نواب سراج الدولہ… ایک زبردست حریت پسند

نواب سراج الدولہ… ایک زبردست حریت پسند

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالحفیظ ظفر


نواب سراج الدولہ بنگال کے آخری آزاد’’ نواب آف بنگال‘‘ تھے۔ ان کا دور ختم ہوا تو ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت شروع ہو گئی۔ بنگال کے بعد قریباً پورا جنوبی ایشیا ایسٹ انڈیا کمپنی کے تسلط میں آ گیا۔ سراج الدولہ اپریل 1756 میں اپنے نانا کی وفات کے بعد نواب آف بنگال بنے۔ اس وقت ان کی عمر 23 برس تھی۔سراج الدولہ 1733ء میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام زین الدین احمد خان اور والدہ کا نام امینہ تھا۔ جس دن سراج الدولہ پیدا ہوئے اسی دن ہی ان کے نانا کو بہار کا ڈپٹی گورنر بنا دیا گیا۔ سراج الدولہ کی پرورش نواب کے محل میں کی گئی اور یہیں اُن کی تعلیم کا بندوبست کیا گیا۔ ان کی تربیت ایسے کی گئی جس طرح نوابوں کی جاتی ہے۔ 1746 میں سراج الدولہ نے مرہٹوں کی سرکوبی کیلئے اپنے نانا علی وردی کے ساتھ فوجی مہموں میں حصہ لیا۔ سراج کو قسمت کا دھنی قرار دیا گیا۔ نانا کے دل میں سراج کیلئے بہت محبت تھی۔ مئی 1752ء میں علی وردی خان نے سراج کو اپنا جانشین مقرر کر دیا۔ علی وردی خان 10 اپریل 1756 کو 80 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ سراج الدین کا نواب بننا ان کی خالہ مہر النسا بیگم کو ایک آنکھ نہ بھایا۔ اسی طرح میر جعفر اور ان کے کزن شوکت جنگ نے بھی سراج الدولہ کی نامزدگی کو پسند نہیں کیا۔ مہر النسا بیگم کے پاس بہت زیادہ دولت تھی۔ سراج الدولہ کو یہ خطرہ لاحق تھا کہ مہر النسا بیگم ان کی شدید مخالفت کریں گی۔ اس لیے سراج نے ان کی دولت چھین لی اور انہیں نظربند کر دیا۔ اس کے علاوہ نواب سراج الدولہ نے حکومت کے اعلیٰ عہدیداران کو بھی تبدیل کر دیا۔ انہوں نے اپنے پسندیدہ لوگوں کو یہ عہدے دے دیئے۔ انہوں نے میر مدن کو بخشی مقرر کر دیا۔ اس سے پہلے یہ عہدہ میر جعفر کے پاس تھا۔ اسی طرح انہوں نے موہن لال کو اپنے دیوان خانے کا پیش کار بنا دیا۔ موہن لال نے اپنے اثرونفوذ کے ذریعے انتظامیہ کو قابو کر لیا۔ آخرکار سراج الدولہ نے شوکت جنگ سے بھی نجات حاصل کر لی۔ شوکت جنگ ایک تصادم میں مارا گیا۔سراج الدولہ اس حقیقت سے بخوبی آشنا تھے کہ برطانیہ اس خطے کو اپنی نوآبادی بنانا چاہتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے بنگال میں برطانوی فوج کی موجودگی کو پسند نہیں کیا۔ اس فوج کی ترجمانی ایسٹ انڈیا کمپنی کر رہی تھی۔ وہ بنگال کے معاملات پر مبینہ طور پر ایسٹ انڈیا کمپنی کی مداخلت پر ناراض تھے۔ اس بات پر بھی ناراض تھے کہ ان کے کچھ اپنے آدمی انہیں تخت سے اتارنے کے لیے سازش میں ملوث تھے۔ کمپنی سے ان کی تین شکایات تھیں ایک تو یہ تھی کہ فورٹ ولیم کے اردگرد قلعہ تعمیر کر دیا گیا اور اس کے لیے انہیں کوئی اطلاع نہیں دی گئی دوسری شکایت یہ تھی کہ کمپنی نے فصلوں کی طرف سے دی گئی تجارت کی سہولتوں کا غلط فائدہ اٹھایا اور اس کی وجہ سے حکومت کو حاصل ہونے والے ریونیو (کسٹم ڈیوٹی) کو سخت نقصان پہنچا۔ تیسری شکایت یہ تھی کہ کمپنی نے ان کے کچھ ایسے افسروں کو پناہ دی جو حکومتی فنڈز خرد برد کرنے کے بعد ڈھاکہ سے فرار ہو گئے تھے۔ جب برطانوی فوج نے فورٹ ولیم کلکتہ کے اردگرد فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کرنا شروع کیا اور سراج الدولہ کی ناراضی کے باوجود وہ اپنا کام کرتے رہے تو سراج الدولہ نے سخت ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کلکتہ کا نظم و نسق سنبھال لیا۔ نواب سراج الدولہ کی فوجوں نے فورٹ ولیم برطانوی فوجیوں سے چھین لیا۔بہت سے برطانوی فوجی قیدی بن گئے اور انہیں عارضی طور پر ایک سیل میں رکھا گیا۔ اس دوران کچھ غلط فہمیوں کی وجہ سے ان قیدیوں کو وہیں چھوڑ دیا گیا۔ ان میں سے کئی موت کی وادی میں اُتر گئے۔ برطانیہ سرکار نے اس واقعے کی انکوائری کی اور سرولیم میرڈتھ نے سراج الدولہ کو تمام الزامات سے بری الذمہ قرار دیا۔ آخرکار سراج الدولہ سے ایک امن معاہدہ طے پایا۔ سراج الدولہ نے برطانوی آفیسرز کی زیادتیوں کو معاف کر دیا لیکن سراج الدولہ یہ نہ سمجھ سکے کہ امن معاہدہ انہیں تخت و تاج سے محروم کرنے کی سازش ہے۔نواب سراج الدولہ کو علم ہوا کہ برطانوی فوجوں نے چندرنگر پر حملہ کر دیا ہے برطانیہ کے خلاف اس کی چھپی ہوئی نفرت پھر باہر آ گئی۔ سراج الدولہ کو یہ خطرہ لاحق تھا کہ کہیں شمال سے افغانی احمد شاہ درانی کے ساتھ مل کر حملہ نہ کر دیں۔ اس کے علاوہ انہیں مغرب کی طرف سے مرہٹوں کے حملے کا بھی خطرہ تھا۔ اس لیے برطانیہ کے خلاف انہوں نے اپنی ساری فوج نہیں اتاری۔ برطانویوں اور نواب سراج الدولہ کے درمیان بداعتمادی کی دیوار کھڑی ہو گئی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سراج الدولہ نے جین لا (کوسم بازار اور بسی میں واقع فرانسیسی فیکٹری کا چیف) سے مذاکرات شروع کر دیئے۔ نواب نے کثیرتعداد میں اپنے فوجیوں کو رائے دُرلابھ کی قیادت میں پلاسی بھیج دیا۔کچھ عرصہ بعد جنگ پلاسی کا آغاز ہوا۔ یہ جنگ برصغیر کی تاریخ میں ٹرننگ پوائنٹ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس جنگ کے نتیجے نے برطانوی تسلط کے دروازے کھول دیے۔ جب سراج الدولہ نے کلکتہ فتح کر لیا تو برطانیہ نے مدراس سے تازہ دم فوجی دستے بھیجے تاکہ فورٹ ولیم قلعے کو دوبارہ حاصل کیا جا سکے۔ نواب سراج الدولہ پلاسی کے میدان میں برطانویوں سے ٹکرایا۔ 23 جون 1757ء کو سراج الدولہ نے میر جعفر سے ملاقات کی کیونکہ اسے میر عردن کی اچانک شکست نے بہت دکھی کر دیا تھا۔ میرعردن نواب سراج الدولہ کے انتہائی قریب تھا۔ نواب نے میر جعفر سے مدد مانگی۔ میر جعفر نے نواب سے کہاکہ وہ اس دن کے لیے پسپائی اختیار کرے۔ نواب نے سنگین غلطی یہ کی کہ اس نے اپنی فوج کو لڑائی بند کرنے کا حکم دے دیا۔ نواب کے فوجی واپس اپنے کیمپوں میں جارہے تھے۔ اس وقت رابرٹ کلائیو نے اپنے فوجیوں کے ساتھ حملہ کر دیا۔ یہ حملہ بالکل اچانک تھا۔ سراج الدولہ کی فوج بوکھلا گئی اور سارے فوجی بھاگ اٹھے۔ یہ وہ سازش تھی جس میں جگت سیٹھ، میر جعفر اور کرشن چندرا شامل تھے۔ سراج الدولہ یہ لڑائی ہار گئے اور انہیں بھاگنا پڑا۔ وہ پہلے مرشد آباد گیا اور پھر کشتی کے ذریعے پٹنہ چلا گیا۔ لیکن آخر میرجعفر کے سپاہیوں نے اسے گرفتار کرلیا۔ نواب سراج الدولہ کو دوجولائی 1757 ء کو پھانسی دے دی گئی۔ انہیں محمد علی بیگ نے میرمیرن کے حکم پر تختہ دار پر لٹکایا۔ میرمیرن میر جعفر کا بیٹا تھا۔ سراج الدولہ کی پھانسی اس معاہدے کا حصہ تھی جو میر جعفر اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے درمیان طے پایا تھا۔ بہرحال نواب سراج الدولہ ایک حریت پسند تھے کیونکہ انہوں نے ہندوستان پر برطانوی راج کے آغاز کی نہ صرف مخالفت کی بلکہ عملی طور پر مزاحمت بھی کی۔ ان کا نام زندہ رہے گا۔ ٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
ورلڈ ہیپاٹائٹس ڈے

