ناظم پانی پتی انہوں نے 200سے زیادہ فلموں کے گیت لکھے

ناظم پانی پتی  انہوں نے 200سے زیادہ فلموں کے گیت لکھے

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالحفیظ ظفر


متحدہ ہندوستان میں جن فلمی گیت نگاروں نے اپنی فنی عظمت کا سکہ جمایا ان میں کئی مسلمان بھی شامل ہیں جن میں تنویر نقوی اور ناظم پانی پتی کا نام سرفہرست ہے۔ قیام پاکستان کے کچھ عرصہ بعد یہ نغمہ نگار پاکستان آ گئے اور پاکستانی فلمی صنعت کے لئے نغمہ نگاری کرنے لگے۔ تنویر نقوی فلمی گیت نگاری کا بہت بڑا نام ہے جنہوں نے انمول گھڑی کے انمول گیت لکھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے شیریں فرہاد کے بھی نغمات لکھے۔ کہا جاتا ہے کہ ’’مغل اعظم‘‘ کے گیت پہلے تنویر نقوی لکھ رہے تھے لیکن وہ پاکستان آ گئے اور پھر شکیل بدایونی نے یہ ذمہ داری سنبھالی۔ ناظم پانی پتی کو دراصل اتنی اہمیت نہیں دی گئی اور نہ ہی انہیں وہ مرتبہ ملا جس کے وہ مستحق تھے۔ناظم پانی پتی 1920 میں پیدا ہوئے۔ وہ اردو اور پنجابی کے گیت نگار تو تھے ہی لیکن اس کے علاوہ انہوں نے کئی فلموں کے سکرپٹ بھی لکھے۔انہوں نے 40ء اور 50ء کی دہائی میں بہت کام کیا۔ وہ فلمساز محمد ولی کے بھائی تھے جنہیں ولی صاحب کہا جاتا تھا۔ ناظم پانی پتی اور ان کے بھائی ولی صاحب کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے کئی فنکاروں کو متعارف کرایا۔ بھارت کے مشہور اداکار آنجہانی پران کو ولی صاحب نے ہی فلم ’’یملا جٹ‘‘ میں کام دلوایا تھا۔ اگرچہ پران فوٹو گرافر تھے لیکن پھر وہ فلم سٹار بن گئے۔ انہوں نے شوکت حسین رضوی کی سپرہٹ فلم ’’خاندان‘‘ میں نور جہاں کے مقابل ہیرو کا کردار ادا کیا تھا۔ پھر وہ بھارت چلے گئے اور انہوں نے وہاں ولن اور کیریکٹر ایکٹر کی حیثیت سے بڑا نام کمایا۔ناظم پانی پتی کو ایک منفرد اعزاز حاصل ہے۔ لتا منگیشکر نے 1948 میں فلم ’’مجبور‘‘ کے لئے جو پہلا پلے بیک گیت گایا وہ ناظم پانی پتی کا لکھا ہوا تھا۔ اس کے بول تھے ’’دل میرا توڑا، مجھے کہیں کا نہ چھوڑا، تیرے پیار نے‘‘۔ اس گیت کی موسیقی ماسٹر غلام حیدر نے ترتیب دی تھی۔ ہم اپنے قارئین کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ لتا منگیشکر کو یہ پلے بیک گیت گانے کا موقع کیسے ملا۔ ماسٹر غلام حیدر فلم ’’مجبور‘‘ کا سنگیت مرتب کر رہے تھے۔ انہیں ناظم پانی پتی کا مذکورہ بالا گیت گوانے کے لئے باریک آواز کی ضرورت تھی اور لتا منگیشکر کی آواز اس گیت کے لئے بالکل موزوں تھی۔ لیکن فلم کے پروڈیوسر نے یہ گانا لتا سے گوانے کی مخالفت کی۔ اس زمانے میں ان گلوکاروں کی حوصلہ افزائی کی جاتی تھی جن کی آواز بھاری تھی۔ ماسٹر غلام حیدر نے پروڈیوسر کو بہت سمجھایا کہ اس گیت کے لئے لتا کی آواز ہی مناسب ہے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر ان کی بات نہ مانی گئی تو وہ فلم کا میوزک نہیں دیں گے۔ بقول لتا منگیشکر ماسٹر غلام حیدر بڑے ضدی آدمی تھے۔ انہوں نے اپنی بات منوا کر ہی دم لیا اور یوں لتا نے ’’مجبور‘‘ کے لئے ناظم پانی پتی کا مذکورہ بالا نغمہ ریکارڈ کرایا۔ اس کے بعد لتا نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ناظم پانی پتی نے پران کو صحیح معنوں میں پنجابی زبان سکھائی۔ اگرچہ پران ایک متمول پنجابی خاندان سے تعلق رکھتے تھے لیکن ان کی پرورش دہلی میں ہوئی تھی اس لئے وہ درست لہجے میں پنجابی نہیں بول سکتے تھے۔ ناظم پانی پتی نے اداکارہ وجنتی مالا کو بھی بھارتی فلمی صنعت سے متعارف کرایا۔ وہ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھتی تھیں اور اردو سے نابلد تھیں۔ ناظم صاحب نے وجنتی مالا کو فلموں کے لئے اردو زبان پڑھائی۔ ناظم پانی پتی کے ساتھ اُس وقت مدھوک نامی نغمہ نگار نے بھی دھوم مچائی ہوئی تھی۔ ’’خاندان‘‘ کے زیادہ تر نغمات مدھوک نے تحریر کئے لیکن ناظم پانی پتی نے بھی اپنا حصہ ڈالا۔ ان کی مشہور فلموں میں ’’یملا جٹ، دُلا بھٹی، خزانچی، خاندان، منگتی، زمیندار، نوکر، پونجی، شیریں فرہاد، ڈولی، مجبور، شیش محل، زمانے کی ہوا، گڈی گڈا، آئینہ، انسانیت اور لخت جگر‘‘ شامل ہیں۔مذکورہ بالا فلموں کی اکثریت نے باکس آفس پر شاندار کامیابی حاصل کی۔ 1953 میں ناظم پانی پتی پاکستان آ گئے۔ یہاں ان کی پہلی پاکستانی فلم ’’گڈی گڈا‘‘ تھی، جس کے فلمساز و ہدایت کار ان کے بھائی ولی صاحب تھے۔ ناظم پانی پتی اور مشہور پلے بیک سنگر سلیم رضا نے لاہور میں کچھ عرصے کے لئے ایک اشتہاری کمپنی میں بھی کام کیا۔ فلم ’’لختِ جگر‘‘ میں انہوں نے جو لوری لکھی وہ آج بھی بے مثال ہے۔ذیل میں ہم اپنے قارئین کے لئے ناظم پانی پتی کے چند لاجواب گیتوں کا ذکر کر رہے ہیں۔1 : آئی ہے دیوالی سکھی آئی سکھی آئی اے (شیش محل)2: دل میرا توڑا، مجھے کہیں کا نہ چھوڑا (مجبور)3: دّلی کی گلیوں میں (ڈولی)4: ہم ہیں دُکھیا اس دنیا میں (جگ بیتی)5: میری مٹی کی دنیا نرالی (شام سویرا)6: سنو سنو کیسے کہہ دوں (لاڈلی)7: وہ اکھیاں ملا کر چلے گئے (رومال)8 : آہیں تڑپ رہی ہیں (لختِ جگر)9: چندا کی نگری سے آ جا ری نندیا (لختِ جگر)18جون 1998 کو اس بے مثل گیت نگار کا لاہور میں 78برس کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ یہ الگ بات کہ آج وہ کسی کو یاد نہیں لیکن فلمی نغمہ نگاری کی تاریخ میں انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
تاریخ کے ہولناک قحط

