گلوکارہ مہناز

گلوکارہ مہناز

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالحفیظ ظفر


مجھے دل سے نہ بھلاناچاہے روکے یہ زمانہتیرے بن میرا جیون کچھ نہیںفلم آئینہ کا یہ نغمہ جب بھی کانوں سے ٹکراتا ہے تو وجد طاری ہو جاتا ہے۔ یہ تاریخ ساز فلم 1977ء میں ریلیز ہوئی تھی۔ اس کے ہدایت کار نذرالاسلام تھے جبکہ سنگیت کار روبن گھوش تھے۔ اس فلم کے گیت سرور بارہ بنکوی اور تسلیم فاضلی نے تحریر کیے تھے۔ یہ فلم کراچی کے ایک سنیما میں مسلسل پانچ سال تک نمائش پذیر رہی۔ مذکورہ بالا گیت جس گلوکارہ نے گایا وہ تھیں مہناز بیگم۔ مہناز 1950ء میں کراچی میں پیدا ہوئیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق وہ 1958ء میں پیدا ہوئیں۔ ان کی والدہ کجن بیگم برصغیر پاک و ہند کی نامور گلوکارہ تھیں۔ مہناز کا اصل نام تسنیم تھا لیکن جب پلے بیک گائیکی سے انہیں شہرت ملی تو انہوں نے اپنا نام مہناز رکھ لیا۔ مہناز کا کمال یہ تھا کہ پلے بیک گائیکی کے علاوہ وہ غزل، ٹھمری، دادرا اور خیال بھی بڑی عمدگی سے گاتی تھیں۔ وہ سلام، مرثیے اور نوحے بھی باکمال طریقے سے پڑھتی تھیں۔ ان کا خاندان اتر پردیش (بھارت)سے تعلق رکھتا تھا جو 50ء کی دہائی میں پاکستان آ گیا۔ مہناز نے پلے بیک سنگر کی حیثیت سے 70ء کی دہائی میں اپنا کیرئیر شروع کیا۔ ان کی سریلی آواز نے شروع سے ہی سنگیت کاروں اور موسیقی کے مداحوں کو متاثر کیا۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہیں سُر پر بہت کنٹرول تھا۔ انہیں سب سے پہلے پرویز ملک کی فلم ’’پہچان‘‘ سے شہرت ملی۔ یہ فلم 1975ء میں ریلیز ہوئی۔ یہ وہ دور تھا جب ناہید اختر، مہناز، نیرہ نور اور اے نیّر اپنے فن کا جادو جگا رہے تھے۔ رونا لیلیٰ تقریباً آؤٹ ہو چکی تھیں۔ پہچان کا یہ گیت ’’تیرا پیار میرے جیون کے سنگ رہے گا‘‘ بہت مشہور ہوا۔ اس کے بعد 1976ء میں فلم ’’تلاش‘‘ کے اس گیت نے بھی مہناز کو بہت شہرت دی جس کے بول تھے ’’پیار کی یاد نگاہوں میں سجائے رکھنا‘‘۔ اس سے پہلے ان کی فلم ’’روشنی‘‘ کا گیت ’’بولو نا‘‘ بھی مقبول ہو چکا تھا۔ 1977ء میں ’’آئینہ‘‘ کے گیتوں نے ہر طرف دھوم مچا دی۔ اس میں مہناز، نیّرہ نور، مہدی حسن اور عالمگیر نے سحر انگیزگیت گائے۔ مہناز کا یہ گانا ’’مجھے دل سے نہ بھلانا‘‘ اور ’’وعدہ کرو ساجنا‘‘ فلم کے باقی گیتوں کی طرح بہت پسند کیے گئے۔ اس کے بعد فلم ’’بندش‘‘ میں ان کے گیت بڑے ہٹ ہوئے۔ مہناز کا مہدی حسن کے ساتھ یہ دو گانا ’’دو پیاسے دل ایک ہوئے ایسے‘‘ اور پھر ’’تجھے دل سے لگا لوں‘‘ بہت پسند کیے گئے۔ اس فلم کی موسیقی بھی روبن گھوش نے مرتب کی تھی۔ 1978ء میں ایس سلیمان کی فلم ’’پرنس‘‘ سپرہٹ ثابت ہوئی۔ اس کے تمام گیت خواجہ پرویز نے تحریر کیے تھے اور انہوں نے ثابت کیا کہ وہ پنجابی گیتوں کے علاوہ بڑے عمدہ اردو گیت بھی لکھ سکتے ہیں۔ ’’پرنس‘‘ میں ناہید اختر اور مہناز نے بڑے شاندار گیت گائے۔ مہناز کا یہ گیت جو بابرہ شریف پر پکچرائز ہوا تھا، بہت پسند کیا گیا۔ اس کے بول تھے ’’کوئی چہرہ میرے خوابوں میں سجا رہتا ہے‘‘۔ 1987ء میں مہناز نے پنجابی فلم ’’غازی علم دین شہید‘‘ کے لیے یہ گیت گا کر سب کو چونکا دیا۔ اس کے بول تھے ’’دل لائیے ناں عشق گل پائیے ناں‘‘ انہوں نے ثابت کر دیا کہ وہ بڑے شاندار طریقے سے پنجابی گیت بھی گا سکتی ہیں۔ فلم ’’انوکھا داج‘‘ (1980ئ) میں بھی ان کے گائے ہوئے گانے بڑے ہٹ ہوئے جو دردانہ رحمان پر پکچرائز کیے گئے۔ اس کے بعد فلم ’’چن وریام‘‘ میں انہوں نے میڈم نورجہاں کے ساتھ یہ گیت گایا ’’سن سن سن بھابھی ڈھول پیا وجدا‘‘ اس گیت کو بھی بہت سراہا گیا۔ مہناز کی فلموں میں ’’روشنی، تلاش، آئینہ، بندش، پرنس، غازی علم دین شہید، کالے چور، روٹی، شیشے کا گھر، پلے بوائے، بلندی، انمول محبت، امبر، قربانی، آبشار، بدلتے موسم، پرستش، پہلی نظر، دامن‘‘ اور کئی دوسری فلمیں شامل ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ مہناز کو سب سے پہلے 1973ء میں ریڈیو پاکستان کراچی کے سلیم گیلانی نے متعارف کرایا۔ اس کے بعد ٹی وی پروڈیوسر امیر امام نے انہیں ٹی وی پر گانے کا موقع فراہم کیا۔ 1981ء میں انہوں نے امریکہ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے شکاگو، نیویارک اور لاس اینجلس میں فنِ موسیقی کے متوالوں کے سامنے اپنی بے مثل گائیکی کا مظاہرہ کیا۔ تین سال بعد جب وہ برطانیہ گئیں تو وہاں بھی ان کے مداحوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ مہناز نے ریڈیو، ٹی وی اور فلموں کے لیے 2500 گانے گائے۔ ان کی مقبولیت آج بھی برقرار ہے۔ فلم ’’خوشبو‘‘ میں ان کا گایا ہوا یہ گیت ’’میں جس دن بھلا دوں ترا پیار دل سے‘‘ کلاسیک کا درجہ رکھتا ہے۔ فلم ’’بازارِ حسن‘‘ میں ان کا یہ گیت بہت پسند کیا گیا ’’لہروں کی طرح تجھ کو بکھرنے نہیں دیں گے‘‘ اور پھر ’’شیشے کا گھر‘‘ میں مہدی حسن کے ساتھ گایا ہوا ان کا دو گانا ’’یہ سفر تیرے میرے پیار کا‘‘ بہت شاندار تھا۔ ’’پلے بوائے‘‘ میں یہ گیت بھی زبان زدِ عام تھا ’’تیرا میرا کوئی نہ کوئی ناتا ہے‘‘۔ ’’دلہن ایک رات کی‘‘ میں بھی انہوں نے ورسٹائل ہونے کا ثبوت دیا جب انہوں نے یہ گیت گایا ’’آ جا آ جا کر لے پیار‘‘۔ ناگ اور ناگن‘‘ میں ان کا گایا ہوا گیت بھلا کون بھلا سکتا ہے ’’من جھومے من گائے‘‘۔ اس کے علاوہ اور بھی کئی ایسے گیت ہیں جو انہیں زندہ رکھیں گے۔ مہنازواحد گلوکارہ ہیں جنہوں نے سب سے زیادہ نگار ایوارڈ حاصل کیے۔ 19 جنوری 2013ء کو ان کاانتقال ہوگیا۔ ان کے فن کا آفتاب ہمیشہ چمکتا رہے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
اینٹی میٹر:کائنات کا سب سے مہنگا اور پر اسرار مادہ