ورلڈ ہیپاٹائٹس ڈے

محتاط رہیں،محفوظ رہیںہر سال 28 جولائی کو دنیا بھر میں ہیپاٹائٹس ڈے منایا جاتا ہے جس کا مقصد عوام میں ہیپاٹائٹس کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا، بروقت تشخیص، مؤثر علاج اور احتیاطی تدابیر کو فروغ دینا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق دنیا بھر میں 30 کروڑ 40 لاکھ افراد ہیپاٹائٹس بی یا سی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ 2022ء میں تقریباً 13 لاکھ افراد اس بیماری کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ ہیپاٹائٹس صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ صحت کے ایک خوفناک بحران کی صورت اختیار کر چکاہے۔پاکستان کے لیے یہ دن خصوصی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ہمارا ملک دنیا میں ہیپاٹائٹس سی کے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں ہیپاٹائٹس بی اور سی سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد تقریباً ایک کروڑ 38 لاکھ ہے جبکہ ان میں سے صرف 25 سے 30 فیصد افراد ہی اپنی بیماری سے آگاہ ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ لاکھوں افراد انجانے میں بیماری کو دوسروں تک منتقل بھی کر رہے ہیں اور خود بھی علاج سے محروم ہیں۔ہیپاٹائٹس ، تشویشناک پھیلاؤ ہیپاٹائٹس بی اور سی کے پھیلنے کی کئی بنیادی وجوہات ہیں جن میں غیر محفوظ طبی طریقہ کار سب سے نمایاں ہے۔ ماہرین کے مطابق غیر ضروری انجکشن لگانے کا رجحان، استعمال شدہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال، غیر معیاری کلینکس، دانتوں کے علاج میں جراثیموں سے پاک کئے بغیر آلات کا استعمال اور حجام کی دکانوں پر ایک ہی بلیڈ کا بار بار استعمال اس بیماری کے پھیلاؤ کے بڑے اسباب ہیں۔ عالمی ادارہ صحت بھی انہی عوامل کو پاکستان میں ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ کی بنیادی وجوہات قرار دیتا ہے۔حالیہ طبی مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ عمر کے ساتھ ہیپاٹائٹس کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ ایسے افراد جن کے خاندان میں جگر کی بیماری کی تاریخ موجود ہو یا جو بار بار حجام سے شیو کرواتے ہوں ان میں خطرہ نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔ ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ قومی سطح پر سکریننگ‘ احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل درآمد اور بروقت علاج ہی اس جان لیوا مرض سے بچاؤکا مؤثر ذریعہ ہے۔خاموش بیماری مہلک نتائجہیپاٹائٹس کو اکثر خاموش قاتل کہا جاتا ہے کیونکہ اس کی ابتدائی علامات بہت کم یا بالکل ظاہر نہیں ہوتیں۔ بہت سے مریض برسوں تک معمول کی زندگی گزارتے رہتے ہیں لیکن اس دوران وائرس مسلسل جگر کو نقصان پہنچاتا رہتا ہے۔ جب علامات ظاہر ہوتی ہیں تو اکثر بیماری خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہوتی ہے۔عام علامات میں مسلسل تھکن، کمزوری، بھوک میں کمی، متلی، بخار، پیٹ کے دائیں حصے میں درد، جلد اور آنکھوں کا پیلاپن، پیشاب کی گہری رنگت اور وزن میں غیر معمولی کمی شامل ہے۔ اگر بروقت تشخیص اور علاج نہ کیا جائے تو ہیپاٹائٹس جگر کے سکڑنے (سروسس) جگر کے سرطان اور جگر کے مکمل ناکارہ ہونے کا سبب بن سکتا ہے۔خوش آئند بات یہ ہے کہ ہیپاٹائٹس بی سے بچاؤ کے لیے مؤثر ویکسین دستیاب ہے جبکہ ہیپاٹائٹس سی کا جدید ادویات کے ذریعے کامیاب علاج بھی ممکن ہے بشرطیکہ بیماری کی بروقت تشخیص ہو جائے۔احتیاط ہی مؤثر دفاعہیپاٹائٹس سے بچاؤ کے لیے چند بنیادی احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔سب سے پہلے انجکشن صرف ضرورت کے وقت اور نئی، سیل بند سرنج سے لگوائیں۔ خون لینے دینے کا عمل ہمیشہ مستند بلڈ بینک سے کروائیں اور اس کی مکمل سکریننگ یقینی بنائیں۔ دانتوں کا علاج صرف ایسے کلینکس سے کروائیں جہاں جراثیم سے پاک آلات استعمال کیے جاتے ہوں۔ حجام کی دکان پر ہر مرتبہ نیا بلیڈ استعمال کرنے پر اصرار کریں۔ ریزر، نیل کٹر، ٹوتھ برش اور دیگر ذاتی استعمال کی اشیاکسی کے ساتھ مشترک استعمال نہ کریں۔ کان یا ناک چھدوانے کی صورت میں صرف جراثیم سے پاک آلات استعمال کیے جائیں۔اس کے علاوہ ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین ہر بچے اور خطرے سے دوچار بالغ افراد کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ جن افراد کو شک ہو کہ وہ متاثرہ خون یا غیر محفوظ طبی آلات کے ذریعے وائرس کے رابطے میں آئے ہیں انہیں فوری طور پر ہیپاٹائٹس بی اور سی کا ٹیسٹ کروانا چاہیے تاکہ بیماری کی بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہو سکے۔قومی سطح پر مشترکہ جدوجہد کی ضرورتہیپاٹائٹس کا خاتمہ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ غیر معیاری کلینکس اور غیر تربیت یافتہ طبی عملے کے خلاف مؤثر کارروائی کرے، محفوظ خون کی فراہمی کو یقینی بنائے، عوامی آگاہی مہمات کو وسعت دے اور مفت سکریننگ اور علاج کی سہولیات میں اضافہ کرے۔عالمی ادار صحت نے 2030ء تک ہیپاٹائٹس کو صحتِ عامہ کے بڑے خطرے کے طور پر ختم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اگر ہم قومی سطح پر بروقت اور ضروری اقدامات کریں، عوام احتیاطی اصولوں پر عمل کریں اور ہر مشتبہ فرد اپنا ٹیسٹ کروائے تو اس خاموش قاتل کے پھیلاؤ کو نمایاں حد تک روکا جا سکتا ہے۔عالمی یومِ ہیپاٹائٹس ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ آگاہی، احتیاط، بروقت تشخیص اور مؤثر علاج ہی اس مہلک بیماری کے خلاف ہماری سب سے بڑی طاقت ہیں۔ ایک صحت مند پاکستان کی تعمیر اسی وقت ممکن ہے جب ہر شہری اپنی اور دوسروں کی صحت کے تحفظ کو اپنی قومی ذمہ داری سمجھے۔

