یادرفتگاں: کلاسیکل موسیقی کی شان استاد امانت علی خاں

یادرفتگاں: کلاسیکل موسیقی کی شان استاد امانت علی خاں

اسپیشل فیچر

تحریر : محمد ارشد لئیق


برصغیر کی دھرتی نے ایسے بے شمار سپوتوں کو جنم دیا جن کے فن کا اعتراف پورے عالم میں کیا گیا۔ خاص طور پر مشرقی موسیقی کے میدان میں تو ایسے فنکار ملتے ہیں، جن کی گائیکی میں وہ جادو دکھائی دیا جو کبھی تان سین کے سروں کا حصہ ہوا کرتا تھا۔ انہی بڑے لوگوں میں سے ایک پٹیالہ گھرانے میں جنم لینے والے امانت علی خاں بھی ہیں۔ وہ 1922ء کو پیدا ہوئے۔ باپ کا نام استاد اختر حسین جبکہ دادا کا نام علی بخش تھا۔ استاد علی بخش کے فن کے اعتراف میں انگریز سرکار نے انہیں جرنیل کا خطاب بھی دے رکھا تھا، جو اس عہد میں کسی بھی شعبہ میں منفرد تخلیقی کارناموں پر دیا جانے والا سب سے بڑا سرکاری اعزاز تھا۔
ان کی آواز کا جائزہ لیں تو وہ اپنے ہم عصروں سے نہایت مختلف ہے۔ ہمارے ہاں عموماً کلاسیکل گلوکار اونچے سُروں میں گانے سے گریز کرتے ہیں لیکن امانت علی خاں کی آواز کی خوبی تھی کہ وہ اونچے اور نیچے سُروں میں ایک سا تاثر چھوڑتی، بلکہ ناقدین یہ فیصلہ ہی نہیں کر پائے کہ وہ اونچا سُر اچھا لگاتے یا نیچے سُروں میں آسانی سے گاتے تھے۔ امانت علی خان نے لاتعداد کلاسیکل اور نیم کلاسیکل لازوال گیت گائے جو آج بھی ذوق و شوق سے سنے جاتے ہیں۔
60ء کی دہائی میں استاد امانت علی خاں اور استاد فتح علی خاں کے مخالفین نے یہ پروپیگنڈہ شروع کردیا کہ پٹیالہ گھرانے والے صرف کلاسیکی گائیکی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ امانت علی خاں کا خیال تھا کہ اصل گا ئیکی ہی کلاسیکل ہے جبکہ غزل اور گیت تو تھوڑا ریاض کرنے والے بھی گا سکتے ہیں۔ مخالفین کو جواب دینے کیلئے انہوں نے غزل گائی تو ''انشا جی اٹھو اب کوچ کرو‘‘ جیسا ''ماسٹر پیس‘‘ سامنے آیا۔ گیت کی طرف آئے تو ''چاند میری زمین پھول میرا وطن‘‘تخلیق ہوا، جس کی دھن آج بھی زبانِ زد عام ہے۔
ان کی حب الوطنی کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں جب وہ معاشی تنگ دستی کا شکار تھے تو راجا مہندر سنگھ نے کہا کہ اگر آپ لوگ ہندوستان واپس آ جائیں تو آپ کی جاگیریں لوٹا دی جائیںگی لیکن امانت علی خاں نہ مانے۔ یہی وہ جذبہ تھا جو ''اے وطن، پیارے وطن، پاک وطن‘‘ جیسے گیت کی بنیاد بنا۔ سُر اور لے سے ناواقف لوگ بھی یہ نغمہ سنتے ہیں تو ان کی گائیکی کے معترف ہو جاتے ہیں۔ خاص طور پر اس گیت کے انترے نہایت دلکش تھے، اس پر لفظوں کی ادائیگی نے جو غضب ڈھایا اس کی مثال پوری نیم کلاسیکل گائیکی میں ملنا مشکل ہے۔ انہوں نے جس انداز میں یہ مصر ع گایا ''میرے محبوب وطن تجھ پہ اگر جاں ہو نثار‘‘ وہ ان کی فنی بلندیوں کا ثبوت مہیا کرنے کیلئے بڑی مثال قرار دیا جا سکتا ہے۔
