نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- راناشمیم کوملک سےباہرجانےکیلئےعدالت سےاجازت چاہیے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- عدالت کی اجازت سےراناشمیم بیرون ملک جاسکتےہیں،فوادچودھری
  • بریکنگ :- راناشمیم کیس میں قانونی کارروائی کی ضرورت پڑی توکریں گے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- گورنرپنجاب کابیان سیاق وسباق سےہٹ کرپیش کیا گیا،فواد چودھری
  • بریکنگ :- چودھری سروربات کررہےتھےکہ آئی ایم ایف کیوں جانا پڑتاہے،فواد چودھری
  • بریکنگ :- چودھری سرورنے کہا آئی ایم ایف جانےپرپابندیاں لگ جاتی ہیں،فواد چودھری
  • بریکنگ :- کابینہ اجلاس میں اشیاکی قیمتوں کاتقابلی جائزہ پیش کیاگیا،فواد چودھری
  • بریکنگ :- دوسرےہفتےسےاشیاکی قیمتوں میں مسلسل کمی آرہی ہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- اسلام آباد:ہرچیزپرسبسڈی نہیں دی جاسکتی ،وفاقی وزیراطلاعات
  • بریکنگ :- راشن پروگرام کےتحت آٹےپر30فیصدسبسڈی جنوری سےشروع ہوگی،فواد چودھری
  • بریکنگ :- 31ہزارسےکم آمدن والےطبقےکوآٹےپرسبسڈی دیں گے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- 2کروڑلوگوں کو2018کی نسبت کم ریٹ پرآٹاملےگا،فوادچودھری
  • بریکنگ :- ہماری نشاندہی کےبعدآٹےکی قیمت مستحکم ہوئی،فوادچودھری
  • بریکنگ :- کراچی،حیدرآبادکےعلاوہ پورےملک میں 20کلوآٹا 1100روپےکاہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- کراچی میں 20 کلوآٹےکاتھیلا1456روپےکاہے ،فوادچودھری
  • بریکنگ :- حیدرآبادمیں 20 کلوآٹا1316روپےکاہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- کوئٹہ میں 20کلوآٹےکاتھیلا 1400روپےکامل رہاہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- کراچی اوراسلام آباد کےسواپورےملک میں چینی 90 روپےکی ہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- کراچی اوراسلام آبادمیں چینی 97روپےمیں مل رہی ہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- آنےوالے دنوں میں چینی کی قیمت 85روپےتک آجائےگی،فوادچودھری
  • بریکنگ :- راناشمیم کامعاملہ عدالت میں ہے،فوادچودھری
Coronavirus Updates

شفیق الرحمان کا افسانہ اور مزاح

شفیق الرحمان کا افسانہ اور مزاح

اسپیشل فیچر

تحریر : صائمہ کاظمی


شفیق الرحمان اردو ادب کے ان مزاح نگاروں میں شامل ہیں جنہوں نے آزادی سے قبل لکھنا شروع کیا اور آزادی سے قبل ہی ادبی شہرت سے ہم کنار ہو گئے۔ شفیق الرحمان کے درج ذیل افسانوی مجموعے 1947ء تک شائع ہو چکے تھے:کرنیں، شگوفے، لہریں، پرواز، مدوجزر، حماقتیں۔1947ء کے بعد ایک افسانوی مجموعہ ’’مزید حماقتیں‘‘ (1954ء) منظر عام پر آیا۔ شفیق الرحمان نے افسانہ لکھنے کی ابتدا نیم رومانی انداز میں کی تھی۔ ابتدائی دور کے عشقیہ افسانوں سے اندازہ ہی نہیں ہوتا ہے کہ وہ مزاح نگاری میں اپنا نام پیدا کر سکتے تھے۔ ان کے پہلا افسانوی مجموعہ’’کرنیں‘‘ نیم رومانوی، عشقیہ اور نیم مزاحیہ افسانوں پر مشتمل تھا۔ شگوفے میں مزاح کا تناسب نسبتاً زیادہ ہے جب کہ ’’لہریں‘‘ اور ’’پرواز‘‘ کے بیشتر افسانے خالص مزاح کے زمرے میں آتے ہیں۔ ڈاکٹر فردوس انور قاضی کی رائے میں:’’شفیق الرحمان کے افسانے مزاحیہ رجحانات کے بجائے رومانی رجحان کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس رومانیت میں وہ مایوسی، انتشار، ہجر اور تنہائی کی بجائے شگفتگی، قہقہے، خوشیاں اور رفاقت کا احساس پیدا رکرتے ہیں۔‘‘ڈاکٹر فردوس انور قاضی کی یہ رائے شفیق الرحمان کے ابتدائی دور کی تحریروں پر تو صادق آتی ہے لیکن مجموعی حیثیت سے شفیق الرحمان کے افسانوں میں مزاح کے رجحانات واضح طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ شفیق الرحمان کے افسانوں میں طنز کی بجائے ظرافت کے عناصر غالب ہیں وہ اپنی تحریروں میں مسکراہٹ ہی کے نہیں قہقہوں کے قائل نظر آتے ہیں۔ حجاب امتیاز علی رقم طراز ہیں:’’وہ (شفیق الرحمان) اپنی روانی میں بلاتکلف ننھی ننھی پُھل جھڑیاں چھوڑے چلے جاتے ہیں وہ ان کم یاب لوگوں میں سے ہیں جن کی خوشی طبعی اپنے اوپر بلاتکلف ہنس سکتی ہے۔‘‘

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement
سول ایوی ایشن کا عالمی دن۔۔۔اورجنید جمشید کی جدائی کاغم

