خلافت عباسیہ کا خاتمہ

خلافت عباسیہ کا خاتمہ

اسپیشل فیچر

تحریر : خاور نیازی


750عیسوی سے 1258ء تک قائم رہنے والی خلافت عباسیہ ، اسلامی تاریخ کی اہم حکومتوں میں سے ایک تھی۔ اس خلافت نے 37 خلفاء دیکھے۔بلا شبہ تاریخ کی کتابیں خلافت عباسیہ کے کارناموں سے بھری پڑی ہیں لیکن تاریخ کا ایک سبق بھی ہے کہ '' تاریخ کوصرف فتوحات سے غرض ہوتی ہے ، تاریخ جواز یا عذر قبول نہیں کیا کرتی ‘‘۔
خلافت عباسیہ کا خاتمہ مسلم امہ کیلئے ایک المیہ سے کم نہیں اور یوں 37ویں عباسی خلیفہ مستعصم باللہ کے ساتھ ہی نہ صرف عباسی خلافت کا سورج ہمیشہ کیلئے غروب ہو گیا بلکہ مسلمانوں کواس کے ساتھ ساتھ سقوط بغداد کا زخم بھی اپنے سینے پرسہنا پڑا۔ وہی بغداد جس کی بنیاد مستعصم باللہ کے جد ابوجعفر بن المنصور نے 762 عیسوی میں بغداد نامی ایک چھوٹے سے قصبے کے قریب رکھی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ چھوٹا ساقصبہ چند عشروں میں دنیا کی تاریخ کا ایک عظیم شہر بن گیا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب دنیا کے چپے چپے سے علم و فضل کے پیاسے جوق در جوق بغداد کا رخ کرنے لگے تھے۔ تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ نویں صدی میں بغداد وہ واحد شہر تھا جہاں کا ہر شہری پڑھ لکھ سکتا تھا۔صرف یہی نہیں بلکہ 775ء سے لیکر 932ء تک بغداد آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا شہر تصور تھا۔اس شہر کو یہ اعزازبھی حاصل تھا کہ بغداد دس لاکھ آبادی کا سنگ میل عبور کرنے والا دنیا کا پہلا شہر تھا۔
سقوط بغداد یا سقوط خلافت عباسیہ کے عوامل چاہے کچھ بھی ہوں لیکن اس میں کوئی دو آراء نہیں کہ آخری عباسی خلیفہ مستعصم باللہ کا سولہ سالہ دور خلافت زیادہ تر عیش و عشرت ، غفلت اور غیر ضروری سرگرمیوں میں گزرا۔اس کا،اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو گا کہ انہیں منگول یلغار کی کانوں کان خبر تک نہ ہوئی اور تو اور ان کا ایک بااعتماد وزیر ابن العل قلمی ان کے پہلو میں بیٹھ کر منگولوں سے خط و کتابت کرتا رہا اورانہیں بغداد پر حملہ کی ترغیب دیتا رہا اور خلیفہء وقت کو خبر تک نہ ہوئی۔ تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ چنگیز خان کے پوتے ہلاکو خان نے 29جنوری 1257ء کو بغداد کے محاصرے کا ارادہ کیاچنانچہ حملہ کرنے سے پہلے ہلاکو خان نے خلیفہ مستعصم باللہ کو ایک خط لکھا '' لوہے کے ڈھیلے کو مکہ مارنے کی کوشش نہ کرو ، سورج کوبجھی موم بتی سمجھنا چھوڑ دو، بغداد کی دیواروں اور فصیلوں کو خود ہی گرا دو اور اس کے ارد گرد کھودی خندقوں کو صاف کر کے حکومت چھوڑ کر ہتھیار ڈال دواور یاد رکھنا اگر ہم نے بغداد پر چڑھائی کی تو نہ تمہیں زمین میں چھپنے کی جگہ ملے گی اور نہ آسمان پر ‘‘۔
اگرچہ خلیفہ مستعصم باللہ میں اپنے پیشرؤں جیسے اوصاف تو نہ تھے لیکن خلیفہ سمجھتے تھے کہ اس قدر وسیع و عریض مسلم امہ اسے تنہا کبھی نہ چھوڑے گی۔چنانچہ اسی زعم میں اس نے ہلاکو خان کو جواباً لکھا'' نوجوان جنگجو ، چار دن کی چاندنی میں تم اپنے آپ کو کائنات کا مالک سمجھ بیٹھے ہو۔ کیا تم نے یہ غور نہیں کیا کہ مشرق سے مغرب تک خدا کے ماننے والے اہل ایمان ، سبھی میری رعایا ہیں۔تمہاری فلاح اسی میں ہے کہ تم انہی قدموں واپس لوٹ جاؤ ‘‘ ۔
