جب پاکستان میں بھی آرٹ فلمیں بنائی گئیں، کئی پاکستانی ہدایتکار اس میدان کے شہسوار ٹھہرے

جب پاکستان میں بھی آرٹ فلمیں بنائی گئیں، کئی پاکستانی ہدایتکار اس میدان کے شہسوار ٹھہرے

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالحفیظ ظفر


 

ندیم اور قوی خان کی آرٹ فلم ''مٹی کے پتلے‘‘ کو روس میں ایوارڈ ملا
ریاض شاہد کی ''سسرال‘‘ کوپاکستان کی عظیم فلموں میں شمار کیاجاتا ہے
ایک زمانے میں انڈیا کی آرٹ فلموں کا بڑا چرچا تھا۔80ء اور 90ء کی دہائی میں بالی وڈ میں بے شمار آرٹ فلمیں بنائی گئیں۔ آرٹ فلم کیا ہے؟ اس پر مختلف آراء ہیں۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ آرٹ فلم بہرحال وہ فلم ہے جو حقیقت کے قریب ہوتی ہے اور اس میں کمرشل ازم مفقود ہوتا ہے۔ یعنی یہ وہ فلم ہے جو تجارتی بنیادوں پر نہیں بنائی جاتی۔ انڈیا میں بہت سی آرٹ فلمیں ایسی بھی بنائی گئیں جن کی عالمی سطح پر پذیرائی کی گئی اور ان فلموں کے اداکاروں نے بھی بالی وڈ کے اعلیٰ ترین ایوارڈ حاصل کئے۔ اس دور میں جو آرٹ فلمیں مشہور ہوئیں۔ ان میں ''نشانت، چکرا، پرش، منڈی، پار، سلام بمبے، مرچ مصالحہ، منتھن، گدھ، گمن، کملا، یہ نزدیکیاں،آکردش، ایک پل، اردھ ستیہ، اندھا یدھ، ہولی اور کئی دوسری فلمیں شامل ہیں۔ ویسے تو دلیپ کمار کی فلم ''شکست‘‘ اور ''سگنیہ‘‘ کو بھی آرٹ فلم کا درجہ دیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح امتیابھ بچن کی فلم ''سوداگر‘‘ اور'' میں آزاد ہوں‘‘ بھی شاید آرٹ فلموں کی تعریف پر پورا اترتی ہیں۔ بالی وڈ کے لیجنڈ اداکار دلیپ کمار نے تو آرٹ فلم کی اصطلاح تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیا تھا۔ ان کے خیال میں فلم اچھی ہوتی ہے یا بری۔
آرٹ فلموں کے حوالے سے بالی وڈ کے جن فنکاروں نے شہرت حاصل کی ان میں نصیر الدین شاہ، اوم پوری، شبانہ اعظمی، سمیتا پاٹیل، گلبھشن، گھربیندرا، فاروق شیخ، دپتی نول، گرش کرنارڈ، مارک زبیر اور دیگر کئی فنکار شامل ہیں۔ ڈمپل کپاڈیا نے بھی ''ردالی‘‘ میں زبردست اداکاری کی تھی اور یہ ثابت کیا تھا کہ وہ صرف کمرشل فلموں کی ہی اداکارہ نہیں، بلکہ آرٹ فلموں میں بھی اپنے فن کا لوہا منوانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ بالی وڈ میں بننے والی آرٹ فلموں کے معروف ہدایتکاروں میں ستیہ جیت رے، سعید مرزا، گوند نہلانی اور شیام بینگل کا نام لیا جاتا ہے۔ یہ لوگ بہت ذہین اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔
