بھر دو جھولی میری یا محمدؐ ... کہانی درویش صفت شاعر ’’پرنم الٰہ آبادی ‘‘کی

بھر دو جھولی میری یا محمدؐ ... کہانی درویش صفت شاعر ’’پرنم الٰہ آبادی ‘‘کی

اسپیشل فیچر

تحریر : طیبہ بخاری


دستور محبت کا سکھایا نہیں جاتا
یہ ایسا سبق ہے جو پڑھایا نہیں جاتا
جنہوں نے ہجرت دیکھی ۔۔۔کسمپرسی دیکھی زندگی پُرنم گزری۔۔۔وہ تھے پُرنم الہٰ آبادی ۔ اس عظیم شاعر نے اپنے نام کی طرح پُرنم زندگی گزاری ۔ آخری وقتوں میں ان کے کمرے کی منظر کشی کچھ یوں تھی کہ ''کمرہ کیا تھا،ایک چارپائی اُس پر بوسیدہ سا بستر،قریب ایک میز، جس پر ایک جگ گلاس،ایش ٹرے اور چند کتابیں،ساتھ 2 کرسیاں پڑی تھیں۔ ایک دیوار پر نامور قوّال عزیز میا ں کاپوسٹر لگا تھا ۔ ساتھ ہی کپڑے لٹکانے کیلئے کھو نٹی تھی جس پر چند کپڑے لٹکے ہوئے تھے۔کمر ے کے فرش پر پْرانی دری بچھی تھی جس میں سے،کہیں کہیں فرش کی اینٹیں جھانک رہی تھیں۔‘‘
آئیے آج آپ کو سناتے ہیں اس عہد ساز درویش صفت شاعر کی ''کہانی ‘‘۔۔۔۔۔
1940ء میں الٰہ آباد( اترپردیش ) ہندوستان میں پیدا ہوئے نام محمّد موسیٰ ہاشمی، والد کا نام حاجی محمّد اسحاق اور تخلص پُرنم تھا۔ ''لیں کے رہیں گے پاکستان ، بن کے رہے گا پاکستان ‘‘ جب یہ نعرہ حقیقت بنا تو پُرنم جن کی عمر صرف 7برس تھی اپنے آبائو اجداد کے ہمراہ الہٰ آباد کو چھوڑ کر پاکستان آ بسے کراچی ان کی پہلی منزل بنا، شاعری کا شوق بچپن سے تھا جوانی میں قدم رکھتے ہی شاعری کے میدان میں اترے۔یہ جوش ملیح آبادی ، سیماب اکبر آبادی ، حسرت آرزو لکھنوی ، حیدر دہلوی ، قمر جلالوی جیسے ان گنت مقبول و معروف شعراء کا زمانہ تھا ، ایسے باکمال شعراء کی موجودگی میں اپنا آپ منوانا کوئی آسان کام نہیں تھا لیکن پُرنم صاحب کو جیسے قدرت نے مشکلات کا سامنا کرنے کا خاص جذبہ عطا کر رکھا تھا ۔ اس دور میں زیادہ تر طرحی مشاعرے ہوا کرتے تھے ، شاعری میں جدت ہر دور میں ہوتی رہی ہے اور ہوتی رہے گی۔پُرنم الہٰ آبادی نے روائتی شاعری کی خوبیاں اپناتے ہوئے اپنے کلام کی انفرادیت کو نمایاں کیا ۔ پُرنم شاعری کے میدان میں اپنا آپ منوانے کیلئے اترے تھے انہوں نے اپنی ثابت قدمی اور منفرد اسلوب سے وہ مقام حاصل کر لیا جس کے وہ حقدار تھے ۔ درویش صفت صوفی شاعر تھے عشق میں ڈوب کر لکھتے تھے تو مقبولیت نے قدم بوسی تو کرنا ہی تھی۔پُرنم کوقمر جلالوی کا انداز شاعری بہت پسند تھا اور قمر جلالوی بھی پُرنم سے بہت متاثر تھے ، 1958ء میں قمر جلالوی نے ایک شفیق استاد کی حیثیت سے پُرنم کے عشق میں ڈوبے کلام کی اصلاح کی ، اب پُر نم کی منزل آسان ہو گئی، قمر جلالوی کی اصلاح ، جداگانہ انداز اور عشق میں گندھے الفاظ یہ سب ایک ہوئے تو لازوال کلام تخلیق ہوا۔پُرنم اپنے استادکی تعریف ایک شعر میں یوں بیان کرتے تھے کہ
پُرنم یہ سب کرم ہے قمر کا جو آجکل
ہوتا ہے اہلِ فن میں تمہارا شمار بھی
وقت گزرتا گیا ، کراچی سے پرنم الہٰ آبادی کا دل اچاٹ ہوگیا یا لاہور کی محبت انہیں ستا رہی تھی بہر حال 90ء کی دہائی میں پُرنم کراچی سے لاہور آ گئے اورپھر مرتے دم تک لاہور میں ہی رہے ۔ صوفیا ء اور اولیائے کرام کی نگری لاہور جیسے پُرنم کی منتظر تھی، اس شہر نے پُرنم کو اپنی آغوش میں لے لیا پُرنم انارکلی میں قیام پذیر ہو گئے ان کا کلام زبان زد عام ہونے لگا۔
پُرنم صاحب کی شاعری میں ہر انداز اپنی کمال خوبیوں کیساتھ نظر آتا ہے ، صوفیانہ کلام ہو یا غزلیہ انداز سخن ، غمِ جاناں کی چاشنی ہو یا حسن کی رعنائیاں، عشق مجازی سے لیکر عشق حقیقی تک ہر انداز میں گہرائی ، دلکشی اور بھرپور توازن ملتا ہے ۔ پھر وہ دن بھی آیا جب ان کا یہ کلام قوالی کی صورت میں مقبولیت کی تمام منازل طے کر گیا ، ہر روح کو سرشار کر گیا، گلی گلی یہ کلام پڑھا اور سنا گیا
بھر دو جھولی میری یا محمدؐ
لوٹ کرمیں نہ جاؤں گا خالی
کچھ نواسوں کا صدقہ عطا ہو
در پہ آیا ہوں بن کر سوالی
حق سے پائی وہ شانِ کریمی
مرحبادونوں عالم کے والی
اُس کی قسمت کا چمکا ستارہ
جس پہ نظر کرم تُو نے ڈالی
زندگی بخش دی بندگی کو
آبرودینِ حق کی بچا لی
