انور سادات کیسے قتل ہوئے؟

انور سادات کیسے قتل ہوئے؟

اسپیشل فیچر

تحریر : حمیدالدین


سابق صدر مصر انور سادات (1918-1981ء) کے قتل کے بعد امریکہ کے ٹائم میگزین (19 اکتوبر 1981ء) نے اس واقعہ کے بارے میں خصوصی مضمون شائع کیا تھا۔ اس مضمون کا آغاز اس نے نپولین کے ایک قول سے کیا۔ نپولین نے اپنے آخری زمانہ میں سوال کیا:
''کیا تم جانتے ہو کہ دنیا کے بارے میں کیا چیز مجھے سب سے زیادہ تعجب میں ڈالتی ہے؟‘‘ پھر خود ہی جواب دیا: ''کہ وہ چیز طاقت کی یہ بے بسی ہے کہ اس کے ذریعہ کسی چیز کو حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ بالآخر ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ دماغ تلوار کو فتح کر لیتا ہے۔‘‘آخر انسان کا انجام موت اور دو گز زمین ہے ۔
انور سادات نے مصر میں ہر قسم کی طاقت حاصل کر لی تھی مگر 6 اکتوبر 1981ء کو وہ عین اس وقت قتل کر دئیے گئے جب قاہرہ میں وہ اپنی تمام افواج کے ساتھ فتح سوئز (1973ء) کی تقریب میں شریک تھے ۔ انور سادات کی عالیشان نشست گاہ میں آنے والے تمام لوگوں کی جانچ مخصوص آلات کے ذریعہ کی جا رہی تھی۔ حتیٰ کہ پریڈ میں حصہ لینے والے تمام فوجیوں کی رائفلوں کو کارتوس سے خالی کر دیا گیا تھا۔ مگر سادات کی فوج ہی کا ایک آدمی پریڈ سے نکل کر تیزی سے ڈائس کی طرف آیا اور قبل اس کے کہ حفاظتی عملہ اس کو روکتا، وہ سادات کو اپنی گولی کا نشانہ بنا چکا تھا ۔ لیفٹیننٹ خالد استانبولی شدت جذبات کے ساتھ حملہ آور ہوا۔ اس نے اپنے چند ساتھیوں کی مدد سے خفیہ منصوبہ بنایا اور فتح کی پریڈ کے دن منصوبے کے مطابق سادات کو گولی مار دی۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ ذہن اور جذبات تلوار سے زیادہ طاقتور ہیں لیکن تاریخ میں بہت کم ایسا ملتا ہے کہ جذبات کا درست استعمال کیا گیا ہو۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
مریخ کی سطح پر پراسرار سوراخ

