قلعہ روہتاس ،جنگی طرز تعمیر کا شاہکار

قلعہ روہتاس ،جنگی طرز تعمیر کا شاہکار

اسپیشل فیچر

تحریر : فرخ ، رانا عثمان


شیر شاہ سوری کا قلعہ روہتاس جرنیلی سڑک پر جہلم میں واقع ہے۔ دریائے جہلم بھی یہاں ہی ہے جسے عبور کرنا سکندراعظم کے لئے دوبھر ہو گیا تھا اور ایک دفعہ تو اسے راجہ پورس نے ناکوں چنے چبوا دیئے تھے۔ ''خواص خانی‘‘ دروازے سے قلعے میں داخل ہو اجاتا ہے۔قلعہ میں سب سے حیران کن چیز باؤلی یعنی ''سیڑھیوں والے کنویں‘‘ ہے۔ قریبی فصیل پر بھی چڑھا جاسکتا ہے ۔یہ آپ کو 6 صدیاں پیچھے تاریخ میں لے جاتاہے۔ آج یہ کھنڈرات میں تبدیل ہورہا ہے۔
شیر شاہ سوری کا تعمیر کیا گیا قلعہ 948ھ میں مکمل ہوا۔ جو پوٹھوہار اور کوہستان نمک کی سرزمین کے وسط میں تعمیر کیا گیا ہے۔ جس کے ایک طرف نالہ کس، دوسری طرف نالہ گھان تیسری طرف گہری کھائیاں اور گھنا جنگل ہے۔ شیر شاہ سوری نے یہ قلعہ گکھڑوں کی سرکوبی کے لیے تعمیر کرایا تھا۔ دراصل گکھڑ مغلوں کو کمک اور بروقت امداد دیتے تھے، جو شیر شاہ سوری کو کسی طور گوارا نہیں تھا۔ جب یہ قلعہ کسی حد تک مکمل ہوگیا تو شیر شاہ سوری نے کہا کہ آج میں نے گکھڑوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا ہے۔ اس قلعے کے عین سامنے شیر شاہ سوری کی بنائی ہوئی جرنیلی سڑک گزرتی تھی ، جو اب یہاں سے پانچ کلومیٹر دور جا چکی ہے۔دوسرے قلعوں سے ہٹ کر قلعہ روہتاس کی تعمیر چھوٹی اینٹ کے بجائے دیوہیکل پتھروں سے کی گئی ہے۔ ان بڑے بڑے پتھروں کو بلندیوں پر نصب دیکھ کر عقل حیران رہ جاتی ہے۔ ایک روایت کے مطابق اس قلعے کی تعمیر میں عام مزدوروں کے علاوہ بے شمار بزرگانِ دین نے اپنی جسمانی اور روحانی قوتوں سمیت حصہ لیاتھا۔ ان روایات کو اس امر سے تقویت ملی ہے کہ قلعے کے ہر دروازے کے ساتھ کسی نہ کسی بزرگ کا مقبرہ موجود ہے ، جب کہ قلعے کے اندر بھی جگہ جگہ بزرگوں کے مقابر موجود ہیں، اس کے علاوہ ایک اور روایت ہے کہ یہاں قلعے کی تعمیر سے پہلے ایک بہت بڑا جنگل تھا۔ شیر شاہ سوری کا جب یہاں سے گزر ہوا تو یہاں پر رہنے والے ایک فقیر نے شیر شاہ سوری کو یہاں قلعہ تعمیر کرنے کی ہدایت دی۔
اخراجات:ایک روایت کے مطابق ''ٹوڈرمل ‘‘نے اس قلعے کی تعمیر شروع ہونے والے دن مزدوروں کو فی سلیب (پتھر) ایک سرخ اشرفی بہ طور معاوضہ دینے کا اعلان کیا تھا۔ گو قلعہ کی تعمیر پر اٹھنے والے اخراجات کا درست اندازہ نہیں لگایا جاسکتا تاہم ایک روایت کے مطابق اس پر اس زمانے کے34 لاکھ 25 ہزار روپے خرچ ہوئے۔جس کا تخمینہ آج کے اربوں روپے بنتے ہیں۔ واقعات جہانگیری کے مطابق یہ اخراجات ایک پتھر پر کندہ کیے گئے تھے جو ایک زمانے میں قلعے کے کسی دروازے پر نصب تھا۔ قلعے کی تعمیر میں 3 لاکھ مزدوروں نے بہ یک وقت حصہ لیا اور یہ 4 سال 7 ماہ اور 21 دن میں مکمل ہوا۔
یہ چار سو ایکٹر پر محیط ہے ، جب کہ بعض کتابوں میں اس کا قطر 4 کلومیٹر بیان کیا گیا ہے۔
قلعے کے بارہ دروازے ہیں۔ جن کی تعمیر جنگی حکمت عملی کو مد نظر رکھ کر کی گئی ہے۔ یہ دروازے فن تعمیر کا نادر نمونہ ہیں۔ ان دروازوں میں خواص دروازہ ، موری دروازہ ، شاہ چانن والی دروازہ ، طلاقی دروازہ ، شیشی دروازہ ، لنگر خوانی دروازہ ، بادشاہی دروازہ ، کٹیالی دروازہ ، سوہل دروازہ ، پیپل والا دروازہ ، اور گڈھے والا دروازہ، قلعے کے مختلف حصوں میں اس کے دروازوں کو بے حد اہمیت حاصل تھی۔ اور ہر دروازہ کا اپنا مقصد تھاجبکہ خاص وجہ تسمیہ بھی تھی۔ ہزار خوانی صدر دروازہ تھا۔ طلاقی دروازے سے'' دور شیر شاہی‘‘ میں ہاتھی داخل ہوتے تھے۔ طلاقی دروازے کو منحوس دروازہ سمجھا جاتا تھا۔ شیشی دروازے کو شیشوں اور چمکتی ٹائلوں سے تیار کیا گیا تھا۔ لنگر خوانی لنگر کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ کابلی دروازے کا رخ چونکہ کابل کی طرف تھا اس لیے اس کو کابلی دروازہ کہا جاتا تھا۔سوہل دروازہ زحل کی وجہ سے سوہل کہلایا۔ جبکہ اس کو سہیل دروازہ بھی کہا جاتا تھا کیونکہ حضرت سہیل غازی کا مزار یہیں واقع تھا۔گٹیالی دروازے کا رخ چونکہ گٹیال پتن کی طرف تھا اس لیے اس کو یہی نام دیا گیا۔ اس طرح مختلف دروازوں کے مقاصد مختلف تھے۔قلعہ روہتاس کا سب سے قابلِ دید ، عالی شان اور ناقابل شکست حصہ اس کی فصیل ہے۔ اس پر 68 برج ، 184 برجیاں ، 6881 کنگرے اور 8556 سیڑھیاں ہیں جو فن تعمیر کا نادر نمونہ ہیں۔
یہ بات حیرت انگیز ہے کہ اتنے بڑے قلعے میں محض چند رہائشی عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں۔ قلعے کی عمارتوں میں سے ایک عمارت کو شاہ مسجد کہا جاتا ہے اور چند باؤلیاں تھیں، بعد ازاں ایک حویلی تعمیر کی گئی ، جسے راجا مان سنگھ نے بنوایا تھا۔ محلات کے نہ ہونے کے باعث مغل شہنشاہ اس قلعے میں آکر خیموں میں رہا کرتے تھے۔ یہ قلعہ صرف دفاعی حکمت علمی کے تحت بنایا گیا تھا ، اس لیے شیر شاہ سوری کے بعد بھی برسر اقتدار آنے والوں نے اپنے ٹھہرنے کے لیے یہاں کسی پرتعیش رہائش گاہ کا اہتمام نہیں کیا۔
قلعہ روہتاس دیکھنے والوں کو ایک بے ترتیب سا تعمیری ڈھانچا نظرآتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ شیر شاہ سوری نے اسے تعمیر کرتے ہوئے نقش نگاری اور خوب صورتی کے تصور کو فراموش نہیں کیا۔ قلعے کے دروازے اور بادشاہی مسجد میں کی جانے والی میناکاری اس کا واضح ثبوت ہے۔ ہندوانہ طرز تعمیر کی پہچان قوسین قلعے میں جابجا دکھائی دیتی ہیں۔ جن کی بہترین مثال سوہل گیٹ ہے۔ اسی طرح بھربھرے پتھر اور سنگ مر مر کی سلوں پر کندہ مختلف مذہبی عبارات والے کتبے خطابی کے نادر نمونوں میں شمار ہوتے ہیں۔جو خط نسخ میں تحریر کیے گئے ہیں۔ خواص خوانی دروازے کے اندرونی حصے میں دو سلیں نصب ہیں جن میں سے ایک پر کلمہ شریف اور دوسری پر مختلف قرآنی آیات کندہ ہیں۔ شیشی دروازے پر نصب سلیب پر فارسی میں قلعے کی تعمیر کا سال 948ھ کندہ کیا گیا ہے
موجودہ حالت:قلعے کے اندر مکمل شہر آباد ہے اور ایک ہائی اسکول بھی قائم ہے۔ مقامی لوگوں نے قلعے کے پتھر اکھاڑ اکھاڑ کر مکان بنا لیے ہیں۔ قلعے کے اندر کی زمین کی فروخت منع ہے۔ اس وقت سطح زمین سے اوسط تین سو فٹ بلند ہے۔ اس وقت چند دروازوں ، مغل شہنشاہ اکبر اعظم کے سسر راجا مان سنگھ کے محل اور بڑے پھانسی گھاٹ کے سوا قلعہ کا بیش تر حصہ کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا ہے۔ شیر شاہ سوری کے بیٹے سلیم شاہ نے قلعے کے باہر کی آبادی کو قلعہ کے اندر منتقل ہونے کی اجازت دے دی تھی۔ اس آبادی کی منتقلی کے بعد جو بستی وجود میں آئی اب اسے روہتاس گاؤں کہتے ہیں۔ سلیم شاہ کا خیال تھا کہ آبادی ہونے کے باعث قلعہ موسمی اثرات اور حوادثِ زمانہ سے محفوظ رہے گا ، لیکن ایسا نہ ہو سکا اور آج اپنے وقت کا یہ مضبوط ترین قلعہ بکھری ہوئی اینٹوں کی صورت اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
نیند سے بیماریوں کی پیشگوئی AI پروگرام ’’سلیپ ایف ایم ‘‘ متعارف

