لالی وڈ کے ’’ دادا ‘‘۔۔۔۔ یادگار فلموں کے خالق نذرالاسلام

لالی وڈ کے ’’ دادا ‘‘۔۔۔۔ یادگار فلموں کے خالق نذرالاسلام

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالحفیظ ظفر



یوں تو پاکستانی فلمی صنعت میں کئی شاندار اور باصلاحیت ہدایت کاروں نے خدمات سرانجام دیں اور اس صنعت کی آبیاری میں ان کی کاوشوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، ان میں ریاض شاہد، مسعود پرویز، حسن عسکری، الطاف حسین، سید نور، یونس ملک، ایس اے بخاری، پرویز ملک اور کئی دیگر شامل ہیں لیکن ایک ہدایت کار ایسے تھے جنہوں نے ہدایت کاری کو نئے زاویوں سے آشنا کیا۔ ان کا اسلوب اور طریقہ کار سب سے مختلف تھا۔ وہ تھے نذرالاسلام۔ انہیں'' دادا‘‘ کے نام سے بھی پکارا جاتا تھا۔ 
نذرالاسلام1939 ء میں ڈھاکہ میں پیدا ہوئے ۔ وہ فلمساز بھی تھے اور ہدایت کار بھی۔ ان کی فلموں کی خاصیت یہ تھی کہ ان کی ٹیم بنگالی فنکاروں پر مشتمل ہوتی تھی۔ شبنم اور روبن گھوش ان کی فلموں کا لازمی جزو تھے۔ نغمہ نگاروں میں سرور بارہ بنکوی تھے جنہوں نے بڑے یادگار نغمات تخلیق کئے۔ گلوکاروں میں اخلاق احمد، مہدی حسن ، مہناز اور نیرہ نور نے ان کی فلموں کیلئے بڑے اچھے نغمات گائے۔ اگر ہم بنگالی ہدایت کاروں کی بات کریںتو اس حقیقت کو فراموش نہیں کرسکتے کہ انہوں نے بڑی شاندار فلمیں بنائیں۔ بھارت میں بِمل رائے اور باسو چیٹر جی کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں اس کے علاوہ اور بھی نام ہیں ۔ نذرالاسلام بنگلا دیش کے قیام کے بعد پاکستان ہی میں رہے ۔ انہیں 1971 ء میں بننے والی فلم ''پیاسا‘‘ سے شہرت ملی۔ان کا کمال یہ تھا کہ انہوں نے ایک پنجابی فلم ''کالے چور‘‘ بھی بنائی جو سپرہٹ ثابت ہوئی۔ انہوں نے ''آئینہ‘‘ جیسی معرکہ آراء فلم کی ہدایات دیں، یہ فلم کراچی میں 5سال نمائش پذیر رہی ۔ اس فلم کے تمام نغمات ہٹ ہوئے اور آج بھی ان کی مقبولیت برقرار ہے ۔ ان کی فلموں ''بندش‘‘ اور ''نہیں ابھی نہیں‘‘ بھی زبردست کامیابی سے ہمکنار ہوئیں۔ اگرچہ یہ دونوں فلمیں انگریزی فلموں ''سمر آف 42‘‘ اور ''سن فلاور‘‘ سے متاثر ہوکر بنائی گئیں تھیں لیکن یہ بات ماننا پڑے گی کہ نذرالاسلام نے انتہائی مہارت سے ان فلموں کی ہدایات دیں۔ ''نہیں ابھی نہیں‘‘ میں انہوں نے فیصل اور ایاز کو متعارف کرایا۔ اور ان دونوں نے اپنی اداکاری سے سب کو چونکا دیا۔ اس فلم کے گیت سرور بارہ بنکوی نے تحریرکئے تھے اور سنگیت روبن گھوش کا تھا۔ یہ فلم 1980 ء میں ریلیز ہوئی اور اسے بہت پسند کیا گیا۔ اس کے بعد فیصل اور ایاز کو کئی اور فلموں میں کاسٹ کرلیا گیا۔ ان کی ایک اور شاندار فلم ''لوسٹوری‘‘ تھی جو 1982ء میں نمائش کیلئے پیش کی گئی۔ اس فلم کو بھی بہت پسند کیا گیا۔ اس میں فیصل کے علاوہ لیلیٰ اور آغاطالش نے بھی بہت اچھی اداکاری کی ۔ ''لوسٹوری‘‘ کی موسیقی بہت اچھی تھی اور اس کے نغمات بہت ہٹ ہوئے۔ 