اینٹی میٹر:کائنات کا سب سے مہنگا اور پر اسرار مادہ

کائنات میں موجود ہر شے مادے (Matter) سے بنی ہے مگر اسی کائنات میں ایک ایسا مادہ بھی موجود ہے جو ہماری عام فہم دنیا کے بالکل برعکس ہے۔ اسے'' اینٹی میٹر‘‘ کہا جاتا ہے۔ اینٹی میٹر کو آج تک انسان کا تخلیق کردہ سب سے مہنگا مادہ تصور کیا جاتا ہے تاہم اس کی قیمت دولت یا منڈی سے نہیں بلکہ اس کی تیاری، کنٹرول اور تحقیق کی غیر معمولی مشکل سے جڑی ہوئی ہے۔سائنسدانوں کے مطابق اینٹی میٹر فطرت میں آزاد حالت میں تقریباً نایاب ہے۔ اسے نہ کانوں سے نکالا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی قدرتی ذخیرے سے حاصل کیا جا سکتا ہے بلکہ یہ صرف جدید ترین پارٹیکل ایکسیلیریٹرز میں انتہائی کنٹرول شدہ حالات کے تحت ذرہ بہ ذرہ تیار کیا جاتا ہے۔اینٹی میٹر کیا ہے؟سادہ الفاظ میں اینٹی میٹر عام مادے کا الٹ ہے۔ مثال کے طور پر اگر مادے میں الیکٹران منفی چارج رکھتا ہے تو اینٹی میٹر میں اس کا متبادل پوزیٹرون مثبت چارج رکھتا ہے۔ اسی طرح پروٹان کا اینٹی ذرہ اینٹی پروٹان کہلاتا ہے۔یہ تصور پہلی بار بیسویں صدی کے اوائل میں سامنے آیا تھاجب برطانوی سائنسدان پال ڈراک نے 1928ء میں مساواتوں کے ذریعے پیش گوئی کی کہ مادے کے ہر ذرے کا ایک مخالف ذرہ بھی ہونا چاہیے۔ بعد ازاں 1932ء میں پوزیٹرون کی دریافت نے اس نظریے کو حقیقت میں بدل دیا۔اینٹی میٹر اور توانائی کا تعلقاینٹی میٹر کو غیر معمولی بنانے والی سب سے بڑی وجہ اس کی توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔ جب اینٹی میٹر کسی عام مادے سے ٹکراتا ہے تو دونوں مکمل طور پر فنا ہو جاتے ہیں اور ان کا تقریباً سو فیصد mass توانائی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ یہ عمل آئن سٹائن کے مشہور فارمولےE = mc2 کی عملی مثال ہے۔یہی وجہ ہے کہ نظریاتی طور پر اینٹی میٹر کو توانائی کا سب سے طاقتور ذریعہ تصور کیا جاتا ہے۔ ایک گرام اینٹی میٹر اگر مکمل طور پر مادے کے ساتھ فنا ہو جائے تو وہ اتنی توانائی پیدا کر سکتا ہے جو ایک بڑے ایٹمی دھماکے کے برابر ہو۔ تاہم یہ تصور ابھی عملی دنیا سے بہت دور ہے۔اینٹی میٹر کیوں اتنی مہنگا ہے؟اینٹی میٹر کی قیمت کا اندازہ لگانا خود ایک مشکل کام ہے مگر سائنسی اندازوں کے مطابق اس کے ایک گرام کی قیمت کھربوں ڈالر تک جا سکتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے تحقیقی ادارے، جیسے یورپی تنظیم برائے جوہری تحقیق (CERN) کئی سالوں کی محنت کے بعد بھی صرف نینوگرام (گرام کا اربواں حصہ) مقدار ہی تیار کر پاتے ہیں۔اینٹی میٹر کی تیاری میں بے پناہ توانائی، جدید مشینری اور انتہائی مہنگا انفراسٹرکچر درکار ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کو ذخیرہ کرنا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے کیونکہ اینٹی میٹر کسی بھی عام مادے سے چھوتے ہی فنا ہو جاتا ہے۔اینٹی میٹر کو کیسے محفوظ کیا جاتا ہے؟اینٹی میٹر کو محفوظ رکھنے کے لیے سائنسدان مقناطیسی جال (Magnetic Traps) استعمال کرتے ہیں۔ چونکہ اینٹی میٹر برقی چارج رکھتا ہے، اس لیے مضبوط مقناطیسی میدان کے ذریعے اسے خلا میں معلق رکھا جاتا ہے تاکہ وہ کسی بھی مادی سطح سے ٹکرانے سے محفوظ رہے۔یہ نظام نہایت نازک اور مہنگا ہوتا ہے اور ذرا سی خرابی اینٹی میٹر کو فوراً ختم کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے پیمانے پر اینٹی میٹر کا ذخیرہ فی الحال ممکن نہیں۔عملی استعمال؟اگرچہ اینٹی میٹر کو توانائی کے منبع کے طور پر استعمال کرنا فی الحال ناممکن ہے تاہم اس کے کچھ حقیقی اور قابلِ عمل استعمال پہلے ہی موجود ہیں۔طبی شعبے میں اینٹی میٹر کا استعمالPET Scan(Positron Emission Tomography) میں کیا جا رہا ہے جو کینسر اور دیگر پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ سائنسدان مستقبل میں اینٹی میٹر کو کینسر کے علاج میں انتہائی درست اور محدود نقصان کے ساتھ استعمال کرنے پر بھی تحقیق کر رہے ہیں۔ PETسکین اور اینٹی میٹر PET سکین میں اینٹی میٹر کو باہر سے لانے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ اسے خود پیدا کیا جاتا ہے اور فوراً استعمال کر لیا جاتا ہے۔PET سکین میں پازیٹرون استعمال کیا جاتا ہے جو الیکٹران کی اینٹی میٹر شکل ہے۔ پازیٹرون قدرتی طور پر نہیں ملتے بلکہRadioactive Decay کے دوران پیدا ہوتے ہیں۔ PETسکین میں استعمال ہونے والے کیمیکل (جیسے فلورین18) ایک خاص مشین سائیکلوٹرون (Cyclotron) میں تیار کیے جاتے ہیں۔یہ تابکار مادے خود بخود ٹوٹتے ہیں اور اس عمل میں پازیٹرون خارج کرتے ہیں۔ یوں اینٹی میٹر اسی لمحے پیدا ہوتا ہے جب اس کی ضرورت ہوتی ہے۔پازیٹرون انسانی جسم میں صرف ایک سے دو ملی میٹر تک سفر کرتا ہے۔ پھر وہ ایک الیکٹران سے ٹکرا کر دونوں ختم ہو جاتے ہیں۔ اس ٹکراؤ کے نتیجے میں دو گاما شعاعیں نکلتی ہیں جو ایک دوسرے کی مخالف سمت میں جاتی ہیں۔ PET سکینر ان شعاعوں سے یہ تعین کرتا ہے کہ ٹکراؤ کہاں ہوا۔ اسی بنیاد پر کینسر، دماغی سرگرمی اور میٹابولزم کا نقشہ بنایا جاتا ہے۔