نیند سے بیماریوں کی پیشگوئی AI پروگرام ’’سلیپ ایف ایم ‘‘ متعارف

ڈیمینشیا، دل کے دورے، فالج اور کینسر کے خطرے کی پیش گوئی کرنے کی صلاحیتایک خراب رات کی نیند کا مطلب صرف اگلے دن تھکن اور آنکھوں کی سْستی نہیں ہے، بلکہ یہ مستقبل میں آنے والی بعض بیماریوں کے بارے میں بھی اشارے دے سکتی ہے۔ جدید سائنس نے نیند کے رازوں کو سمجھنے میں ایک نیا انقلاب برپا کر دیا ہے۔ ایک ایسا پروگرام تیار کیا گیا ہے جو صرف ایک رات کی نیند کے ڈیٹا کی بنیاد پر آپ کے ڈیمینشیا، دل کے دورے، فالج اور کینسر کے خطرے کی پیش گوئی کر سکتا ہے، وہ بھی تشخیص سے سالوں قبل۔ اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق، یہ ماڈل نیند کے دوران دماغی لہروں، دل کی دھڑکن، سانس اور دیگر حیاتیاتی عوامل کا تجزیہ کر کے مستقبل کی ممکنہ بیماریوں کی نشاندہی کرتا ہے۔سائنسدانوں نے ایک نیا مصنوعی ذہانت (AI) پروگرام تیار کیا ہے جو صرف ایک رات کی نیند کے ڈیٹا کی بنیاد پر ڈیمینشیا، دل کے دورے، فالج اور کینسر کے خطرے کی پیش گوئی کر سکتا ہے ۔اس ماڈل کو ''سلیپ ایف ایم‘‘ (SleepFM) کا نام دیا گیا ہے اور اسے 65ہزار شرکاء کے 5لاکھ 85ہزارگھنٹوں کے نیند کے ڈیٹا پر تربیت دی گئی ہے۔یہ ڈیٹا پولیسومنوگرافی (polysomnography) نامی نیند کے جائزے سے حاصل کیا گیا، جو دماغی لہروں، آنکھوں کی حرکت، پٹھوں کی سرگرمی، دل کی دھڑکن، سانس لینے اور آکسیجن کی سطح کو ریکارڈ کرتا ہے۔اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی ٹیم نے پولیسومنوگرافی کے ڈیٹا کا موازنہ الیکٹرانک ہیلتھ ریکارڈز سے کیا، جن میں سے کچھ 25 سال پر محیط تھے۔انہوں نے دریافت کیا کہ 130 مختلف بیماریوں کا اندازہ مریض کے نیند کے ڈیٹا کی بنیاد پر معقول درستگی کے ساتھ لگایا جا سکتا ہے۔ماڈل کی پیش گوئیاں خاص طور پر کینسر، حمل کے دوران پیچیدگیاں، گردش خون کی بیماریاں اور ذہنی عوارض کیلئے درست ثابت ہوئیں۔مصنف جیمز زو(James Zou) کے مطابق ''سلیپ ایف ایم‘‘ بنیادی طور پر نیند کی زبان سیکھ رہا ہے۔ ہمیں خوشی ہوئی کہ مختلف بیماریوں کیلئے یہ ماڈل معلوماتی اور کارآمد پیش گوئیاں کر سکتا ہے۔یہ پروگرام ہر بیماری کے زمرے کیلئے ایک عددی قدر دیتا ہے جو ''سی انڈکس‘‘ (C-index ) کہلاتا ہے۔ڈاکٹر زو کے مطابق تمام ممکنہ افراد کے جوڑوں کیلئے، ماڈل یہ درجہ بندی کرتا ہے کہ کون کس مرض کا پہلے شکار ہو گا۔''سلیپ ایف ایم‘‘ کو پارکنسن کی بیماری کی پیش گوئی میں 89 فیصد درست، ڈیمینشیا میں 85 فیصد درست اور دل کے دورے میں 81 فیصد درست پایا گیاہے۔ یہ ماڈل چھاتی اور پروسٹیٹ کینسر کی پیش گوئی میں بالترتیب 87 اور 89 فیصد درست نکلا، اور موت کے خطرے کی پیش گوئی میں بھی 84 فیصد درستگی حاصل کی گئی۔اگرچہ موجودہ نیند کے مطالعات میں خصوصی طبی آلات کی ضرورت ہوتی ہے، ٹیم کا کہنا ہے کہ ان کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ مستقبل میں پولیسومنوگرافی ایک طاقتور ابتدائی تشخیص کا آلہ بن سکتی ہے۔ ٹیم نے یہ بھی دریافت کیا کہ اگرچہ دل کی علامات گردش خون کی بیماریوں کیلئے سب سے زیادہ معلوماتی تھیں، دماغی سرگرمی کے سگنلز ذہنی اور عصبی حالات کیلئے بہتر تھے اور سانس کے سگنلز تنفسی عوارض کی پیش گوئی میں زیادہ معاون ثابت ہوئے۔ تاہم، بہترین مجموعی نتائج وہی آئے جو تمام اقسام کے سگنلز کو ملا کر استعمال کیے گئے۔ڈاکٹر زو نے کہاکہ اس تحقیق میں ہماری تکنیکی پیش رفت یہ ہے کہ ہم نے مختلف ڈیٹا ماڈالٹیز ( data modalities )کو ہم آہنگ کرنا سیکھا تاکہ یہ سب ایک زبان سیکھ کر ایک ساتھ کام کر سکیں۔ہم مصنوعی ذہانت (AI) کی پیش گوئیوں کو مزید بہتر بنانے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں، ممکن ہے کہ اس میں ویئر ایبل آلات جیسے ایپل واچ کا ڈیٹا بھی شامل کیا جائے۔جریدے Nature Medicine میں لکھتے ہوئے محققین نے کہا کہ نیند ایک بنیادی حیاتیاتی عمل ہے جس کے جسمانی اور ذہنی صحت پر وسیع اثرات ہیں، تاہم بیماریوں کے ساتھ اس کے پیچیدہ تعلق کو ابھی تک پوری طرح نہیں سمجھا جا سکا۔ایک رات کی نیند کے ڈیٹا سے ''سلیپ ایف ایم‘‘130 مختلف حالتوں کی درست پیش گوئی کرتا ہے، جس کا ''سی انڈکس‘‘ کم از کم 0.75 ہے۔یہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ فاؤنڈیشن ماڈلز ملٹی ماڈل نیند کے ریکارڈنگز سے نیند کی زبان سیکھ سکتے ہیں، جو بڑے پیمانے پر، کم لیبل والے تجزیے اور بیماری کی پیش گوئی کو ممکن بناتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی ٹیکنالوجی نہ صرف بیماریوں کی بروقت شناخت ممکن بناتی ہے بلکہ علاج اور احتیاطی تدابیر کے نئے مواقع بھی فراہم کرتی ہے۔ 

