الجزائر کی جنگ آزادی فرانس نے بادشاہ کی مقبولیت میں اضافہ کیلئے الجزائر پر قبضہ کیا

الجزائر کی جنگ آزادی  فرانس نے بادشاہ کی مقبولیت میں اضافہ کیلئے الجزائر پر قبضہ کیا

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالحفیظ ظفر


دوسری جنگِ عظیم یکم ستمبر 1939ء کو شروع ہوئی جب جرمنی نے پولینڈ پر حملہ کیا رد عمل کے طور پر 3ستمبر 1939ء کو فرانس نے جرمنی کیخلاف اعلانِ جنگ کر دیا ۔ ہٹلر نے اپریل 1940ء میں ڈنمارک اور ناروے پر قبضہ کر لیا ۔ اس کیساتھ ساتھ جرمنی نے بیلجیئم ، نیدرلینڈ (ہالینڈ ) اور لکسمبرگ میں بھی فتح کے جھنڈے گاڑ دئیے 10مئی 1940ء کو ایڈ ولف ہٹلر نے فرانس پر بھی حملہ کر دیا ، فرانس پر جرمنی کا قبضہ 4 برس تک رہا ، 25اگست 1944ء کو فرانس کو آزادی ملی ۔ 
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب جرمنی نے فرانس پر قبضہ کیا تو فرانس نے خود الجزائر کو اپنی نو آبادی بنا رکھا تھا ۔ یہ ہے مہذب دنیا کے دہرے معیار ۔ فرانس کے عظیم فلسفی سارتر نے فرانس کے الجزائر پر قبضے کی مذمت کی ۔ سارتر امن اور آزادی کا حامی تھا اور اس نے ہمیشہ الجزائر کے عوام کی حمایت کی ۔ اسی طرح الجزائر میں پیدا ہونیوالے فلسفی اور ناول نگار البیر کامیو نے بھی فرانسیسی استعمار کی مخالفت کی ۔ جس وقت فرانس نے الجزائر پر قبضہ کیا اُس وقت فرانس پر چارلس Xکی حکومت تھی ۔ الجزائر پر قبضے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ فرانسیسی عوام میں چارلس کی مقبولیت میں اضافہ کیا جائے ۔ الجزائر کی جنگ آزادی کوانقلاب الجزائر بھی کہا جاتا ہے ۔ یہ جنگ فرانس اور الجزائر کی قومی آزادی کے محاذ کے درمیان 1954ء سے 1962ء تک لڑی گئی ، یہ بڑی پُر تشدد جنگ تھی ۔ شمالی افریقہ کے ملک الجزائر پر 1830ء میں قبضہ کیا گیا ، اس جنگ میں وہ حربے بھی استعمال کئے گئے جو گوریلا جنگ میں اختیار کئے جاتے ہیں ۔ یہ تنازعہ خانہ جنگی کی صورت بھی اختیار کر گیا ۔ یہ جنگ زیادہ تر الجزائر کے علاقوں میں لڑی گئی لیکن فرانس کو بھی اس کے مضمرات کا سامنا کرنا پڑا ۔ 
اس جنگ کی ابتداء نیشنل لبریشن فرنٹ (NLF)کے ارکان کی طرف سے کی گئی اور اس کا آغازیکم نومبر 1954ء کو ہوا ۔ اس تنازعے کی وجہ سے فرانس میں شدید بحران پیدا ہو گیا اور اس سے ری پبلک فورتھ زوال سے دوچار ہو گئی اور اس کے بعد ففتھ ری پبلک کا آغاز ہوا ۔ اس سے فرانس میں مضبوط صدارت کی راہ ہموار ہو گئی ۔جس طرح فرانسیسی فوجوں نے الجزائر میں ستم کاریاں کیں اس سے الجزائر کے عوام میں ان کے خلاف شدید نفرت پیدا ہو گئی ۔ ظاہر ہے جبر و استبداد سے کیسے دل جیتے جا سکتے تھے اور آگ میں پھولوں کا کھلنا نا ممکن ہوتا ہے ۔ فرانس کے اندر بھی اس جبر و ستم کو نا پسندیدگی کی نظر سے دیکھا گیا ۔ فرانسیسی فوج کے اقدامات کی وجہ سے بیرونی دنیا میں بھی فرانس کے وقار کو شدید ٹھیس پہنچی ۔ جب جنگ طویل ہو گئی تو فرانسیسی عوام میں بھی اپنی حکومت کیخلاف غم و غصہ پیدا ہو گیا ۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ فرانس کے بڑے اتحادی جن میں امریکہ بھی شامل تھا نے بھی فرانس کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لیا ۔ فرانس اقوام متحدہ میں الجزائر پر بحث رکوانے کا آرزو مند تھا لیکن اب وہ مصیبت میں پڑ گیا ۔ 19دسمبر 1962ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے متفقہ طور پر الجزائر کے عوام کے حق خود ارادیت اور حق آزادی کو تسلیم کر لیا ۔ 1960ء میں الجزائر کے کئی شہروں میں آزادی کے حق میں زبردست مظاہرے کئے گئے ۔ ففتھ ری پبلک کے پہلے صدر چارلس ڈیگال (charles de gaulle) نے این ایل ایف کے ساتھ تفصیلی مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا ۔ اس کے نتیجے میں مارچ 1962ء میں الوین معاہدوں پر دستخط ہوئے ۔ 