مریخ کی سطح پر پراسرار سوراخ

مریخ، جسے صدیوں سے انسان کے تجسس اور سائنسی جستجو کا مرکز سمجھا جاتا ہے، آج بھی اپنے سینے میں بے شمار راز چھپائے ہوئے ہے۔ سرخ سیارے کی سطح پر موجود عجیب و غریب ساختیں سائنسدانوں کو مسلسل حیران کرتی رہی ہیں، مگر حالیہ مشاہدات نے اس تجسس کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ناسا کے ماہرین نے مریخ کی سطح پر ایسے پراسرار سوراخ دریافت کیے ہیں جو بظاہر کسی نامعلوم قوت کے ذریعے بنائے گئے محسوس ہوتے ہیں۔ ان سوراخوں کی اصل اور تشکیل کا سبب تاحال واضح نہیں، جس نے ماہرین فلکیات اور ارضیات کو مزید تحقیق پر مجبور کر دیا ہے۔محققین نے ان عجیب و غریب ساختوں کا مشاہدہ اس وقت کیا جب کیوریوسٹی روور مریخ کے پہاڑ ماؤنٹ شارپ کو کاٹتی ہوئی ایک وسیع و عریض وادی ویلے گرانڈے میں انتہائی سست رفتاری سے آگے بڑھ رہا تھا۔ اگرچہ ایسے سیارے پر چھوٹے سوراخوں کا پایا جانا کوئی غیر معمولی بات نہیں جہاں شہابیوں کے ٹکراؤ نے سطح کو بارہا متاثر کیا ہے، تاہم سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہیں اب تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ مخصوص گڑھے کس طرح وجود میں آئے۔مریخ پر دریافت ہونے والے دیگر سوراخوں کے برعکس، ویلے گرانڈے کی چٹانی سطح پر بکھرے ہوئے یہ سوراخ چوڑے اور نسبتاً کم گہرے ہیں، جبکہ سائنسدانوں کے بقول یہ ماضی میں دیکھی گئی کسی بھی ساخت سے بالکل مختلف ہیں۔ ڈاکٹر مشیل منٹی(Dr Michelle Minitti) جو ایم اے ایچ ایل آئی کی ڈپٹی پرنسپل انویسٹی گیٹر ہیں، نے ایک بلاگ پوسٹ میں لکھا: ''کیوریوسٹی کو مریخ کی سطح پر کام کرتے ہوئے 14 سال گزر چکے ہیں، لیکن مریخ آج بھی ہمیں حیران کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ پراسرار سوراخ ان چٹانوں کے اس مخصوص حصے کو متاثر کرنے والے ارضیاتی عوامل اور ان کے عمل کو سمجھنے کیلئے ایک نئے اور دلچسپ معمے کی صورت میں سامنے آئے ہیں۔زمین اور مریخ دونوں پر چٹانوں کی تہہ میں قدرتی طور پر بننے والے چھوٹے سوراخوں کا دریافت ہونا نسبتاً عام بات ہے۔ یہ سوراخ عموماً اس وقت بنتے ہیں جب کوئی سخت کنکری یا چٹان کا سخت ٹکڑا نسبتاً نرم چٹانوں کے درمیان پھنس جاتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ جب یہ سخت ٹکڑے اردگرد موجود نرم چٹانوں سے موسمیاتی اثرات اور کٹاؤ کے باعث الگ ہو جاتے ہیں تو اپنے پیچھے چھوٹے گڑھے یا نشانات چھوڑ جاتے ہیں۔ تاہم، ناسا کے سائنسدان اس وقت حیران رہ گئے جب انہیں ان پراسرار سوراخوں میں اس معروف قدرتی عمل کی معمول کی کوئی علامت دکھائی نہیں دی۔ ڈاکٹر مشیل منٹی نے لکھا: ''اس ہفتے دریافت ہونے والے گڑھے ماضی میں دیکھی گئی ساختوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ چوڑے اور کم گہرے تھے، جبکہ ان کے اندر ایسے واضح اجسام بھی موجود نہیں تھے جو کبھی ان گڑھوں میں پھنسے ہوئے ہوں‘‘۔اس معمے کا مزید جائزہ لینے کیلئے کیوریوسٹی روور کو ہدایت دی گئی کہ وہ مریخ ہینڈ لینس امیجر کی مدد سے ان گڑھوں کی قریب سے تصاویر لے۔ دوسری جانب ماسٹ کیم (Mastcam) کیمرے نے اردگرد کے علاقے کی متعدد ایسی تصاویر بنائیں جو ایک دوسرے سے جزوی طور پر منسلک تھیں۔ ان تمام تصاویر کو یکجا کرکے سائنسدان ان پراسرار گڑھوں کا مکمل تین جہتی نقشہ تیار کر سکیں گے اور ان کی ساخت، شکل اور گہرائی کی درست پیمائش بھی ممکن ہوگی۔ محققین کو امید ہے کہ مزید تحقیق سے اس بات پر کچھ روشنی پڑ سکے گی کہ ماؤنٹ شارپ کی ڈھلوانوں پر یہ پراسرار گڑھے کس طرح وجود میں آئے اور مختلف مقامات پر بکھرے ہوئے کیوں نظر آتے ہیں۔