سکندریہ کا روشن مینار، انسانی تاریخ کا عظیم شاہکار

سکندریہ کا روشن مینار، انسانی تاریخ کا عظیم شاہکار

قدیم دنیا کے سات عجائبات میں شمار ہونے والا اسکندریہ کا روشن مینار انسانی ذہانت، فنی مہارت اور سائنسی شعور کی شاندار علامت تھا۔ بحیرہ روم کے ساحل پر قائم یہ عظیم الشان مینار صرف جہاز رانوں کیلئے رہنمائی کا ذریعہ ہی نہیں تھا بلکہ یہ قدیم مصری اور یونانی تہذیب کے علمی و تعمیری کمالات کا بھی عکاس تھا۔ اس کی بلند و بالا ساخت، دور تک نظر آنے والی روشنی اور مضبوط تعمیر نے صدیوں تک اسکندریہ کی بندرگاہ کو دنیا کی مصروف ترین تجارتی گزرگاہوں میں شامل رکھا اور آج بھی یہ مینار تاریخ کے اوراق میں انسانی تخلیقی صلاحیت کا درخشاں استعارہ بن کر جگمگاتا ہے۔جب سکندراعظم نے 331 قبل مسیح میں مصر فتح کیا تو اس نے بحیرہ روم کے ساحل پر نئے شہر کی بنیاد رکھی جسے اس نے اپنے نام سے منسوب کرتے ہوئے سکندریہ کا نام دیا۔ سکندر کی موت کے بعد اس کے جرنیل بطلیموس اوّل نے مصر کا تخت سنبھالا۔ اس نے سکندریہ کو علم، تجارت اور طاقت کا مرکز بنانے کا عزم کیا۔ چونکہ سکندریہ کی بندرگاہ بہت مصروف تھی اور وہاں کا ساحلی علاقہ کافی خطرناک تھا، اس لیے بحری جہازوں کو چٹانوں سے بچانے کیلئے بلند و بالا مینار کی ضرورت محسوس کی گئی۔اس مینار کی تعمیر کا آغاز بطلیموس اوّل کے دور میں ہوا اور یہ اس کے بیٹے بطلیموس دوم کے دور 280 قبل مسیح میں مکمل ہوا۔ اس کی تعمیر کا ذمہ یونانی انجینئر سوسٹراٹس کے سپرد تھا۔ اس عظیم الشان عمارت کی تعمیر میں تقریباً 800 ٹیلنٹ (قدیم یونانی چاندی کی کرنسی) خرچ ہوئے، جو اس دور کے حساب سے ایک خطیر رقم تھی۔قدیم مؤرخین کے مطابق، سکندریہ کا روشن مینار اہرام مصر کے بعد دنیا کی بلند ترین عمارتوں میں سے ایک تھا۔ اس کی اونچائی 330 سے 450 فٹ کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ اس کی تعمیر میں سفید سنگ مرمر اور بڑے پتھروں کا استعمال کیا گیا تھا۔اس مینار کی بناوٹ کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ نچلا حصہ چوکور تھا اور اس میں ملازمین کے رہنے کے کمرے اور سامان رکھنے کے گودام تھے۔ درمیانی حصہ ہشت پہلو تھا جو خوبصورتی کے ساتھ اوپر کی طرف جاتا تھا۔ اوپری حصہ گول تھا جہاں روشنی کا انتظام کیا گیا تھا۔مینار کے بالکل اوپر یونانی دیوتاؤں زیوس اور پوسائڈن کا مجسمہ نصب تھا۔اس مینار کی سب سے خاص بات اس کا روشنی کا نظام تھا۔ دن کے وقت سورج کی روشنی کو منعکس کرنے کیلئے بڑے بڑے کانسی کے آئینے استعمال کیے جاتے تھے، جن کی چمک میلوں دور سے نظر آتی تھی۔ رات کے وقت مینار کی چوٹی پر بہت بڑی آگ جلائی جاتی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی روشنی 30 سے 50 میل کی دوری سے دیکھی جا سکتی تھی، جس کی بدولت جہاز ران بحفاظت بندرگاہ تک پہنچ پاتے تھے۔سکندریہ کا روشن مینار 1600 سال تک قائم رہا۔ اس دوران اس نے کئی جنگیں اور طوفان دیکھے۔ اسے سب سے زیادہ نقصان زلزلوں نے پہنچایا۔ 956ء میں آنے والے ایک زلزلے نے اس کی اوپری ساخت کو نقصان پہنچایا۔ 1303ء اور 1323ء کے شدید زلزلوں نے اسے کھنڈر میں بدل دیا۔ مشہور سیاح ابنِ بطوطہ نے 14ویں صدی میں جب یہاں کا دورہ کیا تو اس نے لکھا کہ مینار اتنی بری حالت میں ہے کہ اب اس کے اندر داخل ہونا ممکن نہیں۔بالآخر 1480ء میں مصر کے سلطان قایتبائی نے اس کے بچے کھچے ملبے اور پتھروں کو استعمال کرتے ہوئے وہیں قلعہ تعمیر کروایا، جسے آج قلعہ قایتبائی کہا جاتا ہے۔سکندریہ کا مینار یونانیوں کے سائنسی اور ریاضیاتی کمال کا ثبوت تھا۔ اس کی تعمیر میں استعمال ہونے والا زاویوں کا علم اور آئینے کا استعمال اس وقت کی بلند پایہ انجینئرنگ کو ظاہر کرتا ہے۔1994ء میں غوطہ خوروں اور ماہر آثار قدیمہ کی ایک ٹیم نے سکندریہ کی بندرگاہ کے قریب سمندر کی تہہ سے اس مینار کے وزنی پتھر اور مجسمے دریافت کیے۔ ان دریافتوں نے مؤرخین کو اس عظیم عمارت کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دی۔سکندریہ کا روشن مینار انسانی عقل اور ضرورت کے تحت تخلیق پانے والا ایسا شاہکار تھا جس نے انسانی جانیں بچائیں بلکہ آنے والی نسلوں کیلئے فن تعمیر کے نئے راستے کھولے۔ اگرچہ آج یہ مینار موجود نہیں لیکن قدیم دنیا کے عجائبات میں اس کا مقام ہمیشہ بلند رہے گا۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان جب علم اور ہنر کو یکجا کرتا ہے تو وہ ایسی چیزیں تخلیق کر سکتا ہے جو صدیوں تک دنیا کو متحیر کرتی رہتی ہیں۔ 