دادا نذرالاسلام کی فلم ''زندگی‘‘ نے بھی بڑی کامیابی حاصل کی۔ اس میں ندیم، بابراشریف، ننھا اور مصطفی قریشی نے بہت اچھی اداکاری کا مظاہرہ کیا۔ 1978 ء میں ریلیز ہونے والی فلم میں روحی بانو اور طارق عزیزنے بھی مہمان اداکار کے طور پر کام کیا تھا۔ لیکن ان کرداروں میں بھی انہوں نے چونکا دینے والی اداکاری کی ، ویسے تو جاگیرداری کے خلاف بے شمار پنجابی فلمیں بنائی گئیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری پنجابی فلموں نے جاگیرداری کے خلاف عوام کو جو شعور دیا اس کی جتنی تحسین کی جائے کم ہے۔ فلم ''زندگی‘‘ نے اے نیئر کو بھی بہت شہرت دی۔ ان کا یہ گیت ''سالگرہ کا دن آیا ہے ‘‘ بہت پسند کیا گیا اور یہ گیت آج بھی ان کے بہترین گیتوں میں شمار ہوتا ہے سالگرہ کی تقاریب میں کافی عرصہ یہ گیت چلتا رہا۔ اس فلم کا سنگیت بھی روبن گھوش نے مرتب کیا تھا۔ نذرالاسلام کی خوبی یہ تھی کہ ان کی فلم دیکھ کر فلم بین یہ سمجھ جاتے تھے کہ اس فلم کا ٹریٹمنٹ صرف دادا ہی دے سکتے ہیں ۔ دوسری خاصیت یہ تھی کہ ان کی فلم کی سنیماٹوگرافی بڑے کمال کی ہوتی تھی ۔ اور تیسری خاصیت ان کی فلموں کا سنگیت ہوتا تھا۔ اس حوالے سے ان کی فلم ''امبر‘‘ کا ذکر بہت ضروری ہے یہ ایک رومانوی اور سوشل فلم تھی جس میں محمد علی اور ندیم نے مرکزی کردار ادا کئے تھے۔ ''امبر‘‘ کا کردار ممتاز نے ادا کیا تھا ۔ اس وقت ممتاز پنجابی فلموں میں کام کررہی تھیں۔ ''امبر‘‘ کا مرکزی کردار ممتاز کو دینے کا فیصلہ بھی حیران کن تھا۔ یہ کردار شبنم کو بھی دیا جاسکتا تھا لیکن انہوں نے ممتاز کو کاسٹ کیا، یہ فلم بھی سپرہٹ ثابت ہوئی اس کے گیت بہت مقبول ہوئے خاص طور پر مہدی حسن کا گایا ہوا یہ گیت ''ٹھہرا ہے سماں‘‘اور اے نیئر اور ناہید اختر کا یہ دوگانا''ملے دوساتھی‘‘بہت مقبول ہوئے۔ 
نذرالاسلام کی فلم ''آئینہ‘‘ ایک ایسی فلم ہے جس کی کوئی مثال نہیں دی جاسکتی۔ اس فلم کے اداکاروں میں شبنم، ندیم، ریحان اور بہار نے بے مثال کا م کیا۔ روبن گھوش کی موسیقی آج بھی کانوں میں رس گھولتی ہے ۔ مہدی حسن ، مہناز، عالمگیر اور نیئر ہ نور نے جو گیت گائے ان کی خوشبو آج بھی پھیلی ہوئی ہے ۔ نذرالاسلام نے کبھی موسیقی پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ ''آئینہ ‘‘ اتنی شاندار فلم تھی کہ اس کا چربہ بھارت میں بھی بنایا گیا۔ یہ فلم تھی ''پیار جھکتا نہیں ‘‘ اور یہ فلم بھی ہٹ ہوئی ۔ 
جب نذرالاسلام نے پنجابی فلم ''کالے چور‘‘ کی ہدایات دینے کا فیصلہ کیا تو فلم بینوں کو بڑی حیرت ہوئی ۔ لیکن انہوں نے اس فلم کی ہدایت کاری کرکے سب کے اندازے غلط ثابت کردیئے جن کی یہ رائے تھی کہ دادا پنجابی فلموں کی ہدایت کاری نہیں کرسکتے۔ انہوں نے سلطان راہی،ہمایوں قریشی اور نیلی کی صلاحیتیوں کو بڑے احسن طریقے سے پردۂ سکرین پر استعمال کیا اس فلم میں بھی انہوں نے یہ ثابت کیا کہ اگرسکرپٹ اچھا ہو تو ایک ہدایت کار کیلئے معیاری فلم بنانا کوئی بڑا مسئلہ نہیں ۔ ان کی دیگر فلموں میں'' خواہش، میڈیم باوری‘‘ اور'' نرگس‘‘ کے نام لئے جاسکتے ہیں ۔ اگر ایک اور فلم کا ذکر نہ کیا جائے تو یہ ناانصافی ہوگی۔ یہ فلم تھی ''احساس‘‘ ۔یہ بھی ہٹ ثابت ہوئی اور اس کے نغمات بھی بڑے مقبول ہوئے۔ خاص طور پر رونا لیلیٰ کا گایا یہ گیت''ہمیں کھوکر بہت پچھتائو گے ‘‘ آج بھی بڑے شوق سے سنا جاتا ہے ۔ 
اگرچہ دادا نذرالاسلام کی کچھ فلمیں ناکام بھی ہوئیں لیکن ان کی کامیاب فلموں کی تعداد زیادہ ہے ۔ 1991ء میں یہ بے مثال ہدایت کار اس جہان فانی سے رخصت ہوگیا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
چیٹ بوٹس سے تعلیمی معاونت کیا کریں ،کیا نہ کریں