تاریخ کے ہولناک قحط

کسی بھی ملک یا خطے میں غذائی قلت ، جس میں کسی بھی جاندار کیلئے خوردنی اشیا ناپید ہو جائیں، اس کیفیت کو قحط سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ہر خطے میں اس کی وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں مثلاً وبائی امراض ، خشک سالی ، یا کچھ دیگر ناگہانی آفات وغیرہ۔قحط کی عمومی طور پر دو اقسام ہوتی ہیں۔ ایک قدرتی ،جس میں قدرت کی طرف سے بروقت بارشوں کا نہ ہونا یا قدرتی آفات کے سبب اجناس کا ضائع ہو جانا۔ دوسری قسم مصنوعی قحط ہوتا ہے جو سرمایہ داروں کی طرف سے اشیائے خور ونوش یا اجناس کی قیمتوں کو بڑھانے کیلئے پیدا کیا جاتا ہے۔ معروف امریکی تاریخ دان میتھیو وائٹ نے قحط بارے بہت خوبصورت الفاظ میں ''دریا کو کوزے‘‘ میں بند کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب '' دی گریٹ بک آف ہاریبل تھنگز‘‘ میں ایک سو بدترین سفاکیوں کا جائزہ پیش کیا ہے جن کے دوران سب سے زیادہ انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ اس کتاب میں چوتھی بد ترین سفاکی، برطانوی دور میں ہندوستان میں آنے والے قحط کا تذکرہ ہے جس میں بقول میتھیو '' دو کروڑ 66لاکھ انسانی جانیں ضائع ہوئی تھیں ‘‘۔آگے ایک جگہ میتھیو وائٹ لکھتے ہیں ''امیر ترین لوگوں کو قحط سے فائدہ ہوتا ہے۔قحط عالمی معیشت کی جڑ ہے۔بھوکے لوگ زیادہ کام کرتے ہیں خاص طور پر وہاں جہاں ہاتھ سے کام ہوتا ہے۔دنیا میں اگر بھوکے نہ ہوں تو کھیتوں میں ہل کون چلائے گا؟۔ ٹوائلٹ کون صاف کرے گا؟ ہم میں سے بہت سارے لوگوں کیلئے بھوک کوئی مسئلہ نہیں ہے بلکہ دولت حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ قحط کے سرمایہ دارانہ نظام سے تعلق پر روشنی ڈالتے ہوئے میتھیو نے اپنی اسی کتاب میں ان الفاظ میں اظہار کیا ہے ''سرمایہ دارانہ معیشت کا ایک ہدف یہ بھی ہوتا تھا کہ قیمتوں کو بلند ترین سطح پر رکھنے کیلئے پیداوار کو تباہ کر دو۔ اسی وجہ سے اگست 1933 میں انگلستان اور سپین کے درمیان 15 لاکھ نارنگیاں بے دردی سے سمندر میں پھینک کر ضائع کر دی گئیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ ایک مرتبہ آئر لینڈ کی گایوں کا بڑی مقدار میں دودھ جو گلاسکو پہنچ چکا تھا دریائے کلائیڈ میں بہا دیا گیا۔یہ شرمناک واقعہ تو تاریخ کی کتابوں میں برسوں یاد رہے گا جب برازیل میں 1931ء سے 1936ء کے دوران کافی کے تقریباً 4کروڑ بیگ جلا دئیے گئے،جو ایک اندازے کے مطابق کل دنیا کی کافی کی ڈیڑھ سال کی ضرورت کے برابر تھی‘‘۔اب دنیا میں قحط کے پیش آئے چند بڑے واقعات کا ذکر کرتے ہیں۔ہندوستان کا قحط 1630ء سے 1632ء کے دوران گجرات (ہندوستان)میں آنے والے ایک ہولناک قحط بارے معروف یورپی مورخ پیٹر منڈی کہتا ہے ''گجرات کا قحط 1630ء میں خشک سالی سے شروع ہوا۔اگلے سال فصلوں پر چوہوں اور ٹڈی دل کے حملے اور پھر بہت زیادہ غیر متوقع بارشیں۔قحط اور پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے اموات کا ختم نہ ہونے والا سلسلہ ایسا شروع ہوا جو 1631ء تک تیس لاکھ افراد کی جان لے چکا تھا۔ لوگوں نے دیوانہ وار کم متاثرہ علاقوں کا رخ کرنا شروع کردیا نتیجتاً بہت سارے لوگ راستے میں ہی دم توڑتے گئے ،یہاں تک کہ سڑکیں لاشوں سے بند ہو گئیں۔ مورخ کارنیلئس ویلیرڈ ، ہندوستان کے قحطوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتا ہے '' ہندوستان میں دو ہزار سالوں میں17 دفعہ قحط پڑا، ایسٹ انڈیا کمپنی کے 120سالہ دور میں 34 دفعہ ملک کو قحط سے گزرنا پڑا۔مغلیہ دور میں قحط کے زمانے میں لگان (ٹیکس ) کم کر دیا جاتا تھا مگر ایسٹ انڈیا کمپنی کے دور میں 1770ء اور 1771ء میں قحط کے دوران لگان بڑھا کر 60 فیصد کر دیا گیا تھا۔ہندوستان کے1876ء کے قحط کے دوران بھی انگریز ہندوستان سے غلہ برآمد کرتے رہے۔اس قحط میں 70 لاکھ ہلاکتیں ہوئیں۔ 1943ء کے بنگال کے قحط بارے یورپی مورخ وارن ہیسٹنگز کے بقول ، اس قحط میں لگ بھگ ایک کروڑ افراد بھوک سے مر گئے تھے جو کل آبادی کا ایک تہائی تھا۔لوگ روٹی کی خاطر بچے بیچنے لگ گئے تھے۔یوکرین کا قحط یوکرین اپنے دور میں دولت سے مالا مال خطہ اور سوویت یونین کا سب سے زرخیز علاقہ ہوا کرتا تھا۔ دولت اور وسائل کے اعتبار سے یہ روس کے بعد سب سے وسائل رکھنے والا اور معاشی طور پر مستحکم خطہ تھا۔1928ء میں وہاں کے کسانوں نے اسٹالن کی پالیسیوں کے خلاف بغاوت کی تو اسٹالن نے 1932ء اور 1933ء کے دوران وہاں بدترین قحط پیدا کردیا۔ جسے تاریخ میں ''ہالو ڈرمر ‘‘ (Holodomor )کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ مورخین کے مطابق ان دو سالوں میں یوکرین میں قحط سے 70 لاکھ افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔چین کا عظیم ترین قحطچین میں گزشتہ صدی کے چھٹے عشرے کے دوران ملک میں مسلسل خشک سالی پر حکمرانوں کو احساس ہوا کہ اس کا سبب پرندے ، کیڑے مکوڑے اور کچھ دیگر جانور ہیں۔1958ء میں چینی انقلابی رہنما موزے تنگ نے ملک میں ہنگامی بنیادوں پر پرندوں اور کیڑے مکوڑوں کے ساتھ چار سالہ ایک جنگ کا آغاز کیا ، جس کا نام ''چار حشرات خاتمہ مہم‘‘(Four Pests compaign)رکھا گیا۔بنیادی طور پر اس مہم کا مقصد مچھروں، مکھیوں، چوہوں اورچڑیا کی پائی جانے والی عام نسل کو صفحہ ہستی سے مٹانا تھا۔ رفتہ رفتہ یہ '' چڑیا مار مہم‘‘ کے نام سے جانی جانے لگی۔ یہ مہم 1962ء تک جاری رہی۔ چینی حکام کا خیال تھا کہ کچھ حشرات الارض ،بالخصوص چڑیاں ، چاول ، گندم اور دیگر فصلات کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ ملک قحط کی طرف تیزی سے جارہا ہے۔ماوزے تنگ کے اعلان کے بعد لوگوں نے اس مہم کے دوران ان جانداروں کا ہر جگہ تعاقب کیا۔مورخین کے مطابق دنیا حیران تھی کہ چڑیا جیسے معصوم پرندے کی ہلاکت کا کیا جواز ہے ؟۔لوگوں نے چڑیا کا کسی خطرناک مجرم کی طرح تقریباً ہر جگہ تعاقب کیا یہاں تک کہ لوگوں نے چڑیا کے گھونسلے تباہ کر ڈالے، ان کے بچوں کو مار دیا، انڈے توڑ ڈالے اور جہاں بھی چڑیا یا اس کے بچے نظر آتے لوگ ٹین کے ڈبے بجا کر اسے ڈرا کر بھگا دیتے۔ رفتہ رفتہ چین میں چڑیا کی نسل تقریباً ختم ہو گئی۔ماہرین ماحولیات کہتے ہیں، چین میں چڑیا کی نسل کے خاتمے کے ساتھ ہی حشرات الارض کی تعداد میں اضافہ ہونا شروع ہوا کیونکہ حشرات الارض کو سب سے زیادہ کھانے والا پرندہ، یعنی چڑیا کا خاتمہ ہو چکا تھا اور فصلوں کو نقصان پہنچانے والی حشرات بے قابو ہو چکی تھی۔جس کے باعث فصلوں کو ناقابل بیان نقصان پہنچنا شروع ہوا۔چاول کی فصل تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ، جبکہ دوسری فصلوں کا بھی یہی حال ہوتا چلا گیا۔جس سے ملک میں رفتہ رفتہ قحط نے پنجے گاڑھنا شروع کر دئیے۔چینی حکام کو اپنی ناعاقبت اندیشی کا احساس ہوا تو اسے ملک بھر میں اعلان کرنا پڑا کہ فوری طور پر ''چڑیا مار مہم‘‘ کو روک دیا جائے ، لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ ایک طرف چڑیوں کی نسل کا خاتمہ ہو گیا تو دوسری طرف قحط نے دو کروڑ افراد کو موت کے منہ میں پہنچا دیا۔ اس ''چڑیا مارمہم‘‘ کو چین کی بدترین آفات میں شمار کیا جاتا ہے۔مورخین اسے عذاب الہٰی سے تعبیر کرتے ہیں۔  

