خلافت عباسیہ کا خاتمہ

خلافت عباسیہ کا خاتمہ

اسپیشل فیچر

تحریر : خاور نیازی


750عیسوی سے 1258ء تک قائم رہنے والی خلافت عباسیہ ، اسلامی تاریخ کی اہم حکومتوں میں سے ایک تھی۔ اس خلافت نے 37 خلفاء دیکھے۔بلا شبہ تاریخ کی کتابیں خلافت عباسیہ کے کارناموں سے بھری پڑی ہیں لیکن تاریخ کا ایک سبق بھی ہے کہ '' تاریخ کوصرف فتوحات سے غرض ہوتی ہے ، تاریخ جواز یا عذر قبول نہیں کیا کرتی ‘‘۔
خلافت عباسیہ کا خاتمہ مسلم امہ کیلئے ایک المیہ سے کم نہیں اور یوں 37ویں عباسی خلیفہ مستعصم باللہ کے ساتھ ہی نہ صرف عباسی خلافت کا سورج ہمیشہ کیلئے غروب ہو گیا بلکہ مسلمانوں کواس کے ساتھ ساتھ سقوط بغداد کا زخم بھی اپنے سینے پرسہنا پڑا۔ وہی بغداد جس کی بنیاد مستعصم باللہ کے جد ابوجعفر بن المنصور نے 762 عیسوی میں بغداد نامی ایک چھوٹے سے قصبے کے قریب رکھی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ چھوٹا ساقصبہ چند عشروں میں دنیا کی تاریخ کا ایک عظیم شہر بن گیا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب دنیا کے چپے چپے سے علم و فضل کے پیاسے جوق در جوق بغداد کا رخ کرنے لگے تھے۔ تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ نویں صدی میں بغداد وہ واحد شہر تھا جہاں کا ہر شہری پڑھ لکھ سکتا تھا۔صرف یہی نہیں بلکہ 775ء سے لیکر 932ء تک بغداد آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا شہر تصور تھا۔اس شہر کو یہ اعزازبھی حاصل تھا کہ بغداد دس لاکھ آبادی کا سنگ میل عبور کرنے والا دنیا کا پہلا شہر تھا۔
سقوط بغداد یا سقوط خلافت عباسیہ کے عوامل چاہے کچھ بھی ہوں لیکن اس میں کوئی دو آراء نہیں کہ آخری عباسی خلیفہ مستعصم باللہ کا سولہ سالہ دور خلافت زیادہ تر عیش و عشرت ، غفلت اور غیر ضروری سرگرمیوں میں گزرا۔اس کا،اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو گا کہ انہیں منگول یلغار کی کانوں کان خبر تک نہ ہوئی اور تو اور ان کا ایک بااعتماد وزیر ابن العل قلمی ان کے پہلو میں بیٹھ کر منگولوں سے خط و کتابت کرتا رہا اورانہیں بغداد پر حملہ کی ترغیب دیتا رہا اور خلیفہء وقت کو خبر تک نہ ہوئی۔ تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ چنگیز خان کے پوتے ہلاکو خان نے 29جنوری 1257ء کو بغداد کے محاصرے کا ارادہ کیاچنانچہ حملہ کرنے سے پہلے ہلاکو خان نے خلیفہ مستعصم باللہ کو ایک خط لکھا '' لوہے کے ڈھیلے کو مکہ مارنے کی کوشش نہ کرو ، سورج کوبجھی موم بتی سمجھنا چھوڑ دو، بغداد کی دیواروں اور فصیلوں کو خود ہی گرا دو اور اس کے ارد گرد کھودی خندقوں کو صاف کر کے حکومت چھوڑ کر ہتھیار ڈال دواور یاد رکھنا اگر ہم نے بغداد پر چڑھائی کی تو نہ تمہیں زمین میں چھپنے کی جگہ ملے گی اور نہ آسمان پر ‘‘۔
اگرچہ خلیفہ مستعصم باللہ میں اپنے پیشرؤں جیسے اوصاف تو نہ تھے لیکن خلیفہ سمجھتے تھے کہ اس قدر وسیع و عریض مسلم امہ اسے تنہا کبھی نہ چھوڑے گی۔چنانچہ اسی زعم میں اس نے ہلاکو خان کو جواباً لکھا'' نوجوان جنگجو ، چار دن کی چاندنی میں تم اپنے آپ کو کائنات کا مالک سمجھ بیٹھے ہو۔ کیا تم نے یہ غور نہیں کیا کہ مشرق سے مغرب تک خدا کے ماننے والے اہل ایمان ، سبھی میری رعایا ہیں۔تمہاری فلاح اسی میں ہے کہ تم انہی قدموں واپس لوٹ جاؤ ‘‘ ۔