کیا پاکستانی فلمی صنعت نے بھی آرٹ فلمیں بنائیں؟ اس کا جواب اثبات میں ہے۔ یہ فلمیں اس زمانے میں بنائی گئیں جب کمرشل اور آرٹ فلموں کی اصطلاحیں اتنی عام نہیں تھیں آرٹ فلم کی تعریف جو بعد میں کی گئی۔ اسے مدنظر رکھتے ہوئے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ واقعی یہاں بھی آرٹ فلمیں بنائی گئیں۔ ان فلموں میں جاگو ہوا سویر، مٹی کے پتلے، بدنام، نیلا پربت، دھوپ اور سائے اور سسرال شامل ہیں۔ خلیل قیصر کی فلم 'دی کلرک‘‘ کو بھی اس صف میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ''سسرال‘‘ کے علاوہ باقی کوئی فلم بھی باکس آفس پر اتنی کامیاب نہ ہو سکی لیکن فلم کے بڑے بڑے ناقدین نے ان فلموں کے موضوعات کے حوالے سے انہیں بہت سراہا۔''مٹی کے پتلے‘‘ میں ندیم اور قوی خان جیسے فنکار شامل تھے اور اس فلم کو روس میں ایوارڈ ملا۔ یہ فلم مزدوروں کے حقوق کے حوالے سے بنائی گئی تھی۔ ''نیلا پربت‘‘ معروف صحافی اور دانشور احمد بشیر کی تخلیق تھی جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ اس وقت کے فلم بینوں کو سمجھ نہیں آئی تھی۔ یعنی وہ اس فلم کے اچھوتے موضوع کا صحیح معنوں میں ادراک ہی نہ کر سکے۔ اس فلم میں نیلو، محمد علی اور آغا طالش نے اہم کردار ادا کئے تھے۔ ''سسرال‘‘ کو بلاشبہ پاکستان کی عظیم ترین فلموں میں سے ایک کہا جاتا ہے۔ یہ ریاض شاہد کی ذہانت کا کمال تھا کہ ایسے انوکھے موضوع پر فلم بنائی کہ لوگ عش عش کر اٹھے۔ اس فلم کے گیت منیر نیازی نے لکھے اور موسیقی حسن لطیف نے دی۔ بھارت کے مشہور اداکار بلراج ساہنی نے ''سسرال‘‘ کو پاکستان کی پہلی آرٹ فلم قرار دیا تھا۔ اگرچہ پاکستان میں آرٹ فلمیں بہت کم بنائی گئیں لیکن اپنے دور کے حوالے سے ان کی اہمیت آج بھی مسلمہ ہے۔
آج کی نوجوان نسل کو یہ علم ہونا چاہیے کہ پاکستانی فلمی صنعت میں بھی بڑے بڑے ہدایتکار، سکرپٹ، رائٹر، اداکار اور ہدایتکار موجود تھے۔ جنہوں نے اپنی لیاقت اور صلاحیتوں کا ایسا مظاہرہ کیا کہ آج بھی ان کا نام احترام سے لیا جاتا ہے۔ ہدایتکار اقبال شہزاد کو کیسے بھلایا جا سکتا ہے جنہوں نے سعادت حسن منٹو کے افسانے''جھمکے‘‘ کو سلولائیڈ کے فتے پر منتقل کیا اور ''بدنام‘‘ جیسی یادگار فلم تخلیق کی۔ جن لوگوں کو یہ فلم ابھی تک یاد ہے انہیں علائو الدین کا یہ مشہور مکالمہ بھی یقیناً یاد ہوگا''کہاں سے آئے ہیں یہ جھمکے، کون لایا ہے یہ جھمکے‘‘؟ اب تو خیر سب کچھ قصہ پارینہ بن چکا ہے لیکن اس بات سے کون اختلاف کر سکتا ہے کہ بہترین کام ہمیشہ زندہ رہتا ہے اور اسے سرانجام دینے والوں کا نام بھی تاریخ کے صفحات سے مٹایا نہیں جا سکتا۔
(عبدالحفیظ ظفر سینئر صحافی ہیں اورروزنامہ ''دنیا‘‘ سے طویل عرصہ سے وابستہ ہیں)
فرشتوں کے لکھے پہ پکڑے جانے والے 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
سیلفی اسٹک کی چھٹی