وہ محمدؐ کا پیارا نواسا
جس نے سجدے میں گردن کٹا لی
حشر میں ان کو دیکھیں گے جس دم
اُمتی یہ کہیں گے خوشی سے
آ رہے ہیں وہ دیکھو محمدؐ
جن کے کندھے پہ ہے کملی کالی
عاشقِ مصطفی ؐکی اذاں میں
اللہ اللہ کتنا اثر تھا
عرش والے بھی سنتے تھے جس کو
کیا اذاں تھی اذانِ بلالی
کاش پُرنم دیار نبیؐ میں
جیتے جی ہو بلاوا کسی دن
حالِ غم مصطفیؐ کو سناؤں
تھام کراُن کے روضے کی جالی
اس قوالی کے بعدانکی شہرت کو چار چاند لگ گئے ۔پُرنم الٰہ آبادی ایک عہد ساز شاعر اور ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے۔صدرایوب خان کے دورِ حکومت میں انہوں نے جیکب آباد میں ایک مشاعرے میں شرکت کی اس مشاعرے کی صدارت انکے استاد قمر جلالوی نے کی یہ قمر جلالوی صاحب کا آخری مشاعرہ تھا۔یہاں پُرنم الٰہ آبادی نے اپنا کلام سناکر حاضرین کے دل موہ لیے۔ قمر جلالوی 95سال کی عمر میں شدید بیمار ہوئے اور ایسے بیمار ہوئے کہ خالق حقیقی سے جاملے۔ پُرنم الہ آبادی اکثر کہا کرتے تھے کہ استاد قمر کی باتیں اور یادیں تا حیات میں دل سے نہیں بھلا سکتا۔ قمر جلالوی کے جانشین فضا جلالوی مرحوم نے اپنی کتاب ''رشک قمر‘‘ کے دیباچے میں قمر جلالوی کے مشہور اور شاگردانِ خاص میں پُرنم الہ آبادی کا نام بھی تحریر کیاہے۔ پُرنم اسے اپنے لیے بڑا اعزاز سمجھتے تھے ۔
پُرنم صرف اچھے شاعر ہی نہیں بلکہ ایک اچھے انسان بھی تھے۔ ایک شاعر کی حیثیت سے انہوں نے انتہائی سنجیدگی سے ادبی اور شعری سفر جاری رکھا۔ان کے کلام سے انکی فکر میں گہرائی اور لہجے میں دلکش توازن و متانت کا احساس ہوتا ہے۔ ان کی پسندیدہ صنف سخن غزل تھی لیکن اکثر شعری خیالات تصوف میں رنگے ہیں۔
پُرنم صاحب کے بارے میں انکے دوستوں کا کہنا تھا کہ وہ ابتدا ء ہی سے کم گوتھے ، کبھی کسی کو اپنا دکھ نہیں بتاتے تھے اور نہ ہی کسی سے کبھی کچھ طلب کیا۔ بس شاعری کا جنون تھا اور آخر کار پُرنم نے کامیابی کی بلندیوں پر پہنچ کر سب کو حیران کردیا۔
زندگی کے آخری ایام میں انہوں نے صوفیانہ طرز زندگی اپنالیا انکی لکھی نعتیں، قوالیاں اور گیت آج بھی مقبول ہیں اور سامعین کو کیف و سرور بخشتی ہیں۔بھارتی فلموں میں انکے لکھے کئی گیت شامل کئے گئے۔منّی بیگم، غلام فرید صابری قوال، نصرت فتح علی خان اور عزیز میاں قوال کی آوازنے ان کے کلام کو مزید حسن بخشا۔ ان کا یہ کلام بھی زبان زد عام ہوا
تمہیں دل لگی بھول جانی پڑے گی
محبت کی راہوں میں آ کر تو دیکھو
تڑپنے پہ میرے نہ پھرتم ہنسو گے
کبھی دل کسی سے لگا کر تو دیکھو
لاہور میں پُرنم صاحب اپنے کمرے میں ایک خاص محفل برپا کرتے تھے جس میں چند شاعر دوست اپنا کلام بھی سناتے تھے ۔کبھی کبھی دہلی مسلم ہوٹل میں مقیم کتھک مہاراج کے کمرے میں بھی محفل سجا کرتی تھی ،پھر پرنم صاحب کراچی چلے گئے۔کچھ عرصہ بعدکراچی سے واپسی پر ان کی طبیعت ناسازرہنے لگی۔کسی نے اُن سے پوچھا کہ آپ نے شہرت کی بلندی پر ،فن کا بھرا میلہ کیوں چھوڑا؟ تو انہوں نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور آہستہ سے کہا؛'' بس بھیّا !کیا کہیں اچانک اِس چکا چوند سے جی بھر گیا تھا ، شاید قدرت کو یہی منظور تھا۔یوں سمجھ لیں کہ ایک امتحان تھا ، الحمدللہ ! سرکار کے کرم سے ہم سر خرو ہوئے،ابھی تو ایک اور امتحان سر پر ہے۔‘‘
آخر 29جون 2009 ء کوادبی افق پر جگمگانے والے پُرنم ہر آنکھ کو پُرنم کر گئے،مگروہ اپنے کلام کی صورت میں آج بھی لاکھوں دلوں میں زندہ ہیں۔ پُرنم صاحب کی کتاب ''عشق محمدؐ‘‘ اقبال پیام شجاع آبادی نے شائع کی۔ شاعری کی دنیا میں یہ نام غالب ، مومن، داغ، جگر ،فراق اور اقبال کی طرح زندہ و پائندہ رہے گا۔آخر میں پُرنم الہٰ آبادی کے چند اشعارملاحظہ کیجئے
وہ آنکھ میرے لیے نم ہے کیا کیا جائے
اسے بھی آج مرا غم ہے کیا کیا جائے
---
یہ کہہ کے آگ وہ دل میں لگائے جاتے ہیں
چراغ خود نہیں جلتے جلائے جاتے ہیں
---
افسردگی بھی رُخ پہ ہے ان کے نکھار بھی
ہے آج گلستاں میں خزاں بھی بہار بھی
---
رو دئیے وہ بھی مری موت کے بعد اے پُرنم
یاد جب میری وفاؤں کے فسانے آئے