ہلاکو خان جو لگ بھگ چار عشروں سے اپنے آبائی وطن منگول کو خیر آباد کہہ کر چار ہزار میل کی مسافت طے کر کے نہ صرف فتوحات کے نئے ریکارڈ قائم کرتا آ رہا تھا بلکہ اسے اپنی فوج پر پورا اعتماد بھی تھا۔ سونے پہ سہاگہ اس کا بھائی منگو خان ثابت ہوا، جس نے منگول سے تازہ دم دستے بغداد بھجوادئیے بلکہ ان کے دیکھا دیکھی آرمینیا اور جارجیا سے بھی خاصی تعداد میں مسیحی فوجی ہلاکو خان سے آن ملے جو دراصل مسلمانوں سے صلیبی جنگوں کا پرانا بدلہ چکانے کیلئے بے تاب تھے۔
یہ عنصر تو ایک طرف، درحقیقت منگول فوج کو تکنیکی اعتبار سے بھی عباسی فوج پر کہیں زیادہ فوقیت حاصل تھی جو اپنے وقت کی جدید ٹیکنالوجی سے لیس تھی۔ہلاکو خان کی فوج میں انجینئرز کا باقاعدہ ایک یونٹ تھا جو بارود کے استعمال کی مہارت رکھتا تھا۔ہلاکو خان کی فوج نے جب منجنیقوں کے ذریعے آگ کے گولے دشمن کی طرف پھینکنا شروع کئے تواہل بغداد اس آگ سے پھیلنے والی تباہی سے گھبرا گئے۔ انہوں نے اس سے پہلے اس طرح آگ برستی نہ دیکھی تھی۔آگ برساتی منجنیقوں نے جہاں ایک طرف لاشوں کے ڈھیر لگانا شروع کر دئیے وہیں خلیفہ بھی اس صورتحال سے گھبرا گئے۔ انہوں نے ہلاکو خان کو بھاری تاوان اور اپنی سلطنت میں جمعہ کے خطبہ میں اس کا نام پڑھنے کی شرط کی پیشکش کر ڈالی لیکن ہلاکوخان نے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا۔
آخر10فروری 1258ء کو 13دن کے محاصرے کے بعد عباسی خلیفہ کو ہلاکو خان کی فوجوں کے سامنے شہر کے دروازے کھولنا پڑے۔خلیفہ مستعصم کو ہلاکو خان کی فوج نے گرفتار کر کے چند دن قید تنہائی میں بھوکا پیاسا رکھا جبکہ باقی اشرافیہ اور رعایا کے ساتھ ہلاکو خان نے وہی سلوک کیا جو ہلاکو خان کادادا چنگیز خان دشمنوں کے ساتھ کرتا رہا تھا۔
چند دن کے بعد جب بھوکے پیاسے خلیفہ مستعصم کو ہلاکو خان کے سامنے پیش کیا گیا تو تھوڑی ہی دیر بعد اس کے سامنے دستر خواں سے ڈھکا ایک ٹرے لایا گیا۔کئی دن کے بھوکے خلیفہ نے جب بے ساختہ دستر خوان اٹھایا تو دیکھا کہ کھانے کے برتن ہیرے جواہرات سے بھرے ہوئے تھے۔ ہلاکو نے خلیفہ کو مخاطب کر کے کہا کھاؤ۔ اس پر خلیفہ بولا،یہ ہیرے بھلا میں کیسے کھاؤں ؟ اس مو قع پر ہلاکو کا تاریخی بیان تھا کہ اگر تم ان ہیروں کی جگہ اپنی فوج کے لئے تیر ، تلواریں بارود بنا لیتے تو ہم شاید بغداد میں کبھی بھی داخل نہ ہو سکتے‘‘۔ خلیفہ نے رندھی ہوئی آواز سے کہا، شاید اللہ کو یہی منظور تھا۔ہلاکو نے اپنے چہرے پر مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے خلیفہ کی طرف نفرت سے دیکھتے ہوئے کہا ،لیکن اب جو میں تمہارے ساتھ کروں گا وہ بھی اللہ کی مرضی ہو گی۔ کہتے ہیں اس کے بعد ہلاکو نے خلیفہ مستعصم کو نمدوں میں لپیٹ کر اس کے اوپر تیز رفتار گھوڑے دوڑا دئیے تھے۔
(نوٹ: یہاں قارئین کیلئے ایک وضاحت ضروری ہے کہ عباسی خلفاء کی فہرست میں ہارون الرشید کے فرزند معتصم بلا جو خلافت عباسیہ کے آٹھویں خلیفہ تھے،اکثر کتابوں میں بھی سینتیسویں خلیفہ مستعصم باللہ کے ساتھ ملا دیا جاتا ہے جبکہ معتصم بلا اور مستعصم باللہ دو الگ الگ خلفاء عباسی گزرے ہیں)