سیلفی اسٹک کی چھٹی

اب روبوٹ بنائے گا آپ کی تصاویر!ٹیکنالوجی کی دنیا میں نت نئی ایجادات نے انسانی زندگی کو پہلے سے کہیں زیادہ آسان اور دلچسپ بنا دیا ہے۔ کبھی اپنی تصویر بنانے کیلئے دوسروں کی مدد لینا پڑتی تھی اور پھر سیلفی اسٹک نے یہ مشکل دور کر دی، لیکن اب سائنس دانوں نے اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے دو ٹانگوں والا ایسا جدید روبوٹ تیار کیا ہے جو اسمارٹ فون اٹھا کر اپنے مالک کے پیچھے پیچھے چل سکتا ہے۔ یہ روبوٹ نہ صرف تصاویر اور ویڈیوز بنانے میں مدد دے سکتا ہے بلکہ انسان کے ساتھ حرکت کرتے ہوئے اسے مختلف زاویوں سے فلم بند کرنے کی سہولت بھی فراہم کر سکتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ مستقبل میں سیلفی لینے کیلئے ہاتھ میں اسٹک پکڑنے کی ضرورت نہیں رہے گی، کیونکہ ایک ننھا روبوٹ ہی آپ کا ذاتی کیمرہ مین بن کر ہر قدم پر آپ کے ساتھ ہوگا۔ ''فون بوٹ‘‘ (PhoneBot) نامی یہ چھوٹا سا آلہ تقریباً 19 انچ (48 سینٹی میٹر) اونچا ہے اور اس کا وزن لگ بھگ چار پاؤنڈ (1.8 کلو گرام) ہے۔ ابتدائی مظاہروں میں تحقیقاتی ٹیم نے دکھایا کہ 400 ڈالر مالیت کا یہ روبوٹ چل سکتا ہے، کسی شخص کی نقل و حرکت پر نظر رکھ سکتا ہے اور اوندھے منہ گرنے کی حالت سے دوبارہ کھڑا بھی ہو سکتا ہے۔ اس روبوٹ کے جسم کے اوپری حصے میں، اس کے ''کولہوں‘‘ کے اوپر، اسمارٹ فون نصب کیا جا سکتا ہے ۔ فون میں موجود کیمرے کی مدد سے روبوٹ لوگوں کو پہچاننے اور ان کا تعاقب کرنے کے قابل ہوتا ہے، جبکہ فون کے موشن سینسرز جسم کی حرکت اور سمت کے بارے میں معلومات جمع کر سکتے ہیں۔ اگرچہ اس روبوٹ کو بنیادی طور پر تحقیقی مقاصد کیلئے تیار کیا گیا ہے، تاہم یہ ایک چلتے پھرتے فوٹوگرافر کے طور پر بھی کام کر سکتا ہے۔ یہ خودکار طور پر اپنی جگہ تبدیل کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنا سکتا ہے کہ تصویر میں موجود تمام افراد کیمرے کے فریم میں سما جائیں۔محققین نے تحقیقی مقالے کے ابتدائی آن لائن نسخے میں، جو ویب سائٹ آرکائیو (arXiv) پر شائع کیا گیا، لکھا ہے کہ ''فون بوٹ‘‘ کم لاگت پر تیار ہونے والا، اوپن سورس اور مختصر جسامت کا انسان نما روبوٹک پلیٹ فارم ہے۔ اس میں عام دستیاب اسمارٹ فون کو ایک ایسے ماڈیولر جسم کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے جو ماحول سے متعلق معلومات حاصل کرنے، روبوٹ کے اندر ہی کمپیوٹنگ کے عمل اور انسانوں کے ساتھ تعامل کی سہولت فراہم کرتا ہے۔یونیورسٹی آف کیلیفورنیاکے محققین کے مطابق روبوٹ کی حرکات کو کنٹرول کرنے والا سافٹ ویئر اسمارٹ فون پر چلتا ہے۔ فون وائی فائی کے ذریعے ایک چھوٹے سے کمپیوٹر کو ہدایات بھیجتا ہے، جو آگے یہ احکامات روبوٹ کی موٹروں تک پہنچاتا ہے۔ مجموعی طور پر فون بوٹ میں 13 موٹریں نصب ہیں، جن میں سے چھ چھ دونوں ٹانگوں میں جبکہ ایک موٹر اس کے دھڑ کو گھمانے کیلئے استعمال ہوتی ہے۔ یہ اضافی جوڑ روبوٹ کو اس قابل بناتا ہے کہ اس کے پاؤں اپنی جگہ قائم رہیں، لیکن کیمرا مختلف زاویوں سے منظر عکس بند کرنے کیلئے دائیں یا بائیں جانب گھوم سکے۔ تحقیقاتی ٹیم نے مختلف اسمارٹ فونز کے ساتھ اس نظام کی آزمائش کی اور معلوم کیا کہ تمام آزمودہ فون بنیادی سینسنگ، حرکات کو کنٹرول کرنے اور بصری معلومات حاصل کرنے کے افعال کی معاونت کرتے ہیں۔ فی الحال اس روبوٹ کے بازو موجود نہیں ہیں، تاہم سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں اس میں ہلکے وزن والے بازو نصب کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تاکہ یہ مختلف اشیا کو پکڑنے اور سنبھالنے کے قابل ہو سکے۔ محققین یہ بھی جانچنا چاہتے ہیں کہ ناہموار سطحوں پر یہ روبوٹ کس طرح حرکت کرتا ہے، کیونکہ اب تک اس کی آزمائش صرف ہموار زمین پر کی گئی ہے۔یہ نظام اسمارٹ فون کے مائیکروفون اور اسپیکر کی مدد سے بول کر دی جانے والی ہدایات پر بھی عمل کر سکتا ہے۔ تاہم، فی الحال آواز کو پہچاننے اور زبان کو سمجھنے سے متعلق افعال ایک الگ لیپ ٹاپ کے ذریعے انجام دیے جاتے ہیں۔ سائنسدانوں کو امید ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے ان ماڈلز کو براہِ راست اسمارٹ فون پر چلانے کے قابل بنا دیا جائے گا۔تحقیقاتی ٹیم کو امید ہے کہ یہ کم لاگت والا پلیٹ فارم تعلیم، تحقیق اور نئے نمونوں کی تیز رفتار تیاری کیلئے ایک سستا اور قابلِ تکرار نظام فراہم کرے گا، جس سے انسان نما روبوٹس کو تیار کرنا اور ان تک رسائی حاصل کرنا مزید آسان ہو جائے گا۔