 معدنی ذخائر اور مستقبل کی معیشت

معدنی ذخائر اور مستقبل کی معیشت

پاکستان میں توانائی اور ڈیجیٹل انقلاب کا نیا تقاضابلوچستان میں تانبے اور سونے کا ریکوڈک منصوبہ پاکستان کی معدنی معیشت میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ اگست 2025ء میں ایشیائی ترقیاتی بینک نے منصوبے کیلئے مالی معاونت کی منظوری دی۔ رائٹرز کے مطابق بیرک گولڈ کو توقع ہے کہ منصوبے سے 2028ء کے اختتام تک پیداوار شروع ہوسکتی ہے۔ کمپنی نے طویل مدتی قیمتوں کے تخمینوں کی بنیاد پر 37 سال کے دوران تقریبا 74 ارب ڈالر کے فری کیش فلو کا امکان بھی ظاہر کیا ہے۔تاہم بڑے مالی تخمینے خودبخود قومی ترقی کی ضمانت نہیں بنتے۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ معدنی سرگرمیوں کو وسیع صنعتی ترقی میں کیسے تبدیل کیا جائے۔ اگر معدنیات خام یا نیم تیار حالت میں برآمد ہوتی رہیں تو مقامی معیشت کو فوائد محدود رہ سکتے ہیں۔ اس کے برعکس پراسیسنگ، انجینئرنگ، مشینری، نقل و حمل اور تکنیکی خدمات کو فروغ دے کر روزگار اور ہنرمندی کے مواقع پیدا کیے جاسکتے ہیں۔ تانبا بجلی کی ترسیلی لائنوں، ٹرانسفارمرز، موٹروں، برقی گاڑیوں، شمسی توانائی اور ڈیٹا سینٹرز میں استعمال ہوتا ہے۔ اس لیے ڈیجیٹل معیشت کی ترقی بھی معدنی وسائل اور قابلِ اعتماد بجلی کے نظام سے وابستہ ہے۔بجلی کا بحران اور ترقی کی رکاوٹیںپاکستان میں معدنی وسائل کو صنعتی ترقی سے جوڑنے کیلئے توانائی کا شعبہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ پاور ڈویژن کے مطابق مالی سال 2023-24ء میں گردشی قرضہ 2,393 ارب روپے تھا، جو مالی سال 2024-25ء میں کم ہوکر 1,614 ارب روپے رہ گیا۔ اسی عرصے میں بجلی کے ترسیلی اور تقسیم کے نقصانات 18.3 فیصد سے کم ہو کر 17.6 فیصد ہوئے۔ بہتری کے باوجود نظام میں مسائل موجود ہیں۔ کان کنی کے بڑے منصوبوں کو بجلی، پانی، سڑکوں، ریلوے اور بندرگاہوں کی سہولت درکار ہوتی ہے۔ ڈیٹا سینٹرز کیلئے بلا تعطل بجلی اور مستحکم مواصلاتی نظام ضروری ہیں، جبکہ برقی گاڑیوں کی صنعت چارجنگ نیٹ ورک اور قابلِ اعتماد گرڈ کے بغیر ترقی نہیں کرسکتی۔ بنیادی ڈھانچے کی کمزوریاں سرمایہ کاری اور صنعتی وسعت میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ عالمی اقتصادی فورم کے تجزیے کے مطابق بعض ممالک میں معدنی ذخائر کی دریافت سے پیداوار تک 10 سے 20 سال لگ سکتے ہیں۔ ریفائننگ کی سہولتوں کے قیام میں تین سے آٹھ سال، جبکہ صنعتی مینوفیکچرنگ کے منصوبوں میں ایک سے پانچ سال درکار ہوسکتے ہیں۔ پاکستان کو ان ضروریات کیلئے بروقت منصوبہ بندی کرنا ہو گی۔بلوچستان اور مقامی آبادی کے حقوقریکوڈک جیسے منصوبوں کی کامیابی صرف سرمایہ کاری، پیداوار یا برآمدات سے نہیں ناپی جا سکتی۔ بلوچستان کی مقامی آبادی کو ترقی کے ثمرات میں حقیقی حصہ دینا بھی ضروری ہے۔ روزگار، فنی تربیت، کاروباری مواقع، صحت، تعلیم اور صاف پانی کی فراہمی مقامی لوگوں کے اعتماد میں اضافہ کرسکتی ہے۔ معدنی منصوبوں کے حوالے سے مقامی آبادی کی شکایات میں ترقیاتی فوائد سے محرومی اور فیصلہ سازی میں محدود شرکت جیسے معاملات شامل رہے ہیں۔ اس لیے منصوبہ بندی میں مقامی ضروریات کو ترجیح دینا اور کان کنی سے وابستہ علاقوں میں بنیادی سہولتوں کو بہتر بنانا ضروری ہے۔ ماحولیاتی تحفظ بھی بنیادی ترجیح ہونا چاہیے۔ بلوچستان میں پانی کی دستیابی اہم مسئلہ ہے، اس لیے معدنی منصوبوں میں پانی کے استعمال، صنعتی فضلے اور زمین کے تحفظ کیلئے واضح ضابطے ضروری ہیں۔ ان پر عمل درآمد، معلومات کی شفاف فراہمی اور مقامی آبادی سے مشاورت منصوبوں کی پائیداری کیلئے اہم ہیں۔عالمی منڈی اور ہماری حکمتِ عملیمعدنیات کی عالمی سپلائی چین میں تجارتی پابندیوں، برآمدی کنٹرول اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث تبدیلیاں آرہی ہیں۔ عالمی اقتصادی فورم کے مطابق زیر جائزہ 19 معدنیات کی ریفائننگ میں چین کا نمایاں حصہ ہے، جبکہ گیلیم، گریفائٹ، نایاب ارضی عناصر، میگنیشیم، جرمینیم اور کوبالٹ جیسی متعدد معدنیات میں اس کا حصہ75فیصد سے زیادہ ہے۔ پاکستان کیلئے ضروری ہے کہ وہ متوازن عالمی شراکت داری، قابلِ پیشگوئی ضابطوں اور شفاف معاہدوں کو فروغ دے۔ سرمایہ کاروں کو پالیسی میں استحکام درکار ہوتا ہے، جبکہ شہری قدرتی وسائل کے استعمال اور ان سے حاصل ہونے والے فوائد کے بارے میں جواب دہی چاہتے ہیں۔ پاکستان کو معدنی شعبے میں پانچ ترجیحات اپنانا ہوں گی: کان کنی کو توانائی، صنعت، برآمدات اور ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر سے جوڑنے والی قومی حکمتِ عملی، کان کنی، دھات کاری، بجلی اور قابلِ تجدید توانائی میں فنی تعلیم و تربیت، معدنی علاقوں میں ٹرانسپورٹ، بجلی اور صنعتی انفراسٹرکچر کی ترقی، ماحولیاتی اور سماجی تحفظ کے مؤثر نظام کی مضبوطی اور جہاں تجارتی و تکنیکی طور پر ممکن ہو، معدنیات کی مقامی پراسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن کا فروغ۔ پاکستان کے معدنی وسائل مستقبل کی معیشت میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، لیکن ان کی موجودگی بذاتِ خود خوشحالی کی ضمانت نہیں۔ ریکوڈک اور دیگر منصوبوں کے فوائد اسی وقت وسیع قومی ترقی میں تبدیل ہوں گے جب انہیں توانائی، صنعت، ہنرمندی، بنیادی ڈھانچے اور مقامی آبادی کی فلاح سے مربوط کیا جائے گا۔ آنے والے برسوں میں معاشی ترقی کا تعلق صرف معدنی ذخائر کی مقدار سے نہیں بلکہ انہیں صنعتی پیداوار، توانائی اور روزگار میں تبدیل کرنے کی صلاحیت سے ہوگا۔ پاکستان کیلئے اصل امتحان یہی ہے کہ وہ قدرتی وسائل کو محض برآمدی آمدن کا ذریعہ بنانے کے بجائے ایک پائیدار اور وسیع البنیاد صنعتی معیشت کی بنیاد بنا سکے۔