چیٹ بوٹس سے تعلیمی معاونت کیا کریں ،کیا نہ کریں

مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) دنیا بھر میں تیزی سے ترقی کرنے والی ٹیکنالوجی بن چکی ہے۔ ChatGPT، Claude، Copilot اور دیگر AI چیٹ بوٹس نے معلومات حاصل کرنے، تحقیق کرنے اور تعلیمی مسائل حل کرنے کے انداز کو بدل دیا ہے۔ آج کے طلبہ ان ٹولز کو نہ صرف معلومات کے حصول بلکہ مشکل مضامین سمجھنے، ریاضی کے سوالات حل کرنے اور نئے آئیڈیاز کے لیے بھی استعمال کر رہے ہیں۔ تاہم اس ٹیکنالوجی نے جہاں سیکھنے کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں وہیں تنقیدی سوچ اور طلبہ کے ذہنی ارتقا سے متعلق کئی سوالات بھی جنم دیے ہیں۔پیو ریسرچ سینٹر کی تحقیق کیا بتاتی ہے؟امریکہ کے معروف تحقیقی اداریپیو ریسرچ سنٹر نے 2025ء کے دوران 13 سے 17 سال کی عمر کے 1458 امریکی نوجوانوں پر ایک سروے کیا جس کے مطابق 54 فیصد سے زائد امریکی نوجوان تعلیمی کام میں AI چیٹ بوٹس سے مدد لیتے ہیں جبکہ 57 فیصد انہیں معلومات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔تحقیق سے معلوم ہوا کہ تقریباً ہر پانچ میں سے ایک ایسا طالب علم موجود ہے جو اپنے زیادہ تر یا تمام تعلیمی کام میں AI کی مدد لیتا ہے۔ اس کے برعکس بڑی تعداد ایسے طلبہ کی بھی ہے جو AI کو صرف رہنمائی، وضاحت یا مشکل موضوعات سمجھنے کے لیے استعمال کرتی ہے نہ کہ مکمل اسائنمنٹ تیار کرنے کے لیے۔تعلیم میں AI کے فوائدتحقیق کے مطابق نوجوان AI کو سب سے زیادہ ریاضی، سائنس اور تحقیقی مضامین میں استعمال کرتے ہیں۔ AI طلبہ کو مرحلہ وار طریقے سے سوال حل کرنا سکھاتا ہے، مشکل تصورات آسان زبان میں بیان کرتا ہے اور مختلف انداز سے وضاحت کرتا ہے اس وجہ سے بہت سے طلبہ کا کہنا ہے کہ انہیں صرف جواب ہی نہیں ملتا بلکہ مسئلہ سمجھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔تحقیق میں شامل ایک ہائی سکول کے طالب علم نے بتایا کہ وہ اور اس کے دوست AI سے ریاضی اور کیمسٹری کے مشکل سوالات سمجھتے ہیں۔ اس کے مطابق AI انہیں مسائل حل کرنے کے نئے طریقے سکھاتا ہے، لیکن وہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ AI کو پورا کام کرنے کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے بلکہ صرف رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔اسی طرح تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ AI طلبہ کو نئے موضوعات پر تحقیق کرنے، خیالات پیدا کرنے، معلومات کا خلاصہ بنانے اور مختلف ذرائع سے مواد اکٹھا کرنے میں مدد دیتا ہے جس سے ان کی تعلیمی کارکردگی بہتر ہو سکتی ہے، اگر اسے ذمہ داری سے استعمال کیا جائے۔چیلنجز اور خدشاتاگرچہ AI کے فوائد واضح ہیں لیکن تحقیق نے کئی اہم خدشات بھی اجاگر کیے ہیں۔ تقریباً 59 فیصد نوجوانوں کا خیال ہے کہ ان کے سکولوں میں طلبہ AI کے ذریعے نقل یا غیر دیانت دارانہ طریقے سے کام کرتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تعلیمی اداروں کے لیے AI کے استعمال سے متعلق واضح اصول و ضوابط بنانا ناگزیر ہو گیا ہے۔تحقیق میں شامل ایک طالبہ نے بتایا کہ اس نے اپنی کلاس میں ایک طالب علم کو اپنی ذاتی رائے دینے کے بجائے AI سے یہ پوچھتے دیکھا کہ کسی اشتہار کے بارے میں اس کی رائے کیا ہونی چاہیے۔ اس کے مطابق اس طرح طلبہ اپنی تخلیقی اور تنقیدی سوچ کو استعمال کرنے کے بجائے AI پر مکمل انحصار کرنے لگتے ہیں جو تعلیمی مقاصد کے خلاف ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر طلبہ ہر سوال کا جواب AI سے حاصل کریں گے تو ان کی مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت، آزادانہ سوچ اور تخلیقی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔ اس لیے AI کو استاد یا ذاتی محنت کا متبادل نہیں۔مستقبل کی تعلیم اور AIتحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد AI کے مستقبل کے بارے میں پرامید ہے۔ ان کا خیال ہے کہ مصنوعی ذہانت نئی ایجادات، تحقیق اور سیکھنے کے عمل کو مزید مؤثر بنائے گی۔ تاہم کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ تعلیمی ادارے، اساتذہ، والدین اور طلبہ AI کے استعمال کے لیے مناسب رہنمائی اور اخلاقی اصول اختیار کریں۔سکولوں کو چاہیے کہ وہ طلبہ کو AI کے ذمہ دارانہ استعمال کی تربیت دیں، ایسے امتحانی نظام متعارف کرائیں جو صرف یادداشت کے بجائے تجزیاتی اور تنقیدی صلاحیتوں کو جانچیں اور طلبہ کو یہ سکھائیں کہ AI سے حاصل ہونے والی معلومات کی تصدیق کیسے کی جائے۔مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس تعلیم کے شعبے میں ایک اہم انقلاب ثابت ہو رہے ہیں۔ وہ طلبہ کے لیے ایک مؤثر معاون استاد، تحقیقاتی ساتھی اور سیکھنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں بشرطیکہ ان کا استعمال ذمہ داری اور اعتدال کے ساتھ کیا جائے۔ پیو ریسرچ سینٹر کی تحقیق واضح کرتی ہے کہ نوجوان AI کو تیزی سے اپنا رہے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ تعلیمی ادارے ایسی پالیسیاں وضع کریں جو AI کے فوائد سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے طلبہ کی تخلیقی صلاحیت، تنقیدی سوچ اور علمی دیانت کو محفوظ رکھ سکیں۔ مستقبل کی کامیاب تعلیم وہی ہوگی جس میں انسانی ذہانت اور مصنوعی ذہانت ایک دوسرے کی تکمیل کریں، نہ کہ ایک دوسرے کا متبادل بن جائیں۔ اسی طرح مصنوعی ذہانت مؤثر معاون کے طورپر کردار ادا کر سکے گی۔

