پاکستان میں توانائی اور ڈیجیٹل انقلاب کا نیا تقاضابلوچستان میں تانبے اور سونے کا ریکوڈک منصوبہ پاکستان کی معدنی معیشت میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ اگست 2025ء میں ایشیائی ترقیاتی بینک نے منصوبے کیلئے مالی معاونت کی منظوری دی۔ رائٹرز کے مطابق بیرک گولڈ کو توقع ہے کہ منصوبے سے 2028ء کے اختتام تک پیداوار شروع ہوسکتی ہے۔ کمپنی نے طویل مدتی قیمتوں کے تخمینوں کی بنیاد پر 37 سال کے دوران تقریبا 74 ارب ڈالر کے فری کیش فلو کا امکان بھی ظاہر کیا ہے۔تاہم بڑے مالی تخمینے خودبخود قومی ترقی کی ضمانت نہیں بنتے۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ معدنی سرگرمیوں کو وسیع صنعتی ترقی میں کیسے تبدیل کیا جائے۔ اگر معدنیات خام یا نیم تیار حالت میں برآمد ہوتی رہیں تو مقامی معیشت کو فوائد محدود رہ سکتے ہیں۔ اس کے برعکس پراسیسنگ، انجینئرنگ، مشینری، نقل و حمل اور تکنیکی خدمات کو فروغ دے کر روزگار اور ہنرمندی کے مواقع پیدا کیے جاسکتے ہیں۔ تانبا بجلی کی ترسیلی لائنوں، ٹرانسفارمرز، موٹروں، برقی گاڑیوں، شمسی توانائی اور ڈیٹا سینٹرز میں استعمال ہوتا ہے۔ اس لیے ڈیجیٹل معیشت کی ترقی بھی معدنی وسائل اور قابلِ اعتماد بجلی کے نظام سے وابستہ ہے۔بجلی کا بحران اور ترقی کی رکاوٹیںپاکستان میں معدنی وسائل کو صنعتی ترقی سے جوڑنے کیلئے توانائی کا شعبہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ پاور ڈویژن کے مطابق مالی سال 2023-24ء میں گردشی قرضہ 2,393 ارب روپے تھا، جو مالی سال 2024-25ء میں کم ہوکر 1,614 ارب روپے رہ گیا۔ اسی عرصے میں بجلی کے ترسیلی اور تقسیم کے نقصانات 18.3 فیصد سے کم ہو کر 17.6 فیصد ہوئے۔ بہتری کے باوجود نظام میں مسائل موجود ہیں۔ کان کنی کے بڑے منصوبوں کو بجلی، پانی، سڑکوں، ریلوے اور بندرگاہوں کی سہولت درکار ہوتی ہے۔ ڈیٹا سینٹرز کیلئے بلا تعطل بجلی اور مستحکم مواصلاتی نظام ضروری ہیں، جبکہ برقی گاڑیوں کی صنعت چارجنگ نیٹ ورک اور قابلِ اعتماد گرڈ کے بغیر ترقی نہیں کرسکتی۔ بنیادی ڈھانچے کی کمزوریاں سرمایہ کاری اور صنعتی وسعت میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ عالمی اقتصادی فورم کے تجزیے کے مطابق بعض ممالک میں معدنی ذخائر کی دریافت سے پیداوار تک 10 سے 20 سال لگ سکتے ہیں۔ ریفائننگ کی سہولتوں کے قیام میں تین سے آٹھ سال، جبکہ صنعتی مینوفیکچرنگ کے منصوبوں میں ایک سے پانچ سال درکار ہوسکتے ہیں۔ پاکستان کو ان ضروریات کیلئے بروقت منصوبہ بندی کرنا ہو گی۔بلوچستان اور مقامی آبادی کے حقوقریکوڈک جیسے منصوبوں کی کامیابی صرف سرمایہ کاری، پیداوار یا برآمدات سے نہیں ناپی جا سکتی۔ بلوچستان کی مقامی آبادی کو ترقی کے ثمرات میں حقیقی حصہ دینا بھی ضروری ہے۔ روزگار، فنی تربیت، کاروباری مواقع، صحت، تعلیم اور صاف پانی کی فراہمی مقامی لوگوں کے اعتماد میں اضافہ کرسکتی ہے۔ معدنی منصوبوں کے حوالے سے مقامی آبادی کی شکایات میں ترقیاتی فوائد سے محرومی اور فیصلہ سازی میں محدود شرکت جیسے معاملات شامل رہے ہیں۔ اس لیے منصوبہ بندی میں مقامی ضروریات کو ترجیح دینا اور کان کنی سے وابستہ علاقوں میں بنیادی سہولتوں کو بہتر بنانا ضروری ہے۔ ماحولیاتی تحفظ بھی بنیادی ترجیح ہونا چاہیے۔ بلوچستان میں پانی کی دستیابی اہم مسئلہ ہے، اس لیے معدنی منصوبوں میں پانی کے استعمال، صنعتی فضلے اور زمین کے تحفظ کیلئے واضح ضابطے ضروری ہیں۔ ان پر عمل درآمد، معلومات کی شفاف فراہمی اور مقامی آبادی سے مشاورت منصوبوں کی پائیداری کیلئے اہم ہیں۔عالمی منڈی اور ہماری حکمتِ عملیمعدنیات کی عالمی سپلائی چین میں تجارتی پابندیوں، برآمدی کنٹرول اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث تبدیلیاں آرہی ہیں۔ عالمی اقتصادی فورم کے مطابق زیر جائزہ 19 معدنیات کی ریفائننگ میں چین کا نمایاں حصہ ہے، جبکہ گیلیم، گریفائٹ، نایاب ارضی عناصر، میگنیشیم، جرمینیم اور کوبالٹ جیسی متعدد معدنیات میں اس کا حصہ75فیصد سے زیادہ ہے۔ پاکستان کیلئے ضروری ہے کہ وہ متوازن عالمی شراکت داری، قابلِ پیشگوئی ضابطوں اور شفاف معاہدوں کو فروغ دے۔ سرمایہ کاروں کو پالیسی میں استحکام درکار ہوتا ہے، جبکہ شہری قدرتی وسائل کے استعمال اور ان سے حاصل ہونے والے فوائد کے بارے میں جواب دہی چاہتے ہیں۔ پاکستان کو معدنی شعبے میں پانچ ترجیحات اپنانا ہوں گی: کان کنی کو توانائی، صنعت، برآمدات اور ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر سے جوڑنے والی قومی حکمتِ عملی، کان کنی، دھات کاری، بجلی اور قابلِ تجدید توانائی میں فنی تعلیم و تربیت، معدنی علاقوں میں ٹرانسپورٹ، بجلی اور صنعتی انفراسٹرکچر کی ترقی، ماحولیاتی اور سماجی تحفظ کے مؤثر نظام کی مضبوطی اور جہاں تجارتی و تکنیکی طور پر ممکن ہو، معدنیات کی مقامی پراسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن کا فروغ۔ پاکستان کے معدنی وسائل مستقبل کی معیشت میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، لیکن ان کی موجودگی بذاتِ خود خوشحالی کی ضمانت نہیں۔ ریکوڈک اور دیگر منصوبوں کے فوائد اسی وقت وسیع قومی ترقی میں تبدیل ہوں گے جب انہیں توانائی، صنعت، ہنرمندی، بنیادی ڈھانچے اور مقامی آبادی کی فلاح سے مربوط کیا جائے گا۔ آنے والے برسوں میں معاشی ترقی کا تعلق صرف معدنی ذخائر کی مقدار سے نہیں بلکہ انہیں صنعتی پیداوار، توانائی اور روزگار میں تبدیل کرنے کی صلاحیت سے ہوگا۔ پاکستان کیلئے اصل امتحان یہی ہے کہ وہ قدرتی وسائل کو محض برآمدی آمدن کا ذریعہ بنانے کے بجائے ایک پائیدار اور وسیع البنیاد صنعتی معیشت کی بنیاد بنا سکے۔