اہم آبی گزر گاہیں اورتوانائی کی سیاستدنیا کی جغرافیائی سیاست میں سمندری گزرگاہوں کو ہمیشہ غیر معمولی اہمیت حاصل رہی ہے مگر چند مخصوص راہداریاں جنہیں آبنائے (Straits) کہا جاتا ہے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ حالیہ صورتحال، جس میں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کیا گیا ہے، ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ یہ آبی گزر گاہیں کس قدر حساس اور عالمی معیشت کے لیے ناگزیر ہیں۔آبنائے کیا ہے اور اس کی اہمیت؟دو بڑے سمندروں یا واٹر باڈیز کو ملانے والا تنگ سمندری راستہ آبنائے کہلاتا ہے۔ورلڈ بینک اور اقوام متحدہ کے مطابق تقریباً 80 تا 90 فیصد عالمی تجارت (حجم کے لحاظ سے) سمندری راستوں کے ذریعے ہوتی ہے اور اس تجارت کا بڑا حصہ انہی اہم گزرگاہوں سے گزرتا ہے۔آبنائے ہرمز: توانائی کی سب سے بڑی گزرگاہآبنائے ہرمز دنیا میںتوانائی کی سب سے اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (EIA) کے مطابق روزانہ تقریباً 20 سے 21 ملین بیرل تیل اس راستے سے گزرتا ہے یہ عالمی تیل کی کھپت کا تقریباً 20 فیصد بنتا ہے۔ اس کے علاوہ دنیا کی مائع قدرتی گیس (LNG) کا تقریباً 25 فیصد بھی اسی راستے سے منتقل ہوتا ہے ۔سعودی عرب، ایران، عراق، کویت اور متحدہ عرب امارات اپنی برآمدات کے لیے اسی راستے پر انحصار کرتے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے حالیہ بحران نے تقریباً 400 ملین بیرل یعنی عالمی سپلائی کے تقریباً چار دن کے برابر تیل مارکیٹ سے نکال دیا جس کی وجہ سے قیمتوں میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔آبنائے ملاکا: ایشیا کی معاشی لائف لائنآبنائے ملاکا جنوب مشرقی ایشیا میں واقع ہے اور بحر ہند کو بحیرہ جنوبی چین سے ملاتی ہے۔ بین الاقوامی بحری تنظیم (IMO) کے اندازوں کے مطابق سالانہ 90 ہزار سے زیادہ بحری جہاز اس راستے سے گزرتے ہیں اورعالمی تجارت کا تقریباً 30 فیصد اسی راستے سے ہوتا ہے۔روزانہ تقریباً 16 ملین بیرل تیل یہاں سے گزرتا ہے۔چین اپنی توانائی کی ضروریات کا تقریباً 60 فیصد اسی راستے سے حاصل کرتا ہے، اسی لیے اسےMalacca Dilemma بھی کہا جاتا ہے۔آبنائے باسفورس: اناج اور توانائی کا درہترکی میں واقع آبنائے باسفورس بحیرہ اسود کو بحیرہ روم سے ملاتی ہے۔سالانہ تقریباً 48 ہزار بحری جہاز یہاں سے گزرتے ہیں۔روس اور یوکرین کی 90 فیصد سے زائد اناج کی برآمدات اسی راستے سے ہوتی رہی ہیں۔ یومیہ لاکھوں بیرل تیل اور گیس بھی اس کے ذریعے منتقل ہوتی ہے۔روس یوکرین جنگ کے دوران اس راستے کی بندش یا محدودیت نے عالمی گندم کی قیمتوں میں 20 فیصد تک اضافہ کیا۔سویز کینال: یورپ اور ایشیا کاشارٹ کٹمصر میں واقع سویز کینال عالمی تجارت کا ایک اہم مرکز ہے۔عالمی تجارت کا تقریباً 12 فیصد اس راستے سے گزرتا ہے اورروزانہ 50 سے 60 بحری جہاز یہاں سے گزرتے ہیں۔2021ء میں سویز کینال میں ایک جہاز پھنسنے سے عالمی تجارت کو تقریباً نو سے 10 ارب ڈالر یومیہ نقصان ہوا۔یہ راستہ یورپ اور ایشیا کے درمیان سفر کو تقریباً سات ہزار کلومیٹر کم کر دیتا ہے۔آبنائے جبرالٹر: بحر اوقیانوس اور بحیرہ روم کا سنگمیہ آبنائے یورپ اور افریقہ کے درمیان واقع ہے اورروزانہ تقریباً 300 بحری جہاز یہاں سے گزرتے ہیں۔یورپ کی توانائی درآمدات کا بڑا حصہ بھی اسی راستے سے آتا ہے۔نیٹو ممالک کے لیے یہ ایک اہم عسکری گزرگاہ بھی ہے۔پاناما کینال: دو سمندروں کو ملانے والا شاہکارپاناما کینال بحر اوقیانوس اور بحرالکاہل کو ملاتی ہے اورعالمی تجارت کا تقریباً پانچ فیصد اس راستے سے گزرتا ہے۔سالانہ 14 ہزار سے زائد جہاز اس سے گزرتے ہیں۔امریکہ کی 40 فیصد کنٹینر ٹریفک اسی راستے سے ہوتی ہے۔یہ کینال جہازوں کو جنوبی امریکہ کے گرد 13ہزار کلومیٹر طویل سفر سے بچاتی ہے۔عالمی معیشت پر اثراتان اہم آبناؤں میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کے اثرات فوری طور پر عالمی معیشت پر ظاہر ہوتے ہیں مثال کے طور پرتیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ،سپلائی چین میں خلل،اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ اورعالمی مہنگائی میں اضافہ۔ دنیا کی بڑی طاقتیں ان آبناؤں پر اثر و رسوخ قائم رکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔دنیا کی اہم آبنائیں عالمی معیشت کی شہ رگیں ہیں۔ ان کے ذریعے نہ صرف تجارت بلکہ توانائی، خوراک اور صنعتی پیداوار کا نظام چلتا ہے۔ آبنائے ہرمز جیسے حساس علاقوں میں کشیدگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جغرافیہ صرف نقشے تک محدود نہیں بلکہ عالمی سیاست، معیشت اور امن و استحکام کا بنیادی عنصر ہے۔مستقبل میں اگرچہ متبادل توانائی اور نئے تجارتی راستوں پر کام جاری ہے مگر فی الحال دنیا کا انحصار انہی چند انتہائی اہم آبی گزرگاہوں پر برقرار ہے اور یہی حقیقت انہیں عالمی طاقتوں کے درمیان کشمکش کا مرکز بناتی ہے۔