بادشاہ اکبر کا دور
اسپیشل فیچر
مغل بادشاہ اکبر کا شمار دنیا کے بہت بڑے لوگوں میں ہوتا ہے۔ اکبر نے ہندوستان کی مختلف ریاستوں اور مختلف قوموں کو متحد کرنے کی کوشش ’’دین الہٰی‘ ‘ ایجاد کرنے سے بہت پہلے کی۔ اکبر اگرچہ ہندوستان میں ایک غیر ملکی کی حیثیت رکھتا تھا۔ لیکن اس نے بہت جلد اپنے آپ کو ’’ہندوستانی‘‘ بنا لیا۔ اکبر کے نظم ونسق کی جھلک انگریزی حکومت میں بھی دکھائی دی۔ اکبر اپنے ہمراہ ایران کا فن تعمیر، ایران کی شاعری، اورایرانی مصوری لایا۔ہندوستان کو فتح کرنے کے بعد اس نے اُسے متحد کرنے کی بہت زیادہ کوشش کی۔ وہ وسطی ایشیا اور ہندو ستان کی علیحدہ علیحدہ دنیائوں کا ایک آمیزہ ہے۔موسم سرما کی ایک صبح کو ہمایوں اپنے ساتھیوں سمیت ایک جھیل کے کنارے خیمہ زن تھا۔ صحرائی علاقہ میں گردو غبار اڑتی دیکھ کر ہمایوں پریشان ہوا۔ گزشتہ دو سال سے وہ سندھ کے ریگستانوں میں مارا مارا پھر رہا تھا۔ا س کے بھائی اس کا ساتھ چھوڑ چکے تھے۔ دوست، دشمن بن چکے تھے۔ اس کے لئے کسی پر اعتماد کرنا مشکل ہو گیا تھا۔ گرد وغبار امر کوٹ کی طرف سے اُٹھی تھی۔ ہمایوں اپنی بیوی کو امر کوٹ میں چھوڑ آیا تھا کیونکہ وہ بہت جلد ماں بننے والی تھی۔ قاصد کے چہرے پر خوشی کے آثار تھے۔ حمیدہ کے ہاں لڑکا پیدا ہوا تھا۔ ہمایوں کو اپنا جانشین مل گیا مغل حکمران اس تقریب پر زرو دولت کو پانی کی طرف بہادیتے تھے۔ لیکن بے سرو سامان ہمایوں کے پاس کیا دھرا تھا؟ اس نے اپنے ساتھیوں میں مشک تقسیم کرتے ہوئے کہا۔’’یہی وہ تحفہ ہے جسے میں اپنے بیٹے کی پیدائش پر تمہیں پیش کر سکتا ہوں ۔مجھے یقین ہے کہ اس کی شہرت اسی طرح ساری دنیا میں پھیلے گی جس طرح اس مشک کی خوشبو اس خیمہ میں پھیل گئی ہے‘‘ بچے کا نام اکبررکھا گیا۔ اکبر کی پیدائش نے ہمایوں کے استقلال کو جو اس نے کبھی نہیں کھویا تھا مزید مستحکم کر دیا ہو گا۔دہلی اور آگرہ پر قبضہ کرنے کے بعد ہمایوں نے اکبر کو اس کے اتالیق بیرم خاںکے ہمراہ پنجاب بھیج دیا تھا۔ اکبر نے کلانور (ضلع گور داسپور)میں اپنے باپ کی موت کی خبر سنی اکبر کو کلانور کے ایک باغ میں تخت نشین کیا گیا۔ اپنے دادا بابر کی طرح اکبر کو کم سنی میں تخت مل گیا۔ لیکن اسے بابر ہی کی طرح اس تخت کو برقرار رکھنے کے لئے بہت کچھ کرنا پڑا۔ سکندر پورابھی تک پنجاب میں تھا۔ ہمایوں نے بھی بہت سی قوت حاصل کر لی تھی۔ ہمایوں ایک قابل جرنیل تھا۔ اس نے دہلی آگرہ کو اپنے قبضہ میں کرنے کے بعد اپنی بادشاہت کا اعلان کر دیا۔ حالات بہت نازک ہو چکے تھے۔ بیرم خاں کے ساتھی کابل جانے کا مشورہ دے رہے تھے۔ لیکن اتالیق اپنے شاگرد کولے کر ہمایوں سے لڑنے کے لیے آگے بڑھا۔ اکبر نے بابر کی طرح پانی پت میں دہلی کا تخت حاصل کیا۔ دہلی او رآگرہ پر اکبر کا قبضہ ہو گیا۔ سکندر سوری کا تعاقب کیا گیا۔ ایک سال بعد اس نے ہتھیار ڈال دیئے۔ اسی اثنا میں تخت دہلی کے سب دعویدار ختم ہو چکے تھے۔ پانچ سال تک بیرم خاں کے ہاتھ میں عنان اقتداررہی۔ جب اکبر اٹھارہ سال کا ہوا تو درباریوں نے اسے بیرم خاں کے اثرو رسوخ سے آزاد کر دیا۔ اکبر کی دایہ ماہم انگہ نے بھی بیرم خاں کے خلاف سازش میں نمایاں حصہ لیا تھا۔ بیرم خاں نے اس توہین کا احتجاج بغاوت کی صورت میںکیا۔ شاہی فوجوں نے اتالیق کو شکست دی۔ بیرم قید ہو کر اکبر کے سامنے پیش ہوا۔ اکبر نے اُسے معاف کر دیا۔ وہ حج کے لئے سفر کر رہا تھا کہ قتل کر دیا گیا۔ اس کا بیٹا عبدالرحیم شاہی سایہ میں تربیت پاتا رہا۔ گوالیا راور جو نپور پر قابض ہونے سے اکبر نے اپنی سلطنت کی حدود کو وسیع کر دیا تھا اب وہ مالوہ پر قبضہ کرنا چاہتا تھا۔ مالوہ پر حسن وعشق کا متوالا باز بہادر حکمران تھا۔ باز بہادر اور روپ متی کی محبت کے افسانے گیتوں کی صورت میں اب تک موجود ہیں۔اکبر نے ماہم انگہ کے بیٹے ادہم خاں کو مالوہ کی مہم پر روانہ کیا تھا۔ ادہم خاں نے اس مہم میں بہت زیادہ ظلم کئے۔ اکبر خفا ہو کر مالوہ کی طرف بڑھا۔ ادہم خان نے اکبر سے معافی مانگ لی بیرم خاں کے بعد ماہم انگہ اپنے آپ کو وزیر اعظم، خیال کرتی تھی۔ اکبر پر اس کا کافی اثر تھا ۔لیکن کابل سے شمس الدین کے آنے کے بعد اکبر نے تمام سیاسی مالی اور فوجی امور اس کے سپرد کر دیئے ۔اس پر ماہم انگہ اور اس کا بیٹا ادہم خاں برافروختہ ہوئے۔ ایک دن جب کہ شمس الدین وزارت عظمیٰ کے کاموں میں مصروف تھا ادہم خاں ایوان میں داخل ہوا۔ اس کے ہمراہ چند لوگ تھے ادہم خاں کے اشارہ کرتے ہی یہ لوگ شمس الدین پر ٹوٹ پڑے۔ شمس الدین کو قتل کرنے کے بعد ادہم خاں اس کمرے کی طرف بڑھا۔ اکبر موجود تھا۔ اکبر تلوار لے کرباہر نکل آیا۔ ادہم خاں نے اکبر کی تلوار کو پکڑنا چاہا۔ لیکن اکبر نے اُسے زمین پر گرادیا۔ جو نہی ادہم خاں زمین پر گرااکبر نے اپنے ملازموں کو حکم دیا کہ اُسے اوپر سے نیچے پھینک دیا جائے۔ ملازموں نے پس وپیش کی۔ اکبر نے ادہم خاں کو جو بے ہوش ہوچکا تھا اٹھا کر دیوار کے ساتھ دے مارا۔ ادہم خاں کی گردن ٹوٹ گئی۔ اکبر حرم میں چلا گیا۔ ماہم انگہ کو جب اس واقعہ کی اطلاع ملی تو وہ بستر علالت سے اُٹھ کر اکبر کے پاس آئی۔ اکبر نے اس سے کہا ’’ادہم نے مابدولت کے وزیر اعظم کو قتل کیا اور مابدولت نے اسے سزادی‘‘ بیمارر انگہ کو ابھی تک یہ معلوم نہیں تھا کہ اس کا بیٹا شاہی عتاب سے ٹکرا کر مرچکا ہے۔ اپنے بیٹے کے غم میں ماہم انگہ چند دنوں بعد چل بسی۔ اب اکبر حکمرانی کرنے میں آزاد تھا۔ماہم انگہ کے دور اقتدار میں رشوتوں اورسازشوں کا جو سلسلہ شروع ہو اتھا اُسے اکبر نے ختم کر دیا۔ سازشیوں سے اُس نے بہت اچھا سلوک کیا۔ خارجی اثرات سے آزاد ہوتے ہی اس نے جنگی قیدیوں کو غلام بنانے کی رسم اُڑا دی۔ اس نے اب جے پور کی شہزادی سے شادی کی۔ یہ ہندو شہزادی جہانگیر کی ماں بنی۔ تان سین اور بیربل کو اس نے اپنے دربار میں جگہ دی۔ان سب باتوں کے ہوتے ہوئے اکبر کی طبیعت میںبے چینی تھی۔ اسے سکون نصیب نہیں تھا۔ اُس نے جس شخص پر اعتماد کیا اسی نے اُسے دھوکا دیا۔ ادہم خاں نے تو اسے قتل کرنے سے گریزنہ کیا۔ اس نے اب صرف اپنی ذات پر اعتماد کرنا چاہا۔ اکبر اگرچہ ان پڑھ تھا لیکن اس پر صوفی شاعروں کے کلام کا بہت زیادہ اثر تھا۔ شاہی محلوں سے نکل کر وہ فقیروں اور درویشوں کی صحبت میں جاتا۔ عالموں اور فاضلوں سے بحث کرتا۔ بعدازاں اکبر نے جب فتوحات کا سلسلہ شروع کیا تو یہ سلسلہ اس کی موت تک جاری رہا۔٭…٭…٭