جب پاکستان میں بھی آرٹ فلمیں بنائی گئیں، کئی پاکستانی ہدایتکار اس میدان کے شہسوار ٹھہرے

جب پاکستان میں بھی آرٹ فلمیں بنائی گئیں، کئی پاکستانی ہدایتکار اس میدان کے شہسوار ٹھہرے

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالحفیظ ظفر


 

ندیم اور قوی خان کی آرٹ فلم ''مٹی کے پتلے‘‘ کو روس میں ایوارڈ ملا
ریاض شاہد کی ''سسرال‘‘ کوپاکستان کی عظیم فلموں میں شمار کیاجاتا ہے
ایک زمانے میں انڈیا کی آرٹ فلموں کا بڑا چرچا تھا۔80ء اور 90ء کی دہائی میں بالی وڈ میں بے شمار آرٹ فلمیں بنائی گئیں۔ آرٹ فلم کیا ہے؟ اس پر مختلف آراء ہیں۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ آرٹ فلم بہرحال وہ فلم ہے جو حقیقت کے قریب ہوتی ہے اور اس میں کمرشل ازم مفقود ہوتا ہے۔ یعنی یہ وہ فلم ہے جو تجارتی بنیادوں پر نہیں بنائی جاتی۔ انڈیا میں بہت سی آرٹ فلمیں ایسی بھی بنائی گئیں جن کی عالمی سطح پر پذیرائی کی گئی اور ان فلموں کے اداکاروں نے بھی بالی وڈ کے اعلیٰ ترین ایوارڈ حاصل کئے۔ اس دور میں جو آرٹ فلمیں مشہور ہوئیں۔ ان میں ''نشانت، چکرا، پرش، منڈی، پار، سلام بمبے، مرچ مصالحہ، منتھن، گدھ، گمن، کملا، یہ نزدیکیاں،آکردش، ایک پل، اردھ ستیہ، اندھا یدھ، ہولی اور کئی دوسری فلمیں شامل ہیں۔ ویسے تو دلیپ کمار کی فلم ''شکست‘‘ اور ''سگنیہ‘‘ کو بھی آرٹ فلم کا درجہ دیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح امتیابھ بچن کی فلم ''سوداگر‘‘ اور'' میں آزاد ہوں‘‘ بھی شاید آرٹ فلموں کی تعریف پر پورا اترتی ہیں۔ بالی وڈ کے لیجنڈ اداکار دلیپ کمار نے تو آرٹ فلم کی اصطلاح تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیا تھا۔ ان کے خیال میں فلم اچھی ہوتی ہے یا بری۔
آرٹ فلموں کے حوالے سے بالی وڈ کے جن فنکاروں نے شہرت حاصل کی ان میں نصیر الدین شاہ، اوم پوری، شبانہ اعظمی، سمیتا پاٹیل، گلبھشن، گھربیندرا، فاروق شیخ، دپتی نول، گرش کرنارڈ، مارک زبیر اور دیگر کئی فنکار شامل ہیں۔ ڈمپل کپاڈیا نے بھی ''ردالی‘‘ میں زبردست اداکاری کی تھی اور یہ ثابت کیا تھا کہ وہ صرف کمرشل فلموں کی ہی اداکارہ نہیں، بلکہ آرٹ فلموں میں بھی اپنے فن کا لوہا منوانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ بالی وڈ میں بننے والی آرٹ فلموں کے معروف ہدایتکاروں میں ستیہ جیت رے، سعید مرزا، گوند نہلانی اور شیام بینگل کا نام لیا جاتا ہے۔ یہ لوگ بہت ذہین اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔
کیا پاکستانی فلمی صنعت نے بھی آرٹ فلمیں بنائیں؟ اس کا جواب اثبات میں ہے۔ یہ فلمیں اس زمانے میں بنائی گئیں جب کمرشل اور آرٹ فلموں کی اصطلاحیں اتنی عام نہیں تھیں آرٹ فلم کی تعریف جو بعد میں کی گئی۔ اسے مدنظر رکھتے ہوئے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ واقعی یہاں بھی آرٹ فلمیں بنائی گئیں۔ ان فلموں میں جاگو ہوا سویر، مٹی کے پتلے، بدنام، نیلا پربت، دھوپ اور سائے اور سسرال شامل ہیں۔ خلیل قیصر کی فلم 'دی کلرک‘‘ کو بھی اس صف میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ''سسرال‘‘ کے علاوہ باقی کوئی فلم بھی باکس آفس پر اتنی کامیاب نہ ہو سکی لیکن فلم کے بڑے بڑے ناقدین نے ان فلموں کے موضوعات کے حوالے سے انہیں بہت سراہا۔''مٹی کے پتلے‘‘ میں ندیم اور قوی خان جیسے فنکار شامل تھے اور اس فلم کو روس میں ایوارڈ ملا۔ یہ فلم مزدوروں کے حقوق کے حوالے سے بنائی گئی تھی۔ ''نیلا پربت‘‘ معروف صحافی اور دانشور احمد بشیر کی تخلیق تھی جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ اس وقت کے فلم بینوں کو سمجھ نہیں آئی تھی۔ یعنی وہ اس فلم کے اچھوتے موضوع کا صحیح معنوں میں ادراک ہی نہ کر سکے۔ اس فلم میں نیلو، محمد علی اور آغا طالش نے اہم کردار ادا کئے تھے۔ ''سسرال‘‘ کو بلاشبہ پاکستان کی عظیم ترین فلموں میں سے ایک کہا جاتا ہے۔ یہ ریاض شاہد کی ذہانت کا کمال تھا کہ ایسے انوکھے موضوع پر فلم بنائی کہ لوگ عش عش کر اٹھے۔ اس فلم کے گیت منیر نیازی نے لکھے اور موسیقی حسن لطیف نے دی۔ بھارت کے مشہور اداکار بلراج ساہنی نے ''سسرال‘‘ کو پاکستان کی پہلی آرٹ فلم قرار دیا تھا۔ اگرچہ پاکستان میں آرٹ فلمیں بہت کم بنائی گئیں لیکن اپنے دور کے حوالے سے ان کی اہمیت آج بھی مسلمہ ہے۔
آج کی نوجوان نسل کو یہ علم ہونا چاہیے کہ پاکستانی فلمی صنعت میں بھی بڑے بڑے ہدایتکار، سکرپٹ، رائٹر، اداکار اور ہدایتکار موجود تھے۔ جنہوں نے اپنی لیاقت اور صلاحیتوں کا ایسا مظاہرہ کیا کہ آج بھی ان کا نام احترام سے لیا جاتا ہے۔ ہدایتکار اقبال شہزاد کو کیسے بھلایا جا سکتا ہے جنہوں نے سعادت حسن منٹو کے افسانے''جھمکے‘‘ کو سلولائیڈ کے فتے پر منتقل کیا اور ''بدنام‘‘ جیسی یادگار فلم تخلیق کی۔ جن لوگوں کو یہ فلم ابھی تک یاد ہے انہیں علائو الدین کا یہ مشہور مکالمہ بھی یقیناً یاد ہوگا''کہاں سے آئے ہیں یہ جھمکے، کون لایا ہے یہ جھمکے‘‘؟ اب تو خیر سب کچھ قصہ پارینہ بن چکا ہے لیکن اس بات سے کون اختلاف کر سکتا ہے کہ بہترین کام ہمیشہ زندہ رہتا ہے اور اسے سرانجام دینے والوں کا نام بھی تاریخ کے صفحات سے مٹایا نہیں جا سکتا۔
(عبدالحفیظ ظفر سینئر صحافی ہیں اورروزنامہ ''دنیا‘‘ سے طویل عرصہ سے وابستہ ہیں)
فرشتوں کے لکھے پہ پکڑے جانے والے 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
بازو پر کان نصب کروا نے والا پہلا انسان