سول ایوی ایشن کا عالمی دن۔۔۔اورجنید جمشید کی جدائی کاغم

آج7دسمبر ہے، اس روز پاکستان سمیت دنیا بھر میں''انٹرنیشنل سول ایوی ایشن ڈے‘‘( شہری ہوا بازی کا عالمی دن) منایا جا تا ہے۔اس دن کو منانے کا مقصد مسافروں کو محفوظ ترین سفری سہولیات فراہم کرنا، ہوا بازی کے اہم شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنا،انٹرنیشنل سول ایوی ایشن کی اہمیت کے متعلق شعور بیدار کرنا اور بین الاقوامی فضائی ٹرانسپورٹ کیلئے انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کے کردار کو اجاگر کرنا ہے۔''سول ایوی ایشن ‘‘رن وے پرجہاز کے ٹیک آف سے لینڈنگ تک کلیدی کردار کا حامل ہے۔ ہزاروں فٹ کی بلندی پراڑنے والے جہاز پر ریڈار اور دیگر جدید آلات کی مدد سے نگاہ رکھتا ہے۔اسی تناظر میں انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن 1944ء میں قائم ہوئی،جس نے اپنے قیام کے 52 سال بعد اقوام متحد ہ کی جنرل اسمبلی کی منظوری سے انٹرنیشنل ایوی ایشن ڈے منانے کا آغاز کیا۔7دسمبر کو جب دنیا میں سول ایوی ایشن کا دن منایا جا رہا ہوتا ہے وہیں پاکستان میں بہت سے خاندانوں کے زخم ہرے ہو جاتے ہیں،جن کے پیارے 2016ء میںآج ہی کے دن ہونے والے ایک فضائی حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ پی آئی کی چترال سے اسلام آباد جانے والی پرواز حویلیاں کے قریب گر کر تباہ ہوگئی تھی جس میں تمام عملہ اور مسافر ہلاک ہوگئے تھے۔ حادثے کا شکار ہونے والے پی آئی اے کے اس طیارے میں پاکستان کے معروف نعت خواں اور ماضی کے مقبول گلوکار جنید جمشید بھی سوار تھے۔ جنید جمشید اپنی اہلیہ کے ہمراہ چترال میں تبلیغی دورے کے بعد اسلام آباد جا رہے تھے۔جنید جمشید ایک ہمہ جہت شخصیت تھے، وہ معروف سماجی شخصیت، سابق گلوکار، نعت خواں ،مبلغ ، ٹی وی ہوسٹ کے ساتھ ایک کامیاب بزنس مین بھی تھے۔وہ 3 ستمبر 1969ء کو کراچی میں پیدا ہوئے،ان کے خاندان کا تعلق پاکستان ائیر فورس سے رہا ہے جس کی بناء پر اہلِ خانہ کی کوشش تھی کہ جنید جمشید بھی فوجی بنیں۔وہ فوجی تو نہ بن سکے مگر لاہور کی یو ای ٹی سے مکینیکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد کچھ عرصہ پاک فضائیہ میں سول کنٹریکٹر کی حیثیت سے کام ضرور کیا ۔ موسیقی کوکرئیر بنانے کیلئے انہوں نے ملازمت سے استعفیٰ دے دیااور ملی نغمہ''دل دل پاکستان‘‘گا کر عالمی شہرت حاصل کی۔ ان کے گروپ ''وائٹل سائنز‘‘ کو بھی اسی ملی نغمے سے پہچان ملی۔2002ء میں اپنی چوتھی اور آخری پاپ البم کے بعد اسلامی تعلیمات کی جانب ان کا رجحان بڑھنے لگا اور ماضی کے پاپ اسٹار ایک نعت خواں کے طور پر ابھرتے نظر آئے۔ 2004ء میں جنید جمشید نے گلوکاری چھوڑنے اور اپنی زندگی تبلیغی کاموں کے لیے وقف کرنے کا اعلان کیا۔انہوں نے نعت خوانی شروع کی تو اس میں بھی نام کمایا۔ چترال میں جہاں وہ تبلیغ دین کے لئے گئے تھے ان کا قیام ایک مسجد میں تھا ان کے ایک دوست کے مطابق جنید جمشید نے وہاں شرکاء کو قصیدہ بردہ شریف خوش الحانی کے ساتھ سنایا۔ وہ اکثر ٹی وی چینلوں پر نعت، حمد اور مناجات پیش کرتے تھے۔ان کی مقبول نعتوں میں ''میرا دل بدل دے‘‘،''محمد کا روضہ قریب آ رہا ہے‘‘،''دنیا کے اے مسافر منزل تیری قبر ہے‘‘ نمایاں ہیں۔بطور نعت خواں، مبلغ کامیابیاں سمیٹنے والے جنید جمشید نے اپنا کلاتھنگ برانڈ متعارف کرا کربزنس کے میدان میں قدم رکھا تو یہاں بھی کامیابیوں نے ان کے قدم چومے۔وہ ماہ رمضان کی خصوصی نشریات اور پروگراموں میں بطور میزبان کے طور بھی نمایاں رہے۔ وہ فلاحی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتے رہے، کراچی میں کچرا اٹھانے کی مہم کی بھی قیادت کی۔2007ء میں جنید جمشید کو ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومت کی طرف سے ''تمغہ امتیاز‘‘ سے نوازا گیا۔داڑھی رکھ کر اسلام کی تبلیغ شروع کرنے کے باعث عوام نے انہیں مبلغِ اسلام کہنا اور سمجھنا بھی شروع کردیا تھا۔ مبلغِ اسلام جنید جمشید 7 دسمبر 2016ء کو پی آئی اے کی فلائٹ نمبر 661 کے ایک حادثے میں وفات پا گئے۔ آج معروف گلوکار اور مبلغِ اسلام کی برسی کے موقع پر لوگ جنید جمشید کے ساتھ ساتھ اس افسوسناک حادثے کو بھی ضرور یاد کریں گے۔ایک گلوکار سے ایک مبلغ تک کا سفر طے کرنے والے جنید جمشید کو پاکستان میں وہ شہرت نصیب ہوئی جو دنیا میں بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جس کی وجہ ان کی ذاتی محنت و صلاحیت کے ساتھ ساتھ اسلام کیلئے محبت بھی تھی۔میں نے اپنی زندگی میں دو شخصیات کے سوا ایسا کوئی ایک بندہ نہیں دیکھا، جنہوں نے اپنا شعبہ چھوڑ کر کوئی دوسرا شعبہ اختیار کیا ہو اور لوگوں نے پھر بھی انہیں سر آنکھوں پر بٹھایا ہو۔ ان میں سے ایک جنید جمشید ہیں اور دوسرے عمران خان ہیں۔ پاکستان کی تاریخ نکال کر دیکھ لیں جس گلوکار یا اداکار نے اپنا شعبہ چھوڑ کر کچھ اور کرنا چاہا، وہ رات کی سیاہی میں کھو گیا۔ بات اگر صرف جنید جمشید کی ہی کی جائے تو ایسی بھی کوئی مثال نہیں ملتی، جس شخصیت کی وفات پر شوبز کی دنیا پر بھی سکتہ چھاگیا تھا اور مذہبی حلقے سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی کے لوگ بھی آنسو بہا رہے تھے۔ارشد لئیق سینئر صحافی ہیں، ملک کے موقر جریدوں میں ان کے سیکڑوں مضامین شائع ہو چکے ہیں