روبرٹ بوائل

روبرٹ بوائل

ایک ممتاز سائنس دان جس نے اپنے نظریات کو تجربات کی مدد سے صحیح کر دکھایا۔ اس نے ثابت کیا کہ ہوا میں وزن ہے اور یہ کہ ہوا نیز دوسری گیسیں دبائی جا سکتی ہیں۔ اس نے دبائو اور گیسوں کے حجم کے درمیان ایک تعلق معلوم کیا جو ''بوائلز لا‘‘ کہلاتا ہے۔1630ء کی بات ہے جب جرمنی کے ایک موجد گورک نے اپنے گھر میں ایک ایسا لفٹ پمپ لگایا جو بالائی منزلوں تک پانی پہنچا سکتا تھا۔ اس کی مدد سے تیسری منزل تک تو پانی آسانی سے چڑھ جاتا تھا لیکن چوتھی پر نہیں جاتا تھا کیونکہ اس کی بلندی 36 فٹ تھی یعنی ان پمپوں کی 34فٹ والی حد سے دو فٹ زیادہ جو ہوائی دبائو کی مدد سے کام کرتے ہیں۔سائنس کا ایک قانون یہ ہے کہ پانی ہوائی دبائو کی مدد سے 34فٹ کی بلندی تک چڑھ سکتا ہے لیکن یہ بات سترھویں صدی میں لوگوں کی سمجھ میں اتنی اچھی طرح نہیں آئی تھی جیسی اب ہمیں معلوم ہے۔ اس سلسلے میں تحقیقات ہوتی رہیں اور گورک پہلا ویکوم یا خلائی پمپ ایجاد کرنے میں کامیاب ہو گیا جس نے تجرباتی سائنس میں ایک نئے باب کا افتتاح کیا۔اس پمپ کی مدد سے گورک نے کانسی کے دو نصف کروں کی اندرونی ہوا کھینچ لی اور انہیں آپس میں جوڑ دیا۔ ان دونوں نصف کروں کو علیحدہ کرنے کیلئے آٹھ گھوڑے جوت دیئے گئے لیکن وہ جدا نہ کئے جا سکے۔ لوگ یہ تجربہ دیکھ کر متحیر رہ گئے کیونکہ وہ ہوائی دبائو کی زبردست قوت کو اچھی طرح نہیں جانتے تھے۔ اب ہمارے لئے یہ بات سمجھنا مطلق دشوار نہیں کہ جب ایسے دو نصف کروں کی اندرونی ہوا خارج کردی جاتی ہے تو وہ سختی سے کیوں جڑ جاتے ہیں۔اب پمپ اور اس تجربے کا ذکر ایک کتاب میں درج کیا گیا لیکن اس زمانے میں کتابوں کی اشاعت محدود تھی۔ اتفاق کی بات کہ وہ کتاب ایک ایسے شخص کے ہاتھوں میں پہنچ گئی جس نے بعد میں دنیائے سائنس میں نام پیدا کیا اور اس کے تجربات سے ایک بڑی حد تک مستفید ہوا۔ اس شخص کا نام تھا ''روبوٹ بوائل‘‘ اسے اس قسم کے تجربات میں بڑی دلچسپی پیدا ہوئی اور اس نے اپنے ایک دوست کی مدد سے اس سے بھی بہتر پمپ تیار کیا۔ اسی سلسلے میں بوائل نے ہوا پر مزید تجربات کئے اور وہ شہرہ آفاق کلیہ دریافت کیا جو بوائلز لا کی حیثیت سے ابھی تک مشہور چلا آتاہے اور جس نے علم طبیعیات میں سنگ میل کا درجہ حاصل کیا۔بوائل نے دنیا کو بتایا کہ گیسوں میں وہ صفت موجود ہے جو مائع میں نہیں یعنی انہیں کسی بھی حد تک دبایا جا سکتا ہے۔ ان پر جتنا زیادہ دبائو ڈالا جائے گا ان کا حجم اتنا ہی کم ہوتا چلا جائے گا اور دبائو جتنا کم ہوگا حجم اتنا ہی زیادہ ہو جائے گا، مثال کے طور پر یہ کہا جا سکتا ہے، کہ اگر کسی گیس کا دبائو دوگنا کردیا جائے تو اس کا حجم نصف رہ جائے گا۔ بوائل نے اس کلیہ کا اعلان 1662ء میں کیا اور اس نے ''بوائلز لا‘‘ کا نام پایا۔ انجنوں، ریفریجریٹروں اور ہوا نیز گیسوں کی مدد سے چلنے والی مشینوں میں اس کلیے کی بڑی اہمیت ہے۔روبرٹ بوائل25 جنوری 1638ء کو انگلستان کے ایک ممتاز شخص ''ارل آف کورک‘‘ کے گھر میں پیدا ہوا۔ وہ اپنے والدین کا چودھواں بچہ تھا۔ یہ انگلستان کے مایہ نازشاعر ملٹن اور مشہور سائنس دان اسحاق نیوٹن کا زمانہ تھا۔ اب لوگ علم سائنس میں کچھ دلچسپی لینے لگے تھے اور سائنس دانوں کی حوصلہ افزائی کرتے تھے کئی سائنسی سوسائٹیاں بھی وجود میں آ چکی تھیں اور کچھ سائنسی رسالے بھی شائع ہونے لگے تھے۔ بوائل اس قسم کے مشاغل میں حصہ لیتا تھا۔ اسے شروع ہی سے سائنس سے دلچسپی تھی۔روبرٹ بوائل کے والد 1644ء میں انتقال کر گئے اور انہوں نے اس کیلئے آئرلینڈ اور جنوبی انگلستان میں کافی جائیداد اور لندن میں ایک گھر چھوڑا۔ اس وقت بوائل کی عمر صرف سترہ سال کی تھی۔ اس نے تہیہ کر لیا کہ وہ اپنی عمر سائنسی تحقیقات میں صرف کرے گا۔ اس زمانے میں سائنس کو ''نیچرل فلاسفی‘‘ کہا جاتا تھا اور بوائل کو بچپن ہی سے اس سے شغف ہو گیا تھا۔ جس سال گلیلیو کا انتقال ہوا ہے اس سال بوائل اٹلی کے شہر فلورنس میں ہیئت، نور اور میکانیات کی تعلیم حاصل کر رہا تھا۔بوائل نے سائنس کی تقریباً ہر شاخ پر کچھ نہ کچھ تجربات کئے وہ علم تشریح پر بھی کچھ کام کرنا چاہتا تھا لیکن بقول اس کے اس کی نرم دلی اس بات کی اجازت نہ دیتی تھی کہ وہ بے گناہ جانوروں کو مارے اور ان کا جسم چیر کر دیکھے۔ اس نے کیمیائی مسائل کی بھی چھان بین کی اور کیمیا دان اسے اس علم کا سرپرست سمجھتے ہیں۔ اس نے بہت سے ایسے نئے عناصر دریافت کئے جنہیں پہلے کوئی نہیں جانتا تھا۔ اس نے کیمیاوی مرکبات پر کام کیا، مکسچر اور کیمیاوی مرکبات کے مابین ایک حد امتیاز قائم کی اور پہلی مرتبہ عنصر کی مکمل تعریف بیان کی۔بوائل ہی تھا جس نے گیلیلو کے آبی بیرومیٹر کا سرا مہر بند کیا اور اس طرح پہلا تھرما میٹر وجود میں آیا۔ اس کی مدد سے بوائل نے انسانی جسم کا درجہ حرارت معلوم کیا۔ اس کے علاوہ اس نے برقی اور مقناطیسیت پر بھی کئی اہم تجربات انجام کئے۔ وہ پہلا سائنس دان تھا جس نے یہ نظریہ پیش کیا کہ کسی بھی جسم میں حرارت، اس کے سالمات کی حرکت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ لیکن اس کا نام گیسوں اور خلائی پمپوں پر تجربات کیلئے زیادہ مشہور ہے۔بوائل نے گیس کے درجہ حرارت اور حجم کے درمیان بھی ایک تعلق معلوم کیا ۔وہ بڑا محنتی تھا اور اس کی نگاہ پر نئی بات کو تیزی سے پکڑ لیتی تھی۔ اسے تجربات سے بڑی دلچسپی تھی اور تصنیف و تالیف سے بھی۔ اس نے مختلف موضوعات پر جن میں دینیات بھی شامل ہے، چالیس سے زیادہ کتابیں لکھیں۔یہ ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہوگا، کہ 1650ء کے بعد سائنس دانوں میں یہ سوال اچھی خاصی بحث کا سبب بن چکا تھا کہ ہوا میں وزن ہوتا ہے یا نہیں اور کیا ہم کسی صورت خلا پیدا کر سکتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل اس موضوع پر چند تجربات کر چکا تھا۔ اس نے ایک لمبی نلکی میں منہ تک پارہ بھرا اور پھر اسے ایک کھلی پیالی میں اُلٹ دیا۔ اُلٹنے پر نلکی میں تقریباً تیس انچ کی بلندی تک پارہ کھڑا ہو گیا۔ ٹورسیلی نے اس کی وجہ یہ بیان کی کہ پیالی میں پار سے کی جو مقدار گر چکی ہے اس پر ہوا اپنا دبائو ڈالتی ہے اور اسی دبائو کی وجہ سے نلکی کا پارہ تیس انچ کی بلندی تک کھڑا رہتا ہے۔ نلکی کے بالائی سرے میں جو جگہ رہ گئی ہے وہ خلا ہے یعنی وہاں ہوا مطلق موجود نہیں۔اس زمانے میں بہت سے پڑھے لکھے اور سمجھدار لوگ بھی یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ خلا کی قسم کی بھی کوئی چیز ممکن ہو سکتی ہے۔ وہ یہ ماننے کیلئے تیار نہ تھے کہ نلکی میں پارہ محض ہوائی دبائو کی وجہ سے اتنا اونچا کھڑا رہ سکتا ہے کچھ لوگ تو یہاں تک کہتے تھے کہ نلکی کے اندر پارے اور بالائی سرے کے درمیان کوئی دھاگہ بندھا ہوا ہے جو باہر سے نظر نہیں آتا۔ظاہر ہے کہ ان حالات میں ہوا کے وزن اور خلا کو ثابت کرنے کیلئے ایک ایسے صاف تجربے کی ضرورت تھی جو اس زمانے کے لوگ کی سمجھ میں آ جائے۔ بوائل نے ہوا کا وزن بھی دریافت کیا تھا اور خلا کا نظریہ بھی اسی نے ان کا عملی ثبوت بھی فراہم کیا۔ اس نے ایک بڑا ویکوم پمپ بنایا۔ اس میں کانچ کا ایک ویکوم چیمبر بھی تھا جس کی ہوا خارج کی جا سکتی تھی اور اس میں باہر سے کوئی چیز بھی داخل کی جا سکتی تھی۔بوائل نے اس چیمبر میں ایک گھڑی لٹکا دی اس کی ٹک ٹک آسانی سے سنی جا سکتی تھی اس کے بعد اس نے ویکوم پمپ چلا دیا۔ جیسے جیسے چیمبر کی ہوا کم ہوتی جاتی تھی گھڑی کی آواز بھی مدھم پڑتی جاتی تھی۔ خوش قسمتی سے اس وقت تک یورپ کے تمام پڑھے لکھے لوگ یہ بات تسلیم کر چکے تھے کہ آواز ہوا کی مدد سے سنائی دیتی ہے۔ اس سادہ تجربے سے وہ خلا کے بھی قائل ہو گئے۔ اسی قسم کے تجربات کے دوران میں بوائل نے یہ بھی محسوس کیا کہ ہوا میں کافی لچک موجود ہوتی ہے۔ اسے سپرنگ کی طرح دبایا بھی جا سکتا ہے اور ڈھیلا بھی چھوڑا جا سکتا ہے۔1660ء میں بوائل نے ایک کتاب شائع کی جس میں یہ تجربات اور نتائج تحریر کئے گئے تھے۔ جیسا کہ باقاعدہ ہے اس کے بہت سے مخالفین پیدا ہو گئے اور بوائل کو یہ ذمہ داری قبول کرنی پڑی کہ وہ ہوا کی مندرجہ بالا صفت عملی طور پر ثابت کرکے دکھائے۔ اس نے کانچ کی ایک نلکی (جس کی شکل انگریزی حرف ''جے‘‘ جیسی تھی) اور پارے کی مدد سے نہایت وضاحت سے یہ ثابت کر دیا کہ جب دبائو میں اضافہ کیا جاتا ہے تو ہوا کا حجم کم ہوتا چلا جاتا ہے گویا ہوا اور دوسرے گیسوں میں دبنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس طرح دبائو اور حجم کے درمیان ایک تعلق معلوم کر لیا گیا جسے ''بوائلز لا‘‘ کہتے ہیں اور جس کا ذکر شروع میں آ چکا ہے۔ اس نے 1663ء میں برطانیہ میں سائنس کی وہ قدیم ترین سوسائٹی قائم کی جو ابھی تک موجود ہے اور جسے رائل سوسائٹی کہتے ہیں اس کا فیلو ہونا ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔ بوائل نے فطرت کے بہت سے راز بے نقاب کئے اور انسان کے علم میں بہت کچھ اضافہ کیا۔    