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
2200 سال قدیم انگلیوں کے نشانات

2200 سال قدیم انگلیوں کے نشانات

ٹیراکوٹا آرمی کے معماروں کا راز چین کی ٹیراکوٹا آرمی دنیا کے حیرت انگیز تاریخی آثار میں شمار ہوتی ہے۔ مٹی سے بنے ہزاروں جنگجوؤں، گھوڑوں اور رتھوں پر مشتمل یہ عظیم مجموعہ دو ہزار سال سے زائد عرصے سے ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور تاریخ کے شائقین کی توجہ کا مرکز ہے۔ ان مجسموں کی باریک کاریگری اور منفرد چہرے قدیم چینی تہذیب کی فنی مہارت کا ثبوت ہیں۔ تاہم ایک اہم سوال طویل عرصے سے موجود تھا کہ آخر اس عظیم منصوبے کو مکمل کرنے والے لوگ کون تھے؟تاہم مجسموں پر موجود انگلیوں کے نشانات نے ایک بڑا راز افشا کر دیا ہے اور ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ٹیراکوٹا آرمی کی تیاری میں صرف مرد ہی نہیں خواتین اور بچے بھی شریک تھے۔ ٹیراکوٹا آرمی کی تاریخٹیراکوٹا آرمی چین کے پہلے شہنشاہ چن شی ہوانگ (Qin Shi Huang) کے مقبرے کی حفاظت کے لیے تیار کی گئی تھی۔ انہوں نے 221 قبل مسیح میں چین کی مختلف ریاستوں کو متحد کرکے ایک مرکزی سلطنت قائم کی۔ ان کے دور میں بڑے تعمیراتی منصوبوں اور ریاستی انتظام کو غیر معمولی اہمیت حاصل تھی۔ 1974ء میں چین کے صوبے شانشی میں کنواں کھودتے ہوئے کسانوں کو زمین کے اندر مٹی کے جنگجوؤں کے ٹکڑے ملے۔ بعد ازاں ہونے والی کھدائی نے ایک وسیع زیرِ زمین مجموعے کا انکشاف کیا جس میں ہزاروں جنگجو، گھوڑے اور رتھ شامل تھے۔اس تاریخی مقام پر اب تک دریافت ہونے والے مجموعے میں تقریباً آٹھ ہزار جنگجوؤں، 130 رتھوں، رتھوں کے ساتھ منسلک 520 گھوڑوں اور گھڑ سواروں کے لیے بنائے گئے مزید 150 گھوڑوں کے مجسموں کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔مٹی پر محفوظ انگلیوں کے نشاناتٹیراکوٹا آرمی کے مجسمے تیار کرتے وقت کاریگر گیلی مٹی کو مختلف شکلیں دیتے ، جسم کے حصوں کو آپس میں جوڑتے اور زرہ بکتر پر آرائش کرتے تھے۔ اس عمل کے دوران ان کی انگلیوں کے نشانات مٹی پر ثبت ہوجاتے تھے۔ ہزاروں سال گزرنے کے باوجود بعض نشانات محفوظ رہ گئے جو اَب ماضی کے کاریگروں کے بارے میں معلومات فراہم کررہے ہیں۔محققین نے 36 جسموں کا جائزہ لیا۔ ابتدائی معائنے میں انگلیوں کے 91 نشانات ریکارڈ کیے گئے تاہم 12 نشانات کو خارج کردیا گیا کیونکہ وہ ممکنہ طور پر انہی افراد کے متعدد نشانات تھے۔ اس طرح تفصیلی تجزیے کے لیے 79 نشانات باقی رہ گئے۔یہ نشانات مجسموں کے سروں، بازوؤں، ہاتھوں، کالروں، زرہ بکتر اور دیگر حصوں پر پائے گئے۔ بعض نشانات اس وقت ثبت ہوئے جب کاریگر مٹی کے مختلف حصوں کو جوڑ رہے تھے جبکہ کچھ آرائشی اجزا کو مجسموں کی سطح پر دبانے سے بنے تھے۔انگلیوں کی لکیروں سے کیا معلوم ہوا؟سائنسدانوں نے انگلیوں کی باریک لکیروں کے درمیان فاصلے کی پیمائش کی۔ اس پیمائش کو سائنسی اصطلاح میںMean Ridge Breadth کہا جاتا ہے۔انسان کی نشوونما کے ساتھ انگلیوں کی لکیروں کے درمیان فاصلہ بڑھتا ہے۔محققین نے ان پیمائشوں کی بنیاد پر شماریاتی ماڈل استعمال کیا جس سے تمام نشانات میں مختلف آبادیاتی گروہوں کی ممکنہ نمائندگی کا اندازہ لگایا گیا۔نتائج کے مطابق تقریباً 45 فیصد نشانات بالغ مردوں، 32 فیصد بالغ خواتین اور 22 فیصد پندرہ سال سے کم عمر بچوں سے منسوب کیے گئے۔یہ اعداد اس امکان کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ٹیراکوٹا آرمی کی تیاری میں مختلف عمر اور جنس کے افراد شامل تھے۔ خواتین اور بچوں کا ممکنہ کردارقدیم چین میں ریاستی نگرانی میں چلنے والی ورکشاپس میں خواتین اور بچوں کی شرکت کے تاریخی شواہد موجود ہیں۔ چن خاندان کے دور سے تعلق رکھنے والی بانس کی تختیوں پر لکھی قانونی دستاویزات کاریگروں کی تربیت اور شاگردی کے نظام کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہیں۔ممکن ہے کہ کم عمر شاگردوں کو نسبتاً آسان کام دیے جاتے ہوں مثلاً زرہ بکتر پر چھوٹے آرائشی اجزا لگانا یا مٹی کے تیار شدہ حصوں کو جوڑنے میں مدد دینا جبکہ تجربہ کار کاریگر زیادہ پیچیدہ مجسمہ سازی اور باریک نقش و نگار کا کام انجام دیتے ہوں گے۔ماضی کے گمنام معماروں کی کہانیٹیراکوٹا آرمی محض مٹی کے جنگجوؤں کا مجموعہ نہیں بلکہ ہزاروں افراد کی محنت، مہارت اور اجتماعی کوششوں کی علامت ہے۔ نئی تحقیق اس امکان کو تقویت دیتی ہے کہ اس عظیم منصوبے کے پیچھے کام کرنے والی افرادی قوت متنوع تھی۔مستقبل میں مزید مجسموں پر انگلیوں کے نشانات کا تجزیہ اس سوال کے جواب کو زیادہ واضح کرسکتا ہے کہ قدیم چین میں خواتین، بچوں اور مردوں نے اس تاریخی شاہکار کی تیاری میں کس حد تک حصہ لیا تھا۔اس تحقیق کا سب سے اہم پیغام یہ ہے کہ تاریخ کے عظیم کارناموں کے پیچھے صرف بادشاہوں اور حکمرانوں کے فیصلے نہیں ہوتے بلکہ ان گنت گمنام افراد کی محنت بھی شامل ہوتی ہے۔ ٹیراکوٹا آرمی کے مجسموں پر محفوظ انگلیوں کے یہ نشانات آج بھی ان ہاتھوں کی کہانی سناتے ہیں جنہوں نے دو ہزار سال پہلے مٹی کو ایک لازوال تاریخی شاہکار میں ڈھال دیا۔