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
پراسرار کوانٹم مادہ کی حقیقت

پراسرار کوانٹم مادہ کی حقیقت

سائنسدانوں کو نئی دنیا کا سراغ مل گیاسائنس کی دنیا میں بعض اوقات ایسی دریافتیں سامنے آتی ہیں جو نہ صرف موجودہ نظریات کو چیلنج کرتی ہیں بلکہ انسان کے علم کی نئی راہیں بھی کھول دیتی ہیں۔ حال ہی میں سائنسدانوں نے ایک ایسے پراسرار مادے کا مطالعہ کیا جسے پہلےQuantum Spin Liquid سمجھا جا رہا تھا مگر مزید تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ یہ مادہ حقیقت میں کچھ اور ہی ہے۔ اس حیران کن انکشاف نے طبیعیات کے ماہرین کو نئی سوچ پر مجبور کر دیا ہے کیونکہ یہ دریافت مستقبل میں کوانٹم کمپیوٹنگ اور مادے کی بنیادی ساخت کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔کوانٹم سپن لیکوئیڈ کیاہے؟عام طور پر جب کسی مادے کو بہت زیادہ ٹھنڈا کیا جاتا ہے تو اس کے ذرات ایک منظم ترتیب اختیار کر لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر مقناطیسی مادوں میں ایٹموں کے چھوٹے مقناطیسی حصے، جنہیں ''سپن ‘‘کہا جاتا ہے، ایک خاص سمت میں ترتیب پا لیتے ہیں۔ لیکن کوانٹم سپن لیکوئیڈ ایک ایسی عجیب حالت ہے جس میں یہ سپن کبھی مکمل طور پر منظم نہیں ہوتے چاہے درجہ حرارت مطلق صفر کے قریب ہی کیوں نہ پہنچ جائے۔اس حالت میں ذرات مسلسل حرکت اور تبدیلی میں رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سائنسدان اس مادے کو غیر معمولی اہمیت دیتے ہیں کیونکہ اس میں موجود کوانٹم خصوصیات مستقبل کے طاقتور کوانٹم کمپیوٹروں کی بنیاد بن سکتی ہیں۔ کئی برسوں سے دنیا بھر کے سائنسدان ایسے مادوں کی تلاش میں ہیں جو حقیقی کوانٹم سپن لیکوئیڈ ثابت ہو سکیں۔سائنسدانوں کی ابتدائی غلط فہمیحالیہ تحقیق میں جس مادے کا مطالعہ کیا گیا اس میں ابتدا میں وہ تمام نشانیاں موجود تھیں جو ایک کوانٹم سپن لیکوئیڈ میں پائی جاتی ہیں۔ اس مادے میں مقناطیسی ترتیب موجود نہیں تھی، اس کے سپن مسلسل تبدیل ہو رہے تھے اور اس کی توانائی کے نمونے بھی غیر معمولی تھے۔ انہی خصوصیات کی بنیاد پر سائنسدانوں نے اسے ایک نایاب کوانٹم مادہ قرار دیا۔لیکن جب اس مادے کا مزید باریک بینی سے جائزہ لیا گیا، خاص طور پر جدید نیوٹران تجربات کے ذریعے، تو نتائج نے سب کو حیران کر دیا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ اس مادے کی پراسرار خصوصیات دراصل خالص کوانٹم اثرات کی وجہ سے نہیں تھیں بلکہ یہ مادہ کئی مختلف مقناطیسی حالتوں کے درمیان ایک پیچیدہ الجھن میں پھنسا ہوا تھا۔یوں سائنسدانوں کو احساس ہوا کہ وہ جسے کوانٹم سپن لیکوئیڈ سمجھ رہے تھے وہ دراصل مادے کی ایک بالکل نئی قسم ہو سکتی ہے، جس کے بارے میں پہلے کوئی واضح تصور موجود نہیں تھا۔نئی دریافت کیوں اہم ہے؟یہ دریافت اس لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اس سے طبیعیات کے کئی پرانے نظریات متاثر ہو سکتے ہیں۔ اگر کچھ مادے صرف بظاہر کوانٹم سپن لیکوئیڈ جیسے نظر آتے ہیں لیکن حقیقت میں ان کی نوعیت مختلف ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ سائنسدانوں کو اپنی تحقیق کے طریقوں پر دوبارہ غور کرنا ہوگا۔اس نئی حالتِ مادہ کی دریافت سے یہ امکان بھی پیدا ہوا ہے کہ کائنات میں ایسے کئی اور مادے موجود ہو سکتے ہیں جنہیں ابھی تک صحیح طور پر سمجھا نہیں جا سکا۔ یہ تحقیق مستقبل میں نئی ٹیکنالوجیز کی راہ ہموار کر سکتی ہے خاص طور پر کوانٹم کمپیوٹنگ کے میدان میں۔کوانٹم کمپیوٹر عام کمپیوٹروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقتور سمجھے جاتے ہیں۔ اگر سائنسدان ایسے مادوں کو بہتر انداز میں سمجھنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جو غیر معمولی کوانٹم خصوصیات رکھتے ہیں تو اس سے ایسے کمپیوٹر بنانا ممکن ہو سکتا ہے جو پیچیدہ مسائل کو چند سیکنڈ میں حل کر سکیں۔مستقبل کی سائنس کیلئے نیا دروازہسائنس میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک دریافت کئی نئے سوالات کو جنم دیتی ہے۔ یہی معاملہ اس پراسرار مادے کے ساتھ بھی پیش آیا ہے۔ اب سائنسدان یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا یہ واقعی مادے کی ایک نئی حالت ہے یا پھر پہلے سے موجود نظریات کی کوئی غیر متوقع شکل۔اس تحقیق نے ایک اور اہم حقیقت بھی واضح کی ہے کہ قدرت کے راز ہماری توقعات سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں۔ بعض اوقات جو چیز ہمیں ایک خاص شکل میں نظر آتی ہے وہ حقیقت میں اس سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ یہی حیرت اور تجسس سائنس کو آگے بڑھاتے ہیں۔ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے برسوں میں مزید تجربات اور جدید آلات کی مدد سے اس نئی دریافت کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل کی جا سکیں گی۔ اگر یہ تحقیق کامیاب رہی تو ممکن ہے کہ انسان مادے اور توانائی کی دنیا کو ایک بالکل نئے زاویے سے دیکھنے لگے۔پراسرار کوانٹم مادّے کے بارے میں حالیہ تحقیق نے سائنس دانوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ جس مادّے کو پہلے ایک نایاب کوانٹم اسپن لیکوئیڈ سمجھا جا رہا تھا، وہ اب ایک نئی اور پیچیدہ حقیقت کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ یہ دریافت نہ صرف طبیعیات کے میدان میں ایک بڑی پیش رفت ہے بلکہ مستقبل کی ٹیکنالوجی، خصوصاً کوانٹم کمپیوٹنگ، کے لیے بھی امید کی نئی کرن بن سکتی ہے۔سائنس کی خوبصورتی یہی ہے کہ ہر نئی تحقیق انسان کے علم میں اضافہ کرتی ہے اور ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ کائنات ابھی تک بے شمار راز اپنے اندر چھپائے ہوئے ہے۔

