صلیبی جنگیں: اسباب و نتائج
اسپیشل فیچر
1071ء میں جنو آ اورپسا نے افریقہ کی بندرگاہ مہدیہ پر قابض ہوجانے کے بعد مغربی بحیرہ روم میں اقتدار مسلمانوں سے چھین لیا۔ قسطنطنیہ کے قیصر نے ملاذ کرد کی شکست کے بعد پوپ گریگوری ہفتم سے امداد کیلئے اپیل کی۔ اس کی اپیل پر اہل قسطنطنیہ کی امداد کیلئے 1074ء میںفوج تیار کی گئی اور راجر گیسکار سے اتحاد کر لیا گیا۔پوپ اربن دوم نے قسطنطنیہ کیلئے امداد کو ایک نئی وضع کی مقدس جنگ میں تبدیل کر دیا۔ یہ سب کچھ پاپائیت کی سرپرستی میں ہو رہا تھا جس میں زندگی کی نئی روح اور نیا جوش پیدا کر دیا گیا تھا۔
پیاسنزا(Piacenza) کی مذہبی مجلس میں قیصر قسطنطنیہ کی طرف سے اپیل کلرمونٹ (Clermont) کے مذہبی اجتماع میں اربن کی طرف سے دعوت عام دی گئی۔ اس کا تعلق کلونی کی مذہبی خانقاہ سے رہ چکا تھا اور وہ فرانس کا باشندہ تھا۔ اس نے ہم وطنوں کے روبرو تقریر کرتے ہوئے ان کے شاندار کارنامے بیاں کئے۔مسلمانوں کے ظلم وجبر کے افسانے سنائے، ساتھ ہی نفع و ترقی کے مواقع کی طرف کھلم کھلا اشارے کئے۔ اپنے ملک میںجاگیردارانہ تشدد کی شدیدالفاظ میں مذمت کی۔ ان تدبیروں سے حاضرین میں بے پناہ جوش و خروش پیدا کر دیا گیا۔پھر صلیبی یورش کیلئے تیار ہونے والوں میں اپنے ہاتھ سے صلیبیں بطور نشان تقسیم کیں۔اربن کے دعوتی سفروں اور پیٹرراہب نیز دوسروں نے مغربی مسیحی ممالک میں ہنگامے کا سامان فراہم کردیا لیکن سب سے بڑھ کر فرانس اور لورین متاثر ہوئے، جہاں کلونیائی خانقاہ کا اثر زیادہ تھا۔ بڑے بڑے حکمران یاتو پاپائیت سے بگڑ بیٹھے تھے یا خانگی معاملات میں الجھے ہوئے تھے۔ یورپ کے باقی حصے بے پروا تھے لہٰذا صلیبی مہمیں جس طرح فرانس کی سرپرستی میں شروع ہوئی تھیں اسی طرح فرانس ہی کی سرپرستی میں جاری رہیں۔
پہلی صلیبی جنگ
1096ء میں پانچ عوامی مگر بے مقصد گروہوں کا خروج ہوا۔ گاؤں کے گاؤں خالی ہو گئے۔ اکثر لوٹ مار کا سلسلہ جاری ہوتا یا سامیوں کے خلاف شورشیں اٹھتیں۔ ان میں سے صرف دو گروہ (پیڑراہب کی سرکردگی میں تقریباًسات ہزار اور والٹر بے درم کی سرکردگی میں پانچ ہزار) ایشیائے کوچک پہنچے اور وہاں تباہی کے گھاٹ اتار دئیے گئے۔ اب نارمن فرانسیسی امراء صلیبی حمایت میں سرگرم عمل ہوئے اور تین لشکر لے کر مختلف راستوں سے قسطنطنیہ پہنچے۔ اہل لورین بوئیلاں کے گاڈ فرے اور اس کے بھائی بالڈون کی سرکردگی میں ہنگری کے راستے، پراونس کے باشندے کونٹ ریمان (Count Raymond) ساکن طولوز اور پوپ کے نائب ایڈہیمارساکن پوئی کے زیر قیادت البیریا کے راستے پہنچے۔نارمن لشکر کا سردار بوہی منڈ ساکن اترانتو تھا جو درازوکے راستے آیا۔ اس آخری لشکر نے کچھ سفر خشکی میں کیا اور کچھ سمندر میں۔ ان تینوں لشکروں کی مجموعی تعداد شایدتیس ہزار تھی۔