بازو پر کان نصب کروا نے والا پہلا انسان

ایک آسٹریلوی فنکار کی جانب سے اپنے بازو پر سرجری کے ذریعے ایک اضافی کان نصب کروانے کا انوکھا اور چونکا دینے والا اقدام دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ یہ غیرمعمولی تجربہ جہاں فن اور سائنس کے امتزاج کی ایک نئی مثال پیش کرتا ہے، وہیں انسانی جسم، شناخت اور تخلیقی آزادی سے متعلق اہم سوالات کو بھی جنم دیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کے تجربات جدید بایو آرٹ کی ایک شکل ہیں، جن کا مقصد روایتی تصورات کو چیلنج کرنا اور انسانی حدود کو نئے زاویوں سے دیکھنا ہے۔اگر آپ کو کبھی آسٹریلوی باشندے Stelarc سے مدد کی ضرورت ہو، چاہے وہ ہاتھ ہو یا کان تو وہ ایک ہی عضو سے یہ کام کر سکتا ہے۔ جی ہاں، اس کا تیسرا کان واقعی آپ کو ''سُن‘‘ بھی سکتا ہے۔ یہ بالکل درست ہے2007ء میں اس پرفارمنس آرٹسٹ کی خبر محض تفریحی خبروں تک محدود نہ رہی بلکہ سائنسی جرائد تک جا پہنچی، جب اس نے کامیابی کے ساتھ اپنے بازو میں ایک کان نصب کروا کر دنیا کا پہلا ایسا انسان ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔یہ پرجوش منصوبہ ایک دہائی کے دوران تیار ہوا، کیونکہ قبرص میں پیدا ہونے والے اس تخلیقی فنکار نے روبوٹک دور میں انسانی جسم کے بارے میں اپنے کام کو مزید وسعت دینے کی کوشش کی۔ 1972 میں جب اس نے اپنا نام بدل کر Stelarc رکھا، تب سے وہ اپنے آپ کو فن، جسمانی حرکیات اور ڈیزائن کے باہمی تعلق کے مطالعے کیلئے وقف کیے ہوئے ہے۔ ایک ایسا شعبہ جسے ''بائیو آرٹ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس کے دیگر کاموں میں ایک روبوٹک تیسرا بازو، انٹرنیٹ کے ذریعے کنٹرول ہونے والا ایک ایکسو اسکیلیٹن، اور یہاں تک کہ ایک نگلا جا سکنے والا ''معدے کا مجسمہ‘‘ بھی شامل ہے، جسے اس نے اپنے اندرونی اعضا کی تصاویر حاصل کرنے کیلئے ہضم کیا۔2016ء میں انٹرویو دیتے ہوئے اس نے بتایا کہ اس کے فن کے پیچھے بنیادی تحریک یہ ہے کہ انسان اپنی روزمرہ جسمانی سرگرمیوں اور خودکار افعال جیسے تجربات پر سوال اٹھائے، خاص طور پر ایک ایسے دور میں جہاں تقریباً ہر چیز قابلِ پروگرام ہو چکی ہے۔اس نے کہا کہ مجھے احساس ہوا کہ ہم صرف برقی مقناطیسی طیف (Electromagnetic Spectrum)کا ایک محدود حصہ ہی دیکھ سکتے ہیں، جو بصری سطح ہے۔ چمگادڑ اور ڈولفن الٹراساؤنڈ کے ذریعے راستہ تلاش کرتے ہیں، کتے صرف سیاہ و سفید دیکھتے ہیں اور سانپ انفراریڈ شعاعیں محسوس کرتے ہیں۔ میں نے سوچا کہ اگر میں جسم کی ساخت بدل دوں تو شاید میں اپنی دنیا کو سمجھنے کے انداز کو بھی بدل سکوں گا۔ اس کے باوجود ''Ear On Arm‘‘بلاشبہ اس کا سب سے مشہور فن پارہ بن گیا، کیونکہ اس کیلئے ایسے غیر معمولی اور پہلے کبھی نہ کیے گئے جراحی (سرجیکل) طریقوں کی ضرورت تھی جنہوں نے اس کے جسم کی ساخت کو مستقل طور پر بدل دیا۔Stelarc نے اس عمل کیلئے تین پلاسٹک سرجنز کی خدمات حاصل کیں، اور یہ پورا منصوبہ مکمل ہونے میں 12 سال کا طویل عرصہ لگا۔سب سے پہلے ٹیم نے اس کے سر کے ایک جانب ایک اضافی کان کی تصویر سازی (امیجنگ) کی، جو بعد میں نئے مصنوعی (prosthetic) امپلانٹ کیلئے ماڈل کے طور پر استعمال ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے اسٹیلرک کے زندہ خلیات سے ایک کان تیار کیا، جو مکمل ڈیزائن کیلئے ایک نمونہ (replica) کے طور پر استعمال ہوا۔ آخر میں ''Ear On Arm‘‘ کے مرحلے کا آغاز کیا گیا، جس دوران اس کے بازو پر ایک مکمل سائز کا کان جراحی کے ذریعے تشکیل دیا گیا، جس کا مقصد آواز کو منتقل کرنا تھا۔یہ کان ایک گردے کی شکل کے سلیکون امپلانٹ میں نمکین محلول (Saline Solution) انجیکٹ کر کے بنایا گیا، جس سے اضافی جلد (skin) پیدا ہوئی جسے سرجنز نے مطلوبہ شکل دینے کیلئے تراشا اور ڈھالا۔ پہلی سرجری سے صحت یاب ہونے کے بعد Stelarc کے منصوبے کا اگلا مرحلہ ایک ایسا کان تیار کرنا تھا جو واقعی سن بھی سکتا ہو۔ اس مقصد کیلئے امپلانٹ کے اندر ایک چھوٹا سا مائیکروفون نصب کیا گیا۔اگرچہ اس کا بازو مکمل طور پر پٹیوں میں لپٹا ہوا تھا اور سرجن بھی ماسک کے پیچھے سے گفتگو کر رہے تھے، لیکن فنکار اس بات پر بے حد خوش ہوا کہ یہ تجربہ کامیاب رہا۔ اسے واضح طور پر اپنے سرجن کی آواز اس وائرلیس ٹرانسمیٹر کے ذریعے سنائی دے رہی تھی جو کان کے اندر نصب کیا گیا تھا۔بدقسمتی سے انفیکشن کی وجہ سے وہ تار (wire) نکالنا پڑا، تاہم Stelarc نے مستقبل میں دوبارہ آپریشن تھیٹر میں جانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے تاکہ ایک بار پھر ایک منی ایچر مائیکروفون نصب کیا جا سکے، جو انٹرنیٹ سے وائرلیس کنکشن قائم کرنے کے قابل ہو۔ اس طرح یہ کان ایک ایسے ریموٹ سننے والے آلے میں تبدیل ہو جائے گا جسے مختلف مقامات پر موجود لوگ استعمال کر سکیں گے۔انہوں نے اپنے ''Ear On Arm‘‘ پورٹ فولیو میں کہا کہ مثال کے طور پر، وینس میں موجود کوئی شخص میرے کان کے ذریعے وہ آوازیں سن سکتا ہے جو میں میلبورن میں سن رہا ہوں۔ یہ منصوبہ ایک جسمانی ساخت کو دوبارہ تخلیق کرنے، اسے نئی جگہ منتقل کرنے اور پھر اسے مختلف افعال کیلئے دوبارہ وائر کرنے کے بارے میں ہے۔ یہ کام اس خواہش کی عکاسی کرتا ہے کہ ہم اپنی ارتقائی جسمانی ساخت کو توڑ کر دیکھیں اور مائیکرو الیکٹرانکس کو جسم کے اندر ضم کریں۔ انسان نے نرم اندرونی اعضا اس لیے ارتقا کے ذریعے حاصل کیے تاکہ وہ دنیا سے بہتر طور پر تعامل کر سکے، اور اب ہم اضافی اور بیرونی اعضا بنا کر خود کو اس تکنیکی اور میڈیا سے بھرپور دور کے مطابق بہتر بنا سکتے ہیں جس میں ہم رہ رہے ہیں۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس منصوبے کا ایک متبادل مقصد یہ ہے کہ ان کا کان ایک بلیوٹوتھ سسٹم کے طور پر کام کرے، جس میں ریسیور اور اسپیکر ان کے منہ کے اندر نصب ہوں۔ اسٹیلرک کے مطابق اگر آپ مجھے اپنے موبائل فون پر کال کریں تو میں آپ سے اپنے کان کے ذریعے بات کر سکتا ہوں، لیکن میں آپ کی آواز اپنے دماغ کے اندر سنوں گا۔ اگر میں اپنا منہ بند رکھوں تو صرف میں ہی آپ کی آواز سن سکوں گا۔اگر کوئی شخص میرے قریب ہو اور میں اپنا منہ کھول دوں تو وہ شخص بھی اس دوسرے فرد کی آواز کو میرے جسم کے ذریعے آتے ہوئے سن سکے گا، جیسے وہ کسی اور جسم کی صوتی موجودگی (acoustical presence) ہو جو کہیں اور موجود ہے۔اور جیسے جیسے Stelarc اپنے فن کے ذریعے انسانی جسم کی حدود کو مزید آگے بڑھا رہے ہیں، ہم سب یہ دیکھنے کے لیے متجسس رہتے ہیں کہ انسانی جسم اور ہماری ترقی کرتی ہوئی ٹیکنالوجی مل کر آگے کیا تخلیق کر سکتے ہیں۔لہٰذا اس دلچسپ اور حیرت انگیز فنکار اور اس کی ذہین سرجیکل ٹیم کو مبارکباد-آپ سب واقعی ‘‘سرکاری طور پر حیرت انگیز'' ہیں!