4 ہفتوں کا غذائی پلا ن زندگی بدل سکتا ہے  نئی تحقیق نے ماہرین کو حیران کر دیا

4 ہفتوں کا غذائی پلا ن زندگی بدل سکتا ہے نئی تحقیق نے ماہرین کو حیران کر دیا

دنیا بھر میں بڑھتی عمر کو سست کرنے، جسم کو تندرست رکھنے اور لمبی زندگی پانے کے طریقوں پر مسلسل تحقیق جاری ہے۔ کبھی ورزش کو اس کا راز قرار دیا جاتا ہے، کبھی اچھی نیند کو اور کبھی ذہنی سکون کو۔ لیکن اب ایک نئی تحقیق نے یہ دلچسپ دعویٰ کیا ہے کہ صرف چار ہفتوں تک غذا میں تبدیلی لا کر انسانی جسم کی بیالوجیکل عمر کم کی جا سکتی ہے۔ یہ خبر نہ صرف طبی ماہرین بلکہ عام لوگوں کے لیے بھی حیرت اور دلچسپی کا باعث بنی ہوئی ہے۔یہ تحقیق اس لیے اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ اس میں یہ اشارہ ملا ہے کہ بڑھاپا صرف وقت گزرنے کا نام نہیں بلکہ انسان کے روزمرہ طرزِ زندگی، خصوصاً خوراک، سے بھی گہرا تعلق رکھتا ہے۔ اگر انسان اپنی غذا کو بہتر بنا لے تو ممکن ہے کہ اس کے جسم کے اندر ہونے والی عمر رسیدگی کی رفتار بھی کم ہو جائے۔بیالوجیکل عمر کیا ہوتی ہے؟عام طور پر انسان کی عمر سالوں میں ناپی جاتی ہے، جسےChronological Age کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص 70 سال کا ہے تو یہی اس کی اصل یا کیلنڈر عمر ہے، لیکن سائنسدان ایک اور اصطلاح بھی استعمال کرتے ہیں جسےBiological Age یعنی حیاتیاتی عمر کہا جاتا ہے۔حیاتیاتی عمر دراصل اس بات کا اندازہ لگاتی ہے کہ انسان کا جسم اندر سے کس حد تک صحت مند یا کمزور ہو چکا ہے۔ بعض لوگ عمر میں زیادہ ہونے کے باوجود جسمانی طور پر جوان اور توانا دکھائی دیتے ہیں جبکہ کچھ لوگ نسبتاً کم عمر ہو کر بھی بیمار اور کمزور محسوس ہوتے ہیں۔ اس فرق کی وجہ حیاتیاتی عمر سمجھی جاتی ہے۔سائنسدانوں کے مطابق اگر کسی شخص کی حیاتیاتی عمر اس کی اصل عمر سے کم ہو تو اس کا مطلب ہے کہ اس کا جسم نسبتاً بہتر حالت میں ہے۔اس نئی تحقیق میں 65 سے 75 سال کی عمر کے افراد کو شامل کیا گیا۔ ماہرین نے ان افراد کو مختلف غذائی منصوبوں پر رکھا تاکہ دیکھا جا سکے کہ خوراک میں تبدیلی جسم پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے۔تحقیق کے دوران شرکاکو چار ہفتوں تک مختلف قسم کی غذائیں دی گئیں۔ کچھ افراد کو کم چکنائی والی غذا دی گئی جبکہ کچھ کو پودوں سے حاصل ہونے والی پروٹین پر مشتمل خوراک فراہم کی گئی۔ اس دوران ان کی صحت کے مختلف اشاریوں کا مسلسل جائزہ لیا گیا۔ماہرین نے تقریباً 20 مختلف بائیومارکرز کی مدد سے ان افراد کی حیاتیاتی عمر کا اندازہ لگایا۔ ان بائیومارکرز میں کولیسٹرول، بلڈ پریشر، انسولین، جسمانی سوزش اور خون کے مختلف اجزا شامل تھے۔تحقیق مکمل ہونے کے بعد نتائج حیران کن تھے۔صرف چار ہفتوں میں نمایاں تبدیلی۔تحقیق میں شامل کئی افراد میں صرف چار ہفتوں کے اندر صحت کے مختلف اشاریوں میں واضح بہتری دیکھی گئی۔ خاص طور پر وہ افراد جنہوں نے کم چکنائی اور زیادہ پودوں پر مبنی غذا استعمال کی ان کے جسم میں سوزش کم ہوئی، کولیسٹرول کی سطح بہتر ہوئی اور انسولین کے اثرات میں بھی بہتری دیکھی گئی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں کی بنیاد پر ایسا محسوس ہوا جیسے ان افراد کی حیاتیاتی عمر میں کمی آئی ہو۔ یعنی ان کا جسم پہلے کے مقابلے میں نسبتاً جوان انداز میں کام کرنے لگا۔یہ نتائج اس لیے اہم ہیں کیونکہ عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ بڑھاپا ایک ایسا عمل ہے جسے روکا نہیں جا سکتا۔ لیکن اس تحقیق سے اشارہ ملا ہے کہ صحت مند غذا کے ذریعے اس عمل کی رفتار کو کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔غذا کا جسم پر اثر ؟ماہرین کے مطابق ہماری خوراک براہِ راست جسم کے خلیوں، ہارمونز اور مدافعتی نظام پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اگر غذا میں زیادہ چکنائی، چینی اور مصنوعی اجزا شامل ہوں تو جسم میں سوزش بڑھنے لگتی ہے جو مختلف بیماریوں اور تیزی سے بڑھاپے کا سبب بنتی ہے۔اس کے برعکس اگر انسان سبزیاں، پھل، دالیں، ثابت اناج اور پودوں سے حاصل ہونے والی پروٹین استعمال کرے تو جسم کے خلیے بہتر انداز میں کام کرتے ہیں۔ اس سے دل، دماغ اور دیگر اعضا صحت مند رہتے ہیں۔ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ صحت مند غذا صرف وزن کم کرنے کے لیے نہیں بلکہ پورے جسم کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے۔کیا واقعی بڑھاپا کم ہو سکتا ہے؟اگرچہ اس تحقیق کے نتائج حوصلہ افزا ہیں لیکن سائنسدانوں نے احتیاط کا مشورہ بھی دیا ہے۔ ان کے مطابق ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ صرف چار ہفتوں کی غذا انسان کو حقیقت میں جوان بنا سکتی ہے یا اس کی عمر بڑھا سکتی ہے۔تحقیق محدود پیمانے پر کی گئی تھی اور اس میں شامل افراد کی تعداد بھی بہت زیادہ نہیں تھی۔ اس لیے مزید طویل اور بڑی تحقیقات کی ضرورت ہے تا کہ یہ واضح ہو سکے کہ ان نتائج کے اثرات کتنے دیرپا ہوتے ہیں۔تاہم ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ صحت مند غذا انسان کی مجموعی صحت بہتر بنانے میں اہم کردار ضرور ادا کرتی ہے۔صحت مند زندگی کیلئے پیغامیہ تحقیق دراصل ایک اہم سبق دیتی ہے کہ بہتر صحت کے لیے تبدیلی شروع کرنے میں کبھی دیر نہیں ہوتی۔ بہت سے لوگ یہ سوچ کر اپنی عادات تبدیل نہیں کرتے کہ اب عمر گزر چکی ہے، لیکن سائنسدانوں کے مطابق عمر کے آخری حصے میں بھی مثبت تبدیلیاں فائدہ دے سکتی ہیں۔اگر انسان متوازن غذا، مناسب نیند، باقاعدہ ورزش اور ذہنی سکون کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لے تو نہ صرف بیماریوں کا خطرہ کم ہو سکتا ہے بلکہ جسمانی توانائی اور زندگی کا معیار بھی بہتر ہو سکتا ہے۔جدید سائنس مسلسل یہ ثابت کر رہی ہے کہ انسانی صحت کا تعلق روزمرہ عادات سے بھی ہے۔ نئی تحقیق نے امید دلائی ہے کہ غذا میں معمولی مگر درست تبدیلیاں جسم پر حیرت انگیز اثرات ڈال سکتی ہیں۔اگرچہ ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے لیکن ایک بات واضح ہے کہ صحت مند خوراک صرف پیٹ بھرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ بہتر زندگی کی بنیاد بھی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ماہرین ہمیشہ کہتے ہیں کہ آپ جیسی غذا کھاتے ہیں، ویسے ہی بن جاتے ہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

