خلافت عباسیہ کا خاتمہ

خلافت عباسیہ کا خاتمہ

اسپیشل فیچر

تحریر : خاور نیازی


750عیسوی سے 1258ء تک قائم رہنے والی خلافت عباسیہ ، اسلامی تاریخ کی اہم حکومتوں میں سے ایک تھی۔ اس خلافت نے 37 خلفاء دیکھے۔بلا شبہ تاریخ کی کتابیں خلافت عباسیہ کے کارناموں سے بھری پڑی ہیں لیکن تاریخ کا ایک سبق بھی ہے کہ '' تاریخ کوصرف فتوحات سے غرض ہوتی ہے ، تاریخ جواز یا عذر قبول نہیں کیا کرتی ‘‘۔
خلافت عباسیہ کا خاتمہ مسلم امہ کیلئے ایک المیہ سے کم نہیں اور یوں 37ویں عباسی خلیفہ مستعصم باللہ کے ساتھ ہی نہ صرف عباسی خلافت کا سورج ہمیشہ کیلئے غروب ہو گیا بلکہ مسلمانوں کواس کے ساتھ ساتھ سقوط بغداد کا زخم بھی اپنے سینے پرسہنا پڑا۔ وہی بغداد جس کی بنیاد مستعصم باللہ کے جد ابوجعفر بن المنصور نے 762 عیسوی میں بغداد نامی ایک چھوٹے سے قصبے کے قریب رکھی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ چھوٹا ساقصبہ چند عشروں میں دنیا کی تاریخ کا ایک عظیم شہر بن گیا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب دنیا کے چپے چپے سے علم و فضل کے پیاسے جوق در جوق بغداد کا رخ کرنے لگے تھے۔ تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ نویں صدی میں بغداد وہ واحد شہر تھا جہاں کا ہر شہری پڑھ لکھ سکتا تھا۔صرف یہی نہیں بلکہ 775ء سے لیکر 932ء تک بغداد آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا شہر تصور تھا۔اس شہر کو یہ اعزازبھی حاصل تھا کہ بغداد دس لاکھ آبادی کا سنگ میل عبور کرنے والا دنیا کا پہلا شہر تھا۔
سقوط بغداد یا سقوط خلافت عباسیہ کے عوامل چاہے کچھ بھی ہوں لیکن اس میں کوئی دو آراء نہیں کہ آخری عباسی خلیفہ مستعصم باللہ کا سولہ سالہ دور خلافت زیادہ تر عیش و عشرت ، غفلت اور غیر ضروری سرگرمیوں میں گزرا۔اس کا،اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو گا کہ انہیں منگول یلغار کی کانوں کان خبر تک نہ ہوئی اور تو اور ان کا ایک بااعتماد وزیر ابن العل قلمی ان کے پہلو میں بیٹھ کر منگولوں سے خط و کتابت کرتا رہا اورانہیں بغداد پر حملہ کی ترغیب دیتا رہا اور خلیفہء وقت کو خبر تک نہ ہوئی۔ تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ چنگیز خان کے پوتے ہلاکو خان نے 29جنوری 1257ء کو بغداد کے محاصرے کا ارادہ کیاچنانچہ حملہ کرنے سے پہلے ہلاکو خان نے خلیفہ مستعصم باللہ کو ایک خط لکھا '' لوہے کے ڈھیلے کو مکہ مارنے کی کوشش نہ کرو ، سورج کوبجھی موم بتی سمجھنا چھوڑ دو، بغداد کی دیواروں اور فصیلوں کو خود ہی گرا دو اور اس کے ارد گرد کھودی خندقوں کو صاف کر کے حکومت چھوڑ کر ہتھیار ڈال دواور یاد رکھنا اگر ہم نے بغداد پر چڑھائی کی تو نہ تمہیں زمین میں چھپنے کی جگہ ملے گی اور نہ آسمان پر ‘‘۔
اگرچہ خلیفہ مستعصم باللہ میں اپنے پیشرؤں جیسے اوصاف تو نہ تھے لیکن خلیفہ سمجھتے تھے کہ اس قدر وسیع و عریض مسلم امہ اسے تنہا کبھی نہ چھوڑے گی۔چنانچہ اسی زعم میں اس نے ہلاکو خان کو جواباً لکھا'' نوجوان جنگجو ، چار دن کی چاندنی میں تم اپنے آپ کو کائنات کا مالک سمجھ بیٹھے ہو۔ کیا تم نے یہ غور نہیں کیا کہ مشرق سے مغرب تک خدا کے ماننے والے اہل ایمان ، سبھی میری رعایا ہیں۔تمہاری فلاح اسی میں ہے کہ تم انہی قدموں واپس لوٹ جاؤ ‘‘ ۔