World Malaria Day:ملیریا سے بچاؤ!

World Malaria Day:ملیریا سے بچاؤ!

شعور، احتیاط اور اجتماعی ذمہ داریپاکستان سمیت دنیا بھر میں ہر سال 25اپریل کو اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ملیریا سے بچاؤ کا عالمی دن منایا جاتا ہے، جس کا مقصد اس خطرناک مرض کے خلاف عالمی سطح پر آگاہی پیدا کرنا اور اس کے خاتمے کی کوششوں کو فروغ دینا ہے۔ اس دن کے موقع پر مختلف تقاریب، سیمینارز اور آگاہی مہمات کا انعقاد کیا جاتا ہے تاکہ عوام کو ملیریا کی وجوہات، علامات اور اس سے بچاؤ کے طریقوں سے روشناس کرایا جا سکے۔ملیریا ایک مہلک متعدی بیماری ہے جو ہر سال دنیا بھر میں کروڑوں افراد کو متاثر کرتی ہے۔ اندازوں کے مطابق دنیا میں سالانہ 20 کروڑ سے زائد افراد اس مرض کا شکار ہوتے ہیں جبکہ تقریباً 4 لاکھ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، جن میں بڑی تعداد کم عمر بچوں کی ہوتی ہے۔ پاکستان میں بھی یہ بیماری ایک سنگین مسئلہ ہے جہاں ہر سال 10 لاکھ سے زائد کیسز رپورٹ ہوتے ہیں، جس کے باعث ملک کو ملیریا کے حوالے سے حساس ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔یہ بیماری ایک مخصوص مادہ مچھر، اینوفیلس، کے ذریعے پھیلتی ہے۔ جب یہ مچھر کسی متاثرہ شخص کو کاٹتا ہے تو پلازموڈیم نامی جراثیم اس کے جسم میں داخل ہو جاتا ہے، جو بعد ازاں دوسرے صحت مند افراد تک منتقل ہو کر بیماری پھیلانے کا سبب بنتا ہے۔ یہ جراثیم انسانی جگر اور خون کے سرخ خلیات پر حملہ آور ہو کر جسم کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ اگر بروقت تشخیص اور علاج نہ کیا جائے تو ملیریا جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ملیریا کی علامات میں تیز بخار، سردی لگنا، کپکپی، پسینہ آنا، سر درد، جسم اور جوڑوں میں درد، متلی اور قے شامل ہیں۔ بعض اوقات یہ علامات فوری ظاہر ہو جاتی ہیں جبکہ کچھ کیسز میں ان کے ظاہر ہونے میں دو سے تین دن لگ سکتے ہیں۔ ان علامات کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کرنا خطرناک ہو سکتا ہے، اس لیے فوری طور پر مستند ڈاکٹر سے رجوع کرنا انتہائی ضروری ہے۔اگرچہ ملیریا ایک خطرناک بیماری ہے، لیکن احتیاطی تدابیر اختیار کر کے اس سے بچاؤ ممکن ہے۔ سب سے اہم بات صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا ہے کیونکہ مچھر گندے اور ٹھہرے ہوئے پانی میں افزائش پاتے ہیں۔ گھروں اور اردگرد کے ماحول میں پانی جمع نہ ہونے دیا جائے، پانی کے برتن ڈھانپ کر رکھے جائیں اور نکاسی آب کا مناسب انتظام کیا جائے۔اس کے علاوہ گھروں میں مچھر مار اسپرے کا استعمال، دروازوں اور کھڑکیوں پر جالیاں لگانا، مچھر دانی کا استعمال اور جسم کو ڈھانپ کر رکھنا بھی مؤثر حفاظتی اقدامات ہیں۔ خاص طور پر صبح اور شام کے اوقات میں احتیاط برتنا ضروری ہے کیونکہ یہ مچھر اسی وقت زیادہ سرگرم ہوتے ہیں۔ مچھر بھگانے والے لوشن کا استعمال اور ماحول کو صاف رکھنا بھی اس مرض سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔طبی ماہرین کے مطابق ملیریا سے سب سے زیادہ خطرہ بچوں، حاملہ خواتین اور کمزور قوتِ مدافعت رکھنے والے افراد کو ہوتا ہے، اس لیے ان کا خصوصی خیال رکھنا ضروری ہے۔

آج تم یاد بے حساب آئے!مدیحہ گوہر:ایک عہد ساز فنکارہ (2018-1956ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!مدیحہ گوہر:ایک عہد ساز فنکارہ (2018-1956ء)