ترکی کی جنگِ آزادی کا آغاز19 مئی 1919ء جدید ترکی کی تاریخ کا ایک اہم دن سمجھا جاتا ہے۔ اسی روزمصطفی کمال اتا ترک سامسون شہر پہنچے اور ترکی کی جنگِ آزادی کی عملی بنیاد رکھی۔ پہلی جنگِ عظیم میں سلطنتِ عثمانیہ کی شکست کے بعد اتحادی طاقتوں نے ترک علاقوں پر قبضے شروع کر دیے تھے۔مصطفی کمال اتاترک کو ابتدا میں عثمانی حکومت نے علاقے میں امن قائم کرنے کے لیے بھیجا تھا مگر انہوں نے اس موقع کو قومی مزاحمت میں بدل دیا۔ سامسون پہنچنے کے بعد انہوں نے ترک قوم کو متحد کرنے، مقامی مزاحمتی تحریکوں کو منظم کرنے اور بیرونی قبضے کے خلاف جدوجہد شروع کی۔ یہی تحریک بعد میں ترکی کی جنگِ آزادی میں تبدیل ہوئی۔اس جدوجہد کے نتیجے میں 1923ء میں جدید جمہوریہ ترکی قائم ہوئی اور خلافتِ عثمانیہ کا خاتمہ ہوگیا۔ این بولین کی پھانسی19 مئی 1536ء انگلستان کی شاہی تاریخ کے سب سے متنازع واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ اسی روز انگلستان کے بادشاہ ہنری ہشتم کی دوسری ملکہ این بولین کو ٹاور آف لندن میں سزائے موت دی گئی۔ این بولین پر غداری اور ناجائز تعلقات جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے، تاہم کئی مؤرخین ان الزامات کو سیاسی سازش قرار دیتے ہیں۔ہنری ہشتم پہلے کیتھرین آف آراگون سے شادی شدہ تھا مگر اس سے مرد وارث نہ ملنے کے باعث وہ این بولین سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ جب پوپ نے پہلی شادی ختم کرنے کی اجازت نہ دی تو ہنری نے رومن کیتھولک چرچ سے علیحدگی اختیار کر لی اور چرچ آف انگلینڈ قائم کر دیا۔این بولین ملکہ تو بن گئیں مگر وہ بھی بادشاہ کو مطلوب مرد وارث نہ دے سکیں۔ جان فرینکلن کی قطبی مہم 19 مئی 1845ء کو برطانوی مہم جو جان فرینکلن اپنی مشہور مگر المناک آرکٹک مہم پر روانہ ہوئے۔ ان کا مقصد شمال مغربی بحری راستہ تلاش کرنا تھا جو بحرِ اوقیانوس اور بحرالکاہل کو شمالی امریکہ کے اوپر سے ملاتا تھا۔ اس مہم کے لیے دو جہاز، ایریبس اور ٹیریر استعمال کیے گئے۔اس دور میں برطانیہ دنیا کی سب سے بڑی بحری طاقت تھا اور نئی تجارتی گزرگاہوں کی تلاش انتہائی اہم سمجھی جاتی تھی۔ فرینکلن کی مہم کو جدید سازوسامان سے لیس کیا گیا تھا اور ابتدا میں اسے ایک عظیم سائنسی مہم قرار دیا گیا۔ تاہم کچھ عرصے بعد ان دونوں جہازوں کا رابطہ دنیا سے منقطع ہوگیا۔کئی سال تک ان جہازوں اور عملے کی تلاش جاری رہی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ جہاز برف میں پھنس گئے تھے اور شدید سردی، بھوک اور بیماری نے پورے عملے کو ہلاک کر دیا۔ آسکر وائلڈ کی رہائی19 مئی 1897ء کو آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والے مشہور ادیب، شاعر اور ڈرامہ نگار آسکر وائلڈ کو برطانیہ کی ریڈنگ جیل سے رہائی ملی۔آسکر وائلڈ نےThe Importance of Being Earnest اورThe Picture of Dorian Gray جیسی شاہکار تخلیقات لکھیں۔ ان کی تحریروں میں طنز، ذہانت اور سماجی منافقت پر گہری تنقید پائی جاتی تھی۔ 1895ء میں ان پر غیراخلاقی رویے کے الزامات لگائے گئے، جو اُس زمانے میں برطانیہ کے سخت سماجی اور قانونی نظام کے تحت جرم تصور کیے جاتے تھے۔ مقدمے کے بعد انہیں دو سال قیدِ مشقت کی سزا سنائی گئی۔جیل میں ان کی زندگی انتہائی مشکل رہی۔ اسی دوران انہوں نے اپنی مشہور تحریرDe Profundis لکھی جس میں انہوں نے اپنے دکھ، روحانی خیالات اور انسانی رویوں پر گہری گفتگو کی۔مارلن منرو کی تاریخی پرفارمنس19 مئی 1962ء کو امریکی اداکارہ مارلن منرو نے امریکی صدرجے ایف کینیڈی کی سالگرہ کی تقریب میںHappy Birthday, Mr. President گا کر ایک ایسا لمحہ پیدا کیا جو امریکی ثقافت کی تاریخ میں امر ہوگیا۔یہ تقریب نیویارک کے میڈیسن سکوائر گارڈن میں منعقد ہوئی جہاں ہزاروں افراد موجود تھے۔ مارلن منرو نے چمکتے ہوئے مخصوص لباس میں انتہائی منفرد انداز میں یہ گیت پیش کیا۔ ان کی آواز، انداز اور پرفارمنس نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کی۔ یہ تقریب محض ایک سالگرہ نہیں رہی بلکہ امریکی پاپ کلچر کی علامت بن گئی۔اس واقعے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس زمانے میں مارلن منرو اور جان ایف کینیڈی کے تعلقات کے بارے میں افواہیں گردش کر رہی تھیں۔ اسی لیے یہ پرفارمنس سیاسی اور سماجی حلقوں میں مزید مشہور ہوگئی۔