ایک دفعہ ان کی بہن اکرام بیگم نے اپنے ایک انٹرویو کہا تھا کہ اچھا گانا، ریاض کرنا، اچھا اوڑھنا پہننا اور بہترین کھانا ان کے مشاغل میں شامل تھا۔میرا اور بھابھی کے ہاتھ کا بنا کھانا شوق سے کھاتے تھے۔ جب بھی موڈ میں ہوتے دوپیازہ اوربھنی ہوئی مچھلی کوفتے، یاکسی بھی بھنے ہوئے کھانے کی فرمائش کرتے تھے۔
برصغیر کا یہ روشن ستارہ 1974ء کو غروب ہو گیا، دن یہی تھا، مہینہ بھی یہی جب ستمبر کی ستمگری کی صورت برصغیر کی کلاسیکل موسیقی کے سینے پر ایسا داغ آیا، جو کبھی مٹ نہ پائے گا۔
ان کے فن کو استاد فتح علی خاں، استاد حامد علی خاں نے آگے بڑھایا اور بعدازاں ان کے بیٹوں اسد اور شفقت نے ان کی یاد کو تازہ کیے رکھا۔ ان کے بیٹے اسد کا انتقال بھی اسی عمر میں ہوا جب وہ اپنے باپ کی طرح فن کے عروج پر تھے۔اب شفقت کلاسیکل اور جدید گائیکی کے امتزاج سے دل میں اتر جانے والے گیت تخلیق کررہا ہے۔
استاد حامد علی خاں اپنے بھائی استاد امانت علی خاں کے متعلق کہتے ہیں کہ ان کی گائیکی بہت منفرد تھی، اپنے فن میں یکتا اور لاجواب تھے۔ وہ گائیکی کی دنیا کا بہت بڑا نام ہیں۔ غزل کو اپنانے کی جہاں تک بات ہے، تو میرے خیال سے انہوں نے اس کو اپنانے میں تھوڑی تاخیر کی۔ ان کو اپنی گائیکی میں غزل کی ابتدا بہت پہلے کر لیناچاہیے تھی۔ اس تاخیرکی ایک وجہ موسیقی کے بڑے یہ بھی بتاتے ہیں کہ انہوں نے غزل شاید اس لیے دیر سے شروع کی کہ وہ سمجھتے تھے غزل گانے سے وہ کلاسیکی موسیقی کے جس درجے پر فائز تھے، اس سے نیچے آجاتے لیکن پھر بھی انہوں نے دیر سے غزل گائیکی کا آغاز کیاا ور اس میں مقبولیت حاصل کی۔مجھ سے وہ بہت پیار کرتے تھے، کیونکہ میں سب سے چھوٹا بھائی تھا۔ان سے جڑے ہوئے کئی ایک واقعات ہیں جو میری یادوں کا حصہ ہیں مگرایک واقعہ قابل ذکر ہے کہ میں کافی چھوٹا تھا تو مجھ سے ایک بزرگ گائیک نے کچھ سنانے کو کہا، میں نے سنایا تو میری تعریف کی اور کہا کہ میں اچھا گاتا ہوں، پھر اس بزرگ نے استاد امانت علی خاں سے میرے گانے کی تعریف کی۔ ایک مرتبہ مجھے استاد امانت علی خاں نے کہا کہ میں انہیں کچھ سنائوں۔مجھے ان سے ڈر لگتا تھا ،میں نے کہا کہ میں تو ابھی سیکھ رہا ہوں، پھر انہوں نے ٹھمری گائی اور میں نے ان کو وہی سُر گاکے سنایا، انہوں نے جب وہ سُر سنا تو مجھے گلے سے لگا لیا اور کہا کہ یہ مشکل تھا جوتم نے گاکے دکھایا۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
بلیو سکرین آف ڈیتھ