باکو:تاریخ و تہذیب کا سنگم

باکو:تاریخ و تہذیب کا سنگم

بحیرہ کیسپیئن کے مغربی ساحل پر واقع باکو نہ صرف آذربائیجان کا دارالحکومت ہے بلکہ قفقاز کے خطے کا ایک اہم تاریخی، ثقافتی، صنعتی اور تجارتی مرکز بھی ہے۔ جزیرہ نمائے آب شیرون کے کنارے آباد یہ شہر قدیم روایات اور جدید ترقی کا حسین امتزاج پیش کرتا ہے۔ ایک طرف یہاں صدیوں پرانی تاریخی عمارات، قدیم گلیاں اور ثقافتی ورثہ موجود ہے تو دوسری جانب بلند و بالا جدید عمارتیں، صنعتی مراکز اور جدید شہری سہولتیں باکو کو ایک منفرد شناخت عطا کرتی ہیں۔باکو قفقاز کے علاقے میں نو آزاد مسلم ریاست آذربائیجان کا صدر مقام ہے۔ یہ بحیرۂ کیسپیئن کے مغربی ساحل اور جزیرہ نمائے آب شیرون کے کنارے آباد ہے۔ اس کا کل رقبہ 2130 مربع کلو میٹر اور آبادی بیس لاکھ سے زیادہ ہے۔ یہ سوویت حکومت میں ماسکو، سینٹ پیٹرز برگ اور تاشقند کے بعد چوتھا بڑا شہر تھا، جہاں زمین دوز میٹرو کا آغاز کیا گیا۔ باکو بہت تاریخی اور ثقافتی شہر ہے۔ ماضی میں آذرئیجان زیادہ تر ایرانی سلطنت کا حصہ رہا ہے۔ اس لیے اس کے کلچر اور موسیقی میں ایرانی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔ اسے تاریخ میں ایک قدیم شہر کا درجہ حاصل ہے۔ اور الف لیلوی داستانوں میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے۔آذربائیجان کی آمدنی کا زیادہ تر انحصار اس ملک میں ملنے والے تیل کے ذخائر پر ہے۔ اس لیے بہت بڑی تیل کی کمپنیوں کے دفاتر باکو میں قائم ہیں۔ بیسویں صدی کے آغاز میں دُنیا کی پیداوار کا نصف تیل آذربائیجان سے ہی حاصل کیا جاتا تھا۔ باکو کا مطلب ہے تیز ہوائوں کا شہر۔ اِسی لیے سارا سال تقریباً تیز ہوائیں چلتی رہتی ہیں۔ لیکن سردیوں میں ایسا وقت بھی آتا ہے کہ برف کے تند و تیز طوفان اس شہر پر حملہ آور ہوتے ہیں۔مقامی حکومت کی طرف سے ایک دن قبل ٹی وی، ریڈیو اور اخبارات کے ذریعے عوام کو انتباہ کر دیا جاتا ہے کہ فلاں دن بچے اور بوڑھے لوگ اپنے اپنے گھروں میں ہی قیام کریں اور باہر نکلنے کی کوشش نہ کریں۔ ان یخ بستہ ہوائوں کی رفتار 150 کلو میٹر فی گھنٹہ تک بھی پہنچ جاتی ہے۔ جس سے کھڑی فصلوں،درختوں اور مکانوں کی چھتوں کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ سوویت دور میں کمیونسٹ حکومت نے یہودیوں کی عمارات اور جائیداد پر قبضہ کر لیاتھا۔ لیکن سوویت یونین کے حصے بخرے ہونے کے بعد آذربائیجان کے پہلے صدر حیدر علی نے قبضہ کی ہوئی جائیداد یں یہودی کمیونٹی کو واپس کر دی ہیں۔ باکو ایک صنعتی شہر ہونے کے علاوہ بحیرۂ کیسپیئن سے حاصل ہونے والی سوغات کاویار کا بھی بہت بڑا مرکز ہے۔ جس کی ایک کلو گرام کی قیمت 1600 ڈالر سے 5600 ڈالر تک ہوتی ہے۔ باکومیں پرانی تاریخی عمارات کے ساتھ جدید عمارات بھی کثیر تعداد میں نظر آتی ہیں۔ باکو شہر کی کھیلوں کے حوالے سے اہمیت اس بات سے عیاں ہوتی ہے کہ یہ شہر 2016 ء کے اولمپک کی میزبانی کا اُمیدوار تھا۔ لیکن یہ پیشکش او آئی سی کی جانب سے تسلیم نہ کی گئی۔ باکو کی کمپیوٹر کے میدان میں ترقی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے۔ کہ 1991 ء میں اُس نے انٹر نیٹ کی سہولیات حاصل کر لی تھیں۔ اور جب مصنف 1995 ء میں باکو گیا تھا تو اُس وقت بھی اُن کے پاس ڈائیل اپ انٹرنیٹ کی سہولت موجود تھی اور ڈی ایس ایل کی سہولت 2007 ء سے ملک میں عام استعمال کی جا رہی ہے۔ 1967ء سے باکو شہر میں میٹرو کا نظام بھی کامیابی سے رواں دواں ہے۔ مصنف کو بہت گہرائی میں موجود میٹرو میں سفر کرنے کا اتفاق ہوا اور زیر زمین پلیٹ فارم سے سطح زمین پر آنے کیلئے طویل ترین برقی زینے استعمال کرنے پڑے۔