ہلاکو خان جو لگ بھگ چار عشروں سے اپنے آبائی وطن منگول کو خیر آباد کہہ کر چار ہزار میل کی مسافت طے کر کے نہ صرف فتوحات کے نئے ریکارڈ قائم کرتا آ رہا تھا بلکہ اسے اپنی فوج پر پورا اعتماد بھی تھا۔ سونے پہ سہاگہ اس کا بھائی منگو خان ثابت ہوا، جس نے منگول سے تازہ دم دستے بغداد بھجوادئیے بلکہ ان کے دیکھا دیکھی آرمینیا اور جارجیا سے بھی خاصی تعداد میں مسیحی فوجی ہلاکو خان سے آن ملے جو دراصل مسلمانوں سے صلیبی جنگوں کا پرانا بدلہ چکانے کیلئے بے تاب تھے۔
یہ عنصر تو ایک طرف، درحقیقت منگول فوج کو تکنیکی اعتبار سے بھی عباسی فوج پر کہیں زیادہ فوقیت حاصل تھی جو اپنے وقت کی جدید ٹیکنالوجی سے لیس تھی۔ہلاکو خان کی فوج میں انجینئرز کا باقاعدہ ایک یونٹ تھا جو بارود کے استعمال کی مہارت رکھتا تھا۔ہلاکو خان کی فوج نے جب منجنیقوں کے ذریعے آگ کے گولے دشمن کی طرف پھینکنا شروع کئے تواہل بغداد اس آگ سے پھیلنے والی تباہی سے گھبرا گئے۔ انہوں نے اس سے پہلے اس طرح آگ برستی نہ دیکھی تھی۔آگ برساتی منجنیقوں نے جہاں ایک طرف لاشوں کے ڈھیر لگانا شروع کر دئیے وہیں خلیفہ بھی اس صورتحال سے گھبرا گئے۔ انہوں نے ہلاکو خان کو بھاری تاوان اور اپنی سلطنت میں جمعہ کے خطبہ میں اس کا نام پڑھنے کی شرط کی پیشکش کر ڈالی لیکن ہلاکوخان نے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا۔
آخر10فروری 1258ء کو 13دن کے محاصرے کے بعد عباسی خلیفہ کو ہلاکو خان کی فوجوں کے سامنے شہر کے دروازے کھولنا پڑے۔خلیفہ مستعصم کو ہلاکو خان کی فوج نے گرفتار کر کے چند دن قید تنہائی میں بھوکا پیاسا رکھا جبکہ باقی اشرافیہ اور رعایا کے ساتھ ہلاکو خان نے وہی سلوک کیا جو ہلاکو خان کادادا چنگیز خان دشمنوں کے ساتھ کرتا رہا تھا۔
چند دن کے بعد جب بھوکے پیاسے خلیفہ مستعصم کو ہلاکو خان کے سامنے پیش کیا گیا تو تھوڑی ہی دیر بعد اس کے سامنے دستر خواں سے ڈھکا ایک ٹرے لایا گیا۔کئی دن کے بھوکے خلیفہ نے جب بے ساختہ دستر خوان اٹھایا تو دیکھا کہ کھانے کے برتن ہیرے جواہرات سے بھرے ہوئے تھے۔ ہلاکو نے خلیفہ کو مخاطب کر کے کہا کھاؤ۔ اس پر خلیفہ بولا،یہ ہیرے بھلا میں کیسے کھاؤں ؟ اس مو قع پر ہلاکو کا تاریخی بیان تھا کہ اگر تم ان ہیروں کی جگہ اپنی فوج کے لئے تیر ، تلواریں بارود بنا لیتے تو ہم شاید بغداد میں کبھی بھی داخل نہ ہو سکتے‘‘۔ خلیفہ نے رندھی ہوئی آواز سے کہا، شاید اللہ کو یہی منظور تھا۔ہلاکو نے اپنے چہرے پر مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے خلیفہ کی طرف نفرت سے دیکھتے ہوئے کہا ،لیکن اب جو میں تمہارے ساتھ کروں گا وہ بھی اللہ کی مرضی ہو گی۔ کہتے ہیں اس کے بعد ہلاکو نے خلیفہ مستعصم کو نمدوں میں لپیٹ کر اس کے اوپر تیز رفتار گھوڑے دوڑا دئیے تھے۔
(نوٹ: یہاں قارئین کیلئے ایک وضاحت ضروری ہے کہ عباسی خلفاء کی فہرست میں ہارون الرشید کے فرزند معتصم بلا جو خلافت عباسیہ کے آٹھویں خلیفہ تھے،اکثر کتابوں میں بھی سینتیسویں خلیفہ مستعصم باللہ کے ساتھ ملا دیا جاتا ہے جبکہ معتصم بلا اور مستعصم باللہ دو الگ الگ خلفاء عباسی گزرے ہیں)

