سلطنت برطانیہ کی تاریخ

سلطنت برطانیہ کی تاریخ

اسپیشل فیچر

تحریر : مبین عشرت


براعظم یورپ کا سب سے بڑا جزیرہ برطانیہ ہے، جسے تاریخ میں تاج برطانیہ اور سلطنت برطانیہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ رقبہ کے لحاظ سے یہ انتہائی وسیع سلطنت تھی جس میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔ اس سلطنت کے عروج اور زوال کی کہانی انتہائی دلچسپ اور پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ اس سلطنت کا مرکز انگلینڈ، ویلز اور اسکاٹ لینڈ کے علاوہ شمالی آئرلینڈ اور اس کے متعدد جزائر پر مشتمل تھا۔ چھٹی صدی قبل مسیح سے کچھ عرصہ پہلے وسطی یورپ کے کچھ قبائل برطانیہ آ کر آباد ہو گئے۔ تاریخ دانوں کے مطابق یہی قبائل اور جزیرہ ابتدائی آباد کار ہیں۔ 54 قبل مسیح سلطنت روم کے مشہور جرنیل جولس سیزر کی مہمات نے برطانیہ پر رومن سلطنت کی راہ ہموار کی لیکن سو سال کے بعد رومن شہنشاہ کلاڈیس نے برطانیہ پر حملہ کر دیا اور اسے اپنی سلطنت کا ایک صوبہ بنانے کی کوشش کی۔
رومن دور میں برطانیہ دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ جنوبی حصہ جس پر رومن حکومت کرتے تھے اور دوسرا شمالی حصہ جو اسکاٹ لینڈ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اگر چہ آٹھ رومن بادشاہوں نے تقریبا 400 سال حکومت کی تاہم متعدد مشکلات کی بنا پر رومن برطانیہ کو چھوڑ کر واپس چلے گئے۔ 1019ء میں ڈنمارک کے قبائل اور 1028ء میں ناروے نے طویل جدوجہد کے بعد برطانیہ کو فتح کر لیا اور ایک عظیم ریاست برٹش کی بنیاد رکھی۔ 40 سال کی عمر میں برطانوی شہنشاہ کینیورڈ وفات پا گئے، جن کی جزیرے کے شمالی حصے یعنی اسکاٹ لینڈ میں مضبوط حکومت تھی۔ 1066ء میں ولیم ڈیوک آف نارمن نے جو بعد میں فاتح ولیم کے نام سے مشہور ہوا نے انگلستان پر حملہ کر کے اسے فتح کر لیا۔ ولیم جب انگلستان کے ساحل پر اترا تو نرم ریت کی وجہ سے اپنا توازن قائم نہ رکھ سکا اور آگے کی طرف گرپڑا۔ یہ واقعہ اس کیلئے اور اس کے لشکر کیلئے اچھا شگون نہیں تھا۔ گرنے کی وجہ سے لشکر کے اندر انتشارپیدا ہو سکتا تھا تاہم اس نے اپنے حواس قائم رکھے اور ریت کوہاتھ میں اٹھا کر وہ اپنی فوج سے مخاطب ہوا کہ دیکھو انگلستان کی زمین میرے ہاتھوں میں ہے۔
1215ء میں برطانیہ میں پارلیمانی حکومت قائم کی گئی کیونکہ اس وقت کے بادشاہ جون کو اپنے امراء کی جانب سے بغاوت کا خطرہ تھا، جس کی وجہ سے مجبوراً اسے 63 شقوں پر مشتمل ایک اہم دستاویز پر دستخط کرنا پڑے جسے ''میگنا کارٹا‘‘ کا نام دیا گیا۔ اس کے نتیجے میں سلطنت پر قانون کی بالادستی قائم ہوئی اور خاص طور پر لگان، مذہب، انصاف اور غیر ملکی حکمت عملی کے معاملات میں بادشاہ کے اختیارات بہت محدود ہو گئے۔
1509ء میں ہینری ہفتم کا بیٹا ہینری ہشتم انگلستان کا بادشاہ بنا اور اس کے 38 سالہ دورحکومت میں بہت سے تاریخی انقلاب ظہور پزیر ہوئے۔ ہینری ہشتم اپنی پہلی بیوی کیتھرین کو طلاق دینا چاہتا تھا لیکن رومن پاپ کی جانب سے اسے اجازت نہ ملی اور اسی وجہ سے اس نے کلیساء روم سے برطانیہ کو الگ کردیا اور بعدازاں چرچ آف انگلینڈ کی بنیاد رکھی گئی۔1553ء میں ہینری ہشتم کی بیٹی میری تخت نشین ہوئی جو انگلستان کی پہلی عورت حکمران تھی۔
1557ء میں ہینری ہشتم کی بیٹی الزبتھ اوّل انگلستان کی ملکہ بنی۔ یہ پروٹسٹنٹ عقیدے کی پیروکار تھی اس کے آنے سے روم کا اقتدار انگلستان سے ایک بار پھر ختم ہو گیا۔ متعدد وجوہات کی بنا پر اسے جیمز ششم کے حق میں دستبردار ہونا پڑا اور 24 مارچ 1603ء کو الزبتھ انتقال کر گئی۔ اس نے ساری عمر شادی نہیں کی اس لیے اس کی وفات کے بعد ٹیوڈر خاندان کا عہد ختم ہو گیا۔ اس کے بعد میری کوئین آف اسکاٹ لینڈکا بیٹا جیمز ششم جو اسکاٹ لینڈ کا بادشاہ تھا الزبتھ اوّل کی وصیت کے مطابق انگلستان کا بادشاہ قرار پایا اور اس طرح کئی دفعہ حکومت ایک بادشاہ سے دوسرے تک منتقل ہوتی رہی۔ یکم جولائی 1999ء کو اسکاٹ لینڈ کی عوام کی بھرپور جدوجہد کے بعد ان کی رائے کے احترام میں اسکاٹ لینڈ کو علیحدہ ملک بنا دیا گیا۔ اسکاٹ لینڈ علیحدہ پارلیمنٹ کا نظام منظور کیا گیا اور متحدہ جھنڈے یعنی یونین فلیگ میں بھی کوئی تبدیلی واقع نہ ہوئی۔
ویلز جب علیحدہ تھا تو وہاں کا حکمران پرنس آف ویلز کہلاتا تھا لیکن دونوں ممالک کے یکجا ہونے کے بعد یہ لقب انگلستان کے شاہی خاندان کے ولی عہد کیلئے مختص ہو گیا۔ یکم جنوری 1801ء کو برطانیہ عظمی اور ایک ہمسایہ ملک آئرلینڈ کے درمیان ایک سیاسی اتحاد عمل میں آیا، جس کے نتیجہ میں سلطنت متحدہ برطانیہ کے ساتھ آئر لینڈ کا نام بھی شامل کر لیا گیا اور مجموعی طور پر سلطنت کا نام یو نائٹڈ کنگڈم آف گریٹ بریٹن اور آئرلینڈ قرار پایا اور یونین فلیگ کے اندر آئرلینڈ کا جھنڈا بھی شامل کر لیا گیا۔ 1921ء میں جنوبی آئرلینڈ نے اس سے علیحدہ ہو کر ایک جمہوری آئرلینڈ کی حیثیت سے اپنی الگ حکومت قائم کر لی لیکن آئرلینڈ کا شمالی حصہ بدستور برطانیہ کے ساتھ رہا سلطنت کا نام یونائٹڈ کنگڈم اف گریٹ بریٹن اینڈ ناردرن آئرلینڈ رکھا گیا جو آج تک زیر استعمال ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
ایموجی:دورجدید کی ڈیجیٹل زبان