 خلا سے زمین تک بجلی

خلا سے زمین تک بجلی

لامحدود شمسی توانائی کے حصول کی نئی دوڑسائنسدان خلا میں ایسے بڑے شمسی بجلی گھر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جو دن رات سورج کی توانائی حاصل کرکے مائیکروویوز کے ذریعے زمین تک پہنچا سکیں۔ چین، امریکہ، برطانیہ اور جاپان اس ٹیکنالوجی کو عملی شکل دینے کے لیے سرگرم ہیں۔سائنسی ویب سائٹ لائیو سائنس کی ایک رپورٹ کے مطابق خلائی شمسی توانائی کے منصوبوں میں کئی ممالک کی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے حامیوں کا خیال ہے کہ اگر اسے کامیابی سے عملی شکل دے دی جائے تو دنیا کی توانائی کی ضروریات کا بہت بڑا حصہ پورا کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس خواب کی تکمیل کے لیے ابھی اہم تکنیکی اور مالی مشکلات حل کرنا باقی ہیں۔ خلا میں شمسی بجلی گھر بنانے کا تصوراس منصوبے کا بنیادی خیال بظاہر سادہ ہے کہ زمین کے گرد مدار میں بڑے سیٹلائٹ نصب کیے جائیں جن پر وسیع شمسی پینل لگے ہوں۔ یہ پینل سورج کی روشنی سے بجلی پیدا کریں گے اور اس توانائی کو مخصوص نظام کے ذریعے مائیکروویوز میں تبدیل کرکے زمین پر بھیجا جائے گا جہاں اسے دوبارہ بجلی میں تبدیل کرکے بجلی کے قومی نظام میں شامل کیا جا سکے گا۔زمین کے برعکس خلا میں سورج کی روشنی کو فضا میں موجود بادلوں، گردوغبار اور دیگر عوامل سے گزرنا نہیں پڑتا۔ مناسب مدار میں نصب نظام کو طویل عرصے تک مسلسل دھوپ بھی مل سکتی ہے۔ اس طرح روایتی شمسی بجلی گھروں کے مقابلے میں زیادہ مستقل توانائی حاصل کرنے کا امکان پیدا ہوتا ہے۔سائنسدانوں کے مطابق اس نظام کا ایک اہم فائدہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بجلی کی پیداوار رات کے وقت مکمل طور پر بند نہ ہو۔ اگر سیٹلائٹ کا مدار اور نظام مناسب انداز میں ڈیزائن کیے جائیں تو زمین پر سورج غروب ہونے کے بعد بھی خلا سے توانائی بھیجی جا سکتی ہے۔ ایک پرانا خواب جو حقیقت کے قریب آ رہا ہےخلا سے توانائی حاصل کرنے کا خیال نیا نہیں۔ روسی سائنسدان اور خلائی سفر کے ابتدائی نظریات پیش کرنے والے کونسٹنٹین تسیا لکوفسکی نے 1923ء میں خلا میں آئینے نصب کرکے سورج کی روشنی کو مرتکز کرنے کا تصور پیش کیا تھا۔ بعد کے عشروں میں یہ خیال سائنس فکشن کا حصہ بنا اور بالآخر انجینئرز نے اسے بجلی پیدا کرنے کے ممکنہ طریقے کے طور پر سنجیدگی سے جانچنا شروع کیا۔1960ء کی دہائی میں امریکی سائنسدان پیٹر گلیزر نے خلائی شمسی توانائی کے ذریعے بجلی زمین تک پہنچانے کے تصور کو مزید منظم شکل دی۔ 1970ء کی دہائی میں ناسا نے بھی اس ٹیکنالوجی کے امکانات کا مطالعہ کیا لیکن اس زمانے میں سیٹلائٹس کی تیاری، انہیں خلا میں پہنچانے اور وہاں نصب کرنے کی لاگت بہت زیادہ تھی۔ابتدائی منصوبوں میں مطلوبہ مقدار میں بجلی پیدا کرنے کے لیے انتہائی بڑے اور بھاری ڈھانچوں کی ضرورت پڑتی تھی۔ 1981ء میں امریکی محکمہ توانائی کے ایک مطالعے میں 300 گیگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے تصور کے لیے درجنوں بڑے سیٹلائٹس کی ضرورت کا اندازہ لگایا گیا تھا۔ اس نوعیت کے منصوبے اس وقت کے وسائل اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے ناقابلِ برداشت سمجھے گئے۔تاہم گزشتہ چند دہائیوں میں ہلکے مواد، بہتر سولر سیلز، روبوٹکس اور خلائی لانچ ٹیکنالوجی میں ہونے والی ترقی نے اس تصور کو دوبارہ قابلِ غور بنا دیا ہے۔ اب سوال صرف یہ نہیں کہ یہ نظام بنایا جا سکتا ہے یا نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ کیا اس سے پیدا ہونے والی بجلی مناسب قیمت پر صارفین تک پہنچائی جا سکتی ہے؟ چین، جاپان، برطانیہ اور امریکہ کی دوڑخلائی سولر انرجی کے حصول کے لیے مختلف ممالک اپنے اپنے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ ان کوششوں کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ آیا خلا میں بجلی پیدا کرکے اسے محفوظ اور مؤثر انداز میں زمین تک پہنچانا ممکن ہے یا نہیں۔چین کا ژو ری (ZhuRi) پروگرام، جس کا مفہوم ''سورج کا تعاقب‘‘ ہے اس شعبے میں نمایاں کوششوں میں شامل ہے۔ جاپان کا اوہی ساما (OHISAMA) منصوبہ بھی خلا سے زمین تک توانائی پہنچانے کے تجربات پر توجہ دے رہا ہے۔ دوسری جانب برطانیہ کی کمپنیSpace Solar ایک بڑے خلائی شمسی بجلی گھر کے ڈیزائن پر کام کر رہی ہے جبکہ امریکہ میںCaltech اور ایئر فورس ریسرچ لیبارٹری توانائی کی وائرلیس ترسیل کے تجربات میں مصروف ہیں۔ سپیس سولر کے مطابق اس کا ایک مکمل سیٹلائٹ تقریباً 1.6 کلومیٹر قطر کا ہوگا اور مسلسل دو گیگاواٹ تک بجلی زمین پرپہنچا سکتا ہے۔ یہ مقدار تقریباً 20 لاکھ افراد پر مشتمل شہر کی بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہو سکتی ہے۔ لامحدود توانائی کا خواب اور چیلنجزخلائی سولر انرجی کی مجوزہ ٹیکنالوجی کے سامنے کئی چیلنجز ہیں۔سب سے پہلے ہزاروں ٹن وزنی سٹرکچر اور لاکھوں سولر پینلز کو خلا میں پہنچانا انتہائی مہنگا کام ہے۔ اس کے بعد مدار میں اتنے بڑے نظام کو جوڑنا، درست سمت میں رکھنا، اس کی مرمت کرنا اور اسے خلائی ملبے سے محفوظ رکھنا بھی بڑے چیلنج ہیں۔دوسرا مسئلہ انرجی کو مائیکروویوز میں تبدیل کرکے زمین تک پہنچانے کا ہے۔مگر سب سے اہم سوال لاگت کا ہے۔ اگر خلائی سولر انرجی، زمین پر نصب سولر پینلز، ہوا سے پیدا ہونے والی بجلی اورانرجی ذخیرہ کرنے کے نظام کے مقابلے میں بہت مہنگی ہوئی تو اس کا وسیع پیمانے پر استعمال مشکل ہوگا۔اس کے باوجود یہ ٹیکنالوجی مستقبل کی توانائی کیلئے ایک بڑا امکان پیش کرتی ہے۔ اگر انجینئرز کم لاگت والے لانچ، مؤثر توانائی کی ترسیل اور قابلِ اعتماد خلائی نظام تیار کرنے میں کامیاب ہو گئے تو دنیا کو صاف توانائی کا ایک نیا ذریعہ مل سکتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