مراقبہ اور دماغی صحت

مراقبہ اور دماغی صحت

خاموشی اور توجہ کے ذہنی اثراتاکیسویں صدی میں جہاں انسانی دماغ مسلسل معلومات، سکرینوں اور دباؤ کی زد میں ہے وہیں ارتکاز توجہ کا ایک قدیم عمل جدید سائنس کی توجہ کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ حالیہ سائنسی تحقیق سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ مراقبہ صرف ذہنی سکون ہی نہیں دیتا بلکہ یہ دماغی سرگرمی اور نیورل نیٹ ورک کی ساخت کو بھی بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایک نئی تحقیق کے مطابق گہرے مراقبے کے دوران دماغ ایک ایسی حالت میں داخل ہو سکتا ہے جسے ماہرینِ اعصاب ''برین کریٹیکلیٹی‘‘ (Brain Criticality) کہتے ہیں۔ یہ وہ نازک توازن ہے جہاں دماغ نہ مکمل انتشار کا شکار ہوتا ہے اور نہ ہی حد سے زیادہ جامد بلکہ ایک ایسی درمیانی کیفیت میں ہوتا ہے جو سیکھنے، توجہ، یادداشت اور لچکدار سوچ کے لیے مثالی سمجھی جاتی ہے۔اس تحقیق میں انتہائی تجربہ کار بدھ راہبوں کو چنا گیا جنہوں نے اوسطاً 15 ہزار گھنٹے سے زائد مراقبہ کیا ہوا تھا۔ سائنسدانوں نے دماغی سرگرمی ناپنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی میگنیٹو اینسیفلوگرافی (MEG) استعمال کی جو دماغ میں پیدا ہونے والے برقی مقناطیسی سگنلز کو نہایت باریکی سے ریکارڈ کرتی ہے۔تحقیق کے دوران دو مختلف مراقبہ تکنیکوں کا مطالعہ کیا گیا۔نتائج سے معلوم ہوا کہ مراقبہ دماغ کو زیادہ مستحکم اور مرتکز حالت میں لے جاتا ہے جو یکسوئی اور مسلسل توجہ کے لیے مفید ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مراقبے کے دوران دماغ میں پائی جانے والی گاما لہروں (Gamma Waves) میں کمی دیکھی گئی۔ عام طور پر یہ لہریں بیرونی محرکات اور تیز ذہنی سرگرمی سے جڑی ہوتی ہیں۔ ان میں کمی کا مطلب یہ لیا گیا کہ دماغ بیرونی دنیا سے ہٹ کر اندرونی شعور کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔تحقیق کا ایک اور اہم نکتہ یہ تھا کہ جو راہب زیادہ تجربہ کار تھے ان کے دماغ میں مراقبے اور عام حالت کے درمیان فرق نسبتاً کم تھا۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ طویل عرصے تک مراقبہ کرنے سے دماغ کی بنیادی حالت زیادہ پرسکون اور متوازن ہو جاتی ہے۔ یعنی مراقبہ صرف وقتی عمل نہیں رہتا بلکہ ذہن کی مستقل کیفیت میں ڈھل جاتا ہے۔کیا مراقبہ سب کے لیے مفید ہے؟اگرچہ یہ نتائج نہایت حوصلہ افزا ہیں مگر محققین خبردار کرتے ہیں کہ مراقبہ کوئی جادوئی حل نہیں۔ کچھ افراد میں، خاص طور پر شدید یا بغیر رہنمائی کے مراقبہ کرنے پر اضطراب، الجھن یا جذباتی بے چینی جیسے اثرات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ اسی لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ مراقبہ کو اعتدال، آگاہی اور درست رہنمائی کے ساتھ اپنانا چاہیے۔جدید سائنس اور قدیم حکمتیہ تحقیق اس بات کی ایک اور کڑی ہے کہ جدید نیورو سائنس آہستہ آہستہ ان اصولوں کی تصدیق کر رہی ہے جنہیں مشرقی فلسفہ صدیوں سے بیان کرتا آیا ہے۔ ماضی میں مراقبہ کو محض روحانی یا مذہبی عمل سمجھا جاتا تھا مگر آج یہ ذہنی صحت، تعلیم، تھراپی اور حتیٰ کہ کارپوریٹ دنیا میں بھی جگہ بنا رہا ہے۔مراقبہ محض آنکھیں بند کر کے بیٹھنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسا عمل ہے جو دماغ کی فعالیت، ساخت اور توازن کو نئی شکل دے سکتا ہے۔ تاہم یہ سفر صبر، تسلسل اور سمجھ بوجھ کا متقاضی ہے۔ خاموشی میں بیٹھ کر ذہن کو سننا شاید آج کے شور یدہ دور میں سب سے بڑی سائنسی اور انسانی ضرورت بنتا جا رہا ہے۔

آج تم یاد بے حساب آئے!فاطمہ ثریا بجیا ڈرامے کی آبرو (2016-1930ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!فاطمہ ثریا بجیا ڈرامے کی آبرو (2016-1930ء)

