کسی بھی معاشرے کے صحت مندہونے کا اندازہ صرف اس کی معاشی ترقی یا جسمانی صحت سے نہیں لگایا جا سکتا۔ ذہنی صحت جو انسانی وجود کا بنیادی جزو ہے، اکثر نظرانداز کی جاتی ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں روزمرہ کی زندگی کے چیلنجز، معاشی دباؤ اور سماجی مسائل کا ایک انبار ہے، ذہنی صحت کے بحران کو سنجیدگی سے لینے کی اشد ضرورت ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں ذہنی بیماریوں کو جنون یا دماغی کمزوری سمجھ لیا جاتا ہے اور اس پر بات کرنا معیوب قرار پاتا ہے۔ لیکن وقت آ گیا ہے کہ ہم اس خاموشی کو توڑیں اور ذہنی صحت کو قومی ترجیح بنائیں۔ صورتِ حال، اعدادوشمار اور حقائق عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق پاکستان میں 24 فیصدآبادی کسی نہ کسی ذہنی عارضے کا شکار ہے۔ یہ تعداد تقریباً 5 کروڑ افراد بنتی ہے۔ تاہم ذہنی بیماریوں کی سکریننگ اور علاج کیلئے مختص وسائل بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے کافی نہیں ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے ڈیٹا کے مطابق پاکستان میں فی ایک لاکھ آبادی صرف 0.19 نفسیاتی ماہرین ہیں، جو مشرقی بحیرہ روم کے علاقے میں سب سے کم تعداد میں سے ایک ہے، اور پوری دنیا میں بھی۔اکتوبر 2023ء میں اسلام آباد میں ہونے والی ماہرین کی ایک کانفرنس میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان میں صرف 900 تربیت یافتہ اور مستند ماہرین نفسیات موجود ہیں جبکہ یہاں ہر تیسرے شخص کو ہلکی یا درمیانے درجے کے ڈپریشن کا سامنا ہے۔ مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ حکومت کا سالانہ بجٹ کا صرف 1 فیصد ذہنی صحت پر خرچ کیا جاتا ہے۔ ان اعدادوشمار سے واضح ہوتا ہے کہ ہم ایک ایسے بحران کے کنارے پر کھڑے ہیں جسے نظرانداز کرنے کی قیمت ہم اپنی تخلیقی صلاحیتوں، تعلیم اور سماجی تعلقات کی صورت میں چکا رہے ہیں۔ مسئلہ کہاں ہے؟ پاکستانی معاشرے میں ذہنی صحت کو اکثر ''پاگل پن‘‘کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ڈپریشن، انگزائٹی، یا PTSD یعنی (Post-traumatic stress disorder) جیسے مسائل پر بات کرنے والوں کو ڈرامہ باز یا توجہ کا طالب قرار دے دیا جاتا ہے۔ خواتین کیلئے یہ صورتحال اور بھی سنگین ہے۔ مثال کے طور پر شادی کے بعد ڈپریشن کا شکار ہونے والی خواتین کو ناشکرا کہہ کر خاموش کرا دیا جاتا ہے۔ اسی طرح نوجوانوں میں خودکشی کے رجحان کی بھی من مانی تعبیریں کی جاتی ہیں، جبکہ حقیقت میں یہ نظر انداز کی جانے والی ذہنی بیماریوں کا نتیجہ ہوتا ہے۔ مذہبی اور ثقافتی عقائد بھی اس سکوت کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ذہنی مسائل کو اکثر جنوں کا سایہ یا کسی کی بدعا کا نتیجہ قرار دے کر روحانی علاج کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ اگرچہ دعا ذہنی سکون کا ذریعہ ہے لیکن پیشہ ورانہ طبی علاج کی ضرورت اپنی جگہ پر ہے۔ ذہنی صحت کے مسائل پر خاموشی صرف فرد تک محدود نہیں رہتی،اس کے معاشرتی و معاشی اثرات بھی گہرے ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ڈپریشن کی وجہ سے پیدا ہونے والی کارکردگی میں کمی ملک کی مجموعی پیداوار (GDP) کو سالانہ 2سے3 فیصدتک نقصان پہنچاتی ہے۔ تعلیمی اداروں میں طلبہ کی ذہنی دباؤ کے باعث تعلیمی معیار گر رہا ہے جبکہ گھریلو تشدد اور خاندانی تعلقات کی خرابی کی ایک بڑی وجہ بھی ذہنی عدم استحکام ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ پچھلے کچھ سالوں میں ذہنی صحت کے حوالے سے آگاہی میں اضافہ ہوا ہے۔ سوشل میڈیا، خصوصاً نوجوان نسل اس سکوت کو توڑنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ بعض این جی اوزنے بھی مفت کاؤنسلنگ سروسز اور ہیلپ لائنز متعارف کروائی ہیں۔ ادبی حلقوں میں بھی ذہنی صحت پر بات چیت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر مشہور مصنفہ عمیرہ احمد کے ناولز میں ڈپریشن اور تنہائی جیسے موضوعات کو نمایاں کیا گیا ہے۔ 2020 ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے ''مینٹل ہیلتھ ایکٹ‘‘ منظور کیا تھا جس کا مقصد ذہنی بیماریوں کے شکار افراد کے حقوق کا تحفظ اور علاج کو عام کرنا ہے۔ تاہم اس قانون پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں ذہنی صحت کے وارڈز اکثر قید خانوں سے مشابہت رکھتے ہیں جہاں مریضوں کو بنیادی سہولیات تک میسر نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بجٹ میں اضافہ کیا جائے، تربیت یافتہ عملہ تعینات کیا جائے، اور عوامی آگاہی مہمات چلائی جائیں۔ ہم کیا کر سکتے ہیں؟ بات چیت کا آغاز: خاندان اور دوستوں کے ساتھ کھل کر بات کریں۔ جملے جیسے ''تمہیں کیا ہو گیا ہے؟‘‘ کی بجائے ''میں تمہاری مدد کرنا چاہتا ہوں‘‘ کہیں۔ تعلیم کو فروغ دیں: سکولوں اور کالجوں میں ذہنی صحت کے موضوعات کو نصاب کا حصہ بنائیں۔ بچوں کو سکھایا جائے کہ جذبات کا اظہار کرنا کمزوری نہیں۔ پیشہ ورانہ مدد لیں: جسمانی بیماری کی طرح ذہنی عارضے بھی علاج کے متقاضی ہیں۔ ماہر نفسیات سے رجوع کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں۔ سماجی دباؤ کو کم کریں: خواتین کو کریئر کے ساتھ ساتھ ذہنی سکون کیلئے بھی مواقع دیں۔ نوجوانوں پر کامیابی کے غیر حقیقی معیارات نہ تھوپیں۔ دنیا بھر میں ذہنی صحت کے حوالے سے ہونے والی ترقی سے سبق لیتے ہوئے پاکستان بھی اس بحران پر قابو پا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر برطانیہ نے ''ٹاکنگ تھراپی‘‘ کو قومی صحت کی خدمات (NHS) میں شامل کر کے خودکشی کی شرح میں 20 فیصدکمی کی ہے۔ ذہنی صحت پر خاموشی توڑنا صرف ایک آپشن ہی نہیں بلکہ یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ہمیں اپنے گھروں، سکولوں، اور دفتروں میں ذہنی صحت کے بارے میں بات کرنی ہو گی۔ یاد رکھیں ایک صحت مند معاشرہ تب ہی بن سکتا ہے جب یہاں ہر فرد کو ذہنی سکون میسر ہو۔