ہلاکو خان جو لگ بھگ چار عشروں سے اپنے آبائی وطن منگول کو خیر آباد کہہ کر چار ہزار میل کی مسافت طے کر کے نہ صرف فتوحات کے نئے ریکارڈ قائم کرتا آ رہا تھا بلکہ اسے اپنی فوج پر پورا اعتماد بھی تھا۔ سونے پہ سہاگہ اس کا بھائی منگو خان ثابت ہوا، جس نے منگول سے تازہ دم دستے بغداد بھجوادئیے بلکہ ان کے دیکھا دیکھی آرمینیا اور جارجیا سے بھی خاصی تعداد میں مسیحی فوجی ہلاکو خان سے آن ملے جو دراصل مسلمانوں سے صلیبی جنگوں کا پرانا بدلہ چکانے کیلئے بے تاب تھے۔
یہ عنصر تو ایک طرف، درحقیقت منگول فوج کو تکنیکی اعتبار سے بھی عباسی فوج پر کہیں زیادہ فوقیت حاصل تھی جو اپنے وقت کی جدید ٹیکنالوجی سے لیس تھی۔ہلاکو خان کی فوج میں انجینئرز کا باقاعدہ ایک یونٹ تھا جو بارود کے استعمال کی مہارت رکھتا تھا۔ہلاکو خان کی فوج نے جب منجنیقوں کے ذریعے آگ کے گولے دشمن کی طرف پھینکنا شروع کئے تواہل بغداد اس آگ سے پھیلنے والی تباہی سے گھبرا گئے۔ انہوں نے اس سے پہلے اس طرح آگ برستی نہ دیکھی تھی۔آگ برساتی منجنیقوں نے جہاں ایک طرف لاشوں کے ڈھیر لگانا شروع کر دئیے وہیں خلیفہ بھی اس صورتحال سے گھبرا گئے۔ انہوں نے ہلاکو خان کو بھاری تاوان اور اپنی سلطنت میں جمعہ کے خطبہ میں اس کا نام پڑھنے کی شرط کی پیشکش کر ڈالی لیکن ہلاکوخان نے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا۔
آخر10فروری 1258ء کو 13دن کے محاصرے کے بعد عباسی خلیفہ کو ہلاکو خان کی فوجوں کے سامنے شہر کے دروازے کھولنا پڑے۔خلیفہ مستعصم کو ہلاکو خان کی فوج نے گرفتار کر کے چند دن قید تنہائی میں بھوکا پیاسا رکھا جبکہ باقی اشرافیہ اور رعایا کے ساتھ ہلاکو خان نے وہی سلوک کیا جو ہلاکو خان کادادا چنگیز خان دشمنوں کے ساتھ کرتا رہا تھا۔
چند دن کے بعد جب بھوکے پیاسے خلیفہ مستعصم کو ہلاکو خان کے سامنے پیش کیا گیا تو تھوڑی ہی دیر بعد اس کے سامنے دستر خواں سے ڈھکا ایک ٹرے لایا گیا۔کئی دن کے بھوکے خلیفہ نے جب بے ساختہ دستر خوان اٹھایا تو دیکھا کہ کھانے کے برتن ہیرے جواہرات سے بھرے ہوئے تھے۔ ہلاکو نے خلیفہ کو مخاطب کر کے کہا کھاؤ۔ اس پر خلیفہ بولا،یہ ہیرے بھلا میں کیسے کھاؤں ؟ اس مو قع پر ہلاکو کا تاریخی بیان تھا کہ اگر تم ان ہیروں کی جگہ اپنی فوج کے لئے تیر ، تلواریں بارود بنا لیتے تو ہم شاید بغداد میں کبھی بھی داخل نہ ہو سکتے‘‘۔ خلیفہ نے رندھی ہوئی آواز سے کہا، شاید اللہ کو یہی منظور تھا۔ہلاکو نے اپنے چہرے پر مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے خلیفہ کی طرف نفرت سے دیکھتے ہوئے کہا ،لیکن اب جو میں تمہارے ساتھ کروں گا وہ بھی اللہ کی مرضی ہو گی۔ کہتے ہیں اس کے بعد ہلاکو نے خلیفہ مستعصم کو نمدوں میں لپیٹ کر اس کے اوپر تیز رفتار گھوڑے دوڑا دئیے تھے۔
(نوٹ: یہاں قارئین کیلئے ایک وضاحت ضروری ہے کہ عباسی خلفاء کی فہرست میں ہارون الرشید کے فرزند معتصم بلا جو خلافت عباسیہ کے آٹھویں خلیفہ تھے،اکثر کتابوں میں بھی سینتیسویں خلیفہ مستعصم باللہ کے ساتھ ملا دیا جاتا ہے جبکہ معتصم بلا اور مستعصم باللہ دو الگ الگ خلفاء عباسی گزرے ہیں)