کیا ہفتے میں ایک دن ورزش کافی ہے؟

کیا ہفتے میں ایک دن ورزش کافی ہے؟

نئی تحقیق کیا بتاتی ہےصحت مند زندگی کے لیے باقاعدہ ورزش کو ہمیشہ بنیادی ضرورت قرار دیا جاتا ہے اور عام طور پر ماہرین ہفتے میں کئی دن جسمانی ورزش کا مشورہ دیتے ہیں تاکہ دل، پھیپھڑوں، عضلات اور جسمانی وزن متوازن رہے۔ لیکن اگر کسی شخص کے پاس ہفتے میں صرف ایک دن ورزش کے لیے وقت ہو تو کیا وہ بھی صحت کے وہی فوائد حاصل کر سکتا ہے جو ہفتے میں تین یا اس سے زیادہ دن ورزش کرنے والے افراد کو حاصل ہوتے ہیں؟ ایک نئی تحقیق نے اس سوال کا ایسا جواب پیش کیا ہے جو لاکھوں مصروف افراد کے لیے امید افزا ثابت ہو سکتا ہے۔یہ تحقیق ہانگ کانگ یونیورسٹی میں انجام دی گئی اور اس میں چائنیز یونیورسٹی آف ہانگ کانگ، ہانگ کانگ بیپٹسٹ یونیورسٹی اور کینیڈا کی میک ماسٹر یونیورسٹی کے سائنسدان شریک تھے۔ تحقیق میں موٹاپے کا شکار 315 بالغ افراد کو شامل کیا گیا۔ ان کی عمر، جسمانی حالت اور صحت کا جائزہ لینے کے بعد انہیں 16 ہفتوں تک مختلف ورزشی پروگراموں پر عمل کرایا گیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ورزش کی تعداد زیادہ اہم ہے یا مجموعی دورانیہ۔شرکاکو تین گروپوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ پہلے گروپ نے ہفتے میں صرف ایک مرتبہ 75 منٹ کی تیز رفتار وقفہ وار چہل قدمی (Brisk Interval Walking) کی۔ اس ورزش میں تیز رفتار چلنے اور نسبتاً آہستہ چلنے کے وقفے شامل تھے تاکہ دل اور پھیپھڑوں پر مناسب دباؤ پڑے۔دوسرے گروپ نے یہی 75 منٹ کی ورزش ہفتے میں تین مختلف دنوں میں کی جبکہ تیسرے گروپ نے اس مخصوص ورزشی پروگرام میں حصہ نہیں لیا اور اسے کنٹرول گروپ کے طور پر رکھا گیا۔16 ہفتوں کے بعد تمام شرکاکے جسمانی وزن، جسم میں چربی، کمر کے گھیر، بلڈ پریشر اور دل کی صحت کا دوبارہ جائزہ لیا گیا۔تحقیق کے نتائج نہایت دلچسپ تھے۔ جن افراد نے ہفتے میں صرف ایک مرتبہ 75 منٹ کی ورزش کی تھی ان میں جسمانی چربی میں کمی، کمر کے گھیر میں کمی اور دل اور پھیپھڑوں کی کارکردگی میں تقریباً وہی بہتری دیکھی گئی جو ہفتے میں تین دن ورزش کرنے والوں میں ریکارڈ کی گئی۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ ورزش کی تعداد بالکل غیر اہم ہے بلکہ یہ کہ اگر ورزش کا کل دورانیہ اور شدت ایک جیسی ہو تو بعض حالات میں ایک طویل سیشن بھی مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔یہ نتائج خاص طور پر اُن افراد کے لیے اہم ہیں جو ملازمت، کاروبار یا دیگر مصروفیات کی وجہ سے ہفتے میں کئی دن ورزش نہیں کر سکتے۔ اب ان کے پاس یہ سائنسی ثبوت موجود ہے کہ مناسب منصوبہ بندی کے ساتھ ہفتے میں ایک دن بھی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔کیا ایک دن ورزش کافی ہے؟اگرچہ تحقیق کے نتائج حوصلہ افزا ہیں لیکن انہیں غلط انداز میں نہیں سمجھنا چاہیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق صرف پیٹ کے موٹاپے میں مبتلا بالغ افراد پر کی گئی تھی ۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر شخص کے لیے ہفتے میں صرف ایک دن ورزش کرنا ہی بہترین طریقہ ہے۔ باقاعدہ جسمانی سرگرمی کے بے شمار ایسے فوائد ہیں جو صرف وزن کم کرنے تک محدود نہیں۔ روزانہ یا ہفتے میں کئی دن ورزش کرنے سے ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے، نیند بہتر ہوتی ہے، خون میں شوگر کا توازن برقرار رہتا ہے، پٹھے مضبوط ہوتے ہیں اور جسم کی لچک میں اضافہ ہوتا ہے۔اسی طرح طویل دورانیے کی ورزش ہر شخص کے لیے مناسب نہیں ہوتی۔ دل کے مریض، ہائی بلڈ پریشر، جوڑوں کے درد یا دیگر طبی مسائل میں مبتلا افراد کو کسی بھی نئے ورزشی پروگرام سے پہلے اپنے معالج سے ضرور مشورہ کرنا چاہیے۔آج کی تیز رفتار زندگی میں بہت سے لوگ صرف اس لیے ورزش نہیں کرتے کہ انہیں روزانہ وقت نہیں ملتا۔ یہ تحقیق ایسے افراد کے لیے ایک مثبت پیغام ہے کہ اگر وہ ہفتے میں صرف ایک دن بھی مناسب وقت نکال کر مؤثر انداز میں ورزش کریں تو وہ اپنی صحت میں نمایاں بہتری لا سکتے ہیں۔البتہ اس کے ساتھ متوازن غذا، مناسب نینداور روزمرہ زندگی میں جسمانی سرگرمی بھی صحت مند طرزِ زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ صرف ایک دن ورزش کرنے سے باقی تمام غیر صحت مند عادات کی تلافی نہیں ہو سکتی۔ہانگ کانگ یونیورسٹی اور اس کے بین الاقوامی شراکت دار اداروں کی یہ تحقیق اس تصور کو ایک نئی جہت دیتی ہے کہ ورزش کا فائدہ صرف اس کی تعداد پر منحصر نہیں بلکہ اس کے مجموعی دورانیے اور معیار پر بھی ہوتا ہے۔ اگرچہ باقاعدگی سے ورزش کرنا اب بھی بہترین حکمتِ عملی سمجھی جاتی ہے لیکن یہ تحقیق ان لوگوں کے لیے امید کی ایک نئی کرن ہے جو وقت کی کمی کے باعث ہفتے میں صرف ایک دن ہی ورزش کر سکتے ہیں۔تاہم ماہرین کا مشورہ یہی ہے کہ ہر شخص اپنی عمر اور طبی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ورزش کا ایسا معمول بنائے جسے وہ مستقل مزاجی کے ساتھ جاری رکھ سکے کیونکہ صحت مند زندگی کا راز وقتی جوش میں نہیں بلکہ مسلسل عمل میں ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