٭...21ستمبر 1956ء کو فوجی افسر سید علی گوہر کے گھر کراچی میں پیدا ہوئیں۔٭... مدیحہ تین سال کی تھیں والد کا تبادلہ ہونے کے سبب پورے گھرانے کو لاہور شفٹ ہونا پڑا۔ یہی شہر بعد ازاں ان کا مستقل ٹھکانہ بنا۔ ٭...کانونٹ جیسس اینڈ میری لاہور سے ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے بی اے کنیئرڈ کالج سے کیا۔ یہاں وہ نجم الدین ڈرامیٹک سوسائٹی کی صدر رہیں۔٭... مدیحہ نے 17سال کی عمر میں انور سجاد کے لکھے ہوئے کھیل ''سورج کو ذرا دیکھ‘‘ میں قوی خان کی منگیتر کا کردار کیا۔٭...1975ء میں کنیئرڈ کالج سے بی اے کرنے کے بعد 1979ء میں گورنمنٹ کالج سے انگریزی میں ایم اے کیا۔ وہ یہاں ڈرامیٹک سوسائٹی کی سیکرٹری رہیں۔ ایم اے کرنے کے بعد انہوں نے کچھ عرصہ بطور لیکچرر پڑھایا۔٭...بطور سوشل ورکرانہوں نے ویمن ایکشن فورم کے پلیٹ فارم سے حنا جیلانی، عاصمہ جہانگیر، روبینہ سہگل سمیت دیگر کے ہمراہ صنفی امتیاز کیخلاف پوری توانائی سے آواز بلند کی۔٭... ضیاء دور میں دو بار جیل کی ہوا کھانا پڑی اور لیکچرر شپ سے بھی ہاتھ دھونا پڑے،اور ٹیلی ویژن پر ان کے ڈراموں پر پابندی لگا دی گئی تھی٭...1983ء میں انہوں نے اجوکا تھیٹر قائم کیا، اس کا مقصد سماجی ا ور معاشرتی ناہمواریوں اور ناانصافیوں کو اجاگر کرنا تھا۔٭...1985ء میں لندن یونیورسٹی کے رائل ہالوے کالج سے ''برصغیر کے تھیٹر پر مغربی اثرات‘‘ کے موضوع پر ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ ٭...1987ء میں انہوں نے شاہد محمود ندیم سے شادی کی۔٭... اجوکا تھیٹر کے ذریعے بھارت سمیت نیپال، لندن اور لاس اینجلس میں بھی ڈرامے سٹیج کئے۔٭...پاکستان میں تھیٹر کے فروغ کیلئے متعدد ورکشاپس منعقد کیں۔٭...تھیٹر کے موضوع پر برطانیہ، امریکہ، آسٹریلیا، ہانگ کانگ، فلپائن، تھائی لینڈ، بھارت، بنگلہ دیش اور نیپال میں بین الاقوامی کانفرنسوں اور ورکشاپس میں شرکت کی اور لیکچر دیئے۔اداکارہ فریال گوہر ،مدیحہ گوہر کی چھوٹی بہن ہیں۔ ٭...ہالینڈ کے شاہی ایوارڈ ''رائل پرنس ایوارڈ‘‘ سمیت سینکڑوں نیشنل اور انٹرنیشنل ایوارڈ حاصل کئے۔٭...ادب اور ثقافت کے میدان میں اعلیٰ کارکردگی کی بنیاد پر حکومت پاکستان نے 2003ء میں انہیں ''تمغۂ حسن کارکردگی‘‘ سے نوازا۔٭...2018ء میں معدے کے کینسر کے باعث ان کا انتقال 62برس کی عمر میں ہوا۔

آج کا دن

آج کا دن

شمسی توانائی کا آغاز1954 میں ''بیل ٹیلی فون لیبارٹریز‘‘ نے دنیا کے پہلے قابلِ عمل شمسی سیل کا عوامی مظاہرہ پیش کیا۔ یہ ایک سائنسی سنگِ میل تھا جس نے سورج کی روشنی کو براہِ راست بجلی میں تبدیل کرنے کی عملی راہ ہموار کی۔ اس ایجاد نے توانائی کے متبادل ذرائع کی دنیا میں نئی امیدیں پیدا کیں اور مستقبل میں شمسی توانائی کے وسیع استعمال کی بنیاد رکھی۔ ابتدائی طور پر اس سیل کی کارکردگی محدود تھی، تاہم وقت کے ساتھ اس ٹیکنالوجی میں بہتری آئی اور آج یہ صاف اور قابلِ تجدید توانائی کے اہم ترین ذرائع میں شمار ہوتی ہے۔نیو یارک: گاڑیوں کی رجسٹریشن1901 ء میں آج کے دن امریکی ریاست نیویارک نے اپنے رہائشیوں سے موٹر گاڑیوں کو رجسٹر ڈ کرنے کا مطالبہ کیا۔ نیویارک امریکہ کی پہلی ریاست تھی جس میں شہریوں کو یہ حکم جاری کیا گیا۔ مختلف اداروں کی جانب سے گاڑیاں رجسٹرڈ کرنے والوں کے لئے نمبر ڈسپلے کے لیے مخصوص لائسنس پلیٹیں فراہم کی گئیں۔ ان پلیٹوں میں 1903 ء تک رجسٹریشن کے ابتدائیہ اور اس کے بعد کے نمبر موجود تھے۔ ریاستی ادارے نے باقائدہ طور پر1910ء میں پلیٹیں جاری کرنا شروع کیں۔ پلیٹیں فی الحال نیویارک اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ آف موٹر وہیکلز کی طرف سے جاری کی جاتی ہیں۔ موٹرسائیکلوں اور ٹریلرز کے علاوہ تمام گاڑیوں پر آگے اور پیچھے کی پلیٹیں ضروری ہیں۔گیلی پولی کی جنگگیلی پولی مہم پہلی جنگ عظیم میں ایک فوجی مہم تھی جو 17 فروری 1915 سے شروع ہوئی لیکن باقائدہ جنگ کا آغاز 25اپریل کو ہوا۔یہ لڑائی 9 جنوری 1916ء تک جارہی ۔اس جنگ کا مقام جزیرہ نما گیلی پولی تھا۔اس جنگ کا مقصد ترک آبنائے کا کنٹرول سنبھال کر سلطنت عثمانیہ کو کمزور کرنا تھا جو اس وقت کی مرکزی طاقتوں میں سے ایک تھی۔ گیلی پولی مہم کے نتیجے میں سلطنت عثمانیہ کو قسطنطنیہ میں جو کہ عثمانی دارالحکومت تھا میں اتحادی افواج کے جنگی جہازوں کی بمباری کا سامنا کرنا پڑا اور اس کا رابطہ سلطنت کے ایشیائی حصے سے کاٹنے کی کوشش کی گئی۔ مہم میں منصوبہ بندی کی گئی کہ ترکی کی شکست کے بعد نہر سویز محفوظ ہو جائے گی ۔نیپال میں شدید زلزلہاپریل 2015ء نیپال میں شدید زلزلہ آیا جسے گورکھا زلزلہ بھی کہا جاتا ہے۔اس خوفناک زلزلے میں8ہزار 964 افراد ہلاک اور21ہزار 952افرادزخمی ہوئے۔ یہ 25 اپریل 2015ء کو نیپال کے مقامی وقت کے مطابق 11بجکر56 منٹ پر آیا۔ اس زلزلے کی شدت 7.8 سے 8.1 تک ریکارڈ کی گئی تھی ۔ اس کا مرکز گورکھا ضلع کے مشرق میں بارپک، گورکھا میں تھا اور اس کا مرکز تقریباً 8.2 کلومیٹر (5.1 میل) گہرائی میں تھا۔ 1934ء کے نیپال، بہار زلزلے کے بعد نیپال میں آنے والی یہ بدترین قدرتی آفت تھی۔سویز منصوبے کا آغاز1859 میں برطانوی اور فرانسیسی انجینئروں نے نہرِ سویز کی تعمیر کا باقاعدہ آغاز کیا۔ یہ منصوبہ اس دور کے عظیم ترین انجینئرنگ کارناموں میں شمار ہوتا ہے، جس کا مقصد بحیرہ روم کو بحیرہ احمر سے ملانا تھا۔ اس نہر کی بدولت یورپ اور ایشیا کے درمیان بحری راستہ مختصر ہوگیا اور تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ نہر سویز کی تعمیر میں کئی سال لگے اور ہزاروں مزدوروں نے اس میں حصہ لیا۔ بالآخر 1869ء میں یہ نہر مکمل ہوئی اور عالمی تجارت کیلئے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوئی، جس نے دنیا کے نقشے پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