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
چنیوٹ کی شاھی مسجد

چنیوٹ کی شاھی مسجد

شاہ جہاں کے عہد کی یادگارچنیوٹ شہر اپنی تاریخی عمارتوں، لکڑی کے نفیس کام اور قدیم طرزِ تعمیر کی وجہ سے برصغیر میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ دریائے چناب کے کنارے آباد اس شہر میں مغلیہ دور کی کئی یادگاریں موجود ہیں مگر ان میں سب سے نمایاں اور اہم عمارت چنیوٹ کی شاہی مسجد ہے۔چنیوٹ کی شاہی مسجد کی تعمیر سترہویں صدی میں مغل شہنشاہ شاہ جہاں کے دورِ حکومت میں ہوئی۔ اس مسجد کی نسبت مغل دربار کے طاقتور وزیرِاعظم سعد اللہ خان (1595ء تا 1655ء ) سے کی جاتی ہے۔ تاریخی شواہد کے مطابق مسجد کی تعمیر کا آغاز 1646ء میں ہوا اور یہ تقریباً 1655ء تک مکمل ہوئی۔ اس دور میں مغل سلطنت اپنے عروج پر تھی اور فنِ تعمیر میں خوبصورتی، توازن اور شان و شوکت کو خاص اہمیت دی جاتی تھی۔ یہی خصوصیات اس مسجد میں بھی واضح طور پر نظر آتی ہیں۔سعد اللہ خان چنیوٹ کے رہنے والے تھے اور مغل دربار میں ان کا شمار انتہائی بااثر شخصیات میں ہوتا تھا۔ انہوں نے اپنے آبائی شہر کی ترقی اور مذہبی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس عظیم الشان مسجد کی تعمیر کروائی۔ اس طرح یہ مسجد نہ صرف عبادت گاہ بلکہ ایک فلاحی اور سماجی مرکز کے طور پر بھی قائم کی گئی۔چنیوٹ کی شاہی مسجد شہر کے وسط میں واقع ہے اور قدیم بازاروں کے درمیان بلند مقام پر واقع ہے۔ مسجد کا مقام اس طرح منتخب کیا گیا تھا کہ یہ شہر کی مذہبی اور سماجی سرگرمیوں کا مرکز بن سکے۔مسجد کے اردگرد تاریخی بازار موجود ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس علاقے میں صدیوں سے تجارتی سرگرمیاں جاری رہی ہیں۔ مغل دور میں مذہبی عمارتوں کو اکثر ایسے مقامات پر تعمیر کیا جاتا تھا جہاں لوگ آسانی سے جمع ہو سکیں، چنیوٹ کی شاہی مسجد بھی اسی روایت کی عکاسی کرتی ہے۔فنِ تعمیر کی نمایاں خصوصیاتچنیوٹ کی شاہی مسجد کا فنِ تعمیر مغل طرزِ تعمیر کی بہترین مثال ہے۔ مسجد کی مجموعی ساخت مغل دور میں رائج سات محرابی یا سات خانے (Seven Bay) طرز پر مبنی ہے۔ اس طرز میں مرکزی عبادت گاہ کے سامنے محرابوں کی ایک قطار ہوتی ہے جو عمارت کو متوازن اور خوبصورت بناتی ہے۔مسجد کے مرکز میں ایک کشادہ صحن ہے۔ مغل مساجد میں کشادہ صحن ایک اہم عنصر ہوتا تھا کیونکہ جمعہ اور عیدین کے اجتماعات میں بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوتے تھے۔صحن کے چاروں طرف محرابی برآمدے بنائے گئے ہیں جو نہ صرف سایہ فراہم کرتے ہیں بلکہ عمارت کو ایک خاص جمالیاتی حسن بھی دیتے ہیں۔ ان برآمدوں کی محرابیں مغل فنِ تعمیر کی روایتی سادگی اور وقار کی نمائندگی کرتی ہیں۔اس مسجد کی ایک اہم خصوصیت اس کا بلند چبوترہ ہے۔ اس بلند بنیاد کے اندر دکانیں بنائی گئی ہیں۔ دکانوں کا مقصد مسجد کے اخراجات کے لیے مستقل آمدنی کا ذریعہ فراہم کرنا تھا۔ اس طرح مسجد نہ صرف ایک عبادت گاہ بلکہ ایک خود کفیل ادارہ بھی تھی۔ مغل دور میں مذہبی عمارتوں کے ساتھ ایسی معاشی سرگرمیوں کا انتظام عام تھا تاکہ ان کی دیکھ بھال اور مرمت کے اخراجات پورے کیے جا سکیں۔ستونوں کا منفرد استعمالچنیوٹ کی شاہی مسجد کی ایک منفرد خصوصیت یہ ہے کہ محرابِ قبلہ کے سامنے بنے برآمدوں کو سہارا دینے کے لیے ستونوں کا استعمال کیا گیا ہے۔ مغل مساجد میں عام طور پر دیواروں اور محرابوں کے ذریعے چھت کو سہارا دیا جاتا تھا لیکن اس مسجد میں ستونوں کا استعمال نسبتاً غیر معمولی سمجھا جاتا ہے۔ماہرینِ فنِ تعمیر کے مطابق اس طرز کی ایک مثال لاہور کے قلعہ میں موجود موتی مسجد میں بھی ملتی ہے جو شاہ جہاں کے دور ہی میں تعمیر ہوئی تھی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس زمانے میں معمار مختلف تجربات کے ذریعے عمارتوں میں نئے انداز متعارف کروا رہے تھے۔سادگی اور وقار کا امتزاجچنیوٹ کی شاہی مسجد کا ڈیزائن اگرچہ شاندار ہے لیکن اس میں غیر ضروری تزئین و آرائش کم نظر آتی ہے۔ یہ سادگی مغل فنِ تعمیر کے اس رجحان کی عکاسی کرتی ہے جس میں حسن اور توازن کو نمایاں رکھا جاتا تھا۔مسجد کی محرابیں، گنبد اور برآمدے نہایت متناسب انداز میں بنائے گئے ہیں۔ اینٹوں اور چونے کے استعمال سے بنائی گئی یہ عمارت آج بھی اپنی مضبوطی اور خوبصورتی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ وقت گزرنے کے باوجود اس کی اصل ساخت بڑی حد تک محفوظ ہے۔تاریخی اور ثقافتی اہمیتچنیوٹ کی شاہی مسجد صرف ایک مذہبی عمارت نہیں بلکہ ایک تاریخی دستاویز بھی ہے جو مغل دور کی تہذیب، مذہبی زندگی اور شہری منصوبہ بندی کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ مسجد صدیوں سے شہر کے لوگوں کے لیے عبادت، تعلیم اور سماجی رابطے کا مرکز رہی ہے۔ اس سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مغل دور میں مقامی اشرافیہ اور درباری شخصیات اپنے آبائی علاقوں میں عوامی فلاح کے منصوبے شروع کرتی تھیں۔ سعد اللہ خان کی جانب سے اس مسجد کی تعمیر اسی روایت کی ایک نمایاں مثال ہے۔آج بھی چنیوٹ کی شاہی مسجد شہر کی اہم تاریخی یادگاروں میں شمار ہوتی ہے۔ مقامی لوگ اسے عقیدت اور احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں جبکہ تاریخ اور فنِ تعمیر سے دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے یہ ایک اہم مقام ہے۔اگر اس مسجد کی مناسب دیکھ بھال اور تاریخی حیثیت کے مطابق تحفظ کیا جائے تو یہ نہ صرف پاکستان کے ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے بلکہ سیاحت کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

