نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- حکومت ملی توملک قرضوں کی دلدل میں پھنساہواتھا،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- عمران خان ملکی ترقی وخوشحالی کیلئےکوشاں ہیں،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- سابق حکمرانوں نےملکی پیسہ لوٹ کربیرون ملک جائیدادیں بنائیں،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- برآمدات میں تیزی سےاضافہ ہورہاہے،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- (ن)لیگ دورمیں پاورلومزکوتالےلگےتھے،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- دنیانےکورونامیں پاکستان کی اسمارٹ لاک ڈاؤن پالیسی کوسراہا،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- برطانوی وزیراعظم نےماحولیات سےمتعلق عمران خان کےاقدامات کی تعریف کی،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- پوری دنیامیں مہنگائی کا50 سالہ ریکارڈٹوٹ گیا،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- 10کروڑلوگوں کوکوروناویکسین لگاچکےہیں،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- پیپلزپارٹی ،(ن)لیگ نےاقتدارمیں آکرصرف اپنےبچوں کاسوچا،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- عمران خان اپنےمحلات نہیں غریب کوگھربناکردےرہاہے،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- گھروں کےلیے 90ارب کےقرضےمنظورہوچکےہیں،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- یہ لوگ ووٹ کوعزت دینےکی بات کرتےتھے،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- 2،2ہزارروپےمیں ووٹ کوعزت دےرہےتھے،فرخ حبیب
Coronavirus Updates

جاپان ... جہاں شادی کے لئے فرصت نہیں ! بدروحوں کو بھگانے اور خوش بختی کے لئے تمام مہمان ایک کپ سے تین گھونٹ پیتے ہیں

جاپان ... جہاں شادی کے لئے فرصت نہیں ! بدروحوں کو بھگانے اور خوش بختی کے لئے تمام مہمان ایک کپ سے تین گھونٹ پیتے ہیں

اسپیشل فیچر

تحریر : ڈاکٹر آصف محمود جاہ


جاپان میں شادی ایک مسئلہ ہے۔ جاپانی شادی دیر سے کرتے ہیں یا کرتے ہی نہیں۔زیادہ تر شادیاں 30 سال کی عمر کے بعد ہوتی ہیں۔ شادی سے پہلے لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو پسند کرنے کے بعد دیر تک رابطے میں رہتے ہیں تاکہ ذہنی ہم آہنگی پیدا ہو جائے۔شادی کے لیے خاص اہتمام نہیں کیا جاتا۔ زیورات وغیرہ کی طرف بالکل دھیان نہیں دیا جاتا البتہ دلہن کے خاص لباس پر لاکھوں ین خرچ کیے جاتے ہیں۔ بہت زیادہ پڑھے لکھے افراد اور کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیدار ان اتنے مصروف رہتے ہیں کہ شادی کے لیے سوچنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔1970سے شادیوں میں کمی اور طلاقوں میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے، ایک سروے کے مطابق بالغ افرادکی 59فیصد تعدادشادی شدہ ہے۔
ان لوگوں کو شادی کے لیے فرصت نہیں ملتی، اکیلے دنیا میں آئے ،اور تنہا گزار کر رخصت ہو جاتے ہیں۔
اب جاپانی پرانی روایات کی طرف لوٹ رہے ہیں۔25 سال پہلے جاپان میں کیمونو پہنے شاذو نادر ہی کوئی عورت نظر آتی تھی۔ کیوٹو اور نارا کے مضافاتی علاقوں میں بڑی عمر کی چند خواتین روایتی جاپانی لباس میں نظر آتی تھیں لیکن اب سڑکوں، شاپنگ مالز اور دفاتر میں کئی لڑکیاں کیمونو میں نظر آتی ہیں۔ وہاں شادی کی تقاریب میں منفرد انداز اپنائے جاتے ہیں۔ زیادہ تر شادیاں شنتو، عیسائی یا بدھ مت رسومات کے مطابق انجام پاتی ہیں۔ وہاں اکثر لوگ مذہب کو نہیں مانتے ایسے لوگ شادیاں اپنے انداز میں کرتے ہیں۔ جاپانی عیسائی نہ بھی ہوں تو وہ گرجا میں دلہا کو سفید گائون اور دلہن کو سفید لباس پہنوا کر شادیاں کرتے ہیں۔ جیسے غیر عیسائی جاپانی بھی کرسمس دھوم دھام سے مناتے ہیں۔ بڑے ہوٹلوں نے اپنے ہاں شادی ہال کے اندر یا باہر خانقاہ بنائی ہوتی ہے جہاں شادی کی مذہبی رسومات ادا کی جاتی ہیں۔ زیادہ تر جاپانی شادیوں میں مندرجہ ذیل رسومات/ روایات کو ملحوظِ خاطر رکھا جاتا ہے:
-1شادی سے پہلے منگنی کی تقریب ہوتی ہے جس میں دلہا دلہن کے خاندان آپس میں ملتے ہیں۔ ایک دوسرے کے تعارف کے بعد تحائف کا تبادلہ اور نئے جوڑے کے لیے نیک تمنائوں کا اظہار کیا جاتا ہے۔
-2شنتو مذہب کے لوگ زیادہ تر شنتو مذہبی روایات کے مطابق کرتے ہیں اور یہ زیادہ تر کسی شنتو عبادت گاہ میں ہوتی ہیں۔ بڑے بڑے ہوٹلوں میں اب شادی ہالوں کے ساتھ شنتو مرکز بھی بنا دیئے گئے ہیں جہاں شنتو مذہبی راہب شادی کی رسومات ادا کرتا ہے۔
-3دلہا دلہن کے لیے حیثیت کے مطابق زرق برق کیمونو لباس تیار کروایا جاتا ہے۔ زیادہ تر دولہے کالے رنگ کا کیمونو پہنتے ہیں۔
-4دولہا اور دلہن کو بد روحوں اور برے مقدر سے محفوظ رکھنے کے لیے تین کپ پیش کیے جاتے ہیں جس میں وہ ایک ایک گھونٹ لیتے ہیں۔ ان کے بعد دونوں والدین ایک ایک گھونٹ پیتے ہیں اور اس کے بعد دوسرے قریبی عزیز اور دوست۔تمام مہمان ایک کپ سے تین تین دفعہ پیتے ہیں۔ تینوں کپوں میں سے تین گھونٹ لینے میں ایک حکمت ہے۔ پہلے تین گھونٹ دونوں خاندانوں میں ایک مضبوط بندھن کے لیے ہیں۔ دوسرے تین گھونٹ نفرت، بغض اور حسد کے جذبات دور کرنے اور آخری تین گھونٹ، محبت، پیار اور رشتے میں پختگی اور اچھی قسمت کے لیے ہیں۔3 3 3=9 کا ہندسہ جاپان میں خوش بختی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
-5شنتو سٹائل کی شادی میں دلہن سفید کیمونو لباس پہنتی ہے۔ سفید کے علاوہ پھولدار کیمونو بھی پہننا جاتا ہے۔ دلہن بالوں کا جوڑا بناتی ہے۔ دلہن کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا خوبصورت پرس ہوتا ہے جیسے Habeseko کہتے ہیں۔ اس کی بیلٹ میں ایک چھوٹی سی تلوار اور پنکھا لگا ہوتا ہے جو دلہا دلہن کے اچھے مستقبل کی عکاسی کرتا ہے۔
-6اگر آپ کسی جاپانی شادی میں مہمانوں کی حیثیت سے جا رہے ہیں تو لازمی ہے کہ آپ کوئی گفٹ یا کیش لے کر جائیں۔ شادی ہال میں داخل ہوتے وقت آپ گیسٹ بک پر دستخط کرنے سے پہلے گفٹ یا کیش والا لفافہ پیش کرتے ہیں۔ جس پر مہمان کا نام لکھا ہوتا ہے اور دلہا دلہن کے لیے نیک تمنائوں کا اظہار ہوتا ہے۔
-7دلہا اور دلہن Stage پر بیٹھتے ہیں اور ان کے قریبی عزیز سٹیج پر آ کر دونوں کے لیے نیک تمنائوں کا اظہار کرتے ہیں۔ دلہن کی سہیلیاں شادی کے گیت بھی گاتی ہیں۔
-8زیادہ تر شادیاں شام کو ہوتی ہیں۔ ''سوشی‘‘ شادی کے کھانے میں ضرور شامل ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ پران، لال چاول اور دوسری سی فوڈز کی ڈشیں بھی کھانے کا لازمی حصہ ہوتی ہیں۔
-9شادی کے بعد مہمانوں میں چھوٹے گفٹ پیکس تقسیم کیے جاتے ہیں جن میں چاکلیٹ، مٹھائی اور سوونیئرز وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔
-10کچھ لوگ شادی کا جوڑا کرایے پر لے کر گزارا کر لیتے ہیں اس سے بچائی گئی رقم گھر بنانے پر خرچ کرتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement
مادام تساؤ میوزیم ،دنیا کی تاریخ کا عینی شاہد مومی عجائب گھر