ریاست لوزیانا کی خریداری 20 اکتوبر 1803ء کو امریکی سینیٹ نے فرانس سے لوزیانا کا وسیع علاقہ خریدنے کے معاہدے کی منظوری دی۔ یہ واقعہ ریاستہائے متحدہ امریکہ کی جغرافیائی توسیع اور مستقبل کی ترقی کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا تھا۔لوزیانا کا علاقہ دریائے مسیسیپی کے مغرب میں پھیلی ہوئی وسیع زمینوں پر مشتمل تھا جس میں آج کی کئی امریکی ریاستوں کے علاقے شامل ہیں۔اس خریداری کی مجموعی قیمت تقریباً 15 ملین ڈالر تھی۔ اس معاہدے کے نتیجے میں امریکہ کا رقبہ تقریباً دوگنا ہو گیا جس سے اسے مغرب کی جانب پھیلنے، زراعت کو فروغ دینے اور نئے وسائل تک رسائی حاصل کرنے کے مواقع ملے۔ تاہم اس توسیع کے نتیجے میں مقامی امریکی آبادیوں کی زمینوں اور حقوق سے متعلق مسائل بھی مزید سنگین ہوگئے۔ جنگِ آزادی یونان 20 اکتوبر 1827ء کو بحیرہ روم کے علاقے میں واقع خلیجِ ناوارینو، جو موجودہ یونان کے جنوب مغربی ساحل کے قریب ہے، ایک فیصلہ کن بحری جنگ کا میدان بنی۔ یہ جنگ یونان کی سلطنتِ عثمانیہ سے آزادی حاصل کرنے کی جدوجہد کے دوران لڑی گئی۔ برطانیہ، فرانس اور روس کے مشترکہ بحری بیڑے نے عثمانی اور مصری بحری افواج کا مقابلہ کیا۔ ان یورپی طاقتوں کا مقصد یونان میں جاری جنگ کو روکنے اور یونانیوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کو محدود کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا تھا۔ یہ جنگ بحری تاریخ میں اس لیے بھی اہم ہے کہ اسے بادبانی جہازوں کے ذریعے لڑی جانے والی آخری بڑی بحری جنگوں میں شمار کیا جاتا ہے۔اس فتح نے یونان کی آزادی کی جدوجہد کو فیصلہ کن تقویت دی۔ جنرل میک آرتھر کی واپسیدوسری جنگِ عظیم کے دوران 20 اکتوبر 1944ء کو امریکی جنرل ڈگلس میک آرتھر اتحادی افواج کے ساتھ فلپائن کے جزیرے لیئتے پر اترے۔ یہ واقعہ جاپانی قبضے سے فلپائن کو آزاد کرانے کی مہم میں ایک اہم سنگِ میل تھا۔ جاپانی افواج نے 1941ء اور 1942ء کے دوران فلپائن پر قبضہ کر لیا تھا جس کے بعد میک آرتھر کو امریکی اور فلپائنی افواج کے ساتھ وہاں سے نکلنا پڑا۔ روانگی کے وقت انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ واپس آئیں گے۔لیئتے پر اتحادی افواج کی تعیناتی ایک بڑے فوجی آپریشن کا حصہ تھی جس میں امریکی بحری اور زمینی افواج نے مشترکہ کارروائی کی۔ اس مہم کا مقصد فلپائن میں جاپانی فوجی طاقت کو کمزور کرنا اور بحرالکاہل میں اتحادی افواج کی پیش قدمی کو تیز کرنا تھا۔ چین بھارت جنگ 20 اکتوبر 1962ء کو چین اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازع نے بڑے پیمانے کی جنگ کی شکل اختیار کر لی۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحدوں کے تعین، تاریخی دعوؤں اور ہمالیائی علاقوں پر کنٹرول کے حوالے سے کشیدگی کئی برسوں سے جاری تھی۔ مشرقی حصے میں میک موہن لائن کے بارے میں اختلافات اور مغربی حصے میں لداخ کے علاقے پر دعوے اس تنازع کے بنیادی اسباب میں شامل تھے۔اس روز چینی افواج نے مشرقی سرحدی علاقے اور لداخ میں بھارتی چوکیوں پر حملے کیے۔یہ جنگ تقریباً ایک ماہ تک جاری رہی۔ چین نے 21 نومبر 1962ء کو جنگ بندی کی جس کے بعد مشرقی محاذ پر چینی افواج کی واپسی کا عمل شروع ہوا جبکہ مغربی علاقے خصوصاً اکسائی چن، کا تنازع برقرار رہا۔ واٹرگیٹ سکینڈل اور سنیچر نائٹ میسکر20 اکتوبر 1973ء کو امریکہ میں ایک ایسا سیاسی بحران پیدا ہوا جسے تاریخ میں سنیچر نائٹ میسکر (Saturday Night Massacre) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ واقعہ صدر رچرڈ نکسن کے دورِ حکومت میں سامنے آنے والے واٹرگیٹ سکینڈل کا اہم مرحلہ تھا۔ واٹرگیٹ سکینڈل کا تعلق 1972ء میں ڈیموکریٹک پارٹی کے انتخابی ہیڈکوارٹر میں ہونے والی غیر قانونی دراندازی اور اس واقعے کو چھپانے کی کوششوں سے تھا۔ اس واقعے نے امریکی عوام اور سیاسی حلقوں میں شدید ردِعمل پیدا کیا بالآخر نکسن کی صدارت کے خاتمے کی جانب بڑھنے والے واقعات میں شامل ہوا۔ واٹرگیٹ سکینڈل کی تحقیقات اور وائٹ ہاؤس کی ریکارڈنگز سامنے آنے کے بعد صدر کے لیے سیاسی دباؤ بڑھتا گیا۔ بالآخر نکسن نے 9 اگست 1974ء کو استعفیٰ دے دیا۔