برطانیہ کا اعلانِ جنگ 4 اگست 1914ء کو برطانیہ نے جرمنی کے خلاف جنگ کا اعلان کیا جس کے بعد پہلی جنگِ عظیم ایک حقیقی عالمی جنگ میں تبدیل ہوگئی۔ اس سے چند روز قبل آسٹریا۔ہنگری اور سربیا کے درمیان تنازع شروع ہوا تھا لیکن جرمنی کی جانب سے غیر جانبدار ملک بلجیم پر حملے نے برطانیہ کو مداخلت پر مجبور کر دیا۔ جب جرمنی نے برطانوی الٹی میٹم مسترد کر دیا تو 4 اگست کی رات برطانیہ باضابطہ طور پر جنگ میں شامل ہوگیا۔ اس اعلان کے ساتھ ہی برطانوی سلطنت کے زیرِ انتظام ممالک بھی جنگ کا حصہ بن گئے جن میں برصغیر ہند بھی شامل تھا۔ لاکھوں ہندوستانی فوجیوں نے یورپ، مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے مختلف محاذوں پر خدمات انجام دیں۔ این فرینک کی گرفتاری4 اگست 1944ء کو نازی جرمنی کی پولیس نے ایمسٹرڈیم میں این فرینک، اس کے خاندان اور ان کے ساتھ چھپے ہوئے دیگر افراد کو گرفتار کر لیا۔ این فرینک تقریباً دو سال تک ایک خفیہ مقام پر اپنے خاندان کے ساتھ چھپی رہی تھی۔ اسی دوران اس نے اپنی روزمرہ زندگی، خوف، امیدوں اور جنگ کے حالات پر مشتمل ایک ڈائری لکھی جو بعد میں دنیا کی مشہور ترین کتابوں میں شامل ہوئی۔ گرفتاری کے بعد انہیں مختلف حراستی کیمپوں میں بھیجا گیا۔ این فرینک1945 کے اوائل میں برگن بیلسن کیمپ میں بیماری کے باعث وفات پا گئی لیکن اس کے والد اوٹو فرینک زندہ بچ گئے۔ جنگ کے بعد اوٹو فرینک نے این کی ڈائری شائع کروائی جو اَب درجنوں زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہے۔ اپر وولٹا کا نام تبدیل 4 اگست 1984ء کو مغربی افریقہ کے ملک اپر وولٹا کا نام تبدیل کرکے برکینا فاسو رکھا گیا۔ یہ فیصلہ صدر تھامس سانکارا نے اپنی حکومت کے پہلے سال کی تکمیل پر کیا۔ برکینا فاسو کا مطلب دیانت دار لوگوں کی سرزمین یا باعزت انسانوں کا وطن ہے۔ اس تبدیلی کا مقصد نوآبادیاتی دور کی شناخت سے نکل کر ایک نئی قومی شناخت قائم کرنا تھا۔ سانکارا نے صرف نام ہی تبدیل نہیں کیا بلکہ زرعی اصلاحات، خواتین کے حقوق، تعلیم، صحت اور خود انحصاری کے لیے بھی بڑے اقدامات کیے۔ اگرچہ ان کی حکومت زیادہ عرصہ قائم نہ رہ سکی لیکن آج بھی انہیں افریقہ کے اہم انقلابی رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ بیروت بندرگاہ دھماکہ 4 اگست 2020ء کو لبنان کے دارالحکومت بیروت کی بندرگاہ پر ایک ہولناک دھماکہ ہوا جسے جدید تاریخ کے سب سے بڑے غیر ایٹمی دھماکوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ تحقیقات کے مطابق بندرگاہ کے گودام میں کئی برسوں سے تقریباً 2750 ٹن امونیم نائٹریٹ غیر محفوظ حالت میں رکھا گیا تھا۔ آگ لگنے سے یہ کیمیکل پھٹ گیا جس سے پورا شہر لرز اٹھا۔ اس سانحے میں 200 سے زائد افراد جاں بحق، سات ہزار سے زیادہ زخمی اور لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے۔ بندرگاہ، ہسپتالوں، رہائشی علاقوں اور کاروباری مراکز کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ اربوں ڈالر کا معاشی خسارہ ہوا۔ جیسی اوونز کا تمغہ 4 اگست 1936ء کو امریکی ایتھلیٹ جیسی اونزنے برلن اولمپکس میں 100 میٹر دوڑ کا طلائی تمغہ جیتا۔ یہ اولمپکس نازی جرمنی کے حکمران ایڈولف ہٹلر کے زیرِ اہتمام منعقد ہوئے تھے جہاں آریائی نسل کی برتری کا بھرپور اظہار کیا گیا۔ اوونز، جو ایک افریقی نژاد امریکی کھلاڑی تھے، نے نہ صرف 100 میٹر بلکہ مجموعی طور پر چار طلائی تمغے جیت کر اس نسل پرستانہ نظریے کو دنیا کے سامنے غلط ثابت کیا۔ ان کی غیر معمولی کارکردگی کھیلوں کی تاریخ کی عظیم ترین کامیابیوں میں شمار ہوتی ہے۔ اگرچہ امریکہ واپس آنے پر بھی انہیں نسلی امتیاز کا سامنا کرنا پڑا، لیکن وقت کے ساتھ وہ مساوات، عزم اور انسانی وقار کی علامت بن گئے۔