تھیلیسیمیا کے مریض کیا کھائیں؟

تھیلیسیمیا کے مریض کیا کھائیں؟

تھیلیسیمیاایک موروثی بیماری ہے، جو اکثر ان بچوں میں سامنے آتی ہے، جن کے والدین میں تھیلیسیمیاکوریئر جینزہوتے ہیں۔ یہ مرض زیادہ تر خاندان میں شادی کرنے والے افراد میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ تھیلیسیمیاخون کی بیماری ہے اس میں مریض کا خون نہیں بنتا ہے اور اس کو ساری زندگی خون لگوانا پڑتا ہے۔ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں تقریباً ہر سال 5لاکھ سے زائد تھیلیسیمیاکے مریض سامنے آتے ہیں۔تھیلیسیمیاکے مریض کیلئے غذا نہایت اہمیت کی حامل ہے لیکن مریضوں کے لواحقین کی اکثریت کو اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ مریض کا کیا کھلایا جائے۔تھیلیسیمیاکے مریض کا پرہیزفولاد والی غذائیں:مریضوں کو فولاد والی غذائوں سے پرہیز کرنا چاہئے ،انہیں کلیجی ، چھوٹا گوشت اور بڑا گوشت نہیں دینا چاہئے۔ان میں فولاد کی کثیر مقدار پائی جاتی ہے جو تھیلیسیمیاکے مریضوں کیلئے نقصان دہ ہے۔ کیونکہ ان مریضوں کے جسم میں فولاد کثیر تعداد میں موجود ہوتا ہے اور جس کی وجہ سے ان کو Chelation Therapyکروانی پڑتی ہے جس کے ذریعہ سے ان کے جسم سے فولاد کو کم کیا جاتا ہے۔مکس دالیں:اگر دو یا تین دالوں کو مکس کرکے پکایا جائے تو تقریباً یہ ہمیں اتنا ہی فولاد فراہم کرتی ہیں جتنا گوشت سے حاصل ہوتا ہے اس لئے مکس دالوں کے بجائے علیحدہ پکی ہوئی دال بنا کر تھیلیسیمیاکے مریض کو دی جا سکتی ہے۔سبز پتوں والی سبزیاں:سبز پتوں والی سبزیاں پالک، ساگ، میتھی، مولی کے پتے وغیرہ ان میں بھی فولاد کی کثیر مقدار پائی جاتی ہے۔ لہٰذا ان سبزیوں سے مکمل پرہیز کرنا چاہیے۔کھجور اور انجیر:کھجور اور انجیر بھی تھیلیسیمیاکے مریضوں کے لئے نقصان دہ ہے کیونکہ اس میں بھی فولاد کی کثیر مقدار پائی جاتی ہے۔تھیلیسیمیاکے مریض کی غذاتھیلیسیمیاکے مریض مندرجہ ذیل غذائوں کو اپنی خوراک میں شامل کریں۔ دودھ اور دہی یا ان سے بننے والی اشیاء کا روزانہ استعمال کریں۔ تھیلیسیمیاکے مریضوں میں خون نہ بننے کی وجہ سے ہڈیوں میں درد اور قد کا عمر کے حساب سے نہ بڑھنا بہت عام مسئلہ ہے۔ اگر کیلیشم والی غذائوں کا استعمال کیا جائے تو اس عنصر کو کم کیا جا سکتا ہے۔پھل ہر قسم کے استعمال کئے جا سکتے ہیں مگر اس چیز کا خیال رکھا جائے اگر اس دن مریض نے گوشت، دال، سبز پتوں والی سبزی استعمال کی ہے تو پھر اس میں ترش پھل نہ دیئے جائیں کیونکہ یہ فولاد کو جسم میں جذب کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں اور یہ تھیلیسیمیاکے مریض کیلئے نقصان دہ ہے۔چائے کا استعمال: گوشت، دالیں، سبز پتوں والی سبزیاں اگر کبھی استعمال کریں تو ان کی مقدار بہت کم لیں اور ان کے ساتھ چائے لازمی پئیں۔ اس سے ان میں موجود فولاد جسم میں جذب نہیں ہوتا اور تھیلیسیمیاکے مریض کیلئے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔چکن اور مچھلی:چکن و مچھلی کا استعمال تھوڑی مقدار میں کیا جا سکتا ہے اور ان مریضوں کو چاہئے کہ کلیجی، چھوٹے گوشت، بڑے گوشت کے بجائے مچھلی اور چکن کو استعمال کریں۔چکی کا آٹا: چکی کے آٹا کا استعمال کریں، اس میں مختلف منرلزپائے جاتے ہیں جو صحت کو ٹھیک رکھنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں فائبر بہت اچھی مقدار میں پایا جاتا ہے جو معدہ کو ٹھیک رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔غلط تصور: ہمارے ہاں یہ تصور بہت عام پایا جاتا ہے کہ سیب، کیلا اور بینگن میں فولاد کی کثیر مقدار پائی جاتی ہے کیونکہ یہ کاٹنے پر برائون رنگ میں تبدیل ہونے لگتا ہے۔ یہ خیال بالکل غلط ہے ان میں فولاد کی مقدار نہیں ہوتی بلکہ یہ برائون رنگ انزائمزکے ریکشن کے نتیجے میں ہوتا ہے۔تھیلیسیمیااور جسمانی سرگرمیاں:زیادہ تھکا دینے والی جسمانی سرگرمیوں سے پرہیز کریں اور تھیلیسیمیامیں مبتلا بچوں کو چاہئے کہ وہ زیادہ کھیل کود میں حصہ نہ لیں کیونکہ ان کا ایچ بی لیول بہت کم ہوتا ہے جس کی وجہ سے سانس پھولنا شروع ہو جاتا ہے۔سیدہ افزاح تنویر ماہر غذائیات(نیوٹریشنسٹ) ہیں،وہ تھیلیسیمیاکے مریضوں کے لئے ورکشاپس کابھی انعقاد کرتی رہتی ہیں

