لالی وڈ کے ’’ دادا ‘‘۔۔۔۔ یادگار فلموں کے خالق نذرالاسلام

لالی وڈ کے ’’ دادا ‘‘۔۔۔۔ یادگار فلموں کے خالق نذرالاسلام

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالحفیظ ظفر



یوں تو پاکستانی فلمی صنعت میں کئی شاندار اور باصلاحیت ہدایت کاروں نے خدمات سرانجام دیں اور اس صنعت کی آبیاری میں ان کی کاوشوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، ان میں ریاض شاہد، مسعود پرویز، حسن عسکری، الطاف حسین، سید نور، یونس ملک، ایس اے بخاری، پرویز ملک اور کئی دیگر شامل ہیں لیکن ایک ہدایت کار ایسے تھے جنہوں نے ہدایت کاری کو نئے زاویوں سے آشنا کیا۔ ان کا اسلوب اور طریقہ کار سب سے مختلف تھا۔ وہ تھے نذرالاسلام۔ انہیں'' دادا‘‘ کے نام سے بھی پکارا جاتا تھا۔ 
نذرالاسلام1939 ء میں ڈھاکہ میں پیدا ہوئے ۔ وہ فلمساز بھی تھے اور ہدایت کار بھی۔ ان کی فلموں کی خاصیت یہ تھی کہ ان کی ٹیم بنگالی فنکاروں پر مشتمل ہوتی تھی۔ شبنم اور روبن گھوش ان کی فلموں کا لازمی جزو تھے۔ نغمہ نگاروں میں سرور بارہ بنکوی تھے جنہوں نے بڑے یادگار نغمات تخلیق کئے۔ گلوکاروں میں اخلاق احمد، مہدی حسن ، مہناز اور نیرہ نور نے ان کی فلموں کیلئے بڑے اچھے نغمات گائے۔ اگر ہم بنگالی ہدایت کاروں کی بات کریںتو اس حقیقت کو فراموش نہیں کرسکتے کہ انہوں نے بڑی شاندار فلمیں بنائیں۔ بھارت میں بِمل رائے اور باسو چیٹر جی کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں اس کے علاوہ اور بھی نام ہیں ۔ نذرالاسلام بنگلا دیش کے قیام کے بعد پاکستان ہی میں رہے ۔ انہیں 1971 ء میں بننے والی فلم ''پیاسا‘‘ سے شہرت ملی۔ان کا کمال یہ تھا کہ انہوں نے ایک پنجابی فلم ''کالے چور‘‘ بھی بنائی جو سپرہٹ ثابت ہوئی۔ انہوں نے ''آئینہ‘‘ جیسی معرکہ آراء فلم کی ہدایات دیں، یہ فلم کراچی میں 5سال نمائش پذیر رہی ۔ اس فلم کے تمام نغمات ہٹ ہوئے اور آج بھی ان کی مقبولیت برقرار ہے ۔ ان کی فلموں ''بندش‘‘ اور ''نہیں ابھی نہیں‘‘ بھی زبردست کامیابی سے ہمکنار ہوئیں۔ اگرچہ یہ دونوں فلمیں انگریزی فلموں ''سمر آف 42‘‘ اور ''سن فلاور‘‘ سے متاثر ہوکر بنائی گئیں تھیں لیکن یہ بات ماننا پڑے گی کہ نذرالاسلام نے انتہائی مہارت سے ان فلموں کی ہدایات دیں۔ ''نہیں ابھی نہیں‘‘ میں انہوں نے فیصل اور ایاز کو متعارف کرایا۔ اور ان دونوں نے اپنی اداکاری سے سب کو چونکا دیا۔ اس فلم کے گیت سرور بارہ بنکوی نے تحریرکئے تھے اور سنگیت روبن گھوش کا تھا۔ یہ فلم 1980 ء میں ریلیز ہوئی اور اسے بہت پسند کیا گیا۔ اس کے بعد فیصل اور ایاز کو کئی اور فلموں میں کاسٹ کرلیا گیا۔ ان کی ایک اور شاندار فلم ''لوسٹوری‘‘ تھی جو 1982ء میں نمائش کیلئے پیش کی گئی۔ اس فلم کو بھی بہت پسند کیا گیا۔ اس میں فیصل کے علاوہ لیلیٰ اور آغاطالش نے بھی بہت اچھی اداکاری کی ۔ ''لوسٹوری‘‘ کی موسیقی بہت اچھی تھی اور اس کے نغمات بہت ہٹ ہوئے۔ 
