گلوکارہ مہناز

گلوکارہ مہناز

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالحفیظ ظفر


مجھے دل سے نہ بھلاناچاہے روکے یہ زمانہتیرے بن میرا جیون کچھ نہیںفلم آئینہ کا یہ نغمہ جب بھی کانوں سے ٹکراتا ہے تو وجد طاری ہو جاتا ہے۔ یہ تاریخ ساز فلم 1977ء میں ریلیز ہوئی تھی۔ اس کے ہدایت کار نذرالاسلام تھے جبکہ سنگیت کار روبن گھوش تھے۔ اس فلم کے گیت سرور بارہ بنکوی اور تسلیم فاضلی نے تحریر کیے تھے۔ یہ فلم کراچی کے ایک سنیما میں مسلسل پانچ سال تک نمائش پذیر رہی۔ مذکورہ بالا گیت جس گلوکارہ نے گایا وہ تھیں مہناز بیگم۔ مہناز 1950ء میں کراچی میں پیدا ہوئیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق وہ 1958ء میں پیدا ہوئیں۔ ان کی والدہ کجن بیگم برصغیر پاک و ہند کی نامور گلوکارہ تھیں۔ مہناز کا اصل نام تسنیم تھا لیکن جب پلے بیک گائیکی سے انہیں شہرت ملی تو انہوں نے اپنا نام مہناز رکھ لیا۔ مہناز کا کمال یہ تھا کہ پلے بیک گائیکی کے علاوہ وہ غزل، ٹھمری، دادرا اور خیال بھی بڑی عمدگی سے گاتی تھیں۔ وہ سلام، مرثیے اور نوحے بھی باکمال طریقے سے پڑھتی تھیں۔ ان کا خاندان اتر پردیش (بھارت)سے تعلق رکھتا تھا جو 50ء کی دہائی میں پاکستان آ گیا۔ مہناز نے پلے بیک سنگر کی حیثیت سے 70ء کی دہائی میں اپنا کیرئیر شروع کیا۔ ان کی سریلی آواز نے شروع سے ہی سنگیت کاروں اور موسیقی کے مداحوں کو متاثر کیا۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہیں سُر پر بہت کنٹرول تھا۔ انہیں سب سے پہلے پرویز ملک کی فلم ’’پہچان‘‘ سے شہرت ملی۔ یہ فلم 1975ء میں ریلیز ہوئی۔ یہ وہ دور تھا جب ناہید اختر، مہناز، نیرہ نور اور اے نیّر اپنے فن کا جادو جگا رہے تھے۔ رونا لیلیٰ تقریباً آؤٹ ہو چکی تھیں۔ پہچان کا یہ گیت ’’تیرا پیار میرے جیون کے سنگ رہے گا‘‘ بہت مشہور ہوا۔ اس کے بعد 1976ء میں فلم ’’تلاش‘‘ کے اس گیت نے بھی مہناز کو بہت شہرت دی جس کے بول تھے ’’پیار کی یاد نگاہوں میں سجائے رکھنا‘‘۔ اس سے پہلے ان کی فلم ’’روشنی‘‘ کا گیت ’’بولو نا‘‘ بھی مقبول ہو چکا تھا۔ 1977ء میں ’’آئینہ‘‘ کے گیتوں نے ہر طرف دھوم مچا دی۔ اس میں مہناز، نیّرہ نور، مہدی حسن اور عالمگیر نے سحر انگیزگیت گائے۔ مہناز کا یہ گانا ’’مجھے دل سے نہ بھلانا‘‘ اور ’’وعدہ کرو ساجنا‘‘ فلم کے باقی گیتوں کی طرح بہت پسند کیے گئے۔ اس کے بعد فلم ’’بندش‘‘ میں ان کے گیت بڑے ہٹ ہوئے۔ مہناز کا مہدی حسن کے ساتھ یہ دو گانا ’’دو پیاسے دل ایک ہوئے ایسے‘‘ اور پھر ’’تجھے دل سے لگا لوں‘‘ بہت پسند کیے گئے۔ اس فلم کی موسیقی بھی روبن گھوش نے مرتب کی تھی۔ 1978ء میں ایس سلیمان کی فلم ’’پرنس‘‘ سپرہٹ ثابت ہوئی۔ اس کے تمام گیت خواجہ پرویز نے تحریر کیے تھے اور انہوں نے ثابت کیا کہ وہ پنجابی گیتوں کے علاوہ بڑے عمدہ اردو گیت بھی لکھ سکتے ہیں۔ ’’پرنس‘‘ میں ناہید اختر اور مہناز نے بڑے شاندار گیت گائے۔ مہناز کا یہ گیت جو بابرہ شریف پر پکچرائز ہوا تھا، بہت پسند کیا گیا۔ اس کے بول تھے ’’کوئی چہرہ میرے خوابوں میں سجا رہتا ہے‘‘۔ 1987ء میں مہناز نے پنجابی فلم ’’غازی علم دین شہید‘‘ کے لیے یہ گیت گا کر سب کو چونکا دیا۔ اس کے بول تھے ’’دل لائیے ناں عشق گل پائیے ناں‘‘ انہوں نے ثابت کر دیا کہ وہ بڑے شاندار طریقے سے پنجابی گیت بھی گا سکتی ہیں۔ فلم ’’انوکھا داج‘‘ (1980ئ) میں بھی ان کے گائے ہوئے گانے بڑے ہٹ ہوئے جو دردانہ رحمان پر پکچرائز کیے گئے۔ اس کے بعد فلم ’’چن وریام‘‘ میں انہوں نے میڈم نورجہاں کے ساتھ یہ گیت گایا ’’سن سن سن بھابھی ڈھول پیا وجدا‘‘ اس گیت کو بھی بہت سراہا گیا۔ مہناز کی فلموں میں ’’روشنی، تلاش، آئینہ، بندش، پرنس، غازی علم دین شہید، کالے چور، روٹی، شیشے کا گھر، پلے بوائے، بلندی، انمول محبت، امبر، قربانی، آبشار، بدلتے موسم، پرستش، پہلی نظر، دامن‘‘ اور کئی دوسری فلمیں شامل ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ مہناز کو سب سے پہلے 1973ء میں ریڈیو پاکستان کراچی کے سلیم گیلانی نے متعارف کرایا۔ اس کے بعد ٹی وی پروڈیوسر امیر امام نے انہیں ٹی وی پر گانے کا موقع فراہم کیا۔ 1981ء میں انہوں نے امریکہ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے شکاگو، نیویارک اور لاس اینجلس میں فنِ موسیقی کے متوالوں کے سامنے اپنی بے مثل گائیکی کا مظاہرہ کیا۔ تین سال بعد جب وہ برطانیہ گئیں تو وہاں بھی ان کے مداحوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ مہناز نے ریڈیو، ٹی وی اور فلموں کے لیے 2500 گانے گائے۔ ان کی مقبولیت آج بھی برقرار ہے۔ فلم ’’خوشبو‘‘ میں ان کا گایا ہوا یہ گیت ’’میں جس دن بھلا دوں ترا پیار دل سے‘‘ کلاسیک کا درجہ رکھتا ہے۔ فلم ’’بازارِ حسن‘‘ میں ان کا یہ گیت بہت پسند کیا گیا ’’لہروں کی طرح تجھ کو بکھرنے نہیں دیں گے‘‘ اور پھر ’’شیشے کا گھر‘‘ میں مہدی حسن کے ساتھ گایا ہوا ان کا دو گانا ’’یہ سفر تیرے میرے پیار کا‘‘ بہت شاندار تھا۔ ’’پلے بوائے‘‘ میں یہ گیت بھی زبان زدِ عام تھا ’’تیرا میرا کوئی نہ کوئی ناتا ہے‘‘۔ ’’دلہن ایک رات کی‘‘ میں بھی انہوں نے ورسٹائل ہونے کا ثبوت دیا جب انہوں نے یہ گیت گایا ’’آ جا آ جا کر لے پیار‘‘۔ ناگ اور ناگن‘‘ میں ان کا گایا ہوا گیت بھلا کون بھلا سکتا ہے ’’من جھومے من گائے‘‘۔ اس کے علاوہ اور بھی کئی ایسے گیت ہیں جو انہیں زندہ رکھیں گے۔ مہنازواحد گلوکارہ ہیں جنہوں نے سب سے زیادہ نگار ایوارڈ حاصل کیے۔ 19 جنوری 2013ء کو ان کاانتقال ہوگیا۔ ان کے فن کا آفتاب ہمیشہ چمکتا رہے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
نمک پر مبنی بیٹریاں

