ایک آسٹریلوی فنکار کی جانب سے اپنے بازو پر سرجری کے ذریعے ایک اضافی کان نصب کروانے کا انوکھا اور چونکا دینے والا اقدام دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ یہ غیرمعمولی تجربہ جہاں فن اور سائنس کے امتزاج کی ایک نئی مثال پیش کرتا ہے، وہیں انسانی جسم، شناخت اور تخلیقی آزادی سے متعلق اہم سوالات کو بھی جنم دیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کے تجربات جدید بایو آرٹ کی ایک شکل ہیں، جن کا مقصد روایتی تصورات کو چیلنج کرنا اور انسانی حدود کو نئے زاویوں سے دیکھنا ہے۔اگر آپ کو کبھی آسٹریلوی باشندے Stelarc سے مدد کی ضرورت ہو، چاہے وہ ہاتھ ہو یا کان تو وہ ایک ہی عضو سے یہ کام کر سکتا ہے۔ جی ہاں، اس کا تیسرا کان واقعی آپ کو ''سُن‘‘ بھی سکتا ہے۔ یہ بالکل درست ہے2007ء میں اس پرفارمنس آرٹسٹ کی خبر محض تفریحی خبروں تک محدود نہ رہی بلکہ سائنسی جرائد تک جا پہنچی، جب اس نے کامیابی کے ساتھ اپنے بازو میں ایک کان نصب کروا کر دنیا کا پہلا ایسا انسان ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔یہ پرجوش منصوبہ ایک دہائی کے دوران تیار ہوا، کیونکہ قبرص میں پیدا ہونے والے اس تخلیقی فنکار نے روبوٹک دور میں انسانی جسم کے بارے میں اپنے کام کو مزید وسعت دینے کی کوشش کی۔ 1972 میں جب اس نے اپنا نام بدل کر Stelarc رکھا، تب سے وہ اپنے آپ کو فن، جسمانی حرکیات اور ڈیزائن کے باہمی تعلق کے مطالعے کیلئے وقف کیے ہوئے ہے۔ ایک ایسا شعبہ جسے ''بائیو آرٹ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس کے دیگر کاموں میں ایک روبوٹک تیسرا بازو، انٹرنیٹ کے ذریعے کنٹرول ہونے والا ایک ایکسو اسکیلیٹن، اور یہاں تک کہ ایک نگلا جا سکنے والا ''معدے کا مجسمہ‘‘ بھی شامل ہے، جسے اس نے اپنے اندرونی اعضا کی تصاویر حاصل کرنے کیلئے ہضم کیا۔2016ء میں انٹرویو دیتے ہوئے اس نے بتایا کہ اس کے فن کے پیچھے بنیادی تحریک یہ ہے کہ انسان اپنی روزمرہ جسمانی سرگرمیوں اور خودکار افعال جیسے تجربات پر سوال اٹھائے، خاص طور پر ایک ایسے دور میں جہاں تقریباً ہر چیز قابلِ پروگرام ہو چکی ہے۔اس نے کہا کہ مجھے احساس ہوا کہ ہم صرف برقی مقناطیسی طیف (Electromagnetic Spectrum)کا ایک محدود حصہ ہی دیکھ سکتے ہیں، جو بصری سطح ہے۔ چمگادڑ اور ڈولفن الٹراساؤنڈ کے ذریعے راستہ تلاش کرتے ہیں، کتے صرف سیاہ و سفید دیکھتے ہیں اور سانپ انفراریڈ شعاعیں محسوس کرتے ہیں۔ میں نے سوچا کہ اگر میں جسم کی ساخت بدل دوں تو شاید میں اپنی دنیا کو سمجھنے کے انداز کو بھی بدل سکوں گا۔ اس کے باوجود ''Ear On Arm‘‘بلاشبہ اس کا سب سے مشہور فن پارہ بن گیا، کیونکہ اس کیلئے ایسے غیر معمولی اور پہلے کبھی نہ کیے گئے جراحی (سرجیکل) طریقوں کی ضرورت تھی جنہوں نے اس کے جسم کی ساخت کو مستقل طور پر بدل دیا۔Stelarc نے اس عمل کیلئے تین پلاسٹک سرجنز کی خدمات حاصل کیں، اور یہ پورا منصوبہ مکمل ہونے میں 12 سال کا طویل عرصہ لگا۔سب سے پہلے ٹیم نے اس کے سر کے ایک جانب ایک اضافی کان کی تصویر سازی (امیجنگ) کی، جو بعد میں نئے مصنوعی (prosthetic) امپلانٹ کیلئے ماڈل کے طور پر استعمال ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے اسٹیلرک کے زندہ خلیات سے ایک کان تیار کیا، جو مکمل ڈیزائن کیلئے ایک نمونہ (replica) کے طور پر استعمال ہوا۔ آخر میں ''Ear On Arm‘‘ کے مرحلے کا آغاز کیا گیا، جس دوران اس کے بازو پر ایک مکمل سائز کا کان جراحی کے ذریعے تشکیل دیا گیا، جس کا مقصد آواز کو منتقل کرنا تھا۔یہ کان ایک گردے کی شکل کے سلیکون امپلانٹ میں نمکین محلول (Saline Solution) انجیکٹ کر کے بنایا گیا، جس سے اضافی جلد (skin) پیدا ہوئی جسے سرجنز نے مطلوبہ شکل دینے کیلئے تراشا اور ڈھالا۔ پہلی سرجری سے صحت یاب ہونے کے بعد Stelarc کے منصوبے کا اگلا مرحلہ ایک ایسا کان تیار کرنا تھا جو واقعی سن بھی سکتا ہو۔ اس مقصد کیلئے امپلانٹ کے اندر ایک چھوٹا سا مائیکروفون نصب کیا گیا۔اگرچہ اس کا بازو مکمل طور پر پٹیوں میں لپٹا ہوا تھا اور سرجن بھی ماسک کے پیچھے سے گفتگو کر رہے تھے، لیکن فنکار اس بات پر بے حد خوش ہوا کہ یہ تجربہ کامیاب رہا۔ اسے واضح طور پر اپنے سرجن کی آواز اس وائرلیس ٹرانسمیٹر کے ذریعے سنائی دے رہی تھی جو کان کے اندر نصب کیا گیا تھا۔بدقسمتی سے انفیکشن کی وجہ سے وہ تار (wire) نکالنا پڑا، تاہم Stelarc نے مستقبل میں دوبارہ آپریشن تھیٹر میں جانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے تاکہ ایک بار پھر ایک منی ایچر مائیکروفون نصب کیا جا سکے، جو انٹرنیٹ سے وائرلیس کنکشن قائم کرنے کے قابل ہو۔ اس طرح یہ کان ایک ایسے ریموٹ سننے والے آلے میں تبدیل ہو جائے گا جسے مختلف مقامات پر موجود لوگ استعمال کر سکیں گے۔انہوں نے اپنے ''Ear On Arm‘‘ پورٹ فولیو میں کہا کہ مثال کے طور پر، وینس میں موجود کوئی شخص میرے کان کے ذریعے وہ آوازیں سن سکتا ہے جو میں میلبورن میں سن رہا ہوں۔ یہ منصوبہ ایک جسمانی ساخت کو دوبارہ تخلیق کرنے، اسے نئی جگہ منتقل کرنے اور پھر اسے مختلف افعال کیلئے دوبارہ وائر کرنے کے بارے میں ہے۔ یہ کام اس خواہش کی عکاسی کرتا ہے کہ ہم اپنی ارتقائی جسمانی ساخت کو توڑ کر دیکھیں اور مائیکرو الیکٹرانکس کو جسم کے اندر ضم کریں۔ انسان نے نرم اندرونی اعضا اس لیے ارتقا کے ذریعے حاصل کیے تاکہ وہ دنیا سے بہتر طور پر تعامل کر سکے، اور اب ہم اضافی اور بیرونی اعضا بنا کر خود کو اس تکنیکی اور میڈیا سے بھرپور دور کے مطابق بہتر بنا سکتے ہیں جس میں ہم رہ رہے ہیں۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس منصوبے کا ایک متبادل مقصد یہ ہے کہ ان کا کان ایک بلیوٹوتھ سسٹم کے طور پر کام کرے، جس میں ریسیور اور اسپیکر ان کے منہ کے اندر نصب ہوں۔ اسٹیلرک کے مطابق اگر آپ مجھے اپنے موبائل فون پر کال کریں تو میں آپ سے اپنے کان کے ذریعے بات کر سکتا ہوں، لیکن میں آپ کی آواز اپنے دماغ کے اندر سنوں گا۔ اگر میں اپنا منہ بند رکھوں تو صرف میں ہی آپ کی آواز سن سکوں گا۔اگر کوئی شخص میرے قریب ہو اور میں اپنا منہ کھول دوں تو وہ شخص بھی اس دوسرے فرد کی آواز کو میرے جسم کے ذریعے آتے ہوئے سن سکے گا، جیسے وہ کسی اور جسم کی صوتی موجودگی (acoustical presence) ہو جو کہیں اور موجود ہے۔اور جیسے جیسے Stelarc اپنے فن کے ذریعے انسانی جسم کی حدود کو مزید آگے بڑھا رہے ہیں، ہم سب یہ دیکھنے کے لیے متجسس رہتے ہیں کہ انسانی جسم اور ہماری ترقی کرتی ہوئی ٹیکنالوجی مل کر آگے کیا تخلیق کر سکتے ہیں۔لہٰذا اس دلچسپ اور حیرت انگیز فنکار اور اس کی ذہین سرجیکل ٹیم کو مبارکباد-آپ سب واقعی ‘‘سرکاری طور پر حیرت انگیز'' ہیں!