حکائیت ِ سعدیؒ،   طاقت اور تجربہ

حکائیت ِ سعدیؒ، طاقت اور تجربہ

ایک مرتبہ میں بلخ سے بامیان کی طرف جا رہا تھا۔ راستہ خطرناک تھا اور میری رہنمائی کیلئے ایک نوجوان میرے ساتھ ہو لیا۔ جو نیزہ بردار ہتھیار پوش ہونے کے ساتھ اتنا طاقتور تھا کہ دس قوی افراد بھی اس کی کمان پر چلہ نہ چڑھا سکتے تھے اور دنیا بھر کے پہلوان کشتی میں اس کو نہ پچھاڑ سکتے تھے۔چونکہ ناز و نعمت میں پلا ہوا تھا، کبھی آگ برساتے سورج کی تپش سے واسطہ پڑا تھا نہ کبھی اندھیری راتوں کا بھیانک چہرہ دیکھا تھا، نہ بہاروں کے نقارے کی آواز کان میں پڑی تھی اور نہ سواروں کی تلواروں کی چمک اس نے دیکھی تھی۔ نہ کبھی دشمن کے ہاتھوں قیدی بنا تھااور نہ ہی اس کے چاروں طرف تیروں کی بارش ہوئی تھی۔ راستے میں ہم آگے پیچھے دوڑ رہے تھے میں نے دیکھا کہ جو بوسیدہ دیوار راہ میں آتی اس کو گرادیتااور بڑے سے بڑے درخت جڑ سے اُکھاڑ پھینکتا اور فخر سے یہ شعر پڑھتا ''ہاتھی کہاں ہے آکر پہلوان کے بازو اور کندھے دیکھے اور شیر کہاں ہے آکر مرد کے ہاتھ اور پنجے دیکھے‘‘۔اسی اثنا میں دو ڈاکو ایک بڑے پتھر کے پیچھے سے نمودار ہوئے اور ہم سے جنگ کرنے کی ٹھان لی۔ ایک کے ہاتھ میں لاٹھی تھی جب کہ دوسرے کے پاس موگری پتھر ۔میں نے پہلوان صاحب سے کہا دیکھتے کیا ہو؟ دشمن سر پر آ گیا ہے اور لڑنے پر آمادہ ہے۔جو بہادری اور طاقت تیرے پاس ہے وہ دکھا کیونکہ دشمن اپنے پائوں سے چل کر گویا شیر کی کچھار میں آ گیا ہے۔میں نے دیکھا کہ پہلوان صاحب کے چھکے چھوٹ گئے۔ ہاتھ سے تیر کمان گر گیا اور جسم لرزہ براندام تھا۔ضروری نہیں کہ تیر کے نشانے سے بال کو چیر دینے والا حملے کے وقت بھی ٹھہر سکے۔میں نے اندازہ لگا لیا کہ پہلوان کے اوسان خطا ہو چکے ہیں، اب عافیت اسی میں ہے کہ جان کی خیر منائی جائے۔کام بڑا ہو تو کسی تجربے کار کو بھیج ، جوبپھرے ہوئے شیر کو بھی کمند کے حلقے میں پھنسا لے۔ جوان اگر موٹی گردن اور ہاتھ کے جسم والا ہی کیوں نہ ہو، جب دشمن سامنے آئے گا تو اس کے جوڑ ہلنے لگیں گے۔ لڑائی تجربہ کار ہی لڑ سکتا ہے، جیسے شرعی مسئلہ عالم ہی بتا سکتا ہے۔ظاہری طور پر بڑے مضبوط اور پہلوان قسم کے لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ جب کوئی ان کے مقابلے میں آ جائے اور لڑنے مرنے پر تیار ہو جائے تو ایسے کھسکتے ہیں جیسے گیڈر کے ساتھ کوئی رشتہ داری ہو اور اس بزدلی کو صبر اور بردباری کا نام دیتے ہیں۔ حالانکہ جہاں بس چلتا ہو وہاں اتنے بڑے ظالم بن جاتے ہیں کہ فرعون و یزید بھی کانپ جاتے ہوں گے۔