سیلفی اسٹک کی چھٹی

سیلفی اسٹک کی چھٹی

اب روبوٹ بنائے گا آپ کی تصاویر!ٹیکنالوجی کی دنیا میں نت نئی ایجادات نے انسانی زندگی کو پہلے سے کہیں زیادہ آسان اور دلچسپ بنا دیا ہے۔ کبھی اپنی تصویر بنانے کیلئے دوسروں کی مدد لینا پڑتی تھی اور پھر سیلفی اسٹک نے یہ مشکل دور کر دی، لیکن اب سائنس دانوں نے اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے دو ٹانگوں والا ایسا جدید روبوٹ تیار کیا ہے جو اسمارٹ فون اٹھا کر اپنے مالک کے پیچھے پیچھے چل سکتا ہے۔ یہ روبوٹ نہ صرف تصاویر اور ویڈیوز بنانے میں مدد دے سکتا ہے بلکہ انسان کے ساتھ حرکت کرتے ہوئے اسے مختلف زاویوں سے فلم بند کرنے کی سہولت بھی فراہم کر سکتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ مستقبل میں سیلفی لینے کیلئے ہاتھ میں اسٹک پکڑنے کی ضرورت نہیں رہے گی، کیونکہ ایک ننھا روبوٹ ہی آپ کا ذاتی کیمرہ مین بن کر ہر قدم پر آپ کے ساتھ ہوگا۔ ''فون بوٹ‘‘ (PhoneBot) نامی یہ چھوٹا سا آلہ تقریباً 19 انچ (48 سینٹی میٹر) اونچا ہے اور اس کا وزن لگ بھگ چار پاؤنڈ (1.8 کلو گرام) ہے۔ ابتدائی مظاہروں میں تحقیقاتی ٹیم نے دکھایا کہ 400 ڈالر مالیت کا یہ روبوٹ چل سکتا ہے، کسی شخص کی نقل و حرکت پر نظر رکھ سکتا ہے اور اوندھے منہ گرنے کی حالت سے دوبارہ کھڑا بھی ہو سکتا ہے۔ اس روبوٹ کے جسم کے اوپری حصے میں، اس کے ''کولہوں‘‘ کے اوپر، اسمارٹ فون نصب کیا جا سکتا ہے ۔ فون میں موجود کیمرے کی مدد سے روبوٹ لوگوں کو پہچاننے اور ان کا تعاقب کرنے کے قابل ہوتا ہے، جبکہ فون کے موشن سینسرز جسم کی حرکت اور سمت کے بارے میں معلومات جمع کر سکتے ہیں۔ اگرچہ اس روبوٹ کو بنیادی طور پر تحقیقی مقاصد کیلئے تیار کیا گیا ہے، تاہم یہ ایک چلتے پھرتے فوٹوگرافر کے طور پر بھی کام کر سکتا ہے۔ یہ خودکار طور پر اپنی جگہ تبدیل کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنا سکتا ہے کہ تصویر میں موجود تمام افراد کیمرے کے فریم میں سما جائیں۔محققین نے تحقیقی مقالے کے ابتدائی آن لائن نسخے میں، جو ویب سائٹ آرکائیو (arXiv) پر شائع کیا گیا، لکھا ہے کہ ''فون بوٹ‘‘ کم لاگت پر تیار ہونے والا، اوپن سورس اور مختصر جسامت کا انسان نما روبوٹک پلیٹ فارم ہے۔ اس میں عام دستیاب اسمارٹ فون کو ایک ایسے ماڈیولر جسم کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے جو ماحول سے متعلق معلومات حاصل کرنے، روبوٹ کے اندر ہی کمپیوٹنگ کے عمل اور انسانوں کے ساتھ تعامل کی سہولت فراہم کرتا ہے۔یونیورسٹی آف کیلیفورنیاکے محققین کے مطابق روبوٹ کی حرکات کو کنٹرول کرنے والا سافٹ ویئر اسمارٹ فون پر چلتا ہے۔ فون وائی فائی کے ذریعے ایک چھوٹے سے کمپیوٹر کو ہدایات بھیجتا ہے، جو آگے یہ احکامات روبوٹ کی موٹروں تک پہنچاتا ہے۔ مجموعی طور پر فون بوٹ میں 13 موٹریں نصب ہیں، جن میں سے چھ چھ دونوں ٹانگوں میں جبکہ ایک موٹر اس کے دھڑ کو گھمانے کیلئے استعمال ہوتی ہے۔ یہ اضافی جوڑ روبوٹ کو اس قابل بناتا ہے کہ اس کے پاؤں اپنی جگہ قائم رہیں، لیکن کیمرا مختلف زاویوں سے منظر عکس بند کرنے کیلئے دائیں یا بائیں جانب گھوم سکے۔ تحقیقاتی ٹیم نے مختلف اسمارٹ فونز کے ساتھ اس نظام کی آزمائش کی اور معلوم کیا کہ تمام آزمودہ فون بنیادی سینسنگ، حرکات کو کنٹرول کرنے اور بصری معلومات حاصل کرنے کے افعال کی معاونت کرتے ہیں۔ فی الحال اس روبوٹ کے بازو موجود نہیں ہیں، تاہم سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں اس میں ہلکے وزن والے بازو نصب کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تاکہ یہ مختلف اشیا کو پکڑنے اور سنبھالنے کے قابل ہو سکے۔ محققین یہ بھی جانچنا چاہتے ہیں کہ ناہموار سطحوں پر یہ روبوٹ کس طرح حرکت کرتا ہے، کیونکہ اب تک اس کی آزمائش صرف ہموار زمین پر کی گئی ہے۔یہ نظام اسمارٹ فون کے مائیکروفون اور اسپیکر کی مدد سے بول کر دی جانے والی ہدایات پر بھی عمل کر سکتا ہے۔ تاہم، فی الحال آواز کو پہچاننے اور زبان کو سمجھنے سے متعلق افعال ایک الگ لیپ ٹاپ کے ذریعے انجام دیے جاتے ہیں۔ سائنسدانوں کو امید ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے ان ماڈلز کو براہِ راست اسمارٹ فون پر چلانے کے قابل بنا دیا جائے گا۔تحقیقاتی ٹیم کو امید ہے کہ یہ کم لاگت والا پلیٹ فارم تعلیم، تحقیق اور نئے نمونوں کی تیز رفتار تیاری کیلئے ایک سستا اور قابلِ تکرار نظام فراہم کرے گا، جس سے انسان نما روبوٹس کو تیار کرنا اور ان تک رسائی حاصل کرنا مزید آسان ہو جائے گا۔