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
سمندری چٹانیں تباہی کے دہانے پر!

سمندری چٹانیں تباہی کے دہانے پر!

2026ء سمندری حیات کیلئے خطرناک قرار دنیا بھر کے سمندروں میں پھیلی مرجانی چٹانیں، جو سمندری حیات کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں آج تاریخ کے سب سے بڑے خطرے سے دوچار ہیں۔ ماہرین ماحولیات نے خبردار کیا ہے کہ 2026ء وہ سال ثابت ہو سکتا ہے جب عالمی سطح پر سمندری چٹانوں کا نظام تیزی سے بکھرنے لگے گا۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت، سمندری پانی کی تیزابیت اور موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات نے ان نازک ماحولیاتی نظاموں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ماہرین کے مطابق آئندہ بارہ ماہ کے دوران ہونے والا نقصان نہ صرف سمندری حیات بلکہ کروڑوں انسانوں کی خوراک، روزگار اور ساحلی تحفظ کیلئے بھی تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔انسانی سرگرمیوں کے باعث پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں سمندروں کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کے باعث دنیا بھر میں موجود سمندری چٹانیں تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہیں۔ گزشتہ 10 برسوں کے دوران دنیا کی اندازاً 30 سے 50 فیصد سمندری چٹانیں پہلے ہی تباہ ہو چکی ہیں۔ اب ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ دنیا سمندری حیات کیلئے ایک ایسے ناقابل واپسی موڑ کے قریب پہنچ چکی ہے۔سمندری ماحولیاتی نظام کی ماہر ڈاکٹر سمانتھا گیرارڈ (Dr Samantha Garrard)کا کہنا ہے کہ آئندہ بارہ ماہ کے دوران ہونے والا نقصان تباہ کن ہو سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دنیا بھر کی سمندری چٹانوں کا مستقبل بحرالکاہل میں گرم اور ٹھنڈے پانی کے ایک قدرتی چکر پر منحصر ہے، جسے ''ایل نینو سدرن اوسلیشن‘‘ ( El Niño-Southern Oscillation) کہا جاتا ہے۔ ہم حال ہی میں ایک انتہائی تباہ کن ایل نینو مرحلے سے گزر چکے ہیں، جس کے دوران گرم پانی نے دنیا کی 84 فیصد سمندری چٹانوں کو ایسی حد تک حرارت کے اثر میں مبتلا کر دیا جو کورل بلیچنگ کا باعث بنتی ہے۔ چونکہ 2026ء میں ایک اور ایل نینو مرحلے کی توقع کی جا رہی ہے، اس لیے ماہرین موسمیات کو خدشہ ہے کہ سمندری چٹانیں اگلے شدید اثر سے شاید دوبارہ سنبھل نہ سکیں۔ ڈاکٹر گیرارڈ کے مطابق یہ وہ سال ہو گا جب گرم پانی میں پائی جانے والی چٹانیں ایک ایسے موڑ پر پہنچ جائیں گی جس کے بعد ان کا مقدر طے ہو جائے گا، حتیٰ کہ سب سے زیادہ مضبوط اقسام بھی بحالی کے قابل نہیں رہیں گی۔سمندری چٹانیں سمندر کی سطح کے صرف ایک فیصد حصے پر پھیلی ہوئی ہیں، لیکن اس کے باوجود یہ سمندری حیات کی تقریباً ایک چوتھائی اقسام کو سہارا دیتی ہیں۔ تاہم یہ حیرت انگیز قدرتی مساکن انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کیلئے غیرمعمولی طور پر حساس بھی ہیں۔ جب مرجانی چٹانوں کا درجہ حرارت حد سے زیادہ بڑھ جاتا ہے تو ان میں بلیچنگ (Bleaching) کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ زیادہ حرارت کے دباؤ کے باعث یہ اپنے اندر موجود رنگین الجی کو خارج کر دیتی ہیں، جس سے اس کا رنگ سفید ہو جاتا ہے۔ اگر بلند درجہ حرارت طویل عرصے تک برقرار رہے تو بڑے پیمانے پر اجتماعی بلیچنگ کے واقعات پیش آ سکتے ہیں، جن کے بعد یہ چٹانیں اکثر دوبارہ بحال نہیں ہو پاتیں۔گرین ہاؤس گیسوں کے انسانی اخراج نے عالمی سطح پر سمندری درجہ حرارت کو ریکارڈ حد تک بڑھا دیا ہے، جس کے نتیجے میں شدید سمندری گرمی کی لہریں کہیں زیادہ شدید اور بار بار آنے لگی ہیں۔زیادہ اوسط درجہ حرارت ان چٹانوں کو ایل نینو سدرن اوسلیشن کے اثرات کیلئے بھی زیادہ حساس بنا دیتا ہے۔ ایل نینو کے دوران بحرالکاہل میں سمندر کی سطح کا درجہ حرارت اوسط سے کم از کم 0.5 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ہو جاتا ہے اور یہ کیفیت کئی مہینوں تک برقرار رہتی ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں موسم غیرمعمولی طور پر گرم ہو جاتا ہے۔ماضی میں گرم ایل نینو سالوں کے بعد بحرالکاہل کے چکر کے دوران نسبتاً ٹھنڈے موسم کے سال آتے تھے، جنہیں لا نینا مرحلہ کہا جاتا ہے۔ ڈاکٹر گیرارڈ وضاحت کرتی ہیں کہ اس وقفے کے دوران ان چٹانوں کو چند سال کا موقع ملتا تھا تاکہ وہ ''سانس لے سکیں‘‘ اور دباؤ کے اثرات سے دوبارہ بحال ہو سکیں۔ تاہم تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی ایل نینو کے گرم مراحل کو زیادہ شدید اور زیادہ بار آنے والا بنا رہی ہے، جبکہ ایل نینو اور لا نینا کے درمیان عبوری ادوار مختصر اور زیادہ گرم ہوتے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹر گیرارڈ کا کہنا ہے: چونکہ 2026ء میں ایک اور ایل نینو متوقع ہے، اور یہ گزشتہ مرحلے کے فوراً بعد آئے گا، اس لیے بہت سی چٹانوں کو بحالی کیلئے کافی وقت نہیں مل سکے گا۔ یہ مرحلہ مرجانی چٹانوں کے وسیع پیمانے پر انہدام کا سبب بن سکتا ہے۔ اب خدشہ یہ ہے کہ 2026ء دنیا بھر کی سمندری چٹانوں کیلئے ایک 'ٹِپنگ پوائنٹ‘ ثابت ہو سکتا ہے، یعنی وہ حد عبور ہو جائے گی جہاں ماحولیاتی نظام میں تبدیلی اچانک اور ناقابلِ واپسی ہو جاتی ہے۔