موہٹہ پیلس سے قصر فاطمہ تک

موہٹہ پیلس سے قصر فاطمہ تک

قیام پاکستان سے بہت سال پہلے کی بات ہے کلکتہ کے رائے بہادر شیو رتن داس موہٹہ نامی ایک نامور کاروباری شخصیت نے کلکتہ سے کراچی اپنے کاروبار کو منتقل کرنے کا ارادہ کیا کیونکہ ان دنوں کراچی کے کاروباری حالات کلکتہ سے زیادہ بہتر تھے۔ شیو رتن موہٹہ اپنے دور کے انتہائی مالدار اور اچھی کاروباری شہرت کے حامل شخص تھے جن کا بنیادی طور پر جہازرانی اور جہاز سازی کے ساتھ ساتھ شوگر اور سٹیل کا کاروبار تھا۔ یہاں اس خاندان کا کاروبار خوب چمکا اور تھوڑے ہی عرصے میں یہ خاندان کراچی کے امیر ترین لوگوں میں شمار کیا جانے لگا۔پیرزادہ سلمان اپنی کتاب '' لیگیسیز آف ایمپائرز ‘‘میں لکھتے ہیں کہ ایک دن اچانک رائے بہادر کو یہ اطلاع ملی کہ ان کی بیوی ایک جان لیوا مرض میں مبتلاہیں۔ ڈاکٹروں نے انہیں فی الفور اپنی بیوی کے ساتھ ہوادار مقام منتقل ہونے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے ملک کے نامور ماہر تعمیرات کے مشورے کے بعدساحل سمندر پرایک عالی شان بنگلہ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا۔ رائے بہادر نے ماہر تعمیرات آغا احمد حسین سے رابطہ کر کے انہیں اپنے ارادے سے آگاہ کیا۔ 1927ء میں بنگلے کی تعمیر کا آغاز کیا گیا جو 1933ء میں اپنی تکمیل کو پہنچا۔ 18500مربع فٹ قطعہ زمین پر محیط یہ محل نما بنگلہ فن تعمیر کا ایسا شاہکار تھا جس میں مغل فن تعمیر کی جھلک نظر آتی تھی۔ اس کی خاص بات اس کے منفرد گنبد ،مینار اور مغلیہ طرز تعمیر کی محرابیں تھیں۔ اس کی تعمیر میں استعمال ہونے والا گلابی پتھر جودھ پور اور پیلا پتھر گزری سے منگوایا گیا تھا۔ اس عمارت کے چاروں اطراف خوبصورت باغیچے اور جا بجا لگے فوارے ماحول کے حسن میں اپنا حصہ ڈالتے نظر آتے تھے ۔ آغا احمد حسین نے اس عمارت کو جمالیاتی حسن اور تہذیب و تمدن کا ایک ایسا نادر نمونہ بنا دیا جو آج عدم توجہی کے باوجود بھی دیکھنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔اس سے پہلے کہ اس عمارت کے مالک اس کا کوئی نام تجویزکرتے، اہل کراچی نے اسے '' موہٹہ پیلس ‘‘کہہ کر پکارنا شروع کر دیا۔ موہٹہ پیلس کو پہلی نظر دیکھنے سے ذہن میں یہ تاثر ابھرتا ہے جیسے مغلیہ دور کی کوئی عمارت ہو۔اب یہ سمندر کی ٹھنڈی ہواؤں کا کمال تھا، رائے بہادر کی شریک حیات کو نئی زندگی مل گئی۔قیام پاکستان اور موہٹہ پیلس:قیام پاکستان کے ساتھ ہی کراچی پاکستان کا دارالخلافہ ٹھہرا۔ شروع میں سرکاری دفاتر کیلئے عمارتوں کا فقدان پیش آیا توفیصلہ ہوا کہ جن کے پاس ایک سے زائد مکان ہے ان کا ایک مکان حکومت کی تحویل میں چلا جائے گا۔ اسی دوران سرکار کے کچھ لوگوں نے موہٹہ پیلس کو وزارت خارجہ کے دفتر کیلئے موزوں سمجھتے ہوئے موہٹہ فیملی سے جب اس خواہش کا اظہار کیا تو شیورتن داس نے نہ چاہتے ہوئے اس مکان کا قبضہ سرکار کے سپرد کر دیا۔ کہتے ہیں شیورتن داس اپنے سپنوں کا محل سرکار کے حوالے کر کے اس قدر دل برداشتہ ہوئے کہ واپس پڑوسی ملک سدھار گئے۔1948ء میں جب دارالخلافہ راولپنڈی منتقل ہوا تو موہٹہ پیلس محترمہ فاطمہ جناح کو اپنی بمبئی والی رہائش گاہ کے بدلے الاٹ کر دیا گیا۔ جسے حکومتی سطح پر'' قصر فاطمہ ‘‘کا نام دے دیا گیا۔ فاطمہ جناح کو بھی یہ گھر بہت پسند تھا۔یہی وہ عمارت تھی جہاں سے محترمہ فاطمہ جناح نے جنرل ایوب خان کے خلاف صدارتی الیکشن کی مہم چلائی تھی۔ فاطمہ جناح کی وفات کے بعد ان کی بہن شیریں جناح اس گھر میں منتقل ہو گئیں۔ اپنی زندگی میں ہی انہوں نے ''شیریں جناح چیریٹیبل ٹرسٹ‘‘قائم کر کے قصر فاطمہ سمیت اپنی تمام جائیداد اس ٹرسٹ کے نام منتقل کر دی۔ انہوں نے یہ وصیت بھی کی کہ فاطمہ جناح کی خواہش کے مطابق اس عمارت میں لڑکیوں کیلئے ایک ڈینٹل میڈیکل کالج اورایک ہسپتال قائم کیا جائے ۔قصر فاطمہ تنازعات کی زد میں:محترمہ فاطمہ جناح کی وفات کے کچھ عرصہ بعد ''قصر فاطمہ ‘‘کی ملکیت کا تنازع اس وقت کھڑا ہوگیا جب فاطمہ جناح کے ایک رشتے دار حسین جی والجی نے یہ دعویٰ دائر کیا کہ وہ محترمہ فاطمہ جناح اور محمد علی جناح کے چچا والجی پونجا کے پوتے ہیں اور وہ فاطمہ جناح کی چھوڑی ہوئی نصف جائیداد کے حقیقی قانونی وارث ہیں۔ اس لئے اس عمارت کا انتظام اور قبضہ انہیں دیا جائے۔ جس کے بعد سندھ ہائی کورٹ نے 1971ء میں ہی اس عمارت کو سیل کرنے کے احکامات جاری کر دئیے۔23 دسمبر 1976ء کو سندھ ہائی کورٹ نے حسین جی والجی کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے قصر فاطمہ شیریں جناح کے حوالے کر دیا تھا۔1995ء میں جب بے نظیر بھٹو ملک کی وزیر اعظم تھیں تو سندھ حکومت نے اس عمارت کے حصول کے لئے عدالت عالیہ سے رجوع کیا۔ جسے بعد ازاں میوزیم میں تبدیل کر نے کیلئے محکمہ ثقافت حکومت سندھ کی تحویل میں دے دیا گیا۔محترمہ فاطمہ جناح کی وصیت: اس عمارت کی ملکیت کے قدیم دعویداروں کی جانب سے دائر اس کیس میں یہ موقف اختیار کیا کہ فاطمہ جناح کی وصیت کے مطابق یہاں ڈینٹل کالج بننا چاہئے تھا جسے نظر اندازکرکے سندھ حکومت نے یہاں ایک میوزیم اور کلچرل سنٹر بناڈالا ہے جہاں اکثر ناچ گانے کی محفلیں سجتی رہتی ہیں جس سے اس عمارت کا تقدس پامال ہو رہا ہے۔ رواں سال اکتوبر میں عدالت عالیہ نے اپنے فیصلے میں اس عمارت کو میڈیکل ڈینٹل کالج بنانے کے احکامات جاری کر دئیے ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ محترمہ فاطمہ جناح کے خوابوں کی تعبیر بن پائے گا؟خاورنیازی سابق بینکر اور لکھاری ہیں، قومی اور بین الاقوامی اداروں سے منسلک رہ چکے ہیں، تحقیقی اور سماجی موضوعات پر مہارت رکھتے ہیں