رمضان کےمشروب و پکوان

رمضان کےمشروب و پکوان

ڈھاکہ چکن اجزاء:چکن: 500 گرام ،دہی: آدھا کپ ادرک لہسن پیسٹ: 1 کھانے کا چمچ،لال مرچ پاؤڈر: 1 چائے کا چمچ،ہلدی: آدھا چائے کا چمچ،نمک: حسبِ ذائقہ،گرم مصالحہ: آدھا چائے کا چمچ،لیموں کا رس: 1 کھانے کا چمچ،بیسن: 2 کھانے کے چمچ،انڈا: 1 عدد،ہری مرچ: 2 باریک کٹی ہوئی،تیل: تلنے کے لیےترکیب:چکن کو اچھی طرح دھو کر ایک برتن میں رکھیں۔اس میں دہی، ادرک لہسن پیسٹ، لال مرچ، ہلدی، نمک، گرم مصالحہ اور لیموں کا رس شامل کریں۔پھر بیسن اور انڈا ڈال کر اچھی طرح مکس کریں تاکہ چکن پر اچھی کوٹنگ ہو جائے۔آخر میں ہری مرچ ڈال دیں اور 30 منٹ کے لیے میرینیٹ ہونے دیں۔کڑاہی میں تیل گرم کریں اور چکن کو درمیانی آنچ پر سنہری ہونے تک فرائی کریں۔گرم گرم چٹنی اور سلاد کے ساتھ پیش کریں۔شاہی ٹکڑےاجزاء :ڈبل روٹی کے سلائس: 6،دودھ: 1 لیٹر،چینی: آدھا کپ،گھی یا تیل: فرائی کرنے کے لیے،الائچی پاؤڈر: آدھا چائے کا چمچ،بادام، پستہ: سجاوٹ کے لیے،کیوڑہ یا گلاب جل: چند قطرے (اختیاری)ترکیب: ڈبل روٹی کے سلائس کو تکون شکل میں کاٹ کر گھی میں سنہری ہونے تک تل لیں۔ایک پتیلی میں دودھ ابالیں اور اس میں چینی اور الائچی ڈال دیں۔دودھ کو تھوڑا گاڑھا ہونے تک پکائیں۔تلی ہوئی بریڈ کو ایک ڈش میں رکھ کر اوپر سے گاڑھا دودھ ڈال دیں۔بادام اور پستے سے سجا کر ٹھنڈا کر لیں۔

آج تم یاد بے حساب آئے!حبیب جالب اردو کے انقلابی شاعر ( 1993 - 1928ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!حبیب جالب اردو کے انقلابی شاعر ( 1993 - 1928ء)