2026: شدید موسمی تباہ کاریوں کا سال؟

2026: شدید موسمی تباہ کاریوں کا سال؟

آخری 6ماہ میں شدید گرمی اور جنگلاتی آگ کا خطرہ،سائنسدانوں کی پیشگوئیموسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات نے پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماہرین موسمیات اور سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ سال 2026ء دنیا کیلئے غیر معمولی اور شدید موسمی حالات کا سال ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق آنے والے مہینوں میں گرمی کی شدت نئے ریکارڈ قائم کر سکتی ہے، جبکہ مختلف خطوں میں جنگلاتی آگ، خشک سالی، شدید بارشوں اور طوفانوں کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ ماحولیاتی آلودگی، جنگلات کی بے دریغ کٹائی اور کاربن گیسوں کے اخراج نے قدرتی نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کے نتائج اب پوری انسانیت کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔ اگر بروقت مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں یہ موسمی خطرات انسانی زندگی، معیشت اور ماحول کیلئے سنگین بحران کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ رواں سال کے آخر تک دنیا غیر معمولی شدید موسمی حالات کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ورلڈ ویدر ایٹریبیوشن (WWA) کے ماہرین کے مطابق 2026ء کے ابتدائی چار مہینوں میں ہی جنگلاتی آگ کے باعث پہلے کے مقابلے میں زیادہ رقبہ جل کر تباہ ہو چکا ہے۔ دنیا بھر میں اب تک تقریباً 15کروڑ ہیکٹر (5 لاکھ 80 ہزار مربع میل) زمین آگ کی لپیٹ میں آ کر تباہ ہو چکی ہے، جو حالیہ اوسط سے دو گنا سے بھی زیادہ ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ریکارڈ توڑ درجہ حرارت کے امکانات کے باعث صورتحال مزید سنگین ہونے کی توقع ہے۔محققین کے مطابق ابھرنے والا ایل نینو(El Niño) موسمی پیٹرن 2026ء کو تاریخ کا گرم ترین سال بنا سکتا ہے۔ اگرچہ ایل نینو ایک قدرتی موسمی چکر ہے، لیکن اس کے اثرات انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ مل کر تباہ کن نتائج پیدا کریں گے۔ سائنس دان اب ایک ایسے سال کی پیشگوئی کر رہے ہیں جس میں عالمی سطح پر متعدد جنگلاتی آگ اور ریکارڈ ساز موسمی واقعات دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔ کلائمیٹ سینٹرل کے ماہر موسمیات ڈاکٹر زکری لیب (Dr Zachary Labe)کا کہنا ہے کہ غیر موسمی شدید گرمی کی لہروں، بڑھتی ہوئی جنگلاتی آگ اور بلند ترین پہاڑی چوٹیوں پر برف کے غائب ہونے جیسے واقعات اس بات کا واضح انتباہ ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کس طرح شدت پسند موسمی حالات کو مزید خطرناک بنا رہی ہے۔یہ سنگین انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سائنس دانوں نے ایل نینو سدرن آسیلیشن (El Niño-Southern Oscillation) کے قدرتی موسمی چکر میں ایک ''سپر ایل نینو‘‘ مرحلے کی پیش رفت پر نظر رکھنا شروع کر دی ہے۔ ایل نینو سدرن آسیلیشن ایک قدرتی موسمی نظام ہے جو ہر دو سے سات سال کے دوران گرم ایل نینو اور ٹھنڈے لا نینا (La Niña)مرحلوں کے درمیان گردش کرتا رہتا ہے۔ اس چکر کے ایل نینو مرحلے میں بحرالکاہل میں جمع ہونے والے گرم پانی پھیل جاتے ہیں، جس سے زمین کی اوسط سطحی درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے۔اس وقت عالمی حدت کو کسی حد تک ٹھنڈے لانینا پیٹرن نے قابو میں رکھا ہوا ہے، جس کی وجہ سے 2026ء گزشتہ برسوں کے مقابلے میں قدرے کم گرم ہے۔ تاہم اب سمندری سطح کے درجہ حرارت ریکارڈ کی بلند ترین سطحوں کے قریب پہنچ چکے ہیں، جبکہ بعض دنوں میں یہ 2024ء کے قائم کردہ ریکارڈ سے بھی تجاوز کر گئے ہیں۔کئی ممتاز سائنس دانوں کے مطابق یہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ دنیا صدی کے طاقتور ترین ایل نینو برسوں میں سے ایک کا سامنا کرنے والی ہے۔ ماہرین کو تشویش ہے کہ ایل نینو کی قدرتی شدت موسمیاتی تبدیلی کے باعث پہلے سے موجود گرمی کے ساتھ مل کر معمول سے کہیں زیادہ شدید موسمی حالات پیدا کرے گی۔ورلڈ ویدر ایٹریبیوشن (WWA) کی سربراہ اور امپیریل کالج لندن کی ماہرِ موسمیات ڈاکٹر فریڈریک اوٹو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ایل نینو ایک قدرتی مظہر ہے جو آتا جاتا رہتا ہے، لیکن اب یہ ایک ایسے ماحول میں رونما ہو رہا ہے جہاں بنیادی درجہ حرارت پہلے ہی مسلسل بڑھ رہا ہے۔اس صورتحال کو غیر معمولی اور تشویشناک بنانے والی بات ایل نینو کا وقوع نہیں بلکہ یہ ہے کہ یہ ایک ایسے موسمی نظام میں ہو رہا ہے جو پہلے ہی نمایاں طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق 2026ء کے بارے میں قوی امکان ہے کہ یہ تاریخ کا گرم ترین سال ثابت ہو، جو 2024ء میں قائم کیے گئے ریکارڈ سے تقریباً 0.06 ڈگری سینٹی گریڈ (0.11 ڈگری فارن ہائیٹ) زیادہ گرم ہوگا۔کلائمیٹ سائنسدان ڈاکٹر ڈینیئل سوین، جو کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ فار واٹر ریسورسز سے وابستہ ہیں، کہتے ہیں کہ جدید انسانی تاریخ میں ہم نے کبھی بھی ایسا مضبوط یا انتہائی مضبوط ایل نینو اس حالت میں نہیں دیکھا جب عالمی سطح پر پہلے ہی درجہ حرارت اتنا زیادہ ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس بات پر حیرت نہیں ہونی چاہیے اگر 2026ء کے آخر سے 2027ء تک سیلاب، خشک سالی اور جنگلاتی آگ جیسے انتہائی موسمی اثرات میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے کو ملے۔ سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ اس سے دنیا بھر میں جنگلاتی آگ کے واقعات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ورلڈ ویدر ایٹریبیوشن (WWA) کے مطابق اس سال پہلے ہی ایسے شدید درجہ حرارت دیکھنے کو ملے ہیں جو موسمیاتی تبدیلی کے بغیر تقریباً ناممکن تھے۔امریکہ میں کئی ریاستوں نے اپنی تاریخ کا سب سے گرم موسمِ ریکارڈ کیا جبکہ مارچ میں آنے والی ہیٹ ویو امریکی تاریخ کی سب سے زیادہ وسیع رقبے پر پھیلنے والی گرمی کی لہر ثابت ہوئی۔ اسی دوران بھارت کے بعض علاقوں میں درجہ حرارت 46 ڈگری سینٹی گریڈ (115 ڈگری فارن ہائیٹ) تک پہنچ گیا ہے۔اس صورتحال کے نتیجے میں امریکہ کے براعظموں میں بڑے پیمانے پر جنگلاتی آگ بھڑک اٹھی ہے، جہاں چلی اور ارجنٹینا میں ہر منٹ تقریباً 25 ایکڑ زمین آگ کی نذر ہو رہی ہے، جبکہ نیبراسکا، فلوریڈا اور جارجیا میں بھی تاریخ کی سب سے بڑی آگ لگنے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ ایشیا میں بھی آگ پھیل چکی ہے، جہاں جاپان میں ہزاروں افراد کو اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا، جبکہ 1,400 فائر فائٹرز کئی دنوں سے جاری آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ ایل نینو کے ساتھ جڑی گرم اور خشک موسمی صورتحال موجودہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے ساتھ مل کر ان حالات کو مزید بدتر بنا سکتی ہے۔ یہ تبدیلیاں سب سے زیادہ اثر ایمیزون کے بارانی جنگلات، اوشیانا اور جنوب مشرقی ایشیاء کے خطوں پر ڈالیں گی۔