8اپریل 1962ء کو ریفرینڈم کا انعقاد کیا گیا اور فرانس کے ووٹروں نے الوین معاہدوں کی منظوری دیدی ۔ 91فیصد ووٹروں نے ان معاہدوں کی توثیق کے حق میں فیصلہ دیا اور پھر یکم جولائی کو ان معاہدوں کو الجزائر میں دوسرے ریفرینڈم سے مشروط کر دیا گیا جہاں 99.72فی صد لوگوں نے آزادی کے حق میں ووٹ دیا جبکہ صرف 0.28فی صد لوگوں نے آزادی کی مخالفت کی ۔ فرانس نے الجزائر سے فوجیں نکالنے کی جو منصوبہ بندی کی تھی اس کی وجہ سے بحران پیدا ہو گیا ۔ اس وجہ سے صدر ڈیگال پر کئی ناکام قاتلانہ حملے کئے گئے ۔ اس کے علاوہ فوجی بغاوت کی بھی کوشش کی گئی ۔ جس تنظیم نے صدر ڈیگال پر ناکام قاتلانہ حملے کئے وہ زیر زمین اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھی اور اس کا مقصد صرف یہ تھا کہ الجزائر فرانس کی نو آبادی بنا رہے اس تنظیم کو فرانسیسی فوجیوں کا ایک گروپ چلا رہا تھا ، وہ فرانسیسی زبان میں جو نعرہ لگاتے تھے اس کا انگریزی میں ترجمہ کیا جائے تو وہ کچھ یوں بنتا ہے (We want Algerian France )ہم فرانس کا الجزائر چاہتے ہیں ۔ اس تنظیم نے الجزائر پر بہت بمباری کی اور شہریوں کا قتل عام کیا ۔ اس کا صرف اور صرف مقصد یہ تھا کہ الجزائر کو آزادی کی نعمت سے محروم رکھا جائے۔ 1962ء میں الجزائر کی آزادی کے چند ماہ کے اندر ہی الجزائر میں بسنے والے 9لاکھ یورپی باشندے فرانس بھاگ گئے ۔ انہیں خدشہ تھا کہیں این ایل ایف انہیں انتقام کا نشانہ نہ بنائے ۔ فرانسیسی حکومت مہاجرین کی اتنی بڑی تعداد کو قبول کرنے پر تیار نہیں تھی کیونکہ حکومت نے یہ تو سوچا ہی نہ تھا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے فرانس شدید بحران کا شکار ہو گیا ۔ الجزائر کے مسلمانوں کی اکثریت جنہوں نے فرانسیسیوں کیلئے کام کیا تھا ، غیر مسلح تھی کیونکہ فرانس اور الجزائر کے حکام کے درمیان یہ معاہدہ ہوا تھا کہ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی ۔ البتہ حرکیوں (Harkis)کو این ایل ایف نے غدار قرار دیتے ہوئے ہلاک کر دیا ۔ حرکیوں پر الزام تھا کہ انہوں نے الجزائر کے شہریوں کیخلاف فرانسیسی فوجوں کی حمایت کی تھی ۔ 
اب ہم 1830ء کی طرف چلتے ہیں جب فرانس نے الجزائر پر حملہ کیا تھا جس کی وجوہات اوپر بیان کی جا چکی ہیں ۔ مارشل بوگاڈ الجزائر کا پہلا گورنر جنرل بن گیا ۔ الجزائر کی فتح پر امن طریقے سے نہیں ہوئی ۔ الجزائر کے عوام پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے ، بے شمار لوگوں کو قتل کیا گیا اور ان گنت عورتوں کی آبروریزی کی گئی ۔ ایک اندازے کے مطابق الجزائر کے قریباً 30لاکھ لوگوں کو موت کی وادی میں اتار دیا گیا ۔جہاں تک فرانسیسیوں کے جانی نقصان کا تعلق ہے تو1830ء سے 1851ء تک 3,336فرانسیسی ہلاک ہوئے جبکہ 92,329فرانسیسی فوجیوں نے ہسپتالوں میں دم توڑا 1834ء میں الجزائر فرانس کی فوجی کالونی بن گیا ۔ 1848ء کے آئین میں اس بات کا اعلان کیا گیا کہ الجزائر فرانس کا لازمی حصہ ہے اور اسے 3 شعبوں میں تقسیم کر دیا گیا ۔ ایک الجیرا ، دوسرا اورن اور تیسرا کنسٹائن ۔ بعد میں کئی فرانسیسی ، ہسپانوی ، اطالوی اور یورپ کے دوسرے شہروں کے لوگ الجزائر میں آباد ہو گئے ۔ 
ہم اپنے قارئین کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ الجزائر کے لوگوں نے آزادی کیلئے بے پناہ قربانیاں دیں، ان کی آزادی میں صدر ڈیگال نے بھی اہم کردار ادا کیا فرانس کے مشہور امن پسند فلاسفروں نے کبھی الجزائر پر ہونیوالے مظالم کی حمایت نہیں کی ۔ فرانز فینن کا کردار بہت اہم رہا ، اس نے الجزائر کی تحریک آزادی کیلئے کام کیا ۔ فرانس کے وہ دانشور جو اس بات کا ماتم کرتے ہیں کہ ایڈولف ہٹلر نے 1940ء میں فرانس پر ناجائز قبضہ کیا ، کیا انہیں فرانس کا الجزائر پر قبضہ یاد نہیں ؟

