لائٹ ڈے سے کتنا دور؟جب انسان نے خلا کی وسعتوں کو سمجھنے کا سفر شروع کیا تو اس کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ وہ نظامِ شمسی سے باہر کی دنیا کے بارے میں بھی جان سکے۔ اسی مقصد کے تحت امریکی خلائی ادارے ناسا نے 5 ستمبر 1977ء کو voyager 1 خلائی تحقیقاتی مشن روانہ کیا۔ اس خلائی جہاز کا بنیادی مقصد مشتری (Jupiter) اور زحل (Saturn) سمیت بیرونی سیاروں کا مطالعہ کرنا تھا مگر یہ مشن توقعات سے کہیں زیادہ کامیاب ثابت ہوا۔آج تقریباً نصف صدی گزرنے کے باوجود وائجر 1 خلا میں مسلسل محو پرواز ہے اور یہ انسان کا تیار کردہ سب سے طویل دوری پر موجود خلائی آلہ ہے اب بین النجمی خلا (Interstellar Space) میں داخل ہو چکا ہے۔ مگر ایک حیران کن حقیقت یہ ہے کہ یہ ابھی تک روشنی کے صرف ایک دن کے سفر کے برابر فاصلہ بھی مکمل نہیں کر سکا۔گزشتہ سال دسمبر میں وائجر پراجیکٹ کی منیجر سوزی ڈاڈ نے سی این این کو بتایا تھا کہ نومبر 2026ء میں وائجر 1زمین سے ایک لائٹ ڈے کے فاصلے پر پہنچ جائے گا۔ نوری سال اور نوری دن؟عام طور پر ہم نوری سال (Light Year) کے بارے میں سنتے ہیں لیکن لائٹ ڈے بھی فاصلے کی ایک اہم اکائی ہے۔ اس سے مراد وہ فاصلہ ہے جو روشنی ایک دن میں طے کرتی ہے۔روشنی کی رفتار تقریباً 299,792 کلومیٹر فی سیکنڈ ہے جو کائنات میں معلوم ہونے والی سب سے زیادہ رفتار ہے۔ اسی رفتار سے روشنی ایک دن میں تقریباً 25.9 ارب کلومیٹر کا فاصلہ طے کر لیتی ہے۔دوسری طرف وائجر 1 تقریباً 61 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہا ہے، جو انسانی ٹیکنالوجی کے لحاظ سے بے حد تیز رفتار ہے مگر روشنی کی رفتار کے مقابلے میں یہ انتہائی سست ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تقریباً پچاس برس کے مسلسل سفر کے باوجود یہ ابھی تک ایک لائٹ ڈے کے فاصلے تک نہیں پہنچ سکا۔یہ حقیقت نہ صرف حیران کن ہے بلکہ ہمیں یہ احساس بھی دلاتی ہے کہ کائنات کتنی وسیع اور ناقابلِ تصور حد تک بڑی ہے۔وائجر 1 کی کامیابیاںوائجر 1 نے اپنے سفر کے دوران سائنس کو بے شمار قیمتی معلومات فراہم کی ہیں۔ اس نے مشتری کے گرد موجود چاند، زحل کے حلقوں، سیاروں کے ماحول اور مقناطیسی میدانوں کے بارے میں ایسی معلومات بھیجیں جنہوں نے فلکیات کی دنیا میں نئی راہیں کھول دیں۔2012 ء میں وائجر 1 نے ایک اور تاریخی سنگ میل عبور کیا، جب یہ ہیلیوسفیئر (Heliosphere) سے نکل کر بین النجمی خلا میں داخل ہونے والا پہلا انسانی ساختہ خلائی آلہ بن گیا۔ اس کے بعد سے یہ مسلسل ایسے علاقے سے معلومات بھیج رہا ہے جہاں پہلے کبھی کوئی انسانی مشن نہیں پہنچا ۔اگرچہ اب اس کے کئی سائنسی آلات بند کیے جا چکے ہیں تاکہ محدود توانائی کو بچایا جا سکے لیکن اس کے بعض آلات اب بھی فعال ہیں اور زمین تک قیمتی سائنسی ڈیٹا بھیج رہے ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق آنے والے چند برسوں میں اس کی توانائی مزید کم ہو جائے گی جس کے بعد اس سے رابطہ ختم ہونے کا امکان ہے، تاہم یہ خلائی جہاز اربوں سال تک خلا میں اپنا سفر جاری رکھے گا۔کائنات کی وسعت کا خاموش پیغاموائجر 1 کی کہانی صرف ایک خلائی مشن کی داستان نہیں بلکہ یہ انسانی جستجو، سائنسی ترقی اور کائنات کی بے پناہ وسعت کا ایک زندہ ثبوت ہے۔ جب ہم سنتے ہیں کہ تقریباً پچاس سال تک مسلسل سفر کرنے والا خلائی جہاز بھی روشنی کے صرف ایک دن کے سفر کے برابر فاصلہ مکمل نہیں کر سکا تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ ستاروں، کہکشاؤں اور کائنات کے درمیان فاصلے ہماری روزمرہ زندگی کے پیمانوں سے کہیں زیادہ عظیم ہیں۔یہ مشن آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک علامت ہے کہ علم کی تلاش کبھی ختم نہیں ہوتی۔ ممکن ہے ایک دن انسان ایسی ٹیکنالوجی ایجاد کر لے جو موجودہ رفتار سے کہیں زیادہ تیز ہو لیکن فی الحال وائجر 1 انسانی تاریخ کے سب سے کامیاب اور طویل المدت خلائی مشنز میں شمار ہوتا ہے۔وائجر 1 آج بھی خاموشی سے خلا کی تاریکی میں اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ نہ صرف سائنسدانوں کے لیے معلومات کا خزانہ ہے بلکہ پوری انسانیت کے لیے اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ ہماری زمین اس وسیع کائنات کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہے اور ابھی دریافت کی جانے والی دنیا ہمارے تصور سے کہیں زیادہ بڑی اور پراسرار ہے۔