ایموجی:دورجدید کی ڈیجیٹل زبان

زمانۂ قدیم میں پہلے پہل انسان نے غاروں ،جنگلوں اور پہاڑوں میں اکیلا رہنا شروع کیا تھا۔ رفتہ رفتہ جب اسنے اکٹھا رہنا شروع کیا تو اسے ایک دوسرے سے رابطے اور مخاطب کے لئے '' زبان ‘‘(لینگویج ) کی ضرورت محسوس ہوئی اور اسنے زبان (لینگویج) کو رواج دیا۔وقت کے ساتھ ساتھ اسنے بستیوں ، پھر شہروں کو رواج دیا تو ہر بستی اور ہر شہر کی زبان تھوڑی بہت مختلف ہوتی چلی گئی۔ پھر جب شہر، ملکوں اور خطوں میں بٹے تو سرحدوں کا رواج شروع ہوا اور یوں زبانوں کی تعداد بھی بدستور بڑھتی چلی گئی۔ آج اس روئے زمین پر پھیلے انسانوں کی زبانوں کی تعداد کروڑوں سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔ ایک طرف زبانوں میں اضافہ ہوتا چلا گیا تو دوسری طرف سائنسی ترقی کا پہیہ بھی تیز سے تیز ہوتا چلا گیا۔ سائنس نے ٹیکنالوجی کو جنم دیا تو ٹیکنالوجی نے انسان کا ہاتھ تھام لیا۔ ٹیکنالوجی انسان کی زندگی میں داخل کیا ہوئی کہ اس نے رفتہ رفتہ انسان کو ایسا سہل پسند بنا ڈالا کہ یہ انسانی زندگی کا جزو لا ینفک بن کر رہ گئی۔ اس جزو لاینفک کی ابتدائی جدید شکل کمپیوٹر کے نام سے شروع ہوئی۔ چنانچہ اس کمپیوٹر سے کام لینے اور مخاطب کرنے کے لئے انسان نے ایک مشینی زبان کو رواج دیا ۔ اور یوں آج یہی کمپیوٹر مختلف اشکال میں تقریباً ہر گھر اور ہرشخص کے ہاتھ میں نظر آتا ہے ۔ کمپیوٹر نے سب سے پہلے خطوط ، ٹیلی گرام ، عید کارڈ اور پرانے وقتوں کے رابطے کے دیگر ذرائع کو رخصت کیا۔سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی نے لوگوں کے مابین برقی رابطے کو نہایت مضبوط بنایا۔میسج یا ای میل کی ابتدائی تاریخ میں اپنے احساسات کو مؤثر طریقے سے بیان کرنا محال تھا۔ لیکن اس مشینی دور میں جب انسان کے پاس چند لائنیں ٹائپ کرنے کا بھی وقت نہ بچا تو اس نے اپنا مقصد ، اپنے جذبات اور اپنا پیغام کمپیوٹر یا موبائل فون کے کی بورڈ پر بنی مخصوص اشکال کے ذریعے صرف ایک کلک کے ذریعے بھیجنے کو رواج دیا۔ چنانچہ آج کی بورڈ پر بنی یہی اشکال اس کی پیغام رسانی اور ترجمانی کا ذریعہ بن چکی ہیں۔ سوشل میڈیا کی دنیا میں ان اشکال کو ایموجی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ایموجی کیا ہے ، کہاں سے اور کیسے شروع ہوا ؟ایموجی بنیادی طور پر ایک جاپانی لفظ ہے۔ جاپانی لفظ '' ای ‘‘ کا مطلب تصویر ہے جبکہ ''موجی‘‘ کے معنی مطلب کا کردار، کے ہیں۔ لفظ ایموجی سب سے پہلے آکسفورڈ ڈکشنری میں 2017ء میں ظاہر ہوا تھا جس کے معنی کچھ اس طرح سے بیان کئے گئے تھے : ''ایک چھوٹی ڈیجیٹل تصویر یا آئیکان جو کسی خیال یا جذبات کو ظاہر کرنے کیلئے استعمال ہوتا ہے ‘‘۔شیگیٹاکا کوریٹا جو جاپان کی ایک انٹرنیٹ کمپنی کا ملازم تھا ۔ نے 1999 میں دنیا کا پہلا ایموجی تیار کیا تھا۔دراصل کوریٹا کا مقصد بہت زیادہ الفاظ ٹائپ کئے بغیر اپنا مقصد اپنے مخاطب تک محض ایک چھوٹی سی تصویر کے ذریعے پہنچانا تھا۔ پہلا ایموجی موسم کی ترجمانی کرنے والا ایموجی تھا۔ اس کے بعد یہ رفتہ رفتہ جاپانی موبائل فون اور کمپیوٹرز پر عام ہوتے چلے گئے۔یہ ایموجی انتہائی سادہ اور محدود ہوا کرتے تھے مثلاًسٹریٹ سائن ، بلب ، بادل ، سورج ، چاند اور بارش وغیرہ۔رفتہ رفتہ ایموجیز کا استعمال بڑھتا چلا گیا اور یوں یہ ایک نئی الیکٹرونک اور ڈیجیٹل زبان کا درجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ۔ ان کی کامیابی کے پس پردہ ایک چھوٹی سی تصویر یا نشان کے ذریعے اپنے احساسات یا جذبات کی ترسیل تھا ۔مثلاً اب آپ کو یہ کہنے یا لکھنے کی ضرورت نہیں ہے کہ مجھے ہنسی آ رہی ہے ، بس آپ کو اپنے موبائل فون یا کمپیوٹر کی سکرین پر محض ہنسی والی ایموجی ڈالنا ہے ، آپ کا مخاطب آپ کی بات سمجھ جائے گا۔ چہرے کے ایموجی تو بہت پہلے ایجاد چکے ہو تھے مگر سب سے مقبول مسکراہٹ والا ایموجی 2017ء میں ہاروے راس نامی ایک گرافک ڈیزائنر نے ایجاد کیا تھا۔ چہرے کے تاثرات کے سب سے زیادہ ایموجیز ہاروے کے ایجاد کردہ ہیں۔ایموجی پیڈیا کے مطابق ، ایپل ، گوگل ، فیس بک ، ٹوئٹر ، انسٹا گرام ، وٹس ایپ ، وائبر ، چیٹ ایپلی کیشنز میسیجز سمیت موبائل کمپنیز کی جانب سے 2666 اقسام کے ایموجی دنیا بھر میں استعمال ہو رہے ہیں۔ اگرچہ ایموجی ویسے تو 1999ء سے استعمال ہو رہے ہیں لیکن موبائل فون میں سب سے پہلے سن 2011 میں ایپل کمپنی نے متعارف کرائے تھے۔ یہاں یہ بتانا ہوگا کہ ایموجیز کا اجرا بین الاقوامی طور پر باقاعدہ ایک ضابطے اور سسٹم کے تحت عمل میں آتا ہے جس کی منظوری ایک بین الاقوامی ادارہ '' یونی کوڈ کنسورشیم ‘‘ دیتا ہے۔ 2007ء میں گوگل نے یونی کوڈ کنسورشیم سے بین الاقوامی طور پر ایموجیز کی باقاعدہ طور پر منصوبہ بندی کی گزارش کی؛چنانچہ 2009ء میں ایپل کمپنی نے ایموجیز پر کام کرنا شروع کیا اور2011ء کے آس پاس ایپل کے انجینئرز 650 ایموجیز پر مشتمل پہلا کی بورڈ بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ 2015ء میں برطانوی سافٹ وئیر کمپنی'' سوفٹ کی‘‘ (Swiftkey) کے انجینئرز نے مل بیٹھ کر ایموجیز کو عالمی استعمال میں سہل اور فعال بنانے میں نئی جہتیں متعارف کرائیں۔ انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کو وقت کی قلت کے پیش نظر اب الفاظ کی بجائے ایموجیز کا سہارا لینا پڑتا ہے کیونکہ طرح طرح کے ایموجیز اب ہر طرح کے جذبات کی بہترین ترجمانی کرنے کے لئے ہمارے کی بورڈز پر موجود ہیں۔مثلاًاگر کوئی خوش ہے ، بیمار ہے ، غصے کی حالت میں ہے یا افسوس کی حالت میں ہے تو انٹرنیٹ کی دنیا میں ہر قسم کے ایموجیز موجود ہیں جن کے استعمال کے بعد مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ ایک رپورٹ کے مطابق صرف فیس بک کے ذریعے ایک دن میں 6ارب سے زائد ایموجیز استعمال ہوتے ہیں جبکہ ٹوئٹر ، انسٹاگرام ، وٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا اکاونٹس اس کے علاوہ ہیں ۔گویا دنیا بھر میں ہر ایک سیکنڈ میں صرف فیس بک پر 70 ہزار ایموجیز استعمال ہوتے ہیں۔ایک اور سروے میں بتایا گیا ہے کہ سب سے زیادہ استعمال ہونے والا ایموجی آنسووں کے ساتھ ہنستا ہوا چہرہ ہے۔جو دن میں کروڑوں کے حساب سے حرکت میں رہتا ہے۔ورلڈ ایموجی ڈے 17 جولائی کو دنیا بھر میں '' ورلڈ ایموجی ڈے ‘‘ ہر سال باقاعدگی سے منایا جاتا ہے۔ سب سے پہلا '' ورلڈ ایموجی ڈے ‘‘ 17 جولائی 2014ء کو منایا گیا۔اس مخصوص دن کو منانے کی وجہ یہ تھی کہ اگر ایموجی میں کیلنڈر کو استعمال کیا جائے تو اس میں 17 جولائی کی تاریخ درج ہوتی ہے۔ورلڈ ایموجی ڈے کے بانی ، جرمی برج ہیں جو ایموجی پیڈیا کے خالق ہونے کے ساتھ ساتھ یونی کوڈ کنسورشیم کمیٹی کے ممبر بھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ خاص دن منانے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ ہم سوشل میڈیا کی دنیا میں ایک نئی ایجاد کو خراج تحسین پیش کریں۔