٭... یکم ستمبر 1930ء کو حیدرآباد دکن میں آنکھ کھولی۔٭...بجیا کا تعلق ہندوستان کے ایک علمی و ادبی گھرانے سے تھا۔ ٭... 1948ء میں ان کا خاندان ہجرت کرکے کراچی آگیا۔٭... بجیا اور ان کے بہن بھائی( انور مقصود، زہرہ نگاہ، سارہ نقوی اور زبیدہ طارق)پاکستان میں علم و ادب اور فنونِ لطیفہ کے مختلف شعبوں سے وابستہ ہوئے اور نام و مقام بنایا۔٭...بجیا نے قلم اور ڈرامائی تشکیل کی بدولت خوب نام پایا اور اپنی فکر اور نئی نسل کی تربیت کیلئے اپنے مشفقانہ اور پیار بھرے انداز کیلئے مشہور ہوئیں۔٭... بجیا کے ناولوں کی تعداد آٹھ بتائی جاتی ہے اور ایک ہی ناول کی اشاعت ممکن ہوسکی۔ ٭... مقبول ڈراموں میں '' شمع،افشاں،عروسہ ،زینت، اساوری،گھر ایک نگر،آگہی،انا،کرنیں،بابر،تصویرِ کائنات،سسّی پنوں‘انار کلی شامل ہیں٭...ان کی سوانحِ عمری ''برصغیر کی عظیم ڈرامہ نویس فاطمہ ثریا بجیا کی کہانی‘‘ کے عنوان سے 2012ء میں شائع ہوئی۔٭...1997ء میں حکومت پاکستان نے ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ''تمغہ حسن کارکردگی‘‘ اور 2012ء میں ''ہلالِ امتیاز‘‘ سے نوازا۔٭... قومی اور بین الاقوامی اعزازات اپنے نام کیے جن میں جاپان کا شاہی ایوارڈ بھی شامل ہے۔٭...صوبائی حکومت سندھ میں مشیر برائے تعلیم کی حیثیت سے خدمات بھی انجام دیں۔٭... 22 مئی 2012 ء کو ان کی سوانح حیات ''آپ کی بجیا‘‘ شائع ہوئی، جسے سیدہ عفت حسن رضوی نے چھ سال کی تحقیق کے بعد شائع کیا۔٭... یکم ستمبر 2018ء گوگل نے ان کی 88ویں سالگرہ کے دن گوگل ڈوڈل ریلیز کیا۔٭... کینسر کے باعث 86 سال کی عمر میں 10 فروری 2016ء کو وفات پائی۔

آج کا دن

آج کا دن

7 سالہ جنگ کا خاتمہ10 فروری 1763ء کو یورپ کی بڑی طاقتوں کے درمیان پیرس معاہدے پر دستخط ہوئے جس کے نتیجے میں سات سالہ جنگ ختم ہوئی۔ یہ جنگ 1756ء سے 1763ء تک جاری رہی اور اس میں برطانیہ، فرانس، سپین، پروشیا (جرمنی)اور دیگر یورپی طاقتیں شامل تھیں۔ اس جنگ کی خاص بات یہ تھی کہ اس کے محاذ صرف یورپ تک محدود نہیں رہے بلکہ شمالی امریکا، کیریبین، افریقہ اور برصغیر تک پھیلے ہوئے تھے، اسی لیے اسے بعض مورخین دنیا کی پہلی عالمی جنگ بھی کہتے ہیں۔ یہ معاہدہ امریکی تاریخ میں بھی نہایت اہم ثابت ہوا کیونکہ جنگ کے بعد برطانیہ نے مالی خسارہ پورا کرنے کے لیے اپنی امریکی کالونیوں پر ٹیکس عائد کیے۔ انہی ٹیکسوں کے خلاف ردعمل نے بالآخر امریکی انقلاب (1776ء ) کو جنم دیا۔ ملکہ وکٹوریہ کی شادی10 فروری 1840ء کو برطانیہ کی ملکہ وکٹوریہ کی شادی جرمن شہزادے پرنس البرٹ سے ہوئی۔ البرٹ ایک تعلیم یافتہ، ذہین اور اصلاح پسند شخصیت تھے۔ شادی کے بعد انہوں نے ملکہ وکٹوریہ کے مشیر کے طور پر اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے صنعت، سائنس، تعلیم اور فنونِ لطیفہ کے فروغ پر خاص توجہ دی۔ 1851ء کی عظیم صنعتی نمائش انہی کی سرپرستی میں منعقد ہوئی جس نے برطانیہ کو صنعتی انقلاب کا عالمی رہنما ثابت کیا۔1861ء میں پرنس البرٹ کی وفات کے بعد ملکہ وکٹوریہ طویل عرصے تک سوگ میں رہیں۔ پیرس امن معاہدہ10 فروری 1947ء کو دوسری جنگِ عظیم کے بعد پیرس امن معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ یہ معاہدے اٹلی، رومانیہ، ہنگری، بلغاریہ اور فن لینڈ جیسے ممالک کے ساتھ کیے گئے، جو جنگ کے دوران نازی جرمنی کے اتحادی تھے۔ان معاہدوں کا بنیادی مقصد یورپ میں امن بحال کرنا اور جنگ کے بعد کے عالمی نظام کو منظم کرنا تھا۔ اٹلی کو اپنی نوآبادیات سے دستبردار ہونا پڑا، فوجی طاقت محدود کر دی گئی اور جنگی نقصانات ادا کرنے کا پابند بنایا گیا۔ اسی طرح دیگر ممالک پر بھی فوجی اور سیاسی پابندیاں عائد کی گئیں۔ان معاہدوں کے نتیجے میں یورپ کا سیاسی نقشہ ایک بار پھر تبدیل ہوا۔ قیدیوں کا تبادلہ10 فروری 1962ء کو سرد جنگ کے دوران امریکا اور سوویت یونین کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ ہوا۔ اس تبادلے میں امریکی جاسوس طیارے U-2 کے پائلٹ گیری پاورز کو سوویت جاسوس روڈولف ایبل کے بدلے رہا کیا گیا۔ یہ واقعہ اس بات کی علامت تھا کہ شدید نظریاتی دشمنی کے باوجود دونوں سپر پاورز مکمل جنگ سے بچنے کے لیے سفارتی راستے کھلے رکھنا چاہتی تھیں۔یہ تبادلہ سرد جنگ کی نفسیاتی جنگ، خفیہ سفارتکاری اور طاقت کے توازن کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہے۔ اس واقعے نے ثابت کیا کہ عالمی سیاست میں دشمنی کے باوجود مذاکرات کی گنجائش ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ کمپیوٹر کی تاریخی فتح10 فروری 1996ء کو مصنوعی ذہانت کی تاریخ میں ایک انقلابی واقعہ پیش آیا جب IBM کے تیار کردہ سپر کمپیوٹرDeep Blue نے شطرنج کے عالمی چیمپئن گیری کاسپاروف کو ایک کھیل میں شکست دی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ کسی کمپیوٹر نے عالمی سطح کے انسانی چیمپئن کو شطرنج جیسے پیچیدہ ذہنی کھیل میں ہرایا۔شطرنج کو انسانی ذہانت، منصوبہ بندی اور تخلیقی سوچ کی علامت سمجھا جاتا تھا اور طویل عرصے تک یہ تصور عام تھا کہ مشین انسان کو اس میدان میں شکست نہیں دے سکتی۔Deep Blue کی فتح نے اس تصور کو چیلنج کر دیا۔