نمک پر مبنی بیٹریاں

کیا انقلاب برپا کر سکتی ہیں؟دنیا توانائی کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں ماحول دوست ذرائع، الیکٹرک گاڑیاں (EVs) اور قابلِ تجدید توانائی مستقبل کی بنیاد بن چکے ہیں۔ اس تبدیلی کے ساتھ ایک بڑا سوال بھی پیدا ہوا ہے کہ توانائی کو محفوظ اور کم لاگت میں کیسے ذخیرہ کیا جائے۔ گزشتہ چند برسوں میں لیتھیم آئن بیٹریاں اس میدان میں سب سے کامیاب ٹیکنالوجی ثابت ہوئی ہیں لیکن اب سائنسدانوں اور صنعتکاروں کی توجہ ایک نئی ایجاد یعنی سوڈیم آئن (نمک پر مبنی) بیٹریوں کی طرف مبذول ہو رہی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی اپنی موجودہ رفتار سے ترقی کرتی رہی تو آنے والے برسوں میں یہ الیکٹرک گاڑیوں اور بجلی کے ذخیرے کے نظام میں ایک اہم تبدیلی لا سکتی ہے۔سوڈیم آئن بیٹری کیا ہے ، کیسے کام کرتی ہے؟سوڈیم آئن بیٹری میں توانائی ذخیرہ کرنے کے لیے لیتھیم کے بجائے سوڈیم آئن استعمال کیے جاتے ہیں۔ سوڈیم ایک ایسا عنصر ہے جو زمین پر بہت زیادہ مقدار میں موجود ہے اور عام نمک سمیت مختلف قدرتی ذرائع سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ان بیٹریوں کا بنیادی اصول لیتھیم آئن بیٹریوں سے ملتا جلتا ہے۔ چارج ہونے کے دوران سوڈیم آئن ایک الیکٹروڈ سے دوسرے الیکٹروڈ کی طرف منتقل ہوتے ہیں اور ڈسچارج کے وقت یہی عمل الٹی سمت میں ہوتا ہے جس سے برقی توانائی پیدا ہوتی ہے۔ اگرچہ دونوں ٹیکنالوجیز کا بنیادی طریقہ کار ایک جیسا ہے لیکن سوڈیم کی فراوانی اور کم قیمت اسے معاشی اعتبار سے زیادہ پرکشش بناتی ہے۔الیکٹرک گاڑیوں کیلئے فوائدسوڈیم آئن بیٹریوں کا سب سے بڑا فائدہ ان کی نسبتاً کم قیمت ہے۔ چونکہ سوڈیم دنیا کے تقریباً ہر خطے میں دستیاب ہے اس لیے اس کی فراہمی میں قلت کا خطرہ کم ہے۔ اس کے برعکس لیتھیم کے ذخائر چند ممالک تک محدود ہیں جس کے باعث قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور سپلائی چین کے مسائل پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ایک اور اہم خوبی ان کی بہتر حفاظتی خصوصیات ہیں۔ سوڈیم آئن بیٹریوں میں آگ لگنے یا زیادہ گرم ہونے کا خطرہ کئی روایتی لیتھیم آئن بیٹریوں کے مقابلے میں کم سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں بجلی کے بڑے سٹوریج نظام کے لیے موزوں تصور کیا جا رہا ہے جہاں ہزاروں بیٹریاں ایک ہی جگہ نصب ہوتی ہیں۔قابلِ تجدید توانائی، خصوصاً شمسی اور وِنڈ بجلی موسم کے مطابق پیدا ہوتی ہے۔ جب پیداوار زیادہ ہو تو اضافی بجلی کو محفوظ کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ ضرورت کے وقت استعمال کی جا سکے۔ کم قیمت اور بہتر استحکام کی وجہ سے سوڈیم آئن بیٹریاں اس مقصد کے لیے نہایت مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔اگرچہ یہ ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی ہے لیکن ابھی کچھ اہم چیلنجز بھی موجود ہیں۔ سب سے بڑی رکاوٹ توانائی کی کثافت (Energy Density) ہے۔ سوڈیم آئن بیٹریاں فی کلوگرام لیتھیم آئن بیٹریوں کے مقابلے میں کم توانائی ذخیرہ کرتی ہیں جس کا مطلب ہے کہ ایک ہی وزن میں ان سے کم فاصلہ طے کیا جا سکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ فی الحال لمبے فاصلے طے کرنے والی مہنگی الیکٹرک کاروں میں لیتھیم آئن بیٹریاں زیادہ موزوں سمجھی جاتی ہیں۔ تاہم شہری استعمال، چھوٹی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں، بسوں اور تجارتی گاڑیوں کے لیے سوڈیم آئن بیٹریاں مؤثر اور کم خرچ متبادل بن سکتی ہیں۔اس کے علاوہ نئی ٹیکنالوجی ہونے کی وجہ سے اس کی بڑے پیمانے پر پیداوار، معیار اور طویل مدتی کارکردگی پر ابھی تحقیقات جاری ہے۔ جیسے جیسے پیداوار بڑھے گی توقع ہے کہ ان کی کارکردگی اور قیمت میں مزید بہتری آئے گی۔ عالمی امکانات اور مستقبلدنیا کی کئی بڑی بیٹری ساز کمپنیاں سوڈیم آئن بیٹریوں پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ چین، یورپ اور دیگر ممالک میں متعدد کارخانے قائم کیے جا رہے ہیں جبکہ کئی گاڑیاں بنانے والی کئی کمپنیاں بھی اس ٹیکنالوجی کو اپنی مستقبل کی مصنوعات میں شامل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔تاہم ماہرین کے مطابق آئندہ دس برسوں میں سوڈیم آئن بیٹریاں خاص طور پر گرڈ سٹوریج، شمسی توانائی کے منصوبوں، کم قیمت الیکٹرک گاڑیوں اور عوامی ٹرانسپورٹ میں نمایاں کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اس سے نہ صرف بجلی کے ذخیرے کی لاگت کم ہوگی بلکہ صاف توانائی کے فروغ میں بھی مدد ملے گی۔پاکستان جیسے ممالک جہاں شمسی توانائی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں اہم ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر کم قیمت اور محفوظ بیٹریاں دستیاب ہو جائیں تو گھروں، صنعتوں اور دیہی علاقوں میں سولر انرجی کو زیادہ مؤثر انداز میں ذخیرہ کیا جا سکے گا جس سے بجلی کے بحران میں کمی آ سکتی ہے۔اگرچہ سوڈیم آئن بیٹریاں ابھی اپنی ترقی کے ابتدائی مرحلے میں ہیں لیکن ان کے امکانات انتہائی روشن ہیں۔ اگرچہ یہ فوری طور پر لیتھیم آئن بیٹریوں کی مکمل جگہ نہیں لے سکتیں تاہم کم قیمت، بہتر دستیابی، زیادہ تحفظ اور قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں ان کی افادیت انہیں مستقبل کی اہم ترین بیٹری ٹیکنالوجیز میں شامل کرتی ہے۔ آنے والے برسوں میں ممکن ہے کہ دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو جہاں الیکٹرک گاڑیوں، گھریلو توانائی کے نظام اور بجلی کے بڑے ذخیرے میں نمک پر مبنی بیٹریاں مرکزی کردار ادا کر رہی ہوں۔