مصنوعی ذہانت ڈیپ فیک کے توڑ میں مدد دے گی ؟

مصنوعی ذہانت ڈیپ فیک کے توڑ میں مدد دے گی ؟

گزشتہ ماہ جنیوا میں منعقد ہونے والی یو این کانفرنس آن آرٹیفشل انٹیلی جنس میں دنیا بھر کے ماہرین نے مصنوعی ذہانت کے انتظام کے موضوع پر تبادلہ خیال کیا اور جائزہ لیا کہ پائیدار ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے اس ٹیکنالوجی سے کیسے کام لیا جا سکتا ہے۔اس موقع پر مصنوعی ذہانت کے ساتھ انسانوں کی بات چیت کے متعدد پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا گیا اورمصنوعی ذہانت کے فوائد اور نقصانات پر کئی طرح کے نقطہ نظر پیش کیے گئے۔ شرکا نے مصنوعی ذہانت کے حامل روبوٹس سے مل کر اس ٹیکنالوجی کی خوبیوں اور خامیوں کا اندازہ بھی لگایا۔ڈیپ فیک کا توڑانٹر نیشنل ٹیلی کمیونی کیشن یونین (ITU) میں شعبہ سٹریٹجک انگیجمنٹ کے سربراہ فریڈرک ورنر نے ایسے ضوابط تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے جن سے گمراہ کن اطلاعات کے پھیلاؤ اور ڈیپ فیک کا مقابلہ کیا جا سکے۔ان کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے کئی طریقوں سے کام لیا جا سکتا ہے۔ ان میں واٹر مارکنگ بھی شامل ہے جو دراصل دکھائی نہ دینے والے دستخط یا ڈیجیٹل فنگر پرنٹ ہوتے ہیں۔ ان کی بدولت صارفین کو اندازہ ہو سکتا ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا کی کسی چیز یعنی تصویر، آڈیو اور ویڈیو وغیرہ میں کوئی ترمیم کی گئی ہے یا نہیں اور آیا یہ مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی ہے یا حقیقی ہے۔یو این نیوز نے اس کانفرنس میں ڈیسڈیمونا یا ''ڈیسی‘‘نامی روبوٹ سے ملاقات کی جو خود کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے کام کرنے والا انسان نما روبوٹ کہتا اور بھلائی کو اپنا مقصد بتاتا ہے۔ اس روبوٹ کا کہنا تھا کہ وہ ڈیپ فیک کی نشاندہی اور اسے روکنے کا اہم کام انجام دے سکتا ہے لیکن انسانوں کو بھی چاہیے کہ وہ چوکس رہیں اور کوئی معلومات دوسروں تک پھیلانے سے پہلے اس سے متعلق حقائق کی چھان بین کر لیں۔اگرچہ ڈیپ فیک خوف زدہ کر دینے والی چیز ہے لیکن خوف کو خود پر غالب نہ آنے دیں۔ اس کے بجائے ایسے آلات کی تیاری اور ان سے کام لینے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے جو ڈیپ فیک کی نشاندہی کریں اور ان کا مقابلہ کر سکیں۔ اس کے ساتھ لوگوں کو معلومات کی تصدیق کرنے کی اہمیت کے بارے میں بھی تعلیم دینا ہو گی۔مصنوعی ذہانت کے مخصوص نظام ایسے جدید الگورتھم سے آراستہ ہیں جو ڈیپ فیک کی نشاندہی کر سکتے ہیں اور گمراہ کن اطلاعات کے خلاف جنگ میں ان کی خاص اہمیت ہے۔مصنوعی ذہانت کی خوبیوں اور خامیوں پر بحث کرنے والے بہت سے لوگوں نے اس کانفرنس میں اتفاق کیا کہ اس ٹیکنالوجی کے غیرمعمولی امکانات کو ان لوگوں کے ہاتھ میں نہیں چھوڑا جا سکتا جو اس سے طاقت یا منافع حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ لوگوں کو ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی دینے کے لیے ضابطہ کاری کی ضرورت ہو گی۔اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو میں شعبہ سماجی و انسانی سائنس کی ڈائریکٹر جنرل گیبریلا راموس کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کو باضابطہ بنانے کی ضرورت ہے۔ اس کیلئے حکومتوں کی صلاحیتوں میں بہتری لانے اور ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے کیلئے لوگوں کی صلاحیتیں بڑھانے اور اسے رو بہ عمل لانے کیلئے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبارکی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس طرح یہ ٹیکنالوجی سبھی کو مساوی فائدہ پہنچائے گی اور معاشرے میں عدم مساوات پھیلانے کا باعث نہیں بنے گی۔اس کانفرنس کا انعقاد اقوام متحدہ کی بین الاقوامی مواصلاتی یونین ( ITU) نے کیا تھا جو اطلاعات اور مواصلات کے حوالے سے اقوام متحدہ کا خصوصی ادارہ ہے۔گزشتہ سال کے دوران مصنوعی ذہانت کا استعمال خاصا بڑھ گیا ہے۔ حکومتیں اور ادارے بھی اس ٹیکنالوجی سے کام لینے لگے۔ اس لیے مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال کی ضرورت کا احساس بھی بڑھ گیا ہے۔ یونیسکو نے 2021 میں پہلی مرتبہ مصنوعی ذہانت کے اخلاقی اصولوں سے متعلق اپنی سفارشات تیار کی تھیں۔ ان سفارشات کی یونیسکو کے تمام 194 رکن ممالک نے منظوری دی ہے۔ یونیسکو کی سفارشات سے ہمیں مصنوعی ذہانت اور اس سے متعلق ضابطوں کے بارے میں سوچ بچار میں مدد ملی۔مصنوعی ذہانت کے استعمال میں جیسے جیسے اضافہ ہو رہا ہے ضروری ہے کہ حکومتی سطح پر اس حوالے سے خصوصی اقدامات کئے جائیں اور لوگوں کو ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال سے آگاہی فراہم کی جائے۔ یہ ایک اہم سوال ہے کہ لوگوں کو مصنوعی ذہانت کے حوالے کیسے تربیت دی جا سکتی ہے۔ ضروری نہیں کہ یہ پروگرامنگ کی تربیت ہو بلکہ اس کا مقصد مصنوعی ذہانت کے ماڈل تیار کرنے اور ان سے کام لینے والوں کو سماجی تناظر میں مزید ذمہ دارانہ طریقے سے کام کرنے کے قابل ہونا چاہیے۔اس حوالے سے ڈیجیٹل تقسیم کو بھی مدنظر رکھنا ہو گا۔ہمارے معاشرے میں جہاں بہت سے لوگوں کو ڈیجیٹل آلات یا ذرائع تک رسائی نہیں ، یہ یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ تمام لوگوں کو جدید ٹیکنالوجی کے ذرائع سے فائدہ پہنچے۔

