دنیا کے چند پر ُ کشش و دلفریب قلعے!
اسپیشل فیچر
ایک زمانہ تھا جب شہروں کے گرد فصیل بنائی جاتی تھیں تاکہ انہیں حملہ آوروں سے محفوظ بنایا جا سکے، لیکن جدید اسلحہ سازی کے بعد اس کی ضرورت ختم ہوگئی۔ اب قدیم قلعے محض آثارِ قدیمہ بن کر رہ گئے ہیں۔ وطن ِعزیز میں ہی قلعہ روہتاس، قلعہ لاہور، قلعہ رنی کوٹ اور قلعہ بلتت جیسے خوبصورت اور یادگار قلعے موجود ہیں۔ آئیے آپ کو دنیا کے چند خوبصورت اور تاریخی قلعوں کے بارے میں بتاتے ہیں: الحمرا، اسپینالحمرا جیسا کوئی نہیں۔ اسپین پر مسلمانوں کے 700 سالہ اقتدار کی عظمت کا نشان یہ قلعہ و محل غرناطہ میں واقع ہے۔ اس کی تعمیر 889ء میں شروع ہوئی اور 13 ویں صدی کے وسط میں ایک مرتبہ پھر اسے بنایا گیا۔ 1333ء میں اسے شاہی محل کا درجہ دے دیا گیا۔ یہاں تک کہ 1492ء میں سقوط غرناطہ کے بعد بھی اسے نئی عیسائی سلطنت میں شاہ فرڈیننڈا اور ملکہ ایزابیلا کے شاہی محل کا درجہ حاصل رہا۔ آج یہ مقام عالمی ثقافتی ورثہ ہے اور اسپین میں سیاحوں کے لیے مقبول ترین جگہوں میں سے ایک ہے۔ لال قلعہ، بھارتدو صدیوں تک مغل سلطنت کی عظمت کا نشان رہنے والا لال قلعہ آج بھی اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ کھڑا ہے۔ بادشاہوں اور اہم شخصیات کی رہائش گاہ ہونے کے ساتھ یہ مغل حکومت کا مرکز بھی تھا۔ 1648ء میں اسے پانچویں مغل بادشاہ شاہجہاں نے تعمیرکروایا۔1857ء میں جنگِ آزادی کے ساتھ ہی مغل اقتدار کا سورج بھی غروب ہوا اور لال قلعہ بھی قابض انگریزوں کے ہاتھوں میں چلا گیا۔ آج یہ دہلی شہر کے اہم ترین سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے اور اسے اقوام متحدہ کی جانب سے عالمی ثقافتی ورثہ بھی قرار دیا گیاہے۔ ارگِ بم، ایرانایران کے صوبہ کرمان کا کھجوروں کے لیے مشہور شہر بم کچی اینٹوں سے بنے دنیا کے سب سے بڑے قلعے کا بھی مسکن ہے۔ اس کی تاریخ چار صدی قبل مسیح تک سے جا ملتی ہے، لیکن ساتویں سے گیارہویں صدی کا اسلامی عہد اس کا عروج کا زمانہ تھا ،جب بم اہم تجارتی رہگزر کے درمیان تھا اور ریشمی و سوتی ملبوسات کی وجہ سے مشہور تھا۔ دسمبر 2003ء میں ایک زلزلے کی وجہ سے نہ صرف بم شہر بلکہ قلعے کا بیشتر حصہ بھی مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ یہ بھی عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ ہے۔قلعہ قاہرہ، مصرقلعہ قاہرہ یا قلعہ صلاح الدین مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے وسط میں واقع ہے۔ اپنی تازہ ہواؤں اور شاندار نظاروں کی وجہ سے مقبول یہ قلعہ اب ایک تاریخی مقام ہے، جہاں کی مساجد و عجائب گھر دنیا بھر میں مقبول ہیں۔ اس قلعے کی تعمیر کا حکم 1176ء میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے دیا تھا تاکہ قاہرہ کو صلیبی حملہ آوروں سے بچا سکیں۔ یہ ایک تعمیراتی شاہکار تھا۔ قلعے کے اندر پانی کی فراہمی کے لیے 80 میٹر یعنی 280 فٹ گہرا کنواں کھودا گیا تھا جسے ’چاہ یوسف‘ کہتے ہیں اور یہ آج بھی موجود ہے۔ یہاں الناصر محمد قلاوون مسجد کے علاوہ چار شاندار عجائب گھر بھی واقع ہیں۔ کریملن، روسماسکو کریملن، جسے کریملن بھی کہتے ہیں، روس کے دارالحکومت ماسکو کے قلب میں واقع ایک قلعہ بند کمپلیکس ہے۔ اس کے اندر پانچ محلات اور چار گرجے بھی ہیں۔ یہ روس کے صدر کی سرکاری رہائش گاہ بھی ہے، یعنی اسے آپ روس کا وائٹ ہاؤس کہہ سکتے ہیں۔ اس کی تعمیر کا آغاز 1482ء میں ہوا اور یہ 13 سال میں مکمل ہوا اور یہ روس کے زاروں کی قیام گاہ بنا۔ قلعہ لاہور قلعہ لاہور یا شاہی قلعہ پاکستان کے شہر لاہور میں کے قدیم حصے میں واقع ہے۔ اسے مغل بادشاہ جلال الدین اکبر نے 1556ء میں بنوایا تھا اور بعد کے حکمرانوں نے اس میں بہت قیمتی اور خوبصورت اضافے بھی کیے، یہاں تک کہ مغل سلطنت کا خاتمہ ہوگیا اور لاہور سکھوں اور پھر انگریزوں کے ہاتھوں میں چلا گیا۔ اس کے دو دروازے ہیں، ایک اورنگزیب عالمگیر کے نام پر ’عالمگیری دروازہ‘ کہلاتا ہے، جو بادشاہی مسجد کی جانب کھلتا ہے جبکہ دوسرا دروازہ مسیتی دروازہ کہلاتا ہے، جو قدیم شہر کے اندر کھلتا تھا۔ آج کل عالمگیری دروازہ مرکزی داخلے کے لیے استعمال ہوتا ہے جبکہ مسیتی دروازہ مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے۔ اس قلعے کے اندر مغل طرز تعمیر کے کئی شاہکار موجود ہیں، جیسا کہ شیش محل، نولکھا اور موتی مسجد۔ 1981ء میں اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو نے اسے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دئیے گئے، مقامات میں شامل کیا۔ ایڈنبرا کاسل، اسکاٹ لینڈاسکاٹ لینڈ کے شہر ایڈنبرا کی اہم ترین عمارت یہ تاریخی قلعہ بھی ہے۔ موجودہ حالت میں قلعے کی تعمیر 12 ویں صدی میں ڈیوڈ اول کے دور میں شروع ہوئی۔ پندرہویں صدی سے اس کی اہمیت میں کمی ہونا شروع ہوگئی اور 17 ویں صدی سے یہ محض فوجی چھاؤنی کے طور پر استعمال ہوتا رہا۔اسکاٹ لینڈ کی انگلینڈ سے آزادی حاصل کرنے کی کوششوں میں اس قلعے کو نمایاں مقام حاصل رہا ہے۔ تاریخ میں اس کا کل 26 مرتبہ محاصرہ کیا گیا، یعنی کہ ان قلعوں میں شامل ہے، جن پر سب سے زیادہ حملے کیے گئے۔ آج یہ اسکاٹ لینڈ میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والے مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ مونٹ سینٹ مائیکل، فرانسیعنی سینٹ مائیکل کا ٹیلہ، فرانس کے نارمنڈی ساحل کے ساتھ واقعے ایک جگہ ہے ،جہاں آٹھویں صدی سے ایک خانقاہ بھی واقع ہے اور قلعہ بھی۔ یہ قریبی ساحل سے 600 میٹر کے فاصلے پر ایک ننھے جزیرے پر واقع ہے اور ماضی میں جب زائرین اس خانقاہ تک جانا چاہتے تھے تو انہیں سمندر اترنے کے دنوں کا انتظار کرنا پڑتا تھا۔ برطانیہ کے خلاف سو سالہ جنگ کے پورے دور میں یہ قلعہ کبھی فتح نہیں ہو سکتا۔ لوئس یازدہم کے دور میں یہ قلعہ ایک جیل میں تبدیل کردیا گیا۔ یہ عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ ہے اور سالانہ 30 لاکھ سے زیادہ سیاح اسے دیکھنے آتے ہیں۔ شلوس نوشوانسٹین، جرمنینویں صدی سے قائم یہ خوبصورت قلعہ کسی ڈزنی فلم کا لگتا ہے۔ اسے باویریا کے بادشاہ لڈووگ ثانی نے شکست کے بعد اپنے لیے بنوایا تھا تاکہ یہاں محفوظ رہ سکیں اور ان کی موت کے فوراً بعد اسے عوام کے لیے کھول دیا گیا تھا۔ قلعہ روہتاس، پاکستانپاکستان کے شہر جہلم کے قریب واقع ایک تاریخی قلعہ جسے شیر شاہ سوری نے تعمیر کیا تھا۔ 16 ویں صدی میں بنایا گیا یہ شاندار فوجی قلعہ 4 کلومیٹر پر محیط ہے۔ اس کی تعمیر میں 4 سال کا عرصہ لگا۔ یہاں تک کہ 1555ء میں یہ مغل بادشاہ ہمایوں کے ہاتھ لگ گیا، جس نے شیر شاہ سوری کے بیٹوں سے اپنی سلطنت واپس چھین لی۔ اس قلعے کے کل 12 دروازے ہیں۔ قلعہ روہتاس کو برصغیر میں ابتدائی مسلم فوجی تعمیرات کی عظیم مثال سمجھا جاتا ہے۔ 1997 میں اسے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کیا گیا۔(اُردو ٹرائب سے ماخوذ)٭…٭…٭