 اردو اور مصنوعی ذہانت: موقع بھی، امتحان بھی

اردو اور مصنوعی ذہانت: موقع بھی، امتحان بھی

دفتر میں ایک کلرک موبائل پر انگریزی خط کا اردو ترجمہ کروا رہا ہے۔ایک طالبہ اسائنمنٹ کے مشکل سوال پر مصنوعی ذہانت سے الجھ رہی ہے۔ بزرگ کو اردو کی بورڈ سے اب بھی الجھن ہوتی ہے، سو وہ بولتا جاتا ہے اور فون لکھتا جاتا ہے۔ چند برس پہلے کوئی یہ منظر بیان کرتا تو شاید ہم اسے سائنس فکشن کہتے۔ اب کسی کو حیرت بھی نہیں ہوتی۔ مشین اردو بولنے لگی ہے۔پڑھ بھی لیتی ہے، لکھ بھی دیتی ہے، ترجمہ بھی کر دیتی ہے۔ کبھی ایسی اردو کہ آدمی داد دے، کبھی ایسا جملہ کہ فوراً پتا چل جائے صاحب اردو گھر کی زبان نہیں۔مصنوعی ذہانت اردو کیلئے ایک نیا دروازہ کھول رہی ہے یا ہم اپنی زبان کو آہستہ آہستہ مشین کے مزاج پر ڈھال رہے ہیں؟شاید دونوں باتیں درست ہیں۔کسی زمانے میں انگریزی کا خط آ جائے تو دفتر میں وہ شخص تلاش کیا جاتا تھا جس کی انگریزی اچھی ہو۔ آج موبائل نکالیے، تصویر لیجیے اور ترجمہ سامنے۔ درخواست لکھوانی ہو، کسی لمبی تحریر کا خلاصہ چاہیے، انگریزی پیغام سمجھ نہیں آ رہا یا جواب اردو میں دینا ہے، بہت سے کام چند لمحوں میں ہو جاتے ہیں۔آواز سے اردو لکھنے کی سہولت نے تو ایک اور رکاوٹ ختم کر دی ہے۔ ہمارے ہاں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو عمدہ اردو بول سکتے ہیں مگر موبائل پر اردو ٹائپ کرتے ہوئے ان کی رفتار آدھی رہ جاتی ہے۔ اب وہ بولتے ہیں اور فون لکھتا جاتا ہے۔ یعنی زبان اور ٹیکنالوجی کے درمیان جو دروازہ مدت سے آدھا بند تھا، وہ کچھ کھلا ہے۔مگر پورا نہیں۔نستعلیق صرف فونٹ نہیںبرسوں ہم نے اخبار، رسالہ اور کتاب انٹرنیٹ پر ڈالنے کو یہ سمجھا کہ اس کے صفحے کی تصویر چڑھا دی، کام ختم۔ انسان اسے پڑھ لیتا تھا، مشین کیلئے اکثر وہ صرف تصویر تھی۔پھر ہمارا نستعلیق ہے۔اردو والے جانتے ہیں کہ نستعلیق صرف حروف نہیں، ہماری آنکھ کی عادت بھی ہے۔ شعر نستعلیق میں نظر آئے تو کچھ اور لگتا ہے۔ مگر مشین کیلئے یہی حسن مصیبت بن جاتا ہے۔ حروف جڑتے ہیں،نقطے اپنی جگہیں بدلتے ہیں۔ پرانی کتاب کا زرد صفحہ، مدھم روشنائی اور اوپر سے نستعلیق،مشین سے کہیے اسے حرف بہ حرف درست پڑھو، تو اس کا امتحان شروع ہو جاتا ہے۔ اسی لیے مصنوعی ذہانت بازار، دفتر اور سوشل میڈیا والی اردو میں خاصی تیز ہے، لیکن محاورہ ذرا ٹیڑھا ہو، طنز دبا ہوا ہو یا شعر میں بات لفظ کے بجائے اشارے سے کہی گئی ہو تو اس کے قدم لڑکھڑا سکتے ہیں۔ الماریوں میں پڑا خزانہکبھی کسی پرانے گھر کی کتابوں والی الماری کھولیے۔کتاب کا کاغذ زرد، جلد کے کنارے اکھڑے ہوئے ۔ بعض کتابیں ایسی ہیں جن کا نیا نسخہ شاید بازار میں ملے ہی نہ۔