پانچ قسم کے بیہودہ شوہر

پانچ قسم کے بیہودہ شوہر

اگر کسی مرد سے پوچھا جائے پانچ قسم کے بیہودہ شوہر کون سے ہیں تو وہ کہے گا، ''صاحب! عقل کے ناخن لیجئے۔ بھلا شوہر بھی کبھی بیہودہ ہوئے ہیں۔ بیہودگی کی سعادت تو بیویوں کے حصے میں آئی ہے‘‘۔ اور اگر کسی عورت سے یہی سوال کیا جائے تو جواب ملے گا، ''صرف پانچ ہی کیوں پانچ ہزار قسم کے بیہودہ شوہر کیوں نہیں‘‘۔ اس لئے بہتر ہو گا یہ سوال کسی شخص سے نہ کیا جائے بلکہ کسی حیل و حجت کے بغیر فرض کر لیا جائے پانچ قسم کے بیہودہ شوہر ہوتے ہیں اور ہندوستان کے ہر صوبے میں پائے جاتے ہیں۔بیہودہ شوہر وں کی پہلی جماعت ان افراد پر مشتمل ہے جو اپنے کو شوہر کم اور نادر شاہ درانی زیادہ سمجھتے ہیں۔ بیوی کے حقوق اور احساسات کو بے دردی سے تہ تیغ کرنا ان کا شیوہ ہوتا ہے۔ انہیں کے بارے میں ایک شاعرہ نے (نادر شاہ درانی سے ان کا موازنہ کرتے ہوئے) کہا ہے:وہ قتل عام کرتا تھا یہ قتل خاص کرتے ہیںوہ دنیا کو ڈراتا تھا یہ بیوی کو ڈراتے ہیںان کا باوا آدم وہ خاوند تھا جس نے بیوی پر رعب جمانے کیلئے اپنی پالتو بلی کو مار ڈالا تھا اور جس نے ''گربہ کشتن روز اوّل‘‘ ایسے مضحکہ خیز مقولے کو ایجاد کیا تھا۔ میری دانست میں وہ بیوی جو ایسے خاوند سے مرعوب ہو گئی تھی ضرورت سے زیادہ بز دل تھی۔ شاید اسے اختلاج قلب کے دورے پڑتے تھے ورنہ اگر اس میں تھوڑی سی بھی جرآت ہوتی وہ خاوند سے کہتی، ''بلی مار (بروزن چڑی مار) صاحب اگر آپ اتنے ہی بہادر ہیں تو اسی خنجر سے جس سے آپ نے بلی کی گردن اڑا دی شیر کا سر کاٹ لائیے اور ''شیر افگن‘‘ خطاب پائیے۔‘‘دوسری قسم کے بے ہودہ خاوند وہ ہیں جو یہ جانتے ہوئے بھی عورت نہیں بلکہ مرد ''صنف نازک‘‘ ہے۔ اپنی بیوی کو کمزور اور ناقص العقل سمجھتے ہیں۔ بے چاری بیوی انہیں لاکھ سمجھائے کہ عموماً عورتوں کی عمر مردوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ بہت کم عورتیں گنجی ہوتی ہیں یا کم از کم ان کے سر اس حد تک گنجے نہیں ہوتے جتنے مردوں کے ۔ ان کا اعصابی نظام اس قدر مضبوط ہوتا ہے کہ وہ ساس، جیٹھانی، نند اور خاوند کی جلی کٹی سننے کے باوجود میٹھی اور گہری نیند کا لطف لے سکتی ہیں۔ عورتوں کو آئے دن زہر کا پیالہ پینا پڑتا ہے۔ جتنا انہیں سننا اور سہنا پڑتا ہے مردوں کو اس سے نصف بھی سننا یا سہنا پڑے تو وہ اپنا دماغی توازن ہی کھو بیٹھیں۔بے ہودہ شوہروں کی تیسری جماعت میں وہ لوگ شامل ہیں جو اپنی بیویوں کا دوسروں کی بیویوں سے موازنہ کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کی تمام نا کامیوں کی ذمہ داری پھوہڑ اور جاہل بیویوں پر عائد ہوتی ہے۔ وہ کبھی اس حقیقت کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتے کہ اگر وہ زندگی کی دوڑ میں دوسروں سے پیچھے رہ گئے ہیں تو اس کی وجہ ان کی سست روی، کم ہمتی یا محض نالائقی بھی ہو سکتی ہے۔ وہ بھلی چنگی بیویوں کو کوس کر اپنے دل کی بھڑاس نکالتے ہیں اور وہ بھول جاتے ہیں کہ اگر وہ بہتر بیویوں کے شوہر ہوتے تب بھی ان کی یہی حالت ہوتی۔بیہودہ شوہر کی چوتھی صف میں وہ لوگ آتے ہیں جنہیں بیوی کے رشتہ داروں سے خدا واسطے کا بیر ہوتا ہے۔ یہ بھلے مانس کم ظرف سے کم ظرف دوست کے ناز اٹھا سکتے ہیں لیکن سسرالی رشتہ داروں کو خاطر میں نہیں لاتے۔ وہ اپنے ہر فعل سے بیوی کے رشتے داروں کو یقین دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کے گھر یا دل میں ان کیلئے کوئی جگہ نہیں۔ مثال کے طور پر جب وہ ایک پھیکی مسکراہٹ کے ساتھ ان سے پوچھتے ہیں، ''آپ کب تشریف لائے‘‘، تو در اصل ان کا مطلب ہوتا ہے، ''آپ کیوں تشریف لائے۔‘‘ جونہی سسرالی رشتے دار ان کے گھر میں قدم رکھتا ہے انہیں جھٹ کوئی نہایت ضروری کام یاد آ جاتا ہے اور جب کام س فارغ ہو کر گھر لوٹتے ہیں تو اتنے تھکے ہوئے ہوتے ہیں کہ مہمان سے بات تک نہیں کر سکتے۔ اگر بیوی شکایت کرتی ہے کہ وہ مہمان کے ساتھ بے رخی سے پیش آرہے ہیں تو پنجے جھاڑ کر اس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔بے ہودہ شوہروں کی پانچویں جماعت میں ان لوگوں کا شمار کیا جا سکتا ہے جو اس مختصر مضمون کو پڑھ کر سیخ پا ہوں گے یا جن کا رد عمل یہ ہوگا، ''یہ مضمون ضرور کسی زن مرید شوہر نے لکھا ہے۔ شاید وہ بیویوں کا ایجنٹ ہے۔ کمبخت کو شوہروں پر اتنے سنگین الزامات تراشتے شرم بھی نہیں آئی۔ شوہر ہونے کے باوجود شوہروں کی ناک کٹوا دی۔‘‘ ان حضرات کی خدمت میں یہ عرض ہے، آج جبکہ اپنے وطن میں قریب قریب ہر ایک ستون (مذہب، سیاست، تہذیب) گر چکا ہے،اور یہ صرف ایک ستون کے سہارے کھڑا ہے اور وہ ستون ہے بیوی۔ آج بھی اگر خود غرضی کی تیز اور تند آندھی میں ایک چراغ جل رہا ہے تو وہ ہے آپ کی بیوی۔ اس لئے اگر مضمون نگار نے شوہروں کی بجائے بیویوں کی طرف داری کی ہے تو اس نے کسی قسم کی بے ہودگی کا ارتکاب نہیں کیا۔