مادام تساؤ میوزیم ،دنیا کی تاریخ کا عینی شاہد مومی عجائب گھر

لندن کے مادام تسائو میوزیم کو دنیا کا آٹھواں عجوبہ تو نہیں کہا جا سکتا مگر جو کوئی بھی اس عجیب و غریب میوزیم کو ایک بار دیکھ آتا ہے اسے یہ تاریخی عمارت عجوبے سے بھی کوئی آگے کی چیز لگتی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو اس میں کسی قسم کا مبالغہ بھی نہیں ہے۔ مادام تسائو میوزیم دراصل اس بچی کی کہانی ہے جس کا اصل نام ''میری گروشولز‘‘تھا۔1761ء میں اس کا باپ یورپ کی سات سالہ جنگ میں مارا گیا۔ تب وہ اپنی ماں کے ساتھ پارسی ڈاکٹر فلیس کریٹس کے گھر چلی گئی اور گھریلو کام میں اس کا ہاتھ بٹانے لگی۔ڈاکٹر فلیس کریٹس خود بھی عجیب و غریب مومی چیزیں اور مجسمے بنا کر ان کی نمائش کیا کرتا تھا اور اس سے اچھے خاصے پیسے کماتا تھا۔ اس نے اپنے گھر میں جو آرٹ گیلری بنا رکھی تھی اس میں اپنے وقت کے معروف اساتذہ، ماہر تعمیرات، کھلاڑیوں حتیٰ کہ چوروں، ڈاکوئوں اور لٹیروں کے مجسمے بھی موجود تھے۔ اس کی یہ آرٹ گیلری کسی قدیم زمانے کا ایک غار معلوم ہوتی تھی۔ یہاں ڈاکٹر کریٹس سے مومی چیزیں بنانے کی مہارت حاصل کرنے کے بعد میری اس قابل ہو گئی تھی کہ وہ یہ تعلیم مزید کسی دوسرے کو دے سکے۔ چنانچہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ مادام تسائو (میری) فرانس کے شاہ لوئس XVIکی چھوٹی بہن کو آرٹ کی تربیت دینے پر مامور ہو گئی۔دلچسپ و حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس وقت میری بمشکل 9برس کی تھی جب وہ شاہ لوئس کی بہن کو آرٹ کی تربیت دے رہی تھی۔ اسی دوران انقلاب فرانس رونما ہوا جس میں میری (مادام تسائو) کو بھی قید کر دیا گیا۔ اسے فرانس کی شہزادی کے برابر والا سیل (کمرہ) دیا گیا چونکہ میری کی مجسمہ سازی کی مہارت سے انقلابی گروپ بھی واقف تھا اس لئے اس ننھی قیدی بچی سے کہا گیا کہ وہ انقلاب فرانس میں ہلاک ہونے والی اہم شخصیات کے ماسک تیار کرے۔9سالہ میری کیلئے یہ ایک بہت ہی خوفناک بلکہ ہولناک تجربہ تھا کہ ایسے لوگ جن کے چہرے جنگی ہلاکت کے بعد بری طرح سے مسخ اور ڈرائونے ہو چکے تھے جن کے کٹے ہوئے سر بھی لا کر باقاعدہ اسے دکھائے گئے تھے۔ اسے کہا گیا کہ وہ ان چہروں کو سامنے رکھ کر ایسے ہی ہو بہو ماسک تیار کرے۔ لہٰذا میری نے سب سے پہلے فرانس کے ہلاک ہونے والے بادشاہ اور اس کی ملکہ کے چہرے کے ماسک بنائے۔ جسے انقلابیوں نے بہت پسند کیا اور پھر میری کو اس کام کیلئے ہی مخصوص کر دیا گیا۔اسی طرح وقت تیزی سے گزرتا رہا۔ میری کی مجسمہ سازی کی شہرت اور مہارت دور دور تک چلی گئی۔ اسی دوران ایک فرانسیسی باشندہ فرانسکو تسائو میری کی شخصیت اور فن کا اس قدر مداح ہو گیا کہ اس نے اس مجسمہ ساز لڑکی کو شادی کی پیشکش کی جو میری نے بہت سوچ سمجھ کے بعد قبول کر لی۔ 1807ء میں مادام تسائو نے شوہر سے قانونی طور پر علیحدگی حاصل کر لی اور پیرس کو ہمیشہ کے لئے چھوڑ کر لندن آ گئی۔ وہ اپنے ساتھ اپنے بیٹے کو بھی برطانیہ لے آئی۔1802ء میں مادام تسائو نے لندن آکر ''مادام تسائو میوزیم‘‘ کی بنیاد رکھی۔