خلا کی حیرت انگیز تصویر!

خلا کی حیرت انگیز تصویر!

ستارے بنانے والی ''فیکٹری‘‘ کا انکشافکائنات کی وسعت اور اس کے اندر جاری تخلیقی عمل انسان کو ہمیشہ حیرت میں مبتلا رکھتے ہیں۔ حال ہی میں سامنے آنے والی ایک شاندار فلکیاتی تصویر نے اس حیرت کو مزید بڑھا دیا ہے، جس میں لارج میجیلانک کلاؤڈ (Magellanic Cloud) کے اندر موجود ایک عظیم الشان ستارہ ساز خطہ نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے۔ ماہرین فلکیات کے مطابق یہ علاقہ دراصل ایک ایسی ''فیکٹری‘‘ کی مانند ہے جہاں نئے ستارے جنم لے رہے ہیں اور کائناتی ارتقا کا عمل پوری آب و تاب کے ساتھ جاری ہے۔ یہ تصویر نہ صرف جدید سائنسی آلات کی ترقی کا ثبوت ہے بلکہ اس حقیقت کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ ہماری کائنات مسلسل تخلیق اور تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے۔ اس دریافت نے فلکیات کے شائقین اور سائنس دانوں دونوں میں گہری دلچسپی پیدا کر دی ہے۔ناسا کی ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ سے حاصل ہونے والی ایک نئی تصویر نے اس ہفتے کائنات کی گہرائیوں میں موجود ایک خوبصورت ''ستارے بنانے والی فیکٹری‘‘ کو آشکار کیا ہے۔ یہ تصویر لارج میجیلانک کلاؤڈ میں موجود خلا کے ایک ایسے حصے پر مرکوز ہے جو زمین سے تقریباً ایک لاکھ ساٹھ ہزار نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس ستارہ ساز فیکٹری سے نکلنے والی روشنی کو زمین تک پہنچنے میں ایک لاکھ ساٹھ ہزار سال لگے، یعنی ہم دراصل اسے ویسا ہی دیکھ رہے ہیں جیسا یہ ایک لاکھ ساٹھ ہزار سال قبل دکھائی دیتا تھا۔زمین پر اس وقت نیئنڈرتھل (Neanderthals) انسان تقریباً چالیس ہزار سال قبل ناپید ہوئے تھے، یعنی اس فیکٹری سے روشنی خارج ہونے کے بعد وہ مزید ایک لاکھ بیس ہزار سال تک ہماری زمین پر موجود رہے۔ یہ پیمانہ اس قدر وسیع اور ناقابلِ تصور ہے کہ خود یہ ستارہ ساز علاقہ بھی تقریباً ایک سو پچاس نوری سال تک پھیلا ہوا ہے۔سرد ہائیڈروجن کی گھنی گیسیں جو ستاروں کا ایندھن سمجھی جاتی ہیں، اس عظیم خطے میں بل کھاتی ہوئی پھیلی نظر آتی ہیں، اور جہاں نئے ستارے جنم لے رہے ہیں وہاں یہ گیسیں گہرے سرخ رنگ میں چمک رہی ہیں۔ کچھ بے قابو ستاروں نے طاقتور ستاروی ہواؤں کے ذریعے اپنے گرد و نواح کو جھنجھوڑ دیا ہے، جس کے نتیجے میں گیس کے اندر عظیم الجثہ بلبلے بن گئے ہیں۔ لارج میجیلانک کلاؤڈ ایک قریبی بونا، بے قاعدہ کہکشاں ہے جو ہماری کہکشاں ملکی وے کی ساتھی کہکشاں ہے اور آہستہ آہستہ اس کے گرد گردش کر رہی ہے۔ خود ملکی وے کی وسعت تقریباً ایک لاکھ نوری سال ہے۔ یہ کہکشاں زمین کے جنوبی نصف کرے میں ڈوراڈو اور مینسا کے ستاروں کے جھرمٹوں میں نظر آتی ہے اور تاریک آسمان میں ننگی آنکھ سے بھی ایک بڑے دھندلے بادل کی صورت دکھائی دیتی ہے۔ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ گزشتہ تین دہائیوں سے زمین کے نچلے مدار میں گردش کر رہا ہے اور اس عرصے کے دوران کائنات کے دور دراز حصوں کو انسان کے سامنے آشکار کرتا رہا ہے۔ یہ منصوبہ ناسا اور یورپی خلائی ادارے (ESA) کا مشترکہ سائنسی منصوبہ ہے۔مزید یہ کہ اس طرح کی فلکیاتی تصاویر سائنس دانوں کو یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہیں کہ ستاروں کی پیدائش کن مراحل سے گزرتی ہے اور کن حالات میں یہ عمل تیز یا سست ہو جاتا ہے۔ گیس اور گردوغبار کے یہی بادل بالآخر نئے شمسی نظاموں کی بنیاد بنتے ہیں، جن میں سیارے، چاند اور دیگر فلکی اجسام وجود میں آ سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان خطوں کا مطالعہ ہمیں اپنے نظامِ شمسی کی ابتدائی تاریخ کو سمجھنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ یوں ہبل کی ہر نئی تصویر نہ صرف بصری حسن رکھتی ہے بلکہ انسانی علم میں ایک قیمتی اضافہ بھی ثابت ہوتی ہے۔ 