آج تم یاد بے حساب آئے!طفیل نیازی لوک موسیقی کا بے مثال گلوکار (1926-1990ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!طفیل نیازی لوک موسیقی کا بے مثال گلوکار (1926-1990ء)

٭...طفیل نیازی 1926ء میں ضلع جالندھر کے گاؤں مڈیراں میں پیدا ہوئے تھے۔٭... تقسیمِ ہند کے بعد وہ ملتان آگئے اور پھر لاہور میں اقامت اختیار کی۔٭... آٹھ سال کی عمر سے گانا شروع کیا، موسیقی کی ابتدائی تعلیم اپنے والد حاجی رحیم بخش سے حاصل کی۔٭...ابتداء میں نوٹنکیوں میں حصہ لیا اور سسی پنوں،ہیررانجھااور سوہنی مہینوال جیسے کلاسیکل ڈراموں میں ہیرو کا کردار ادا کیا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی سنگیت پارٹی بنا کر اپنے گائیکی کے کیرئیر کا آغاز کیا۔٭...جب لاہور ٹیلی وژن سینٹر پر نشریات کا آغاز ہوا تو طفیل نیازی وہ پہلے لوک گلوکار تھے جنھیں اسکرین پر دیکھا گیا۔٭...پی ٹی وی کے مشہور پروگرام'' لوک تماشا‘‘ میں بطور موسیقار اور گلوکار بھی نظر آئے۔٭...70ء کی دہائی میں طفیل نیازی لوک ورثہ کے ادارے سے بھی وابستہ رہے اور اسی زمانے میں چند گانوں کیلئے موسیقی بھی ترتیب دی۔٭... فنی خدمات کے اعتراف میں انہیں 1982ء میں صدارتی تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔٭... 1990ء میں ان کا انتقال ہوا، اسلام آباد کے قبرستان میں مدفون ہیں۔ ٭...طفیل نیازی کا نام فن اور طرزِ گائیکی کے ساتھ ان لوک گیتوں کے طفیل آج بھی زندہ ہے۔٭... ان کے دو بیٹے جاوید نیازی اور بابر نیازی بھی اسی فن کی بدولت پاکستان اور دنیا میں پہچانے جاتے ہیں۔مشہور گیت٭لائی بے قدراں نال یاری٭ساڈا چڑیاں دا چنبھا٭میں نئیں جانا کھیڑیاں دے نال٭ دْور جا کے سجناں پیارے یاد آن گے٭سجناں وچھوڑا تیرا جند نہ سہار دی