آج کا دن

آج کا دن

''سرحدی معاہدہ‘‘23جولائی 1881ء کو ارجنٹائن اور چلی کے درمیان ایک معاہدہ ہوا جسے ''سرحدی معاہدے‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس معاہدے کا مقصد زمین کی تقسیم پر ہونے والے تنازعات کو حل کرنا تھا۔دونوں ممالک کی سرحد پر ایسے کئی علاقے تھے جس پر دونوں حکمرانی کا دعویٰ کرتے تھے۔ ان متنازع علاقوں کی منصفانہ تقسیم کیلئے یہ معاہدہ کیا گیاجس کے نتیجے میں ارجنٹائن اور چلی کے درمیان 5ہزار 600 کلومیٹر طویل سرحد وجود میں آئی۔یہ معاہدہ ان تاریخی معاہدوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے جس نے دوممالک کے درمیان جنگ کے امکانات کو کم کیا اورامن قائم ہوا۔ پہلی فورڈ گاڑی کی فروخت 23جولائی1903ء کو دنیا کی معروف کار ساز کمپنی فورڈ نے اپنی پہلی گاڑی فروخت کی۔ فورڈ موٹر کمپنی کو عام طور پر فورڈ کے نام سے جانا جاتا ہے ۔یہ ایک امریکی آٹوموبائل بنانے والی کمپنی ہے جس کا صدر دفتر ڈیئربورن، مشی گن، ریاستہائے متحدہ امریکہ میں ہے۔ اس کی بنیاد ہنری فورڈ نے رکھی تھی اور اس کا آغاز 16 جون 1903ء کو ہوا تھا۔ کمپنی فورڈ برانڈ کے تحت آٹوموبائل اور تجارتی گاڑیاں اور اپنے لنکن لگژری برانڈ کے تحت لگژری کاریں فروخت کرتی ہے۔ کئی دیگر کار ساز کمپنیوں میں بھی اس کمپنی کا حصہ ہے۔ فورڈ کو دنیا کی قدیم ترین کارساز کمپنیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ٹرانس ایشیا ء حادثہٹرانس ایشیا کی فلائٹ222جو تائیوان سے بیگو جزیرہ جا رہی تھی۔23جولائی 2014ء کو حادثے کا شکار ہوئی۔جہاز گونگ ائیر پورٹ پر موسم خراب ہونے کی وجہ سے لینڈنگ کے دوران عمارتوں سے ٹکرا گیا۔جہاز میں 58افراد سوار تھے جس میں سے 10 زندہ بچ گئے ۔ تائیوان کی ایوی ایشن سیفٹی کونسل کی تحقیقات میں اس بات کا انکشاف کیا گیا کہ جہاز کے پائلٹ جہاز کو کم اونچائی پر رکھ کر اتار رہے تھے جس کی وجہ سے حادثہ پیش آیا۔ تحقیقاتی ٹیم نے حادثے کا ذمہ دار پائلٹ کو قرار دیاتھا۔طیارہ اغوا23 جولائی 1999ء کوآل نپون ایئرویز کے بوئنگ747 نے ٹوکیو ہنیدا ہوائی اڈے سے اڑان بھری اور اس کی منزل نیو چٹوز تھی۔ اس جہازمیں 14 بچے اور 14 عملے کے ارکان سوار تھے۔ چٹوز ہوائی اڈے پر لینڈنگ سے قبل اسے یوجی نیشیزکے کارکنوں نے اسے ہائی جیک کر لیا۔ اغوا کار کے پاس ایک چاقو تھا جس کی مدد سے وہ جہاز کے کاک پٹ میں داخل ہو نے میںکامیاب ہوا۔پائلٹ نے اس کی ہدایات ماننے سے انکار کیا تو یوجی نے اس کے سینے پر چاقو سے وار کر دیا اور جہاز کا کنٹرول خودسنبھال لیا۔کچھ دیر بعد جہاز کا عملہ اغوا کار پر قابوپانے میں کامیاب ہو گیا اور معاون پائلٹ نے جہاز کو حفاظت کے ساتھ زمین پر اتارا۔ 