بلیو سکرین آف ڈیتھ

CrowdStrike - Microsoft کمپیوٹر کی بندش، جو جمعہ19 جولائی کے روز ہوئی، تاریخ کی سب سے بڑی آئی ٹی خرابیوں میں سے ایک ہے۔اس عالمی بندش کی وجہ سے ''بلیو سکرین آف ڈیتھ ‘‘(BSOD)خرابی کے پیغامات نے بینکوں اور غیر بینکاری مالیاتی کمپنیوں سمیت مالیاتی منڈیوں کو شدید متاثر کیا، جس سے تجارتی سرگرمیوں اور لین دین میں غیر معمولی خلل پڑا۔پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم، ایوی ایشن آپریشنز، کارپوریٹ انٹرپرائزز، میڈیا براڈکاسٹنگ اور ہوٹلوں کی صنعت بھی اس سے شدید متاثر ہوئی ، جس سے وسیع پیمانے پر سروس میں خلل اور آپریشنل افراتفری کا سامنا کرنا پڑا۔ عالمی سطح پر اس آئی ٹی کی بندش نے کئی سوالات اٹھائے ہیں۔ کیا یہ سائبر حملہ تھا ؟ یہ کتنے عرصے تک ہوا؟ مائیکروسافٹ خبروں میں کیوں رہا ؟اس خرابی میں CrowdStrike نے کیا کردار ادا کیا ؟اور اس خلل کے بارے میں حکومتوں نے کیا کہا ؟ اور ''بلیو سکرین آف ڈیتھ‘‘ کیوں ٹرینڈ کرتی رہی ؟عالمی آئی ٹی بندش کیسے ہوئی ؟جمعہ کی اس افراتفری کا آغاز ایک ناقص اَپ ڈیٹ کے ساتھ ہوا جسے CrowdStrike سے جاری کیا گیا تھا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر جمعہ کی ایک پوسٹ میں کراؤڈ سٹرائیک کے صدر اور سی ای او جارج کرٹز نے ونڈوزہوسٹس کیلئے ایک ہی مواد کی اپ ڈیٹس میں پائے جانے والے نقص کا حوالہ دیا اور کہا کہ میک اور لینکس یوزرز اس سے متاثر نہیں ہوئے۔ لیکن چونکہ بہت سی کمپنیاں اپنے آپریٹنگ سسٹم کے طور پر ونڈوز کے ساتھ اپنی سکیورٹی کی ضروریات کیلئے CrowdStrike پر انحصار کرتی ہیں اس لیے اس قسم کے تکنیکی مسئلے کے نتائج دور رس ہیں۔Downdetector، جو انٹرنیٹ سروسز میں صارف کی رپورٹ کردہ رکاوٹوں کو ٹریک کرتا ہے، نے بتایا کہ دنیا بھر میں ایئر لائنز، ادائیگی کے پلیٹ فارمز اور آن لائن شاپنگ ویب سائٹس متاثر ہوئی ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ یہ خلل دنیا بھر میں سافٹ ویئر پر انحصار کے خطرے کی نشاندہی کرتاہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے بلاواٹنک سکول آف گورنمنٹ کے پروفیسر اور برطانیہ کے نیشنل سائبر سکیورٹی سینٹر کے سابق سربراہ سیاران مارٹن کہتے ہیں کہ یہ دنیا کے بنیادی انٹرنیٹ انفراسٹرکچر کی کمزوری کی ایک بہت، بہت ہی غیر آرام دہ مثال ہے۔ مائیکروسافٹ کی بندش: کلیدی شعبوں پر اثراتسٹاک مارکیٹ میں رکاوٹیں: اس بندش کی وجہ سے آپریشنل رکاوٹوں کی وجہ سے جمعہ کوسٹاک بروکریج فرموں کے حصص میں کمی دیکھنے میں آئی۔ عالمی سطح پر ہانگ کانگ، دبئی، جنوبی افریقہ اور لندن کے بینکروں کو لین دین کو انجام دینے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ایئر لائن اور ہوائی اڈے کی افراتفری: عالمی ہوا بازی کے شعبے کو نمایاں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ہوائی اڈوں اور ایئر لائنز نے تاخیر، منسوخی اور مینوئیل چیک ان کی اطلاع دی۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے بھی تصدیق کی ہے کہ سائبرسکیورٹی فرم کراؤڈ سٹرائیک کی جانب سے غلط اپ ڈیٹ کے باعث آئی ٹی کی ایک بڑی عالمی بندش نے پاکستان میں صارفین کے لیے مائیکروسافٹ سروسز کو متاثر کیا ہے۔ اس خلل کے حوالے سے پی ٹی اے نے ایک بیان جاری کیا جس میں صارفین کو پریشانی سے آگاہ کیا گیا اور کہاگیا کہ بندش نے پاکستان میں بھی مائیکرو سافٹ کے صارفین کومتاثر کیا۔ ناقص اَپ ڈیٹ کی وجہ سے پی سی اور سرورز ریکوری بوٹ لوپ میں پھنس گئے اور کچھ انٹرنیٹ سروسز کو بھی مسائل کا سامنا ہے۔پی ٹی اے نے مائیکروسافٹ کے صارفین کو مشورہ دیا کہ اپنے سافٹ ویئر کو سپورٹ پورٹل کے ذریعے اپ ڈیٹ کر کے معمول کی سروس بحال کریں۔یہ عالمی سائبر واقعہ جو CrowdStrike کے سیکورٹی پروڈکٹ میں ایک اَپ ڈیٹ سے شروع ہوا، اس کے دور رس اثرات سامنے آئے۔ مائیکروسافٹ نے بعد میں اس بات کی تصدیق کی کہ مسئلہ ٹھیک ہو گیا ہے، تاہم اس کے اثرات دنیا بھر میں محسوس کیے گئے، آسٹریلیا سے لے کر جرمنی تک بینکوں اور مالیاتی اداروں نے رکاوٹوں کی اطلاع دی۔ مختلف بازاروں کے تاجروں کو بھی لین دین کو انجام دینے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، ایک تاجر نے صورتحال کو'' تمام عالمی منڈیوں کی بندش کی ماں‘‘قرار دیا۔ Crowdstrike کا کرداربڑے پیمانے پر اس آئی ٹی خلل کا مرکز CrowdStrike تھا جو ایک سائبر سکیورٹی فرم ہے جو دنیا بھر میں متعدد کمپنیوں کو سافٹ ویئر فراہم کرتی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ اس وقت پیش آیا جب اس نے مائیکروسافٹ ونڈوز چلانے والے کمپیوٹرز میں ناقص اپ ڈیٹ انسٹال کردیںاور یہ کہ بندش کے پیچھے مسئلہ سکیورٹی کا واقعہ یا سائبر حملہ نہیں تھا۔بعد میں کمپنی کے سی ای او جارج کرٹز نے معافی نامہ بھی جاری کیا۔ انہوںنے این بی سی نیوز کے پروگرام میں ایک انٹرویو کے دوران کہا ہم صارفین، مسافروں، اس سے متاثر ہونے والے کسی بھی شخص سے افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے گاہک اپنے سسٹم کو دوبارہ سٹارٹ کر رہے ہیں، تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ بعض سسٹمز کو مکمل طور پر بحال ہونے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔ CrowdStrike کیا ہے ؟CrowdStrike ایک امریکی سائبر سکیورٹی کمپنی ہے جو دنیا بھر اور صنعتوں میں کمپنیوں کو سافٹ ویئر فراہم کرتی ہے۔ یہ خود کو دنیا کا جدید ترین کلاؤڈ بیسڈ سکیورٹی ٹیکنالوجی فراہم کنندہ قرار دیتا ہے۔ سائبر سکیورٹی فرم نے اپنی ویب سائٹ پر اپنا ماٹو یوں لکھا ہے "ہم خلاف ورزیوں کو روکتے ہیں"۔ کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق CrowdStrike کی بنیاد 2011 میں رکھی گئی اور اسے 2012 کے اوائل میں لانچ کیا گیا۔ CrowdStrike کیAmazon Web Services کے ساتھ شراکت داری ہے اور اس کی ''Falcon for Defender‘‘ سیکورٹی ٹیکنالوجی کو حملوں کی روک تھام کے لیے Microsoft Defender کی تکمیل کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