٭...24مارچ 1928ء کو ہوشیار پور، مشرقہ پنجاب میں پیدا ہوئے ۔ اصل نام حبیب احمد تھا۔٭...قیام پاکستان کے بعد پاکستان چلے آئے ۔ امروز کراچی میں پروف ریڈر کے طور پر کام کرنے لگے۔٭... کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے رکن بنے۔ 1954ء میں پارٹی پر پابندی لگی تو نیشنل عوامی پارٹی (نیپ ) میں شمولیت اختیار کر لی۔٭...پسے ہوئے طبقات کے لیے جدوجہد کے تمام رنگ اُن کی شاعری میں ملتے ہیں۔٭...جالب کے شعری مجموعوں میں ''حرفِ سرِ دار‘‘،''عہدِ سزا‘‘ ،'سرِ مقتل ‘‘،''ذکر بہتے خون کا‘‘،''گنبدِ بے در‘‘ ،''ا س شہر خرابی میں‘‘،''گوشے میں قفس کے‘‘ اور' حرفِ حق ‘‘شامل ہیں۔٭...حبیب جالب نے فلمی گیت بھی لکھے جو خاصے پسند کئے گئے۔٭...فلم ''زرقا‘‘ میں اُن کا مشہورِ زمانہ گیت''رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے‘‘ تو گویا حبیب جالب کی شناخت بن گیا۔٭...1973ء میں ریلیز ہونے والی فلم''سماج‘‘ میں بھی حبیب جالب کے گیت بہت مقبول ہوئے۔٭...حبیب جالب 12مارچ 1993ء کواس جہان رنگ بو سے رخصت ہوئے، لیکن اُن کی شاعری ہمیشہ عوامی احساسات کی ترجمانی کرتی رہے گی۔ ٭... حبیب جالب کی وفات کے بعد 2008ء میں حکومت پاکستان نے انہیں نشان امتیاز کے اعزاز سے نوازا ۔چند اشعاراور سب بھول گئے حرف صداقت لکھنارہ گیا کام ہمارا ہی بغاوت لکھنانہ صلے کی نہ ستائش کی تمنا ہم کوحق میں لوگوں کے ہماری تو ہے عادت لکھناہم نے جو بھول کے بھی شہہ کا قصیدہ نہ لکھاشاید آیا اسی خوبی کی بدولت لکھناتم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھااس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھادشمنوں نے جو دشمنی کی ہےدوستوں نے بھی کیا کمی کی ہےدنیا تو چاہتی ہے یونہی فاصلے رہیںدنیا کے مشوروں پہ نہ جا اس گلی میں چلپا سکیں گے نہ عمر بھر جس کوجستجو آج بھی اسی کی ہےکچھ لوگ خیالوں سے چلے جائیں تو سوئیںبیتے ہوئے دن رات نہ یاد آئیں تو سوئیںجن کی یادوں سے روشن ہیں میری آنکھیںدل کہتا ہے ان کو بھی میں یاد آتا ہوں

آج کا دن

آج کا دن

ماریشس کی آزادی12 مارچ 1968 ء کو جزیرہ نما ملک ماریشس نے برطانوی راج سے آزادی حاصل کی۔ ماریشس تقریباً ڈیڑھ سو سال تک برطانیہ کی نوآبادی رہا اور اس دوران یہاں مختلف قومیتوں کے لوگ آ کر آباد ہوئے جن میں بھارتی، افریقی، چینی اور یورپی نسل کے لوگ شامل تھے۔آزادی کی تحریک کئی دہائیوں تک جاری رہی، جس میں مقامی سیاسی رہنماؤں اور عوام نے اہم کردار ادا کیا۔ آزادی کے بعد ماریشس نے ایک جمہوری ریاست کے طور پر ترقی کی راہ اختیار کی۔ برلن معاہدہ 12 مارچ 1918 کو روس اور جرمنی کے درمیان ایک اہم معاہدہ طے پایا جسے برلن معاہدہ کہا جاتا ہے۔ یہ معاہدہ پہلی عالمی جنگ کے دوران پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال کے پس منظر میں کیا گیا۔ اس وقت روس میں روسی انقلاب ہو چکا تھا اور نئی بالشویک حکومت کو اندرونی مسائل اور جنگی دباؤ کا سامنا تھا۔نئی حکومت کے سربراہ ولادیمیر لینن جنگ سے نکلنا چاہتے تھے تاکہ وہ ملک کے اندرونی حالات کو بہتر بنا سکیں۔ اسی مقصد کے تحت روس نے جرمنی کے ساتھ مذاکرات شروع کیے۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں مختلف معاہدے طے پائے جن کا مقصد جنگ بندی اور سیاسی تعلقات کو منظم کرنا تھا۔پہلی عوامی لائبریری کا قیام12 مارچ 1798ء کو امریکہ کی ریاست کینٹکی میں پہلی عوامی لائبریری قائم کی گئی۔لائبریری کا قیام دراصل اس خیال پر مبنی تھا کہ علم اور معلومات صرف امیر طبقے تک محدود نہیں ہونی چاہئیں بلکہ ہر شہری کو اس تک رسائی حاصل ہونی چاہیے۔ اس مقصد کے لیے مقامی دانشوروں اور سماجی رہنماؤں نے مل کر ایک ایسی لائبریری قائم کی جہاں لوگ مطالعہ کر سکیں اور کتابیں حاصل کر سکیں۔ابتدائی دور میں اس لائبریری میں زیادہ تر تاریخ، فلسفہ، مذہب اور سائنس سے متعلق کتابیں موجود تھیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کا ذخیرہ بڑھتا گیا اور یہ مقامی کمیونٹی کے لیے ایک اہم علمی مرکز بن گئی۔پہلے ویب براؤزر کا اجرا12 مارچ 1993 کو دنیا کے پہلے گرافیکل ویب براؤزر موزیک (Mosaic) کا ابتدائی ورژن جاری کیا گیا۔ یہ براؤزر نیشنل سینٹر فار سپرکمپیوٹنگ ایپلی کیشنز (NCSA) کے سائنسدانوں نے تیار کیا تھا۔ اس ٹیم کی قیادت نوجوان پروگرامر مارک اینڈریسن کر رہے تھے۔موزیک کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ اس نے انٹرنیٹ کو عام صارفین کے لیے بہت آسان بنا دیا۔ موزیک نے گرافیکل انٹرفیس متعارف کرایا جس میں تصاویر اور متن کو ایک ہی صفحے پر دیکھا جا سکتا تھا۔اس براؤزر کی مقبولیت بہت تیزی سے بڑھی اور اس نے انٹرنیٹ کے استعمال میں انقلاب برپا کر دیا۔