آج کا دن

آج کا دن

گلیلیو مشن کا اختتام21ستمبر 2003ء کوناسا کے خلائی جہاز ''گلیلیو‘‘ کا مشن اختتام پذیر ہوا۔ گلیلیو نے کئی برس تک مشتری کے گرد گردش کرتے ہوئے اس سیارے اور اس کے چاندوں کے بارے میں قیمتی معلومات اور تصاویر زمین پر بھیجیں۔ مشن مکمل ہونے کے بعد خلائی جہاز کو جان بوجھ کر مشتری کے ماحول میں داخل کر دیا گیا، جہاں شدید دباؤ اور درجہ حرارت کے باعث وہ تباہ ہوگیا۔ تائیوان کا تباہ کن زلزلہ 21 ستمبر 1999ء کو وسطی تائیوان میں 7.7 شدت کا شدید زلزلہ آیا، جس نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ زلزلے کے نتیجے میں تقریباً 2,400 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ ہزاروں افراد زخمی اور بے گھر ہوگئے۔ متعدد عمارتیں، سڑکیں اور دیگر بنیادی ڈھانچے بھی شدید متاثر ہوئے۔ اس قدرتی آفت کو تائیوان کی جدید تاریخ کے تباہ کن ترین زلزلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔روس میں آئینی بحران1993ء میں آج کے روزروسی صدر بورس یلسن نے پارلیمنٹ کو معطل کرکے اور 1978ء کے آئین کو ختم کرتے ہوئے ملک میں ایک سنگین آئینی بحران پیدا کر دیا۔ یلسن کے اس اقدام کے بعد صدر اور پارلیمنٹ کے درمیان اختیارات کی شدید کشمکش شروع ہوگئی۔ سیاسی اختلافات نے شدت اختیار کی اور روس کا سیاسی نظام ایک بڑے بحران سے دوچار ہوگیا۔ آرمینیا کی آزادیماسکو میں ناکام بغاوت کے بعد 21ستمبر 1991ء کوآرمینیا نے سرکاری طور پر اپنی آزاد ریاست کا اعلان کیا۔ لیون ٹیرپیڑوسیان 16 اکتوبر1991ء کو نئے آزاد آرمینیا کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔ لیون آرمینیائی آبادی والے علاقے کاراباغ کے اتحاد کیلئے شروع ہونے والی تحریک کی قیادت کر کے نمایاں ہوئے تھے۔ 26 دسمبر 1991ء کو سوویت یونین کا وجود ختم ہو گیا اور آرمینیا کی آزادی کو تسلیم کر لیا گیا۔نیویارک کی آگنیو یارک کی آگ ایک تباہ کن آگ تھی جو 21 ستمبر 1776ء کی صبح اس کے مغربی کنارے پر لگی۔ یہ واقعہ امریکی انقلابی جنگ کے دوران برطانوی افواج کی جانب سے شہر پر قبضے کے ابتدائی دنوں میں پیش آیا۔ آگ نے شہر کی تقریباً 10 سے 25 فیصد عمارتوں کو تباہ کر دیا، جبکہ شہر کے کچھ غیر متاثرہ حصوں کو لوٹ لیا گیا۔ بہت سے لوگوں کو یقین تھا کہ یہ آگ جان بوجھ کر لگائی گئی۔ اورلینڈو کا قتل21 ستمبر 1976ء کو چلی کے ڈکٹیٹر آگسٹو پنوشے کے ایک سرکردہ مخالف اورلینڈو لیٹیلئیر کو واشنگٹن ڈی سی میں ایک کار بم دھماکے میں قتل کر دیا گیا۔ لیٹیلیئرامریکہ میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ یہ قتل چلی کی خفیہ پولیس کے ایجنٹوں نے کیا۔ قتل آپریشن کنڈور میں کئے گئے بہت سے قتل میں سے ایک تھا۔ امریکی خفیہ ایجنسی کی دستاویزات بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ لیٹیلئیر کو قتل کرنے کا حکم براہ راست آگسٹو پنوشے کی جانب سے دیا گیا تھا۔