قلعہ روہتاس کے دروازے اور فصیل
اسپیشل فیچر
قلعہ روہتاس کے بارہ دروازے ہیں۔ ان کی تعمیر پتھر کی سلوں سے ہوئی ہے۔ دروازوں کی تعمیر جنگی حکمت عملی کو مدنظر رکھ کر کی گئی تھی۔ یہ دروازے فن تعمیر کا نادر نمونہ ہیں۔ ان دروازوں میں ہزار خوانی دروازہ، خواص خوانی دروازہ، موری دروازہ، شاہ چانن والی دروازہ، طلاقی دروازہ، شیشی دروازہ، لنگرخوانی دروازہ، کابلی (یا بادشاہی) دروازہ، گٹیالی دروازہ، سہیل دروازہ، پیپل والا دروازہ اور گڑھے والا دروازہ شامل ہیں۔ قلعے کے مختلف حصوں میں اس کے دروازوں کو بے حد اہمیت حاصل تھی اور ہر دروازے کا اپنا مقصد تھا۔ سہیل دروازہ بہت خوبصورت ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ یہ قلعے کا داخلی دروازہ تھا۔ اس کا نام مقامی صوفی سہیل بخاری کے نام پر رکھا گیا۔ یہ 70 فٹ اونچا اور 68 فٹ چوڑا ہے۔ قلعے کے دوسرے حصوں میں فارس اور افغان فن تعمیر کو اپنایا گیا ہے لیکن اس دروازے کے دونوں جانب موجود بالکونیاں ہندی فن تعمیر کے مطابق ہیں۔ اسی طرح کی بالکونیاں حویلی مان سنگھ میں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔ شاہ چانن والی دروازے کا نام ایک صوفی کے نام پر رکھا گیا ہے جو یہاں کام کے دوران فوت ہو گئے۔ ان کا مزار دروازے کے قریب بنا۔ کابلی دروازہ اسی جانب کھلتا ہے جس جانب کابل ہے۔ اس دروازے کے ساتھ شاہی مسجد بھی ہے۔ہزار خوانی اہم دروازہ ہے۔ طلاقی دروازے سے شیر شاہ کے دور میں ہاتھی داخل ہوتے تھے۔ طلاقی دروازے کو منحوس دروازہ سمجھا جاتا تھا۔ شیشی دروازے کو شیشوں اور چمکتی ٹائلوں سے تیار کیا گیا تھا۔ لنگرخوانی لنگر کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ گٹیالی دروازے کا رخ چونکہ گٹیال پتن کی طرف ہے۔ اس لیے اسے یہ نام دیا گیا۔ بارہ دروازوں میں سے ایک یعنی لنگرخوانی دروازہ براہ راست جنگی علاقے میں کھلتا تھا اور یہ دشمن کی فوجوں کے لیے ایک طرح کا جال تھا۔ اس دروازے سے گزر کر اندر آنے والا شخص فصیل کی برجیوں پر مامور محافظوں کے براہ راست نشانے پر آ جاتا تھا۔ اسی طرح خواص خوانی دروازہ دہرا بنایا گیا تھا۔ مغربی سمت ایک چھوٹی سی ’’ریاست‘‘ علیحدہ بنائی گئی تھی، جو چاروں جانب سے دفاعی حصار میں تھی۔ اس کے اندر جانے کا صرف ایک دروازہ تھا۔ اس چھوٹی سی ریاست کے بلند ترین مقام پر راجا مان سنگھ کی حویلی تھی، جو مغل شہنشاہ اکبر اعظم کا سسر اور اس کی فوج کا جرنیل تھا۔قلعہ روہتاس کا سب سے قابلِ دید، عالیشان اور ناقابل شکست حصہ اس کی فصیل ہے۔ اس پر 68 برج، 184 برجیاں اور ہزاروں کگرے اور سیڑھیاں ہیں، جو فن تعمیر کا نادر نمونہ ہیں۔ اس کے برج صرف فصیل کی خوب صورتی ہی میں اضافہ نہیں کرتے بلکہ یہ قلعے کے مضبوط ترین دفاعی حصار میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ فصیل کی چوڑائی بہت زیادہ ہے۔ فصیل کے چبوترے سیڑھیوں کے ذریعے ایک دوسرے سے منسلک تھے۔ فصیل تین منزلوں میں دو یا سہ قطاری تعمیر کی گئی تھی۔ سب سے بلند ترین حصہ کنگروں کی صورت میں تعمیر کیا گیا۔ چبوتروں کی چوڑائی تین فٹ سے زیادہ ہے اور یہ تیر اندازوں اور توپچیوں کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔ ان کی بلندی مختلف تھی۔ یہ کنگرے صرف شاہی فوجوں کو دشمن سے تحفظ ہی فراہم نہیں کرتے تھے بلکہ ان سے دشمنوں پر پگھلا ہوا سیسہ اور کھولتا ہوا پانی بھی انڈیلا جاتا تھا۔