آج کا دن

آج کا دن

مصنوعی ذہانت13جولائی 1956ء مصنوعی ذہانت پر ڈارٹ ماؤتھ ریسرچ پراجیکٹ کا آغاز ہوا۔ یہ موسم گرما کی ایک ورکشاپ تھی جسے مصنوعی ذہانت کا بانی بھی سمجھا جاتا ہے۔ اسی ایونٹ سے دنیا میں مصنوعی ذہانت پر بحث کا آغاز ہوا تھا۔یہ ورکشاپ تقریباً چھ سے آٹھ ہفتوں تک جاری رہی۔ یہ بنیادی طور پر ایک سیشن تھا جس میں مصنوعی ذہانت کی صلاحیت پر بات کی گئی تھی۔ ایونٹ کو گیارہ ریاضی دانوں اور سائنسدانوں نے ڈیزائن کیا تھا لیکن اس کا انعقاد کرنے والوں کی زیادہ تعداد اس میں شرکت نہیں کر سکی تھی۔اوگاڈن کی جنگ13جولائی1977ء میں ایتھوپیا اور صومالیہ کے درمیان جنگ کا آغاز ہوا ، اس جنگ کو اوگاڈن کی لڑائی بھی کہتے ہیں۔ یہ1977ء سے1978ء تک ایتھوپیا کے علاقے اوگاڈن میں لڑی جانے والی بہت بڑی لڑائی تھی۔اس لڑائی نے جنگ کی صورتحال اس وقت اختیار کی جب صومالیہ نے اوگاڈن پر باقاعدہ حملہ کیا۔ اسی وجہ سے اسے اس وقت کی بڑی طاقت سوویت یونین کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے سپر پاور نے صومالیہ کی حمایت ختم کردی اور اس کی بجائے ایتھوپیا کی حمایت کرنے کا اعلان کیا۔ ایتھوپیا کو 1 بلین ڈالر مالیت کے فوجی سامان کی ایک بڑی امدادکے ذریعے شکست سے بچا لیا گیا۔برلن معاہدہبرلن کا معاہدہ بنیادی طور پر آسٹریا ہنگری، فرانس، جرمنی، برطانیہ، آئرلینڈ، اٹلی، روس اور سلطنت عثمانیہ کے درمیان مشرق میں معاملات کے حل کیلئے رسمی طور پر معاہدہ تھا۔ اس معاہدے پر 13 جولائی 1878ء کو دستخط کیے گئے تھے۔1877ء تا1878ء کی روس اورترک جنگ میں سلطنت عثمانیہ کے خلاف روسی فتح کے بعد بڑی طاقتوں نے بلقان کے علاقے کے نقشے کی تشکیل نو کی اور اس کے ساتھ ہی عثمانیوں نے یورپ میں اپنی بڑی ملکیت کھو دی۔ یہ ویانا کی 1815ء کانگریس کے بعد کے عرصے میں تین بڑے امن معاہدوں میں سے ایک تھا۔راؤنڈوے کی لڑائیراؤنڈ وے ڈاؤن کی جنگ 13 جولائی 1643ء کو پہلی انگریزی خانہ جنگی کے دوران ولٹ شائر میں ڈیوائز کے قریب لڑی گئی۔ آکسفورڈ سے ساری رات سفر کرنے کے بعد تعداد میں بہت زیادہ اور تھک جانے کے باوجود، لارڈ ولموٹ کے ماتحت ایک رائلسٹ کیولری فورس نے سر ولیم والر کے ماتحت مغرب کی پارلیمنٹرین آرمی پر زبردست فتح حاصل کی۔اس جنگ کو ان کی سب سے فیصلہ کن فتح کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ رائلسٹوں نے جنوبی مغربی انگلینڈ کا کنٹرول حاصل کر لیا جو 1645ء کے آخر تک ان کے پاس رہا۔ 