ملکی وے

ملکی وے

کہکشاں کا براعظموں کی تشکیل میں کردار؟جرمنی اور جاپان کے سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں حیران کن امکان پیش کیا ہے کہ ہماری کہکشاں 'ملکی وے‘ نے اربوں سال پہلے زمین پر براعظموں کی تشکیل میں بالواسطہ کردار ادا کیا ہو گا ۔ اگرچہ یہ نظریہ ابھی ابتدائی تحقیقی مرحلے میں ہے تاہم اس نے ماہرینِ فلکیات اور ارضیات کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ اگر مستقبل کی تحقیقات اس مفروضے کی تائید کرتی ہیں تو زمین کی ابتدائی تاریخ کے بارے میں ہماری موجودہ سمجھ میں ایک اہم تبدیلی آ سکتی ہے۔زمین سورج کے گرد گردش کرتی ہے جبکہ سورج اپنے تمام سیاروں سمیت ملکی وے کے مرکز کے گرد مسلسل سفر کر رہا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق ہمارا نظامِ شمسی تقریباً ہر 15 سے 20 کروڑ سال بعد ملکی وے کے ان حصوں سے گزرتا ہے جہاں ستاروں کی تعداد زیادہ اور کششِ ثقل نسبتاً طاقتور ہوتی ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ ایسے علاقوں سے گزرتے ہوئے ملکی وے کی اضافی کششِ ثقل نظامِ شمسی کے انتہائی بیرونی حصے میں موجود اوورٹ کلاؤڈ کو متاثر کر سکتی ہے۔ اوورٹ کلاؤڈ برفیلے اجسام اور دمدار ستاروں کا ایک وسیع ذخیرہ ہے جو سورج سے انتہائی فاصلے پر موجود ہے۔جب اس خطے میں کششِ ثقل کا توازن بگڑتا ہے تو بعض دمدار ستارے اپنے اصل مدار سے ہٹ کر اندرونی نظامِ شمسی کی جانب سفر شروع کر دیتے ہیں۔ ان میں سے کچھ کا رخ زمین کی طرف بھی ہو سکتا ہے۔دمدار ستاروں کا تصادم اور براعظموں کی تشکیلزمین کی ابتدائی تاریخ میں بڑے شہابی پتھروں اور دمدار ستاروں کا ٹکراؤ عام تھا اورجرمنی کی جولیس میکسیملین یونیورسٹی کے محقق تھامس سیگرٹ اور جاپان کی کیوٹو یونیورسٹی کے ہیروکی یونیڈا کی تحقیق کے مطابق ممکن ہے کہ انہی میں سے کچھ بڑے تصادم ملکی وے کی کششِ ثقل کے نتیجے میں رونما ہوئے ہوں۔سائنسدانوں کا خیال ہے کہ جب ایسے اجرام زمین سے ٹکراتے تھے تو ان سے پیدا ہونے والی بے پناہ حرارت اور دباؤ زمین کی بیرونی پرت میں بڑی تبدیلیاں لاتے تھے۔ اس عمل سے ایسی چٹانیں وجود میں آئیں جو بعد میں براعظمی پرت کی بنیاد بنیں۔ یہی پرت لاکھوں ، کروڑوں برسوں کے ارتقائی عمل سے گزر کر آج کے براعظموں کی شکل اختیار کرتی گئی۔اس تحقیق کا مقصد یہ نہیں کہ زمین کے اندرونی ارضیاتی عوامل جیسے ٹیکٹونکس پلیٹ یا آتش فشانی سرگرمی کی اہمیت کو کم کیا جائے بلکہ یہ تجویز پیش کی جا رہی ہے کہ ان عوامل کے ساتھ ساتھ ملکی وے کا بالواسطہ اثر بھی براعظموں کی تشکیل میں شامل رہا ہو سکتا ہے۔قدیم زرکون کرسٹل نے کیا راز کھولا؟اس نظریے کو جانچنے کے لیے محققین نے زمین کی قدیم ترین چٹانوں میں موجود زرکون نامی معدنی کرسٹل کا تفصیلی مطالعہ کیا۔ زرکون کو ارضیات میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ اربوں سال پرانی معلومات کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔سائنسدانوں نے ان کرسٹلز کی عمر اور کیمیائی خصوصیات کا موازنہ ایسے فلکیاتی ماڈلز سے کیا ہے جن میں نظامِ شمسی کے ملکی وے میں سفر کو ظاہر کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق بعض ادوار میں بڑے دمدار ستاروں کے ممکنہ تصادم اور ابتدائی براعظمی چٹانوں کی تشکیل کے درمیان ایک دلچسپ مماثلت پائی گئی۔اگرچہ یہ شواہد اس نظریے کو تقویت دیتے ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اربوں سال پرانے فلکیاتی اور ارضیاتی واقعات کو مکمل یقین کے ساتھ ثابت کرنا آسان نہیں اس لیے مزید تحقیق کی ضرورت باقی ہے۔ دلچسپ مفروضہیہ تحقیق کرنے والے جرمن سائنسدان تھامس سیگرٹ اور جاپان کے ہیروکی یونیڈا خود اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ ابھی ایک سائنسی مفروضہ ہے، ممکن ہے مستقبل میں مزید شواہد اس نظریے کی تائید کریں، اس میں ترمیم کریں یا اسے مسترد کر دیں۔ یہی سائنسی تحقیق کا بنیادی اصول ہے کہ ہر نئی تجویز کو بار بار جانچا جاتا ہے۔تاہم اگر آنے والے برسوں میں یہ نظریہ درست ثابت ہو جاتا ہے تو یہ دریافت ہماری زمین کی تاریخ کو سمجھنے کے انداز کو بدل سکتی ہے۔ اس سے یہ تصور مزید مضبوط ہوگا کہ زمین کی تشکیل صرف اس کے اندرونی عوامل کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ اربوں کلومیٹر دور موجود ملکی وے میں ہونے والے فلکیاتی عمل بھی بالواسطہ طور پر ہماری دنیا کی تشکیل پر اثر انداز ہوئے۔ملکی وے اور زمین کے براعظموں کے درمیان ممکنہ تعلق پر ہونے والی یہ تحقیق سائنس کی ان دلچسپ کوششوں میں سے ایک ہے جو کائنات اور ہماری زمین کے درمیان پوشیدہ روابط کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اگرچہ اس مفروضے کو ابھی مزید شواہد درکار ہیں، لیکن اس نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ شاید ہماری زمین کی تاریخ کا تعلق صرف زمین تک محدود نہیں، بلکہ پوری کائنات سے جڑا ہوا ہے۔ آنے والے برسوں کی تحقیق ہی یہ فیصلہ کرے گی کہ آیا واقعی ملکی وے نے زمین کے براعظموں کی تشکیل میں کوئی کردار ادا کیا تھا یا نہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