دادا نذرالاسلام کی فلم ''زندگی‘‘ نے بھی بڑی کامیابی حاصل کی۔ اس میں ندیم، بابراشریف، ننھا اور مصطفی قریشی نے بہت اچھی اداکاری کا مظاہرہ کیا۔ 1978 ء میں ریلیز ہونے والی فلم میں روحی بانو اور طارق عزیزنے بھی مہمان اداکار کے طور پر کام کیا تھا۔ لیکن ان کرداروں میں بھی انہوں نے چونکا دینے والی اداکاری کی ، ویسے تو جاگیرداری کے خلاف بے شمار پنجابی فلمیں بنائی گئیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری پنجابی فلموں نے جاگیرداری کے خلاف عوام کو جو شعور دیا اس کی جتنی تحسین کی جائے کم ہے۔ فلم ''زندگی‘‘ نے اے نیئر کو بھی بہت شہرت دی۔ ان کا یہ گیت ''سالگرہ کا دن آیا ہے ‘‘ بہت پسند کیا گیا اور یہ گیت آج بھی ان کے بہترین گیتوں میں شمار ہوتا ہے سالگرہ کی تقاریب میں کافی عرصہ یہ گیت چلتا رہا۔ اس فلم کا سنگیت بھی روبن گھوش نے مرتب کیا تھا۔ نذرالاسلام کی خوبی یہ تھی کہ ان کی فلم دیکھ کر فلم بین یہ سمجھ جاتے تھے کہ اس فلم کا ٹریٹمنٹ صرف دادا ہی دے سکتے ہیں ۔ دوسری خاصیت یہ تھی کہ ان کی فلم کی سنیماٹوگرافی بڑے کمال کی ہوتی تھی ۔ اور تیسری خاصیت ان کی فلموں کا سنگیت ہوتا تھا۔ اس حوالے سے ان کی فلم ''امبر‘‘ کا ذکر بہت ضروری ہے یہ ایک رومانوی اور سوشل فلم تھی جس میں محمد علی اور ندیم نے مرکزی کردار ادا کئے تھے۔ ''امبر‘‘ کا کردار ممتاز نے ادا کیا تھا ۔ اس وقت ممتاز پنجابی فلموں میں کام کررہی تھیں۔ ''امبر‘‘ کا مرکزی کردار ممتاز کو دینے کا فیصلہ بھی حیران کن تھا۔ یہ کردار شبنم کو بھی دیا جاسکتا تھا لیکن انہوں نے ممتاز کو کاسٹ کیا، یہ فلم بھی سپرہٹ ثابت ہوئی اس کے گیت بہت مقبول ہوئے خاص طور پر مہدی حسن کا گایا ہوا یہ گیت ''ٹھہرا ہے سماں‘‘اور اے نیئر اور ناہید اختر کا یہ دوگانا''ملے دوساتھی‘‘بہت مقبول ہوئے۔ 
نذرالاسلام کی فلم ''آئینہ‘‘ ایک ایسی فلم ہے جس کی کوئی مثال نہیں دی جاسکتی۔ اس فلم کے اداکاروں میں شبنم، ندیم، ریحان اور بہار نے بے مثال کا م کیا۔ روبن گھوش کی موسیقی آج بھی کانوں میں رس گھولتی ہے ۔ مہدی حسن ، مہناز، عالمگیر اور نیئر ہ نور نے جو گیت گائے ان کی خوشبو آج بھی پھیلی ہوئی ہے ۔ نذرالاسلام نے کبھی موسیقی پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ ''آئینہ ‘‘ اتنی شاندار فلم تھی کہ اس کا چربہ بھارت میں بھی بنایا گیا۔ یہ فلم تھی ''پیار جھکتا نہیں ‘‘ اور یہ فلم بھی ہٹ ہوئی ۔ 
جب نذرالاسلام نے پنجابی فلم ''کالے چور‘‘ کی ہدایات دینے کا فیصلہ کیا تو فلم بینوں کو بڑی حیرت ہوئی ۔ لیکن انہوں نے اس فلم کی ہدایت کاری کرکے سب کے اندازے غلط ثابت کردیئے جن کی یہ رائے تھی کہ دادا پنجابی فلموں کی ہدایت کاری نہیں کرسکتے۔ انہوں نے سلطان راہی،ہمایوں قریشی اور نیلی کی صلاحیتیوں کو بڑے احسن طریقے سے پردۂ سکرین پر استعمال کیا اس فلم میں بھی انہوں نے یہ ثابت کیا کہ اگرسکرپٹ اچھا ہو تو ایک ہدایت کار کیلئے معیاری فلم بنانا کوئی بڑا مسئلہ نہیں ۔ ان کی دیگر فلموں میں'' خواہش، میڈیم باوری‘‘ اور'' نرگس‘‘ کے نام لئے جاسکتے ہیں ۔ اگر ایک اور فلم کا ذکر نہ کیا جائے تو یہ ناانصافی ہوگی۔ یہ فلم تھی ''احساس‘‘ ۔یہ بھی ہٹ ثابت ہوئی اور اس کے نغمات بھی بڑے مقبول ہوئے۔ خاص طور پر رونا لیلیٰ کا گایا یہ گیت''ہمیں کھوکر بہت پچھتائو گے ‘‘ آج بھی بڑے شوق سے سنا جاتا ہے ۔ 
اگرچہ دادا نذرالاسلام کی کچھ فلمیں ناکام بھی ہوئیں لیکن ان کی کامیاب فلموں کی تعداد زیادہ ہے ۔ 1991ء میں یہ بے مثال ہدایت کار اس جہان فانی سے رخصت ہوگیا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
قدیم مقبرہ، جدید دور کا خوف