چٹانوں میں تراشی گئی عبادت گاہیں

چٹانوں میں تراشی گئی عبادت گاہیں

لالیبیلا کے گرجا گھر قدیم افریقی انجینئرنگ کا شاہکارایتھوپیا کے شمالی پہاڑی خطے امہارا میں واقع لالیبیلا ایک ایسا تاریخی اور مذہبی شہر ہے جو صدیوں سے دنیا کو حیرت میں مبتلا کیے ہوئے ہے۔ یہ شہر اپنی چٹانوں کو تراش کر بنائی گئی عظیم الشان گرجا گھروں کی بدولت عالمی شہرت رکھتا ہے، جو انسانی محنت، عقیدت اور فن تعمیر کا بے مثال شاہکار ہیں۔ زمین کی سطح سے نیچے ایک ہی چٹان کو کاٹ کر تعمیر کیے گئے یہ گرجا گھر نہ صرف مذہبی تقدس کے حامل ہیں بلکہ قدیم افریقی تہذیب کی اعلیٰ انجینئرنگ صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت بھی ہیں۔لالیبیلا کے گرجا گھر بارہویں اور تیرہویں صدی عیسوی میں تعمیر کیے گئے، جب ایتھوپیا پر زاگوا خاندان کی حکومت تھی۔ روایت کے مطابق ان گرجا گھروں کی تعمیر کا حکم شاہ لالیبیلا نے دیا، جن کا خواب تھا کہ افریقہ میں ایک مقدس شہر قائم کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ لالیبیلا کو آج بھی ‘‘افریقہ کا یروشلم'' کہا جاتا ہے۔ اس شہر کی تعمیر محض سیاسی یا مذہبی منصوبہ نہیں تھی بلکہ یہ ایک تہذیبی اعلان تھا کہ افریقہ بھی علم، فن اور تعمیر میں کسی سے کم نہیں۔لالیبیلا کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا راک ہیون فنِ تعمیر (Rock Hewn Architecture) ہے۔ یہاں گرجا گھر زمین کے اوپر تعمیر نہیں کیے گئے بلکہ ایک ہی چٹان کو اوپر سے نیچے کی طرف کاٹ کر وجود میں لائے گئے۔ یعنی پہلے چٹان کے گرد گہری خندق بنائی گئی، پھر اندرونی حصے کو تراش کر ستون، محرابیں، چھتیں اور راہداریاں تشکیل دی گئیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس پورے عمل میں نہ سیمنٹ استعمال ہوا، نہ اینٹیں اور نہ ہی لوہے کے جدید اوزار۔ اس کے باوجود یہ عمارتیں صدیوں سے قائم ہیں۔لالیبیلا میں کل 11 گرجا گھر ہیں، جنہیں تین بڑے گروہوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ہر گرجا گھر نہ صرف ساخت کے اعتبار سے منفرد ہے بلکہ اس کا مذہبی اور علامتی مفہوم بھی الگ ہے۔ ان میں سب سے مشہور ''چرچ آف سینٹ جارج ‘‘ ہے، جو صلیب کی مکمل شکل میں تراشا گیا ہے۔ یہ گرجا گھر سطح زمین سے نیچے واقع ہے اور اس تک پہنچنے کیلئے تنگ راستوں اور سیڑھیوں سے گزرنا پڑتا ہے، جو زائرین کو روحانی یکسوئی کی طرف لے جاتا ہے۔اسی طرح بیٹے مدھانِ عالم (Bete Medhane Alem) کو دنیا کا سب سے بڑا یک سنگی گرجا گھر سمجھا جاتا ہے۔ اس کے اندر تراشے گئے ستون اور چھتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ قدیم افریقی معمار نہ صرف ساختی توازن سے واقف تھے بلکہ جمالیاتی حسن کو بھی غیرمعمولی اہمیت دیتے تھے۔ یہ گرجا گھر محض عبادت کے مقامات نہیں بلکہ زندہ عجائب گھر ہیں، جہاں ہر دیوار، ہر نقش اور ہر راستہ ایک کہانی سناتا ہے۔لالیبیلا کے گرجا گھروں کی انجینئرنگ کا ایک اور حیرت انگیز پہلو نکاسی آب ہے۔ پہاڑی علاقے میں بارش کے پانی کو عمارتوں سے محفوظ طریقے سے نکالنے کیلئے زیر زمین نالیاں بنائی گئیں جو آج بھی کارآمد ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ان معماروں کو جغرافیہ، موسم اور تعمیراتی سائنس کی گہری سمجھ حاصل تھی۔مذہبی اعتبار سے لالیبیلا ایتھوپیائی آرتھوڈوکس عیسائیوں کیلئے نہایت مقدس مقام ہے۔ سال بھر یہاں عبادات جاری رہتی ہیں، لیکن کرسمس اور ایپی فینی کے موقع پر ہزاروں زائرین سفید روایتی لباس پہن کر ان گرجا گھروں کا رخ کرتے ہیں۔ دعائیں، جلوس اور چراغوں کی روشنی اس شہر کو ایک روحانی منظرنامے میں بدل دیتی ہے، جہاں ماضی اور حال ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔لالیبیلا کی عالمی اہمیت کا اعتراف اس وقت ہوا جب اسے یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا گیا۔ اس اعزاز کا مقصد نہ صرف ان گرجا گھروں کو محفوظ بنانا ہے بلکہ دنیا کو یہ باور کرانا بھی ہے کہ افریقی تہذیبیں محض زبانی روایات تک محدود نہیں بلکہ تعمیر، فن اور فکر میں بھی عظیم ورثہ رکھتی ہیں۔ بدقسمتی سے قدرتی عوامل، وقت کی مار اور سیاحتی دباؤ کے باعث یہ گرجا گھر خطرات سے دوچار ہیں۔لالیبیلا کے گرجا گھر ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ انسان اگر عقیدت، علم اور محنت کو یکجا کر لے تو پتھر بھی بولنے لگتے ہیں۔ یہ عبادت گاہیں صرف مذہبی عمارتیں نہیں بلکہ ایک تہذیب کی اجتماعی دانش، صبر اور تخلیقی قوت کا مظہر ہیں۔ آج کے جدید دور میں، جہاں بلند عمارتیں شیشے اور فولاد سے بنتی ہیں، لالیبیلا ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل عظمت وسائل کی کثرت میں نہیں بلکہ وژن اور ہنر میں ہوتی ہے۔آخرکار، لالیبیلا کا شہر اور اس کے چٹانوں میں تراشے گئے گرجا گھر انسانی تاریخ کے ان روشن ابواب میں شامل ہیں جو یہ اعلان کرتے ہیں کہ افریقہ محض تاریخ کا پس منظر نہیں بلکہ خود تاریخ کا خالق بھی رہا ہے۔ یہ شاہکار آنے والی نسلوں کیلئے پیغام ہیں کہ ایمان، فن اور علم جب یکجا ہوں تو صدیوں کو مات دے سکتے ہیں۔