برطانیہ آکر مادام تسائو کو پتہ چلا کہ برطانوی حکومت اور یہاں کے باشندے تو پہلے ہی اس کے فن کے شیدائی ہیں۔ اس سلسلے میں برطانوی حکومت نے خصوصی طور پر مادام تسائو سے رابطہ کیا اور اسے کہا گیا کہ وہ منہ مانگے داموں پر انقلاب فرانس کے بارے میں نہ صرف ہلاک ہونے والوں بلکہ جنگی عمل کو بھی اپنے فن کی صورت میں محفوظ کر لے۔ اپنی انہی کوششوں اور جدوجہد میں مصروف رہنے کے بعد 15اپریل 1850ء کو مادام تسائو اس دنیا سے رخصت ہو گئی۔مادام تسائو جب برطانیہ آئی تو وہ برطانیہ کے شاہی خاندان اور اس کے افراد سے بے حد متاثر تھی۔ تب اس نے کئی برطانوی بادشاہوں کے مجسمے بھی بنائے تھے۔ آج میوزیم میں ملکہ برطانیہ اور شاہی خاندان کی تمام شخصیات کے مجسمے موجود ہیں۔مادام تسائو نے 33برس تک اپنے مشاہدے کیلئے سیرو سیاحت بھی کی جس کے بعد اس نے لندن کی بیکرسٹریٹ میں میوزیم بنانے کیلئے ایک جگہ حاصل کی۔اس میوزیم میں خاص طور پر ایک ایسا چیمبربنایا گیا تھا جہاں انقلاب فرانس کے بارے میں تاریخی مجسموں کی نمائش کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اسی میوزیم کے خاص کمرے کا دروازہ حساس اور بزدل لوگوں کیلئے ہمیشہ بند رہتا تھا۔ کیونکہ اس کمرے میں بہت خوفناک مناظر تھے۔ اس چیمبر کے شائقین میں چارلس ڈکنز بھی تھا جس نے کھلے عام یہ چیلنج دے رکھا تھا کہ جو کوئی ایک رات بھی اس میوزیم میں گزار لے گا وہ بھاری انعام کا مستحق ہوگا۔ مگر چارلس ڈکنز کا یہ چیلنج آج تک کوئی قبول نہیں کر سکا۔مومی میوزیم میں رکھا مادام تسائو کا مجسمہ اس کی موت سے 8سال قبل 1842ء میں بنایا گیا تھا جب وہ خاموش اور غیر معمولی زندگی بسر کر رہی تھی اور انقلاب فرانس کی نشانیوں کو مجسموں کی صورت میں محفوظ کر رہی تھی۔میوزیم میں جنوبی افریقہ کے عظیم لیڈر نیلسن منڈیلا کا مجسمہ 1996ء میں بنایا گیا۔ سرخ لباس میں ڈیانا کا مجسمہ بنانے کیلئے باقاعدہ ڈیانا کی ماڈلنگ کروائی گئی تھی۔ مادام تسائو میوزیم کے خاص چیمبر میں ان لوگوں کے ماسک بھی رکھے گئے ہیں جن کے سر انقلاب فرانس میں قلم کر دیئے گئے تھے۔ ان بدنصیبوں میں شاہ لوئس16اور میری انتونیو شامل ہیں۔ امریکی صدر کینیڈی کا مجسمہ بھی میوزیم کی زینت ہے۔ ان کا مجسمہ 1961ء میں شامل کیا گیا ۔ اس کے علاوہ عالمی شہرت یافتہ ہیوی ویٹ چیمپئن محمد علی کا مجسمہ بھی اہمیت رکھتا ہے۔ کیوبا کے لیڈر فیڈل کاسترو کا مجسمہ بھی خاص اہمیت کا حامل ہے۔مادام تسائو میوزیم کے اپنے اسٹوڈیوز ہیں جہاں مومی مجسمے بنانے سے پہلے شخصیات کی ماڈلنگ کی جاتی ہے۔ چہرے کے مطابق سائز لے کر ماسک تیار کئے جاتے ہیں۔ میوزیم کی نگران جینی کے مطابق مجسمے پہلے مٹی سے بنائے جاتے ہیں پھر ان کے اوپر پلاسٹر چڑھایا جاتا ہے اور اس کے اوپر فائبر گلاس استعمال ہوتا ہے اس سے ڈھانچہ کافی مضبوط ہو جاتا ہے جبکہ چہرہ ویکس سے بنایا جاتا ہے۔

داستان سرائے اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کی محبت کا امین

داستان سرائے اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کی محبت کا امین