عجائب گھر: تہذیب و ثقافت کا قیمتی سرمایہ

عجائب گھر: تہذیب و ثقافت کا قیمتی سرمایہ

دنیا بھر میں ہر سال 18مئی کو ''عالمی یوم عجائب گھر ‘‘ منایا جاتا ہےہر قوم اپنی تاریخ، تہذیب، ثقافت اور روایات کے ذریعے پہچانی جاتی ہے۔ جو قومیں اپنے ماضی کو محفوظ رکھتی ہیں، وہی مستقبل میں مضبوط اور باوقار مقام حاصل کرتی ہیں۔ انسانی تہذیب کے اس عظیم ورثے کو محفوظ رکھنے میں عجائب گھروں کا کردار نہایت اہم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں ہر سال 18 مئی کو ''عالمی یومِ عجائب گھر‘‘ منایا جاتا ہے تاکہ لوگوں میں عجائب گھروں کی اہمیت اور افادیت کے بارے میں شعور بیدار کیا جا سکے۔ اس دن کے منانے کا آغاز ''انٹرنیشنل کونسل آف میوزیم‘‘نے 1977ء میں کیا تھا۔ اس موقع پر دنیا کے مختلف ممالک میں خصوصی تقریبات، نمائشوں، سیمینارز اور تعلیمی پروگراموں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔عجائب گھر دراصل کسی قوم کے اجتماعی حافظے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہاں قدیم نوادرات، تاریخی دستاویزات، نایاب تصاویر، جنگی سازو سامان، قدیم سکے، مجسمے، ثقافتی لباس، فن پارے اور دیگر قیمتی اشیا محفوظ کی جاتی ہیں۔ یہ ادارے نہ صرف ماضی کی جھلک دکھاتے ہیں بلکہ انسان کو اپنی تہذیبی جڑوں سے جوڑنے کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ ایک اچھا عجائب گھر انسان کو صدیوں پر محیط تاریخ کے سفر پر لے جاتا ہے جہاں وہ مختلف ادوار کی تہذیب، طرزِ زندگی اور ترقی کا مشاہدہ کرتا ہے۔دنیا کے مشہور عجائب گھروں میں ''لوور میوزیم‘‘(Louvre Museum)، ''برٹش میوزیم‘‘(British Museum)اور ''میٹروپولیٹن میوزیم آف آرٹ‘‘ (Metropolitan Museum Of Art) شامل ہیں، جہاں لاکھوں تاریخی اور ثقافتی نوادرات محفوظ ہیں۔ یہ عجائب گھر ہر سال کروڑوں سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ ان اداروں کے ذریعے دنیا کی مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کے درمیان رابطہ اور ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے۔پاکستان بھی تاریخی اور ثقافتی اعتبار سے ایک عظیم ملک ہے۔ یہاں قدیم تہذیبوں کے بے شمار آثار موجود ہیں۔ انڈس ویلی سویلائزیشن دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں شمار ہوتی ہے۔ موہنجو داڑو، ہڑپہ اور ٹیکسلا جیسے تاریخی مقامات اس عظیم ورثے کی علامت ہیں۔ پاکستان میں قائم عجائب گھروں میں لاہور میوزیم، نیشنل میوزیم آف پاکستان اور ٹیکسلا میوزیم خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان عجائب گھروں میں بدھ مت، گندھارا تہذیب، اسلامی فن تعمیر اور برصغیر کی تاریخ سے متعلق نایاب نوادرات محفوظ ہیں۔عجائب گھر صرف سیاحتی مقامات نہیں بلکہ تعلیمی مراکز بھی ہیں۔ طلبہ و طالبات یہاں آ کر اپنی کتابوں میں پڑھی گئی تاریخ کو حقیقت کی شکل میں دیکھتے ہیں۔ ایک قدیم تلوار، صدیوں پرانا سکہ یا تاریخی مخطوط نوجوان ذہنوں میں تحقیق اور مطالعے کا شوق پیدا کرتا ہے۔ اسی لیے ترقی یافتہ ممالک میں اسکولوں اور جامعات کے تعلیمی دوروں میں عجائب گھروں کی سیر کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔ڈیجیٹل دور میں عجائب گھروں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ اب دنیا کے کئی عجائب گھر آن لائن نمائشوں اور ورچوئل ٹورز کا اہتمام کر رہے ہیں، جس سے لوگ گھر بیٹھے تاریخی نوادرات کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ اس جدید طرز نے نوجوان نسل کی دلچسپی میں اضافہ کیا ہے۔ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے ثقافتی ورثے کو دنیا بھر میں متعارف کرانے کا عمل بھی تیز ہوا ہے۔بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں عجائب گھروں کے حوالے سے شعور ابھی محدود ہے۔ اکثر لوگ انہیں محض پرانی چیزوں کا ذخیرہ سمجھتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں یہ قوموں کی علمی اور تہذیبی شناخت کے محافظ ہوتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور تعلیمی ادارے عوام میں عجائب گھروں کی اہمیت اجاگر کریں۔ اسکولوں کے نصاب میں تاریخی ورثے کے تحفظ سے متعلق مضامین شامل کیے جائیں اور طلبہ کے مطالعاتی دوروں کا اہتمام کیا جائے۔اس کے ساتھ ساتھ عجائب گھروں کی حالت بہتر بنانا بھی ضروری ہے۔ کئی تاریخی نوادرات مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث ضائع ہو رہے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ جدید ٹیکنالوجی، ماہرین آثارِ قدیمہ اور تحقیقاتی سہولیات کے ذریعے عجائب گھروں کو عالمی معیار کے مطابق بنایا جائے۔ سیاحتی سہولیات کی بہتری سے نہ صرف ملکی ثقافت کو فروغ ملے گا بلکہ معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔عالمی یومِ عجائب گھر ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ قومیں اپنے تاریخی اور ثقافتی ورثے کی حفاظت کے بغیر ترقی نہیں کر سکتیں۔ عجائب گھر ماضی، حال اور مستقبل کے درمیان ایک مضبوط پل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ ادارے نئی نسل کو اپنی تہذیب، شناخت اور قومی تاریخ سے جوڑتے ہیں۔ اگر ہم اپنے تاریخی ورثے کی حفاظت کریں گے تو آنے والی نسلیں بھی اپنی شناخت اور ثقافت پر فخر محسوس کریں گی۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ عجائب گھروں کی اہمیت کو سمجھیں، ان کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کریں اور اپنی آنے والی نسلوں کیلئے اس عظیم ثقافتی سرمایہ کو محفوظ بنائیں۔