قرض کے بدلے تعلیم

قرض کے بدلے تعلیم

نیا تصور اور توقعاتدنیا اس وقت ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں ایک طرف ترقی پذیر ممالک بڑھتے ہوئے بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور دوسری طرف تعلیم جیسے بنیادی شعبے کے لیے مالی وسائل مسلسل سکڑتے جا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو (UNESCO) کی تازہ رپورٹ:Turning debt into education investment اسی سنگین مسئلے کی نشاندہی کرتے ہوئے ایک قابلِ عمل حل پیش کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ترقی پذیر ممالک کو قرضوں کی ادائیگی کے بوجھ سے جزوی نجات دے کر وہی وسائل تعلیم کے شعبے میں منتقل کیے جائیں تاکہ مستقبل کی انسانی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔ یونیسکو کے مطابق تعلیم پر خرچ ہونے والی ہر رقم درحقیقت کسی ملک کی معاشی، سماجی اور انسانی ترقی میں سرمایہ کاری ہوتی ہے، نہ کہ محض ایک سرکاری خرچ۔بڑھتا ہوا قرض، سکڑتا ہوا تعلیمی بجٹگزشتہ ایک دہائی کے دوران عالمی معیشت کو کووڈ19 ، مہنگائی، توانائی کے بحران، موسمیاتی تبدیلی اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی جیسے متعدد چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ ان عوامل نے ترقی پذیر ممالک کی مالی حالت کو مزید کمزور کر دیا۔ بہت سے ممالک اپنی آمدنی کا بڑا حصہ بیرونی قرضوں کے سود اور اصل رقم کی ادائیگی پر خرچ کرنے پر مجبور ہیں جس کے باعث تعلیم، صحت اور سماجی بہبود کے شعبوں کے لیے وسائل محدود ہو گئے ہیں۔یونیسکو کے مطابق کئی کم اور درمیانے درجے کی آمدنی والے ممالک میں قرضوں کی ادائیگی پر ہونے والے اخراجات تعلیم کے سالانہ بجٹ سے زیادہ ہیں۔ اس کا براہِ راست اثر دسیوں لاکھ بچوں کی تعلیم پر پڑ رہا ہے۔ متعدد علاقوں میں نئے سکول تعمیر نہیں ہو پا رہے، موجودہ تعلیمی اداروں کی بنیادی سہولیات ناکافی ہیں، اساتذہ کی کمی ہے اور جدید تدریسی وسائل کی فراہمی بھی متاثر ہو رہی ہے۔یہ صورتِ حال اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی ہدف یعنی سب کے لیے معیاری اور مساوی تعلیم، کے حصول کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو عالمی سطح پر تعلیمی عدم مساوات مزید گہری ہوگی اور غربت کے خاتمے کی کوششیں بھی متاثر ہوں گی۔تعلیم کیلئے عالمی امداد میں کمیرپورٹ کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ تعلیم کے لیے بین الاقوامی ترقیاتی امداد مسلسل کم ہو رہی ہے۔ یونیسکو کے مطابق 2023ء سے 2027ء کے درمیان کم اور درمیانے درجے کی آمدنی والے ممالک کو تعلیم کے لیے ملنے والی بین الاقوامی امداد میں تقریباً 30 فیصد کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مزید برآں، 2025ء میں امریکہ نے اپنی مجموعی غیر ملکی امداد میں 57 فیصد، یورپی یونین نے 14 فیصد اور جاپان نے 6 فیصد کمی کی۔ ان فیصلوں کے اثرات ان ممالک پر سب سے زیادہ مرتب ہوئے جو پہلے ہی مالی بحران کا شکار تھے۔ ایسے حالات میں ترقی پذیر ممالک کے لیے متبادل مالی ذرائع تلاش کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔قرض کے بدلے تعلیمیونیسکو کی رپورٹ کا مرکزی نکتہ Debt for education swaps ہے، یعنی قرض کے بدلے تعلیم ۔اس نظام کے تحت قرض دینے والا ملک یا مالیاتی ادارہ قرض لینے والے ملک کا کچھ حصہ معاف کر دیتا ہے یا اس کی ادائیگی کی شرائط آسان بنا دیتا ہے۔ اس کے بدلے متعلقہ حکومت اتنی ہی رقم اپنے قومی تعلیمی منصوبوں پر خرچ کرنے کی پابند ہوتی ہے۔ یوں ایک طرف قرضوں کا بوجھ کم ہوتا ہے اور دوسری طرف تعلیم کے شعبے کو اضافی وسائل میسر آ جاتے ہیں۔یہ ماڈل محض نظریاتی تجویز نہیں بلکہ کئی ممالک میں کامیابی سے آزمایا جا چکا ہے۔ پیرو، مصر اور آئیوری کوسٹ سمیت مختلف ممالک نے قرضوں کی تنظیمِ نو کے نتیجے میں نئے سکول تعمیر کیے، اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت بہتر بنائی، تعلیمی سہولیات میں اضافہ کیا اور محروم طبقات کے بچوں تک تعلیم کی رسائی کو وسیع کیا۔تاہم یونیسکو اس بات پر بھی زور دیتا ہے کہ ایسے پروگرام صرف اسی صورت کامیاب ہو سکتے ہیں جب ان میں مکمل شفافیت، مؤثر نگرانی اور احتساب کا نظام موجود ہو۔ وزارتِ خزانہ، وزارتِ تعلیم، قرض دہندگان، بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان مربوط تعاون اس ماڈل کی کامیابی کی بنیادی شرط ہے۔ ترقی پذیر ممالک کیلئے سبقپاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ قرض کے بدلے تعلیم کا ماڈل غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان ہر سال اپنے بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی پر خرچ کرتا ہے جبکہ تعلیم پر اخراجات عالمی معیار سے کم ہیں۔ اس کے نتیجے میں قریب ڈھائی کروڑ بچے سکول سے باہر ہیں، سرکاری تعلیمی ادارے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور اساتذہ کی کمی سمیت متعدد مسائل برقرار ہیں۔اگر پاکستان مستقبل میں قرض دہندگان اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ ایسے معاہدوں کی جانب پیش رفت کرے جن کے تحت قرضوں کی جزوی معافی کے بدلے تعلیم میں سرمایہ کاری کی جائے تو اس سے تعلیمی نظام میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ تعلیم پر خرچ ہونے والا ہر روپیہ مستقبل میں زیادہ پیداواری معیشت، بہتر روزگار، کم غربت، سماجی استحکام اور مضبوط جمہوری اداروں کی صورت میں کئی گنا منافع دیتا ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ ترقی پذیر ممالک کو صرف مزید قرض فراہم کرنے کے بجائے ایسے مالیاتی ماڈلز اختیار کرے جو انسانی ترقی کو ترجیح دیں۔ اسی طرح ترقی پذیر ممالک کو بھی تعلیم کو اخراجات نہیں بلکہ قومی سرمایہ کاری سمجھتے ہوئے اپنے بجٹ میں اس کا حصہ بڑھانا ہوگا۔ اگر قرضوں کے بوجھ کو کم کرکے تعلیم میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے تو نہ صرف معیاری تعلیم کا خواب حقیقت بن سکتا ہے بلکہ غربت کے خاتمے، معاشی ترقی، سماجی انصاف اور پائیدار ترقی کے عالمی اہداف کا حصول بھی زیادہ تیزی سے ممکن ہوگا۔