سفر آخرت کی منفرد اور حیرت انگیز رسومات

سفر آخرت کی منفرد اور حیرت انگیز رسومات

رسومات کا انسانی زندگی کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ چلا آرہا ہے۔یہ شاید واحد عمل ہے جو انسان کی پیدائش سے شروع ہو کر انسان کی تدفین تک جاری رہتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ انسانی زندگی کی رسومات خواہ خوشی کی ہوں یا غمی کی ہر مذہب، معاشرے اور ملک کی جدا جدا ہوتی ہیں۔جہاں تک انسانی زندگی کے سفر آخرت کی رسومات کا تعلق ہے دنیا بھر کے مختلف مذاہب میں عمومی طور پر دو طرح سے مردوں کی تدفین کی جاتی ہے۔ اسلام اور الہامی مذہب جن میں مسلمان، یہودی اور عیسائی شامل ہیں مردے کے جسم کو زمین میں دفن کرتے ہیں جبکہ جین، سکھ، ہندو اور بدھ مت کے پیروکار مردے کے جسم کو جلاکر اس کی راکھ کو پانی میں بہاتے ہیں۔ آج آپ کو ایسے مذہب اور عقیدے بارے بتانے جا رہے ہیں جہاں نہ تو مردوں کو جلایا جاتا ہے اور نہ ہی دفنایا جاتا ہے بلکہ اس کی میت کو بلندی پر لٹکا دیا جاتا ہے۔ میت کو لٹکانے کی رسم فلپائن کے صوبہ ماو?نٹین کے شمالی حصے کے پہاڑوں کے درمیان واقع قدیم شہر سکاڈا میں میت کو لٹکانے کی رسم ہزاروں سالوں سے چلی آ رہی ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس شہر تک پہنچنے کے راستے میں جا بجا آ سیب زدہ علاقے، انوکھی اور پراسرار لٹکتی تصویریں اور عجیب و غریب رسم و رواج ادا کرتے لوگ نظر آئیں گے۔اس شہر کی واحد وجہ شہرت دنیا بھر میں تابوت لٹکانے کی انوکھی اور منفرد رسم ہے۔سکاڈا میں صدیوں سے ''ایگوروٹ‘‘ قبیلے کے لوگ آباد چلے آرہے ہیں۔مورخین کے مطابق یہاں گزشتہ دو ہزار سال سے تابوت لٹکانے کی اس رسم کے شواہدملے ہیں۔ایگروٹ قبیلے کے لوگ عام طور پر اپنا تابوت اپنی زندگی میں خود ہی تیار کرتے ہیں جنہیں مرنے کے بعد انہیں اس تابوت میں ڈال کر پہاڑ کی چوٹی سے لٹکا دیا جاتا ہے۔ان کا عقیدہ ہے کہ ہوا میں لٹکتی ہوئی لاشیں ان کے آنجہانی آ باو? اجداد کو ان کے قریب لے آتی ہیں اور اس طرح مر کر بھی یہ اپنے پیاروں سے دور نہیں ہوتے۔تابوت میں رکھنے سے پہلے مردے کو روائتی طور پر ایک کرسی پر بٹھایا جاتا ہے، جسے ''موت کی کرسی‘‘ کہا جاتا ہے، جہاں عزیز واقارب مردے کا آخری دیدار کرتے ہیں۔ جس کے فوری بعد اس مردے کو تابوت میں رکھ کر اس کو انگور کی بیلوں اور پتوں سے ڈھانپ کر اس کے اوپر کمبل یا کوئی موٹی چادر ڈال دی جاتی ہے۔ تابوت کے باہر سر والی طرف مردے کا نام اور مکمل کوئف لکھے جاتے ہیں اس کے بعد تمام عزیز واقارب مل کر اس تابوت کو اٹھا کر بلندی پر لے جا کر لٹکا دیتے ہیں۔یہاں تابوت اٹھانے والے ہر فرد کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ تابوت کو زیادہ سے زیادہ وقت کیلئے اٹھائے کیونکہ تابوت سے رستے انگوروں کے جوس کے قطرے جس شخص کے جسم کو چھوتے ہیں اسے خوش بختی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔تابوت لٹکانے کے کئی روز تک قریبی عزیز واقارب باقاعدگی سے تابوت کے پاس آکر خاموشی سے کھڑے ہو کر تابوت پر نظریں جمائے رکھتے ہیں۔ جو اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ ہم اپنے پیاروں کو بھولتے نہیں۔ تاریخی حوالوں سے اس منفرد رسم میں تابوت کو لٹکانے کے شواہد چین اور انڈونیشیا کے کچھ علاقوں میں بھی ملے ہیں۔ ''ٹری برئیل‘‘میت دفنانے کا انوکھا طریقہ دنیا بھر میں بڑھتی آبادی کی رہائش کیلئے سر جوڑ کر بیٹھنے والے ماہرین نے کئی کئی منزلہ عمارتیں بنا کر رہائش گاہوں کا حل تو نکا لیا۔ اب ان کے نزدیک یہ سوال تھا کہ زمین کو تو نہیں بڑھایا جا سکتا، جب قبرستان کم پڑنا شروع ہو جائیں گے تو انسان اپنے مردوں کو کہاں دفنائے گا؟۔امریکہ، جاپان اور کچھ دیگر ممالک کی تنظیموں نے اس پر سوچ بچار شروع کی۔1990ء میں سب سے پہلے جاپان کی تنظیم ''گریو فری پروموشن سوسائٹی‘‘ یعنی قبرستان کے بغیر تدفین کا تصور پیش کیا۔جس کے تحت انسان کے جسم کی راکھ کو جسے بھارت میں ''استھیوں‘‘ کہا جاتا ہے کو بکھیرنے کے عمل کی تشہیر کی گئی، جس پر جاپان کے ''شونجو ٹمپل‘‘ نے اگلے ہی سال یعنی 1991ء میں ''ٹری برئیل‘‘ نامی ایک نیا طریقہ متعارف کر ڈالا۔