ہمارے کتب خانوں، پرانے اداروں اور گھروں میں ایسا کتنا مواد پڑا ہے۔یہاں مصنوعی ذہانت اردو کی بڑی خدمت کر سکتی ہے۔ اگر اردو کی تحریر پہچاننے کے نظام بہتر ہو جائیں تو لاکھوں صفحات صرف تصویروں کی صورت محفوظ نہیں ہوں گے بلکہ باقاعدہ متن بن سکتے ہیں۔ کسی پرانی کتاب میں نام، شعر یا واقعہ تلاش کرنا ممکن ہوگا۔ جو کتاب لاہور یا کراچی کی کسی الماری میں بند ہے، اسے دنیا کے دوسرے سرے پر بیٹھا طالب علم پڑھ سکے گا۔مشین کی عادت ذرا خطرناک ہےوہ غلط بھی ہو تو بعض اوقات لہجہ ایسا رکھتی ہے جیسے بات پتھر پر لکھی ہو۔ آپ کسی شعر کا شاعر پوچھیں، وہ نام بتا دے گی۔ نام غلط بھی ہو سکتا ہے۔ کتاب کا حوالہ مانگیں تو کبھی ایسی کتاب یا صفحہ بھی سامنے آ سکتا ہے جس کا وجود تلاش کرنے پر مشکل سے ملے،یا ملے ہی نہیں۔ اردو میں یہ خطرہ زیادہ ہے، کیونکہ ہمارے پاس پہلے ہی اشعار کی غلط نسبت کا پورا بازار آباد ہے۔ سوشل میڈیا پر اقبال، غالب اور فراز کے نام سے وہ کچھ گردش کرتا رہا ہے جو شاید ان تینوں نے خواب میں بھی نہ کہا ہو۔اور پھر لکھنے کا معاملہ ہے۔آج چند سطریں لکھ کر کہیں کہ غزل بنا دو، افسانہ لکھ دو، کالم تیار کر دو۔ جواب حاضر۔سوال یہ نہیں کہ مشین ایسا کر سکتی ہے یا نہیں کر سکتی ہے۔سوال یہ ہے کہ پھر لکھنے والا کہاں ہے؟اگر خیال بھی ادھار، جملہ بھی تیار، استعارہ بھی مشین کا اور آخری سطر بھی وہی دے رہی ہے توکیا صفحے کے اوپر اپنا نام لکھ دینے سے تحریر اپنی ہو جاتی ہے؟ ۔مجھے ایک اور خطرہ اس سے بھی بڑا لگتا ہے،بے رنگ اردو۔وہ اردو جس میں املا درست ہو، جملہ مکمل ہو، قواعد بھی سلامت ہوںمگر پڑھ کر معلوم نہ ہو کہ اسے لاہور والے نے لکھا، لکھنؤ والے نے، کراچی والے نے یا کسی مشین نے۔ زبان صرف درست جملے نہیں ہوتی۔اس میں محلے کی آواز ہوتی ہے، ماں کا بولا ہوا کوئی لفظ، دادی کی کہاوت، گلی کی پھبتی، پنجابی کی آمیزش، دکنی کی مٹھاس، کراچی کا اپنا لہجہ اور لکھنے والے کی اپنی کجی بھی ہوتی ہے۔ہر کجی درست کر دی جائے تو کبھی کبھی زبان بھی سیدھی نہیں، سپاٹ ہو جاتی ہے۔اب کام ہمارا ہےمصنوعی ذہانت سے یہ شکایت کرنا آسان ہے کہ اسے اچھی اردو نہیں آتی۔مگر سوال یہ بھی ہے کہ ہم نے اسے پڑھنے کیلئے دیا کیا ہے؟ کتنی پرانی کتابیں قابلِ تلاش متن میں موجود ہیں؟ کتنے رسائل صرف بوسیدہ جلدوں میں بند ہیں؟ ہماری جامعات نے کتنا معیاری اردو مواد ڈیجیٹل صورت میں محفوظ کیا؟ ناشر اپنے پرانے ذخیرے کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟مشین خلا میں زبان نہیں سیکھتی۔ اسے جو ملتا ہے، اسی سے سیکھتی ہے۔اس لیے کام صرف ٹیکنالوجی کمپنیوں کا نہیں۔ جامعات، کتب خانے، اخبارات، ناشر، ادبی ادارے اور لکھنے والے سب اس میں شریک ہیں۔

