قبولہ
اسپیشل فیچر
ضلع پاکپتن اور تحصیل عارفوالہ کا ایک تاریخی قصبہ۔ بہاولنگر ساہیوال روڈ پر عارف والا سے ۲۲ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ دریائے ستلج یہاں سے ۲۵ کلومیٹر کے فاصلے پر بہتا ہے۔ تاریخی اعتبار سے قبولہ کا قصبہ انتہائی قدیم قصبہ ہے۔ ایک روایت کے مطابق آج سے پچیس ہزار سال قبل جب آریہ برصغیر میں داخل ہوئے، تو انہوں نے ’’پرت سندھ‘‘ کو اپنا مسکن بنایا یعنی سات دریائوں کی سرزمین جن میں دریائے ستلج، راوی، چناب، جہلم اور دریائے کابل بہتے تھے۔ اس وقت پرت سنگھ کی مشہور بستیاں اجودھن، دیپالپور اور قبولہ تھیں۔ رگ و ید آف انڈیا کے مطابق اجودھن ، دیپالپور اور قبولہ کی تہذیبیں پچیس ہزار سال پرانی ہیں، مگر صرف پانچ ہزار سال کے تاریخی حقائق کسی حد تک معلوم ہوسکے ہیں۔ اس کا قدیم نام گڑھی کیکری بھی تھا۔قبولہ کا قصبہ غیاث الدین تغلق نے اس وقت آباد کیا جب وہ بابا فرید گنج شکر کے مزار پر حاضری دینے کے لئے آیا تھا۔ غازی ملک غیاث الدین تغلق صوبہ دیپالپور کا حاکم رہ چکا تھا اور اس نے اپنے بچپن کے کچھ سال گڑھی کیکری (قبولہ) کے علاقے میں گزارے تھے۔ اسی جذباتی وابستگی کی بنا پر اس نے اپنے معتمد قبول خاں کو یہاں پختہ قلعہ تعمیر کرنے پر تعینات کیاچنانچہ قبول خاں نے بادشاہ کے حکم کے مطابق یہاں پختہ قلعہ اور شہر تعمیر کروایا اور اس کا نام اپنے نام پر قبولہ رکھا۔ بعدازاں یہ قلعہ اور شہر امیر تیمور کے قبضے میں آگیا۔ شیر شاہ سوری کے زمانے میں فتح خاں جٹ قبولہ کے علاقے کا سردار تھا۔ اس نے بغاوت کی تو شیر شاہ سوری نے اس کی سرکوبی کے لئے اپنے جرنیل اور حاکم پنجاب ہیبت خاں نیازی کو بھیجا تھا، پھر مغل اور سکھ اس پر قابض رہے اور آخر پر انگریزوں نے اس پر دسترس حاصل کی۔ جب تک دیپالپور کو ایک صوبہ کی حیثیت حاصل رہی قبولہ اسی صوبے کاحصہ رہا۔ ۱۸۰۷ء میں راجہ رنجیت سنگھ کے قبضے میں آیا۔ اس نے یہاں ایک تھانہ قائم کیا تھا۔ انگریزوں کے دور میں پہلی جنگ عظیم سے قبل قبولہ ایک ریلوے اسٹیشن تھا۔ جنگ عظیم کے دوران ریلوے لائن اُکھاڑ دی گئی۔ قصبہ قبولہ کا ذکر پنجاب کی مشہور لوک داستان ہیر رانجھا میں بھی آتا ہے۔ سفر نامہ نگار محمد دائود طاہر نے اپنی کتاب ’’ایک جہاں اور‘‘ میں لکھا ہے کہ جب رانجھا ہیر کو کھیڑوں کے چنگل سے آزاد کرا کے فرار ہوا تو طویل سفر کے بعد وہ دونوں ریاست قبولہ کی حدود میں ایک جگہ آرام کے لیے بیٹھ گئے۔ سفر کی تھکن نے ان کا بُرا حال کررکھا تھا چنانچہ ہیر ایک درخت کے سائے تلے بیٹھ کر اونگھنے لگی اور رانجھا اس کی ران پر سر رکھ کر سو گیا۔ اسی اثناء میں کھیڑوں کے ایک غضبناک لشکر نے جو ان کا تعاقب کر رہا تھا انہیں آلیا۔ انہوں نے رانجھے کو مار مار کر اس کا بھرکس نکال دیا اور ہیر کو اس سے چھین لیا۔ ہیر عالم بے بسی میں اپنی دُنیا لٹتی دیکھ رہی تھی چنانچہ اس نے رانجھے سے کہا کہ وہ جلدی سے راجے کے پاس جا کر سارا معاملہ بیان کرے، ہوسکتا ہے ان کی داد رسی کی کوئی صورت نکل ہی آئے۔ فوری طور پر دربار میں پہنچنا مشکل تھا چنانچہ رانجھے نے وہیں بیٹھے بیٹھے بہ آواز بلند گریہ و زاری شروع کر دی۔ کسی طرح یہ بات وہاں کے راجہ عدلی تک جا پہنچی۔ راجے نے فوری طور پر اپنے سوار بھیج کر واپس جاتے ہوئے کھیڑوں کا راستہ روک کر اپنے دربارمیںحاضر کرلیا۔ راجے نے اپنے دربار میں قاضی کو بُلا کر دونوں فریقین کا مقدمہ سُنا اور فیصلہ دیا کہ شرعاً رانجھے کا ہیر پر کوئی حق نہیں لہٰذا اسے کھیڑوں کے حوالے کر دیا جائے۔ کھیڑے ہیر کو ساتھ لے جانے لگے تو رانجھا مرغ نیم بسمل کی طرح تڑپنے لگا۔ جب ان دونوں کی ایک نہ سُنی گئی، تو ہیر اور رانجھا دونوں نے دعا کی کہ اے اللہ یا تو کوئی ایسی سبیل پیدا کر دے کہ ہم پھر سے اکٹھے ہوجائیں یاپھر ہم دونوں کو ابھی ملیا میٹ کر دے اور اس شہر پر ایسا عذاب نازل کردے جو اسے جلا کر خاکستر کر دے۔ نہ جانے یہ قبولیت ِ دُعا کی کون سی گھڑی تھی کہ آناً فاناً شہر میں آگ کے شعلے بھڑک آئے، جس نے کل آباد ی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔راجہ عدلی کو اس بات کی خبر ہوئی ،تو وہ سمجھ گیا کہ یہ ہیر رانجھا کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا شاخسانہ ہے۔ اس نے فوراً اپنے آدمی کھیڑوں کے پیچھے دوڑائے جو انہیں پابند سلاسل کر کے دربار میں لے آئے۔ راجے نے ہیر کو کھیڑوں سے چھین کر رانجھے کے حوالے کر دیا اور اس سے دُعا کا طلبگار ہوا۔(کتاب ’’نگر نگر پنجاب:شہروں اور قصبات کا جغرافیائی، تاریخی، ثقافتی اور ادبی انسائیکلوپیڈیا‘‘ سے مقتبس)٭…٭…٭