خلا میں ڈیٹا سینٹر قائم کرنے کا منصوبہ

خلا میں ڈیٹا سینٹر قائم کرنے کا منصوبہ

یہ منصوبہ کرہ ارض کیلئے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے: ماہرین خلائی ٹیکنالوجی کی برق رفتار ترقی نے انسان کیلئے کائنات کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ اب خلا صرف سائنسی تحقیق، سیاروں کی کھوج یا مصنوعی سیاروں کی تنصیب تک محدود نہیں رہا بلکہ دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اسے مستقبل کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کا مرکز بنانے کے خواب بھی دیکھ رہی ہیں۔ اسی تناظر میں ارب پتی کاروباری شخصیات ایلون مسک اور جیف بیزوس کی جانب سے خلا میں ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کے تصور نے عالمی سطح پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس منصوبے کے حامیوں کا خیال ہے کہ خلا میں قائم ڈیٹا سینٹرز مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور ڈیٹا اسٹوریج کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو زیادہ مؤثر انداز میں پورا کر سکتے ہیں، جبکہ زمین پر توانائی کے دباؤ اور گرمی کے اخراج میں بھی کمی لائی جا سکتی ہے۔ دوسری جانب ماہرین ماحولیات اور خلائی سائنسدان خبردار کر رہے ہیں کہ اگر اس منصوبے پر بغیر جامع منصوبہ بندی کے عمل کیا گیا تو راکٹ لانچز میں اضافے، خلائی ملبے، کاربن اخراج اور ماحولیاتی اثرات کے باعث یہ منصوبہ کرہ ارض اور خلائی ماحول دونوں کیلئے سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلا میں ڈیٹا سینٹرز کے قیام کا یہ تصور جہاں ٹیکنالوجی کے مستقبل کی ایک انقلابی جھلک پیش کرتا ہے، وہیں اس کے ممکنہ خطرات نے بھی دنیا بھر کے ماہرین کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ایلون مسک کی کمپنی ''سپیس ایکس‘‘ (SpaceX) اور جیف بیزوس کی ''بلیو اوریجن‘‘ ان نمایاں کمپنیوں میں شامل ہیں جو خلا میں ڈیٹا سینٹرز کو مدار میں بھیجنے کے منصوبوں پر کام کر رہی ہیں۔ ان کمپنیوں کا دعویٰ ہے کہ خلا میں قائم ڈیٹا سینٹرز کے کئی فوائد ہیں، جن میں سورج سے مفت اور تقریباً لامحدود توانائی کا حصول، کم آپریٹنگ اخراجات اور زیادہ مؤثر کارکردگی شامل ہیں۔تاہم تمام ماہرین اس مؤقف سے اتفاق نہیں کرتے۔ ارتھ جسٹس کی نمائندگی میں سائنسدانو ں کے ایک گروپ نے امریکی فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن (FCC) سے درخواست کی ہے کہ خلا میں ڈیٹا سینٹرز کے قیام سے وابستہ ماحولیاتی خطرات کا جامع اور تفصیلی جائزہ لیا جائے۔ ان سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر لاکھوں مصنوعی سیاروں کو زمین کے گرد مدار میں بھیجا گیا تو اس سے نہ صرف زمین کے ماحول میں تبدیلیاں آ سکتی ہیں بلکہ جنگلی حیات بھی متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ رات کا قدرتی آسمان ہمیشہ کیلئے اپنی موجودہ شکل کھو سکتا ہے۔''پبلک ایمپلائز فار انوائرنمنٹل ریسپانسبلٹی‘‘ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ٹِم وائٹ ہاؤس نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ماحولیاتی جائزے کے بغیر مدار میں ڈیٹا سینٹرز کی اجازت دینا صرف غیر ذمہ دارانہ اقدام نہیں بلکہ انتہائی خطرناک اور لاپرواہی پر مبنی فیصلہ ہو گا۔ان منصوبوں سے پیدا ہونے والی آلودگی، خلائی ملبہ اور فضا کو پہنچنے والا ممکنہ نقصان، نیز جنگلی حیات پر مرتب ہونے والے منفی اثرات، ایسے اہم مسائل ہیں جن پر ان منصوبوں کو لائسنس جاری کرنے سے پہلے نہایت سنجیدگی اور احتیاط کے ساتھ غور کیا جانا چاہیے۔حالیہ برسوں میں خلا میں ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے میں دلچسپی نمایاں طور پر بڑھ گئی ہے۔ اس کی بڑی وجہ مصنوعی ذہانت کا تیزی سے فروغ ہے، جس نے کمپیوٹنگ طاقت اور ڈیٹا ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کی ضرورت میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔ گزشتہ سال جیف بیزوس نے پیش گوئی کی تھی کہ آئندہ 10 سے 20 برسوں کے دوران خلا میں ڈیٹا سینٹرز تعمیر کیے جائیں گے، جبکہ ایلون مسک نے مختصر الفاظ میں اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھاکہ اسپیس ایکس یہ کام ضرور کرے گی۔اس منصوبے کے حامیوں کے مطابق ڈیٹا سینٹرز کو زمین کے بجائے مدار میں منتقل کرنے سے دو بڑے مسائل حل ہو سکتے ہیں، جن میں توانائی کی فراہمی اور ماحولیاتی اثرات سرفہرست ہیں۔ زمین پر قائم ڈیٹا سینٹرز کو چلانے کیلئے بے پناہ مقدار میں بجلی درکار ہوتی ہے، جبکہ خلا میں انہیں سورج سے تقریباً لامحدود اور مسلسل توانائی حاصل ہو سکتی ہے۔ اسی طرح زمینی ڈیٹا سینٹرز کے قریب رہنے والے افراد اکثر ان کے ماحولیاتی اثرات، توانائی کے زیادہ استعمال، شور اور حرارت کے اخراج پر اعتراض کرتے ہیں۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ مراکز خلا میں منتقل کر دیے جائیں تو ان مسائل پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔گزشتہ چند ماہ کے دوران متعدد کمپنیوں نے امریکی فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن سے زمین کے نچلے مدار میں لاکھوں مصنوعی سیارے تعینات کرنے کیلئے لائسنس کی درخواستیں دی ہیں۔ تاہم اپنی نئی درخواست میں ماحولیاتی سائنس دانوں نے ایف سی سی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس منصوبے پر فوری پیشرفت کرنے کے بجائے احتیاط سے کام لے اور منظوری دینے سے پہلے اس کے ممکنہ ماحولیاتی اثرات کا مکمل اور جامع جائزہ لیا جائے۔ماحولیاتی خدشات رکھنے والے ماہرین کے مطابق مصنوعی سیاروں کے ماحول پرسنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں، جن سے فوری طور پر نمٹنے کی ضرورت ہے۔ان کے مطابق راکٹوں کی لانچنگ اور مشن مکمل ہونے کے بعد ان کی زمین کی فضا میں واپسی کے دوران ہونے والے اخراج انتہائی زیادہ ہوتے ہیں، جبکہ یہ عمل اوزون کی تہہ کو بھی نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتا ہے۔