طنز و مزاح:سوئز بینک میں کھاتہ ہمارا

طنز و مزاح:سوئز بینک میں کھاتہ ہمارا

حضرات! میں کسی مجبوری اور دباؤ کے بغیر اور پورے ہوش و حواس کے ساتھ یہ اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ سوئٹزرلینڈ کے ایک بینک میں میرا اکاؤنٹ موجود ہے۔ آپ اس بات کو نہیں مانتے تو نہ مانئے۔ میری بیوی بھی پہلے اس بات کو نہیں مانتی تھی۔ اب نہ صرف اس بات کو مان رہی ہے بلکہ مجھے بھی ماننے لگی ہے۔آپ یقیناً یہ سوچ رہے ہوں گے کہ جب سارے لوگ اپنے کھاتوں کو پوشیدہ رکھنے کے سو سو جتن کررہے ہیں تو ایسے میں مجھے اپنے آپ ہی اپنے کھاتے کی موجودگی کا اعلان کرنے کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے۔ ایک دن میں دفتر سے بے حد تھکا ماندہ گھر پہنچا تو بیوی نے کہا، ''آپ جو اتنا تھک جاتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ دفتر میں کام بھی کرتے ہیں‘‘۔میں نے کہا، ''بھلا یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے۔ آدمی کام کرنے سے ہی تو تھکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک میں نے کسی سیاستدان اور مولوی کو تھکا ماندہ نہیں پایا‘‘۔بولی، ''آدمی محنت کرتا ہے تو پھر اسے اس کا صلہ بھی ملتا ہے۔ تم جو اتنی محنت کرتے ہو تو تمہیں کیا مل رہا ہے؟‘‘۔ظاہر ہے کہ اس مشکل سوال کا آسان جواب جب ملک کے ماہرین معاشیات کے پاس بھی نہیں ہے تو میں کیا خاک جواب دیتا۔ سو میں خاموش ہوگیا۔ میں نے سوچا کہ تیس برس کی رفاقت میں، میں نے اپنی بیوی کو روز کی خوشیاں اسی روز دینے کے سوائے اور کیا کیا ہے۔ اس کی جھولی میں ایک ایک دن اور ایک ایک پل کو جوڑ کر جمع کیا ہوا تیس برسوں کے عرصہ پر پھیلا ہوا ماضی تو ہے لیکن آنے والے کل کا کوئی ایسا لمحہ نہیں ہے جسے عام زبان میں خوش آئند مستقبل کہتے ہیں۔ میں نے سوچا آج اسے تھوڑا سا مستقبل بھی دے دیتے ہیں۔ لہٰذا میں نے کہا، ''یہ تم کیا محنت اور صلہ کے پیچھے حیران ہو رہی ہو۔ آج میں تمہیں ایک خوشخبری سنانا چاہتا ہوں کہ سوئٹزرلینڈ کے ایک بینک میں میرا اکاؤنٹ موجود ہے‘‘۔ یہ سنتے ہی میری بیوی کا منہ حیرت سے کھلا کا کھلا رہ گیا۔ بڑی دیر بعد جب وہ بند ہوا تو اس نے اچانک گھر کے دروازے اور کھڑکیاں بند کرنی شروع کر دیں۔میں نے کہا، ''یہ کیا کر رہی ہو؟‘‘بولی، ''سوئٹزرلینڈ کے بینک کے کھاتے کی بات کوئی یوں کھلم کھلا کرتا ہے۔ اگر بفرض ِمحال سوئٹزرلینڈ کے کسی بینک میں تمہارا کھاتہ ہے بھی تو تمہیں اس کا اعلان کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ اگر مجھے اس کھاتے کا سراغ لگانا ہو تو میں کسی خفیہ ایجنسی کے ذریعے اس کا پتہ لگا سکتی ہوں یا پھر ایک دن ملک کے کسی اخبار میں خود بخود اس کی خبر چھپ جائے گی۔ مگر پہلے یہ بتاؤ کیا سچ مچ سوئٹزرلینڈکے بینک میں تمہارا کھاتہ موجود ہے؟‘‘میں نے کہا، ''سچ بتاؤ! آج تک میں نے تم سے کبھی جھوٹ کہا ہے؟‘‘۔بولی، ''سوتو ہے مگر یہ کھاتہ تم نے کھولا کب؟‘‘۔میں نے کہا، ''چار سال پہلے جب میں یوروپ گیا تھا؟‘‘میرے اس جواب نے میری بیوی کو اور بھی حیرت میں ڈال دیا کیونکہ اسے پتہ تھا کہ جب میں یورپ کیلئے روانہ ہوا تھا تو میری جیب میں صرف بیس ڈالر تھے۔ اگرچہ حکومت نے مجھے اجازت دی تھی کہ اگر میں بیرونی زرِمبادلہ حاصل کرنا چاہوں تو پانچ سو ڈالر تک خرید سکتا ہوں۔ لیکن بیرونی کرنسی خریدنے کیلئے پہلے مجھے ملکی کرنسی کی ضرورت تھی۔ بیرونی کرنسی تو مجھے مل رہی تھی لیکن اصل سوال ملکی کرنسی کا تھا۔ اتنے میں میری بیوی دنیا کا نقشہ اٹھا کر لے آئی اور بولی، ''ذرا دکھاؤ تو سہی۔ یہ موا سوئٹزرلینڈ ہے کہاں؟ اور اس میں ہمارا اکاؤنٹ کہاں رکھا ہوا ہے؟‘‘میں نے دنیا کے نقشہ میں اسے سوئٹزرلینڈکو دکھانے کی کوشش شروع کردی۔لیکن کمبخت سوئٹزرلینڈ اتنا چھوٹا نکلا کہ اس پر جب جب انگلی رکھتا تو پورے کا پورا سوئٹزرلینڈ غائب ہو جاتا تھا۔ بالآخر قلم کی نوک سے سوئٹزرلینڈ کے حدودِ اربع اس پر واضح کئے تو بولی، ''یہ تو اتنا چھوٹا ہے کہ اس میں کسی بینک کی عمارت شاید ہی سما سکے۔ ہمارے بینک اکاؤنٹ کے سمانے کا نمبر تو بعد میں آئے گا‘‘۔ بیوی نے کہا، ''مگر تم تو سوئٹزرلینڈسیر سپاٹے کیلئے گئے تھے۔ وہاں کے قدرتی مناظر کو دیکھنے گئے تھے۔ یہ اکاؤنٹ کھولنے والا معاملہ کب ظہور میں آیا؟‘‘۔میں نے کہا، ''بیگم! کان کھول کر سن لو۔ یہ پہاڑ اورقدرتی مناظر سب بہانے بنانے کی باتیں ہیں۔ آج تک کوئی سوئٹزرلینڈمیں صرف پہاڑ دیکھنے کیلئے نہیں گیا۔ پہاڑ کی آڑ میں وہ کچھ اور کرنے جاتا ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے پہاڑ اس لئے اچھے لگتے ہیں کہ ان کے دامن میں سوئٹزرلینڈ کے وہ مشہور و معروف بینک ہیں جن میں اپنا پیشہ جمع کراؤ تو پیسہ جمع کرنے والے کی بیوی تک کو معلوم نہیں ہوتا کہ اس میں اس کے شوہر کا پیسہ جمع ہے۔