ایلون مسک کا مریخ منصوبہ خلا کی فتح یا انسانی وجود کا امتحان؟

ایلون مسک کا مریخ منصوبہ خلا کی فتح یا انسانی وجود کا امتحان؟

انسانی تاریخ میں خلا کو تسخیر کرنے کا خواب ہمیشہ سے موجود رہا ہے، مگر جدید دور میں ایلون مسک کے مریخ پر انسانی بستی بسانے کے منصوبے نے اس خواب کو ایک نئی شدت دے دی ہے۔ تاہم ماہرین کی تازہ آرا اس خواب کی ایک ہولناک حقیقت کی نشاندہی کر رہی ہیں، جس میں مریخ تک کا طویل اور کٹھن سفر انسانی جسم کیلئے سنگین خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔ خلائی تابکاری، کششِ ثقل کی کمی، ذہنی دباؤ اور جسمانی نظام کے بکھرنے جیسے عوامل وہ قیمت ہیں جو انسان کو اس جرات مندانہ مہم کے عوض چکانا پڑ سکتی ہے۔ یہ منصوبہ جہاں سائنسی ترقی کی علامت ہے، وہیں یہ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ کیا انسان واقعی اس قدر بڑی قربانی دینے کیلئے تیار ہے، یا مریخ کا سفر انسانی وجود کیلئے ایک ناقابلِ تصور آزمائش ثابت ہوگا؟جسمانی ساخت میں تبدیلی سے لے کر مدافعتی نظام کے تباہ کن دباؤ اور زچگی سے متعلق پیچیدگیوں تک، انسانیت کا مریخ پر آباد ہونا انسانی جسم کیلئے بے شمار مسائل لے کر آ سکتا ہے۔ ایلون مسک کا ماننا ہے کہ 2050ء تک مریخ پر انسانی بستی قائم کرنا ممکن ہو سکتا ہے، تاہم رائس یونیورسٹی کے پروفیسر اسکاٹ سولو من ( professor Scott Solomon ) کے مطابق اس سے قبل کئی بڑے چیلنجز اور بنیادی سوالات ایسے ہیں جن کے جوابات ملنا ابھی باقی ہیں، اس سے پہلے کہ مریخ پر مستقل انسانی موجودگی کو سنجیدگی سے زیرِ غور لایا جا سکے۔ اپنی آنے والی کتاب ''Becoming Martian: How Living in Space Will Change Our Bodies and Minds‘‘ میں سولو من اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سب سے اہم اور اب تک حل طلب سوال یہ ہے کہ آیا انسان زمین کے باہر افزائشِ نسل کے قابل ہو بھی پائے گا یا نہیں۔ یہ بات اب تک معلوم نہیں ہو سکی کہ کمزور یا تقریباً نہ ہونے والی کششِ ثقل اور زمین کے مقابلے میں کہیں زیادہ تابکاری والے ماحول میں، خلا یا کسی دوسرے سیارے پر بچے کی پیدائش ممکن بھی ہے یا نہیں۔اپنی کتاب میں سولو من وضاحت کرتے ہیں کہ خلا میں انسانوں کے درمیان جنسی تعلقات کا کوئی مصدقہ واقعہ سامنے نہیں آیا، اور کم کششِ ثقل کے ماحول میں جنین کی نشوونما اور بچے کی پیدائش کے بارے میں تحقیق بھی نہایت محدود ہے۔ مریخ پر نسل در نسل زندگی گزارنے کے ارتقائی اثرات بھی تاحال نامعلوم ہیں، تاہم سولو من کے مطابق غالب امکان یہی ہے کہ انسان وقت کے ساتھ قد میں چھوٹے ہو جائیں گے اور شاید زمین پر واپس آنے کے قابل بھی نہ رہیں۔ایک انٹرویو میں پروفیسر اسکاٹ سولو من نے کہا کہ ہم اس وقت تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جہاں انسان واقعی خلا کی گہرائیوں تک جانے کی سرحدوں کو آگے بڑھا رہا ہے۔میرے خیال میں قارئین کیلئے یہ جاننا دلچسپ ہوگا کہ اگر یہ کوششیں کامیاب ہو جائیں تو آگے کیا ہو سکتا ہے۔ یہی وہ کہانی ہے جو میں یہاں بیان کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ آیئے تصور کریں کہ اس کے بعد کیا ہوتا ہے۔اپنی کتاب کیلئے تحقیق کے دوران سولو من نے ناسا، اسپیس ایکس اور خلا کی تحقیق پر کام کرنے والے دیگر اداروں اور کمپنیوں کے درجنوں ماہرین سے گفتگو کی۔ اس عمل کے دوران اُن کیلئے سب سے حیران کن حقیقت یہ سامنے آئی کہ خلا میں افزائشِ نسل کے بارے میں ہمارا علم نہایت محدود ہے۔ پروفیسر کے مطابق،کسی دوسرے سیارے یا خلا میں کہیں ایک بستی یا شہر بسانے کا تصور دراصل یہ مفروضہ قائم کرتا ہے کہ لوگ وہاں جا کر بچے پیدا کر سکیں گے اور ایک خاندان کی پرورش کر پائیں گے۔ کیا ہم مریخ پر بچے پیدا کر سکتے ہیں؟ میرے خیال میں یہ سوال ابھی تک کھلا ہوا ہے۔ اگر اس کا جواب نفی میں ہے، یا اگر جواب اثبات میں ہے مگر اس کے ساتھ سنگین مسائل جڑے ہوئے ہیں، تو ہمیں یہ سب کچھ جان لینا چاہیے، میرے خیال میں، اس سے پہلے کہ ہم زمین سے باہر مستقل انسانی آبادیاں بسانے کے عملی منصوبوں کی طرف قدم بڑھائیں۔مریخ پر کششِ ثقل زمین کے مقابلے میں تقریباً ایک تہائی ہے۔ خلا میں وقت گزارنے والے خلا بازوں پر کی گئی وسیع تحقیق سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ کم کششِ ثقل والے ماحول میں ہڈیوں کی کثافت کم ہو جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مریخ پر رہنے والی خواتین کی ہڈیاں زیادہ نازک ہوں گی، جو بچے کی پیدائش کے دوران ایک سنگین مسئلہ بن سکتی ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ زچگی بذاتِ خود ایک پرخطر عمل ہے، لہٰذا ہم ایسے منظرنامے کا تصور کر سکتے ہیں جہاں مریخ پر پیدا ہونے والی خواتین کو بچے کی پیدائش کے دوران پیچیدگیوں کا خطرہ کہیں زیادہ ہو گا۔