پچھلے چند برسوں سے میری اور میرے دوست ڈاکٹر حبیب الرحمن کی ملاقات بہت کم ہوتی ہے کیونکہ وہ 2000ء سے جہلم منتقل ہوچکے ہیں۔ اُن کا پروفیشن بھی میڈیکل کا ہے، جس میں اِنہیں تقریباً 13،13گھنٹے مسلسل کام کرنا پڑتا ہے۔ جب وہ اسلام آباد میں ہوتے تھے تو ہم ہفتے میں ایک دو بار ضرور مل لیا کرتے تھے اور اپنے دکھڑے ایک دوسرے سے شیئر کیا کرتے تھے۔ پھر نوکری کے سلسلے میں وہ جہلم شفٹ ہو گئے، میں راولپنڈی گجرات، کنجاء اور جلال پور جٹا میں بٹ کر رہ گیا۔ اِس ساری تمہید کا مقصد آپ کو صرف یہ بتانا ہے کہ جب سے وہ جہلم گیا ہم دونوں میں رابطہ، پہلے خط کے ذریعے ہوا کرتا تھا، میرے پاس موبائل تھوڑا لیٹ آیا، اُس کے پاس تو پہلے سے تھا۔ پھر ہم دونوں فون پر بات کر لیا کرتے مگر فون پر بھی اتنی لمبی بات نہیں ہو پاتی اور نہ ہی کھل کر ایک دوسرے کے ڈپریشن شیئر ہو سکتے تھے۔ ایک دن چند برس پہلے مجھے حبیب نے فون کیا تو ہم دونوں نے یہ طے کیا کہ ہر دو تین ماہ کے بعد مہینہ کے پہلے ہفتے میں ہم لاہور جایا کریں گے۔ 05جولائی کو ہمیں ڈاکٹر کا فون آیا اور اُس نے اپنے روایتی انداز میں کہا لاہور جانا ہے، میں نے کہا ہاں ضرور جانا ہے، اُس نے کہا جمعہ کی شام جہلم آجائو، ہم دونوں اکٹھے ہفتے کی صبح لاہور نکل جائیں گے۔لاہور جانے کا ہم دونوں کا اصل مقصد صرف یہ ہوتا کہ ہم جب ایک دوسرے کے ساتھ کار میں بیٹھتے ہیں تو بے مقصد بات چیت کرنے لگ جاتے، جس کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا۔ راستے میں بھوک لگتی ہے تو کسی ڈھابے سے ناشتہ کر لیتے ہیں یا کسی بیکری سے جوس وغیرہ پی لیتے۔ لاہور جانے کا مقصد، ادبی دوستوں سے ملنا ملانا ہوتا ہے۔ اِس دفعہ میرا خاص مقصد یہ تھا کہ داستان سرائے ماڈل ٹائون جانا ہے۔ میں نے حبیب کو بتا دیا تھا، اِس نے کہا ٹھیک ہے، میں ہوٹل جا کر سو جائوں گا، تم داستان سرائے چلے جانا۔ داستان سرائے اس لئے جانا تھا کیونکہ وہاں اشفاق احمد بابا جی، قدسیہ ماں جی کے حوالے سے میری بے شمار یادیں وابستہ ہیں۔ میں نے اس داستان سرائے سے بڑا فیض پایا ہے۔ اس کا داستان گو اثیر احمد خان میرا بہت اچھا دوست ہے، اُس کا اور میرا مینٹل لیول ایک جیسا ہے، گو کہ میں عمر میں اُس سے بڑا ہوں۔ وہ 15جون 1963ء کو داستان سرائے میں وارد ہوا، اثیر احمد خان اشفاق بابا جی اور بانو ماں جی کے تین بیٹوں میں سے سب سے چھوٹا بیٹا ہے۔ انیق احمد خان، انیس احمد خان اور اثیر احمد خان۔ انیق امریکہ میں ہے، انیس ابھی چند ماہ پہلے ہمیں چھوڑ کر اس دُنیا سے رخصت ہوگئے۔ میں تو اثیر کو سجادہ نشین کہتا ہوں کیونکہ اب داستان سرائے میں داستان گوئی کا کام اثیر کے حصے میں آگیا ہے۔لاہور پہنچا تو حبیب کو چھوڑا اور ٹیکسی کرا کر داستا ن سرائے پہنچ گیا۔ اثیر کمرے میں داخل ہوا، کالی شلوار قمیض پہنے ہوئے تھا، وزن بھی زیادہ لگ رہا تھا، مجھے آواز دی، امین آ گیا ہے ۔ سب سے پہلے اُس نے مجھ سے پوچھا ''ناشتہ کیتا ای‘‘، پھر ملازم کو آواز دی اور کہا کہ آملیٹ بنا لے،پراٹھا اور اچار چائے کے سا تھ لے آ، اور اپنے پینے کے لئے ایک چائے کا کپ منگوایا۔ پھر ہم دونوں باتیں کرنے لگے، ناشتہ آگیا، اور میں نے ناشتہ کرنا شروع کیا۔ جب میں ناشتہ کر رہا تھا تو اثیر مجھے بڑے غور سے دیکھ رہا تھا۔ شاید اثیر محسوس کر رہا تھا کہ میں بہت زیادہ بھوکا ہوں۔ میں جلدی جلدی کھا رہا تھا، میری یہ حالت دیکھ کر اثیر نے کہا، ایک پراٹھا اور منگوائوں؟ میں نے کہا نہیں یار میری عادت ہے ہر کام جلدی کرنے کی ۔ پھر میں نے اُس سے پوچھا ، تیری کوئی اور مصروفیت تو نہیں ہے آج؟ اُس نے کہا نہیں،شام 5بجے ایک قل پر جانا ہے۔ میں نے کہا چل ٹھیک ہے باقی ٹائم میں تیرے سر پر ہوں۔ ہم دونوں مسلسل تقریباً چار، ساڑھے چار گھنٹے باتیں کرتے رہے۔میں اثیر کی شخصیت سے پہلے ہی بہت زیادہ متاثر تھا، متاثر ہوں، اور ہمیشہ متاثر رہوں گا۔ میں نے اثیر کو یہ بات بتائی بھی، بابا میں تیرے سے فیض پانا چاہتا ہوں۔ تو اُس نے کہا رب کے ساتھ بات کیا کر، اکیلا بیٹھ کر حقوق اللہ تو اپنی جگہ، اُس کے علاوہ بھی یہ بہت ضروری ہے۔ جب تک ہم ایسا نہیں کریں گے ہمارا چینل آن نہیں ہوگا۔ میں نے کہا، میں تو ہر کام 33نمبروں والا کرتا ہوں کہ بس پاس ہوجائوں۔ میرے پاس فرسٹ آنے کا کوئی گر اور طریقہ نہیں۔اثیر نے ہنس کر کہا کہ میں بھی 33نمبروں والوں میں سے ہوں۔ پتا نہیں وہ مجھے حوصلہ دے رہا تھا، یا میرا دل رکھ رہا تھا۔ ڈھائی تین بجے مجھے پوچھا بھوک تو نہیں لگی ہے، کھانا کھائے گا؟ میں نے کہا میں نے کچھ نہیں کھانا۔ پھر بے شمار باتیں ہم نے کیں، تصوف کے حوالے سے، دُنیاوی حوالے سے باطنی حوالے سے ظاہری حوالے سے۔میں نے ٹائم دیکھا اور کہا اثیر یار اِس سے پہلے مجھے تو کہے کہ اب تو جا، میری جان چھوڑ، یا ہماری گفتگومیں یہ موضوع شروع ہو جائے ''اور سُنائو کیا حال ہے‘‘، ''یار موسم بڑا گرم ہوگیا ہے‘‘۔ میں نہیں چاہتا اس طرح کی گفتگو ہو۔ میں نے اثیر سے اجازت لی اور دوبارہ ملنے کا کہا۔ اُس نے کہا کل صبح آجا مگر اچانک پھر مجھے اُسی رات واپس آنا پڑا اور میں نے اثیر کو واٹس ایپ کر دیا کہ یار یہاں بھی 33نمبروں والا مسئلہ آگیا ہے۔امین کنجاہی متعدد کتابوں کے مصنف ہیں، ریڈیو پاکستان سے بھی وابستہرہ چکے ہیں،ملک کے موقر جریدوں میں ان کے مضامین شائع ہو چکے ہیں۔