حکایت سعدیؒ:ذہانت

حکایت سعدیؒ:ذہانت

ایک خراسانی تاجر نے حج کا ارادہ کیا۔ جب اس نے حج کی تیاری کی تو اس کے پاس ضروریات سے زائد ایک ہزار دینار بچ گئے۔ اس نے سوچا کہ اگر میں انہیں ساتھ لے جائوں تو گرجانے کا خطرہ ہے اور اگر کسی کے پاس امانت رکھوں تو ممکن ہے کہ وہ واپس کرنے سے انکار کر دے۔ وہ جنگل میں گیا اور ارنڈی کے درخت کے نیچے گڑھا کھود کر وہ دینار چھپادئیے۔ پھر وہ حج کو چلا گیا جب واپس آیا اور اس جگہ کو کھود اتو کچھ نہ پایا۔ وہ رونے پیٹنے لگا۔ جب اس سے پوچھا گیا تو اس نے بتایا کہ زمین میرے دینار کھا گئی ہے۔ کسی نے اسے مشورہ دیا کہ بادشاہ عضدالدولہ کے پاس جائو، وہ بہت ذہین آدمی ہے۔ تاجر کہنے لگا، کیا بادشاہ علم غیب جانتا ہے؟ اس شخص نے تاجر سے کہا، پوچھنے میں کوئی حرج نہیں۔ چنانچہ تاجر بادشاہ کے سامنے حاضر ہوا اور سارا ماجرا کہہ سنایا۔ بادشاہ نے تمام طبیبوں کو جمع کیا اور پوچھا کہ کیا اس سال تم میں سے کسی نے ارنڈی کے ساتھ کسی کا علاج کیا ہے؟ ایک طبیب نے کہا، ہاں میں نے آپ کے ایک درباری کا علاج کیا ہے۔ بادشاہ نے اس درباری کو بلایا اور پوچھا: کیا تم نے ارنڈی کے ساتھ اپنا علاج کروایا ہے۔ اس نے کہا: ہاں، بادشاہ نے پوچھا: ارنڈی کون لے کر آیا تھا؟ بتایا کہ فلاں خادم۔ بادشاہ نے کہا کہ اسے حاضر کیا جائے۔ جب وہ حاضر ہوا تو اس سے پوچھا کہ یہ ارنڈی تم کہاں سے لائے تھے؟ اس نے جواب دیا فلاں جگہ سے۔ بادشاہ نے کہا: اس تاجر کو ساتھ لے جائو اور اس کو وہ جگہ دکھائو۔ وہ خادم اس تاجرکو ساتھ لے گیا اور وہ جگہ دکھا دی۔ تاجر جب بادشاہ کے پاس پہنچا تو بتایا کہ میں نے اسی جگہ دینار چھپائے تھے۔ بادشاہ نے خادم کو بلایا اور کہا کہ مال لائو۔ خادم نے ٹال مٹول کی جب بادشاہ نے اسے قتل کرنے کی دھمکی دی تو اس نے سارا مال واپس کر دیا۔ تاجر بادشاہ کی ذہانت دیکھ کر انگشت بہ دنداں رہ گیا۔بادشاہ سمجھ گیا تھا کہ جو ارنڈی لینے گیا تھا اسی نے دینار بھی وہاں دیکھ کر چرا لئے ہوں گے، اس کا شک درست نکلا۔

آج تم یاد بے حساب آئے!سلیم ناصر: ہر دلعزیز اداکار (1989-1944ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!سلیم ناصر: ہر دلعزیز اداکار (1989-1944ء)

٭...15 نومبر1944 کو ناگ پور (بھارت) میں پیدا ہونے والے سلیم ناصرکا اصل نام سید شیر خان تھا۔٭...وہ روشن خیال خاندان سے تعلق رکھتے تھے جو قیام پاکستان کے بعد پاکستان آ گیا اور کراچی میں سکونت اختیار کی۔٭... مادری زبان پشتو ہونے کے باوجود انہیں اردو پر بھی کمال عبور حاصل تھا، یہی وجہ تھی کہ اکثر لوگ انہیں پشتو بولتا دیکھ کر حیران رہ جاتے تھے۔٭...گریجویشن کے بعد وہ ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کراچی میں بحیثیت افسر شعبہ تعلقات عامہ لگ گئے،مگر اس شعبے کو اپنی منزل نہ سمجھتے ہوئے اداکاری کے شعبے کی طرف مائل ہو گئے۔٭... فنی سفر کا آغاز ٹی وی سے کیا اور ہر قسم کے کردار کو بخوبی نبھا یا۔٭... ان کی خوش بختی یہ تھی کہ ان کو ایسے کردار دیئے گئے جو ان کی شخصیت کے عین مطابق تھے اور انہوں نے ان کرداروں میں حقیقت کا رنگ بھردیا۔٭...''دستک‘‘ ڈرامہ میں انہوں نے وکیل کا کردارادا کیا، جو بہت پسند کیا گیا۔ ان کے ساتھ ایاز نائیک، شازیہ اختر اور قاضی واجد تھے۔٭... ''ان کہی‘‘ میں ان کی اداکاری کی بہت تحسین کی گئی۔ یہ سیریز حسینہ معین کے زورِ قلم کا نتیجہ تھی،جس میں ان کے ساتھ شہناز شیخ جاویدشیخ، شکیل اور آصف رضا میر نے بھی شاندار اداکاری کا مظاہرہ کیا۔٭... ٹی وی ڈرامہ ''نشان حیدر‘‘ میں کیپٹن سرور شہید کا یادگار کردار،''آخری چٹان‘‘ میں سلطان جلال الدین منگوبیروی کا کردار ادا کیا اور اپنی فنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔٭... ان کا ایک اور یادگار ڈرامہ ''یانصیب کلینک‘‘ تھا۔ اس میں انہوں نے ڈاکٹر کا کردار ادا کیا۔٭... ''آنگن ٹیڑھا‘‘ ان کا سب سے مقبول ڈرامہ ہے، جسے انور مقصود نے تحریر کیااور انہوں نے نوکر کا کردارادا کیا ،جو پہلے ڈانسر ہوتا ہے۔ ان کے ساتھ اس ڈرامے میں شکیل، بشریٰ انصاری اور ارشدمحمود تھے۔ ٭... 1989ء میں بننے والی پی ٹی وی کی شہرہ آفاق ڈرامہ سیریل ''جانگلوس‘‘ ان کا آخری ڈرامہ ثابت ہوا۔٭... انہیں مکالموں کی ادائیگی پر عبورحاصل تھا۔ ''آخری چٹان‘‘ میں ان کے مکالمے بولنے کے انداز نے ایک سماں باندھ دیا تھا۔٭...ٹی وی ڈراموں کے علاوہ انہوں نے 10 فلموں میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے، جن میں ایک پنجابی فلم بھی شامل تھی۔٭...ان کی مقبول فلموں میں چاکلیٹی ہیرو وحید مراد کی فلم ''زیب النسا ‘‘بھی شامل ہے۔٭...وہ اداکارمحمد علی سے متاثر تھے اور عدالت کے مناظر میں ان کی طرح مکالمے بولتے تھے۔ ان کی آواز بھی بڑی توانا اور پُرکشش تھی۔ ٭... ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں انہیں ملک کے اعلیٰ ترین صدارتی اعزا ز''تمغہ برائے حسن کارکردگی‘‘ سے بھی نوازا گیا تھا۔٭... 24 ستمبر 1989ء کو انہیں دل کا دورہ پڑا۔ 19 اکتوبرکو دوبارہ دل کی تکلیف ہوئی۔ انہیں ہسپتال پہنچایا گیا، لیکن وہ طبی امداد ملنے سے پہلے ہی خالق حقیقی سے جا ملے۔ انہوں نے 45 برس کی عمرپائی۔