پلاسٹک آبی حیات کا دشمن

پلاسٹک آبی حیات کا دشمن

ماہرین ارضیات کے مطابق اس کرہ ارض کا لگ بھگ 72 فیصد حصہ پانی اور صرف 28 فیصد خشکی یعنی ہماری زمین پر مشتمل ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کرہ ارض کے 28 فیصد حصے کے قابض یعنی ہم انسانوں نے نتائج کی پرواہ کئے بغیر 72 فیصد حصے کی مالک ، آبی مخلوق کے ساتھ جو چھیڑ چھاڑ شروع کر رکھی ہے اس نے پوری دنیا کے سائنس دانوں اور سنجیدہ طبقوں کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔نتائج سے بے خبر ہم انسانوں نے پلاسٹک کے ذریعے سمندروں میں آبی آلودگی میں اضافے کی جو روش اختیار کر رکھی ہے ماہرین کے مطابق وہ ہر ایک سیکنڈ میں سیکڑوں آبی حیات کی ہلاکتوں کا سبب بن رہی ہے۔ ماحولیات کے حوالے سے ایک غیر سرکاری عالمی تنظیم'' 5گیئرس انسٹیٹیوٹ ‘‘ کے ایک حالیہ تجزئے کے مطابق ''دنیا کے سمندروں میں 1700 کھرب سے زیادہ پلاسٹک کے ٹکڑے تیر رہے ہیں، جبکہ ہر روز 80 لاکھ پلاسٹک کے نئے ٹکڑے سمندروں میں داخل ہوتے ہیں‘‘۔اسی رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ 2040ء تک یہ مقدار تین گنا ہو جا نے کا خدشہ ہے جو سمندروں میں مچھلیوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہو گی‘‘۔اس کے ساتھ ساتھ حال ہی میں ماہرین ارضیات نے برازیل کے جزیرہ ٹرینیڈاڈ پرپلاسٹک کی آلودگی کے باعث وجود میں آنے والی پلاسٹک کی کچھ خلاف فطرت چٹانوں کا انکشاف بھی کیا ہے۔ اس کی وجوہ پر روشنی ڈالتے ہوئے سانتوس نامی ایک ماہر ارضیات بتا رہے تھے کہ سمندروں میں غلط طریقوں سے پھینکا جانے والا پلاسٹک ارضیاتی مواد بنتا جا رہا ہے۔چنانچہ جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو یہ پگھل کر ساحل سمندر کے ساتھ موجود قدرتی چٹانوں کے ساتھ مل کر رفتہ رفتہ ''پلاسٹک کی چٹانوں ‘‘ کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔آبی مخلوق کی ہلاکتاس بگڑتی صورت حال سے کرہ ارض کے ماحول میں کیا بگاڑ پیدا ہو رہا ہے ہم آپ کے سامنے تین واقعات پیش کر رہے ہیں جس کے بعد اس صورت حال کی وضاحت کی مزید ضرورت نہیں رہتی۔آج سے چند سال پہلے ایک خبر دنیا بھر کے اخبارات میں جلی سرخیوں کی زینت بنی تھی جس کے مطابق فلپائن کے مابانی نامی ساحل پر ایک ایسی وہیل مچھلی مردہ حالت میں ملی تھی جس کے پیٹ سے 40 کلوگرام پلاسٹک کچرا برآمد ہوا تھا۔تفصیلات کے مطابق مابانی ساحل کے حکام کو معمول کے گشت کے دوران ساحل پر پھنسی ساڑھے پندرہ فٹ لمبی ایک بھاری بھر کم وہیل مچھلی نظر آئی جسے مقامی حکام نے مچھیروں کی مدد سے پکڑ کر دوبارہ پانی میں دھکیل دیا تھا۔لیکن اگلے ہی روز بھوک سے ہلاک ہونے والی اس مچھلی کی تیرتی ہوئی لاش اس وقت دنیا کی توجہ کا مرکز بنی جب اس مردہ وہیل کی تحقیق کرنے والے ماہر ڈیرل بلیچ نے بتایا کہ اس مردہ مچھلی کے پیٹ سے چاول کی خالی بوریا ں اور شاپنگ بیگز سمیت پلاسٹک کا چالیس کلو گرام کچرا برآمد ہوا ہے۔مزید وضاحت کرتے ہوئے ڈیرل بلیچ نے بتایا کہ اس وہیل کا معدہ پلاسٹک کچرے سے بھرا ہونے کے باعث یہ مزید کچھ کھانے سے قاصر تھی جس کے باعث بھوک سے اس کی موت واقع ہو گئی۔ یہ واقعہ اس لئے بھی افسوس ناک تھا کہ اس سانحہ سے ٹھیک ایک ہفتہ قبل ''گلوبل الائنس فار انسینیریٹر آلٹرنیٹیو‘‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ فلپائن میں سالانہ 60 ارب پلاسٹک کی تھیلیاں استعمال ہوتی ہیں جن کی کثیر تعداد کسی نہ کسی طریقے سمندروں تک پہنچ جاتی ہے۔صرف یہی نہیں بلکہ جنوب مشرقی ایشیا ء کے دیگر ممالک بھی آبی آلودگی کا سبب بن رہے ہیں جس کی وجہ سے وہیل، کچھوے اور دیگر سمندری حیات تیزی سے ہلاک ہوتے جا رہے ہیں۔بات چلی ہے تواسی حوالے سے ہم 2019ء میں امریکی ریاست فلوریڈا میں جانوروں کی ایک فلاحی تنظیم ''دا گمبو لمبو نیچرل سنٹر‘‘ کی ایک کارکن ایملی مروسکی کی فیس بک پر پوسٹ کی گئی ایک ننھے منے کچھوے کی تصویر کی طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں ، جو فلوریڈا کے ساحل پر نیم مردہ حالت میں پایا گیا تھا۔