ٹخنے کی موچ
اسپیشل فیچر
ٹخنے کی موچ عضو یا جوڑ کو سہارا دینے کے لئے ہڈیوں کو جوڑنے والی رگیں جو کہ ٹخنے کے ارد گرد والی ہڈیوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہوتی ہیں، میں کھنچاؤ پیداہونے کوکہاجاتاہے۔ٹخنے کی موچ ایک ایسا زخم ہے جو ٹخنے کے گرد جھلیوں سے ہوتا ہے۔ موچ اکثر گرنے سے اس وقت پڑتی ہے جب پاؤں اپنے باہر کے کنارے کی طرف مڑ جاتا ہے۔رباط( ہڈیوں کو جوڑنے والی رگیں ) ایک لچکدارچھلوں کی مانند ہوتی ہیں جو آپ کی ہڈیوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہوتے ہیں اور جوڑوں کو ہلنے میں مدد دیتے ہیں۔ ٹخنے کی موچ بچوں میں ایک عام سی چوٹ ہے۔آپ کے بچے کا ٹخنا کوئی کھیل کھیلتے مڑ سکتا ہے یا پھر پیر ایسے عجیب طریقے سے مڑتا ہے کہ زخمی ہونے کا باعث بنتا ہے۔ٹخنے کی موچ عموماً ٹخنے کے باھر کی طرف سے آتی ہے جسکا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ٹخنا اندر کی طرف مڑا ہے لیکن ٹخنا باہر کی طرف بھی مڑ سکتا ہے۔ہلکے زخم میں رباط سوج جاتی ہے لیکن شدید چوٹ کی صورت میں رباط پھٹ جاتی ہے اورکثرت سے سوجن کا باعث بنتی ہے۔ آپ کا بچہ ٹخنے کی موچ کے بعد مندرجہ ذیل کی شکایات کرسکتاہے : چلنے میں مشکل، ہلکے درجے سے لیکر شدید ترین درد، ٹخنے میں محدود حرکت۔دوسری نشانیوں میں مندرجہ ذیل شامل ہوسکتے ہیں: ٹخنے کے سامنے اور اطراف پرسوجن اورخراشیں، ہڈی کے اردگردکے حصے میں ملائمت، ہڈیوں والی نمایاں جگہوں پرہلکی یا نہ ہونے کے برابرملائمت پیداہونا۔ ٹخنے کی موچ پرقابوپانا:اگر آپ کے بچے کا ٹخنا اچھی حالت میں ہے، دردہلکا ہے اورہڈیوں کے اردگردکوئی سوزش نہیں ہے، توکسی جانچ پڑتال کی ضرورت نہیں ہے۔آپ اپنے بچے کی گھر پرہی دیکھ بھال کر سکتے ہیں۔اگر بچے کا ٹخنا اچھی حالت میں نہیں ہے،درد بہت زیادہ ہے اور ہڈی میں نمایاں ملائمت یا سوجن ہے، تو بچے کو ڈاکٹر کے پاس لے جانے کی ضرورت ہے، ڈاکٹر فیصلہ کرے گا کہ ٹخنے کو کتنا نقصان پہنچا ہے۔ اگرآپ کے بچے یابچی کو چلنے میں مشکل ہو رہی ہو، تو وہ بیساکھیاں استعمال کر سکتی ہے۔آپ کے بچے کی چوٹ معمولی ہے تو وہ چوٹ لگنے کے بعد جلدسے جلد48گھنٹے کے بعد ورزش شروع کر سکتا ہے، لیکن اس کا دارومدار آپکے بچے کی موچ کی نوعیت پر ہے۔ ان ورزشوں میں ٹخنے کو قدرتی صلاحیت کے مطابق آگے پیچھے ، اندر اور باہرکی جانب موڑناشامل ہے۔ توازن بڑھانے کے لئے، ضروری ہے کہ چوٹ لگنے والی ٹانگ پرکھڑے ہواجائے۔ابتدا میں ہلکا وزن برداشت کرنا اور پیدل چلنابھی شفایابی میں مدد کرتا ہے۔ چوٹ بہتر ہونے میں 2 ہفتوں سے زیادہ کاوقت لگ سکتا ہے، اور مکمل طور پرشفایاب ہونے میں 10 سے 12 ہفتے لگ سکتے ہیں۔اگر 48گھنٹے گزرنے کے بعدبھی پیدل چلنے میں بہت مشکل پیش آرہی ہو اوردرد بدستو رجاری رہے، تو آپ کے ڈاکٹرکو ٹخنے دوبارہ معائنہ کرناچاہیے۔ مزید ورزشیں اور مالشی علاج اور فزیوتھراپی ضروری ہوسکتی ہے۔جب ٹخنے میں پوری حرکات وسکنات اور پوری طاقت آجائے توآپ کابچہ کھیلوں میں واپس جا سکتا ہے۔ آپ اپنے بچے کے ٹخنے کی طاقت کا امتحان اس طرح کر سکتے ہیں،کہ اس سے کہیں کہ وہ5 دفعہ اس ٹانگ پرکودے جس پر چوٹ لگی تھی۔ چیک کریں کہ کیا آپ کا بچہ درد یا عدم استحکام کا اظہارتونہیں کر رہا۔ دوسراامتحان یہ دیکھنے کیلئے ہے،کہ آیا آپ کا بچہ اچھل کود کے وقت توازن برقرار رکھ سکتا ھے یا ادھرادھردائیں بائیں آسانی سے دوڑسکتاہے۔وقت سے پہلے کھیل میں واپسی سے ٹخنے کی چوٹ مزید بگڑنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، پوری طرح اور مکمل شفایاب ہوئے بغیر آپ کے بچے کو جوانی کے دور میں لمبے عرصے کیلئے مشکلات کا سامناکرناپڑ سکتا ہے۔ ہلکی پھلکی ورزش اور بندھی ہوئی پٹیوں (lace - up) والی سپورٹ ٹخنے کی چوٹ کو مزید خراب ہونے سے روک سکتی ہیں۔ اونچے درجے کی مقابلے والی کھیلوں میں واپسی صحت کی نگہداشت کے پیشہ ورفردکی نگرانی میں کی جاسکتی ہے جوبھاگ دوڑ اورکھیلوں سے متعلق چوٹوں سے واقفیت رکھتا ہو۔ اگر آپ کو بہت زیادہ مقابلے کے کھیلوں کی طرف واپس آنا ہے تو ضروری ہو گا کہ کھیلوں کے ماہر ڈاکٹر سے معائنہ کرائیں۔٭…٭…٭