کپڑوں کے داغ دھبے دور کرنا
اسپیشل فیچر
جب بھی کپڑوں پر کوئی ایسی چیز رکھی جائے یا لگ جائے جسے کپڑا اپنے اندر جذب کرلے اور اس جگہ سے کپڑے کا رنگ تبدیل ہوجائے یا اس چیز کا رنگ کپڑے کے اس حصے پر آ جائے یا پھر کپڑے کے اصلی رنگ میں تبدیلی پید ا ہوجائے تو اس نشان کو دھبہ یا داغ کہا جاتا ہے۔ بعض دھبے محض پانی اور صابن سے دھو دینے سے صاف ہو جاتے ہیں۔ جبکہ بعض دھبوں کے لیے خاص قسم کی ادویات اور طریقوں کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ تمام قسم کے دھبے ایک ہی سلوک کے طالب نہیں ہوتے بلکہ اس لحاظ سے دھبوں کو مختلف اقسام میں تقسیم کیا جاتاہے تاکہ ان کی خاصیت کے اعتبار سے انہیں متقاضی طریقے سے صاف کیا جا سکے۔ یہ مختلف خاصیتوں کے دھبے مختلف اجسام سے پید ا ہوتے ہیں اور انہی پر دھبوں کی اقسام کا انحصار ہوتاہے۔ یہ اقسام مندرجہ ذیل ہیں:حیواناتی دھبے:ان میں خون، انڈے، دودھ، گوشت کے پانی وغیرہ کے دھبے شامل ہیں جو حیوانات کی وجہ سے لگتے ہیں۔ انہیں دور کرنے کے لیے گرمی اور تپش وغیرہ کے استعمال سے احتراز کرنا چاہیے۔ ورنہ حیوانی پروٹین کپڑے پر چپک جائے گی۔نباتاتی دھبے:نباتات سے حاصل ہونے والی اشیا مثلاً چائے، کا فی ، پھل اورسبزیاں وغیرہ سے جو دھبے لگتے ہیں وہ نباتاتی دھبے کہلاتے ہیں۔ انہیں دور کرنے کے لیے اساسی خاصیت کی ادویات وغیرہ استعمال کرنی چاہئیں۔روغنی دھبے:ان میں گھی، بالائی، مکھن، سالن، تیل والا سینٹ، وارنش اور تیل وغیرہ شامل ہیں۔ انہیں دور کرنے کے لیے کسی ایسے محلول کا استعمال کرنا ضروری ہے جو چکنائی کو خود میں حل یا جذب کرے۔ رنگوں کے دھبے:کپڑے رنگنے کے لیے جو رنگ استعمال ہوتے ہیں وہ تیزابی اور سیاہی دونوں خاصیتوں کے ہو سکتے ہیں۔ جس کے لیے پہلے اس رنگ کی خاصیت کے بارے میں جاننا ضروری ہے تاکہ وہ کامیابی سے رفع کیا جا سکے۔معدنیاتی دھبے:دھاتوں سے لگنے والے دھبے معدنیاتی دھبے کہلاتے ہیں۔ مثلاً لوہے کا رنگ اور چند ادویات کے دھبے وغیرہ جو دھاتو ںاور رنگوں کا مجموعہ ہوتی ہیں۔ پسینے اورتپش کے داغ:یہ دونوں اس طرح کے دھبے ہیں کہ مندرجہ بالا کسی قسم میں شامل نہیں کیے جا سکتے کیونکہ پسینہ تیزابی خاصیت رکھنے کے باوجود ظاہر ہے نباتات کے گروہ میں شامل نہیں کیا جا سکتا ۔ جھلسنے کا داغ اس وقت پڑتا ہے جب کسی کپڑے پر ضرورت سے زیادہ تیز استری کا استعمال کیا جائے یا اسے شعلے کے قریب رکھ کر سکھایا جائے تو اس سے کپڑے پر میل نما داغ پڑ جاتاہے جو جھلسنے یا تپش کا داغ کہلاتا ہے۔گھاس:گو گھاس کا دھبہ نباتاتی ہے لیکن اسے دور کرنے کے لیے تمام نباتاتی طریقوں کی نسبت ذرا فرق طریقہ استعمال کیا جاتا ہے۔ داغ دھبے دور کرنے کا طریقہ:مختلف قسم کے کپڑوں پر سے داغ دھبے دور کرنے کے لیے ان کی وضع اور خاصیت کے مطابق ان پر عمل کر کے دھبے دور کرنے چاہئیں تاکہ ریشے کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ڈبوئے رکھنا:اس طریقہ میں یا تو سارے کا سارا کپڑا یا پھر محض داغ والے حصے کو داغ نرم یا جذب کرنے والے محلول میں کچھ دیر ڈبوئے رکھتے ہیں۔ بعد ازاں اسے صابن سے دھویا جا تا ہے اور یہ داغ دور کرنے کا آسان ترین طریقہ ہوتا ہے۔بھاپ دینا:عموماً رنگدار ریشمی اور اونی کپڑوں کے لیے یہ طریقہ استعمال کیا جاتا ہے۔ کسی کھلے منہ والے برتن میں تقریباً آدھے کے قریب کھولتا پانی ڈال کر اس میں دھبے دور کرنے والی دوائی ڈال دی جاتی ہے اور کپڑے کے داغ والے حصہ کو کس کر پھیلا اور باندھ دیا جاتاہے۔ اس طرح گرم پانی سے دوائی سمیت اٹھتی ہوئی بھاپ داغ کو نرم بھی کرتی ہے اور اس حصے کو گیلا کر کے داغ کو ٹپکا بھی دیتی ہے۔ دھبہ نرم ہونے پر اسے جاذب کاغذ پر رکھ کر دبانے سے دھبہ اس میں جذ ب ہو جاتاہے اور پھر اس عمل کو دہرایا جاتاہے حتیٰ کہ داغ بالکل دور ہو جائے۔قطرے یا بوندیں گرنے کا طریقہ:کپڑوں کے داغ والے حصے کو کسی برتن میں پھیلا کر اس پر ڈراپر کے ذریعے قطرہ قطرہ کر کے دھبہ دور کرنے والی کیمیا گرائی جاتی ہے جس سے دھبہ دھل کر نیچے ٹپکتا ہے اور صاف ہو جاتا ہے۔سینچ کرنا:یہ طریقہ بھی گھروں میں بہت کثرت سے استعمال ہوتا ہے اور آسان بھی ہے لیکن اگر احتیاط نہ برتی جائے تو یہ طریقہ کارگر ثابت نہیں ہوتا۔ دھبے والے حصے کے نیچے جاذب کاغذ یا موٹا کپڑا رکھ کر اوپر سے صاف نرم اور سفید کپڑے کی گدی سی بنا کر اسے دھبہ دور کرنے والی دوائی یا کیمیا میں ڈبو ڈبو کر داغ کے اوپر رگڑا جاتا ہے۔ اور اس سے دھبہ گیلا ہونے کے باوجو د مزید نہیں پھیلتا۔ کیونکہ گدی بہت زیادہ گیلی استعمال نہیں کی جاتی اس کے علاوہ نیچے جاذب کاغذ یا کپڑا دھبے کے نرم ہوتے ہی اسے جذب کرتا رہتا ہے جوں ہی نیچے والا کاغذ یا کپڑا داغ پکڑنے لگے جلدی سے دونوں کو تبدیل کر دینا چاہیے۔ دافع دھبہ محلول و کیمیا:مختلف قسم کے دھبے مختلف خاصیتوں کے حامل ہوتے ہیں۔ جس کی بنا پر انہیں رفع کرنے کے لیے ان کی ضرورت کے مطابق اور ریشوں کی خاصیت کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے مختلف کیمیا ادویات درکار ہوتی ہیں جو عام طورپر محلول کی صورت میں ہوتی ہیں۔اونی اور ریشمی کپڑوں کے لیے الکلی کا استعمال نقصان دہ ہے مگر الکلی کاٹن اور لیس وغیرہ پر تیز ترین شکل میں بھی استعمال ہو سکتی ہے۔ اسی طرح کاٹن اور لیس پر تیزاب کا اثر بالکل برعکس ہوتاہے۔ اور ہلکی قسم کا تیزاب بھی ان ریشوں کو نقصان پہنچاتاہے۔ جبکہ اون اور ریشم پر تیزابی خاصیت کے دافع دھبہ کیمیا استعمال کی جاتی ہیں۔ چکنائی کے لیے:تمام کپڑوں سے چکنے دھبوں کو محض کاربن ٹیٹرا کلورائیڈ ایتھر گیسولین اورتارپین وغیرہ میں سے کسی بھی محلول کے استعمال سے رفع کیا جا سکتاہے۔