آج کا دن

آج کا دن

باستیل قلعے پر حملہ14 جولائی 1789ء کو پیرس میں عوام نے باستیل نامی قلعے اور جیل پر حملہ کیا۔ یہ واقعہ فرانسیسی انقلاب کا نقطہ آغاز سمجھا جاتا ہے۔ اس زمانے میں فرانس کے بادشاہ لوئی XVI کی حکومت تھی۔ ملک شدید معاشی بحران، مہنگائی اور بے روزگاری کا شکار تھا۔ عام عوام پر بھاری ٹیکس عائد تھے جبکہ اشرافیہ بہت سی مراعات سے فائدہ اٹھا رہی تھی۔باستیل جیل میں اس وقت بہت کم قیدی موجود تھے لیکن یہ شاہی ظلم، آمریت اور عوامی آزادیوں کی پامالی کی علامت بن چکی تھی۔ ہزاروں شہریوں نے اس پر حملہ کیا، طویل جھڑپ کے بعد قلعے پر قبضہ کر لیا۔ اس حملے کے بعد فرانس میں انقلابی تحریک مزید مضبوط ہوگئی اور جاگیردارانہ نظام کے خاتمے کی راہ ہموار ہوئی۔ میرینر 4 مریخ مشن14 جولائی 1965ء کو ناسا کے خلائی جہامیرینر 4 نے پہلی مرتبہ مریخ کے انتہائی قریب کامیاب پرواز کی۔ یہ انسانی تاریخ کا پہلا مشن تھا جس نے کسی دوسرے سیارے کی قریبی تصاویر زمین پر بھیجیں۔ اس مشن کا آغاز 28 نومبر 1964 کو کیا گیا تھا اور تقریباً آٹھ ماہ کے سفر کے بعد یہ مریخ تک پہنچا۔میرینر 4 نے مریخ کی 21 تصاویر زمین پر ارسال کیں۔اس مشن نے مریخ کے ماحول کے بارے میں بھی اہم معلومات فراہم کیں۔اس کامیابی نے وائکنگ، پاتھ فائنڈر، کیوراسٹی، پرسیویرنس اورسرخ سیارے کے دیگر مشنز کی بنیاد مضبوط کی اور خلائی تحقیق میں ایک تاریخی سنگِ میل قائم کیا۔ عراق میں انقلاب14 جولائی 1958ء کو عراق میں ایک فوجی انقلاب برپا ہوا ۔ اس انقلاب کی قیادت بریگیڈیئر عبدالکریم قاسم اور کرنل عبدالسلام عارف نے کی۔ اس وقت عراق پر شاہ فیصل دوم کی بادشاہت قائم تھی جبکہ وزیر اعظم نوری السعید تھے۔انقلابی فوجی دستے بغداد میں داخل ہوئے اور شاہی محل پر قبضہ کر لیا۔ اس کارروائی میں شاہ فیصل دوم، ولی عہد شہزادہ عبدالالٰہ اور شاہی خاندان کے دیگر افراد قتل کر دیے گئے۔ کچھ ہی دیر بعد وزیر اعظم نوری السعید بھی ہلاک ہوگئے ۔ اس واقعے کے بعد خطے میں قوم پرستی، فوجی حکومتوں اور سیاسی تبدیلیوں کا ایک نیا دور شروع ہوا جس کے اثرات کئی دہائیوں تک محسوس کیے گئے۔ سیڈیشن ایکٹ کی منظوری14 جولائی 1798ء کو ریاستہائے متحدہ امریکہ میں سیڈیشن ایکٹ نافذ کیا گیا۔اس قانون کے تحت حکومت، کانگریس یا صدر کے خلاف توہین آمیز یا بدنیتی پر مبنی تحریری یا زبانی بیانات کو جرم قرار دیا گیا۔ تاہم ناقدین نے اس قانون کو اظہارِ رائے کی آزادی پر حملہ قرار دیا۔اس قانون کے تحت کئی اخبارات کے مدیران، صحافیوں اور حکومت کے مخالف سیاست دانوں پر مقدمات قائم کیے گئے۔ اس کے باعث امریکی معاشرے میں شدید سیاسی بحث چھڑ گئی۔ بہت سے لوگوں نے دلیل دی کہ یہ قانون امریکی آئین کی پہلی ترمیم کے خلاف ہے، جو آزادی اظہار اور آزادی صحافت کی ضمانت دیتی ہے۔بعد میں یہ قانون ختم ہوگیا۔ K2 کی پہلی کامیاب فتح14 جولائی 1954ء کو دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی K2 (بلندی 8611 میٹر) پہلی مرتبہ سر کی گئی۔ یہ کارنامہ دو اطالوی کوہ پیماؤں نے انجام دیا۔ 1954ء سے پہلے کئی بین الاقوامی مہمات اس چوٹی کو سر کرنے کی کوشش کر چکی تھیں لیکن سب ناکام رہیں یا شدید جانی نقصان اٹھانا پڑا۔اطالوی مہم نے طویل منصوبہ بندی، جدید کوہ پیمائی تکنیک اور غیر معمولی جسمانی و ذہنی صلاحیت کے ذریعے یہ تاریخی کامیابی حاصل کی۔ یہ کامیابی عالمی کوہ پیمائی کی تاریخ کا ایک نمایاں باب ہے اور پاکستان کے شمالی پہاڑی علاقوں کو بین الاقوامی سطح پر مزید شہرت ملی۔آج بھی K2 کو ماؤنٹ ایورسٹ کے مقابلے میں زیادہ مشکل اور خطرناک چوٹی تصور کیا جاتا ہے۔