آج تم یاد بے حساب آئے!نصیر ترابی  جداگانہ اسلوب کے شاعر (2021-1945ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!نصیر ترابی جداگانہ اسلوب کے شاعر (2021-1945ء)

٭...نصیر ترابی ادبی دنیا کی وہ شخصیت ہیں جو کسی تعارف کی محتاج نہیں۔آپ اردو زبان کے نامور شاعر، ماہر لسانیات اور لغت نویس تھے۔٭...15 جون 1945ء کو بھارتی ریاست حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئے۔ تقسیم ہند کے بعد ان کا خاندان پاکستان آ کر کراچی میں مقیم ہوا۔٭...وہ بلند پایہ شخصیت نامور ذاکر اور خطیب علامہ رشید ترابی کے فرزند تھے۔٭...ان کے گھر میں والد کی وجہ سے برصغیر پاک و ہند کی تمام بڑی ادبی و سیاسی شخصیات کی آمد و رفت تھی۔ اس فضاء نے بھی ان کی تربیت اور شخصی پرداخت میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ٭...60ء کی دہائی کے اوائل میں دور طالب علمی میں ہی انہوں نے شاعری کاآغاز کر دیا تھا۔٭... 1968ء میں جامعہ کراچی سے تعلقات عامہ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اور ایک انشورنس کمپنی میں افسر تعلقات عامہ کی ملازمت کی ۔٭...ان کا واحدشعری مجموعہ ''عکسِ فریادی‘‘ 2000ء میںشائع ہوا۔٭... 2017ء میں ان کے نعتیہ مجموعہ' 'لاریب‘‘ کی اشاعت ہوئی، جسے اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے ''علامہ اقبال ایوارڈ‘‘ سے نوازا گیا۔ ٭...لسانیات کے تناظر میں2 اہم کتابیں 2013ء میں ''شعریات‘‘ اور 2019ء میں ''لغت العوام‘‘ شائع ہوئیں۔٭... میر انیس، بابا بلھے شاہ سمیت کئی بڑے تاریخی و ادبی مشاہیر پر مستند تحقیقی مقالے لکھے۔ ٭... 10 جنوری 2021ء کو 75 سال کی عمر میں ان کا کراچی میں انتقال ہوا۔چند مقبول اشعاردرد کی دھوپ سے چہرے کو نکھر جانا تھا آئنہ دیکھنے والے تجھے مر جانا تھا ٭٭٭ملنے کی طرح مجھ سے وہ پل بھر نہیں ملتا دل اس سے ملا جس سے مقدر نہیں ملتا ٭٭٭اس کڑی دھوپ میں سایہ کر کے تو کہاں ہے مجھے تنہا کر کے تیرگی ٹوٹ پڑی ہے مجھ پر میں پشیماں ہوں اجالا کر کے ٭٭٭ہم رنگیِ موسم کے طلب گار نہ ہوناسایہ بھی تو قامت کے برابر نہیں ملتا٭٭٭غزلوہ ہم سفر تھا مگر اس سے ہمنوائی نہ تھیکہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا جدائی نہ تھینہ اپنا رنج نہ اوروں کا دکھ نہ تیرا ملال شب فراق کبھی ہم نے یوں گنوائی نہ تھی محبتوں کا سفر اس طرح بھی گزرا تھا شکستہ دل تھے مسافر شکستہ پائی نہ تھی عداوتیں تھیں، تغافل تھا، رنجشیں تھیں بہتبچھٹرنیوالے میں سب کچھ تھا، بیوفائی نہ تھی