عباسی مسجد قلعہ دراوڑ

عباسی مسجد قلعہ دراوڑ

 چولستان کے صحرا میں مغل طرزِ تعمیر کی جھلکپنجاب کے ضلع بہاولپور میں واقع چولستان کے وسیع و عریض صحرا میں قلعہ دراوڑ اپنی شان و شوکت کے باعث صدیوں سے سیاحوں اور مؤرخین کی توجہ کا مرکز ہے۔ اس عظیم الشان قلعے کے قریب واقع مسجد جسے عام طور پر عباسی مسجد یا قلعہ دراوڑ کی شاہی مسجد بھی کہا جاتا ہے، اپنی خوبصورت مغل طرزِ تعمیر اور تاریخی اہمیت کے باعث خطے کی نمایاں مذہبی و ثقافتی عمارتوں میں شمار ہوتی ہے۔قلعہ دراوڑ اگرچہ دسویں صدی میں تعمیر ہوا اور وقتاً فوقتاً اس کی ازسرِ نو تعمیر ہوتی رہی تاہم عباسی مسجد نسبتاً بعد کی تعمیر ہے۔ اس کی بنیاد 1835ء میں ریاست بہاولپور کے حکمران نواب بہاول خان سوم نے رکھی۔ بعض تاریخی حوالوں میں اس کی تعمیر 1849ء بتائی جاتی ہے، مگر عمومی طور پر 1835ء کو ہی اس کا سنِ تعمیر مانا جاتا ہے۔نواب بہاول خان سوم ریاست بہاولپور کے پانچویں حکمران تھے اور ان کا تعلق عباسی خاندان سے تھا، جس نے بہاولپور کو مضبوط اور خوشحال ریاست کے طور پر قائم رکھا۔ برطانوی دور کے سرکاری گزٹ میں ان کی شخصیت کو خاصی تعریف کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ انہیں سخی بہاول خان کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا کیونکہ وہ اپنی سخاوت اور رعایا پروری کی وجہ سے مشہور تھے۔ برطانوی حکومت کے ساتھ ان کے خوشگوار تعلقات بھی تاریخ میں درج ہیں خصوصاً ملتان کی مہم کے دوران انہوں نے انگریزوں کا ساتھ دیا۔مغل طرزِ تعمیر کی جھلکعباسی مسجد کو عموماً دہلی کی معروف جامع مسجد کی طرز پر تعمیر شدہ مسجد قرار دیا جاتا ہے۔ دہلی کی یہ عظیم مسجد سترہویں صدی میں مغل شہنشاہ شاہ جہاں کے دور میں تعمیر ہوئی تھی اور برصغیر کی بڑی جامع مساجد میں شمار ہوتی ہے۔ اگرچہ انیسویں صدی تک مغل سلطنت کمزور ہو چکی تھی اور اس کا اقتدار عملاً محدود ہو گیا تھا تاہم مغل طرزِ تعمیر اب بھی اقتدار، وقار اور عظمت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ اسی وجہ سے برصغیر کی مختلف ریاستوں کے حکمران اپنی عمارتوں میں مغل طرز کو اپنانا باعثِ فخر سمجھتے تھے۔ عباسی مسجد کی تعمیر بھی اسی روایت کا تسلسل ہے۔ یہ مسجد ایک وسیع صحن کے سامنے پانچ محرابی دروازوں والی سیدھی قطار میں تعمیر کی گئی ہے۔ اس طرزِ تعمیر کی مثالیں دہلی کے قدیم دورِ لودھی کی مساجد میں بھی ملتی ہیں۔ مسجد کے دونوں اطراف پر بلند و بالا مینار تعمیر کیے گئے ہیں جو عمارت کو مزید شان و شوکت عطا کرتے ہیں۔یہ مینار اس طرز کی یاد دلاتے ہیں جو لاہور کی مسجد وزیر خان میں پہلی مرتبہ نمایاں طور پر سامنے آیا تھا۔ بعد ازاں یہی طرز برصغیر کی بڑی جامع مساجد میں عام ہو گیا۔گنبد اور ساختمسجد کے تین بڑے گنبد اونچی بنیاد پر قائم ہیں اور دور سے دیکھنے پر نہایت دلکش منظر پیش کرتے ہیں۔ مغل دور کی بعض ابتدائی مساجد میں گنبدوں کو عمارت کے اگلے حصے کے پیچھے چھپانے کی کوشش کی جاتی تھی جیسا کہ فتح پور سیکری کی بعض مساجد میں دیکھا جا سکتا ہے لیکن عباسی مسجد میں گنبدوں کو نمایاں انداز میں بلند رکھا گیا ہے تاکہ وہ آسمان کی طرف ابھرتے ہوئے دکھائی دیں۔