زندگی کا سفر

زندگی کا سفر

آپ اپنی کار دس پندرہ میل پہاڑ کے اوپر لے جا سکتے ہیں لیکن آپ کو یقین ہوتا ہے کہ چوٹی پر پہنچنے کے بعد پھر اترائی ہی اترائی ہے۔ یہ یقین اس لیے ہوتا ہے کہ آپ قدرت کے رازوں سے واقف ہیں اور پہاڑ کے خراج کو سمجھتے ہیں۔ آپ کو پتہ ہے کہ دنیا میں کوئی بھی کار مسلسل اوپر ہی اوپر نہیں جا سکتی، نہ ہی نیچے ہی نیچے جا سکتی ہے۔ یہ صورتیں بدلتی رہتی ہیں۔آپ کی زندگی میں بھی یہی اصول کارفرما ہے۔ چینی فلسفے والے اس کو ''ین اور یانگ‘‘ کے نام سے پکارتے ہیں۔ ہم لوگوں سے زندگی میں یہی غلطی ہوتی ہے کہ ہم لوگ متبادل کے راز کو پکڑتے نہیں ہیں۔ جو شخص آگے پیچھے جاتی لہر پر سوار نہیں ہوتا وہ ایک ہی مقام پر رک کر رہ جاتا ہے۔ (گلائیڈر جہازوں کے پائلٹ اس راز کو خوب سمجھتے ہیں) وہ یہی سمجھتا رہتا ہے کہ پہاڑ پہ اوپر ہی اوپر جانا زندگی ، نیچے آنا موت ہے۔ وہ زندگی بھر ایک نفسیاتی لڑائی لڑتا رہتا ہے اور ساری زندگی مشکلات میں گزار دیتا ہے۔ایک سمجھدار انسان جب زندگی کے سفر پر نکلتا ہے تو آسان راستہ اختیار کرتا ہے۔ وہ بلندی پر جانے کا پروگرام بنا کر نہیں نکلتا کہ نشیب میں اترنے کے خوف سے کانپتا رہے وہ تو بس سفر پر نکلتا ہے اور راستے سے جھگڑا نہیں کرتا۔ جو جھگڑا نہیں کرتا، وہ منزل پر جلد پہنچ جاتا ہے۔(اشفاق احمد کی کتاب '' بابا صاحبا‘‘ سے اقتباس)

حکایت ِ سعدیؒ، برائی کے بدلے بھلائی

حکایت ِ سعدیؒ، برائی کے بدلے بھلائی

کسی جنگل بیاباں میں ایک غریب آدمی کا گدھا کیچڑ میں پھنس گیا۔ ایک تو جنگل، دوسرا موسم بہت خراب۔ سردی کے موسم میں تیز ہوا چل رہی تھی اور بارش برس رہی تھی۔اس مصیبت نے غریب آدمی کو سخت مشتعل کردیا تھا اور وہ جھنجلاہٹ کے عالم میں گدھے سے لے کر ملک کے بادشاہ تک سب کو برا بھلا کہہ رہا تھا۔اتفاق ایسا ہوا کہ بادشاہ اپنے لائو لشکر کے ساتھ اس طرف سے گزررہا تھا اس نے یہ بدکلامی اپنے کانوں سے سن لی۔ وہ وہیں رک گیا اور اس خیال سے اپنے لشکریوں کی طرف دیکھا کہ وہ اس معاملے میں اپنی رائے دیں۔ ایک مصاحب نے بادشاہ کی منشا سے آگاہ ہو کر کہا یہ گستاخ واجب القتل ہے، اس نے حضور کی شان میں گستاخی کی ہے۔ لیکن دراصل اس مصیبت نے اسے حواس باختہ کر دیا ہے جس میں وہ پھنسا ہوا ہے۔ اسے سزا دینے کے مقابلے میں مناسب یہ ہوگا کہ اسے مصیبت سے نکال کر اس کے ساتھ حسن سلوک اور احسان کیا جائے۔یہ کہہ کر بادشاہ نے نہ صرف اس کا گدھا کیچڑ سے نکلوا دیا بلکہ اسے سواری کیلئے گھوڑا، پوستین اور نقدی بھی عطا کی۔ انعام عطا کرنے کے بعد بادشاہ آگے بڑھ گیا تو ایک شخص نے گدھے والے سے کہا تو نے تو اپنی ہلاکت میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔ اسے خدا کا خاص انعام خیال کر کہ تیری جان بچ گئی۔ وہ بولا بھائی! میں اپنی حالت کے مطابق بک بک کر رہا تھا اور بادشاہ نے اپنی شان کے مطابق مجھ پر کرم کیا۔ سچ تو یہ ہے کہ برائی کے بدلے بھلائی کرنا ہی جواں مردوں کا شیوہ ہے۔حضرت شیخ سعدی ؒ نے اس حکایت میں قرآن مجید کی اس آیت کریمہ کی تشریح کی ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ'' جو تجھ سے توڑے تو اس سے جوڑ، جو تجھے محروم کرے تو اسے دے‘‘۔اس میں شک نہیں کہ خدائی قانون میں بھی بدلہ اور انتقام لینے کی اجازت ہے لیکن مقام احسان یہ ہے کہ برا کرنے والے کے ساتھ بھلائی کی جائے۔

