان پشتو ہونے کے باوجود انہیں اردو پر بھی کمال عبور حاصل تھا، یہی وجہ تھی کہ اکثر لوگ انہیں پشتو بولتا دیکھ کر حیران رہ جاتے تھے۔٭...گریجویشن کے بعد وہ ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کراچی میں بحیثیت افسر شعبہ تعلقات عامہ لگ گئے،مگر اس شعبے کو اپنی منزل نہ سمجھتے ہوئے اداکاری کے شعبے کی طرف مائل ہو گئے۔٭... فنی سفر کا آغاز ٹی وی سے کیا اور ہر قسم کے کردار کو بخوبی نبھا یا۔٭... ان کی خوش بختی یہ تھی کہ ان کو ایسے کردار دیئے گئے جو ان کی شخصیت کے عین مطابق تھے اور انہوں نے ان کرداروں میں حقیقت کا رنگ بھردیا۔٭...''دستک‘‘ ڈرامہ میں انہوں نے وکیل کا کردارادا کیا، جو بہت پسند کیا گیا۔ ان کے ساتھ ایاز نائیک، شازیہ اختر اور قاضی واجد تھے۔٭... ''ان کہی‘‘ میں ان کی اداکاری کی بہت تحسین کی گئی۔ یہ سیریز حسینہ معین کے زورِ قلم کا نتیجہ تھی،جس میں ان کے ساتھ شہناز شیخ جاویدشیخ، شکیل اور آصف رضا میر نے بھی شاندار اداکاری کا مظاہرہ کیا۔٭... ٹی وی ڈرامہ ''نشان حیدر‘‘ میںکیپٹن سرور شہید کا یادگار کردار،''آخری چٹان‘‘ میں سلطان جلال الدین منگوبیروی کا کردار ادا کیا اور اپنی فنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔٭... ان کا ایک اور یادگار ڈرامہ ''یانصیب کلینک‘‘ تھا۔ اس میں انہوں نے ڈاکٹر کا کردار ادا کیا۔٭... ''آنگن ٹیڑھا‘‘ ان کا سب سے مقبول ڈرامہ ہے، جسے انور مقصود نے تحریر کیااور انہوں نے نوکر کا کردارادا کیا ،جو پہلے ڈانسر ہوتا ہے۔ ان کے ساتھ اس ڈرامے میں شکیل، بشریٰ انصاری اور ارشدمحمود تھے۔ ٭... 1989ء میں بننے والی پی ٹی وی کی شہرہ آفاق ڈرامہ سیریل ''جانگلوس‘‘ ان کا آخری ڈرامہ ثابت ہوا۔٭... انہیں مکالموں کی ادائیگی پر عبورحاصل تھا۔ ''آخری چٹان‘‘ میں ان کے مکالمے بولنے کے انداز نے ایک سماں باندھ دیا تھا۔٭...ٹی وی ڈراموںکے علاوہ انہوں نے 10 فلموں میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے، جن میں ایک پنجابی فلم بھی شامل تھی۔٭...ان کی مقبول فلموں میں چاکلیٹی ہیرو وحید مراد کی فلم ''زیب النسا ‘‘بھی شامل ہے۔٭...وہ اداکارمحمد علی سے متاثر تھے اور عدالت کے مناظر میں ان کی طرح مکالمے بولتے تھے۔ ان کی آواز بھی بڑی توانا اور پُرکشش تھی۔ ٭... ان کی فنی خدمات کے اعتراف میںانہیں ملک کے اعلیٰ ترین صدارتی اعزا ز''تمغہ برائے حسن کارکردگی‘‘ سے بھی نوازا گیا تھا۔٭... 24 ستمبر 1989ء کو انہیں دل کا دورہ پڑا۔ 19 اکتوبرکو دوبارہ دل کی تکلیف ہوئی۔ انہیں ہسپتال پہنچایا گیا، لیکن وہ طبی امداد ملنے سے پہلے ہی خالق حقیقی سے جا ملے۔ انہوں نے 45 برس کی عمرپائی۔