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
لودھی مسجد

لودھی مسجد

انتدائی اسلامی فن تعمیر کی نادریادگارضلع گوجر انوالہ کے تاریخی قصبے ایمن آباد میں واقع لودھی دور کی قدیم مسجد برصغیر میں اسلامی فنِ تعمیر کی ابتدائی روایت کی ایک نہایت اہم مثال ہے۔ یہ مسجد اپنی سادگی، قدامت اور منفرد تعمیراتی ساخت کے باعث تاریخی اور ثقافتی لحاظ سے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ ماہرینِ فنِ تعمیر کے مطابق اس مسجد کی تعمیر پندرہویں صدی کے آخر یا سولہویں صدی کے اوائل میں لودھی دور (1451ء تا 1525ء) کے دوران ہوئی، جس سے یہ پاکستان میں قائم قدیم ترین مساجد میں شمار ہوتی ہے۔ یہ ایک منزلہ مسجد ایمن آباد کے مشرقی حصے میں ایک چھوٹے حوض کے کنارے پر واقع ہے، جسے عہدِ جہانگیر سے منسوب کیا جاتا ہے۔ مسجد اور حوض کی باہمی قربت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ مقام نہ صرف عبادت بلکہ سماجی و مذہبی سرگرمیوں کا بھی مرکز رہا ہوگا۔ قدیم اسلامی روایت کے مطابق عبادت گاہوں کو پانی کے ذخائر کے قریب تعمیر کرنا وضو اور طہارت کی سہولت کے لیے عام تھا۔ایمن آباد خود ایک قدیم تاریخی بستی ہے جہاں مختلف ادوار کی تہذیبی یادگاریں موجود رہی ہیں۔ اسی تسلسل میں لودھی دور کی یہ مسجد اس علاقے کی اسلامی تاریخ اور مذہبی روایت کا ایک اہم مظہر ہے۔لودھی دور سے نسبت معروف ماہرِ تعمیرات اور مؤرخ کامل خاں ممتاز کے مطابق اس مسجد کی تعمیرلودھی دور میں ہوئی۔ ان کی رائے میں مسجد کی اینٹوں کی ساخت، سادہ ڈیزائن اسے مغل دور سے پہلے کے فنِ تعمیر سے واضح طور پر جوڑتے ہیں۔ اسی بنیاد پر یہ مسجد پاکستان میں موجود قدیم ترین قائم مساجد میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔لودھی عہد کی تعمیرات عموماً سادگی، مضبوطی اور عملی ضرورتوں کو مدنظر رکھ کر کی جاتی تھیں جس کی جھلک اس مسجد کے مجموعی ڈھانچے میں نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔یہ مسجد ایک مختصر اور سادہ یک منزلہ عمارت ہے جو پکی اینٹوں سے تعمیر کی گئی ہے۔ اس میں بھاری آرائش یا نقش و نگار کی بجائے مضبوط ساخت اور عبادتی افادیت کو ترجیح دی گئی ہے، جو لودھی دور کے فنِ تعمیر کی نمایاں خصوصیت ہے۔مسجد کی دیواریں پکی اینٹوں سے تیار کی گئی ہیں جن کی ترتیب اور چنائی نہایت متوازن ہے۔ اینٹوں کا یہ استعمال نہ صرف عمارت کو استحکام فراہم کرتا ہے بلکہ اس دور کی تعمیراتی مہارت کی بھی عکاسی کرتا ہے۔