پیرو کی آزادی28 جولائی 1821 کو جنوبی امریکہ کے ملک پیرو نے ہسپانوی سلطنت سے اپنی آزادی کا اعلان کیا۔ اس تاریخی اعلان کی قیادت جنرل خوسے دے سان مارٹن نے لیما میں کی۔ اگرچہ آزادی کی جدوجہد کئی برس پہلے شروع ہو چکی تھی لیکن 28 جولائی کو پہلی مرتبہ پیرو کو آزاد ریاست قرار دیا گیا۔ پیرو کی آزادی صرف ایک ملک کی کامیابی نہیں تھی بلکہ پورے لاطینی امریکہ میں نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کی تحریک کا اہم حصہ تھی۔ اس کے نتیجے میں ہسپانوی اقتدار بتدریج جنوبی امریکہ سے ختم ہونے لگا اور متعدد نئی آزاد ریاستیں وجود میں آئیں۔ 28 جولائی پیرو میں یومِ آزادی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ پہلی جنگِ عظیم کا آغاز28 جولائی 1914ء کو آسٹریا۔ہنگری نے سربیا کے خلاف جنگ کا اعلان کیا جسے پہلی جنگِ عظیم کا باقاعدہ آغاز سمجھا جاتا ہے۔ اس سے ایک ماہ قبل 28 جون 1914ء کو آسٹریا کے ولی عہد آرچ ڈیوک فرانز فرڈینینڈ کو بوسنیا کے شہر سرائیوو میں قتل کر دیا گیا تھا۔ اس قتل کے بعد آسٹریا۔ہنگری نے سربیا کو سخت شرائط پر مشتمل الٹی میٹم دیا۔ اگرچہ سربیا نے بیشتر شرائط قبول کر لیں لیکن تمام مطالبات نہ ماننے پر آسٹریا۔ہنگری نے 28 جولائی کو جنگ چھیڑ دی۔ جلد ہی یورپ کے مختلف ممالک اس تنازع میں شامل ہو گئے۔ جرمنی آسٹریا۔ہنگری کے ساتھ جبکہ روس، فرانس اور بعد میں برطانیہ سربیا کے حامی بن گئے۔ یہ علاقائی تنازع چند ہی دنوں میں عالمی جنگ میں تبدیل ہو گیا۔ ناسا کا قیام 28 جولائی 1958ء کو امریکی کانگریس نے نیشنل ایروناٹکس اینڈ سپیس ایکٹ منظور کیا جس کے تحت بعد میں ناساکا قیام عمل میں آیا۔ یہ اقدام سوویت یونین کی جانب سے 1957ء میں سپوتنک سیٹلائٹ کی کامیاب لانچ کے بعد کیا گیا۔ اس قانون کے ذریعے مختلف سرکاری اداروں کی خلائی تحقیق کو ایک مرکزی ادارے کے تحت منظم کیا گیا۔ ناسا نے یکم اکتوبر 1958 ء سے باضابطہ کام شروع کیا۔ آنے والے برسوں میں ناسا نے مرکری، جیمینائی اور اپولو پروگرام شروع کیے جن کی بدولت 1969 میں انسان پہلی مرتبہ چاند پر پہنچا۔ بعد ازاں خلائی شٹل پروگرام، ہبل خلائی دوربین، مریخ پر بھیجے گئے متعدد مشنز، جیمز ویب اسپیس ٹیلی سکوپ اور بین الاقوامی خلائی اسٹیشن جیسے منصوبوں میں بھی ناسا نے کلیدی کردار ادا کیا۔ ایمسٹرڈیم اولمپکس 28 جولائی 1928 کو نیدرلینڈز کے شہر ایمسٹرڈیم میں نویں جدید اولمپک کھیلوں کا افتتاح ہوا۔ یہ اولمپکس کئی حوالوں سے تاریخی اہمیت رکھتے ہیں۔ پہلی مرتبہ خواتین کو ایتھلیٹکس اور جمناسٹکس کے کئی مقابلوں میں باقاعدہ شرکت کا موقع ملا۔ اسی اولمپکس میں پہلی مرتبہ افتتاحی تقریب کے دوران اولمپک مشعل روشن رکھنے کی روایت بھی اختیار کی گئی۔ ایمسٹرڈیم اولمپکس نے یہ ثابت کیا کہ کھیل مختلف قوموں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر امن، دوستی اور باہمی احترام کو فروغ دے سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 1928 کے اولمپکس جدید اولمپک تاریخ کا ایک اہم سنگ میل تصور کیے جاتے ہیں۔ آئرش مسلح جدوجہدکا خاتمہ28 جولائی 2005ء کو آئرش ریپبلکن آرمی (IRA) نے تقریباً تین دہائیوں پر محیط اپنی مسلح جدوجہد ختم کرنے اور صرف پرامن و جمہوری ذرائع اختیار کرنے کا اعلان کیا۔ شمالی آئرلینڈ میں کئی برس تک جاری رہنے والے تشدد، بم دھماکوں اور مسلح کارروائیوں نے ہزاروں افراد کی جانیں لیں۔ 1998 کے گڈ فرائیڈے معاہدے کے بعد امن عمل کا آغاز ہو چکا تھا لیکن 2005ء کا یہ اعلان اس عمل میں ایک انتہائی اہم پیش رفت ثابت ہوا۔ تنظیم نے اپنے ارکان کو ہدایت دی کہ وہ ہتھیاروں کے استعمال سے مکمل اجتناب کریں اور تمام سیاسی مقاصد صرف جمہوری طریقوں سے حاصل کیے جائیں۔ بعد ازاں بین الاقوامی مبصرین نے IRA کے ہتھیار ناکارہ بنانے کے عمل کی تصدیق بھی کی۔