آج کا دن

آج کا دن

صدام حسین کے خلاف انسانیت سوز جرائم کا مقدمہ19اکتوبر 2005ء کو عراق کے سابق صدر صدام حسین کے خلاف دارالحکومت بغداد میں انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر مقدمے کی سماعت شروع ہوئی۔ یہ مقدمہ عراق کی تاریخ کے اہم ترین قانونی واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ صدام حسین پر اپنے دورِ اقتدار میں سیاسی مخالفین اور عام شہریوں کے خلاف سنگین مظالم ڈھانے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ اس مقدمے نے عراق کی سیاست، عدالتی نظام اور ملک کے مستقبل کے حوالے سے عالمی سطح پر غیر معمولی توجہ حاصل کی۔امریکہ :پہلا فضائی ریڈاروارننگ سسٹم فعال19 اکتوبر 1960ء کو امریکہ نے اپنا پہلا عوامی فضائی ریڈار وارننگ سسٹم باضابطہ طور پر فعال کیا۔یہ نظام دراصل سرد جنگ کے تناظر میں تیار کیا گیا تھا تاکہ سوویت یونین کے ممکنہ فضائی یا میزائل حملوں کی پیشگی اطلاع دی جا سکے۔ اس کا مقصد ملک بھر میں ایک ایسا الارم نیٹ ورک قائم کرنا تھا جو دشمن طیاروں یا میزائلوں کی نشاندہی کرکے فوری انتباہ دے سکے۔یہ پیش رفت جدید ریڈار اور سیٹلائٹ دفاعی ٹیکنالوجی کی بنیادوں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔پولینڈ کی 13 سالہ جنگ کا خاتمہ1466ء میں آج کے روز پولینڈ اور ٹیوٹونک آرڈر (جرمن مذہبی و فوجی تنظیم) کے درمیان جاری تیرہ سالہ جنگ دوسرے معاہدہ تھورن کے نتیجے میں اختتام پذیر ہوئی۔ یہ جنگ 1454ء میں شروع ہوئی تھی اور اس کا بنیادی سبب خطے میں سیاسی اقتدار اور علاقوں پر قبضے کی کشمکش تھا۔ معاہدے کے تحت فریقین کے درمیان جنگ بندی ہوئی اور علاقائی حدود و اختیارات میں تبدیلیاں آئیں۔ اس معاہدے نے مشرقی یورپ کی سیاسی صورت حال پر گہرے اثرات مرتب کیے۔برطانوی نشریاتی اداروں پر پابندی1988ء میں برطانوی حکومت نے ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر سن فین (Sinn Fein) کے ارکان کے انٹرویوز نشر کرنے پر پابندی عائد کر دی۔ اس پابندی کا اطلاق آئرش ریپبلکن اور السٹر کے وفادار مسلح گروہوں سے تعلق رکھنے والے گیارہ دیگر گروہوں کے ارکان پر بھی ہوتا تھا۔ حکومت کے اس اقدام کا مقصد شمالی آئرلینڈ کے تنازعے کے دوران ان تنظیموں کی تشہیر اور ان کے مؤقف کی براہِ راست نشریات کو محدود کرنا تھا۔ یہ پابندی 1994ء تک برقرار رہی۔ دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں میں شدید مندی1987ء میںآج کے روز دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں میں شدید مندی دیکھی گئی۔ یہ دن تاریخ میں ''بلیک منڈے‘‘ کے نام سے مشہور ہوا۔اس روز صرف ایک دن میں اسٹاک مارکیٹوں کی قدریں 20 فیصد سے زائد گر گئیں۔ سب سے زیادہ اثر امریکی اسٹاک مارکیٹ پر پڑا۔اگرچہ مارکیٹیں بعد میں سنبھل گئیں لیکن یہ دن عالمی مالیاتی نظام کی نازکی اور باہمی انحصار کی ایک واضح علامت بن گیا۔