گنبد اور اندرونی ساخت مسجد کا مرکزی حصہ مربع شکل میں ہے جبکہ اس کے اوپر گول گنبد تعمیر کیا گیا ہے۔ مربع کمرے اور گول گنبد کے درمیان ربط قائم کرنے کے لیے جو تعمیراتی طریقہ اختیار کیا گیا وہ اس مسجد کی سب سے منفرد تعمیراتی خصوصیت ہے۔اس مقصد کے لیے کونی محرابیں اور معلق محرابی سہارادونوں کا بیک وقت استعمال کیا گیا ہے۔کونی محرابیں (Squinches) مربع کمرے کے کونوں کو سہارا دے کر گنبد کے لیے بنیاد فراہم کرتی ہیں جبکہ معلق محرابی سہارا (Pendentives) گنبد کے دائرہ نما ڈھانچے کو مربع بنیاد سے جوڑنے کا کام دیتے ہیں۔یہ تعمیراتی تکنیک اس بات کا ثبوت ہے کہ اُس دور کے معمار نہایت انجینئرنگ کی اعلیٰ مہارت رکھتے تھے اور پیچیدہ ساختی مسائل کو نہایت سادہ انداز میں حل کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ دونوں طریقوں کا بیک وقت استعمال برصغیر کی ابتدائی اسلامی تعمیرات میں ایک نادر مثال سمجھا جاتا ہے۔مسجد کے ساتھ واقع تالاب جسے عہدِ جہانگیر سے منسوب کیا جاتا ہے اس مقام کی تاریخی اہمیت کو مزید واضح کرتا ہے۔ حوض کی موجودگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ علاقہ طویل عرصے تک آباد اور فعال رہا۔ ممکن ہے کہ بعد کے ادوار میں اس حوض نے مسجد کی مذہبی اہمیت میں مزید اضافہ کیا ہو۔یہ مسجد ایک تاریخی یادگار عمارت کی حیثیت رکھتی ہے اور اس کی تعمیراتی خصوصیات ہمیں قبل از مغل اسلامی فنِ تعمیر کے ارتقائی مراحل کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔ایسی قدیم مساجد کے تحفظ اور سائنسی بحالی کی اشد ضرورت ہے تاکہ یہ قومی ثقافتی ورثہ آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ رہ سکے۔ باقاعدہ دستاویز سازی ، آثارِ قدیمہ کی تحقیق اور ماہرینِ تعمیرات کی نگرانی میں مرمتی کام اس کی بقا کے لیے ناگزیر ہیں۔اگر اس تاریخی مقام کو مناسب معلوماتی بورڈز، رہنمائی اور سیاحتی منصوبہ بندی کے ساتھ ترقی دی جائے تو یہ نہ صرف مقامی بلکہ بین الاقوامی سیاحت کے لیے بھی اہم مقام بن سکتا ہے۔ فنِ تعمیر، تاریخ اور آثارِ قدیمہ سے دلچسپی رکھنے والے محققین کے لیے یہ مسجد ایک قیمتی تحقیقی مطالعہ ثابت ہو سکتی ہے۔یہ مسجد نہ صرف لودھی دور کے فنِ تعمیر کی ایک نادر مثال ہے بلکہ پاکستان کے قدیم اسلامی ثقافتی ورثے کا ایک اہم حصہ بھی ہے۔ اس تاریخی یادگار کے مؤثر تحفظ، بحالی اور علمی مطالعے کے ذریعے ہم اپنی تہذیبی شناخت کو مزید مضبوط بنا سکتے ہیں اور آنے والی نسلوں کو اپنے شاندار ماضی سے جوڑے رکھ سکتے ہیں۔