قدیم مقبرہ، جدید دور کا خوف

فرعون کی آخری آرام گاہ کے پراسرار حصارکا راز آج بھی برقرارقدیم مصر کے فرعون توتن خامن کا مقبرہ صرف آثارِ قدیمہ کی ایک حیرت انگیز دریافت نہیں بلکہ صدیوں پرانے اسراراور پراسرار کہانیوں کا مرکز بھی بن چکا ہے۔ 1922ء میں ہاورڈ کارٹر کی جانب سے اس مقبرے کی دریافت نے دنیا کو حیرت زدہ کر دیا تھا، مگر اس کے بعد مقبرے سے وابستہ ''فرعون کی لعنت‘‘ کی داستان نے لوگوں کے تجسس کو مزید بڑھا دیا۔ مقبرے کی دریافت کے بعد بعض افراد کی اموات اور بدقسمتی کے واقعات کو توتن خامن کی مبینہ لعنت سے جوڑا گیا، اگرچہ ان دعوؤں کے سائنسی شواہد موجود نہیں۔ اب ماہرین آثارِ قدیمہ کی جانب سے مقبرے کے اندر ممکنہ پوشیدہ حصوں کی تلاش اور ملکہ نیفرتیتی سے متعلق قیاس آرائیوں نے اس قدیم راز کو ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ اس غیر معمولی دریافت کے ساتھ آثارِ قدیمہ کی ایک ایسی داستان بھی جنم لیتی گئی جو آج تک لوگوں کے تجسس کا باعث ہے۔ کھدائی سے وابستہ افراد میں بیماریوں، حادثات اور بعض غیر متوقع اموات کے واقعات سامنے آنے کے بعد یہ دعوے کیے جانے لگے کہ کم عمر فرعون کی آخری آرام گاہ کسی مہلک لعنت کے حصار میں ہے۔اب ماہرین آثارِ قدیمہ مقبرے کے اندر ممکنہ طور پر موجود پوشیدہ کمروں کی تلاش کیلئے ڈرلنگ پر غور کر رہے ہیں۔ قیاس کیا جا رہا ہے کہ ان خفیہ حصوں میں ملکہ نیفرتیتی کا طویل عرصے سے گمشدہ مقبرہ موجود ہو سکتا ہے۔ اس امکان نے توتن خامن کے مقبرے سے وابستہ پراسرار کہانیوں اور نام نہاد ''فرعون کی لعنت‘‘ کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے۔مقبرہ کھلنے کے صرف پانچ ماہ بعد ایک اہم شخص کو مبینہ طور پر اس لعنت کا پہلا شکار قرار دیا گیا۔ اس منصوبے کے اہم مالی معاون لارڈ کارناروون5 اپریل 1923ء کو خون میں زہریلے جراثیم پھیلنے اور نمونیا کے باعث انتقال کر گئے۔ ان کے چہرے پر مچھر کے کاٹنے کا زخم انفیکشن کا شکار ہوگیا تھا۔ تاہم بعض لوگوں نے دعویٰ کیا کہ فرعون کے مقبرے میں موجود جراثیمی ذرات یا پھپھوندی کے بیضے سانس کے ذریعے اندر جانے سے بھی ان کی بیماری اور موت میں کردار ادا کیا ہو سکتا ہے۔ان افواہوں کو معروف مصنف سر آرتھر کونن ڈوئل کے بیان سے بھی تقویت ملی۔ شرلاک ہومز کے خالق نے گلاسگو ہیرالڈ میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں اس خیال کا اظہار کیا کہ ممکن ہے کسی ''شرپسند مافوق الفطرت قوت‘‘ نے لارڈ کارناروون کی مہلک بیماری کا سبب بنی ہو۔ ان کے مطابق اس دور میں موجود مافوق الفطرت قوتوں کی نوعیت کے بارے میں یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا، تاہم قدیم مصری شاید ان معاملات کے بارے میں ہم سے کہیں زیادہ جانتے تھے۔توتن خامن کے مقبرے کا دورہ کرنے والے ایک اور شخص جسے ''لعنت‘‘ کا مبینہ شکار قرار دیا گیا، جارج جے گولڈ تھا، جو ایک دولت مند امریکی سرمایہ کار تھا۔ اس نے 1923ء میں لارڈ کارناروون کی دعوت پر مقبرے کا دورہ کیا، لیکن وہاں سے واپسی کے تقریباً فوراً بعد بیمار پڑ گیا۔ وہ صحت یاب نہ ہو سکا اور چند ماہ بعد نمونیا کے باعث انتقال کر گیا۔آرتھر میس بھی ان ماہرین آثارِ قدیمہ میں شامل تھا جنہوں نے مقبرے کے خزانے کو صاف کرنے، محفوظ کرنے اور ان کی فہرست مرتب کرنے میں مدد کی۔ مقبرے میں کام کرنے کے بعد اس کی صحت مسلسل خراب ہوتی گئی اور 53 سال کی عمر میں نمونیا سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے باعث اس کا انتقال ہوگیا۔اس سلسلے میں ایک زیادہ پراسرار واقعہ ماہر آثارِ قدیمہ ہیگ ایولین وائٹ کی موت کا ہے، جو مقبرے کے تدفینی حجرے میں داخل ہوا تھا۔ اس نے 1924ء میں اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔ حیرت انگیز طور پر ''لعنت‘‘ کے بعض مبینہ شکار ایسے افراد بھی تھے جنہوں نے مقبرے میں قدم تک نہیں رکھا تھا۔ لارڈ کارناروون کے سوتیلے بھائی آبری ہربرٹ بھی 1923ء میں، مقبرہ کھلنے کے کچھ عرصے بعد، دانتوں کے علاج کے بعد خون میں زہریلے جراثیم پھیلنے کے باعث انتقال کر گئے۔ اس واقعے نے کارناروون خاندان کے حوالے سے جاری قیاس آرائیوں کو مزید تقویت دی اور بعض لوگوں نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ صرف لارڈ کارناروون سے خاندانی تعلق کی وجہ سے مبینہ لعنت کا شکار ہوئے۔کہا جاتا ہے کہ فرعون کے مقبرے کی مبینہ لعنت کا ایک اور شکار آرون ایمبر تھا، جو 1926ء میں ہلاک ہوا۔ اگرچہ وہ براہِ راست مقبرے کی کھدائی میں شامل نہیں تھا، تاہم اس ماہر مصریات کی کھدائی کرنے والی ٹیم کے بعض ارکان سے دوستی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ قدیم مصری عقائد سے متعلق ایک قلمی نسخے کو بچانے کی کوشش کے دوران گھر میں لگنے والی آگ کی لپیٹ میں آکر جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔مقبرہ دریافت کرنے والے ماہرِ آثارِ قدیمہ ہاورڈ کارٹر بظاہر ایسی کسی پراسرار نحوست سے متاثر نہیں ہوئے، تاہم ان کے بعض دوستوں کے بارے میں بھی ایسی کہانیاں مشہور ہیں۔اشاعتی صنعت سے وابستہ معروف شخصیت سر بروس انگریم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ہاورڈ کارٹر نے انہیں ایک حنوط شدہ ہاتھ بطور تحفہ دیا تھا، جسے وہ کاغذات دبانے کیلئے بطور پیپر ویٹ استعمال کرتے تھے۔ کچھ ہی عرصے بعد مبینہ طور پر ان کے گھر میں آگ لگ گئی، اور تعمیر نو کے دوران عمارت سیلاب سے بھی متاثر ہوئی۔توتن خامن: قدیم مصر کا پراسرار فرعونتوتن خامن مصر کے 18ویں شاہی خاندان کا فرعون تھا، جس نے 1332 قبل مسیح سے 1323 قبل مسیح تک حکومت کی۔وہ فرعون اخناتون کا بیٹا تھا اور تقریباً 9 یا 10 سال کی عمر میں تخت نشین ہوا۔توتن خامن کا انتقال تقریباً 18 سال کی عمر میں ہوا، تاہم اس کی موت کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔ 1907ء میں لارڈ کارناروون نے انگریز ماہر آثارِ قدیمہ اور مصریات کے ماہر ہاورڈ کارٹر کو وادیِ ملوک میں کھدائی کی نگرانی کی ذمہ داری سونپی۔4 نومبر 1922ء کو ہاورڈ کارٹر کی ٹیم نے ایسی سیڑھیاں دریافت کیں جو توتن خامن کے مقبرے تک جاتی تھیں۔ کارٹر نے تدفینی حجرے کو کھولنے سے پہلے کئی ماہ تک مقبرے کے ابتدائی حصے میں موجود اشیا کی فہرست اور درجہ بندی کا کام کیا۔ فروری 1923ء میں تدفینی حجرہ کھولا گیا اور وہاں توتن خامن کا تابوت دریافت ہوا۔مقبرے کے اندر بے شمار قیمتی اور تاریخی اشیا موجود تھیں، جن کی کثرت کے باعث کارٹر اور اس کی ٹیم کو مقبرے کے تمام خزانے کو محفوظ کرنے، دستاویزات مرتب کرنے اور باہر نکالنے میں دس سال لگے۔ بہت سے لوگوں کیلئے توتن خامن قدیم مصر کی عظمت اور شان و شوکت کی علامت بن گیا، کیونکہ اس کا مقبرہ ایسی چمکتی دمکتی دولت اور قیمتی اشیا سے بھرا ہوا تھا جو 18ویں شاہی خاندان کی خوشحالی اور عظمت کی عکاسی کرتی تھیں۔