جس کے تحت مرنے والے کے جسم کی راکھ کو زمین میں دفن کر کے اس کے اوپر درخت اگا دیا جاتا ہے۔ شونجو ٹمپل کی انتظامیہ نے آخری رسومات کی ادائیگی کیلئے اس سے کچھ ہی فاصلے پر ''چہوین ٹمپل‘‘ نامی ایک چھوٹا سا ٹمپل بنا ڈالا ہے جو ایک جنگل کے اندر واقع ہے۔ یہاں پر مرنے والوں کی آخری رسومات کی ادائیگی کے علاوہ ان کی راکھ کے اوپر ایک درخت لگا دیا جاتا ہے تاکہ مرنے والوں کے پیارے وقتاً فوقتاًآکر اپنے پیاروں کی آخری یادگاروں کو دیکھ سکیں۔ اس تصور کے تحت اب دنیا بھر کے ممالک اپنے پیاروں کی تدفین کے نئے نئے طریقے اختیار کر رہے ہیں۔مثال کے طور پر سنگاپور میں حکومت خاندانی مقبرے توڑ کر چھوٹی چھوٹی کھولیوں کی طرز پر عمارات کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے جہاں مرنے والوں کی صرف سمادھیوں کو رکھا جا سکتا ہے۔وہاں پر اب پندرہ سال سے زیادہ عرصہ تک قبر رکھنا قانوناً جرم تصور ہوتا ہے۔اس کیلئے قبر کی باقیات کو جلا کر ان کی راکھ کو سمادھیوں میں رکھنے کی تلقین کی جاتی ہے اور قبر کو دوبارہ قابل استعمال بنا لیا جاتا ہے۔ہانگ کانگ، جہاں کی زمین دنیا بھر میں سب سے مہنگی زمین شمار ہوتی ہے وہاں پاپ سٹار ز اور دیگر نامور شخصیات کے ذریعے میت دفنانے کی بجائے جلانے کے تصور کی تشہیر پر زور دیا جا رہا ہے۔ میت پرندوں کی خوراکپارسی،زرتشت کے پیروکاروں کو کہتے ہیں۔ان کا دعویٰ ہے کہ ان کے مذہبی رہنما کے پاس اوستا کا وہ قدیم نسخہ موجود ہے جو ان کے پیغمبر زرتشت پر نازل ہوا تھا۔پارسی اپنے مردوں کو نہ تو جلاتے ہیں اور نہ ہی دفناتے ہیں بلکہ یہ اسے ایک کھلی عمارت میں رکھ دیتے ہیں تاکہ اسے گدھ اور دیگر پرندے کھا لیں۔اس خاص عمارت کو یہ لوگ ''دخمہ‘‘، ''مینار خموشاں‘‘ یا ''ٹاور آف سائلنس‘‘کہتے ہیں۔ جہاں ان کا دخمہ نہیں ہوتا وہاں ان کے قبرستان ہوتے ہیں جہاں یہ بہ امر مجبوری میت کو دفن کر دیتے ہیں۔پارسی مذہب کے مطابق زمین، پانی، ہوا، سورج اور آگ انتہائی مقدس عناصر ہیں،اس لئے مردوں کو زمین میں دفن کرنے یا انہیں آگ میں جلانے سے زمین، آگ اور سورج کا تقدس مجروح ہوتا ہے۔ اپنے عقیدے کے مطابق یہ مردوں کو دفنانے یا جلانے کی بجائے ایک کھلے مینار نما گول عمارت میں رکھ دیتے ہیں تاکہ اسے مردار خور پرندے یا گدھ وغیرہ کھا لیں۔ستی کی رسم برصغیر میں انگریزوں کے دور سے پہلے ہندوئوں میں یہ رواج تھا کہ کسی شخص کے مرنے کے بعد اس کی بیوی اس کی چتا کے ساتھ ہی جل مرتی تھی۔ اس رسم کو ''ستی‘‘کہتے تھے۔ستی ہونے والی عورت سرخ رنگ کا پوشاک پہنتی اور باقاعدہ دلہن کی طرح سنگھار کرتی اور چتا کے مقام کی طرف چل پڑتی اور اپنے شوہر کی لاش کے ساتھ لکڑیوں پر بیٹھ جاتی تھی۔اس کے اقربا لاش اور عورت کے گرد لکڑیاں چن کر اس کے اوپر روئی اور تیل اوپر ڈال دیتے تاکہ تیز آگ میں یہ جلد بھسم ہو جائے۔ تاہم انڈیا پر برطانیہ کی حکمرانی کے دور کے پہلے گورنر جنرل لارڈ ولیم بینٹنک نے دسمبر 1829ء میں ہندوئوں کی اس قدیم رسم پر پابندی عائد کر دی تھی۔عقیدوں سے بغاوت 2016ء میں دو مقبول ترین سیاسی شخصیات کے انتقال کے بعد ان کی آخری رسومات، اپنے اپنے ملک کے مروجہ رسم و رواج کے عین خلاف ادا کی گئیں۔ کیوبا کے سابق رہنما فیدل کاسترو کے بارے مورخین کہتے ہیں کہ ان کی پرورش رومن کیتھولک لڑکے کے طور پر ہوئی تھی، تاہم آگے چل کر اس نے اس طرز زندگی کو ترک کر دیا تھا۔ایک موقع پر اس نے کہا تھا ''میں کبھی عقیدے کا قائل نہیں ہوں۔اسے اکثر مورخین ملحد کہتے ہیں تاہم۔ ایک موقع پر اس نے کہا تھا ''میں اپنے ملک کو ملحد کی بجائے سیکولر بنانا پسند کرتا ہوں‘‘۔ نومبر 2016ء میں انتقال کے بعد کاسترو کی آخری رسومات کیوبا کے شہر سانتیاگو میں ملکی روایات کے برعکس، ان کی وصیت کے مطابق ان کے جسم کی راکھ کو ایک قبر میں رکھ کر ادا کی گئیں۔2016ء ہی میں بھارتی ریاست تامل ناڈو کی سابق وزیر اعلیٰ جے للیتا کے جسد خاکی کو عقیدے کے مطابق جلانے کی بجائے قبر میں دفن کیا گیا تھا۔ ذہن میں رہے کہ جے للیتا کو شخصیت پرستی کا آئیکون کہا جا سکتا ہے کیونکہ ریاست اور ملک کے دیگر علاقوں میں کسی دیوی کی مانند ان سے عقیدت رکھی جاتی تھی۔   