یاد رفتگان ، عشق تیرا ستائے تو میں کیا کروں ، عزیز میاں : فن قوالی کا بڑا نام

یاد رفتگان ، عشق تیرا ستائے تو میں کیا کروں ، عزیز میاں : فن قوالی کا بڑا نام

فن قوالی کا ایک بڑا نام عزیز میاںکا بھی ہے، جسے کسی تعارف کی ضرورت نہیںبلکہ ان کا فن ہی ان کی شناخت ہے۔ عزیز میاں قوال نے اپنے زمانے میں جو کلام پڑھاوہ آج بھی اسی طرح مقبول ہے۔ عزیز میاں نے قوالی کو عالمی سطح پر متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔دنیا بھر میں پاکستان کی شناخت بننے والے اس عظیم قوال کی آج 21ویں برسی منائی جا رہی ہے۔آج بھی جب بات قوالی کی ہو تو عزیزمیاں قوال کو ضرور یاد کیا جاتا ہے،ان کی بارعب آواز ہی نہیں بلکہ شاندار شاعری اور قلندری جنون سننے والوں پر وجد طاری کر دیتا ہے۔قوالی کی دنیا میں شہنشاہ قوال عزیز میاں کا کوئی ثانی نہیں،''اللہ ہی جانے کون بشر ہے‘‘،'' تیری صورت نگاہوں میں پھرتی رہے‘‘ جیسی درجنوں قوالیوں کی بدولت شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے والے اس عظیم قوال کو اپنے منفرد انداز گائیکی کے باعث پاکستان سمیت دنیا بھر میں انتہائی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا ۔ عشق مصطفیٰ ؐسے سرشار ان کی قوالیاں سننے والوں کے دلوں کو سرور بخشتی ہیں۔عالمی شہرت یافتہ پاکستانی قوال عزیز میاں 17 اپریل 1942ء کو دہلی میں پیدا ہوئے، ان کا اصل نام عبدالعزیز تھا اور ''میاں‘‘ ان کا تکیہ کلام تھا،وہ اکثر اپنی قوالیوں میں بھی استعمال کیا کرتے تھے جو بعد میں ان کے نام کا حصہ بن گیا اور عزیز میاں قوال کے نام سے مشہور ہوئے۔ وہ قیام پاکستان کے بعد ہجرت کرکے پاکستان آئے اور لاہور میں سکونت اختیار کی۔ پنجاب یونیورسٹی سے فارسی، اردو اور عربی میں ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں اور قوالی کے شعبے کا چناؤ کیا۔ اپنے ابتدائی دور میں انہیں'' فوجی قوال‘‘ کا لقب ملا کیونکہ ان کی شروع کی بیشتر قوالیاں فوجی بیرکوں میں فوجی جوانوں کے لئے تھیں۔ان کی آواز بارعب اور طاقتور تھی لیکن ان کی کامیابی کا راز صرف ان کی آواز نہیں تھی اور وہ نہ صرف عظیم قوال تھے بلکہ ایک عظیم فلسفی بھی تھے۔ عزیز میاں اپنے لئے شاعری خود کیا کرتے جبکہ علامہ محمد اقبالؒ اور قتیل شفائی کا کلام بھی بارہا گایا۔عزیز میاں کو شاعری پڑھنے میں خاص مہارت حاصل تھی جو سامعین پر گہرا اثر چھوڑ جاتی تھی۔ عزیز میاں کی قوالیوں میں زیادہ توجہ کورس گائیکی پر دی جاتی تھی جس کا مقصد قوالی کے بنیادی نکتہ پر زور دینا تھا۔عزیز میاں کو اپنی قوالیوں میں دینی اور صوفی مسائل پر بحث کرنے میں مہارت حاصل تھی۔ وہ براہ راست خدا سے ہم کلام ہوتے اور اشرف المخلوقات کی قابل رحم حالت کی شکایت کرتے۔ خدا سے ہم کلام ہونے والی قوالیوں میں وہ زیادہ تر علامہ اقبالؒ کی شاعری استعمال کرتے۔ مثلا عزیز میاں کے مندرجہ ذیل پسندیدہ اشعار پڑھیے:باغِ بہشت سے مجھے اذنِ سفر دیا تھا کیوںکارِ جہاں دراز ہے اب میرا انتظار کرمجھے تو اس جہاں میں بس اک تجھی سے عشق ہےیا میرا امتحان لے یا میرا اعتبار کرعزیز میاں قوال اور ان کے ہم عصر قوال صابری برادران کے درمیان قوالیوں کی ذریعے ایک دوسرے پر گولہ باری بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔صابری برادران نے عزیز میاں کی قوالی ''میں شرابی میں شرابی‘‘کو اپنی ایک قوالی''پینا وینا چھوڑ شرابی‘‘ میں تنقید کا نشانہ بنایا۔ عزیز میاں نے اس کا ترکی بہ ترکی جواب اپنی ایک اور قوالی ''ہائے کمبخت تو نے پی ہی نہیں‘‘ میں دیا۔ عزیز کے صابری برادران کو جواب کے بعد سے''میں شرابی میں شرابی‘‘ اور''ہائے کمبخت تو نے پی ہی نہیں‘‘ کو ایک ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔انہیں طویل ترین قوالی کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے، ان کی قوالی '' حشر کے روز یہ پوچھوں گا‘‘ کا دورانیہ ایک گھنٹہ 55 منٹ ہے۔ان کی بیشتر قوالیاں دینی رنگ لئے ہوئے تھیں گو کہ انہوں نے رومانی رنگ میں بھی پذیرائی حاصل کی ۔ 1966ء میں شاہ ایران رضا شاہ پہلوی کے سامنے یادگار پرفارمنس پر انعام واکرام اور گولڈ میڈل سے نوازا گیا جبکہ حکومت پاکستان نے 1989ء میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا۔ عزیز میاں کا انتقال6 دسمبر 2000 ء کو ایران کے دارالحکومت تہران میں یرقان کے باعث ہوا۔جہاں انہیں حضرت علی ؓ کے یوم شہادت پر قوالی کرنے کے لئے مدعو کیا گیا تھا۔عزیزمیاں نے بھارتی شہر دہلی میں آنکھ کھولی، لاہور میں زندگی گزاری، ایرانی شہر تہران میں جان جان آفریں کے سپرد کی اور وصیت کے مطابق انہیں اولیا کے شہر ملتان میں سپردخاک کیا گیا۔ارشد لئیق سینئر صحافی ہیں، ملک کے موقر جریدوں میں ان کے سیکڑوں مضامین شائع ہو چکے ہیں 