آج کا دن

آج کا دن

تاشقند معاہدہ1965ء کی پاک بھارت جنگ کو ختم کرنے کیلئے 10جنوری کو بھارت اور پاکستان کے درمیان تاشقند معاہدے پر دستخط کئے گئے۔اس جنگ میں بھارت کو بہت زیادہ جانی اور مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ۔ مزید نقصان اور پاک افواج کو اپنے علاقوں کی جانب بڑھتا ہوا دیکھ کر بھارت نے عالمی طاقتوں سے جنگ بندی کی فریاد کرنا شروع کر دی تھی،اسی کے نتیجے میں سوویت یونین نے میزبانی کرتے ہوئے دونوں فریقین کو تاشقند معاہدے کیلئے دعوت دی۔اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا پہلا اجلاس10 جنوری 1946ء کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا پہلا تاریخی اجلاس برطانیہ میں ہوا۔ یہ اجلاس دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا میں امن، سلامتی اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ کیلئے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا۔ اس اجلاس میں 51 رکن ممالک نے شرکت کی اور عالمی تنازعات کے پرامن حل، انسانی حقوق کے تحفظ اور اجتماعی سلامتی کے اصولوں پر غور کیا گیا۔ جنرل اسمبلی کے اس پہلے اجلاس نے اقوامِ متحدہ کو ایک مؤثر عالمی ادارے کے طور پر متعارف کرایا۔تیل کی عالمی قلت10جنوری1974ء کوتیل کی عالمی قلت کی وجہ سے ہنری کسنجر نے بین الاقوامی برادی سے تیل کی سپلائی بڑھانے کی درخواست کی تاکہ قلت کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل کا مقابلہ کیا جا سکے۔ تیل کی عالمی قلت کی اصل وجہ عرب اسرائیل جنگ کے بعد امریکہ کا اسرائیل کو سہولیات فراہم کرنا تھا جس کی وجہ سے تیل کی پیداوار والے ممالک کی تنظیم میں شامل عرب ممالک نے امریکہ کو تیل فراہم کرنے پر پابندی لگا دی تھی۔ 