 اردو اور مصنوعی ذہانت: موقع بھی، امتحان بھی

اردو اور مصنوعی ذہانت: موقع بھی، امتحان بھی

دفتر میں ایک کلرک موبائل پر انگریزی خط کا اردو ترجمہ کروا رہا ہے۔ایک طالبہ اسائنمنٹ کے مشکل سوال پر مصنوعی ذہانت سے الجھ رہی ہے۔ بزرگ کو اردو کی بورڈ سے اب بھی الجھن ہوتی ہے، سو وہ بولتا جاتا ہے اور فون لکھتا جاتا ہے۔ چند برس پہلے کوئی یہ منظر بیان کرتا تو شاید ہم اسے سائنس فکشن کہتے۔ اب کسی کو حیرت بھی نہیں ہوتی۔ مشین اردو بولنے لگی ہے۔پڑھ بھی لیتی ہے، لکھ بھی دیتی ہے، ترجمہ بھی کر دیتی ہے۔ کبھی ایسی اردو کہ آدمی داد دے، کبھی ایسا جملہ کہ فوراً پتا چل جائے صاحب اردو گھر کی زبان نہیں۔مصنوعی ذہانت اردو کیلئے ایک نیا دروازہ کھول رہی ہے یا ہم اپنی زبان کو آہستہ آہستہ مشین کے مزاج پر ڈھال رہے ہیں؟شاید دونوں باتیں درست ہیں۔کسی زمانے میں انگریزی کا خط آ جائے تو دفتر میں وہ شخص تلاش کیا جاتا تھا جس کی انگریزی اچھی ہو۔ آج موبائل نکالیے، تصویر لیجیے اور ترجمہ سامنے۔ درخواست لکھوانی ہو، کسی لمبی تحریر کا خلاصہ چاہیے، انگریزی پیغام سمجھ نہیں آ رہا یا جواب اردو میں دینا ہے، بہت سے کام چند لمحوں میں ہو جاتے ہیں۔آواز سے اردو لکھنے کی سہولت نے تو ایک اور رکاوٹ ختم کر دی ہے۔ ہمارے ہاں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو عمدہ اردو بول سکتے ہیں مگر موبائل پر اردو ٹائپ کرتے ہوئے ان کی رفتار آدھی رہ جاتی ہے۔ اب وہ بولتے ہیں اور فون لکھتا جاتا ہے۔ یعنی زبان اور ٹیکنالوجی کے درمیان جو دروازہ مدت سے آدھا بند تھا، وہ کچھ کھلا ہے۔مگر پورا نہیں۔نستعلیق صرف فونٹ نہیںبرسوں ہم نے اخبار، رسالہ اور کتاب انٹرنیٹ پر ڈالنے کو یہ سمجھا کہ اس کے صفحے کی تصویر چڑھا دی، کام ختم۔ انسان اسے پڑھ لیتا تھا، مشین کیلئے اکثر وہ صرف تصویر تھی۔پھر ہمارا نستعلیق ہے۔اردو والے جانتے ہیں کہ نستعلیق صرف حروف نہیں، ہماری آنکھ کی عادت بھی ہے۔ شعر نستعلیق میں نظر آئے تو کچھ اور لگتا ہے۔ مگر مشین کیلئے یہی حسن مصیبت بن جاتا ہے۔ حروف جڑتے ہیں،نقطے اپنی جگہیں بدلتے ہیں۔ پرانی کتاب کا زرد صفحہ، مدھم روشنائی اور اوپر سے نستعلیق،مشین سے کہیے اسے حرف بہ حرف درست پڑھو، تو اس کا امتحان شروع ہو جاتا ہے۔ اسی لیے مصنوعی ذہانت بازار، دفتر اور سوشل میڈیا والی اردو میں خاصی تیز ہے، لیکن محاورہ ذرا ٹیڑھا ہو، طنز دبا ہوا ہو یا شعر میں بات لفظ کے بجائے اشارے سے کہی گئی ہو تو اس کے قدم لڑکھڑا سکتے ہیں۔ الماریوں میں پڑا خزانہکبھی کسی پرانے گھر کی کتابوں والی الماری کھولیے۔کتاب کا کاغذ زرد، جلد کے کنارے اکھڑے ہوئے ۔ بعض کتابیں ایسی ہیں جن کا نیا نسخہ شاید بازار میں ملے ہی نہ۔ہمارے کتب خانوں، پرانے اداروں اور گھروں میں ایسا کتنا مواد پڑا ہے۔یہاں مصنوعی ذہانت اردو کی بڑی خدمت کر سکتی ہے۔ اگر اردو کی تحریر پہچاننے کے نظام بہتر ہو جائیں تو لاکھوں صفحات صرف تصویروں کی صورت محفوظ نہیں ہوں گے بلکہ باقاعدہ متن بن سکتے ہیں۔ کسی پرانی کتاب میں نام، شعر یا واقعہ تلاش کرنا ممکن ہوگا۔ جو کتاب لاہور یا کراچی کی کسی الماری میں بند ہے، اسے دنیا کے دوسرے سرے پر بیٹھا طالب علم پڑھ سکے گا۔مشین کی عادت ذرا خطرناک ہےوہ غلط بھی ہو تو بعض اوقات لہجہ ایسا رکھتی ہے جیسے بات پتھر پر لکھی ہو۔ آپ کسی شعر کا شاعر پوچھیں، وہ نام بتا دے گی۔ نام غلط بھی ہو سکتا ہے۔ کتاب کا حوالہ مانگیں تو کبھی ایسی کتاب یا صفحہ بھی سامنے آ سکتا ہے جس کا وجود تلاش کرنے پر مشکل سے ملے،یا ملے ہی نہیں۔ اردو میں یہ خطرہ زیادہ ہے، کیونکہ ہمارے پاس پہلے ہی اشعار کی غلط نسبت کا پورا بازار آباد ہے۔ سوشل میڈیا پر اقبال، غالب اور فراز کے نام سے وہ کچھ گردش کرتا رہا ہے جو شاید ان تینوں نے خواب میں بھی نہ کہا ہو۔اور پھر لکھنے کا معاملہ ہے۔آج چند سطریں لکھ کر کہیں کہ غزل بنا دو، افسانہ لکھ دو، کالم تیار کر دو۔ جواب حاضر۔سوال یہ نہیں کہ مشین ایسا کر سکتی ہے یا نہیں کر سکتی ہے۔سوال یہ ہے کہ پھر لکھنے والا کہاں ہے؟اگر خیال بھی ادھار، جملہ بھی تیار، استعارہ بھی مشین کا اور آخری سطر بھی وہی دے رہی ہے توکیا صفحے کے اوپر اپنا نام لکھ دینے سے تحریر اپنی ہو جاتی ہے؟ ۔مجھے ایک اور خطرہ اس سے بھی بڑا لگتا ہے،بے رنگ اردو۔وہ اردو جس میں املا درست ہو، جملہ مکمل ہو، قواعد بھی سلامت ہوںمگر پڑھ کر معلوم نہ ہو کہ اسے لاہور والے نے لکھا، لکھنؤ والے نے، کراچی والے نے یا کسی مشین نے۔ زبان صرف درست جملے نہیں ہوتی۔اس میں محلے کی آواز ہوتی ہے، ماں کا بولا ہوا کوئی لفظ، دادی کی کہاوت، گلی کی پھبتی، پنجابی کی آمیزش، دکنی کی مٹھاس، کراچی کا اپنا لہجہ اور لکھنے والے کی اپنی کجی بھی ہوتی ہے۔ہر کجی درست کر دی جائے تو کبھی کبھی زبان بھی سیدھی نہیں، سپاٹ ہو جاتی ہے۔اب کام ہمارا ہےمصنوعی ذہانت سے یہ شکایت کرنا آسان ہے کہ اسے اچھی اردو نہیں آتی۔مگر سوال یہ بھی ہے کہ ہم نے اسے پڑھنے کیلئے دیا کیا ہے؟ کتنی پرانی کتابیں قابلِ تلاش متن میں موجود ہیں؟ کتنے رسائل صرف بوسیدہ جلدوں میں بند ہیں؟ ہماری جامعات نے کتنا معیاری اردو مواد ڈیجیٹل صورت میں محفوظ کیا؟ ناشر اپنے پرانے ذخیرے کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟مشین خلا میں زبان نہیں سیکھتی۔ اسے جو ملتا ہے، اسی سے سیکھتی ہے۔اس لیے کام صرف ٹیکنالوجی کمپنیوں کا نہیں۔ جامعات، کتب خانے، اخبارات، ناشر، ادبی ادارے اور لکھنے والے سب اس میں شریک ہیں۔