داخلی دروازے اور خطاطیاس مسجد کی ایک دلچسپ خصوصیت اس کے نسبتاً چھوٹے دروازے ہیں۔ عمارت کے سامنے والے بڑے اور بلند حصے کے مقابلے میں یہ دروازے چھوٹے دکھائی دیتے ہیں جو اس دور کی کچھ دیگر مساجد میں بھی نظر آتا ہے مگر دراوڑ مسجد میں یہ تناسب خاصا منفرد ہے۔معماروں نے اگلے حصے کی خالی جگہ کو خوبصورت محرابی طاقچوں اور خطاطی کے پینلوں سے بھر دیا ہے۔ مرکزی دروازہ خاص طور پر نہایت نفیس انداز میں بنایا گیا ہے جس میں دو تہہ دار محرابیں ہیں۔ ان محرابوں کے گرد قرآن مجید کی آیات اور اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ خوبصورت خطاطی میں کندہ کیے گئے ہیں۔چھت کے کناروں پر شعلہ نما محرابی کنگرے بنائے گئے ہیں۔مغربی دیوار کا منفرد جھروکہمسجد کی مغربی دیوار میں ایک منفرد جھروکہ نما کھڑکی بھی موجود ہے جو محراب کے مقام کی نشاندہی کرتی ہے۔ برصغیر کی اکثر مساجد میں مغربی دیوار سادہ رکھی جاتی ہے کیونکہ یہ قبلہ کی سمت ہوتی ہے اور عام طور پر وہاں سے آمد و رفت نہیں ہوتی مگر عباسی مسجد کے معماروں نے اس حصے کو بھی آرائشی انداز دیا۔ماہرینِ تعمیرات کے مطابق اس جھروکے کا مقصد شاید یہ تھا کہ جب نواب قلعے سے نماز کے لیے مسجد آتے تو امام یہاں کھڑے ہو کر ان کا استقبال کر سکتے تھے۔ چونکہ مسجد قلعہ دراوڑ کے مشرق میں واقع ہے اس لیے مغربی دیوار قلعے کی سمت پڑتی ہے اور اس پر آرائش کرنا ضروری سمجھا گیا۔صحرا میں عظیم مسجد کی تعمیرچولستان کے سنسان صحرا کے کنارے اتنی خوبصورت اور بڑی مسجد کی تعمیر بظاہر حیران کن معلوم ہوتی ہے۔ تاہم اس کی وجہ اس علاقے میں عباسی خاندان کی موجودگی تھی۔ قلعہ دراوڑ کے قریب عباسی حکمرانوں کے مقبرے بھی موجود ہیں جو اس جگہ کی سیاسی اور روحانی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ نواب بہاول خان اور ان کا خاندان قلعے کے اندر ایک وسیع رہائش گاہ بھی رکھتے تھے۔وقت گزرنے کے باوجود عباسی مسجد آج بھی کافی اچھی حالت میں ہے۔ قلعہ دراوڑ کی کہنہ سال فصیلیں جگہ جگہ سے بیٹھ گئی ہیں مگر مسجد کی عمارت نسبتاً محفوظ اور مضبوط نظر آتی ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ اسے بعد کے دور میں تعمیر کیا گیا اور اس کی دیکھ بھال بھی نسبتاً بہتر رہی۔یہ مسجد نہ صرف مذہبی اہمیت رکھتی ہے بلکہ برصغیر کی اسلامی فنِ تعمیر کی ایک خوبصورت مثال بھی ہے۔ اس کی تعمیر اس بات کی علامت ہے کہ بہاولپور کے نواب خود کو مغل سلطنت کی تہذیبی و سیاسی روایت کا وارث سمجھتے تھے اور اسی طرزِ تعمیر کو اپناتے ہوئے اپنی حکمرانی کی شان و شوکت ظاہر کرنا چاہتے تھے۔یوں چولستان کے خاموش صحرا میں عباسی مسجد تاریخ، فنِ تعمیر اور روحانیت کا حسین امتزاج پیش کرتی ہے۔ آج بھی جب سیاح قلعہ دراوڑ کی فصیلوں کے سائے میں اس مسجد کو دیکھتے ہیں تو انہیں ماضی کی وہ جھلک دکھائی دیتی ہے جب ریاست بہاولپور اپنی شان و شوکت کے عروج پر تھی اور اس کے حکمران فن و ثقافت کے سرپرست سمجھے جاتے تھے۔