ٹیکنالوجی کی دوڑ میں ماحول اور صحت داؤ پر

ٹیکنالوجی کی دوڑ میں ماحول اور صحت داؤ پر

ایلون مسک کے ڈیٹا سینٹر پر آلودگی پھیلانے کے الزاماتمصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی نے جہاں دنیا بھر میں ڈیٹا سینٹرز کی اہمیت میں بے پناہ اضافہ کیا ہے، وہیں ان کے ماحولیاتی اور صحت سے متعلق اثرات بھی توجہ کا مرکز بنتے جا رہے ہیں۔ حالیہ دنوں ایلون مسک کی کمپنی سے منسوب ایک ڈیٹا سینٹر کے خلاف دائر مقدمے نے اس بحث کو مزید شدت دے دی ہے، جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر چلائے جانے والے اس مرکز سے سرطان سے منسلک مضر کیمیکل قریبی امریکی رہائشی علاقوں میں خارج کیے جا رہے ہیں۔ اگرچہ ان الزامات کی عدالتی سطح پر جانچ ابھی جاری ہے اور ان پر حتمی فیصلہ نہیں آیا، تاہم یہ معاملہ جدید ٹیکنالوجی، صنعتی ترقی، ماحولیاتی تحفظ اور عوامی صحت کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی اہمیت کو ایک بار پھر اجاگر کرتا ہے۔ایک نئے وفاقی مقدمے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایلون مسک کی کمپنی ''ایکس اے آئی‘‘ (xAI) کے وسیع ڈیٹا سینٹر کے اردگرد واقع رہائشی علاقوں میں سرطان سے منسلک کیمیکل خارج کیے جا رہے ہیں۔ نیشنل ایسوسی ایشن فار دی ایڈوانسمنٹ آف کلرڈ پیپل (NAACP) نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا ہے کہ ایکس اے آئی مسیسیپی کے علاقے ساؤتھ ہیون میں فضائی آلودگی کیلئے درکار اجازت نامے کے بغیر 27 گیس ٹربائنز چلا رہی ہے، جس کے ذریعے اپنے کولوسس 2ڈیٹا سینٹر کیلئے ایک بجلی گھر قائم کر لیا گیا ہے۔ یہی ڈیٹا سینٹر کمپنی کے چیٹ بوٹ 'گروک‘ کو طاقت فراہم کرتا ہے۔مقدمے میں کہا گیا ہے کہ ان ٹربائنز سے یا تو دھواں اور آلودگی پیدا کرنے والے مضر مواد خارج ہوئے یا ان کے اخراج کا امکان موجود تھا۔ ان میں سموگ پیدا کرنے والے آلودہ ذرات، انتہائی باریک معلق ذرات (فائن پارٹیکیولیٹ میٹر) اور فارملڈیہائیڈ شامل ہیں، جو سرطان پیدا کرنے والا ایک معروف کیمیکل ہے۔ درخواست گزاروں کے مطابق یہ آلودہ مادے سانس کی نالی میں سوزش پیدا کر سکتے ہیں، پھیپھڑوں اور خون کی گردش تک گہرائی میں پہنچ سکتے ہیں جبکہ دمہ، دل کی بیماریوں اور سرطان کے خطرات میں بھی اضافہ کر سکتے ہیں۔مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان مبینہ خلاف ورزیوں کے باعث زیادہ تر سیاہ فام آبادی پر مشتمل وہ علاقے مزید مضر آلودگی کا شکار ہوئے، جہاں پہلے ہی سانس کی بیماریوں کی شرح نسبتاً زیادہ ہے۔ یہ قانونی تنازع ایکس اے آئی کی تیزی سے ہونے والی توسیع کے گرد گھومتا ہے۔ کمپنی نے اپنے چیٹ بوٹ گروک کی تربیت کیلئے دنیا کا سب سے بڑا مصنوعی ذہانت پر مبنی سپر کمپیوٹر تعمیر کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔مقدمے کے مطابق قومی بجلی کے نظام سے مطلوبہ مقدار میں بجلی حاصل نہ ہونے کے باعث کمپنی نے مبینہ طور پر ضروری اجازت نامے کے بغیر گیس سے چلنے والا ایک بجلی گھر تعمیر کیا تاکہ اس ڈیٹا سینٹر کو مسلسل بجلی فراہم کی جا سکے۔ اب این اے اے سی پی (NAACP) نے وفاقی عدالت سے درخواست کی ہے کہ ان گیس ٹربائنز کے آپریشن کو فوری طور پر روکا جائے، کمپنی پر مالی جرمانے عائد کیے جائیں اور ایکس اے آئی کو آلودگی پر قابو پانے کے مؤثر انتظامات نصب کرنے کا پابند بنایا جائے۔ایلون مسک کی کمپنی ایکس اے آئی نے مسیسیپی کے علاقے ساؤتھ ہیون میں میکروہارڈرنامی ڈیٹا سینٹر کی تعمیر پر 20 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی ہے، جسے مسیسیپی کے گورنر ٹیٹ ریوز کی مکمل حمایت حاصل ہے۔یہ کمپنی کا تیسرا ڈیٹا سینٹر ہوگا۔ ایکس اے آئی کے چیف فنانشل آفیسر انتھونی آرمسٹرانگ کے مطابق، ان ڈیٹا سینٹرز کا مجموعہ دو گیگا واٹ کمپیوٹنگ صلاحیت کے ساتھ دنیا کا سب سے بڑا سپر کمپیوٹر بنائے گا۔این اے اے سی پی نے ارتھ جسٹس اور سدرن انوائرمنٹل لا سینٹر کی نمائندگی میں رواں سال اپریل میں ایکس اے آئی اور اس کی ذیلی کمپنی ایم زیڈ ایکس ٹیک کیخلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ گزشتہ ماہ ایکس اے آئی نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ یہ مقدمہ خارج کر دیا جائے۔