 ہائپر ٹینشن ، خاموش قاتل

ہائپر ٹینشن ، خاموش قاتل

آج کی تیز رفتار اور پُرتناؤ زندگی میں ہائی بلڈ پریشر یا ہائپر ٹینشن ایک ایسی خطرناک بیماری بن چکی ہے جو خاموشی سے انسان کی صحت کو تباہ کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین طب اسے ''خاموش قاتل‘‘ قرار دیتے ہیں، کیونکہ اکثر افراد برسوں تک اس مرض میں مبتلا رہتے ہیں مگر انہیں اس کا احساس تک نہیں ہوتا۔ غیر متوازن غذا، ذہنی دباؤ، ورزش کی کمی اور بے احتیاط طرزِ زندگی اس بیماری کے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات ہیں۔ اگر بروقت تشخیص اور احتیاط نہ کی جائے تو ہائپر ٹینشن دل کے امراض، فالج اور گردوں کی خرابی جیسے مہلک مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔دنیا بھر میں ہر سال 17 مئی کو عالمی یومِ ہائپر ٹینشن منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد عوام میں بلند فشارِ خون یعنی ہائی بلڈ پریشر کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے۔ یہ ایک ایسی خاموش بیماری ہے جو بظاہر کسی واضح علامت کے بغیر انسانی جسم کے نہایت اہم اعضاکو شدید نقصان پہنچاتی رہتی ہے۔ہائی بلڈ پریشر کو بجا طور پر خاموش قاتل کہا جاتا ہے۔ یہ بیماری دل، دماغ، گردوں اور خون کی نالیوں کو آہستہ آہستہ متاثر کرتی ہے اور اکثر مریض اُس وقت اسپتال پہنچتے ہیں جب فالج، دل کا دورہ، دل کی کمزوری یا گردوں کی خرابی جیسی سنگین پیچیدگیاں پیدا ہو چکی ہوتی ہیں۔ تشویشناک حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر میں کروڑوں افراد ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہیں لیکن ان میں سے ایک بڑی تعداد کو اس بات کا علم ہی نہیں ہوتا کہ ان کا بلڈ پریشر معمول سے زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بیماری کی بروقت تشخیص اور مسلسل نگرانی انتہائی ضروری ہے۔اس سال عالمی یومِ ہائپر ٹینشن ''Controlling Hypertension Together‘‘ کے عنوان سے منایا گیا، یعنی بلند فشارِ خون پر مل کر قابو پانے کا عزم کیا گیا۔یہ پیغام اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر سے نمٹنا صرف ڈاکٹروں یا اسپتالوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ ایک اجتماعی قومی ذمہ داری ہے، جس میں حکومت، طبی ماہرین، میڈیا، تعلیمی ادارے، خاندان اور خود عوام سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں چند ایسی عادات تیزی سے فروغ پا رہی ہیں جو ہائی بلڈ پریشر کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان میں نمک کا زیادہ استعمال، غیر متوازن غذا، فاسٹ فوڈ، تمباکو نوشی، ذہنی دباؤ، جسمانی سرگرمیوں کی کمی، موٹاپا اور ذیابیطس شامل ہیں۔خاص طور پر نوجوان نسل میں جسمانی سرگرمیوں کی کمی اور سکرین کے استعمال میں اضافہ مستقبل میں دل کی بیماریوں کے خطرات کو مزید بڑھا رہا ہے۔خوش آئند بات یہ ہے کہ ہائی بلڈ پریشر ایک قابلِ کنٹرول بیماری ہے۔ اگر بروقت تشخیص ہو جائے اور مریض احتیاطی تدابیر اختیار کرے تو دل کے دورے، فالج اور گردوں کی خرابی جیسے خطرناک امراض سے بڑی حد تک بچاؤ ممکن ہے۔طبی ماہرین کے مطابق چند سادہ مگر مؤثر اقدامات انتہائی فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں مثال کے طور پر نمک کا استعمال کم کیا جائے، تازہ سبزیاں اور پھل خوراک کا حصہ بنائے جائیں، روزانہ کم از کم 30 منٹ واک یا ورزش کی جائے، وزن کو قابو میں رکھا جائے، سگریٹ نوشی اور تمباکو سے مکمل پرہیز کیا جائے، ذہنی دباؤ کم کرنے کی کوشش کی جائے، بلڈ پریشر کا باقاعدگی سے معائنہ کروایا جائے ۔ چالیس سال کی عمر کے بعد ہر فرد کو اپنا بلڈ پریشر باقاعدگی سے چیک کروانا چاہیے جبکہ ذیابیطس، موٹاپے یا دل کے مریضوں میں یہ احتیاط مزید اہم ہو جاتی ہے۔یہ بھی انتہائی ضروری ہے کہ مریض ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر اپنی ادویات بند نہ کریں۔ اکثر مریض وقتی بہتری کے بعد دوائیں چھوڑ دیتے ہیں، جو بعد میں سنگین نتائج کا سبب بنتا ہے۔عالمی یومِ ہائپر ٹینشن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ صحت اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے، اور صحت مند طرزِ زندگی اختیار کرکے ہم نہ صرف اپنی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ اپنے خاندان اور معاشرے کو بھی بیماریوں کے بوجھ سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ اس امر کی ضرورت ہے کہ ہم سب مل کر اس خاموش قاتل کے خلاف آگاہی کی مہم کو مضبوط کریں، تاکہ ایک صحت مند، توانا اور محفوظ معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