زندگی میں خوشیاں بھریں

زندگی میں خوشیاں بھریں

آپ کی روز مرہ زندگی بھی خوشحال ہو سکتی ہے۔ یہ صرف آپ کے انتخاب کا معاملہ ہے۔ یہ ہمارا رویہ ہوتا ہے جو ہمیں زندگی میں خوشی یا غم دیتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ دن بھر ہمیں مختلف حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان میں سے کچھ حالات و واقعات ہمیں اطمینان و خوشی بھی فراہم نہیں کرتے ہیں لیکن ہماری سوچ ہمارے اپنے اختیار میں ہے۔ چاہیں تو ہم ان واقعات کے بارے میں سوچیں جو ہمیں ناخوش کر دیتے ہیں یا چاہیں تو ایسے خیالات کو رد کرکے اچھے اور خوش کن واقعات کے بارے میں سوچیں۔ ہم سب دن بھر مختلف حالات و واقعات سے گزرتے ہیں لیکن ہمیں واقعات و حالات کو اپنے احساسات اور ردعمل پر حاوی نہیں ہونے دینا چاہیے۔اگر ہم بیرونی حالات کو اپنے مزاج پر اثر انداز ہونے کا موقع دیں گے تو بالآخر ہم ان خارجی حالات کے غلام بن کر رہ جائیں گے، ہم اپنی آزادی کھو بیٹھیں گے اور ہماری خوشی صرف خارجی حالات پر منحصر ہو کر رہ جائے گی۔ دوسری صورت میں ہم خود کو ان بیرونی اثرات سے محفوظ کر سکتے ہیں، ہم اپنے لئے خود خوشی کا انتخاب کر سکتے ہیں اور ہم خود ہی اپنی زندگی کی خوشیوں میں اضافہ کر سکتے ہیں۔خوشی ہے کیا؟...خوشی نام ہے اندرونی اطمینان اور سکون کا۔ باطنی طمانیت جہاں پریشانیاں، وہم اور منفی خیالات نہیں ہوتے اور ایسا عموماً تب ہوتا ہے جب ہم وہ سب کچھ کرتے ہیں جو ہم کرنا پسند کرتے ہیں اور وہ حاصل کرتے ہیں جس کو ہم اہمیت دیتے ہیں۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ مثبت ماحول کی وجہ سے ہے لیکن درحقیقت یہ آپ کی اندرونی کیفیات ہوتی ہیں جو باہر کے ماحول کو بناتی ہیں۔بہت سے لوگوں کی خوشی اور اطمینان ناپائیدار ہوتی ہے کیونکہ ان کی خوشی کا انحصار بیرونی حالات اور واقعات پر ہوتا ہے۔ مراقبہ اپنے دماغ کو مطمئن اور پرسکون رکھنے کا ایک بہت اچھا اور کارآمد عمل ہے جب آپ کا ذہن پرسکون ہوگا تو اچھی عادات کو بآسانی اپنا سکے گا۔درج ذیل چند کار آمد تراکیب کی مدد سے آپ اپنی روز مرہ زندگی کی خوشیوں میں اضافہ کر سکتے ہیں۔٭ اپنا اندازِ فکر تبدیل کریں، چیزوں کو دیکھنے کا انداز بدلیں، ہمیشہ مثبت اور روشن پہلو پر نظر رکھیں۔ ہو سکتا ہے آپ کا دماغ آپ کو منفی اور مشکل کی طرف لے جائے لیکن اسے ایسا مت کرنے دیں۔ ہمیشہ حالات کے اچھے اور مثبت پہلو ہی دھیان دیں۔٭ مسائل کے بجائے حل کے بارے میں سوچیں۔٭ اگر آپ کو موسیقی سے شغف ہے تو اچھی اور ہلکی پھلکی موسیقی سینئے۔ ٭ ٹی وی پر اچھے اوپر پر لطف پروگرام دیکھئے۔ زندگی کو آسان بنائیں اور اسے انجوائے کریں۔٭ اپنے خیالات و افکار پر نظر رکھیں جب بھی کوئی منفی خیال آئے تو فوراً اس کو مثبت خیال میں منتقل کر دیں۔٭ ہر روز اپنے لئے کچھ اچھا کریں کچھ ایسا جو آپ کی مرضی اور پسند کا ہو۔ کوئی چھوٹی سی بات بھی ہو سکتی ہے جیسے اپنی پسند کی کوئی کتاب خرید لینا، پسند کی کوئی چیز کھانا، کوئی پسندیدہ ٹی وی شو یا مووی دیکھنا، کچھ دیر پرسکون ماحول میں بیٹھنا وغیرہ۔٭ دن بھر میں کم از کم ہوئی ایک کام ایسا ضرور کریں جو دوسروں کی خوشی کا باعث ہو مثلاً کسی کی دل جوئی کرنا، اپنے ساتھی یا دوستوں کی مدد کرنا، اگر آپ کار میں ہیں تو کار روک کر کسی پیدل چلنے والے کو راستہ دینا۔٭ ہمیشہ اچھی امیدیں رکھیں۔ اچھی امید آپ کو متحرک، پرجوش اور مثبت رکھے گی۔٭ جو افراد خوش ہیں ان سے حسد مت کریں بلکہ ان کی خوشی میں شامل ہو جائیں اور خوشیوں کو مل کر دوبالا کریں۔٭ خوش مزاج افراد سے خود کو جوڑیں اور ان سے خوش رہنے کے طریقے سیکھیں۔ یاد رکھیں خوشیاں خوشیوں کو جنم دیتی ہیں۔٭ مسکرانے کی عادت ڈالئے۔زندگی کو آسان بنائیں۔ ایسا کرنا اگر کسی کے ہاتھ میں ہے تو وہ صرف اور صرف آپ کی اپنی ذات ہے۔  