موسمیاتی بحران، پاکستان کیلئے بڑا معاشی چیلنج

موسمیاتی بحران، پاکستان کیلئے بڑا معاشی چیلنج

قدرتی آفات سے مؤثر تحفظ کیلئے بروقت  منصوبہ بندی، زرعی تحفظ اور عالمی تعاون وقت کی اہم ضرورتپاکستان اس وقت دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے سب سے زیادہ منفی اثرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی ادارے بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ اگر موسمیاتی تبدیلی کی رفتار اسی طرح برقرار رہی تو پاکستان کو مستقبل میں مزید شدید سیلاب، خشک سالی، پانی کی قلت، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے، شدید گرمی کی لہروں اور زرعی پیداوار میں نمایاں کمی جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ عالمی حدت میں پاکستان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے، مگر اس کے باوجود موسمیاتی آفات کا بوجھ سب سے زیادہ انہی ممالک پر پڑ رہا ہے جو ترقی پذیر ہیں۔2022ء کے تباہ کن سیلاب نے دنیا کو یہ حقیقت دکھا دی تھی کہ موسمیاتی تبدیلی صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک معاشی، سماجی اور انسانی بحران بھی ہے۔ لاکھوں ایکڑ زرعی زمین زیر آب آگئی، ہزاروں کلومیٹر سڑکیں اور پل تباہ ہوئے، لاکھوں افراد بے گھر ہوئے اور ملکی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ اس سانحے نے واضح کر دیا کہ پاکستان کے پاس آفات سے نمٹنے کیلئے مضبوط مالیاتی تحفظ کا نظام موجود نہیں۔بدقسمتی سے پاکستان میں قدرتی آفات کے بعد زیادہ تر انحصار ہنگامی امداد، بین الاقوامی مالی معاونت اور عطیات پر کیا جاتا ہے۔ یہ امداد اگرچہ متاثرین کیلئے اہم ہوتی ہے، لیکن اکثر دیر سے پہنچتی ہے، جبکہ متاثرہ خاندانوں کو فوری مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر آفت کے بعد بحالی کا عمل طویل اور دشوار ثابت ہوتا ہے۔دنیا کے کئی ممالک نے اس مسئلے کا حل پہلے ہی تلاش کر لیا ہے۔ افریقہ، ایشیاء اور بحرالکاہل کے متعدد ممالک نے ایسے مالیاتی نظام متعارف کرائے ہیں جن کے ذریعے قدرتی آفات کی صورت میں فوری مالی وسائل دستیاب ہو جاتے ہیں۔ ان ممالک نے زرعی بیمہ، قومی ہنگامی فنڈز، پیشگی مالی معاونت، موسمی خطرات سے متعلق بیمہ اور علاقائی تعاون کے ذریعے اپنی معیشت کو زیادہ محفوظ بنایا ہے۔ ان اقدامات کی بدولت آفت آنے کے بعد بحالی کا عمل تیز ہوتا ہے اور معاشی نقصان نسبتاً کم رہتا ہے۔پاکستان کیلئے بھی یہی راستہ اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سب سے پہلے ایک جامع قومی موسمیاتی مالیاتی پالیسی مرتب کی جانی چاہیے جس میں وفاق اور صوبوں کے درمیان واضح ذمہ داریاں طے ہوں۔ اس پالیسی کے تحت ایک مستقل قومی موسمیاتی تحفظ فنڈ قائم کیا جائے تاکہ قدرتی آفات کی صورت میں فوری مالی وسائل دستیاب ہوں اور متاثرہ علاقوں کی بحالی میں تاخیر نہ ہو۔زرعی شعبہ پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، مگر یہی شعبہ موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ شدید بارشیں، خشک سالی، ژالہ باری اور درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ کسانوں کی محنت کو چند گھنٹوں میں ضائع کر دیتا ہے۔ اس صورتحال میں ضروری ہے کہ حکومت چھوٹے اور متوسط درجے کے کسانوں کیلئے آسان، سستی اور قابلِ رسائی زرعی بیمہ اسکیمیں متعارف کرائے تاکہ فصل تباہ ہونے کی صورت میں انہیں فوری مالی سہارا مل سکے۔ اس سے نہ صرف کسانوں کا معاشی تحفظ ممکن ہوگا بلکہ ملکی غذائی سلامتی بھی مضبوط ہوگی۔اس کے ساتھ بینکاری اور مالیاتی اداروں کو بھی موسمیاتی خطرات کو اپنی منصوبہ بندی کا حصہ بنانا ہوگا۔ ایسے قرضے اور مالیاتی سہولیات متعارف کرائی جائیں جو پانی کی بچت، جدید آبپاشی، شمسی توانائی، بارش کے پانی کو محفوظ بنانے، ماحول دوست صنعتوں اور موسمیاتی موافق زراعت کی حوصلہ افزائی کریں۔ اس سے ماحول کا تحفظ بھی ہوگا اور معیشت زیادہ مضبوط بنیادوں پر استوار ہوگی۔ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ بروقت وارننگ سسٹم آفات سے ہونے والے نقصانات میں نمایاں کمی لا سکتے ہیں۔ جدید موسمیاتی پیش گوئی، سیلاب کی بروقت اطلاع، گلیشیئرز کی نگرانی، مقامی سطح پر آگاہی اور موثر انخلاء کے منصوبے ہزاروں جانیں بچانے کے ساتھ اربوں روپے کے معاشی نقصانات سے بھی محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک آفات کے بعد تعمیر نو کے بجائے آفات سے پہلے تیاری پر زیادہ سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔بین الاقوامی برادری کی بھی اس حوالے سے اہم ذمہ داری ہے۔ ترقی یافتہ ممالک نے صنعتی ترقی کے دوران سب سے زیادہ کاربن فضا میں خارج کی، جبکہ پاکستان جیسے ممالک اس کے نتائج بھگت رہے ہیں۔ اس لیے عالمی موسمیاتی فنڈز تک پاکستان کی آسان رسائی، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی، کم سود مالی معاونت اور موسمیاتی موافقت کے منصوبوں میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ پاکستان کو اندرونی سطح پر بھی کئی بنیادی اصلاحات کرنا ہوں گی۔ جنگلات کے رقبے میں اضافہ، آبی ذخائر کی تعمیر، زیر زمین پانی کے بے دریغ استعمال پر قابو، شہری منصوبہ بندی میں موسمیاتی خطرات کو شامل کرنا، ندی نالوں پر غیر قانونی تعمیرات کا خاتمہ، قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کی توسیع اور ماحولیاتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر ان شعبوں میں مربوط حکمت عملی اختیار کی جائے تو مستقبل کے خطرات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا خدشہ نہیں بلکہ پاکستان کیلئے ایک موجودہ قومی چیلنج بن چکی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، نجی شعبہ، مالیاتی ادارے، زرعی ماہرین اور بین الاقوامی شراکت دار مشترکہ طور پر ایسا نظام تشکیل دیں جو آفات آنے سے پہلے ہی ملک کو مالی اور انتظامی طور پر تیار کر دے۔اگر آج موسمیاتی تحفظ، مالیاتی منصوبہ بندی، جدید ٹیکنالوجی، ماحول دوست ترقی اور قدرتی وسائل کے موثر انتظام میں سرمایہ کاری کی گئی تو پاکستان نہ صرف آنے والی موسمیاتی آفات کے نقصانات کو کم کر سکے گا بلکہ پائیدار ترقی، غذائی تحفظ اور معاشی استحکام کی جانب بھی مضبوط قدم بڑھا سکے گا۔