پہلگام واقعہ

پہلگام واقعہ

بھارت کا ایک اور فالس فلیگ آپریشنکئی سال سے پاکستان بھارت کے ایک اور فالس فلیگ آپریشن کے خدشات کے بارے بین الاقوامی برادری کو خبردار کرتا آیا ہے۔ان خدشات کی تصدیق اس وقت ہوئی جب گزشتہ برس 22 اپریل کو مقبوضہ جموں و کشمیرکے ضلع اننت ناگ میں پہلگام کے سیاحتی مقام پر ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا۔اس واقعے کے چند منٹوں کے اندر ہی بھارتی میڈیا نے پاکستان کو اس واقعے کا ذمہ دار ٹھہرانا شروع کر دیا اورمیڈیا کے ذریعے پیدا کردہ ہسٹیریا کو بھارتی حکمران طبقے کے جنگجوانہ بیانات نے مزید تقویت بخشی۔پہلگام حملے کا وقت خصوصی طور قابل ِغور ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں ہوا جب نریندر مودی سعودی عرب کے دورے پر تھا جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اپنے خاندان کے ساتھ ہندوستان کا دورہ کر رہے تھے۔ بھارت کے داخلی محاذ پر دیکھا جا ئے تو وقف ایکٹ ، جسے شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) کے بعد ایک اور مسلم مخالف قانون کے طور پر دیکھا جاتا ہے، کے خلاف مسلمانوں کی طرف سے بھارت میں ملک گیر احتجاج جاری تھا۔ اسی سال کے آخر میں بہار میں ریاستی اسمبلی کے انتخابات بی ہو رہے تھے۔ اس طرح بھارتی حکومت کیلئے خلفشار پیدا کرنے اور اس صورتحال سے عوامی توجہ ہٹانے کیلئے ایک مضبوط ترغیب موجود تھی۔ بھارت نے کسی طرح کے شواہد کے بغیر اس واقعے کا الزام پاکستان پر ڈال دیااور پاکستان کے خلاف بہت سے ''اقدامات‘‘ کی دھمکی دے ڈالی جن میں 1960ء کے سندھ طاس معاہدے کی معطلی ،انٹیگریٹڈ چیک پوسٹ اٹاری کو بند کرنے اور بھارت میں موجود پاکستانی شہریوں کو ملک چھوڑنے کیلئے صرف 48 گھنٹے کا وقت دیا گیا۔ بھارت نے یہ بھی اعلان کیا کہ سارک ویزا استثنیٰ سکیم کے تحت پاکستانی شہریوں کو بھارت کا سفر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور پاکستانیوں کو جاری کردہ ایسے تمام ویزے منسوخ کردیئے گئے۔ نئی دہلی میں پاکستان ہائی کمیشن میں تعینات ڈیفنس؍ملٹری، نیول اور ایئر ایڈوائزرز کو ملک چھوڑنے کیلئے ایک ہفتے کا وقت دیا گیا اور اسلام آباد میں ہندوستانی ہائی کمیشن سے اپنے دفاعی؍بحریہ؍فضائی مشیروں کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا۔ اس کے جواب میں پاکستان نے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے غیر قانونی اقدام کو مسترد کرتے ہوئے بھارت کو خبردار کیا کہ اس معاہدے کی کوئی شق معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ پاکستان کی طرف سے واضح کیا گیا کہ پانی کے بہاؤ کا رخ موڑنے کے کسی بھی اقدام کوجنگی کارروائی کے طور پر لیا جائے گا اور اس کا مناسب جواب دیا جائے گا۔ پاکستان نے بھارت کیلئے اپنی فضائی حدود بند کرنے کا فیصلہ بھی کیا۔ اگرچہ پاکستان نے 5 اگست 2019 ء کو مقبوضہ کشمیرکے بارے میں بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کے بعد پہلے ہی دوطرفہ تجارت معطل رکھی تھی لیکن اب ہر قسم کی تجارت کو روکنے کا اعلان کیا گیا جس میں پاکستان کی سرزمین کے ذریعے تیسرے ملک کے ساتھ بھارتی تجارت بھی شامل تھی۔ پاکستان نے سکھ یاتریوں کے علاوہ سبھی بھارتی شہریوں کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کی نیز یہ کہ دوطرفہ معاہدوں بشمول شملہ معاہدے کو معطل کرنے کا بھی کہا گیا ۔ پاکستان نے کسی بھی مہم جوئی کے خلاف اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا دفاع کرنے کے پختہ عزم کا اظہار بھی کیا۔ اگرچہ پاکستان پر الزام تراشی بھارت کا وتیرہ ہے لیکن یہ ضروری ہے کہ ایسے واقعات کی پوری سیریز کو یاد کیا جائے جن میں ہندو انتہا پسندوں اور بھارتی ریاست کے حمایت یافتہ عناصر نے بھارت میں پاکستانی شہریوں اور ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کی سرزمین پر بھی دہشت گردی کی کارروائیوں کا ارتکاب کیا۔ تقریباً 19 سال پہلے لاہور آنے والی سمجھوتہ ایکسپریس ٹرین پر حملے کا واقعہ قابل ذکر ہے جس میں 40 پاکستانی جاں بحق ہوئے تھے۔ بھارت کی قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے اس واقعے میں سوامی اسیمانند ، لیفٹیننٹ کرنل پروہت، سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر، کمل چوہان، راجندر چوہدری اور لوکیش شرما کو مجرم قرار دیا تھا۔ دہشت گردی کے اس وقوعے کاماسٹر مائنڈ سوامی اسیمانند آر ایس ایس کا سرگرم رکن تھا۔ادھرمقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار نے دہشت گردی کا راج مسلط کر رکھا ہے اور بے گناہ کشمیریوں کو اجتماعی سزا دی جاتی ہے۔ پہلگام واقعے کے بعد بھارتی قابض فورسز نے مقبوضہ کشمیر میں متعدد گھروں کو مسمار کیا ۔ عام کشمیریوں کے گھروں کے خلاف اس طرح کے اقدامات نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی ، حریت کانفرنس اور جسٹس ڈیویلپمنٹ فرنٹ سمیت پوری کشمیری قیادت کو مجبور کیا کہ بھارتی مظالم کے خلاف آواز بلند کی جائے۔پہلگا م واقعہ در حقیقت ایک پرانا سکرپٹ ہے جسے مودی حکومت دہراتی آ ئی ہے، اور اس کا مقصد لوگوں میں مودی سرکار کی مقبولیت کا گراف اونچا کرنا، بھارت کے اندرکے سنگین مسائل سے توجہ ہٹانا ، عالمی سطح پر رائے عامہ کو گمراہ کرنا ، بھارت کیلئے ہمدردی کی لہر پیدا کرنا، خود کو ایک امن پسند لیکن دہشت گردی کے 'شکار‘ کے طور پر پیش کرنا ۔ پاکستان کو بدنام کرنا اور اس کے بین الاقوامی تشخص کو داغدار کرنا ہے۔ 2019ء کا پلوامہ واقعہ بھی ایسا ہی ایک فالس فلیگ آپریشن تھا جس کی مزید تصدیق مقبوضہ کشمیرکے سابق گورنر ستیہ پال ملک کے انکشافات سے ہوئی۔ یہ حقیقت اب دنیا کی نظروں سے اوجھل نہیں کہ پہلگام کا واقعہ بھارتی ریاستی ایما پر کروایا گیا ایک فالس فلیگ آپریشن تھا۔ اس کی بنیاد پر اگرچہ نئی دہلی نے پاکستان کے خلاف ایک مہم شروع کی لیکن حقیقت یہ ہے کہ بھارت خود پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو جو بھارتی بحریہ کا حاضر سروس کمانڈر تھا ، اس وقت بھی پاکستان کی تحویل میں ہے۔نیز بی جے پی کے رہنما اور بھارتی نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر اجیت ڈوول خود یہ قبول کر چکا ہے کہ بھارت پاکستان میں ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہے، جبکہ کینیڈا اور امریکہ کی حکومتوں نے اپنے ممالک میں قتل اور اقدام قتل کی وارداتوں میں بھارتی حکومتی ایجنٹوں کے ملوث ہونے کے شواہد جمع کئے اور ملزموں کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمے چلائے جارہے ہیں۔ بھارت کے جھوٹے بیانیے اور بے بنیاد الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے پاکستان نے یہ پیش کش کی تھی کہ ایک ذمہ دار ملک کی حیثیت سے وہ کسی بھی غیر جانبدار، شفاف اور قابلِ اعتماد تحقیقات کیلئے تیار ہے۔ یہ پیش کش بھارت کو اپنے الزامات کو ثابت کرنے کا موقع فراہم کرتی، اگر ایسا کوئی ثبوت ہوتا۔ مگر بھارت کا اس پیش کش کو قبول نہ کرنا خود ہی ایک ثبوت ہے کہ اُس کے پاس پاکستان کے خلاف کوئی ثبوت نہ تھا۔یہ صورتحال بھارتی الزامات کے کھوکھلا پن اور اس کی سات دہائیوں سے زیادہ کی دھوکہ دہی کو بے نقاب کرنے کے لیے کافی ہے۔