اے آئی سلاپ مواد کی بہتات، معیار کی قلت

اے آئی سلاپ مواد کی بہتات، معیار کی قلت

مصنوعی ذہانت نے انسانی تاریخ کے تخلیقی عمل میں ایک غیر معمولی مداخلت کی ہے۔ یہ مداخلت بیک وقت امکانات سے بھرپور بھی ہے اور خطرات سے لبریز بھی۔ ایک طرف اے آئی نے اظہار کے نئے ذرائع فراہم کیے ہیں، تو دوسری طرف اس نے ڈیجیٹل دنیا کو ایسے غیر معیاری، بے روح اور خودکار مواد سے بھر دیا ہے جسے ماہرین ''اے آئی سلاپ‘‘ (AI Slop) کا نام دیتے ہیں۔ Merriam-Webster ڈکشنری نے Slop کو 2025 ء کا Word of the Year قرار دیا ہے۔جس کا مطلب ہے مصنوعی ذہانت کے ذریعے عام طور پر بڑی مقدار میں تیار کردہ کم معیار کا ڈیجیٹل مواد۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں انسٹاگرام کے سربراہ ایڈم موسری کے حالیہ بیانات غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔پی سی میگ (PC Mag) کو دیے گئے انٹرویو میں موسری نے کھلے الفاظ میں اعتراف کیا کہ سوشل میڈیا اس وقت ایک ایسے نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں اصلی اور مصنوعی مواد کے درمیان حدِ فاصل تیزی سے مٹتی جا رہی ہے۔ ان کے بقول، اصل مسئلہ یہ نہیں کہ اے آئی مواد تخلیق کر رہی ہے، بلکہ یہ ہے کہ یہ مواد انسانی تخلیق کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے اور یہی دھوکا پورے ڈیجیٹل ماحول کو کھوکھلا کر رہا ہے۔مواد کی بہتات،معیار کی قلتآج انسٹاگرام، فیس بک اور دیگر پلیٹ فارمز پر ایسی تصاویر، ویڈیوز اور تحریریں عام ہو چکی ہیں جو چند لمحوں میں الگورتھمز کے ذریعے تیار ہوتی ہیں۔ یہ مواد بظاہر دلکش، چمک دار اور متاثر کن ہوتا ہے مگر اس میں انسانی تجربے، احساس اور فکری گہرائی کا فقدان نمایاں ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موسری اس دور کوAI Slop Era قرار دیتے ہیں،ایک ایسا دور کہ جس میں مواد کی کثرت نے معیار اور معنویت کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان بلا روک ٹوک جاری رہا تو سوشل میڈیا انسانی اظہار کا پلیٹ فارم نہیں رہے گا بلکہ ایک خودکار مشین بن جائے گا جہاں تخلیق نہیں بلکہ محض پیداوار ہو گی۔ ایسے ماحول میں حقیقی تخلیق کار جو وقت، محنت اور مہارت سے اپنا کام کرتے ہیں آہستہ آہستہ نظروں سے اوجھل ہو جائیں گے۔شناخت کا نیا زاویہایڈم موسری نے اس بحران کے حل کے لیے ایک نسبتاً حقیقت پسندانہ اور تکنیکی تجویز پیش کی ہے۔ ان کے مطابق اے آئی مواد کو پہچاننے اور روکنے سے زیادہ مؤثر راستہ یہ ہو سکتا ہے کہ انسانی تخلیق کی تصدیق کی جائے۔ یعنی یہ ثابت کیا جائے کہ کوئی تصویر، ویڈیو یا پوسٹ واقعی کسی انسان نے تخلیق کی ہے نہ کہ کسی خودکار سسٹم نے۔یہ تصور ڈیجیٹل دنیا میں ایک بنیادی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ اب تک کوشش یہ رہی ہے کہ جعلی یا مصنوعی مواد کو شناخت کر کے ہٹایا جائے مگر موسری کا خیال ہے کہ مستقبل میں توجہ ''اصلی‘‘ مواد کی فنگر پرنٹنگ پر ہونی چاہیے۔ اگر انسانی تخلیق کو کسی مستند تکنیکی نشان کے ذریعے ممتاز کر دیا جائے تو صارف خود یہ فیصلہ کر سکے گا کہ وہ کس مواد پر اعتماد کرے۔انسانی تخلیق کاروں کے لیے نئے ٹولزانسٹاگرام کے سربراہ ایڈم موسری یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ صرف لیبلنگ یا تصدیق کافی نہیں ہو گی، اسی لیے انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ پلیٹ فارم پر ایسے نئے تخلیقی ٹولز متعارف کرائے جائیں گے جو انسانی تخلیق کاروں کو اے آئی کے مقابل کھڑا کر سکیں، نہ کہ انہیں مکمل طور پر بے دخل کر دیں۔اُن کے مطابق مستقبل کا ماڈل یہ نہیں ہو گا کہ اے آئی انسان کی جگہ لے لے بلکہ یہ ہو گا کہ اے آئی انسان کی معاون بنے۔ ویڈیو ایڈیٹنگ، مواد کی پیشکش اور سٹوری ٹیلنگ میں ایسے ٹولز فراہم کیے جائیں گے جن میں کنٹرول انسان کے ہاتھ میں رہے، تاکہ تخلیق کا مرکزی کردار برقرار رہے۔اخلاقی اور سماجی مضمراتیہ معاملہ محض ٹیکنالوجی کا نہیں بلکہ اخلاقی اور سماجی سوال کا بھی ہے۔ اگر ہر خوبصورت تصویر، ہر متاثر کن ویڈیو اور ہر جذباتی تحریر کے پیچھے الگورتھم ہو تو پھر انسانی محنت کی قدر کہاں باقی رہے گی؟ نوجوان تخلیق کار جو برسوں مشق کر کے اپنی شناخت بناتے ہیں وہ کیسے ان مشینوں کا مقابلہ کرسکیں گے جو سیکنڈوں میں ہزاروں پوسٹس تیار کر سکتی ہیں؟پاکستان جیسے ممالک میں جہاں سوشل میڈیا صحافیوں، فوٹوگرافروں، فنکاروں ، وی لاگرز اور دیگر حلقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لیے اظہار کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے، یہ مسئلہ مزید سنگین ہو جاتا ہے۔ اگر پلیٹ فارمز نے انسانی تخلیق کو تحفظ نہ دیا تو ڈیجیٹل معیشت چند بڑی اے آئی کمپنیوں کے ہاتھ میں مرکوز ہو کر رہ جائے گی۔ایڈم موسری کے بیانات اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا انڈسٹری اب خطرے کو سنجیدگی سے محسوس کرنے لگی ہے۔ ''اے آئی سلاپ‘‘ کے خلاف یہ پہلا واضح اعتراف ہے کہ بے قابو مصنوعی مواد نہ صرف صارف کے تجربے کو متاثر کر رہا ہے بلکہ پلیٹ فارمز کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ کیا انسٹاگرام اپنے وعدوں کو عملی شکل دے پائے گا؟ کیا واقعی انسانی تخلیق کو تکنیکی طور پر محفوظ اور ممتاز کیا جا سکے گا؟ یا پھر 'ویری فیکیشن‘ کا دعویٰ بھی ماضی کی طرح محض ایک پالیسی بیان بن کر رہ جائے گا؟فی الحال ایک بات طے ہے کہ ڈیجیٹل دنیا کو انسانی اظہار کا بامعنی اور زندہ پلیٹ فارم بنانا ہے تو ''اصلیت‘‘ کو محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک عملی اصول بنانا ہو گا۔ یہی وہ امتحان ہے جس کا سامنا اب انسٹاگرام سمیت تمام بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ہے اور اسی کے نتائج آنے والے ڈیجیٹل عہد کا تعین کریں گے۔