جس کے پیٹ سے مائیکرو پلاسٹک کے104 ٹکڑے برآمد ہوئے تھے۔ایملی مروسلی نے اس ہلاکت پر افسوس کرتے ہوئے وضاحت کی کہ جب مارچ اور اکتوبر کے درمیان کچھوؤں کے بچے انڈوں سے نکلتے ہیں تو وہ تیرتی ہوئی گھاس کا رخ کرتے ہیں جہاں وہ اپنے ابتدائی سال گزارتے ہیں۔اصل مسلہ یہ ہے کہ سمندر میں جتنا بھی پلاسٹک پھینکا جاتا ہے وہ یہاں اس سمندری گھاس پر آکر رک جاتا ہے اور کچھووں کے بچے سمندری گھاس میں اٹکے مائیکرو پلاسٹک کو خوراک سمجھ کر کھانا شروع کر دیتے ہیں۔نتیجتاً وہ سمجھتے ہیں ان کا معدہ خوراک سے بھر چکا ہے اور وہ مزید کھانا چھوڑ دیتے ہیں جس سے انہیں خوراک کی کمی کا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے اور بالآخر وہ نڈھال ہو کر زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ اس تصویر کے وائرل ہونے کے بعد ایک معروف امریکی ٹی وی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے جانوروں کے علوم کے ایک ماہر کہہ رہے تھے کہ یہ اس ننھے کچھوے کی ہلاکت کا کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ رواں سال اسی ساحل پر بیسیوں کچھوے مائیکرو پلاسٹک نگلنے کے بعد بھوک کے باعث ہلاک ہوچکے ہیں۔پلاسٹک کی بارشپہاڑوں ، دریاوں ، سمندروں کی آلودگی بارے تو اب کچھ پوشیدہ نہیں رہا لیکن بارشوں کی آلودگی بارے پہلی بار سنا ہے ، ایک تحقیق کے مطابق امریکی ریاست کولو راڈو میں واقع راکی ماونٹین نیشنل پارک میں رنگین پلاسٹک کی بارش ہوتی ہے جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پلاسٹک کے ذرات ہمارے اس سیارے کے دورافتادہ حصوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ بارش کے پانی میں پلاسٹک کی موجودگی کا مطلب یہ ہے کہ پلاسٹک کا پانی میں پایا جانا ہر جگہ ہے۔یہ صورت حال صرف شہروں تک محدود نہیں ہے۔ مندرجہ بالا حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اب یہ کہہ دینے میں کوئی عار نہیں کہ زمین ، سمندر، پہاڑ اور فضا سمیت کوئی ایسا مقام نہیں بچتا جہاں پلاسٹک یا اس کی باقیات نہ ہوں۔ لیکن قدرتی طور پر ذہن میں یہ خیال آتا ہے کہ آخر پلاسٹک اور اس کے ذرات سمندروں تک پہنچتے کیسے ہیں اور پھر سمندروں سے کہاں کا رخ کرتے ہیں ؟۔پلاسٹک کچرا کہاں اور کیسے جاتا ہے ؟سائنس دانوں نے ایک تحقیق کے بعد بتایا ہے کہ ہم ہر روز لاکھوں ٹن کچرا پیدا کرتے ہیں۔ جس میں سے لگ بھگ ایک کروڑ ٹن کچرا مختلف مراحل طے کرتا ہوا سمندروں تک پہنچ جاتا ہے۔اس کچرے کا نصف چونکہ پانی سے ہلکا ہوتا ہے اس لئے وہ پانی پر تیرتا رہتا ہے۔ سائنس دان کہتے ہیں کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق پانی پر تیرنے والا کچرا تین لاکھ ٹن ہوتا ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر باقی 97 لاکھ ٹن کچرا کہاں جاتا ہے؟۔ماہرین اس کا جواب اس طرح دیتے ہیں۔''ہم انسانوں کی غفلت سے پھینکا گیا پلاسٹک کچرا جو تیز بارشوں یا تیز ہواؤں کے سبب ندی نالوں میں جا پہنچتا ہے اور پھر چلتے چلتے اس کی اگلی منزل دریا ہوتے ہیں، جہاں سے رفتہ رفتہ بالآخر یہ اپنی آخری منزل سمندر کا رخ کرتے ہیں۔ سمندر پہنچ کر پلاسٹک کا یہ کچرا جو ہر سائز کا ہوتا ہے سمندر کی تیز رفتار لہروں اور سورج کی الٹرا وائلٹ شعاوں کے باعث ہفتوں یا مہینوں کے اندر چھوٹے چھوٹے ذرات میں تبدیل ہوتا رہتا ہے۔پلاسٹک کے یہ چھوٹے چھوٹے ٹکڑے یا ذرات ''مائیکرو پلاسٹک‘‘ کہلاتے ہیں ، جن کا عمومی سائز پانچ ملی میٹر سے لے کر بیکٹیریا سے بھی چھوٹے نقطے کے برابر ہو جاتا ہے ، یہاں تک کہ ان ذرات کو بمشکل خوردبین ہی سے دیکھا جا سکتا ہے۔ چنانچہ عام طور پر مچھلیاں یا دیگر آبی مخلوق ان ذرات کو خوراک سمجھ کر کھاتی رہتی ہیں جو بالآخر ان کی ہلاکت کا سبب بن جاتی ہے۔