سلام، معمارانِ قوم کو

سلام، معمارانِ قوم کو

اساتذہ کے عالمی دن کے موقع پر خصوصی تحریرکسی بھی قوم کی ترقی کا سفر صرف بلند و بالا عمارتوں، جدید ٹیکنالوجی اور معاشی خوشحالی سے طے نہیں ہوتا بلکہ اس کے حقیقی معمار وہ لوگ ہوتے ہیں جو نئی نسل کے ذہنوں کو علم، شعور اور کردار کی روشنی سے منور کرتے ہیں۔ استاد اسی عظیم فریضے کا امین ہے۔ ماں کی گود سے سیکھنے کا آغاز کرنے والا بچہ جب درسگاہ میں قدم رکھتا ہے تو استاد اس کی صلاحیتوں کو جِلا بخشتا، اس کی سوچ کو وسعت دیتا اور اسے زندگی کے نشیب و فراز کا سامنا کرنے کے قابل بناتا ہے۔ استاد صرف کتاب کے اسباق نہیں پڑھاتا بلکہ وہ اپنے کردار، رویے اور رہنمائی سے شاگرد کی شخصیت تشکیل دیتا ہے۔ اسی لیے استاد کو قوم کا معمار کہا جاتا ہے، کیونکہ آج کے طالب علم ہی کل کے سائنسدان، ڈاکٹر، انجینئر، ادیب، محقق، منتظم اور رہنما بنتے ہیں۔ اساتذہ کا عالمی دن ہمیں ان عظیم ہستیوں کی خدمات، محنت اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے اور معاشرے میں ان کے مقام و احترام کو اجاگر کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔مُعَلّمِی وہ پیشہ ہے جسے صرف اسلام میں نہیں بلکہ ہر مذہب اور معاشرے میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جس قوم نے بھی استاد کی قدر کی وہ دنیا بھر میں سرفراز ہوئی۔ امریکہ، برطانیہ، جاپان، فرانس، ملائیشیا، اٹلی سمیت تمام ترقی یافتہ ممالک میں جو عزت اور مرتبہ استاد کو حاصل ہے، وہ ان ممالک کے صدور اور وزرائے اعظم کو بھی نہیں دیا جاتا کیوں کہ یہ لوگ جانتے ہیں کہ استاد مینار نور ہے، جو اندھیرے میں ہمیں راہ دکھلاتا ہے۔ ایک سیڑھی ہے، جو ہمیں بلندی پر پہنچا دیتی ہے۔ ایک انمول تحفہ ہے، جس کے بغیر انسان ادھورا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں حضورﷺ کو بحیثیت معلم بیان کیا اور خود نبی کریمﷺ نے بھی ارشاد فرمایا کہ ''مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے‘‘۔ امیر المومنین حضرت عمر فاروقؓ سے پوچھا گیا کہ اتنی بڑی اسلامی مملکت کے خلیفہ ہونے کے باوجود ان کے دل میں کوئی حسرت ہے، تو آپؓ نے فرمایا کہ ''کاش میں ایک معلم ہوتا‘‘۔ استاد کا کردار معاشرے میں بہت اہم ہے۔ ہر سال 5اکتوبر کو ''اساتذہ کا عالمی دن‘‘ منایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ نے 1994ء میں یہ دن منانے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ پاکستان میں 2007ء سے یہ دن ''سلام ٹیچرز‘‘ کے عنوان سے منایا جا رہا ہے۔استاد کی عظمت و اہمیت اور معاشرے میں اس کے کردار پر علامہ ڈاکٹر محمد اقبال ؒکہتے ہیں کہ ''استاد دراصل قوم کے محافظ ہیں، کیونکہ آئندہ نسلوں کو سنوارنا اور ان کو ملک کی خدمت کے قابل بنانا انہیں کے سپرد ہے‘‘۔معلم کا فرض سب فرائض سے زیادہ مشکل اور اہم ہے کیونکہ تمام قسم کی اخلاقی، تمدنی اور مذہبی نیکیوں کی کلید اس کے ہاتھ میں ہے اور ہر قسم کی ترقی کا سر چشمہ اس کی محنت ہے۔ معلم فروغ علم کا ذریعہ ہے لیکن اس کے علم سے فائدہ وہ نیک بخت اٹھاتے ہیں۔ جن کے سینے ادب و احترام کی نعمت سے مالا مال ہوں، کیونکہ ''ادب ایک درخت ہے اور علم اس کا پھل۔ اگر درخت ہی نہ ہو تو پھل کیسے لگے گا؟‘۔‘ میری نظر میں سب محنتوں سے اعلیٰ درجے کی محنت اور کارگزاریوں میں سب سے زیادہ بیش قیمت کارگزاری ملک کے معلموں کی کارگزاری ہے۔ خلیفہ چہارم امیر المومنین حضرت علی ؓ نے فرمایا! ''جس نے مجھے ایک حرف بھی بتایا میں اسے استادکا درجہ دیتا ہوں۔ ایک دوسرے موقع پر فرماتے ہیں کہ !''عالم کا حق یہ ہے کہ اس کے آگے نہ بیٹھو اور ضرورت پیش آئے تو سب سے پہلے اس کی خدمت کیلئے کھڑے ہو جاؤ‘‘۔ہارون الرشید کے دربار میں کوئی عالم تشریف لاتے تو بادشاہ ان کی تعظیم کیلئے کھڑا ہو جاتا۔ درباریوں نے کہا کہ اس سے سلطنت کا رُعب جاتا رہتا ہے تو اس نے جواب دیا کہ اگر علمائے دین کی تعظیم سے رعب سلطنت جاتا ہے تو جائے۔ہارون الرشید نے اپنے بیٹے مامون کو علم و ادب کی تعظیم کیلئے امام اصمعیؒ کے سپرد کر دیا تھا ایک دن ہارون اتفاقاً ان کے پاس جا پہنچا۔ دیکھا کہ اصمعیؒ اپنے پاؤں دھو رہے ہیں اور شہزادہ پاؤں پر پانی ڈال رہا ہے۔ ہارون الرشید نے برہمی سے کہا میں نے تو اسے آپ کے پاس اس لئے بھیجا تھا کہ آپ اس کو ادب سکھائیں گے۔ آپ نے شہزادے کو یہ حکم کیوں نہیں دیا کہ ایک ہاتھ سے پانی ڈالے اور دوسرے ہاتھ سے آپ کے پاؤں دھوئے۔استاد : عالمی شخصیات کی نظر میں٭...استاد کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ تخلیقی اظہار اور علم میں مسرت جگا دے۔( البرٹ آئن سٹائن)٭...تعلیم زندگی میں کامیابی کی بنیادی اکائی ہے اور استاد کا شاگردوں پر اثر آخر تک رہتا ہے۔ (سولومن آرٹز)٭...میں زندگی کیلئے باپ کا مشکور ہوں اور میں اچھی زندگی کیلئے اپنے استاد کا مشکور ہوں۔( سکندر اعظم)٭...اچھا استاد امید جگاتا ہے اور سیکھنے کی لگن پیدا کرتا ہے۔( براڈ ہنری)٭...اچھا استاد جانتا ہے کہ شاگرد کے اندر کی صلاحیت کو باہر کیسے لانا ہے۔ (چارلس کورالٹ)٭...تمام علم کی صرف ایک علامت تدریس کی طاقت ہے۔( ارسطو)٭...اچھے استاد کے اندر ایک بچہ بیٹھا ہوتا ہے جو ہاتھ اٹھا اٹھا کر اور سر ہلا ہلا کر بتاتا جاتا ہے کہ بات سمجھ میں آئی کہ نہیں۔(مشتاق احمد یوسفی)٭...تخلیقی اظہار اور علم کی روشنی ذہنوں میں منور کرنا استاد کا اعلیٰ فن ہے۔(ولیم آرتھر وارڈ)٭...اگر کسی ملک کو بدعنوانی سے پاک اور اعلیٰ خطوط پر معیاری قوم بنانا ہے تو مجھے شدت سے محسوس ہوتا ہے کہ اس معاشرے میں تین شخصیات تبدیلی لاسکتی ہیں۔ وہ باپ، ماں اور استاد ہیں۔(ڈاکٹر اے پی جے عبد الکلام)٭...ٹیکنالوجی صرف ایک آلہ ہے۔ بچوں کو ایک ساتھ کام کرنے اور ان کی حوصلہ افزائی کے سلسلے میں استاد ہی سب کچھ ہے۔(بل گیٹس)٭...اگر آپ کامیاب ہوتے ہیں تو آپ کی کامیابی کا راز آپ کے اساتذہ میں ہی مضمر ہے‘‘۔(براک اوباما)٭...جو شخص تعلیم کا راستہ اختیار کرتا ہے، وہ معاشرے کی بنیاد مضبوط کرتا ہے۔(افلاطون)