آج کا دن

آج کا دن

صدام حسین کے خلاف انسانیت سوز جرائم کا مقدمہ19اکتوبر 2005ء کو عراق کے سابق صدر صدام حسین کے خلاف دارالحکومت بغداد میں انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر مقدمے کی سماعت شروع ہوئی۔ یہ مقدمہ عراق کی تاریخ کے اہم ترین قانونی واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ صدام حسین پر اپنے دورِ اقتدار میں سیاسی مخالفین اور عام شہریوں کے خلاف سنگین مظالم ڈھانے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ اس مقدمے نے عراق کی سیاست، عدالتی نظام اور ملک کے مستقبل کے حوالے سے عالمی سطح پر غیر معمولی توجہ حاصل کی۔امریکہ :پہلا فضائی ریڈاروارننگ سسٹم فعال19 اکتوبر 1960ء کو امریکہ نے اپنا پہلا عوامی فضائی ریڈار وارننگ سسٹم باضابطہ طور پر فعال کیا۔یہ نظام دراصل سرد جنگ کے تناظر میں تیار کیا گیا تھا تاکہ سوویت یونین کے ممکنہ فضائی یا میزائل حملوں کی پیشگی اطلاع دی جا سکے۔ اس کا مقصد ملک بھر میں ایک ایسا الارم نیٹ ورک قائم کرنا تھا جو دشمن طیاروں یا میزائلوں کی نشاندہی کرکے فوری انتباہ دے سکے۔یہ پیش رفت جدید ریڈار اور سیٹلائٹ دفاعی ٹیکنالوجی کی بنیادوں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔پولینڈ کی 13 سالہ جنگ کا خاتمہ1466ء میں آج کے روز پولینڈ اور ٹیوٹونک آرڈر (جرمن مذہبی و فوجی تنظیم) کے درمیان جاری تیرہ سالہ جنگ دوسرے معاہدہ تھورن کے نتیجے میں اختتام پذیر ہوئی۔ یہ جنگ 1454ء میں شروع ہوئی تھی اور اس کا بنیادی سبب خطے میں سیاسی اقتدار اور علاقوں پر قبضے کی کشمکش تھا۔ معاہدے کے تحت فریقین کے درمیان جنگ بندی ہوئی اور علاقائی حدود و اختیارات میں تبدیلیاں آئیں۔ اس معاہدے نے مشرقی یورپ کی سیاسی صورت حال پر گہرے اثرات مرتب کیے۔برطانوی نشریاتی اداروں پر پابندی1988ء میں برطانوی حکومت نے ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر سن فین (Sinn Fein) کے ارکان کے انٹرویوز نشر کرنے پر پابندی عائد کر دی۔ اس پابندی کا اطلاق آئرش ریپبلکن اور السٹر کے وفادار مسلح گروہوں سے تعلق رکھنے والے گیارہ دیگر گروہوں کے ارکان پر بھی ہوتا تھا۔ حکومت کے اس اقدام کا مقصد شمالی آئرلینڈ کے تنازعے کے دوران ان تنظیموں کی تشہیر اور ان کے مؤقف کی براہِ راست نشریات کو محدود کرنا تھا۔ یہ پابندی 1994ء تک برقرار رہی۔ دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں میں شدید مندی1987ء میں آج کے روز دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں میں شدید مندی دیکھی گئی۔ یہ دن تاریخ میں ''بلیک منڈے‘‘ کے نام سے مشہور ہوا۔اس روز صرف ایک دن میں اسٹاک مارکیٹوں کی قدریں 20 فیصد سے زائد گر گئیں۔ سب سے زیادہ اثر امریکی اسٹاک مارکیٹ پر پڑا۔اگرچہ مارکیٹیں بعد میں سنبھل گئیں لیکن یہ دن عالمی مالیاتی نظام کی نازکی اور باہمی انحصار کی ایک واضح علامت بن گیا۔