نپولین کمپلیکس، پست قامت لوگوں کا نفسیاتی عارضہ

نپولین کمپلیکس، پست قامت لوگوں کا نفسیاتی عارضہ

1993ء میں صدر پاکستان غلام اسحاق خان نے نوازشریف کی حکومت برطرف کر دی تو وہ اس اقدام کے خلاف سپریم کورٹ چلے گئے ۔چیف جسٹس ڈاکٹر نسیم حسن شاہ کی سربراہی میں بنچ نے صدر کے اس اقدام کوغلط قرار دیتے ہوئے نواز شریف حکومت اور اسمبلی کو بحال کر دیا توایک تجزیہ نگارنے اپنے تجزیے میںلکھا کہ اس فیصلے کے پس پردہ دیگر عوامل کے علاوہ ''نپولین کمپلیکس‘‘ بھی کار فرما ہے تو بات سر کے اوپر سے گزر گئی کہ یہ'' نپولین کمپلیکس ‘‘کیا بلاہے ؟کتابوں کی ورق گردانی کی تو پتہ چلاکہ نفسیات کی رو سے چھوٹے قد کا انسان دراز قد لوگوں کے سامنے ایک لاشعوری احساس کمتری میں مبتلا رہتا ہے۔ دراز قامت ہونا ایک اضافی عنایت ہے جوانسانی شخصیت کی دلکشی میں اضافہ کرتی ہے ۔ جب کسی پست قامت شخص کو دراز قد انسان سے مخاطب ہونے کیلئے اپنی ایڑیاں اور گردن اوپر اٹھا کر دیکھنا پڑتاہے تویہی مجبوری اس میں احساس کمتری کو جنم دیتی ہے ۔چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کا قد 4فٹ 8انچ تھا۔ تجزیہ نگار کے خیال میں ان سے پہلے یا بعد میںکوئی دراز قدجج برطرف حکومت کو بحال کرنے کا فیصلہ نہیں دے سکے تھے۔ اس لیے پست قامت جسٹس نسیم حسن شا ہ کے لاشعور میں ہوگا کہ اگر انہوں نے صدر کے اقدام کو مسترد کرتے ہوئے حکومت اور قومی اسمبلی بحال کر دی تو انہیں تاریخ میں وہ مقام ملے گا جوکوئی دراز قامت جج حاصل نہیں کرسکا ۔اس احساس کمتری کو نپولین کمپلیکس کیوں کہتے ہیں؟ کہا جاتا ہے کہ فرانس کے حکمران نپولین بونا پارٹ کا قد صرف 5 فٹ 2انچ تھااسی لیے انہیں ''لٹل کارپورل‘‘ کہا جاتا تھا۔ اپنی پست قامتی کی وجہ سے وہ شدید احساس کمتری میں رہتا تھا۔اس پر قابو پانے کیلئے وہ اپنے ساتھ ساڑھے چھ فٹ لمبے باڈی گارڈ رکھتا تھا ۔نپولین کی شہرت اور اس نفسیاتی عارضے میں مبتلا ہونے کی وجہ سے نفسیات کی اصطلاح میں اسے نپولین کمپلیکس یا سنڈروم کہا جاتا ہے۔نپولین کا یہ قول کہ ''میری ڈکشنری میں ناممکن کا لفظ ہی نہیں ہے‘‘بھی دراصل دراز قد حکمرانوں اور جرنیلوں کے منہ پر پست قامت نپولین کاایک نفسیاتی طمانچہ ہے۔ جب اس نے فرانس پر قبضہ کیا تومسیحی روایت کے مطابق پوپ کے ہاتھوںاس کی تاجپوشی کی تقریب منعقد ہوئی مگر نپولین نے پوپ کے بجائے تاج اپنے سر پر خودسجا یا اور کہاکہ '' یہ سب کچھ میں نے اپنے زور بازو سے حاصل کیا ہے تو پوپ کیوں میرے سرپر تاج سجائے؟‘‘روس کے صدر ولادی میر پیوٹن بھی قد چھوٹا ہونے کی وجہ سے نپولین کمپلیکس میں مبتلا ہیںجس سے نجات کے لیے ایڑھی کے بجائے ان کے جوتے کواندر سے 3انچ اونچا بنوایا جاتا ہے۔خواتین کا اونچی ہیل والا جوتا پہننا بھی درحقیقت ان کے نپولین کمپلیکس میں مبتلا ہونے کی عکاسی کرتا ہے۔ لڑکیاں دراز قدلڑکوں سے شادی کرنا پسند کرتی ہیںاور خود کو ان کے ساتھ محفوظ محسوس کرتی ہیں۔یہ ضروری نہیں کہ ہر پست قامت انسان نپولین کمپلیکس کا شکار ہو ۔کیونکہ انسانی دماغ کئی طرح کے بائیو کیمیکلز کی مدد سے اپنے افعال انجام دیتا ہے۔ جب تک ان کیمیکلز میں قدرتی توازن بر قرار رہتا ہے انسانی دماغ بھی متوازن رہتا ہے مگر جونہی کسی انسان میں بائیوکیمیکلز کا توازن بگڑتا ہے تو وہ مختلف نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتا ہے۔مشہور قول ہے کہ بعض لوگوں کا قد گردن سے نیچے کی طرف ناپا جاتا ہے اور کچھ کا گردن سے اوپر کی طرف ۔ مگرگردن سے اوپر والا قد چھوٹا ہونے کے باوجود نیچے والے لمبے قد سے زیادہ قیمتی اور برتر ہوتا ہے۔صرف چھوٹا قد ہی ہمیشہ نقصان دہ نہیں ہوتا کئی مرتبہ لمبا قد بھی راستے کی رکاوٹ بن جاتا ہے۔ اس کی زندہ مثال پاکستان کے وفاقی وزیر اسد عمر ہیں۔خود انہوں نے بتایا کہ میری شدید خواہش تھی کہ ایئر فورس میں پائلٹ بنوںمگر میرا ساڑھے چھ فٹ قد میری خواہش کی راہ میں رکاوٹ بن گیا۔مجھے ریجیکٹ کر دیا گیا کیونکہ میں جہاز کے کاک پٹ میں نہیں بیٹھ سکتا تھا۔دراز قد شخص کوپبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرتے وقت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔دراز قد لوگوں کی ہڈیاں زیادہ مضبوط نہیں ہوتیں، وہ جلد بیماریوں کا شکارہو جاتے ہیں۔قد اگر چھوٹا بھی ہو تو پریشانی کی ضرورت نہیں۔اصل بات تو یہ ہے کہ آپ اپنے ارد گرد موجود انسانوںکے لئے کتنے مفید ہیں ۔ان کیلئے باعث رحمت ہیں یا باعث زحمت۔ کھجور کا درخت اتنا اونچا لمبا ہے بھی تو کیا فائدہ ، تھکاہارا مسافر اس کی چھائوں میںبیٹھنا چاہے تو سایہ نہیں ملتا، بھوک لگے تو پھل اتنی دور کہ توڑکر کھا نہیںسکتا ۔پروفیسر زاہد رمے ریٹائرڈ گورنمنٹ پروفیسر ہیں، تحقیقی مطا لعہ کا شوق رکھتے ہیں،ملک کے موقر جریدوں میں ان کی تحریریں شائع ہو چکی ہیں۔ اپنی حفاظت پر مامور ان دراز قامت باڈی گارڈز کو بھاگ دوڑ کرتے دیکھ کرپست قامت نپولین کو احساس کمتری کے بجائے احساس تفاخر محسوس ہوتا تھا حالیہ ریسرچ کے مطابق فرانسیسی فٹ برطانوی فٹ سے ایک انچ لمبا تھا۔فرنچ فٹ کے مطابق نپولین کا قد 5فٹ2انچ مگر برطانوی فٹ کے مطابق اس کا قد 5فٹ 7انچ تھا جو اتنا بھی چھوٹا قد نہیں تھا۔اس کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر ڈاکٹر نے بھی اس کا قد 5فٹ2انچ ہی لکھا تھا۔برطانیہ اور فرانس کی طویل دشمنی کی وجہ سے برطانوی مورخین نے دانستہ بھی نپولین کے پست قامت ہونے کا پروپیگنڈاکر رکھا تھا۔اسی طر ح جان سٹین بیک کے ناول Men Of Mice and میں باس کا بیٹا کرلی نپولین کمپلیکس میں مبتلا ہونے کی وجہ سے ہر دراز قد آدمی سے لڑنا جھگڑنا شروع کر دیتا ہے کیونکہ وہ انہیں طاقتوراور خود کو لاشعوری طور پر غیر محفوظ سمجھتا ہے۔لمبا قد اس وقت بھی انسان کی تضحیک کا باعث بن جاتا ہے جب اس کے بے تکلف دوست ''لمبوجی ‘‘ یا ''زرافہ ‘‘جیسے نک نیم رکھ کر عزت افزائی کرنا شروع کر دیتے ہیں۔یاد رکھیں کہیہی وجہ ہے کہ عالم چنہ سمیت کوئی بھی دراز قد شخص لمبی زندگی نہیںپا سکا۔اپنے سائز کا جوتا خریدنے کے لیے کتنی دکانوں پر خجل خوار ہونا پڑتا ہے۔اس کے لیے سپیشل بیڈ بنوانا پڑتا ہے کیونکہ وہ بے چارہ عام بستر پر سونا چاہے توآدھی ٹانگیںبیڈ اور کمبل سے باہر ہوتی ہیں۔