آج کا دن

آج کا دن

نیل آرمسٹرانگ نے چاند پر قدم رکھا21جلائی 1969ء کو خلاباز نیل آرمسٹرانگ چاند پر چلنے والے پہلے شخص بن گئے۔ نیل آرمسٹرانگ 16جولائی کو ناسا کے مشن ''اپالو 11‘‘ کے ذریعے چاند کے مشن پر روانہ ہوئے تھے۔ ''اپالو 11‘‘ امریکی خلائی پرواز تھی جس نے پہلی بار انسانوں کو چاند پر اتارا۔ کمانڈر نیل آرمسٹرانگ اور خلائی جہاز کے پائلٹ بز ایلڈرن نے 21 جولائی 1969ء کوخلائی جہاز کو چاند پر لینڈ کیا اور آرمسٹرانگ چاند کی سطح پر قدم رکھنے والے پہلے شخص بن گئے۔ایلڈرن 19 منٹ بعد آرمسٹرانگ کے ساتھ شامل ہوئے اور دونوں نے تقریباً ڈھائی گھنٹے چاند کی سرزمین پر گزارے۔ ''بلڈی فرائیڈے‘‘1972ء میں 21جولائی کو پیش آنے والے واقعات کے پیش نظر آج کے دن کو ''شمالی آئر لینڈمیں ''خونی جمعہ‘‘ (Bloody Friday)کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ بلڈی فرائیڈے وہ نام ہے جو 21 جولائی 1972 کو بیلفاسٹ، شمالی آئرلینڈ میں آئرش ریپبلکن آرمی کی طرف سے دھماکوں کو دیا گیا تھا۔ کم از کم بیس بم 80 منٹ کے وقفے میں پھٹے، زیادہ تر آدھے گھنٹے کے عرصے میں۔ ان میں سے زیادہ تر کار بم تھے اور سب سے زیادہ نشانہ ٹرانسپورٹ کو بنایا گیا۔ مصر لیبیا جنگمصر لیبیا جنگ، جسے چار روزہ جنگ بھی کہا جاتا ہے، لیبیا اور مصر کے درمیان لڑی جانے والی ایک مختصر سرحدی جنگ تھی جو 21 سے 24 جولائی 1977ء تک جاری رہی۔ یہ تنازع تعلقات میں بگاڑ کی وجہ سے اس وقت شروع ہوا جب مصری صدر انور سادات نے لیبیا کے رہنما معمر قذافی کی جانب سے ممالک کو اکٹھا کرنے کی درخواستوں کو مسترد کر دیا تھا۔ 1976ء کے اوائل میں قذافی نے مصری سرحد پر فوج بھیجی جہاں ان کی سرحدی محافظوں سے جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ مصری جنرل سٹاف نے قذافی کو معزول کرنے کیلئے حملے کا منصوبہ بنایا۔ 