طنزومزاح: نجات کا طالب غالب

طنزومزاح: نجات کا طالب غالب

''ہاہاہا۔ میرا پیارامیر مہدی آیا۔ غزلوں کا پشتارہ لایا۔ ارے میاں بیٹھو، شعر و شاعری کا کیا ذکر ہے۔ یہاں تو مکان کی فکر ہے۔ یہ مکان چار روپے مہینے کا ہر چند کہ ڈھب کا نہ تھا لیکن اچھا تھا۔ شریفوں کا محلہ ہے۔ پہلے مالک نے بیچ دیا۔ نیا مالک اسے خالی کرانا چاہتا ہے۔ مدد لگا دی ہے۔ پاڑ باندھ دی ہے۔ اسی دوگز چوڑے صحن میں رات کو سوتا ہوں۔ پاڑ کیا ہے۔ پھانسی کی کٹکر نظر آتی ہے۔ منشی حبیب اللہ ذکا نے ایک کوٹھی کا پتہ دیا تھا جو شہر سے باہر ہے۔ سوار ہوا۔ گیا۔ مکان تو پر فضا تھا۔ احاطہ بھی، چمن اور گل بوٹے بھی۔ لیکن حویلی اور محل سرا الگ الگ نہ تھے۔ ڈیوڑھی بھی نہ تھی۔ بس ایک پھاٹک تھا۔ کمرے اور کوٹھریاں خاصی۔ کمروں کے ساتھ کولکیوں میں چینی مٹی کے چولہے سے بھی بنے تھے۔ معلوم ہوا بیت الخلاء ہیں۔ صاحبان انگریزان پر چڑھ کر بیٹھتے ہیں۔ ایک زنجیر کھینچتے ہی پانی کا تریڑا آتا ہے۔ سب کچھ بہالے جاتا ہے۔عجیب کارخانہ ہے۔ میں نے کرایہ پوچھا اور جھٹ کہا پانچ روپے منظور۔ ایک روپیہ زائد کی کچھ ایسی بات نہیں۔ لیکن مالک مکان کا کارندہ ہنسا اور بولا۔ پانچ روپے نہیں مرزا صاحب! پانچ سوروپے۔ میں نے کہا۔ خریدنا منظورنہیں۔ کرائے پر لینا ہے۔ وہ مردک سر ہلا کر کہنے لگا۔ پانچ سو کرایہ ہے اور دوسال کا پیشگی چاہیے یعنی بارہ ہزار دو اور آن اترو۔ یہاں چتلی قبر کے پاس دھنا سیٹھ نے حویلی ڈھاکر اونچا اونچا ایک مکان بنایا ہے۔ دو دو تین تین کمرے کے حصے ہیں۔ کلیان کو بھیجا تھا۔ خبر لایا کہ وہ پگڑی مانگتے ہیں۔ میں حیران ہوا۔ تمہیں معلوم ہے، میں پگڑی عمامہ کچھ نہیں باندھتا۔ ٹوپی ہے ورنہ ننگے سر۔ لوہارو والوں کے ہاں سے جو پگڑی پارسال ملی تھی، وہ نکلوا کے بھجوادی کہ دیکھ لیں اور اطمینان کرلیں کہ مکان ایک مرد معزز کو مطلوب ہے۔ وہ الٹے پاؤں آیا کہ یہ دستار نہیں چاہیے رقم مانگتے ہیں دس ہزار۔ کرایہ اس کے علاوہ ساٹھ روپے مہینہ۔ بڑے بدمعاملہ لوگ ہیں۔ آخر پگڑی پھر صندوق میں رکھوا دی۔ یہ مالک مکان کل آتا ہے۔ دیکھیے کیا کہتا ہے۔میرن صاحب آئیں۔ شوق سے آئیں۔ لیکن یہ گانے بجانے والوں میں نوکری کا خیال ہمیں پسند نہیں۔ میں نے دیکھا نہیں لیکن معلوم ہوا ہے کہ ایک کوٹھی میں مشینیں لگا کر اس کے سامنے لوگ گاتے ناچتے ہیں۔ شعر پڑھتے ہیں۔ تقریریں کرتے ہیں۔ لوگ اپنے گھروں میں ایک ڈبا سامنے رکھ کر سن لیتے ہیں بلکہ اب تو اور ترقی ہوئی ہے۔ ایک نیا ڈبہ انگریز کاریگروں نے نکالا ہے۔ اس میں ایک گھنڈی ہے، اسے مروڑنے پر سننے کے علاوہ ان ارباب نشاط کی شکلیں بھی گھر بیٹھے دیکھ سکتے ہیں۔ایک خط ان میں سے ایک جگہ سے میرے پاس بھی آیا تھا۔ آدمی تو یہیں کے ہیں لیکن انگریزی میں لکھتے ہیں۔ بہت دنوں رکھا رہا۔ آخر ایک انگریزی خواں سے پڑھوایا۔ مشاعرے کادعوت نامہ تھا۔ کچھ حق الخدمت کا بھی ذکر تھا۔ میں تو گیا نہیں۔ دوبارہ انہوں نے یاد کیا نہیں۔ چونکہ پیسے دیتے ہیں۔ سرکاروں درباروں کی جگہ ان لوگوں نے لے لی ہے۔ جس کو چاہتے ہیں نوازتے ہیں۔ میرن صاحب مجھے جان سے عزیز لیکن ان لوگوں سے سفارش کیا کہہ کر کروں کہ سید زادہ ہے؟ اردو فارسی کا ذوق رکھتا ہے؟ اسے نوکر رکھو۔ اچھا رکھ بھی لیا تو کاپی نویسوں میں رکھیں گے۔ میر مہدی یہ وہ زمانہ نہیں۔ اب تو انگریز کی پوچھ ہے یا پھر سفارش چاہیے۔خط لکھ لیا۔ اب محل سرا میں جاؤں گا۔ ایک روٹی شوربے کے ساتھ کھاؤں گا۔ شہر کا عجب حال ہے۔ باہر نکلنا محال ہے۔ ابھی ہرکارہ آیا تھا۔ خبر لایا کہ ہڑتال ہو رہی ہے۔ ہاٹ بازار سب بند۔ لڑکے جلوس نکال رہے ہیں۔ نعرے لگا رہے ہیں۔ کبھی کبھی لڑکوں اور برقندازوں میں جھڑپ بھی ہوجاتی ہے۔ میر مہدی معلوم نہیں اس شہر میں کیا ہونے والا ہے۔ میرن کو وہیں روک لو۔ میر سرفراز حسین اور میر نصیر الدین کو دعا۔

حکایت سعدیؒ :درویش کی دعا

حکایت سعدیؒ :درویش کی دعا

بیان کیا جاتا ہے کہ زمانے کا ستایا ہوا ایک درویش ایک امیر کے دروازے پر گیا اور صدا لگائی۔ یہ امیربہت کنجوس اور مغرور تھا۔ درویش کی صدا سن کر اس نے اسے خیرات کی جگہ جھڑکیاں دیں۔اس امیر کے ہمسائے میں ایک غریب نابینا شخص رہتا تھا۔ درویش امیر کی ڈیوڑھی سے مایوس لوٹا تو نابینا نے اسے اپنا مہمان بنا لیا اور جو کچھ میسر تھا۔ درویش کے سامنے رکھ دیا۔ مروت کی باتوں سے اس کا دل خوش کیا۔ درویش اس حسن سلوک سے بہت خوش ہوا۔ ہاتھ اٹھا کر اس کی خیرو برکت کیلئے دعا مانگی اور رخصت ہو گیا۔ نابینا شخص نے درویش کے ساتھ یہ اچھا سلوک لالچ کی وجہ سے نہیں بلکہ محبت سے کیا تھا۔ ایک وقت کھانا کھلا دینا کوئی ایسی بڑی بات نہ تھی لیکن خدا کو اس کی یہ نیکی پسند آئی۔ اس کے حق میں درویش کی دعا قبول ہوئی اس کی آنکھوں سے پانی کے چند قطرے ٹپکے اور اس کی اندھی آنکھیں روشن ہو گئیں۔ لوگوں کو یہ بات معلوم ہوئی تو سب حیران ہوئے اور چند دن کے بعد درویش کی کرامت کا سارے شہر میں چرچا ہو گیا۔ یہ خبر اس کنجوس اور مغرور امیر نے سنی تو حسرت سے ہاتھ ملتے ہوئے کہا افسوس !اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ یہ دولت تو میرے لئے تھی جو اسے مل گئی۔ حضرت سعدیؒ نے اس حکایت میں یہ بات بیان کی ہے کہ انسان کو ہر وقت بھلائی پر آمادہ رہنا چاہیے۔ نہ جانے کب اور کس رنگ میں خدا کی رحمت اس کے دروازے پر آجائے۔ اگر اس کا رویہ درست نہ ہوا تو وہ فیض یاب نہ ہو سکے گا۔ ٭...٭...٭ 