سرخ سیارے پر زندگی؟

سرخ سیارے پر زندگی؟

مریخ کے راز پھر بے نقاب ہونے لگےناسا کی تصویر اور خلائی مخلوق کی نئی قیاس آرائیاںکیا کائنات میں زمین کے علاوہ بھی کہیں زندگی موجود ہے؟ یہ وہ سوال ہے جس نے صدیوں سے سائنس دانوں، فلسفیوں اور عام انسانوں کے تجسس کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ جب بھی خلا سے موصول ہونے والی کوئی نئی تصویر یا غیرمعمولی ساخت منظر عام پر آتی ہے تو یہ بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر لیتی ہے۔ حال ہی میں ناسا کی جانب سے مریخ کی سطح سے لی گئی ایک تصویر نے دنیا بھر میں نئی قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے۔ اس تصویر میں نظر آنے والی ایک پراسرار چٹانی ساخت کو بعض افراد مصنوعی تعمیر یا کسی ذہین مخلوق کے آثار قرار دے رہے ہیں، جبکہ ماہرین ارضیات اور خلائی سائنس دان اسے قدرتی ارضیاتی عمل کا نتیجہ بتا رہے ہیں۔ حقیقت خواہ کچھ بھی ہو، اس واقعے نے ایک مرتبہ پھر سرخ سیارے پر ممکنہ حیات، خلائی مخلوق اور کائنات کے ان گنت رازوں کے بارے میں عالمی دلچسپی کو نئی مہمیز دے دی ہے۔مریخ کی سطح پر موجود ایک عجیب و غریب شکل کے حامل جسم کی تصویر نے ایک بار پھر سرخ سیارے پر خلائی مخلوق کی موجودگی سے متعلق حیران کن نظریات کو ہوا دے دی ہے۔ یہ تصویر ناسا کے ''اپرچیونٹی (Opportunity) روور‘‘ نے 2014ء میں لی تھی، تاہم حال ہی میں سوشل میڈیا پر دوبارہ وائرل ہوگئی، جہاں متعدد صارفین نے دعویٰ کیا کہ تصویر میں نظر آنے والی شے کسی ''خلائی مخلوق کی بندوق‘‘ سے مشابہت رکھتی ہے۔ویب سائٹ ''UFO Sighting Daily‘‘ سے وابستہ مریخ پر تحقیق کرنے والے اسکاٹ سی وارنگ (Scott C Waring)نے دعویٰ کیا کہ یہ مبینہ ''بندوق‘‘ اس بات کا ثبوت ہے کہ ناسا نے مریخ پر روور بھیجنے کا مقصد وہاں موجود خلائی مخلوق کی ٹیکنالوجی حاصل کرنا تھا۔وارنگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر لکھا: ''مریخ پر خلائی مخلوق کی بندوق کی تصاویر میں سے اب صرف ایک باقی رہ گئی ہے، جبکہ دیگر تصاویر ناسا نے حذف کر دی ہیں‘‘۔اس سے قبل بھی وارنگ نے اپنے ایک بلاگ میں اس تصویر کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ مبینہ ہتھیار کی لمبائی تقریباً ایک فٹ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے اعتراف کرنا پڑے گا کہ یہ واقعی حیران کن ہے۔ اس بندوق کی درست جگہ ''ایس او ایل 3773‘‘ پر ہے، جو ماؤنٹ ایجکمب (Mt Edgecumbe) اور وڈوویاک رج (Wdowiak Ridge)کے درمیان واقع ہے۔دوسری جانب ناسا کے مطابق اپرچیونٹی روور نے 25جنوری 2004ء کو مریخ پر کامیاب لینڈنگ کی تھی۔ یہ روور مریڈیانی پلانم (Meridiani Planum) کے علاقے میں واقع ایک چھوٹے تصادمی گڑھے، ایگل کریٹر (Eagle Crater) میں اترا تھا۔تاہم جون 2018ء میں پورے مریخ کو اپنی لپیٹ میں لینے والے شدید گرد و غبار کے طوفان کے باعث سورج کی روشنی روور کے سولر پینلز تک نہ پہنچ سکی، جس کے نتیجے میں اس کا رابطہ منقطع ہوگیا۔ کئی ماہ تک رابطہ بحال کرنے کی کوششوں کے باوجود ناسا نے فروری 2019ء میں باضابطہ طور پر اس تاریخی مشن کے اختتام کا اعلان کر دیا تھا۔ واضح رہے کہ ناسا نے اس تصویر کو کبھی بھی خلائی مخلوق یا کسی مصنوعی ہتھیار کا ثبوت قرار نہیں دیا۔ ماہرین کے مطابق مریخ پر نظر آنے والی ایسی بیشتر اشکال قدرتی چٹانی ساختیں ہیں، جنہیں انسانی دماغ بعض اوقات مانوس اشیاء کی شکل میں دیکھتا ہے، جسے نفسیات میں پیریڈولیا (Pareidolia) کہا جاتا ہے۔تاہم، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یو ایف او کے محققین کے یہ دعوے محض ''پیریڈولیا‘‘ کا ایک نمونہ ہیں۔ یہ ایک نفسیاتی کیفیت ہے جس میں انسانی دماغ بے ترتیب اشکال، چٹانوں یا سائے میں چہروں، جانوروں یا روزمرہ استعمال کی مانوس اشیاء کی شکلیں دیکھنے لگتا ہے، حالانکہ حقیقت میں وہاں ایسی کوئی چیز موجود نہیں ہوتی۔دوسری جانب ناسا مسلسل اس مؤقف پر قائم ہے کہ اب تک اسے خلائی مخلوق کے وجود کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں ملا اور نہ ہی مریخ پر موجودہ یا ماضی کی کسی بھی قسم کی حیات کے واضح شواہد دریافت ہوئے ہیں۔اگرچہ اسکاٹ سی وارنگ کو یقین ہے کہ اپرچیونٹی روور نے مریخ کی سطح پر ایک بندوق نما شے کی تصویر محفوظ کی ہے، لیکن بہت سے لوگ اس دعوے سے اتفاق نہیں کرتے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا: ''میں کوئی ماہر نہیں ہوں، لیکن میرے خیال میں یہ محض ایک چٹان ہے۔جبکہ ایک اور صارف نے طنزیہ انداز میں کہا: اگر یہ واقعی خلائی مخلوق کی بندوق ہے تو پھر اسے انسانی ہاتھوں اور انگلیوں کے مطابق کیوں بنایا گیا ہوگا؟۔اسکاٹ سی وارنگ گزشتہ تقریباً ایک دہائی سے مریخ پر موجود غیر معمولی شکل و صورت رکھنے والی چٹانوں کو خلائی مخلوق سے جوڑتے رہے ہیں۔ 2016ء میں بھی انہوں نے ایک چٹان کو جوتا قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ یہ کسی قدیم مخلوق کی باقیات کا ثبوت ہوسکتی ہے۔انہوں نے اپنی ویب سائٹ پر لکھا: مریخ کے روور کی تصاویر کا جائزہ لیتے ہوئے مجھے ایک گڑھے کے کنارے ایک تنہا جوتا دکھائی دیا۔مزید انہوں نے قیاس آرائی کرتے ہوئے کہاکہ ممکن ہے یہ کسی ایسی مخلوق کا جوتا ہو جو بہت پہلے کسی جنگ میں شامل رہی ہو، اور یہ جوتا ہی اس بات کا واحد ثبوت ہو کہ وہ مخلوق کبھی موجود تھی۔وارنگ کے مطابق یہ مبینہ دریافت 24 اگست 2016ء کو سامنے آئی، تاہم جس اصل تصویر کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا گیا، وہ اپرچیونٹی روور نے 2013ء میں مریخ کی سطح سے کھینچی تھی۔