4مارچ:بیٹوں کا عالمی دن

4مارچ:بیٹوں کا عالمی دن

تعلیم،تربیت اور ہماری ذمہ داریاںہر سال 4 مارچ کو دنیا کے مختلف حصوں میں ''بیٹوں کا دن‘‘منایا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ دن کسی سرکاری عالمی ادارے کے تحت منایا جانے والا باقاعدہ دن نہیں لیکن سماجی سطح پر اس کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔ پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں خاندانی نظام مضبوط بنیادوں پر قائم ہے بیٹوں کا کردار محض گھر کے فرد تک محدود نہیں بلکہ مستقبل کے معمار، کفیل اور سماجی ذمہ داریوں کے حامل شہری کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 4 مارچ کا دن ہمیں اس بات پر غور کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کی کس انداز میں تربیت کر رہے ہیں۔روایتی طور پر برصغیر کے معاشرے میں بیٹے کو خاندان کا سہارا اور نام کا وارث سمجھا جاتا رہا ہے۔ بعض اوقات اس سوچ نے بیٹیوں کے ساتھ ناانصافی کو بھی جنم دیا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ شعور پروان چڑھ رہا ہے کہ اولاد خواہ بیٹا ہو یا بیٹی دونوں ہی برابر اہمیت رکھتے ہیں۔ بیٹوں کے دن کا اصل پیغام بھی یہی ہونا چاہیے کہ ہم اپنے بیٹوں کو ایسی تربیت دیں جو انہیں صرف معاشی طور پر کامیاب نہ بنائے بلکہ اخلاقی طور پر بھی مضبوط کرے۔آج پاکستان کو جن سماجی چیلنجز کا سامنا ہے ان میں بے روزگاری، منشیات کا رجحان، عدم برداشت اور آن لائن دنیا کے منفی اثرات شامل ہیں۔ ان حالات میں والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری دو چند ہو جاتی ہے۔ بیٹوں کو محض کامیابی کی دوڑ میں دھکیلنے کے بجائے ان کے اندر برداشت، احترام، دیانت داری اور دوسروں کے حوالے سے مثبت سوچ پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ محفوظ اور مہذب ہو تو ہمیں اپنے گھروں سے تربیت کا آغاز کرنا ہوگا۔اسلامی تعلیمات میں بھی اولاد کی اچھی تربیت کو والدین کی بنیادی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے۔ بیٹے کو یہ سکھانا کہ وہ اپنی ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کے ساتھ عزت و احترام کا برتاؤ کرے، دراصل ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد ہے۔ اسی طرح قانون کی پاسداری، محنت کی عظمت اور سچائی کی اہمیت کو عملی مثالوں کے ذریعے سکھانا زیادہ مؤثر ہوتا ہے بنسبت محض نصیحتوں کے۔ڈیجیٹل دور میں ایک اور اہم پہلو بیٹوں کی آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی ہے۔ سوشل میڈیا، گیمنگ اور انٹرنیٹ کے بے تحاشا استعمال نے نوجوانوں کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بیٹوں کے ساتھ دوستانہ تعلق قائم کریں تاکہ وہ اپنے مسائل اور الجھنیں کھل کر بیان کر سکیں۔ سختی اور خوف کے بجائے مکالمہ اور اعتماد بہتر نتائج دے سکتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں بیٹوں پر ''کامیاب ہونے‘‘ کا دباؤ بیٹیوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔ کم عمری سے ہی ان پر یہ ذمہ داری ڈال دی جاتی ہے کہ انہیں گھر کا سہارا بننا ہے۔ اس دباؤ کے باعث بعض نوجوان ذہنی تناؤ اور مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بیٹوں کے دن کا ایک اہم پیغام یہ بھی ہونا چاہیے کہ ہم انہیں انسان سمجھیں، مشین نہیں۔ انہیں اپنی دلچسپی کے مطابق تعلیم اور پیشہ اختیار کرنے کی آزادی دی جائے۔پاکستان کے دیہی اور شہری علاقوں میں تربیت کے انداز مختلف ہو سکتے ہیں لیکن بنیادی اقدار یکساں رہتی ہیں۔ والدین، اساتذہ، علما اور میڈیا سب کو مل کر مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔ تعلیمی اداروں میں کردار سازی کے پروگرام، کھیلوں اور غیر نصابی سرگرمیوں کا فروغ، اور سماجی خدمت کے مواقع نوجوانوں کو متوازن شخصیت بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔4 مارچ کا دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ بیٹے صرف خاندان کا نام آگے بڑھانے کے لیے نہیں بلکہ معاشرے کو بہتر بنانے کے لیے بھی پیدا ہوتے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ آنے والا پاکستان ترقی یافتہ، پرُامن اور باوقار ہو تو ہمیں اپنے بیٹوں کی تربیت میں محبت، انصاف اور برابری کے اصولوں کو شامل کرنا ہوگا۔ یہی اس دن کا اصل مقصد اور حقیقی پیغام ہے۔