گندگی سے اٹا درہ بابو سرٹاپ

گندگی سے اٹا درہ بابو سرٹاپ

پاکستان کی پاکیزہ وادیوں اور شفاف بلندیوں کی طرف سفر کریں تو ناران سے گزرنا مجبوری ہے۔ ورنہ جو ہجوم اور غلاظت یہاں پر موجود ہوتی ہے، وہ ذوق سیاحت کو قتل کرنے کیلئے کافی ہے۔ تیرہ ہزار سات سو فٹ بلند بابوسر ٹاپ تو باقاعدہ ایک''کوٹھا‘‘ بن چکا ہے جہاں پر موجود دلال گلیشیئر، بلندیوں اور موسموں کی قیمت وصول کر کے ان کے جسم نوچنے کی اجازت دے چکے ہیں۔ کتنا اچھا ہوتا کہ دوسرے دروں کی طرح یہاں بھی آلودگی سے پاک موسم ہوتے اور یہاں پر آنے والے سیاح اپنی گاڑیاں دو کلومیٹر دور پارک کر کے یہاں صرف موسم اور نظاروں سے لطف اندوز ہوتے۔جو گزرنا چاہتے وہ گزر جاتے، مگر یہاں تو منافع خوروں نے پانچ زپ لائنز، دو فلک بوس جھولے اور موت گھر بنانے کی اجازت دے دی ہے۔ عین بلندی پر پندرہ واش رومز جو ایک گاہک سے پچاس روپے فی دو منٹ وصول کرتے ہیں۔ درجنوں بسوں کا ڈیزل دھواں فطرت کی عطائوں میں ضرب لگاتا ہے تو لوگ چکرائے سے نظر آتے ہیں۔کوئی تو ہو جو ان بلندیوں کی نیلامی پر پالیسی بنائے اور دل کش وادیوں کو برباد ہونے سے بچائے۔ بالا کوٹ سے بٹہ کنڈی تک دریاو?ں اور آبشاروں کو بیچنے والوں کے پیٹ نہیں بھرے؟ ابھی تو جھیل سیف الملوک کی بربادی کا ماتم جاری تھا کہ منافع خوروں نے بابوسر ٹاپ میں بھی غلاظت بھر دی۔ ملک بھر میں تمام درے خدا کی عطا ہیں۔پہاڑوں میں موجود بلند درے دراصل مختلف وادیوں اور آبادیوں کو آپس میں ملاتے وہ راستے ہیں جو زمانہ قدیم سے گزر گاہ کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔ بلند ترین یہ راستے سال بھر میں صرف دو سے تین ماہ کیلئے کھلتے ہیں اور باقی عرصہ ان پر پڑی برف انسان کو بے بس کیے رکھتی ہے۔ بڑے شہروں کو آپس میں ملانے والے کئی درے اب زیر پہاڑ تعمیر ٹنل کی وجہ سے برف کی رکاوٹ سے آزاد ہو چکے ہیں۔ پاک چین دوستی کے نام سے شاہراہ قراقرم پر تعمیر کیے گئے ٹنلز اب سال بھر زمینی رابطوں کو بحال رکھتے ہیں اور مسافروں کو لینڈ سلائیڈنگ کا خوف بھی نہیں رہتا۔چترال اور پشاور کے درمیان درہ لواری ہمیشہ حائل رہتا تھا۔ ساڑھے دس کلومیٹر طویل ٹنل نے دنوں کے سفر کو گھنٹوں پر محیط کر دیا ہے اور اب چترال بھی پاکستان کا آباد شہر محسوس ہونے لگا ہے۔ تیرہ ہزار سات سو فٹ بلند بابو سر پاس پشاور، اسلام آباد اور گلگت بلتستان کے درمیان اب بھی سال بھر میں آٹھ ماہ بند رہتا ہے۔پاکستان میں بلند ترین دروں کی اپنی اپنی تاریخ اور جغرافیائی حیثیت ہے۔ بلند ترین دروں میں بابو سر، بولان، بروغل، چاپروٹ، دورہ، گوندو گورو، گومل، حایل، ہسپار، کڑاکڑ، خنجراب، خیبر، کلک، کوہاٹ، لواری، مالاکنڈ، منٹکا، نلتر، شیندور اور ٹوچی کے درے شامل ہیں۔ ان دروں میں بلند ترین گوندو گورو پاس ہے جس کی بلندی 5940 میٹرہے۔ یہ درہ گلگت کی حوشی وادی کونکورڈیا سے ملاتا ہے اور یہاں سے دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کو دیکھا جا سکتا ہے۔ 4700 میٹر بلند منٹکا پاس درہ خنجراب کے مغرب میں ایستادہ ہے اور شاہراہ ریشم کے مسافر اسے گزر گاہ کے طور پر پاس کرتے ہیں۔دورہ پاس کی 5030 میٹر بلندی گلگت کی غذر ویلی کو بالائی سوات سے ملاتی ہے۔ درہ چلنجی 5300 میٹر بلند ہے اور بالائی ہنزہ کی چپرسن وادی کو اشکومن اور کرومبر سے جوڑتا ہے۔برزل پاس 4200 میٹر بلندی کے ساتھ کشمیر اور گلگت کی واحد قدیم گزرگاہ تھی اور آج کل استور سے کارگل کو ملاتا ہے۔ شمشال پاس 4735 میٹر بلندی کے ساتھ کوہ پیماو?ں کو کے ٹو کے شمالی چہرے کی طرف لے جاتا ہے اور شمشال سے برالدو کا سفر ممکن بناتا ہے۔کرومبر کی بلندی بھی 4300 میٹر کے ساتھ گلگت کے ضلع غذر اور چترال کی سرحد کو اشکومن پر باہم ملاتی ہے۔بروغل پاس کا درہ بلندی میں کچھ کم ہے مگر افسانوی واخان کوریڈور میں افغانستان کے بدخشاں صوبے کو پاکستان کے ضلع چترال سے جوڑتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

فورٹ ولیم کالج کا قیام10جولائی1800ء کو کولکتہ میں اردو، ہندی اور مقامی زبانوں کے فروغ کیلئے فورٹ ولیم کالج کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس کالج کے قیام کا مقصد ان تحاریک کو روکنا تھا جو ہندوستان میں زبان کے نام پر شروع کی گئی تھیں۔ انگریزوں کے ہندوستان پر قبضے کے بعد متعدد تحاریک نے جنم لیا جن میں زبان کا استعمال ایک اہم مسئلہ تھا۔ ہندوستان میں موجود آبادی کا بڑا حصہ انگریزی زبان سیکھنے کے لئے ہر گز تیار نہیں تھا۔برطانوی وزیر اعظم کی قائد اعظمؒ کیلئے حمایت10جولائی1947ء کو برطانیہ کے وزیراعظم کلیمنڈ رچرڈ ایٹلی نے قائد اعظم محمد علی جناحؒ کو پاکستان کا پہلا گورنر جنرل بنانے کی تجویز کی حمایت کا اعلان کیا۔چونکہ پاکستان نے اسی سال برطانوی سلطنت سے آزادی حاصل کی تھی اور ڈومینین میں شامل ہونے کی وجہ سے کچھ انتظامات برطانوی سلطنت کے زیر اثر تھے جنہیں آہستہ آہستہ آزاد ہونے والی ریاستوں کے حوالے کر دیا گیا۔پاکستان میں بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کی قرارداد10جولائی 1973ء پاکستان کی قومی اسمبلی میں بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کی قرارداد منظور کی گئی۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد پاکستان میں بنگلہ دیش کے متعلق مختلف قسم کے جذبات پائے جاتے تھے۔ عوامی ردعمل بھی تذبذب کا شکار رہا لیکن بالآخر پاکستان کی قومی اسمبلی میں بنگلہ دیش کو آزاد ملک کی حیثیت سے تسلیم کرنے کی قرارداد پیش کی گئی جسے منظور کر لیا گیا۔بیلفاسٹ قتل عام10جولائی1921ء بیلفاسٹ شمالی آئر لینڈ میں آئرش جنگ آزادی کے دوران ایک پرتشدد دن تھا۔ تاریخ میں اسے بیلفاسٹ کا خونی اتوار کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔اس قتل عام کا آغاز جنگ بندی سے ایک دن قبل کیا گیا، اس قتل عام کی وجہ سے خوف و ہراس پھیل گیا اور آئر لینڈ کے کئی حصوں میں جنگ روک دی گئی۔یہ قتل عام حکومتی حکام کی جانب سے آئرش ریپبلکن آرمی کی جانب سے ایک اہلکار کے قتل کے جواب میں کیا گیا۔ قتل عام میں 20افراد ہلاک جبکہ 100کے قریب زخمی ہوئے۔حکومتی اہلکاروں نے 200گھروں کو تباہ و برباد کردیا جس کی وجہ سے تقریباً ایک ہزار افراد بے گھر ہوئے۔