موستار کا پل

موستار کا پل

تاریخ، تہذیب اور امن کی لازوال علامتموستار کا پل محض پتھروں سے تعمیر کیا گیا ایک قدیم شاہکار نہیں بلکہ تہذیبوں، ثقافتوں اور انسانوں کو جوڑنے والی ایک زندہ علامت ہے۔ بوسنیا و ہرزیگووینا کے تاریخی شہر موستار میں دریائے نیریتوا پر قائم یہ پل صدیوں تک مشرق اور مغرب، مختلف قومیتوں اور مذاہب کے درمیان باہمی ہم آہنگی اور بقائے باہمی کی علامت رہا۔ 16ویں صدی میں سلطنت عثمانیہ کے دور میں تعمیر ہونے والا یہ منفرد پل اپنے دلکش طرزتعمیر اور تاریخی اہمیت کے باعث عالمی شہرت رکھتا ہے۔ اگرچہ 1993ء میں بوسنیائی جنگ کے دوران یہ پل تباہ کر دیا گیا، مگر بعد ازاں بین الاقوامی تعاون سے اس کی ازسرِنو تعمیر نے یہ ثابت کر دیا کہ نفرت اور جنگ کے مقابلے میں امن، محبت اور اتحاد کی قوت کہیں زیادہ مضبوط ہوتی ہے۔ موستار کا مطلب ہے پرانا پل، روسی زبان میں موست بمعنی پل اور سٹار یا سٹاری پرانا۔ یعنی موستار کا شہر اس کے درمیان بہنے والے دریائے نریتوا کے اوپر بنے ہوئے پرانے پل کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہ ترکش معمار خیر الدین کی نگرانی میں بنایا گیا تھا۔ دریائے نریتواپر اس پل کی تعمیر کا آغاز 1557 ء میں ہوا اور 1566 ء میں مکمل ہوا۔ پل اس لیے بھی شہرت کا حامل ہے کہ یہ ایک محراب کی شکل میں بنایا گیا ہے۔ اس کی تعمیر میں پتھر اور چونا استعمال کیا گیا تھا۔ یہ پل ساڑھے چار سو سال سے بھی زیادہ پرانا ہے۔ یہ پل پورے علاقے میں اپنی نوعیت کا واحد پل ہے، جو اپنی محرابی ساخت کی وجہ سے تاریخی شہرت رکھتا ہے۔ اس کی لمبائی 95 فٹ، چوڑائی 13 فٹ اور اونچائی 79 فٹ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پل کی تکمیل کے وقت اس کے افتتاح سے قبل سلطنت عثمانیہ کے سلطان نے قسم کھائی تھی کہ پل کے نیچے عارضی ستون ہٹانے کے بعد پل اگر نیچے گر گیا تو معمار خیرالدین کو قتل کر دیا جائے گا۔کہا جاتا ہے کہ معمار خیرالدین کو اپنے آپ پر اور اپنی کاریگری پر بھروسہ تو تھا لیکن سلطان کا خوف اس کے ذہن پر غالب آ گیا۔ جس دن پل کے نیچے سے عارضی ستون ہٹائے جانے تھے، اس دن معمار خیرالدین نے اپنی قبر بھی تیار کروانا شروع کر دی، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ وہ پل آج بھی قابل استعمال چلا آ رہا ہے۔ بقول محترمہ ساجدہ سلاجک صاحبہ گزشتہ جنگ میں اس موستار پل کو تباہ کرنے میں سربوں اور کروٹوں کو ڈیڑھ سال کا عرصہ لگا۔ پہلے سرب زور آزمائی کرتے رہے، پھر کروٹ گولہ باری کرتے رہے پھر کہیں جا کردہ اس پل کے کچھ حصے کو نقصان پہنچانے میں کامیاب ہو سکے۔ جنگ کے خاتمے کے بعد اس پل کو دوبارہ بنانے کا منصوبہ بنایا گیا۔ اس میں ورلڈ بینک ''یونیسکو‘‘ اورآغا خاں ٹرسٹ نے خاص طور پر مددکی۔ اس کے علاوہ اٹلی، ہالینڈ،ترکی، کروشیا اور بوسنیا کی حکومت نے خاص تعاون کیا۔ پھر کہیں 2004 ء میں اس تاریخی پل کو پیدل چلنے والوں کیلئے کھولا گیا۔ تقریباً 80 فٹ کی بلندی سے پیشہ ور غوطہ خور دریائے نریتوا میں ایک خاص سٹائل میں غوطہ لگا کر حاضرین سے داد وصول کرتے ہیں۔ جبکہ دریا کا پانی بہت ٹھنڈا ہوتا ہے۔ آج موستار کا پل نہ صرف ایک سیاحتی مرکز ہے بلکہ یہ انسانیت کیلئے اس حقیقت کی یاد دہانی بھی ہے کہ دلوں اور معاشروں کو جوڑنے والے پل ہمیشہ دیواروں سے زیادہ دیرپا ثابت ہوتے ہیں۔