رمضان کے مشروب وپکوان:چائنیز سموسہ

رمضان کے مشروب وپکوان:چائنیز سموسہ

اجزاء: چکن بون لیس آدھا کلو۔آلو، چار عدد۔انڈے،پانچ عدد (ابلے ہوئے)۔نمک اور کالی مرچ، حسب ذائقہ۔سموسے کی پٹیاں،حسب ضرورت۔تیل، ڈیپ فرائی کے لئے۔ترکیب:ایک دیگچی میں آلو اور چکن کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کاٹ کر ڈال دیں۔ ساتھ ہی نمک اور کالی مرچ شامل کر دیں اور دودھ ڈال کر اتنی دیر پکائیں کہ وہ خشک ہو جائے جبکہ آلو اور چکن گل جائے۔ اب اس آمیزے کو اچھی طرح ملا لیں اور انڈوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے ڈالیں اور اچھی طرح مکس کریں۔ یہ آمیزہ سموسہ پٹی پر رکھیں اور سموسے بنا لیں۔ ایک کڑاہی میں تیل گر م کر یں اور سموسے ڈال کر گولڈن برائون ہونے تک تل لیں۔ انہیں املی یا پو دینے اور دہی کی چٹنی کے ساتھ پیش کر یں۔کھجور کا ملک شیکاجزاء : کھجوریں 50 گرام ،دودھ 75 ملی لیٹر،آئس کیوب آدھا کپ،چینی 50 گرام،دہی 50 گرمترکیب: کھجوروں کو بھگو لیں اوربلینڈر میں کھجوریں ،دہی چینی دودھ اور آئس کیوب ڈال کر بلینڈ کریں اور گلاسوں میں ڈال کر افطار دستر خوان کی زینت بڑھائیں۔

آج تم یاد بے حساب آئے!سلطان صلاح الدّین ایوبی فاتح بیت المقدس(1193-1138)

آج تم یاد بے حساب آئے!سلطان صلاح الدّین ایوبی فاتح بیت المقدس(1193-1138)

٭...صلاح الدّین ایوبی 1138ء میں تکریت میں پیدا ہوئے جو آج عراق کا حصّہ ہے۔٭... ان کے والد کا نام نجم الدّین ایوب تھا جو قلعہ تکریت کے حاکم تھے۔ ٭... سلطان کا بچپن اور جوانی کا ابتدائی دور دمشق اور بعلبک میں گزرا جہاں ان کے والدپہلے عماد الدّین اور پھر نورالدّین زنگی کے ماتحت اْن علاقوں کے گورنر رہ چکے تھے۔٭... صلاح الدین نے بعلبک کے دینی مدارس اور دمشق کی جامع مسجد میں تعلیم حاصل کی۔ ٭...یہ وہ زمانہ تھا جب مسلمانوں کی صلیبیوں سے جنگیں زوروں پر تھیں، صلاح الدّین نے نور الدّین زنگی کے سائے میں رہ کر اپنی شجاعت اور دلیری کو منوایا۔٭...صلاح الدّین ایّوبی نہ صرف تاریخ اسلام بلکہ تاریخ عالم کے نامور حکمرانوں میں سے ایک ہیں۔ ٭... وہ ایک مہم پر اپنے چچا کے ساتھ گئے اور پھر حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ مصر میں ایّوبی حکومت کی بنیاد پڑگئی۔٭... نور الدّین زنگی کے انتقال کے بعد سلطان صلاح الدّین نے عنانِ حکومت سنبھال لی۔٭...1187 میںجنگ کے بعد قبلہ اوّل کو صلیبیوں کے قبضے سے آزاد کروایا۔٭... بیت المقدس میں سلطان کی فوج پورے 88 سال بعد داخل ہوئی اور مسلمانوں نے فلسطین کی سرزمین پر قدم رکھ کر عالم اسلام کو عظیم الشّان کام یابی کی نوید سنائی۔٭...بے مثال شجاعت اور جرات و استقلال ہی نہیں، فتحِ بیت المقدس کے موقع پر سلطان کی بالخصوص عیسائیوں اور دشمن کے ساتھ حسنِ سلوک، درگزر اور رواداری نے بھی دنیا میں اسلام کی خوب صورت تصویر پیش کی۔٭...آج (4مارچ کو)اسلامی تاریخ کے ایک عظیم فاتح اور مسلمانوں کیلئے سرمایہ افتخار سلطان صلاح الدّین ایوبی کا یومِ وفات ہے ۔