کیا کالے تِل واقعی صحت کیلئے زیادہ مفید ہیں؟

کیا کالے تِل واقعی صحت کیلئے زیادہ مفید ہیں؟

سوشل میڈیا کے دعوئوں اور سائنسی حقائق کا جائزہحالیہ برسوں میں سوشل میڈیا پر مختلف غذاؤں کو ''سپر فوڈ‘‘ کے طور پر پیش کرنے کا رجحان تیزی سے بڑھا ہے۔ انہی میں ایک نئی غذا کالے تل بھی ہیں جن کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ سفید تل کے مقابلے میں زیادہ فائدہ مند ہیں، بلڈ پریشر کم کرتے ہیں، دل کی بیماریوں سے بچاتے ہیں اور حتیٰ کہ سفید بالوں کو دوبارہ سیاہ بھی کر سکتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی سائنس ان دعوؤں کی تائید کرتی ہے؟ کالے تل کیا ہیں؟تل ایک قدیم غذائی جزو ہے جو صدیوں سے ایشیائی کھانوں میں استعمال ہو رہا ہے۔ یہ سفید اور کالے رنگوں میں پایا جاتا ہے۔ ذائقے کے اعتبار سے کالے تل ہلکی سی خوشبودار اور مغزی ذائقہ رکھتے ہیں اور انہیں میٹھے اور نمکین دونوں قسم کے کھانوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ غذائیت کے لحاظ سے تل ایک توانائی سے بھرپور غذا ہے۔ ان میں تقریباً 50 سے 64 فیصد تک چکنائی ہوتی ہے جس کی وجہ سے ان سے تیل بھی حاصل کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ پروٹین، کاربوہائیڈریٹس اور مختلف وٹامنز اور معدنیات کا بھی اچھا ذریعہ ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض غذائی اجزاکالے تل میں سفید تل کے مقابلے میں زیادہ پائے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ان میں چکنائی، پروٹین اور کئی معدنیات کی مقدار قدرے زیادہ ہوتی ہے، اسی وجہ سے انہیں بعض لوگ زیادہ صحت بخش سمجھتے ہیں۔ اینٹی آکسیڈنٹس اور صحتانسانی جسم میں روزمرہ کے عمل جیسے سانس لینے، حرکت کرنے اور سورج کی شعاعوں کے اثر سے فری ریڈیکلز بنتے ہیں۔ یہ نقصان دہ مرکبات خلیوں، پروٹین اور ڈی این اے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔تل میں ایسے کیمیائی مرکبات پائے جاتے ہیں جنہیں اینٹی آکسیڈنٹس کہا جاتا ہے۔ یہ مرکبات فری ریڈیکلز کو بے اثر کرکے جسم کو ممکنہ نقصان سے بچاتے ہیں۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کالے تل میں فینولز اور لِگنین نامی اینٹی آکسیڈنٹس سفید تل کے مقابلے میں زیادہ مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔ ایک اہم مرکب سیسامِن (Sesamin) بھی تل میں پایا جاتا ہے۔ لیبارٹری اور جانوروں پر ہونے والی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اس میں اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات موجود ہیں اور یہ کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کم کرنے میں مددگار ہو سکتا ہے۔ تاہم سائنسدانوں کے مطابق ان تجربات کے نتائج کو براہ راست انسانوں پر لاگو کرنا ابھی قبل از وقت ہے۔ کچھ سائنسی مطالعات میں تل کے ممکنہ فوائد کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ایک جائزے میں چھ مختلف مطالعات کے 465 افراد کے نتائج کا تجزیہ کیا گیا۔ اس میں دیکھا گیا کہ تل کے استعمال سے جسمانی وزن کے اشاریے (BMI)، بلڈ پریشر اور کولیسٹرول میں کچھ کمی دیکھی گئی۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ان مطالعات میں کئی کمزوریاں موجود تھیں، اس لیے سائنسدانوں نے ان نتائج کو حتمی قرار دینے سے گریز کیا اور مزید مضبوط تحقیق کی ضرورت پر زور دیا۔ ایک چھوٹی تحقیق میں کالے تل کے کیپسول چار ہفتے تک استعمال کرنے سے ہلکے بلند بلڈ پریشر والے افراد میں سسٹولک بلڈ پریشر میں کچھ کمی دیکھی گئی مگر یہ نتیجہ بھی محدود پیمانے پر حاصل ہوا۔ کیا کالے تل سفید بال سیاہ کر سکتے ہیں؟سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ مشہور دعویٰ یہی ہے کہ کالے تل سفید بالوں کو دوبارہ سیاہ بنا سکتے ہیں لیکن موجودہ سائنسی تحقیق اس بات کی تائید نہیں کرتی۔ ماہرین کے مطابق اب تک ایسی کوئی معتبر تحقیق سامنے نہیں آئی جس میں ثابت ہو کہ کسی خاص غذا یا سپلیمنٹ سے سفید بال دوبارہ سیاہ ہو سکتے ہیں۔ سائنسی شواہد کے مطابق کالے تل ایک غذائیت سے بھرپور غذا ضرور ہیں تاہم انہیں کسی جادوئی دوا یا ''سپر فوڈ‘‘ کے طور پر پیش کرنا درست نہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ ہم عموماً تل بہت کم مقدار میں کھاتے ہیں مثلاً سالن، روٹی یا میٹھے پر چھڑک کر،اس لیے کالے اور سفید تل کے درمیان فرق سے صحت پر کوئی بڑا اثر نہیں پڑتا۔ اصل اہمیت متوازن اور متنوع غذا کی ہے جس میں مختلف غذائی اجزا شامل ہوں۔ اگر آپ کو کالے تل کا ذائقہ پسند ہے تو انہیں اپنی غذا میں شامل کیا جا سکتا ہے لیکن سفید بالوں کو سیاہ کرنے یا بیماریوں کے مکمل علاج کی توقع رکھنا حقیقت پسندانہ نہیں۔