سینٹ پاک کیتھڈرل

سینٹ پاک کیتھڈرل

اہل برطانیہ کس حد تک مذہبی تھے یا نہیں اس پر انگلی اٹھائی نہیں جا سکتی، لیکن ایک حقیقت جس سے آنکھ چرائی نہیں جا سکتی وہ یہ کہ برطانیہ کے عوام اور حکمرانوں کو بڑے بڑے گرجے اور کلیسا تعمیر کروانے کا جنون کی حد تک شوق تھا۔ اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ان کے ہاں اتنے ماہر فنکار، کاریگر، انجینئر اور ماہر تعمیرات ہمیشہ موجود رہے اور ان کے فن پارے جیتی جاگتی صورت میں آج تک نظر آتے ہیں۔ سینٹ پال کیتھڈرل اسی ایک عظیم شاہکار کا منہ بولتا ثبوت ہے اور اپنے مذہب سے ان کی عقیدت و محبت اس بات سے عیاں ہوتی ہے کہ آج بھی دو ہزار سال گزرنے کے باوجود صلیب کو وہ اپنے سینوں پر سجائے ہوئے ہیں۔سینٹ پال کیتھڈرل کی عمارت اس قدر شاندار اور قابل دید ہے کہ اس کے ڈیزائن کے خالق کو داد دینا پڑتی ہے۔ یہ چرچ اسی جگہ تعمیر کیا گیا ہے جہاں پرانا رومن چرچ 1666ء میں لندن میں لگنے والی آگ کی نذر ہو گیا تھا۔ سینٹ پال کیتھڈرل کی عمارت کو ماہر تعمیرات سر کرسٹوفر رن نے ڈیزائن کیا پھر یہ چرچ 1710ء میں تعمیر ہوا۔ کیتھڈرل کے گنبد کی بلندی 365فٹ اور اس کے دو میناروں کی بلندی 212فٹ ہے۔ داخلی دروازے کے سامنے 180فٹ بلند ستون کے اوپر سینٹ پال کا مجسمہ نصب ہے۔ گنبد کا قطر باہر سے 112فٹ اور اندر سے 102فٹ ہے۔ تعمیر کردہ چرچ 518 فٹ لمبا اور 246فٹ چوڑا ہے۔ اوپر چڑھنے کیلئے زینے کے سٹپ کی تعداد 528ہے۔ اکیلے گنبد کا وزن 6500ٹن ہے۔ اوپر والی گیلری میں کھڑے ہو کر لندن کے چاروں اطراف اور دریائے ٹیمز کا بخوبی نظارہ کیا جا سکتا ہے۔ سیاحوں کیلئے کیتھڈرل کے دروازے صبح ساڑھے آٹھ بجے کھول دیئے جاتے ہیں، گنبد کے اوپر جانے کیلئے ساڑھے نو بجے تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔112فٹ قطرے کے گنبد میں دوسرے کنارے تک ہر طرح کی سرگوشی سنی جا سکتی ہے۔ اس لئے اس گیلری کو ''وسپرنگ گیلری ‘‘کہا جاتا ہے، اس جگہ سے گنبد کی اندرونی سطح پر بنائی گئی پینٹنگ بڑی پرکشش اور خوبصورت ہیں۔ اس کے اوپر 117سٹپ کے بعد سٹون گیلری اور گولڈن گیلری ہے۔ عمارت میں داخل ہوتے ہی غلام گردش کے دائیں اور بائیں دو مینار ہیں۔ مغربی ٹاور میں بارہ گھنٹیاں نصب ہیں۔ دوسرے ٹاور میں انگلینڈ کی سب سے بڑی گھنٹی جس کا وزن17ٹن ہے۔ یہ گھڑی 1882ء میں ڈھالی گئی تھی۔ یہ ساری گھنٹیاں اتوار کے دن9:45سے 10:15،11:00بجے سے 11:30اور پھر 2:45 سے 3:15تک مسلسل بجتی رہتی ہیں اور سب سننے والوں کی توجہ چرچ کی طرف مرکوز کرواتی ہیں۔کیتھڈرل لائبریری میں رکھی گئی کتب کی کل تعداد 21ہزارہے اور 1690مخطوطات ہیں۔ اس کے علاوہ عمارت کے متعلقہ ڈیزائن کی ڈرائنگ اور تعمیر کے متعلق دستاویزات ہیں۔اس کیتھڈرل میں اس عمارت کے ڈیزائن کے خالق سرکرسٹوفررن بھی مدفون ہے۔ قریب ہی انگلستان کے مشہور ہیروڈیوک آف ولنگٹن اور برطانوی بحری افواج کے امیر البحر نیلسن کے مقابر ہیں۔ امیر الحرنیلسن برطانیہ کا مشہور ہیرو تھا، جس نے اپنے ملک کی طرف سے کئی بحری جنگوں کی کمان کی اور فتح یاب ہوا۔ اسے برطانیہ کے ہیرو کا درجہ حاصل ہے۔وہ ٹرافالگر کی لڑائی میں مارا گیا تھا جبکہ اس لڑائی میں برطانیہ نے فتح حاصل کی تھی۔ اسی کیتھڈرل میں برطانیہ کے مشہور وزیراعظم ونسٹن چرچل کی آخری رسومات ادا کی گئیں اور وہ بھی اسی چرچ میں دفن ہے۔مشہور تقریبات:٭... لیڈی ڈیانا اور پرنس چارلس کی شادی کی تقریب اسی کیتھڈرل میں جولائی 1981ء میں ہوئی۔٭... ملکہ وکٹوریہ کی ڈائمنڈ جوبلی جون 1897ء میں ہوئی۔٭... سلور جوبلی آف ملکہ الزبتھ دوم جون 1977ء میں ہوئی۔٭... گولڈن جوبلی آف ملکہ الزبتھ دوم جون 2002ء میں ہوئی۔٭...سابقہ وزیراعظم مارگریٹ کی آخری تدفینی رسومات اپریل 20013ء میں ہوئیں۔٭...اسی کیتھڈرل کی فلموں اور ٹی وی سیریلز میں عکاسی بھی کی گئی ہے۔ مشہور زمانہ فلم ''لارنس آف عریبیا‘‘ میں بھی اس کیتھڈرل کو دکھایا گیا تھا۔٭...سینٹ پال کیتھڈرل کے قریب 130گز کے فاصلہ پر اسی کیتھڈرل کے نام سے ٹیوب سٹیشن واقع ہے۔