2026 میں بہتر زندگی کیلئے8مشورے

2026 میں بہتر زندگی کیلئے8مشورے

نئے سال کا آغاز عموماً نئی امیدوں، تازہ ارادوں اور بہتر زندگی کے خوابوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ ہر انسان چاہتا ہے کہ آنے والا سال گزشتہ مشکلات، ذہنی دباؤ اور بے چینی کو پیچھے چھوڑ دے۔ تاہم تجربہ بتاتا ہے کہ مثبت تبدیلیوں کا ارادہ کرنا تو آسان ہے مگر ان پر مستقل عمل کرنا ایک کٹھن مرحلہ ثابت ہوتا ہے۔ خوش آئند پہلو یہ ہے کہ جدید سائنسی تحقیق ہمیں ایسے عملی اور مؤثر طریقے فراہم کرتی ہے جو واقعی ہماری ذہنی کیفیت، جذباتی توازن اور مجموعی صحت کو بہتر بنا سکتے ہیں۔کمال پسندی کی زنجیر توڑیںکامل دکھائی دینے کی خواہش بظاہر ایک خوبی محسوس ہوتی ہے مگر نفسیاتی تحقیق کے مطابق یہ رویہ ذہنی دباؤ، اضطراب اور افسردگی کو جنم دیتا ہے۔ کمال پسند افراد اپنے لیے ناقابلِ حصول معیار مقرر کر لیتے ہیں اور معمولی لغزش پر خود کو سخت ملامت کا نشانہ بناتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس خودساختہ اذیت سے بچنے کا مؤثر طریقہ خود سے نرمی اور شفقت کا رویہ اپنانا ہے۔ غلطیوں کو انسانی فطرت کا حصہ سمجھا جائے اور یہ تسلیم کیا جائے کہ نامکمل ہونا ہی انسان ہونے کی اصل پہچان ہے۔دوستی میں خلوص اور استحکام سائنس یہ کہتی ہے کہ مضبوط سماجی رشتے نہ صرف ذہنی بلکہ جسمانی صحت کے لیے بھی ناگزیر ہیں۔ مخلص دوستیاں مدافعتی نظام کو مضبوط کرتی اور دل کے امراض کے خطرات کو کم کرتی ہیں۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم خود بھی دوسروں کے لیے سہارا بنیں۔ دوسروں کی کامیابی پر خلوص دل سے خوش ہونا ان کی بات غور سے سننا اور مثبت ردعمل دینا تعلقات میں گرمجوشی اور اعتماد کو فروغ دیتا ہے۔سماجی مشاغل اپنائیںنیا شوق یا سرگرمی اختیار کرنا محض وقت گزارنے کا ذریعہ نہیں بلکہ ذہنی سکون کا مؤثر وسیلہ بھی ہے۔ مصوری، موسیقی، کھیل یا کوئی سماجی سرگرمی انسان کو تنہائی کے خول سے نکال کر سماج سے جوڑ دیتی ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ مشترکہ مقصد کے تحت کی جانے والی سرگرمیاں انسانوں کے درمیان قربت پیدا کرتی ہیں اور جسمانی مشقت کو بھی خوشگوار بنا دیتی ہیں۔غصے کو تعمیری قوت میں بدلیںغصہ بلاشبہ ایک شدید اور خطرناک جذبہ ہو سکتا ہے لیکن اگر اسے بروقت پہچان لیا جائے تو یہی جذبہ تعمیری طاقت میں ڈھل سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق غصے کو دبانے کے بجائے اسے مثبت سرگرمیوں جیسے ورزش، تخلیقی کام یا کسی بامقصد جدوجہد میں صرف کرنا زیادہ مفید ہے۔ شرط یہ ہے کہ جذبات کے اظہار میں ضبط اور حکمت کو ملحوظ رکھا جائے۔شکرگزاری کو معمول بنائیںروزانہ چند لمحے نکال کر زندگی کی اچھی باتوں پر غور کرنا ذہنی صحت پر حیرت انگیز اثرات مرتب کرتا ہے۔ سائنسی مطالعات کے مطابق روزانہ تین نعمتوں یا خوشگوار لمحات کو قلم بند کرنے سے خوشی میں اضافہ اور افسردگی میں نمایاں کمی آتی ہے۔ یہ عادت انسان کی توجہ محرومیوں سے ہٹا کر موجود نعمتوں کی طرف مبذول کرتی ہے۔موبائل فون سے فائدہ اٹھائیںجدید دور میں سمارٹ فون ذہنی انتشار کی بڑی وجہ بن چکا ہے تاہم درست اور شعوری استعمال سے یہی آلہ کارآمد ثابت ہو سکتا ہے۔ غیر ضروری اطلاعات کو محدود کرنا، یادداشت محفوظ کرنے کے لیے نوٹس کا استعمال اور سکرین کے استعمال کو نظم و ضبط میں لانا توجہ، یادداشت اور ذہنی سکون میں بہتری لا سکتا ہے۔ کبھی کبھار فون سے مکمل لاتعلقی بھی ذہن کو تازگی بخشتی ہے۔سردیوں سے ہم آہنگی پیدا کریںسردیوں کے چھوٹے دن اور طویل راتیں کئی افراد کو اداسی اور سستی میں مبتلا کر دیتی ہیں مگر تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر موسمِ سرما کے حسن ،قدرتی مناظر، گھریلو محفلوں اور سکون بھرے لمحات کو مثبت نظر سے دیکھا جائے تو ذہنی کیفیت بہتر ہو سکتی ہے۔ یوں سردی کو بوجھ کے بجائے موقع سمجھا جا سکتا ہے۔مختصر قیلولہ، بڑی توانائیدن کے اوقات میں مختصر نیند ذہنی کارکردگی کو فوری طور پر بہتر بنا سکتی ہے۔ تحقیق کے مطابق 10 سے 20 منٹ کا قیلولہ دماغی تازگی اور توجہ میں نمایاں اضافہ کرتا ہے۔ البتہ اس کا درست وقت اور دورانیہ اہم ہے تاکہ رات کی نیند متاثر نہ ہو۔یاد رکھیں کہ خوشی کوئی اتفاقی لمحہ نہیں بلکہ شعوری طرزِ زندگی کا نتیجہ ہے۔ اگر ہم سائنسی تحقیقات کی روشنی میں ان سادہ مگر مؤثر عادات کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنا لیں تو نیا سال نہ صرف ذہنی سکون بلکہ ایک متوازن اور بامقصد زندگی کی نوید بن سکتا ہے۔