ارتھ ڈے:زمین سے رشتہ،بقا کا عہد

ارتھ ڈے:زمین سے رشتہ،بقا کا عہد

دنیا بھر میں ہر سال 22 اپریل کو ارتھ ڈے (Earth Day) منایا جاتا ہے۔ یہ دن انسانوں اور زمین کے درمیان تعلق کو اجاگر کرنے، ماحولیات کے تحفظ کے شعور کو فروغ دینے اور قدرتی وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال کی یاد دہانی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ موجودہ دور میں جب ماحولیاتی آلودگی، موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی وسائل کی تیزی سے کمی جیسے مسائل سنگین شکل اختیار کر چکے ہیں، ارتھ ڈے کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ارتھ ڈے کی تاریخارتھ ڈے کا آغاز 1970ء میں امریکہ سے ہوا جب ماحولیاتی کارکن اور سینیٹر گیلارڈ نیلسن ( Gaylord Nelson) نے صنعتی آلودگی اور ماحولیاتی تباہی کے خلاف عوامی شعور بیدار کرنے کے لیے ایک مہم شروع کی۔ اس مہم نے جلد ہی عالمی سطح پر توجہ حاصل کی اور وقت کے ساتھ یہ دن ایک بین الاقوامی تحریک بن گیا۔ آج دنیا کے 190 سے زائد ممالک میں اربوں افراد اس دن کو مناتے ہیں اور ماحول کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔ارتھ ڈے منانے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ انسانوں کو ان کی ذمہ داری کا احساس دلایا جائے کہ وہ زمین کو محفوظ اور صاف ستھرا رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ہم جس سیارے پر رہتے ہیں وہی ہماری بقا کا واحد ذریعہ ہے۔ اگر اس کی فضا آلودہ ہو جائے، پانی زہریلا ہو جائے اور زمین بنجر ہو جائے تو انسانی زندگی کا تصور بھی ممکن نہیں رہے گا۔ اس لیے ارتھ ڈے ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں چھوٹے چھوٹے اقدامات کے ذریعے ماحول کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ماحولیاتی مسائل اور چیلنجزماحولیاتی آلودگی آج کے دور کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ فیکٹریوں سے نکلنے والا دھواں، گاڑیوں کا دھواں، پلاسٹک کا بے دریغ استعمال اور جنگلات کی کٹائی زمین کے ماحول کو تباہ کر رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں گلوبل وارمنگ، گلیشیئرز کا پگھلنا، سمندری سطح میں اضافہ اور غیر متوقع موسمی تبدیلیاں سامنے آ رہی ہیں۔ پاکستان ان مسائل سے شدید متاثر ہ ممالک میں سر فہرست ہے۔ یہاں فضائی آلودگی، پانی کی قلت اور درجہ حرارت میں اضافہ جیسے مسائل روز بروز بڑھ رہے ہیں۔ارتھ ڈے کے مقاصدارتھ ڈے کے اہم مقاصد میں ماحولیات کے تحفظ کے لیے آگاہی پیدا کرنا، درخت لگانے کی حوصلہ افزائی کرنا، پانی اور توانائی کے ضیاع کو روکنا اور قدرتی وسائل کے دانشمندانہ استعمال کو فروغ دینا شامل ہیں۔ اس دن تعلیمی اداروں، سرکاری و نجی تنظیموں اور سماجی کارکنوں کی جانب سے مختلف تقریبات، سیمینارز، واکس اور مہمات کا انعقاد کیا جاتا ہے تاکہ لوگوں میں شعور پیدا کیا جا سکے۔اس حوالے سے تعلیم و آگاہی کے لیے نہایت اہم ہے۔ اگر نئی نسل کو شروع سے ہی ماحول دوست عادات سکھائی جائیں، جیسا کہ پانی کا ضیاع نہ کرنا، درخت لگانا، کچرے کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانا اور پلاسٹک کے استعمال سے گریز کرنا، تو مستقبل میں صحت مند معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ میڈیا بھی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، کیونکہ یہ عوام تک معلومات پہنچانے کا مؤثر ذریعہ ہے۔ارتھ ڈے ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ ترقی اور ماحولیات کے درمیان توازن قائم کرنا ضروری ہے۔ صنعتی ترقی اگر ماحول کو نقصان پہنچائے تو وہ دیرپا نہیں ہوتی۔ ہمیں ایسے ترقیاتی ماڈلز اپنانے ہوں گے جو ماحول دوست ہوں جیسا کہ قابل تجدید توانائی کا استعمال، شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنا، اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کو فروغ دینا۔انفرادی سطح پر بھی ہم بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پربجلی کے غیر ضروری استعمال سے اجتناب، پانی کو ضائع نہ کرنا، پلاسٹک بیگز کی جگہ کپڑے کے تھیلے استعمال کرنا اور زیادہ سے زیادہ درخت لگانا۔ یہ چھوٹے اقدامات مل کر ایک بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ یاد رکھنا چاہیے کہ زمین صرف ہماری نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی بھی امانت ہے۔ ارتھ ڈے محض ایک دن منانے کا نام نہیں بلکہ ایک مسلسل جدوجہد کا تقاضا کرتا ہے۔ ہمیں سال کے ہر دن کو ارتھ ڈے سمجھ کر اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی ہوں گی۔ اگر ہم نے آج زمین کا خیال نہ رکھا تو کل شاید بہت دیر ہو جائے۔ اس لیے آئیے ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ ہم اپنی زمین کو محفوظ، سرسبز اور خوبصورت بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے، تاکہ آنے والی نسلیں بھی ایک صحت مند اور خوشحال دنیا میں سانس لے سکیں۔