طنز و مزاح:عید ملنا!

طنز و مزاح:عید ملنا!

مرزا صاحب ہمارے ہمسائے تھے، یعنی ان کے گھر میں جو درخت تھا اس کا سایہ ہمارے گھر میں بھی آتا تھا۔ اللہ نے انہیں سب کچھ وافر مقدار میں دے رکھا تھا۔ بچے اتنے تھے کہ بندہ ان کے گھر جاتا تو لگتا اسکول میں آگیا ہے۔ ان کے ہاں ایک پانی کا تالاب تھا جس میں سب بچے یوں نہاتے رہتے کہ وہ تالاب میں پانچ سو گیلن پانی بھرتے اور سات دن بعد 550 گیلن نکالتے۔ وہ مجھے بھی اپنے بچوں کی طرح سمجھتے، یعنی جب انہیں مارتے تو ساتھ میں مجھے بھی پیٹ ڈالتے، انہیں بچوں کا آپس میں لڑنا جھگڑنا سخت ناپسند تھا۔ حالانکہ ان کی بیگم سمجھاتیں کہ مسلمان بچے ہیں، آپس میں نہیں لڑیں گے تو کیا غیروں سے لڑیں گے۔ ایک روز ہم لڑ رہے تھے، بلکہ یوں سمجھیں رونے کا مقابلہ ہو رہا تھا۔ یوں بھی رونا بچوں کی لڑائی کا ٹریڈ مارک ہے۔ اتنے میں مرزا صاحب آگئے۔''کیوں لڑ رہے ہو؟‘‘ہم چپ! کیونکہ لڑتے لڑتے ہمیں یہ بھول گیا تھا کہ کیوں لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے ہمیں خاموش دیکھا تو دھاڑے، ''چلو گلے لگ کر صلح کرو۔‘‘ وہ اتنی زور سے دھاڑے کہ ہم ڈر کر ایک دوسرے کے گلے لگ گئے۔ اس بار جب میں نے عید پر لوگوں کو گلے ملتے دیکھا تو یہی سمجھا کہ یہ سب لوگ بھی ہماری طرح صلح کر رہے ہیں۔عید کے دن گلے ملنا، عید ملنا کہلاتا ہے۔ پہلی بار اس دن انسان گلے ملا، جب خدا نے اسے ایک سے دو بنایا۔ یوں آج بھی گلے ملنے کا عمل دراصل انسان کے ایک نہ ہونے کا اعلان ہوتا ہے۔ یہ عمل ہمیں دوسرے جانوروں سے ممتاز کرتا ہے کہ وہ گلے پڑ تو سکتے ہیں، گلے مل نہیں سکتے۔ہمارے ہاں عید ملنا، عید سے بہت پہلے شروع ہو جاتا ہے۔ دکاندار گاہکوں سے، کلرک سائلوں سے اور ٹریفک پولیس والے گاڑی والوں کو روک روک کر ان سے عید ملتے ہیں۔ بازاروں میں عید سے پہلے اتنا رش ہوتا ہے کہ وہاں سے گزرنا بھی عیدملنا ہی لگتا ہے۔ کچھ نوجوان تو لبرٹی اور بانو بازار میں عید ملنے کی ریہرسل کرنے جاتے ہیں۔عید کے دن میں خوشبو لگا کر عید گاہ کا رخ کرتا ہوں۔ واپسی پر کپڑوں سے ہر قسم کی خوشبو آ رہی ہوتی ہے سوائے اس خوشبو کے جو لگاکر جاتا ہوں۔ عید مل مل کر وہی حال ہوجاتا ہے جو سومیٹر کی ریس جتنے کے بعد ہوتا ہے۔ اوپر سے گوجرانوالہ کی عید ملتی مٹی ایسی کہ جب واپس آکر گھر کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہوں تو گھر والے گردن نکال کر پوچھتے ہیں،''جی! کس سے ملنا ہے؟‘‘سیاست دان تو عید یوں ملنے نکلتے ہیں، جیسے الیکشن کمپین پر نکلے ہوں۔ جیتنے سے پہلے عید تو وہ آگے بڑھ کر ملتے ہیں اور جیتنے کے بعد عید مل کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ پنجاب کے ایک سابق گورنر کا عید ملنے کا انداز نرالہ ہوتا تھا۔ ان کا حافظہ ہمارے ایک ادیب دوست جیسا تھا جو ایک ڈاکٹر سے اپنے مرض نسیان کاعلاج کروا رہے تھے، دو ماہ کے مسلسل علاج کے بعد ایک دن ڈاکٹر نے پوچھا،''اب تو نہیں بھولتے آپ؟‘‘''بالکل نہیں، مگر آپ کون ہیں اور یہ کیوں پوچھ رہے ہیں؟‘‘وہ سابق گورنر بھی عید پر معززین شہر سے عید ملنا شروع کرتے، ملتے ملتے درمیان تک پہنچتے تو بھول جاتے کہ کس طرف کے لوگوں سے مل لیا اور کس طرف کے لوگوں سے ابھی ملنا ہے۔ یوں وہ پھر نئے سرے سے عید ملنے لگتے۔ ایسے ہی ایک صاحب تیز دریا عبور کرنے کی کوشش میں تھے مگر عین دریا کے درمیان سے واپس پلٹ آئے۔ لوگوں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگے، دراصل جب میں دریا کے درمیان پہنچا تو بہت تھک گیا تھا سو واپس لوٹ آیا۔شاعر وہ طبقہ ہے جو خوشی غمی ہر دوموقعوں پر شعر سناتا ہے۔ کہتے ہیں کہ سکھ کرپان کے بغیر، بنگالی پان کے بغیر اور شاعر دیوان کے بغیر گھر سے نہیں نکلتا۔ اس لیے شاعر عید ملنے کیلئے بھی مشاعرے ہی کرتے ہیں۔ یوں مشاعروں کو لفظوں کا عید ملنا کہہ لیں اگرچہ وہ ہوتی تو لفظوں کی ہاتھا پائی ہے۔بچے پیار سے عید کو عیدی کہتے ہیں۔ اس لیے ان کو عیدی ملناان کا عید ملنا ہے۔ عورتیں بھی اکٹھی ہوکر عید ملتی ہیں، لیکن جہاں چار عورتیں اکٹھی ہوں وہاں وہ ایک دوسری سے نہیں، پانچویں سے خوب خوب ملتی ہیں۔ اور کوئی وہاں سے اٹھ کر اس لیے نہیں جاتی کہ جانے کے بعد وہاں بیٹھی رہنے والیاں اس سے ''عید ملنا‘‘ نہ شروع کردیں۔عید کے روز امام مسجد سے عید ملنے کا یہ طریقہ ہے کہ اپنی مٹھی مولوی صاحب کی ہتھیلی پر یوں رکھیں کہ ان کے منہ سے جزاک اللہ کی آواز نکلے۔ چھوٹے شہروں میں نوجوانوں کی اکثریت سنیما گھروں میں بھی عید ملنے جاتی ہے۔ بکنگ کے سامنے وہ عید ملن ہوتی ہے کہ جو سفید سوٹ پہن کر آتا ہے وہ براؤن سوٹ بلکہ کبھی کبھی تو کالے سوٹ میں لوٹتا ہے، اکثر بنیان میں بھی واپس آتے ہیں۔ عید ملنا وہ ورزش ہے جس سے وزن بہت کم ہوتا ہے۔ میرا ایک دوست بتاتا ہے کہ بیرون ملک میں نے عید پر سو پونڈ کم کیے۔