آج کا دن

آج کا دن

ہیٹی کا تباہ کن زلزلہ12 جنوری 2010ء کو ہیٹی میں ایک ہولناک زلزلہ آیا جس کی شدت 7ریکارڈ کی گئی۔ یہ زلزلہ ملک کے دارالحکومت پورٹ او پرنس کے گردونواح میں آیا اور بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بنا۔تقریباً 2 لاکھ 30 ہزار افراد ہلاک، لاکھوں زخمی اور بے گھر ہوئے۔ سکولوں اورہسپتالوں سمیت سیکڑوں عمارات کو شدید نقصان پہنچا۔ہیٹی جو پہلے ہی معاشی اور سیاسی مشکلات کا شکار تھا، اس سانحہ کے بعد مزید بحرانوں میں گھر گیا۔یہ زلزلہ دنیا کی تاریخ کے مہلک ترین زلزلوں میں شمار ہوتا ہے۔استنبول دھماکہ2016ء میں ترکی کے شہر استنبول میں تاریخی نیلی مسجد کے قریب ایک خوفناک بم دھماکہ ہوا۔ اس دہشت گرد حملے کے نتیجے میں 10 افراد جاں بحق، 15 افراد شدید زخمی ہوئے۔ دھماکہ ایک مصروف سیاحتی علاقے میں ہوا جہاں بڑی تعداد میں مقامی اور غیر ملکی سیاح موجود تھے۔اس حملے کی عالمی سطح پر شدید مذمت کی گئی اور ترکی میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی۔پاکستان :مردم شماریپاکستان کی دوسری مردم شماری 12 جنوری سے یکم فروری 1961ء تک ہوئی تھی۔ جس کے مطابق پورے ملک کی کل آبادی 9 کروڑ ، 28 لاکھ افراد پر مشتمل تھی۔ اس میں سے موجودہ پاکستان کی آبادی 4 کروڑ، 28 لاکھ، 80 ہزار افراد پر مشتمل تھی جبکہ پانچ کروڑ کی آبادی مشرقی پاکستان کی تھی جہاں شرح خواندگی 21.5 فیصد اور مغربی پاکستان میں 17 فیصد تھی۔انسانی کلوننگ پر پابندییورپی ممالک نے 12 جنوری 1998ء کو انسانی کلوننگ پر پابندی کے معاہدے پر دستخط کیے۔ اس معاہدے کا مقصد انسانی زندگی کے وقار اور اخلاقی اصولوں کی حفاظت کرنا تھا۔ اس معاہدے کے تحت انسانی جنین کی کلوننگ کو مکمل طور پر غیر قانونی قرار دیا گیا۔یہ اقدام اس وقت کیا گیا جب ڈولی نامی بھیڑ کی کامیاب کلوننگ (1996ء) کے بعد انسانی کلوننگ کے خدشات بڑھ گئے تھے۔خلائی مشن کی روانگی1997ء میں آج کے روز ناسا کا خلائی شٹل مشن ''ایس ٹی ایس81‘‘ لانچ کیا گیا۔ یہ مشن ناسا اور روسی خلائی ایجنسی کے درمیان تعاون کی علامت تھا، جس نے بعد میں انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کے قیام کی بنیاد رکھی۔اس مشن کے دوران ''شٹل‘‘ اور ''میر‘‘ کے درمیان تقریباً 3ہزار کلوگرام سامان کا تبادلہ کیا گیا۔یہ مشن 10 دن، 4 گھنٹے، 56 منٹ کے دوارنئے پر محیط تھا۔ مشن میں 5 خلاباز شامل تھے۔مِنی پِٹ حادثہمِنی پِٹ حادثہ ایک کوئلہ کی کان کا المناک سانحہ تھا جو 12 جنوری 1918ء کو ہالمر اینڈ، اسٹافورڈشائر میں پیش آیا۔ اس حادثے میں 155 کان کن جان کی بازی ہار گئے۔ یہ سانحہ فائرڈیمپ کے باعث ہونے والے دھماکے کی وجہ سے رونما ہوا اور اسے نارتھ اسٹافورڈشائر کوئلہ فیلڈ کی تاریخ کا بدترین حادثہ قرار دیا جاتا ہے۔تحقیقات کے باوجود یہ معلوم نہ ہو سکا کہ آتش گیر گیسوں کو بھڑکانے کا اصل سبب کیا تھا۔