آج کا دن

آج کا دن

جارج واشنگٹن صدر منتخب4 مارچ 1789ء کو امریکہ کی نو قائم شدہ وفاقی حکومت نے باقاعدہ طور پر کام شروع کیا اور اسی دن انتخابی عمل کے نتیجے میں جارج واشنگٹن کو ریاستہائے متحدہ امریکہ کا پہلا صدر منتخب کیا گیا۔ اگرچہ ان کی حلف برداری اپریل میں ہوئی، لیکن 4 مارچ کو کانگریس کے اجلاس کے بعد نئی حکومت کی بنیاد پڑی۔واشنگٹن اس سے قبل امریکی جنگِ آزادی کے دوران فوج کے سپہ سالار رہ چکے تھے۔ ان کی قیادت میں نوآبادیاتی ریاستوں نے برطانیہ کے خلاف کامیابی حاصل کی۔ صدر منتخب ہونے کے بعد انہوں نے آئین کی عملداری، وفاقی ڈھانچے کے استحکام اور جمہوری روایات کی بنیاد رکھی۔روزویلٹ کی حلف برداری4 مارچ 1933ء کو فرینکلن ڈی روزویلٹ نے امریکہ کے 32ویں صدر کے طور پر حلف اٹھایا۔ یہ وقت امریکی تاریخ کا نہایت مشکل دور تھا کیونکہ ملک شدید معاشی بحران یعنی عظیم کساد بازاری (Great Depression) کا شکار تھا۔ لاکھوں افراد بے روزگار تھے اور بینکاری نظام تقریباً تباہ ہو چکا تھا۔ انہوں نے نیو ڈیل (New Deal) کے نام سے معاشی اصلاحات کا پروگرام شروع کیا، جس کے تحت روزگار کے مواقع پیدا کیے گئے، بینکاری نظام میں اصلاحات کی گئیں اور حکومتی نگرانی بڑھائی گئی۔ڈنکرک معاہدہ4 مارچ 1947ء کو فرانس اور برطانیہ کے درمیان ڈنکرک معاہدہ طے پایا۔ دوسری جنگِ عظیم کے خاتمے کے بعد یورپ کو دوبارہ منظم کرنے اور ممکنہ جرمن جارحیت سے تحفظ حاصل کرنے کے لیے یہ دفاعی معاہدہ کیا گیا۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں باہمی تعاون کا وعدہ کیا۔یہ معاہدہ بعد میں قائم ہونے والے وسیع تر یورپی دفاعی نظام کی بنیاد بنا جو آگے چل کر نیٹو جیسے اتحادوں کی صورت میں سامنے آیا۔ڈنکرک معاہدہ یورپی اتحاد کی ابتدائی کڑیوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس نے نہ صرف دفاعی ہم آہنگی کو فروغ دیا بلکہ سیاسی تعاون کی راہ بھی ہموار کی، جو بعد ازاں یورپی یونین کے قیام کی سمت میں ایک ابتدائی قدم ثابت ہوا۔اسکندر مرزا صدر منتخب4 مارچ 1956ء کو اسکندر مرزا پاکستان کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔ اس سے قبل اسکندر مرزا گورنر جنرل کے عہدے پر فائز تھے، لیکن 23 مارچ 1956ء کو آئین کے نفاذ کے بعد گورنر جنرل کا منصب ختم ہو گیا اور پارلیمانی نظام کے تحت صدرِ مملکت کا عہدہ قائم کیا گیا۔اسکندر مرزا کا تعلق برطانوی ہندوستان کی فوج اور بعد ازاں سول سروس سے رہا تھا۔ قیامِ پاکستان کے بعد انہوں نے مختلف اہم سرکاری عہدوں پر خدمات انجام دیں، جن میں سیکریٹری دفاع اور گورنر مشرقی پاکستان شامل ہیں۔ صدر منتخب ہونے کے بعد ان کا کردار زیادہ تر آئینی سربراہِ مملکت کا تھا ۔