حکایت سعدیؒ:باپ اور بیٹی

حکایت سعدیؒ:باپ اور بیٹی

ایک رات میں (شیخ سعدیؒ) اس ارادے سے سو گیا کہ صبح سویرے قافلے کے ساتھ مل کر سفر کروں گا۔ اچانک رات کو ایسا بگولا آیا کہ اندھیرا ہی اندھیرا ہو گیا۔ میں نے راستے میں دیکھا ایک چھوٹی سی بچی اپنے دوپٹے کے ساتھ باپ کے چہرے سے گرد صاف کر رہی تھی۔ باپ اپنی بیٹی کو پیار کرتے ہوئے دیکھ کر رو پڑا اور کہنے لگا! بیٹی ایک ایسا وقت بھی آنے والا ہے کہ ان آنکھوں میں اس قدر مٹی بھر جائے گی کہ جو اوڑھنیوں سے صاف نہ ہو سکے گی۔ سعدیؒ فرماتے ہیں ہر شخص کی روح قبر کی طرف سرکش گھوڑے کی طرح بھاگ رہی ہے جس کو روکا نہیں جاسکتا۔ موت آکر جسم کی رکاب توڑ دے گی جس سے جسم کا تعلق روح سے ٹوٹے گا اور بالآخر جسم گڑھے میں گر جائے گا۔ اس حکایت سے سبق ملتا ہے کہ دنیا میں انسان خود کو جتنا بھی مٹی سے بچاتا پھرے لیکن قبر میں جا کر اس کا جسم مٹی سے ضرور بھر جائے گا۔ لہٰذا اس وقت کی تیاری کرنی چاہیے۔

آج تم یاد بے حساب آئے! احمد پرویز بین الاقوامی شہرت یافتہ مصوّر (1979-1926ء)

آج تم یاد بے حساب آئے! احمد پرویز بین الاقوامی شہرت یافتہ مصوّر (1979-1926ء)