کنگز کالج چیپل

کنگز کالج چیپل

چھ صدیوں سے قائم علم، فن تعمیر اور تاریخ کا عظیم شاہکارتاریخ انسانی تہذیب کی آئینہ دار ہوتی ہے، اور دنیا میں بے شمار ایسی تاریخی عمارتیں موجود ہیں جو اپنے اندر صدیوں پر محیط ثقافت، علم، مذہب اور فن تعمیر کی داستانیں سموئے ہوئے ہیں۔ انہی عظیم یادگاروں میں انگلینڈ کی معروف کنگز کالج چیپل بھی شامل ہے، جس کی بنیاد 1441ء میں انگلینڈ کے بادشاہ ہنری ششم نے رکھی۔ آج یہ عمارت نہ صرف کیمبرج یونیورسٹی کی شناخت سمجھی جاتی ہے بلکہ برطانیہ کے بہترین تاریخی اور مذہبی ورثوں میں بھی شمار ہوتی ہے۔15ویں صدی یورپ میں علمی، مذہبی اور ثقافتی تبدیلیوں کا دور تھا۔ اسی زمانے میں بادشاہ ہنری ششم نے کیمبرج میں ایک ایسے تعلیمی ادارے کے قیام کا فیصلہ کیا جو اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور مذہبی اقدار کا مرکز بن سکے۔ اس مقصد کیلئے 1441ء میں کنگز کالج کی بنیاد رکھی گئی، جبکہ اس کے ساتھ تعمیر ہونے والے عظیم عبادت خانے، کنگز کالج چیپل، کا سنگ بنیاد بھی رکھا گیا۔ بادشاہ کا خواب تھا کہ یہ عمارت نہ صرف عبادت کیلئے استعمال ہو بلکہ آنے والی نسلوں کیلئے علم اور تہذیب کی علامت بھی بنے۔کنگز کالج چیپل کی تعمیر اگرچہ 1441ء میں شروع ہوئی، لیکن سیاسی تبدیلیوں، جنگوں اور مالی مشکلات کے باعث یہ منصوبہ کئی دہائیوں تک جاری رہا۔ مختلف بادشاہوں نے اس تعمیر کو آگے بڑھایا اور بالآخر سولہویں صدی کے اوائل میں یہ شاہکار مکمل ہوا۔ تقریباً ستر برس تک جاری رہنے والی یہ تعمیر اس بات کا ثبوت ہے کہ عظیم منصوبے وقت، محنت اور مستقل مزاجی کا تقاضا کرتے ہیں۔اس عمارت کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا شاندار فن تعمیر ہے۔ یہ گوتھک طرزِ تعمیر کی بہترین مثال سمجھی جاتی ہے۔ چیپل کی بلند و بالا چھت، نفیس پتھروں پر کی گئی نقش و نگاری، دلکش محرابیں اور رنگین شیشوں سے مزین بڑی بڑی کھڑکیاں دیکھنے والوں کو حیرت میں ڈال دیتی ہیں۔ ماہرین تعمیرات کے مطابق اس کی چھت پر بنایا گیا ''فین والٹ‘‘ دنیا کے خوبصورت ترین پتھریلے ڈیزائنوں میں شمار ہوتا ہے، جو آج بھی انجینئرنگ کا ایک حیرت انگیز نمونہ سمجھا جاتا ہے۔کنگز کالج چیپل صرف ایک تاریخی عبادت گاہ نہیں بلکہ علم و تحقیق کی علامت بھی ہے۔ کیمبرج یونیورسٹی دنیا کی ممتاز جامعات میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے سائنس، ادب، فلسفہ، معاشیات اور دیگر شعبوں میں بے شمار نامور شخصیات نے تعلیم حاصل کی۔ ان میں کئی نوبیل انعام یافتہ سائنس دان بھی شامل ہیں۔ اس طرح چیپل اور کالج مل کر اس علمی روایت کی نمائندگی کرتے ہیں جس نے دنیا بھر میں تحقیق اور تعلیم کو فروغ دیا۔یہ عمارت اپنی مذہبی اہمیت کے ساتھ ساتھ موسیقی کی دنیا میں بھی ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ ہر سال کرسمس کے موقع پر یہاں ہونے والی دعائیہ تقریب اور مذہبی نغمے دنیا بھر میں نشر کئے جاتے ہیں۔ کنگز کالج کا کوائر (Choir)اپنی خوبصورت آواز اور اعلیٰ معیار کی وجہ سے عالمی شہرت رکھتا ہے، جسے سننے کیلئے ہزاروں افراد ہر سال یہاں کا رخ کرتے ہیں۔وقت گزرنے کے باوجود کنگز کالج چیپل اپنی اصل خوبصورتی اور تاریخی وقار کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ برطانوی حکومت اور متعلقہ ادارے اس تاریخی ورثے کی حفاظت اور دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دیتے ہیں تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس عظیم شاہکار سے مستفید ہو سکیں۔ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے عمارت کی مرمت، صفائی اور تحفظ کا کام مسلسل جاری رہتا ہے۔سیاحت کے اعتبار سے بھی کنگز کالج چیپل کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک سے لاکھوں سیاح ہر سال کیمبرج آتے ہیں تاکہ اس تاریخی عمارت کو قریب سے دیکھ سکیں۔ اس سے نہ صرف برطانیہ کی ثقافتی شناخت مضبوط ہوتی ہے بلکہ ملکی معیشت کو بھی خاطر خواہ فائدہ پہنچتا ہے۔ تاریخی مقامات دنیا کو اس ملک کی تہذیب، تاریخ اور ثقافت سے روشناس کراتے ہیں۔کنگز کالج چیپل کی عمارت ہمیں یہ سبق بھی دیتی ہے کہ عظیم قومیں اپنے تاریخی ورثے کی حفاظت کو اپنی ذمہ داری سمجھتی ہیں۔ قدیم عمارتیں صرف پتھروں کا مجموعہ نہیں ہوتیں بلکہ وہ ماضی کی کہانیاں، تہذیبی اقدار اور قومی شناخت اپنے اندر محفوظ رکھتی ہیں۔ اگر ان کی حفاظت کی جائے تو یہ آنے والی نسلوں کیلئے علم، تحقیق اور سیاحت کا قیمتی سرمایہ ثابت ہوتی ہیں۔آج، تقریباً چھ صدیوں بعد بھی کنگز کالج چیپل کی عمارت اپنی شان و شوکت کے ساتھ کھڑی ہے۔ یہ عمارت اس بات کی زندہ مثال ہے کہ علم، فن تعمیر اور ثقافت جب ایک دوسرے سے مل جائیں تو ایسی لازوال یادگاریں وجود میں آتی ہیں جو وقت کے گزرنے کے باوجود اپنی اہمیت برقرار رکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کنگز کالج چیپل صرف انگلینڈ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے تاریخی اور تعلیمی ورثے کا ایک روشن باب سمجھی جاتی ہے۔