حسن دوئم مسجد

حسن دوئم مسجد

بحراوقیانوس کے کنارے اسلامی عظمت کی علامتمراکش کے شہر کیسا بلانکا ( Casablanca) میں واقع''حسن دوئم مسجد‘‘اسلامی فنِ تعمیر، روحانیت اور قومی شناخت کا ایک درخشاں استعارہ ہے۔ یہ عظیم الشان مسجد 1993ء میں مکمل ہوئی اور اسے مراکش کے فرمانرواحسن دوئم کے نام سے منسوب کیا گیا، جنہوں نے اس کی تعمیر کا آغاز کیا اور اسے جدید مراکش کی علامت بنانے کا عزم ظاہر کیا۔ بحرِ اوقیانوس کے کنارے تعمیر کی گئی یہ مسجد نہ صرف عبادت گاہ ہے بلکہ فن، تاریخ اور انجینئرنگ کا ایسا سنگم ہے جس نے دنیا بھر کے سیاحوں اور معماروں کو متاثر کیا ہے۔حسن دوئم مسجد کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا فلک بوس مینار ہے جو تقریباً 210 میٹر بلند ہے اور اسے دنیا کے بلند ترین میناروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ رات کے وقت اس مینار سے سبز لیزر روشنی قبلہ رخ فضا میں چمکتی ہے جو ایک دلکش منظر پیش کرتی ہے۔ یہ منظر اس پیغام کی علامت ہے کہ اسلام روشنی، رہنمائی اور امن کا دین ہے۔ مسجد کی تعمیر میں مراکشی ہنرمندوں نے روایتی نقش و نگار، خطاطی، سنگِ مرمر کی تراش خراش اور لکڑی کی نفیس کندہ کاری کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے، جس سے یہ عمارت ایک جیتا جاگتا عجائب گھر معلوم ہوتی ہے۔مسجد کا مرکزی ہال وسیع و عریض ہے جہاں بیک وقت تقریباً 25 ہزار نمازی نماز ادا کرسکتے ہیں، جبکہ بیرونی صحن اور احاطے سمیت مجموعی طور پر ایک لاکھ پانچ ہزار افراد کی گنجائش موجود ہے۔ فرش پر بچھے خوبصورت قالین، دیواروں پر قرآنی آیات کی خطاطی اور چھت پر دیدہ زیب نقش و نگار روح کو تازگی بخشتے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ مرکزی ہال کی چھت کا ایک حصہ متحرک (ریٹریکٹ ایبل) ہے جو ضرورت پڑنے پر کھولا جاسکتا ہے، یوں کھلے آسمان تلے عبادت کا سماں پیدا ہوجاتا ہے۔ یہ جدید ٹیکنالوجی اور روایتی فنِ تعمیر کا حسین امتزاج ہے۔بحرِ اوقیانوس کے کنارے اس مسجد کی تعمیر ایک انجینئرنگ چیلنج بھی تھی۔ عمارت کا کچھ حصہ سمندر کے اوپر تعمیر کیا گیا ہے، جس کے لیے مضبوط بنیادیں اور خصوصی حفاظتی اقدامات کیے گئے۔ اس انتخاب کے پیچھے ایک روحانی تصور بھی کارفرما تھا کہ ‘‘خدا کا عرش پانی پر ہے''، چنانچہ مسجد کو پانی کے قریب تعمیر کرکے اس تصور کی علامتی تعبیر پیش کی گئی۔ سمندر کی لہروں کی آواز اور ٹھنڈی ہوا عبادت گزاروں کے لیے سکون اور خشوع کا ماحول پیدا کرتی ہے۔حسن دوم مسجد صرف عبادت تک محدود نہیں؛ یہاں ایک وسیع کتب خانہ، مدرسہ، میوزیم اور وضو کے لیے جدید سہولیات بھی موجود ہیں۔ زیرِ زمین وضو خانہ سنگِ مرمر کے فواروں اور نفیس ستونوں سے مزین ہے جو مراکشی جمالیات کا شاہکار ہے۔ مسجد میں جدید ساؤنڈ سسٹم اور ماحولیاتی کنٹرول کا انتظام بھی کیا گیا ہے تاکہ بڑے اجتماعات میں بھی نظم و ضبط برقرار رہے۔ اس کے علاوہ یہاں رہنمائی کے لیے تربیت یافتہ گائیڈز دستیاب ہوتے ہیں جو سیاحوں کو عمارت کی تاریخ اور فنِ تعمیر سے آگاہ کرتے ہیں۔اس عظیم منصوبے کی تکمیل میں ہزاروں کاریگروں، انجینئروں اور مزدوروں نے حصہ لیا۔ مقامی ہنر کو فروغ دینے اور قومی یکجہتی کو اجاگر کرنے کے لیے زیادہ تر کام مراکشی ماہرین کے سپرد کیا گیا۔ یوں یہ مسجد نہ صرف مذہبی علامت بنی بلکہ قومی فخر اور اجتماعی محنت کی مثال بھی ٹھہری۔ تعمیر کے دوران استعمال ہونے والا اعلیٰ معیار کا سنگِ مرمر، دیودار کی لکڑی اور نفیس موزائیک ٹائلز مراکش کی ثقافتی وراثت کی جھلک پیش کرتے ہیں۔بین الاقوامی سطح پر حسن دوم مسجد مراکش کی شناخت کا اہم جزو بن چکی ہے۔ دنیا بھر سے آنے والے سیاح اس کی شاندار ساخت، سمندر سے جڑے منظر اور روحانی فضا سے متاثر ہوتے ہیں۔ یہ مسجد بین المذاہب ہم آہنگی اور ثقافتی مکالمے کا بھی ذریعہ ہے، کیونکہ غیر مسلم سیاحوں کو مخصوص اوقات میں اندرونی حصوں کی سیر کی اجازت دی جاتی ہے۔ اس طرح یہ عمارت نہ صرف عبادت کا مرکز ہے بلکہ تہذیبی تبادلے کا پل بھی ہے۔مختصراً، حسن دوم مسجد جدید دور میں اسلامی فنِ تعمیر کی ایک درخشاں مثال ہے جس نے روایت اور جدت کو یکجا کیا۔ بحرِ اوقیانوس کے کنارے یہ عظیم عمارت مراکش کی روح، تاریخ اور فنکارانہ مہارت کی آئینہ دار ہے۔