بڑھتے  سیلاب اور پیاسا پاکستان

بڑھتے سیلاب اور پیاسا پاکستان

کبھی پنجاب اور سندھ کے تقریباً ہر گائوں میں ایک جوہڑ ضرور ہوتا تھا۔ یہ صرف پانی کا تالاب نہیں بلکہ گائوں کی زندگی کا مرکز ہوتا تھا۔ بارش کا پانی یہیں جمع ہوتا، مویشی سیراب ہوتے، پرندے بسیرا کرتے، کنول کے پھول پانی کی سطح پر لہراتے اور زمین کے نیچے موجود آبی ذخائر بھی انہی جوہڑوں کے ذریعے دوبارہ بھر جاتے تھے۔ وقت بدلا، ترقی کے نام پر زمین کا استعمال بدل گیا، ٹیوب ویل عام ہو گئے، آبادی پھیلتی گئی اور یہ جوہڑ ماضی کا قصہ بنتے چلے گئے۔ آج پاکستان ایک ایسے ماحولیاتی بحران سے دوچار ہے جس پر ابھی تک سنجیدگی سے توجہ نہیں دی گئی۔ یہ بحران ملک کے ویٹ لینڈز، یعنی قدرتی آبی اور دلدلی علاقوں کے تیزی سے ختم ہونے کا ہے۔ یہی وہ قدرتی نظام ہیں جو سیلاب کی شدت کم کرتے ہیں، زیرزمین پانی کو دوبارہ بھرنے میں مدد دیتے ہیں، آلودگی کو قدرتی انداز میں صاف کرتے ہیں اور ہزاروں اقسام کے جانوروں اور پرندوں کو زندگی فراہم کرتے ہیں۔ پاکستان خوش قسمت ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں قدرت نے بے شمار ویٹ لینڈز عطا کیے۔ ملک میں بین الاقوامی اہمیت کے حامل 19 رامسر ویٹ لینڈز موجود ہیں جن میں دریائے سندھ کے سیلابی میدان، شمالی علاقوں کی خوبصورت جھیلیں اور سندھ کے ساحلی مینگرووز شامل ہیں۔ مگر افسوس کہ شہری آبادی میں اضافہ، زرعی تجاوزات، صنعتی آلودگی، دریائوں میں پانی کی کمی اور موسمیاتی تبدیلی نے ان قدرتی نعمتوں کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سب سے بڑی غلط فہمی یہ رہی کہ ویٹ لینڈز کو اکثر غیر استعمال شدہ یا بیکار زمین سمجھ لیا گیا، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہ علاقے قدرتی اسفنج کی طرح کام کرتے ہیں۔ جب بارشیں زیادہ ہوں تو اضافی پانی جذب کر لیتے ہیں اور خشک موسم میں آہستہ آہستہ وہی پانی زمین اور ماحول کو واپس فراہم کرتے ہیں۔ اگر یہ نظام موجود نہ ہو تو سیلاب زیادہ تباہ کن اور خشک سالی شدید تر ہو جاتی ہے۔پاکستان کے دیہی معاشرے میں جوہڑ اسی قدرتی نظام کا اہم حصہ تھے۔ کنول اور دیگر آبی پودے پانی کو قدرتی طور پر صاف کرتے جبکہ زمین کے اندر پانی کا ذخیرہ مسلسل بڑھتا رہتا۔ بزرگ آج بھی یاد کرتے ہیں کہ ان جوہڑوں میں صرف پانی نہیں بلکہ ایک مکمل ماحولیاتی نظام آباد تھا۔پھر ٹیوب ویلوں کا دور آیا۔ کسانوں نے زیرزمین پانی پر انحصار بڑھا لیا، خاص طور پر شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویلوں کے بعد پانی نکالنا مزید آسان ہو گیا۔ جب ہر کھیت میں ٹیوب ویل لگ گیا تو جوہڑ غیر ضروری محسوس ہونے لگے۔ ان کی صفائی بند ہوئی، دیکھ بھال ختم ہوئی اور بالآخر کئی جوہڑ مٹی سے بھر دیے گئے یا ان پر مکانات تعمیر کر دیے گئے۔ اس تبدیلی نے ایک ایسا نقصان پہنچایا جس کا احساس آج ہو رہا ہے۔ زیرزمین پانی تو مسلسل نکالا جاتا رہا مگر اسے دوبارہ بھرنے والے قدرتی ذرائع ختم ہوتے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہو چکا ہے جہاں زیرزمین پانی تیزی سے کم ہو رہا ہے۔دیہات سے شہروں کی طرف ہجرت نے بھی اس مسئلے کو مزید بڑھا دیا۔ پہلے جوہڑ پورے گائوں کی مشترکہ ذمہ داری ہوتے تھے، مگر جب آبادی منتشر ہوئی تو اجتماعی نظام بھی ٹوٹ گیا۔ نتیجتاً بہت سے جوہڑوں کو رہائشی اور زرعی زمین میں تبدیل کر دیا گیا۔ یہی صورتحال بڑے شہروں کے گرد موجود قدرتی ویٹ لینڈز کے ساتھ بھی پیش آئی، جہاں ہائوسنگ سوسائٹیز اور سڑکوں نے قدرتی آبی راستوں کو ختم کر دیا۔ایک اور مسئلہ آلودگی کا ہے۔ ماضی میں دیہات کا فضلہ جوہڑوں میں آتا تھا جہاں قدرتی حیاتیاتی عمل اسے کافی حد تک صاف کر دیتا تھا، مگر جدید دور کے پلاسٹک، کیمیائی مادوں اور صنعتی فضلے نے اس قدرتی نظام کی صلاحیت کو ختم کر دیا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان قدرتی آبی ذخائر کو بحال کرنے کے بجائے انہیں ہی ختم کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں آج بغیر صاف کیا گیا گندا پانی براہِ راست نہروں اور دریائوں میں شامل ہو رہا ہے۔ویٹ لینڈز کی تباہی کا سب سے بڑا اثر موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں سامنے آ رہا ہے۔ دریائوں کے کنارے موجود قدرتی سیلابی میدان پہلے اضافی پانی کو جذب کر لیتے تھے، مگر اب ان پر بند، سڑکیں اور آبادیاں قائم ہو چکی ہیں۔ اسی طرح سندھ کے ساحلی علاقوں میں موجود مینگرووز کے جنگلات بھی تیزی سے سکڑ رہے ہیں۔ دریائے سندھ سے میٹھے پانی کی کم ہوتی مقدار اور سمندر کے بڑھتے ہوئے دبائو نے ان جنگلات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت صرف کنکریٹ کے ڈیموں، بندوں اور مہنگے منصوبوں پر انحصار کرنے کے بجائے قدرتی نظام کو بحال کرنے پر توجہ دے تو کم لاگت میں زیادہ مؤثر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اسی سوچ کے تحت ''ری چارج پاکستان‘‘ جیسے منصوبے شروع کیے گئے ہیں، جن کا مقصد ویٹ لینڈز کی بحالی، قدرتی سیلابی میدانوں کی حفاظت اور زیرزمین پانی کی ری چارجنگ کو فروغ دینا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مسئلے کا حل مکمل طور پر نیا نہیں بلکہ ہماری اپنی روایات میں موجود ہے۔ اگر دیہی علاقوں کے پرانے جوہڑ دوبارہ بحال کر دیے جائیں، ان پر قبضے ختم کیے جائیں اور مقامی آبادی کو ان کی دیکھ بھال میں شریک کیا جائے تو نہ صرف زیرزمین پانی کی سطح بہتر ہو سکتی ہے بلکہ سیلابی خطرات بھی کم کیے جا سکتے ہیں۔اصل ضرورت سوچ بدلنے کی ہے۔ جب تک ویٹ لینڈز کو بیکار زمین سمجھا جاتا رہے گا، ان کا تحفظ ممکن نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ زمین نہیں بلکہ پانی، ماحول، زراعت، جنگلی حیات اور انسانی زندگی کے محافظ ہیں۔ آج اگر ہم نے ان قدرتی آبی نظاموں کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش نہ کی تو آنے والی نسلوں کو صرف پانی کی کمی ہی نہیں بلکہ زیادہ تباہ کن سیلاب، بڑھتی ہوئی آلودگی اور شدید موسمی خطرات کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔قدرت نے پاکستان کو پانی محفوظ رکھنے کے بے شمار قدرتی طریقے عطا کیے تھے، مگر ہم نے ترقی کے نام پر انہی محافظوں کو ختم کر دیا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ایک بار پھر جوہڑوں، دلدلی علاقوں، سیلابی میدانوں اور مینگرووز کی اہمیت کو سمجھیں۔ کیونکہ جب ویٹ لینڈز ختم ہوتے ہیں تو صرف تالاب خشک نہیں ہوتے، بلکہ ایک پوری قوم اپنی قدرتی حفاظتی ڈھال سے محروم ہو جاتی ہے۔

