قدیم تہذیبیں
اسپیشل فیچر
دنیا میں چار قدیم ترین تہذیبیں دریافت کی گئی ہیں۔ یہ مصر، میسو پوٹیمیا، چین اور انڈس ویلی کی تہذیبیں ہیں۔ ان میں سے انڈس کی تہذیب طویل ترین رقبے پر مشتمل تھی۔ میسو پوٹیمیا کی تہذیب موجود عراق اور شام میں دجلہ و فرات کے درمیان واقع تھی۔ انڈس کی تہذیب 1800 سے 2800 قبل مسیح کے عرصے پر محیط ہے۔ یہ دریائے سندھ اور سرسوتی کے کنارے آباد تھی۔ اس کا جو شہر سب سے پہلے دریافت ہوا تھا اس کا نام ہڑپہ تھا، اب تک اس تہذیب کے 1052 شہر دریافت ہوئے ہیں۔ دریائے سندھ کے ساتھ ایک ایسے طویل دریا کے آثار ملے ہیں جو بہت پہلے خشک ہوچکا ہے۔ یہ غالباً سرسوتی تھا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ مہرگڑھ کی تہذیب نے انڈس ویلی کی تہذیب کو ترقی کی بنیاد فراہم کی تھی۔ آیئے یہاں آپ کو کچھ تہذیبوں کے بارے میں بتاتے ہیں جو بد سے بدتر ہو کر متروک ہوئیں۔دی سوویت یونینکمیونزم لاکھوں افراد کی موت کا ذمہ دار ہے، کیونکہ سوویت یونین تہذیب نے جرمنی نازیوں سے بھی زیادہ قتل و غارت کا بازار گرم کئے رکھا تھا۔ جوزف سٹالن‘ مائوزی ڈانگ‘ پول پاٹ اور نسکولائی اس بڑی قتل غارت کے ذمہ دار ہیں اکیلے سٹالن نے ساٹھ ملین سے زائد لوگوں کو اپنی بربریت کا نشانہ بنایا۔سوویت یونین میں لینن اور جوزف اسٹالن بھی دیوتائوں کی طرح پوجے گئے۔ لینن اور اسٹالن کا انقلاب ڈیڑھ دو کروڑ لوگوں کو ہضم کرگیا۔ لیکن سوویت یونین کے شہریوں کی نظر میں یہ انقلاب کی ’’معمولی قیمت‘‘ تھی۔ لینن اور اسٹالن نے سوویت یونین کے طول و عرض میں مذاہب کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور پرانے تہذیبی و معاشرتی ڈھانچے کے پرخچے اڑا دیے۔ لیکن سوویت یونین کے لوگوں کا خیال تھا کہ ترقی پسندی کا تقاضا یہی ہے۔ کمیونسٹ نظام نے ’’سائبیریا‘‘ ایجاد کیا جہاں لاکھوں لوگوں کو اذیت ناک زندگی بسر کرنے پر مجبور کیا گیا، مگر کمیونسٹ معاشرے نے کہا کہ انقلاب کا تحفظ اسی طرح ہوتا ہے۔ لیکن آج روس کے لوگ لینن ازم اور اسٹالن ازم پر شرمندہ ہیں۔ اب روس کے طول و عرض میں کہیں لینن اور اسٹالن کے مجسمے موجود نہیں۔ ان کا ذکر نصابی کتب سے نکل چکا ہے۔ لوگ لینن اور اسٹالن کے ادوار کو یاد کرکے لرز جاتے ہیں۔ بلاشبہ روس میں کمیونسٹ پارٹی موجود ہے، مگر لوگوں کی اکثریت خود کو اپنے ماضی سے الگ کرچکی ہے۔دی بسولیہبسولیہ وہ گروہ ہیں جنہوں نے برطانیہ سے لے کر Gallatia تک کے علاقوں کو اپنے تسلط میں لیا‘ انہوں نے دوسری اقوام سے غیر تحریری معاہدے کئے اور فتوحات کے راستے میں ہر رکاوٹ کو دور کیا۔ وہ دشمنوں کے سروں کے پیاسے رہتے تھے اور ان کے کٹے ہوئے سروں کو اپنے گھروں کے دروازوں پر لٹکا کر اپنی عزت بڑھاتے تھے۔ میدان جنگ سے دشمنوں کے سروں کو کاٹ کر اپنے گھوڑے کی گردن میں ڈال کر فاتح کی حیثیت سے لوٹتے اور جشن مناتے یہ کٹے ہوئے سر اس قدر اہم ہوتے تھے کہ وہ ان کے ہم وزن سونے کے بدلے بھی انہیں لوٹانے سے گریزاں ہوتے تھے۔دی ازٹیک سینٹرل میکسیکو کی یہ قوم 14 ویں سے 16 ویں صدی تک طاقت میں رہی۔یہ لوگ قدرت سے طاقت مانگتے اور اس طاقت کے ملنے سے قبل وہ انسانی جانوں کی قربانیاں دیوتائوں کے قدموں میںڈالتے۔ ان کا خیال تھا کہ ہر 52 برس بعد انہیں انسانی قربانیاں دیناضروری ہیں۔ سورج دیوتا کی بھینٹ ہر برس بیس ہزار سے زائد لوگوں کی جانیں چڑھا دیتے تھے۔ قربان کئے جانے والے انسانوں کے دل نکال لئے جاتے اور ان کے اجسام کو خوشی سے کھایا جاتا تھا یا پھر لاشوں کو کھائیوں میں پھینک دیا جاتا۔ظلم کی انتہاتھی کہ بارش کے دیوتا کو خوش کرنے کے لیے شیرخوار بچوں کو بے رحمی سے قتل کیا جاتا وہ کہتے تھے کہ یہ بچے جتنے آنسو بہائیں گے اتنی ہی بارش زور سے برسے گی۔ آگ کے دیوتا کو نئے نویلے شادی شدہ جوڑے کی قربانی دی جاتی۔ ایک دیوتا کے سامنے کوئی کنواری چوبیس گھنٹے ناچتی پھر اسے مار کر اس کی کھال اتاری جاتی جو آنے والی ڈانسر کو پہنائی جاتی تاکہ دیوتا کی خوشنودی حاصل ہو۔ 80 ہزار سے زائد غلاموں کو دیوتا کی نذر کر دیا گیا‘یہ ایسی ظالم قوم تھی کہ شکار کے اعضاء تقسیم کرنے پرآپس میں الجھ پڑتے تھے۔