ڈل جھیل کا سحر

ڈل جھیل کا سحر

جنت نظیر وادی کشمیر زندہ احساس کا نام ہے۔ ہمالیہ کے بلند و بالا پہاڑوں کے درمیان گھری یہ وادی اپنی خوبصورتی کی وجہ سے زمین پر جنت کہلاتی ہے۔ مغل شہنشاہ جہانگیر نے جب یہاں کے حسن کو دیکھا تو بے اختیار پکار اٹھا تھا کہ اگر زمین پر کہیں جنت ہے تو وہ یہیں ہے۔ڈل جھیل سری نگر کی پہچان اور یہاں کی معیشت و ثقافت کا مرکز ہے۔ جھیل کے شفاف پانی پر تیرتے شکارے اور عالیشان ہاؤس بوٹس ایسی دنیا تخلیق کرتے ہیں جو خوابوں سے کم نہیں۔کچھ لوگ ڈل جھیل کو لداخ کا حصہ سمجھتے ہیں جبکہ حقیقتاً لداخ میں نہیں بلکہ سری نگر وادی کشمیر کا دل کہلاتی ہے۔ لداخ اپنی خوبصورت جھیلوں جیسے پینگونگ کے لیے مشہور ہے لیکن شکارے اور کشمیری چائے کا جادو سری نگر کی ڈل جھیل سے وابستہ ہے۔بہت سے سیاحوں کا خواب ہوتا ہے کہ وہ غروبِ آفتاب کے وقت ڈل جھیل کے خاموش پانیوں میں شکارے پر سوار ہوں اور ہاتھ میں کشمیری قہوہ یا نون چائے یعنی گلابی چائے کا پیالہ ہو۔ یہ چائے کشمیری مہمان نوازی کی علامت ہے۔ طویل وقت میں پکنے والی یہ چائے بادام، پستے اور زعفران کی خوشبو سے مہکتی ہے جو جھیل کی ٹھنڈی ہواؤں میں عجیب سی تپش اور سکون بخشتی ہے۔کشمیر کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے، جس کا ذکر قدیم سنسکرت کتابوں اور یونانی مورخین کے ہاں ملتا ہے۔ ہندو اور بدھ مت دور میں قدیم کشمیر علم و ادب کا مرکز تھا۔ اشوک اعظم کے دور میں یہاں بدھ مت پھیلا۔ کلہن کی مشہور کتاب راج ترنگنی کشمیر کی قدیم تاریخ کا سب سے مستند ماخذ مانی جاتی ہے۔چودہویں صدی میں صوفیائے کرام، بالخصوص حضرت شاہ ہمدان امیر کبیر سید علی ہمدانیؒ کی آمد سے کشمیر میں انقلاب برپا ہوا۔ انہوں نے اسلام پھیلایا بلکہ ایران سے ہنرمند لا کر کشمیر کو صنعت و حرفت قالین بافی، شال سازی کا مرکز بنا دیا۔ مغلوں نے یہاں نشاط و شالیمار کے باغات لگوائے۔ مغلوں کے بعد افغانوں اور پھر سکھوں نے یہاں حکومت کی۔ 1846 میں معاہدہ امرتسر کے تحت انگریزوں نے کشمیر کو گلاب سنگھ کے ہاتھ 75 لاکھ نانک شاہی سکوں میں بیچ دیا۔ یہیں سے جدید کشمیر کے دکھوں کا آغاز ہوا جو 1947 کی تقسیم ہند کے بعد مستقل سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر گیا۔کشمیر کی ثقافت کشمیرایت کے فلسفے پر مبنی ہے، جہاں مختلف مذاہب کے لوگ صدیوں سے مل جل کر رہتے آئے ہیں۔ کشمیری پھیرن جو لمبا لبادہ ہوتا یے، یہاں کی سردی کا مقابلہ کرنے کا روایتی طریقہ ہے۔ یہاں کی پشمینہ شالیں پوری دنیا میں اپنی نزاکت اور گرمائش کے لیے مشہور ہیں۔ لکڑی پر نقش و نگار اور پیپر ماشی کے فن میں کشمیریوں کا کوئی ثانی نہیں۔ روؤف یہاں کا مشہور لوک رقص ہے جو عید اور خوشی کے مواقع پر خواتین کرتی ہیں۔ صوفیانہ کلام اور ستار کی دھنیں یہاں کی فضاؤں میں رچی بسی ہیں۔ کشمیری وازوان اپنی لذت کے لیے مشہور ہے جس میں 36 قسم کے پکوان شامل ہوتے ہیں۔ گوشت کو مختلف طریقوں سے پکانا جیسے گشتابہ کشمیری فنِ طباخی کا کمال ہے۔کشمیر کی سیاست ہمیشہ سے اس کے جغرافیائی مقام اور مذہبی شناخت کے گرد گھومتی رہی ہے۔ کشمیر کو پیر واری پیروں کی زمین کہا جاتا ہے۔ یہاں کی درگاہیں درگاہ حضرت بل اور چرارِ شریف عوامی یکجہتی کے مراکز ہیں۔ 1947 کے بعد سے کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازع خطہ بن گیا۔ یہ مسئلہ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود قدیم ترین مسائل میں سے ایک ہے۔ آرٹیکل 370 کے خاتمے اور حالیہ سیاسی تبدیلیوں نے اس خطے کی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ کشمیری عوام کی جدوجہد اپنی شناخت اور حقِ خودارادیت کے گرد گھومتی ہے۔اگرچہ ڈل جھیل لداخ میں نہیں لیکن لداخ بذاتِ خود کشمیر کا اہم حصہ رہا ہے اور اب انتظامی طور پر الگ ہے۔ لداخ کو چھوٹا تبت کہا جاتا ہے۔ یہاں کی ثقافت بدھ مت سے متاثر ہے اور یہاں کی بنجر پہاڑیاں، اونچے درے کھاردونگ لا اور سرد صحرا اسے وادی کشمیر سے بالکل مختلف لیکن اتنا ہی حسین بناتے ہیں۔کشمیر برف پوش پہاڑوں اور جھیلوں کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ انسانی عزم، بے پناہ ٹیلنٹ اور گہری روحانیت کی داستان ہے۔ ڈل جھیل کے پانیوں میں لرزتی ہاؤس بوٹ کی روشنی ہو یا کشمیری چائے کی بھاپ، یہ سب ایسی جنت کی یاد دلاتے ہیں جو امن اور سکون کی منتظر ہے۔ کشمیر کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ یہ خطہ ہمیشہ سے علم اور امن کا گہوارہ رہا ہے اور اس کی خوبصورتی اس کے لوگوں کی ہمت اور ان کی شاندار ثقافت میں پوشیدہ ہے۔