پاکستان کا نوجوان: مستقبل کا معمار

پاکستان کا نوجوان: مستقبل کا معمار

کسی بھی ملک کا مستقبل اس کے نوجوانوں سے وابستہ ہوتا ہے۔ نوجوان کسی بھی قوم کی سب سے بڑی طاقت ہوتے ہیں۔ ان میں توانائی، صلاحیت، تخلیقی سوچ اور نئے راستے تلاش کرنے کا جذبہ موجود ہوتا ہے۔ پاکستان بھی نوجوانوں کا ملک ہے اور اس کی نوجوان نسل ملک کی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ نوجوانوں کو درست سمت، بہتر تعلیم اور اپنی صلاحیتیں استعمال کرنے کے مناسب مواقع فراہم کیے جائیں۔ وقت تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ دنیا مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، سائنس، تحقیق، آن لائن کاروبار اور جدید مہارتوں کی طرف بڑھ رہی ہے۔ پاکستان کے نوجوان بھی ان شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کر رہے ہیں۔ بہت سے نوجوان فری لانسنگ، سافٹ ویئر، گرافک ڈیزائننگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، آن لائن تعلیم اور دیگر جدید شعبوں میں نہ صرف اپنے لیے روزگار پیدا کر رہے ہیں بلکہ ملک کیلئے قیمتی زرمبادلہ بھی کما رہے ہیں۔ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ پاکستانی نوجوان ذہانت اور صلاحیت میں کسی سے کم نہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک میں پاکستانی نوجوان تعلیم، طب، انجینئرنگ، ٹیکنالوجی، کاروبار، کھیل اور دیگر شعبوں میں ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔ اگر یہی مواقع پاکستان کے اندر بھی وسیع پیمانے پر فراہم کیے جائیں تو نوجوان نسل ملکی ترقی میں مزید مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ نوجوانوں کیلئے تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید ہنر سیکھنا بھی بہت ضروری ہے۔ آج کامیابی کیلئے صرف ڈگری کافی نہیں بلکہ عملی مہارت، تخلیقی سوچ، ٹیکنالوجی سے واقفیت اور مسلسل سیکھنے کا جذبہ بھی ضروری ہے۔ نوجوانوں کو اپنی دلچسپی اور صلاحیت کے مطابق مختلف شعبوں کا انتخاب کرنا چاہیے۔ ہر نوجوان کیلئے کامیابی کا راستہ ایک جیسا نہیں ہوتا۔ کوئی سائنس اور ٹیکنالوجی میں کامیاب ہو سکتا ہے، کوئی کاروبار میں، کوئی فنون میں، کوئی کھیل میں اور کوئی تحقیق کے میدان میں۔ پاکستان میں نوجوانوں کیلئے مواقع پیدا کرنے میں حکومت، تعلیمی اداروں اور نجی شعبے کا کردار نہایت اہم ہے۔ اگر نوجوانوں کو بہتر رہنمائی اور تربیت فراہم کی جائے تو وہ نہ صرف ملازمت حاصل کرنے والے بلکہ روزگار پیدا کرنے والے بھی بن سکتے ہیں۔ والدین اور اساتذہ بھی نوجوانوں کی شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی، ان کی صلاحیتوں کو سمجھنا اور انہیں مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا ضروری ہے۔ ہر نوجوان میں کوئی نہ کوئی خاص صلاحیت موجود ہوتی ہے، ضرورت صرف اسے پہچاننے اور بہتر انداز میں نکھارنے کی ہے۔ نوجوانوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے وقت اور صلاحیتوں کو مثبت انداز میں استعمال کریں۔ جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کو صرف تفریح کیلئے نہیں بلکہ تعلیم، ہنر، کاروبار اور معلومات کے حصول کیلئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ دنیا میں کامیاب ہونے والے بہت سے نوجوانوں نے محدود وسائل سے آغاز کیا، لیکن مسلسل محنت، سیکھنے اور اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کے ذریعے کامیابی حاصل کی۔ پاکستان کا نوجوان صرف ملک کا مستقبل نہیں بلکہ آج بھی ملک کی ترقی کا اہم حصہ ہے۔ اگر نوجوانوں کو تعلیم، ہنر، تحقیق، کھیل اور کاروبار کے مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ پاکستان کو ترقی کی نئی منزلوں تک لے جا سکتے ہیں۔