یاد رفتگان مولانا ظفر علی خان بابائے صحافت، مصنف، شاعر،شعلہ بیاں مقرر اور اسلام کے سچے شیدائی

یاد رفتگان مولانا ظفر علی خان بابائے صحافت، مصنف، شاعر،شعلہ بیاں مقرر اور اسلام کے سچے شیدائی

برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں مولانا ظفر علی خان کو ایک عظیم سیاسی رہنما، ایک جیّد صحافی، ادیب، شعلہ بیاں مقرر، بے مثل نقاد اور آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والے قلم کار کی حیثیت سے یاد کیا جاتا ہے۔ 27 نومبر 1956ء کو اردو زبان و ادب کی اس نامور شخصیت کی زندگی کا سفر تمام ہو گیا تھا۔ ان کی آج برسی ہے۔بابائے صحافت کا لقب پانے والے مولانا ظفر علی خان 19جنوری 1873ء میں کوٹ میرٹھ شہر وزیر آباد میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم مشن ہائی سکول سے مکمل کی۔ علی گڑھ سے اس وقت گریجویشن کیا جب سرسیّد، شبلی، حالی جیسے کئی نہایت قابل اور فکر و نظر کے اعتبار سے زرخیز ذہن اس درس گاہ سے وابستہ تھے۔ اسی فضا نے ان کی فکر اور ان کی صلاحیتوں کو ابھارا اور علمی و ادبی میدان میں متحرک ہونے پر آمادہ کیا۔علی گڑھ کی تعلیمی فضا سے نکلنے کے بعد انہوں نے کبھی شاعری اور صحافت کے میدان میں قدم جمائے اور کبھی سیاست کے میدان کے شہسوار بنے۔کچھ عرصہ وہ نواب محسن الملک کے معتمد کے طور پر بمبئی میں کام کرتے رہے۔ محکمہ داخلہ کے معتمد کے عہدے پر بھی فائز رہے۔مولانا ظفر علی خان کے والد مولوی سراج الدین احمد 1903ء میں جب ملازمت سے سبکدوش ہوئے تو انہوں نے اپنے آبائی گائوں کرم آباد سے اخبار ''زمیندار‘‘ کی اشاعت کا آغاز کیا۔ شروع میں یہ ایک ہفت روزہ اخبار تھا اور اس کا مقصد زمینداروں اور کسانوں کی فلاح و بہبود تھا۔ والد کی وفات کے بعد جب ''زمیندار‘‘ مولانا کی زیر ادارت آیا تو اس نے انگریز کے خِرمَن اقتدار میں آگ لگا دی۔ مولانا نے 1908ء میں ''زمیندار‘‘ کی اشاعت لاہور سے شروع کی تو لاہور سے شائع ہونے والے بڑے بڑے اردو اخبارات کے چراغ ٹمٹمانے لگے اور ''زمیندار‘‘ کی شہرت کا ستارہ آسمانِ صحافت پر جگمگانے لگا۔ مسلمانوں کے لیے بطور خاص نکالے گئے اخبار کو مختلف حلقوں میں کافی پذیرائی ملی۔ مو لانا اپنے زمانے کے چوٹی کے مسلمان صحافیوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔انگریز دور میں سیاست کے میدان میں مختلف تحاریک، مزاحمتی سرگرمیوں کے علاوہ قلم کے ذریعے آزادی اور حقوق کی جنگ لڑنے کا سلسلہ جاری تھا اور اسی دوران مولانا ظفر علی خان بھی اپنے اداریوں اور مضامین کی وجہ سے معتوب ہوئے۔ انھیں اپنی تحریر و تقریر کی وجہ سے کئی مشکلات جھیلنا پڑیں اور ان کے اخبار زمیندار کو بندش کا سامنا کرنا پڑا۔ مولانا نے متعدد مرتبہ قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں، لیکن اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹے۔1934ء میں جب پنجاب حکومت نے اخبار پر پابندی عائد کی تو مولانا ظفر علی خان جو اپنی جرات اور شاندار عزم کے مالک تھے نے حکومت پر مقدمہ کر دیا اور عدلیہ کے ذریعے حکومت کو اپنے احکامات واپس لینے پر مجبور کر دیا۔اس پر انہوں نے ایک نظم بھی لکھی، جس کا ایک شعر یہ ہے!یہ کل عرش اعظم سے تار آ گیازمیندار ہو گا نہ تا حشر بندتری قدرت کاملہ کا یقیںمجھے میرے پروردگار آ گیامولانا ظفر علی خان ترجمہ میں بھی یدطولیٰ رکھتے تھے۔ مولانا نے لارڈ کرزن کے انگریزی سفر نامہ ایران کا ترجمہ ''خیابان فارس‘‘ کے نام سے شائع کیا تو لارڈ کرزن نے سونے کے دستے والی چھڑی تحفہ میں پیش کی۔ اس کے علاوہ ان کے تراجم میں ''فسانہ لندن‘‘،'' سیر ظلمات ‘‘اور'' معرکہ مذہب و سائنس‘‘ بہت معروف ہوئے۔ انہوں نے ایک ڈرامہ ''جنگ روس و جاپان‘‘ بھی لکھا۔ ان کی متعدد تصانیف منظر عام پر آئیں جن میں نثری اور شعری مجموعے شامل ہیں۔ ان کی شاعرانہ کاوشیں ''بہارستان‘‘،'' نگارستان‘‘ اور'' چمنستان ‘‘کی شکل میں چھپ چکی ہیں۔مولانا ظفر علی خان کا اسلوب منفرد تھا، ان کی تحریریں نثری ہوں یا شعری دونوں ہی ملی امنگوں کی ترجمان ہیں۔ ان کی نظمیں مذہبی اور سیاسی نکتہ نظر سے بہترین کاوشیں کہلاتی ہیں۔ مولانا کی شاعری کی مختلف جہات ہیں۔ وہ فی البدیہہ شعر کہنے میں بھی ملکہ رکھتے تھے۔اُن کی شاعری میں حمد، نعت گوئی، حالاتِ حاضرہ کے مطابق شعر کہنا، وطن کی محبت میں شعر، اور انقلابی اشعار شامل ہیں۔ اُن کی حمد کے چنداشعار ملاحظہ کیجئے۔بنائے اپنی حکمت سے زمین و آسماں تو نےدکھائے اپنی قدرت کے ہمیں کیا کیا نشاں تو نےتری صنعت کے سانچے میں ڈھلا ہے پیکرِ ہستیسمویا اپنے ہاتھوں سے مزاحِ جسم و جاں تو نےایک اور مقام پر عرض گزار ہیں:ہم اب سمجھے کہ شاہنشاہ مُلکِ لامکاں ہے توبنایا اک بشر کو سرورِ کون و مکاں تو نےمحمد مصطفیٰؐ کی رحمۃ اللعالمینی سے!بڑھائی یا رب اپنے لطف اور احساں کی شاں تو نےوہ اسلام کے سچے شیدائی، محب رسولﷺ اور اپنی نعت گوئی کے لیے مشہور ہیں۔ ان کی اس نعت سے کون واقف نہیں ہے۔وہ شمع اُجالا جس نے کیا چالیس برس تک غاروں میںاِک روز جھلکنے والی تھی سب دنیا کے درباروں میںمولانا ظفر علی خان کو دنیا سے رخصت ہوئے 65برس بیت چکے ہیں،ان کا نام صحافت، شاعری اورنعت گوئی میں ہمیشہ جگمگاتا رہے گا۔ارشد لئیق سینئر صحافی ہیں، ملک کے موقر جریدوںمیں ان کے سیکڑوں مضامین شائع ہو چکے ہیں