طنز و مزاح:سوئز بینک میں کھاتہ ہمارا

طنز و مزاح:سوئز بینک میں کھاتہ ہمارا

حضرات! میں کسی مجبوری اور دباؤ کے بغیر اور پورے ہوش و حواس کے ساتھ یہ اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ سوئٹزرلینڈ کے ایک بینک میں میرا اکاؤنٹ موجود ہے۔ آپ اس بات کو نہیں مانتے تو نہ مانئے۔ میری بیوی بھی پہلے اس بات کو نہیں مانتی تھی۔ اب نہ صرف اس بات کو مان رہی ہے بلکہ مجھے بھی ماننے لگی ہے۔آپ یقیناً یہ سوچ رہے ہوں گے کہ جب سارے لوگ اپنے کھاتوں کو پوشیدہ رکھنے کے سو سو جتن کررہے ہیں تو ایسے میں مجھے اپنے آپ ہی اپنے کھاتے کی موجودگی کا اعلان کرنے کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے۔ ایک دن میں دفتر سے بے حد تھکا ماندہ گھر پہنچا تو بیوی نے کہا، ''آپ جو اتنا تھک جاتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ دفتر میں کام بھی کرتے ہیں‘‘۔میں نے کہا، ''بھلا یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے۔ آدمی کام کرنے سے ہی تو تھکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک میں نے کسی سیاستدان اور مولوی کو تھکا ماندہ نہیں پایا‘‘۔بولی، ''آدمی محنت کرتا ہے تو پھر اسے اس کا صلہ بھی ملتا ہے۔ تم جو اتنی محنت کرتے ہو تو تمہیں کیا مل رہا ہے؟‘‘۔ظاہر ہے کہ اس مشکل سوال کا آسان جواب جب ملک کے ماہرین معاشیات کے پاس بھی نہیں ہے تو میں کیا خاک جواب دیتا۔ سو میں خاموش ہوگیا۔ میں نے سوچا کہ تیس برس کی رفاقت میں، میں نے اپنی بیوی کو روز کی خوشیاں اسی روز دینے کے سوائے اور کیا کیا ہے۔ اس کی جھولی میں ایک ایک دن اور ایک ایک پل کو جوڑ کر جمع کیا ہوا تیس برسوں کے عرصہ پر پھیلا ہوا ماضی تو ہے لیکن آنے والے کل کا کوئی ایسا لمحہ نہیں ہے جسے عام زبان میں خوش آئند مستقبل کہتے ہیں۔ میں نے سوچا آج اسے تھوڑا سا مستقبل بھی دے دیتے ہیں۔ لہٰذا میں نے کہا، ''یہ تم کیا محنت اور صلہ کے پیچھے حیران ہو رہی ہو۔ آج میں تمہیں ایک خوشخبری سنانا چاہتا ہوں کہ سوئٹزرلینڈ کے ایک بینک میں میرا اکاؤنٹ موجود ہے‘‘۔ یہ سنتے ہی میری بیوی کا منہ حیرت سے کھلا کا کھلا رہ گیا۔ بڑی دیر بعد جب وہ بند ہوا تو اس نے اچانک گھر کے دروازے اور کھڑکیاں بند کرنی شروع کر دیں۔میں نے کہا، ''یہ کیا کر رہی ہو؟‘‘بولی، ''سوئٹزرلینڈ کے بینک کے کھاتے کی بات کوئی یوں کھلم کھلا کرتا ہے۔ اگر بفرض ِمحال سوئٹزرلینڈ کے کسی بینک میں تمہارا کھاتہ ہے بھی تو تمہیں اس کا اعلان کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ اگر مجھے اس کھاتے کا سراغ لگانا ہو تو میں کسی خفیہ ایجنسی کے ذریعے اس کا پتہ لگا سکتی ہوں یا پھر ایک دن ملک کے کسی اخبار میں خود بخود اس کی خبر چھپ جائے گی۔ مگر پہلے یہ بتاؤ کیا سچ مچ سوئٹزرلینڈکے بینک میں تمہارا کھاتہ موجود ہے؟‘‘میں نے کہا، ''سچ بتاؤ! آج تک میں نے تم سے کبھی جھوٹ کہا ہے؟‘‘۔بولی، ''سوتو ہے مگر یہ کھاتہ تم نے کھولا کب؟‘‘۔میں نے کہا، ''چار سال پہلے جب میں یوروپ گیا تھا؟‘‘میرے اس جواب نے میری بیوی کو اور بھی حیرت میں ڈال دیا کیونکہ اسے پتہ تھا کہ جب میں یورپ کیلئے روانہ ہوا تھا تو میری جیب میں صرف بیس ڈالر تھے۔ اگرچہ حکومت نے مجھے اجازت دی تھی کہ اگر میں بیرونی زرِمبادلہ حاصل کرنا چاہوں تو پانچ سو ڈالر تک خرید سکتا ہوں۔ لیکن بیرونی کرنسی خریدنے کیلئے پہلے مجھے ملکی کرنسی کی ضرورت تھی۔ بیرونی کرنسی تو مجھے مل رہی تھی لیکن اصل سوال ملکی کرنسی کا تھا۔ اتنے میں میری بیوی دنیا کا نقشہ اٹھا کر لے آئی اور بولی، ''ذرا دکھاؤ تو سہی۔ یہ موا سوئٹزرلینڈ ہے کہاں؟ اور اس میں ہمارا اکاؤنٹ کہاں رکھا ہوا ہے؟‘‘میں نے دنیا کے نقشہ میں اسے سوئٹزرلینڈکو دکھانے کی کوشش شروع کردی۔لیکن کمبخت سوئٹزرلینڈ اتنا چھوٹا نکلا کہ اس پر جب جب انگلی رکھتا تو پورے کا پورا سوئٹزرلینڈ غائب ہو جاتا تھا۔ بالآخر قلم کی نوک سے سوئٹزرلینڈ کے حدودِ اربع اس پر واضح کئے تو بولی، ''یہ تو اتنا چھوٹا ہے کہ اس میں کسی بینک کی عمارت شاید ہی سما سکے۔ ہمارے بینک اکاؤنٹ کے سمانے کا نمبر تو بعد میں آئے گا‘‘۔ بیوی نے کہا، ''مگر تم تو سوئٹزرلینڈسیر سپاٹے کیلئے گئے تھے۔ وہاں کے قدرتی مناظر کو دیکھنے گئے تھے۔ یہ اکاؤنٹ کھولنے والا معاملہ کب ظہور میں آیا؟‘‘۔میں نے کہا، ''بیگم! کان کھول کر سن لو۔ یہ پہاڑ اورقدرتی مناظر سب بہانے بنانے کی باتیں ہیں۔ آج تک کوئی سوئٹزرلینڈمیں صرف پہاڑ دیکھنے کیلئے نہیں گیا۔ پہاڑ کی آڑ میں وہ کچھ اور کرنے جاتا ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے پہاڑ اس لئے اچھے لگتے ہیں کہ ان کے دامن میں سوئٹزرلینڈ کے وہ مشہور و معروف بینک ہیں جن میں اپنا پیشہ جمع کراؤ تو پیسہ جمع کرنے والے کی بیوی تک کو معلوم نہیں ہوتا کہ اس میں اس کے شوہر کا پیسہ جمع ہے۔