بڑھتی آبادی کے معاشی وماحولیاتی اثرات کیا ہوں گے ؟

بڑھتی آبادی کے معاشی وماحولیاتی اثرات کیا ہوں گے ؟

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے معاشی و سماجی امور کی جاری کردہ World Population Prospects 2024 کے مطابق8ارب20 کروڑ کی موجودہ آبادی میں اگلے 60 سالوں میں دو ارب کا اضافہ ہو جائے گا اور2080ء کی دہائی کے وسط میں دنیا کی آبادی 10 ارب 30 کروڑ تک پہنچ جائے گی جبکہ صدی کے اختتام تک اس میں کمی کی توقع ہے۔اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق 2100 میں دنیا کی آبادی کا حجم اس اندازے سے چھ فیصد (70 کروڑ) کم ہو گا جو ایک دہائی قبل لگایا گیا تھا۔گزشتہ تین دہائیوں میں شرح اموات کم ہوئی ہے اور اوسط عمر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔رپورٹ کے مطابق 2070 ء کے اختتام تک 65 برس سے زیادہ عمر کے لوگوں کی تعداد 18 سال سے کم عمر کے بچوں سے بڑھ جائے گی۔ اسی طرح 80 سال اور اس سے زیادہ عمر کے لوگوں کی تعداد ایک سال سے کم عمر کے بچوں سے زیادہ ہو گی۔اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل برائے معاشی و سماجی امور لی جنہوا نے کہا ہے کہ حالیہ برسوں کے دوران دنیا میں آبادی کی صورتحال میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں آئی ہیں۔ بعض ممالک میں شرح پیدائش گزشتہ اندازوں کے مقابلے میں کم ہے۔ بعض ایسے علاقوں میں بھی یہ شرح تیزی سے کم ہو رہی ہے جہاں قبل ازیں یہ دوسرے خطوں کے مقابلے میں بلند رہتی تھی۔انہوں نے اسے خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح ماحول کو ہونے والے نقصان میں بھی کمی آئے گی۔ تاہم آبادی میں اضافے کی رفتار کم ہونے کے باوجود ہر فرد کے ہاتھوں ماحول پر پڑنے والے منفی اثرات کی شرح برقرار رہے گی جس میں کمی لانے کے اقدامات جاری رکھنا ہوں گے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین سمیت دنیا کے بعض بڑے ممالک میں بچوں کی پیدائش میں کمی آئی ہے اور وہاں خواتین میں صرف ایک بچہ پیدا کرنے کا رحجان تقویت پکڑ رہا ہے۔دنیا کے نصف سے زیادہ ممالک میں فی عورت بچوں کی شرح 2.1 سے بھی کم رہ گئی ہے۔ مہاجرت کے بغیر طویل عرصہ تک آبادی کے حجم کو برقرار رکھنے کے لیے یہی شرح درکار ہوتی ہے۔چین، اٹلی، جنوبی کوریا اور سپین سمیت دنیا کے 20 فیصد ممالک میں فی خاتون بچوں کی شرح پیدائش 1.4 فیصد سے بھی کم رہ گئی ہے۔گھٹتی بڑھتی آبادی: عالمگیر صورتحالرواں سال تک 63 ممالک کی آبادی اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے جہاں کا ماحول اس میں مزید اضافے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ان ممالک میں چین، جرمنی، جاپان اور روس بھی شامل ہیں۔ آئندہ تین دہائیوں میں ان ممالک کی آبادی میں 14 فیصد کمی کی توقع ہے۔رپورٹ کے مطابق، برازیل، ایران، ترکیہ اور ویت نام سمیت 48 ممالک کی آبادی 2025 اور 2054 کے مابین عروج پر پہنچ جائے گی۔پاکستان،بھارت، امریکہ، انڈونیشیا اورنائجیریا سمیت 126 ممالک کی آبادی میں 2054 تک اضافہ ہوتا رہے گا اور وہاں صدی کے دوسرے نصف میں کسی وقت اس میں کمی متوقع ہے۔ نو ممالک ایسے ہیں جہاں 2054 تک آبادی میں تیزی سے اضافے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ ان ممالک میں وسطی افریقہ، جمہوریہ کانگو، نیجر، صومالیہ اور انگولا بھی شامل ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بچوں اور نوعمر افراد خصوصاً لڑکیوں کی تعلیم پر سرمایہ کاری کرنے اور شادی کی قانونی عمر میں اضافہ کرنے سے آبادی میں اضافے کے رحجان پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اس سے خواتین کی صحت، تعلیم اور افرادی قوت میں ان کی شمولیت سے متعلق صورتحال بھی بہتر ہو سکتی ہے اور آبادی میں اضافے کی رفتار کم کرنے اور پائیدار ترقی کے حصول میں بھی مدد ملے گی۔