٭... 7 جولائی 1926ء کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔٭... تعلیم کا سلسلہ سینٹ جوزف کالج اور گورڈن کالج راولپنڈی میں مکمل کیا۔٭... وہ ایک سیماب صفت انسان تھے جن کی زندگی والدین کی علیحدگی اور دوسرے عوامل کے سبب متاثر رہی۔٭... انہوں نے تین شادیاں کیں جو ناکام رہیں، یوں احمد پرویز کی ذاتی زندگی بھی ذہنی دباؤ اور کرب میں گزری۔٭... تاہم انہوں نے اپنے فن میں کمال حاصل کیا اور دنیا بھر میں پہچانے گئے۔٭...1952ء میں ان کے فن پاروں کی پہلی نمائش جامعہ پنجاب لاہور کے فائن آرٹس ڈیپارٹمنٹ میں منعقد ہوئی، جسے اہل فن نے بے حد سراہا۔٭... 1955ء سے 1964ء تک وہ لندن میں قیام پذیر رہے اور 1966ء سے 1969ء تک امریکا کے شہر نیویارک میں وقت گزارا۔٭...بیرون ملک رہتے ہوئے انہوں نے غیرملکی فن کاروں سے بہت کچھ سیکھا تھا اور تجریدی مصوّری میں ایک علیحدہ اور منفرد اسلوب کے مالک کہلائے۔٭...زندگی کے آخری دورمیں انہوں نے اپنے لیے گلدان اور پھول کے موضوع کا انتخاب کیا اور اس پر انہوں نے لاتعداد تصویریں بنائیں۔٭... احمد پرویز کی مصوّری کی پہچان تیز اور شوخ رنگ تھے۔٭...حکومت پاکستان نے انہیں 1978ء میں صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی عطا کیا ۔٭...1979ء میں آج کے دن دارِ فانی سے کوچ کیا۔

آج کا دن

آج کا دن

''ونڈوز 11 ‘‘کا اجرا5اکتوبر2021ء کو مائیکروسافٹ نے کمپیوٹر آپریٹنگ سسٹم ونڈوز 11 کو صارفین کیلئے جاری کیا۔ یہ ''ونڈوز 10‘‘ کے بعد مائیکرو سافٹ کے آپریٹنگ سسٹم کا نیا بڑا ورژن تھا۔ ونڈوز 11 میں صارفین کیلئے نیا ڈیزائن، بہتر یوزر انٹرفیس، نئے فیچرز اور کارکردگی میں بہتری متعارف کرائی گئی۔ اس کی عوامی سطح پر دستیابی دنیا بھر کے کمپیوٹر صارفین کیلئے ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اہم پیش رفت قرار پائی۔نئے نظام میں بہتر سکیورٹی، ملٹی ٹاسکنگ کی سہولت اور گیمنگ کے بہتر تجربے پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔انڈونیشیا میں فضائی حادثہ1991ء میں آج کے روز انڈونیشیا کی فضائیہ کا ایک سی130 فوجی طیارہ حادثے کا شکار ہو گیا۔ یہ حادثہ دارالحکومت جکارتہ کے قریب پیش آیا، جس کے نتیجے میں 135 افراد جاں بحق ہوئے۔ حادثے نے انڈونیشیا میں فضائی سفر اور فوجی طیاروں کی سلامتی کے حوالے سے تشویش پیدا کردی۔یہ سانحہ انڈونیشیا کی فضائی تاریخ کے بڑے اور المناک حادثات میں شمار کیا جاتا ہے۔ لاڈ بروک ریل حادثہ 5 اکتوبر 1999ء کو لندن کے لاڈ بروک گروو میں ایک ریل حادثہ پیش آیا۔دو مسافر ٹرینوں کے آپس میں ٹکرانے کے نتیجے میں 31افراد ہلاک اور 417شدید زخمی ہوئے۔یہ برطانیہ میں 20ویں صدی میں ہونے والے بدترین حادثات میں سے ایک ہے۔دو سال کے عرصے میں گریٹ ویسٹرن مین لائن پر ہونے والا یہ دوسرا بڑا حادثہ تھا۔اس حادثے کو ''پیڈنگٹن ریل کریش‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ گلڈ فورڈ دھماکے 5 اکتوبر 1974ء کوگلڈ فورڈ پب میں بم دھماکے ہوئے۔ پرویژنل آئرش ریپبلکن آرمی نے گلڈ فورڈ، سرے، انگلینڈ میں دو پبوں میں جیلنائٹ بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی۔ پب کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہاں پربرائٹ بیرکوں میں تعینات برطانوی فوجی بہت زیاد ہ تعداد میں آیا کرتے تھے۔ان دھماکوں میں چار فوجی جبکہ ایک شہری ہلاک ہوا اور 65افراد زخمی ہوئے۔پرتگال کو مملکت تسلیم کیا گیا5اکتوبر 1143ء کو معاہدہ زامورا پر دستخط کے نتیجے میں لیون اور کاسٹیل کے بادشاہ الفانسو ہفتم نے پرتگال کو باقاعدہ طور پر ایک خودمختار مملکت تسلیم کر لیا۔ یہ معاہدہ پرتگال کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا اور اس کے نتیجے میں پرتگال کی بطور مملکت حیثیت کو تسلیم کیے جانے کی راہ ہموار ہوئی۔ اس معاہدے نے پرتگال کے حکمران الفانسو ہنریکس کی سیاسی حیثیت کو بھی مضبوط کیا۔ پرتگال کی آزادی کے اعتراف نے اسے جزیرہ نما آئبیریا کی ایک نمایاں سیاسی قوت کے طور پر ابھرنے کا موقع دیا۔ امریکا میں پی بی ایس کا قیام1970ء میں آج کے روزامریکا میں پبلک براڈکاسٹنگ سروس (PBS) کا قیام عمل میں آیا۔ یہ ایک غیر تجارتی عوامی نشریاتی ادارہ ہے، جس کا مقصد ناظرین کو تعلیمی، معلوماتی اور ثقافتی پروگرام فراہم کرنا تھا۔ پی بی ایس نے امریکی معاشرے میں تعلیم اور عوامی معلومات کے فروغ کیلئے اہم کردار ادا کیا۔جلدیہ ادارہ امریکا کے معروف نشریاتی نیٹ ورکس میں شامل ہوگیا اور اس کے پروگرام دنیا بھر میں بھی مقبول ہوئے۔