خام تیل سپلائی کی عالمی شہ رگ آبنائے ہرمز

خام تیل سپلائی کی عالمی شہ رگ آبنائے ہرمز

آبنائے ہرمز اپنے جغرآفیائی محل وقوع اور سٹریٹجک نقطہء نظر سے بحری راستوں کے حوالے سے دنیا بھر میں ایک مصروف آبی گزر گاہ کے طور پر جانی جاتی ہے۔ یہ عرب خطے میں تیل کی دولت سے مالا مال ریاستوں کے بیچوں بیچ واقع ایک بڑی آبی گزرگاہ ہے۔جس کا تنگ ترین حصہ 33کلومیٹر چوڑا اور اس کے دونوں اطراف آنے جانے والے جہازوں کیلئے تین تین کلومیٹر کے سمندری راستے دیئے گئے ہیں۔تاریخی پس منظر:تاریخ میں ایسے شواہد ملے ہیں جن کے تحت اس آبنائے کے ذریعے تین ہزار سال قبل مسیح میں بھی مختلف ممالک کے درمیان سامان کی ترسیل ہوتی رہی ہے۔ روایات کے مطابق زمانہء قدیم میں سلطنت ''ہر مز‘‘ کے درمیان واقع ہونے کے باعث اس سمندری گزرگاہ کو آبنائے ہرمز کا نام دیا گیا۔ ایک اور روایت کے مطابق اس آبنائے کا نام قدیم زمانے میں فارس کے ایک بادشاہ ہرمز کے نام سے منسوب کیا گیا تھا۔ تاریخ کی کتابوں میں یہ روایت بھی ملتی ہے کہ اس گزرگاہ کا نام ایران کے زیر اثر ساحل مکران پر واقع ''ہرمز‘‘ نامی ایک چھوٹے سے جزیرے کی مناسبت سے شہرت اختیار کر گیا تھا۔محل وقوع:آبنائے ہرمز خلیج فارس اور خلیج اومان کے درمیان واقع ہے۔ اس کے شمال میں ایران جبکہ جنوب کی جانب متحدہ عرب امارات اور اومان واقع ہیں۔ بنیادی طور پر آبنائے ہرمز چھوٹے چھوٹے غیر آباد جزیروں پر مشتمل ہے۔ ایران کا جزیرہ کشمالہ ان سب جزیروں سے بڑا ہے جبکہ لارک اور ہرمز نامی دو جزیرے بھی اسی آبنائے کا حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ طنب الکبری، طنب الصغرہ اور ابو موسیٰ جزیرے بھی اسی آبنائے کا حصہ ہیں لیکن ان تینوں جزیروں کی ملکیت کے دعویدار ایران اور متحدہ عرب امارات ہیں اور ان دونوں ریاستوں کے درمیان کشیدگی کا باعث بھی یہی جزیرے ہیں۔اہمیت: آبنائے ہرمز کو یہ انفرادیت حاصل ہے کہ دنیا کی 120 قابل ذکر آبی گزر گاہوں میں پہلی دس غیر معمولی آبی گزرگاہوں میں آبنائے ہرمز سرفہرست شمار کی جاتی ہے۔ اسے یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ دنیا کے تیل کی کل پیداور کی ترسیل کا 20 فیصد اور ایشیائی ممالک کو تیل کی 85فیصد ترسیل آبنائے ہرمز سے ہو کر جاتی ہے۔سعودی عرب، ایران، بحرین، کویت، قطر، عراق اور متحدہ عرب امارات کے خام تیل کی ترسیل آبنائے ہرمز کے سمندری راستوں کے ذریعے بحیرہ عرب میں داخل ہوتی ہوئی دنیا بھر کی بندر گاہوں میں جا پہنچتی ہے۔ عراق، بحرین، کویت اور قطر کے لئے یہ یوں اہمیت کی حامل ہے کہ یہ ان ممالک کی واحد بحری بندر گاہ ہے۔تاریخ کی کتابوں میں یہ شواہد بھی ملے ہیں کہ تین ہزار سال قبل مسیح میں آبنائے ہرمز کو بطور آبی بندرگاہ استعمال کیا جاتا رہا ہے۔مشرق قریب اور بحیرہ ہند کے تاجر مختلف علاقوں کے ساتھ سامان کی ترسیل اس آبنائے کے ذریعے کرتے رہے ہیں۔آبنائے ہرمز کشیدگیوں کی زد میں: آبنائے ہرمز کی بین الاقوامی ممالک کے درمیان کشیدگی کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ ماضی میں برطانیہ، فرانس اور ہالینڈ بھی اس بندگاہ پر اپنا حق جتلاتے رہے ہیں۔ ایک زمانے میں سویت یونین بھی اس کی ملکیت کی جنگ میں پیش پیش رہا۔ امریکہ بھی ایک عرصے سے اس پر اپنا قبضہ حاصل کرنے کا خواہاں رہا ہے جس کی وجہ سے اس کے اور ایران کے درمیان اکثر و بیشتر کشیدگی جاری رہتی ہے۔دوسری طرف امریکہ آبنائے ہرمز پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی خاطر خطے کے بیشتر ممالک کے ساتھ اپنے سیاسی، کاروباری اور عسکری تعلقات کو مضبوط بناتا آیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران اور متحدہ عرب امارات کی ملکیت کا تنازع بھی برسوں سے کشیدگی کا باعث بنا ہوا ہے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ اس آبنائے کا سب سے بڑا جزیرہ کشمالہ جو ایران کی ملکیت ہے وہ اس کا اہم حصہ ہے۔ طنب الکبری، طنب الصغرہ اور ابو موسیٰ نامی جزیرے جو اس آبنائے کا حصہ ہیں، متحدہ عرب امارات اور ایران دونوں اپنے اپنے طور ان جزیروں کی ملکیت کے دعویدار ہیں۔ایران جو اپنے آپ کو آبنائے ہرمز کا سب سے بڑا دعویدار کہلاتا ہے، 1988ء سے یہ دھمکیاں دیتا آ رہا ہے کہ اگر اس کے مفادات کو نقصان پہچانے کی کوشش کی گئی تو وہ آبنائے ہرمز کو بند کر دے گا۔ اگرچہ ایران نے 2012ء اور پھر 2019ء میں بھی ان دھمکیوں کا اعادہ کیا تھا لیکن عملی طور پر اس نے بین الاقوامی بالخصوص امریکی دباؤ کے پیش نظر کسی قسم کے عملی قدم سے گریز کیا تھا۔بین الاقوامی قوانین کیا کہتے ہیں؟:ایران اگرچہ ایک طویل عرصہ سے آبنائے ہرمز پر اپنا قانونی حق جتلانے کا دعوے دار چلا آرہا تھا، جس کیلئے اس نے جنیوا میں 1958ء میں منعقدہ سمندری قوانین کی بین الاقوامی کانفرنس میں آبنائے ہرمز کی نگرانی کا مطالبہ کیا تھا جسے کانفرنس کے شرکاء نے مسترد کر دیا تھا اس کے بعد ایسی ہی ایک کانفرنس منعقدہ 1960ء میں بھی کانفرنس کے تمام شرکاء نے اسے مسترد کر دیا۔ 30اپریل 1980ء میں ایک مرتبہ پھر سمندری قوانین کی ایک ایسی ہی کانفرنس میں ایران کی استدعا کو تیسری مرتبہ بھی رد کر دیا گیا تھا۔ کچھ ہی عرصہ بعد دنیا بھر کے بیشتر ممالک کے دباؤ اور مطالبے پر بین الاقوامی طور پر آبناؤں کے تحفظ کو مضبوط اور فعال بنانے کیلئے 30 اپریل 1982ء کو مشترکہ طور پر اکثریت کے ساتھ ایک قانون منظور کیا گیا جس کے تحت کوئی بھی آبنائے بین الاقوامی قانون کے تحت عالمی سمندر کا حصہ ہے خواہ وہ دنیا کے کسی بھی خطے میں واقع ہو۔ساحلی ممالک کی سلامتی اور ان کے امن و امان کو نقصان پہنچائے بغیر ہر جہاز کو آبنائے سے گزرنے کا حق حاصل ہو گا۔ اس قانون کی دفعہ 38 کے مطابق''تمام جہازوں کو دنیا کے کسی بھی خطہ سے کسی بھی آبنائے سے گزرنے کا مکمل حق حاصل ہو گا اور کسی بھی ملک کو اس میں بلاوجہ رخنہ ڈالنے کی اجازت نہ ہو گی۔ جس کے سبب یہاں سے ہر قسم کے تجارتی اور فوجی جہاز بلا رکاوٹ آزادی سے گزر سکیں گے‘‘۔اس کے ساتھ ساتھ اس کانفرنس میں یہ وضاحت بھی کر دی گئی کہ اگرچہ ایران اور اومان کو اپنے اپنے سمندری پانیوں تک رسائی کے حقوق حاصل ہیں تاہم ''ہرمز ایک بین الاقوامی آبنائے ہونے کے ناطے بین الاقوامی قوانین کے تحت تمام ممالک کے بحری جہازوں کو یہاں سے گزرنے کے حقوق حاصل ہیں۔ کیونکہ ویسے بھی آبنائے ہرمز خلیج فارس سے کھلے سمندر تک پہنچنے کا واحد راستہ ہے۔خاورنیازی سابق بینکر اور لکھاری ہیں، قومی اور بین الاقوامی اداروں سے منسلک رہ چکے ہیں، تحقیقی اور سماجی موضوعات پر مہارت رکھتے ہیں