ایک واقعہ

ایک واقعہ

میری زندگی میں کوئی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا جس پر یہ اصرار ہو کہ میں اسے ضرور یاد رکھوں۔ مجھے اپنے بارے میں یہ خوش فہمی بھی ہے کہ کسی اور کی زندگی میں کوئی ایسا واقعہ پیش نہ آیا ہوگا جس کا تعلق مجھ سے رہا ہو اور وہ اسے بھول نہ گیا ہو۔ میں تو اس درجہ بدنصیب سر پھرا ہوں کہ لکھتے وقت یہ بھی بھول جاتاہوں کہ ادب میں صرف 'اشتراکیت‘ ترقی پسندی کی علامت ہے، اس کا سبب کیا ہے، مجھے بالکل نہیں معلوم، مجھے اس کی فکر بھی نہیں کہ معلوم کروں۔ اگر آپ اس کے درپے ہیں کہ کوئی نہ کوئی وجہ دریافت کرلیں تو پھر صبر کیجیے اور اس وقت کا انتظار کیجیے، جب میں عزیزوں اور دوستوں سے زیادہ خوش حال اور نیک نام ہوجاؤں یا مجھ پر غبن یااغوا کا مقدمہ دائر ہوجائے۔ اس وقت آپ میرے عزیزوں یا دوستوں ہی سے میرے بارے میں ایسے واقعات سن لیں گے جو مجھ پر گزرے ہوں یا نہیں، آپ خود ان کو کبھی نہ بھلائیں گے۔ اربابِ ریڈیو نے مجھے اس پر مامور کیا ہے کہ آپ کو کوئی واقعہ سناؤں ضرور، اور میں سناؤں گا بھی ضرور۔زیادہ دنوں کی بات ہے، میں دلّی آرہا تھا۔ جس ڈبے میں مجھے جگہ ملی وہ خلاف توقع اتنابھرا ہوا نہ تھا جتنا کہ ریلوے والے چاہتے تھے۔ یہ بات بھی میں بھول نہیں سکتا لیکن اس اعتبار سے ڈبہ بھرپور تھا کہ اس میں ہرجنس، ہرعمر اورہر طرح کے لوگ موجود تھے۔ ایک اسٹیشن پر گاڑی رکی تو ایک بوڑھا کسان بھی گرتا پڑتا داخل ہوا۔ زندگی میں اس طرح کے بڈھے کم دیکھے گئے ہیں، بڑی چوڑی چکلی ہڈی، بہت لمبا قد لیکن اس طورپر جھکا ہوا جیسے بڑھاپے میں قد سنبھلتا نہ تھا اس لیے جھک گیا تھا۔ جسم پر کچھ ایسا گوشت نہ تھا لیکن اس کی شکل اور نوعیت کچھ اس طرح کی تھی کہ اس کے دیکھنے سے اس کے چھولینے کا احساس ہوتا تھا جیسے گوشت اور چمڑے کے بجائے مصنوعی اور مرکب ربر وغیرہ قسم کی کوئی چیز منڈھ دی گئی ہو۔ سخت ناہموار موسم پروف ہی نہیں، رگڑ پروف بھی۔ ہتھیلی اور اس سے متصل انگلیوں کی سطح ایسی ہوگئی تھی کہ جیسے کچھوے کی پیٹھ کی ہڈی کے چھوٹے بڑے ٹکڑوں کی پچے کاری کردی گئی ہو۔ میرے دل میں کچھ وہم سا پیدا ہوا جیسے یہ آدمی نہ تھا۔ کھیت، کھاد، ہل، بیل، مرض، قحط، فاقہ، سردی، گرمی، بارش سب نبٹنے اور اپنی جیسی کرگزرنے کی ایک ہندوستانی علامت سامنے آگئی ہو۔ڈبے میں کوئی ایسا نہ تھا جس نے اس کی پذیرائی اس طورپر نہ کی ہو جیسے کوئی معذور، مریل، خارشی کتا آگیا ہو۔بے دردی اور اپنی اپنی بڑائی بگھارنے کا ایسا بھونچال آیا کہ میں نے محسوس کیا کہ تعجب نہیں کہ ڈبہّ بغیر انجن کے چلنے لگے گا۔ نووارد کی نظر ایک دوسرے بڈھے پرپڑی جو شاید اس قسم کے سلوک سے دوچار ہوکر ایک گوشے میں سہما سمٹا اپنے ہی بستر پر جو فرش پڑاہوا تھا، دونوں یکجا ہوگئے آنے والا اپنی لٹھیا کے سہارے فرش پر اکڑوں بیٹھ گیا اور سر کو اپنے دونوں گھٹنوں میں اس طور سے ڈال لیا کہ دور سے کوئی اچٹتی ہوئی نظر ڈالے تو چونک پڑے کہ یہ کیسا شخص تھا جس کے کندھوں پر سر نہ تھا۔ شور اور ہنگامہ کم نہ ہوا تھاکہ گاڑی پلیٹ فارم سے سرکنے لگی۔ ایک کلکٹر صاحب نازل ہو گئے۔ ڈبے میں کچھ ایسے لوگ تھے جن کے پاس ٹکٹ نہ تھے۔ صرف قیمتی سگریٹ کیس، فاونٹین پن، گھڑی اور سونے کے بٹن تھے۔ ٹکٹ کلکٹر کو کسی نے سگریٹ پیش کیا، کسی نے دو بڑے بڑے انناس دیے، کسی نے اپنی ساتھی خاتون کا یوں تعارف کرایاکہ وہ بی اے پاس تھیں اورفلم میں کام کرتی تھیں۔ سب کو نجات مل گئی، بڈھا پکڑاگیا اور وہ سب جو ٹکٹ نہ لینے کے مواخذہ سے نجات پاچکے تھے، ٹکٹ کلکٹر کی حمایت میں بڈھے کو برا بھلا کہنے لگے اور وہی قصے پھر سے شروع ہوگئے۔ یعنی پھبتی، پھکڑ، گالی گلوج اور معلوم نہیں کیا کیا۔بڈھا بھوچکا تھا اور برابر کہے جارہا تھا کہ اس کے پاس کچھ نہیں ہے۔ وہ بڑی مصیبت اور تکلیف میں تھا۔ کسی کے پاؤں پکڑ لیتا، کسی کی دہائی دیتا۔ اس کی بیوہ لڑکی کا اکیلا نوعمر ناسمجھ لڑکا گھر سے خفا ہوکر دلی بھاگ گیا تھا۔ بغیر کچھ کھائے پیئے یا لیے، جس کے فراق میں ماں پاگل ہورہی تھی اور گھر کے مویشیوں کے گلے میں بانہیں ڈال ڈال کر روتی تھی، جس طرح بڈھا ہم سب کے پاؤں میں سر ڈال کر منتیں کرتا اور روتا تھا۔ گاؤں والے کہتے تھے کہ ماں پر آسیب ہے۔ بڈھا بے اختیار ہوہوکر کہتا تھا، حجور سچ مانوں میری بہو پاگل نہیں ہے، اس پر آسیب نہیں ہے، وہ تو میری خدمت کرتی تھی، ڈھور، ڈنگر کی دیکھ بھال کرتی ہے، کھیتی باڑی کابوجھ اٹھاتے ہوئے گھر کاسارا دھندا کرتی ہے۔ ٹکٹ کلکٹر نے ایک موٹی سی گالی دی اور بولا، ''ٹکٹ کے دام لا، بڑا بہو والا بنا ہے‘‘۔ بڈھا پھر گڑگڑانے لگا۔ اس پر کسی صاحب نے، جن کا لباس میلا، فاونٹین پن امریکن اور شکل بنجاروں جیسی تھی اور پتے پر سے انگلی سے چاٹ چاٹ کر دہی بڑے ختم کیے تھے، سنی ہوئی انگلی سے بالوں کو خلال کرتے ہوئے فرمایا، کیوں رے بڈھے! منہ پر آنکھ نہ تھی کہ ہمارے ڈبے میں گھس آیا۔ شریفوں میں کبھی تیرے پرکھا بھی بیٹھے تھے۔ بڈھا گھگھیا کر بولا، ''بابو! سراپھوں ہی کو دیکھ کر چلا آیا، سراپھ دیالو ہوتے ہیں۔ تمہارے چرنوں میں سکھ اور چھایا ہے، تھرڈکلاس میں گیاتھا۔ ایک نے ڈھکیل دیا گرپڑا۔ بہونے بچے کیلئے ایک نئی ٹوپی اور کچھ سوکھی جلیبی دی تھی جوانگوچھا میں بندھی تھی کہ لونڈا بھوکا ہوگا، دے دینا۔ ٹوپی پہن کر جلیبی کھائے گا تو خوشی کے مارے چلاآئیگا۔ ہڑبڑ میں نہ جانے کس نے انگوچھیا ہتھیالی‘‘۔ٹکٹ کلکٹر نے سگریٹ کاآخری ٹکڑاکھڑکی کے باہر پھینکا اور فیصلہ کن انداز سے کھڑے ہوکر فیصلہ دیا۔ بڈھا تو یوں نہ مانے گا، اچھا کھڑا ہوجا اور جامہ تلاشی دے ورنہ لے چلتا ہوں ڈپٹی صاحب ہاں، جو پاس کے ڈبے میں موجود ہیں اور ایسوں کو جیل خانے بھیج دیتے ہیں۔ بڈھا جلد تلاشی کیلئے اس خوشی اور مستعدی سے تیار ہوگیا جیسے بے زری اور ناکسی نے بڑے آڑے وقت میں بڑے سچے دوست یا بڑے کاری اسلحہ کا کام کیا تھا۔ اب دوسرے بڈھے سے نہ رہا گیا۔ اس نے کہا، '' بابو صاحب بڈھے نے برا کیا جو اس ڈبے میں چلا آیا اور ٹکٹ نہیں خریدا لیکن اس کو سزا بھی کافی مل چکی ہے۔ اب ماردھاڑ ختم کردیجئے، بڈھا بڑا دکھی معلوم ہوتاہے‘‘۔