قسطنطنیہ کا شہنشاہ ایلکسی کامنی نس (Alexius Comnenus) امید لگائے بیٹھا تھا کہ یورپ سے تنخواہ دار فوجیں آئیں گی۔ وہ صلیبیوں کی پیشوائی کیلئے بالکل تیار نہ تھا لیکن اس نے سب کیلئے خوراک کا انتظام کیا۔جن صلیبیوں نے لوٹ مار کی انہیں سزائیں بھی دی گئیں، ساتھ ہی لشکروں کے سرداروں سے حلف وفاداری لیا گیا تاکہ سلطنت کا حق ان پر قائم رہے اور اسی وقت ریمان نے حلف اٹھانے سے انکار کر دیا۔
مسلمانوں کی کیفیت
مسلمانوں نے صرف شام میں فوج رکھی ہوئی تھی اور مقامی آبادی دل سے ان کی حامی نہ تھی۔1092ء میں ایشیائے کوچک میں اسلامی اتحاد ملک شاہ سلجوقی کی وفات کے ساتھ ہی ختم ہو چکا تھا۔شام سیاسی،نسلی اور مذہبی اختلافات کا شکار تھا۔
دوسری اور تیسری مہمات
صلیبی جنگوں میں دوسری مہم1147ء تا 1149ء اور تیسری مہم1189ء تا1192ء کو خاص اہمیت حاصل ہے۔سلجوقوں کے بعد صلیبیوں کے خلاف قوت کی تنظیم اور مقابلے کا زبردست آغاز زنگی حکمرانوں سے ہوا جن میں سلطان نورالدین محمود (1146ء تا1173ء) بطور خاص قابل ذکر ہے۔پھر یہ کام سلطان صلاح الدین ایوبی (1173ء تا1193ء) نے سنبھال لیا جو ابتداء میں نورالدین محمود کی جانب سے مصر کے گورنر تھے۔
صلاح الدین ایوبی نے1183ء میں پیش قدمی شروع کی ۔فلپ دوم شاہ فرانس اور ہنری دوم شاہ انگلستان کو یروشلم کا تاج پیش کیا گیا، دونوں نے انکار کیا لیکن صلاح الدین ایوبی کے مقابلے کیلئے خاص ٹیکس لگا کر رعایا سے روپیہ وصول کر لیا۔آخری جنگیں (1187ء تا 1189ء) یروشلم پر صلاح الدین ایوبی نے قبضہ کر لیا۔ عیسائیوں نے فتح کے بعد مسلمانو ں پر سخت ظلم کئے تھے لیکن صلاح الدین ایوبی نے عیسائیوں سے بے حد شفیقانہ سلوک کیا۔ اس کے بعد عیسائیوں کے پاس صرف چند شہر رہ گئے مثلاً انطاکیہ، صور، طرابلس الشام اور عکہ وغیرہ۔
تیسری مہم کیلئے بھی عیسائیوں نے خاص اہتمام کیا، اس میں رچرڈ اوّل شاہ انگلستان اور فلپ دوم شاہ فرانس خود شریک ہوئے۔دونوں کے درمیان اختلافا ت بھی تھے۔ 1191ء میں صلاح الدین ایوبی نے عکہ فتح کر لیا۔ فلپ واپس چلا گیا۔رچرڈ نے صلاح الدین سے مصالحت کر لی۔ رچرڈ کی ہمشیرہ جونا کا نکاح صلاح الدین کے بھائی سے کروا دیا گیا۔
سلطان نے عیسائیوں کو یافا اور عکہ کے درمیان تھوڑا سا علاقہ اور یروشلم تک راستہ دے دیا۔اس کے بعد بھی کئی مرتبہ صلیبی مہمات بھیجی گئیں لیکن ان کا کوئی واقعہ قابل ذکر نہیں۔