یادرفتگاں:بروس لی : مارشل آرٹ کا شہنشاہ

یادرفتگاں:بروس لی : مارشل آرٹ کا شہنشاہ

مارشل آرٹس کے ماہر اور اداکار بروس لی کی آج 51ویں برسی منائی جا رہی ہے۔ بروس لی 27 نومبر 1940ء میں پیدا ہوئے تھے اور ان کا انتقال 32 سال کی عمر میں 20 جولائی 1973ء کو ہوا۔ انہوں نے ہالی وڈ کی متعدد فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے اور فلمی دنیا میں ہانگ کانگ کا مارشل آرٹس متعارف کروایا۔ انہوں نے ہدایت کاری، اداکاری اور مارشل آرٹ میں اپنی خداداد صلاحیتوں کا لوہا دنیا بھر سے منوایا اور آج بھی بروس لی کو مارشل آرٹ کا شہنشاہ مانا جاتا ہے۔بروس لی ایک بہترین مارشل آرٹ کھلاڑی تھے، جنہوں نے فلم کی دنیا میں کنگ فو کا جنون پیدا کیا۔ وہ روزانہ پانچ ہزار پنج (مکے) ، ایک ہزار ککس، آٹھ کلو میٹر رننگ اور پندرہ کلو میٹر سائیکلنگ (سائیکل چلانا ) کرتے تھے۔ ان کی بیوی لنڈا کے مطابق وہ مارشل آرٹ کو لے کر جنونی تھے۔ ان کی کک اور اور مکے کی رفتار اتنی زیادہ تیز ہوتی تھی کہ اس دور میں ایجاد کیمرے اس کی رفتار کو واضح دکھا نہیں پاتے تھے لہٰذا وہ فلموں میں اگر اپنی اصل رفتار سے فائٹ کرتے تو لوگوں کو صرف اس کا دھندلا سا سایہ دکھائی دیتا۔ موویز میں کیمرہ مین کی درخواست پر اس نے ہمیشہ ہی اپنی اصل رفتار سے ہٹ کر ایکشن کیا۔وہ نن چاقو کا اتنے ماہر تھے کہ نن چاقو سے ٹیبل ٹینس کھیلا کرتے تھے۔ 1973ء میں ریلیز ہونے والی فلم ''انٹر دی ڈریگن‘‘ میں کنگ فو لیجنڈ بروس لی کو آخر بار دیکھا گیا تھا۔ فلم نے زبردست بزنس کیا تھا۔ اس فلم کا کُل بجٹ ساڑھے 8 لاکھ ڈالر تھا لیکن اس نے حیران کن طور پر 400 ملین ڈالر کمائے۔ اسے اب بھی سب سے زیادہ بزنس کرنے والی فلموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کی دیگر بہترین فلموں میں ''وے آف دا ڈریگن‘‘ اور ''فسٹ آف فیوری‘‘ شامل ہیں۔ایک سیریز کے سکرپٹ میں اسے اپنے مخالف کردار سے لڑنا تھا اور یہ لڑائی ہارنا تھی لیکن بروس لی کو سیریز یا سکرین کی خاطر بھی لڑائی ہارنا برداشت نہ تھی لہٰذا ڈائریکٹرز اور پروڈیوسرز کی درخواست کے باوجود اس نے ہارنے سے انکار کر دیا اور نا صرف سیریز چھوڑنے کی دھمکی دے دی بلکہ مخالف کو حقیقی زندگی میں لڑنے کا چیلنج دے دیا۔سکرپٹ میں رد و بدل کر کے سیریز میں وہ لڑائی بنا کسی ہار جیت کے ختم کی گئی۔فلمی دنیا کے عظیم ترین مارشل آرٹ آرٹسٹ بروس لی کا انتقال 20 جولائی 1973ء کو 32 سال کی عمر میں ہوا۔ اتنی کم عمری میں موت کی وجہ سے اسے پراسرار قرار دیا گیا جس کے بعد متعدد عجیب تھیوریز سامنے آئیں۔ چند سال قبل ایک نئی تحقیق میں لٹل ڈریگن کی عرفیت سے مشہور بروس لی کی موت کی ممکنہ وجہ بتائی گئی۔ تحقیق میں دعویٰ کیا گیا کہ بروس لی کی موت کی وجہ بہت زیادہ پانی پینے کی وجہ سے ہوئی، ابھی اس تھیوری کی تصدیق تو نہیں ہوئی مگر اس مقصد کیلئے محققین نے بروس لی کی موت سے جڑے حقائق کا تجزیہ کیا تھا۔معروف اداکار کو موت کے دن شام ساڑھے 7 بجے پانی پینے کے بعد سردرد ہوا تھا، جس کے بعد انہوں نے ایک درد کش دوا کھائی، 2 گھنٹے بعد وہ مردہ پائے گئے۔ موت کے بعد پوسٹ مارٹم سے انکشاف ہوا تھا کہ بروس لی کا دماغ سوج گیا تھا جس سے یہ نتیجہ نکالا گیا کہ ان کی موت دوا کے مضر ری ایکشن کے باعث ہوئی۔ کلینیکل کڈنی جرنل میں شائع تحقیق میں یہ نکتہ اٹھایا گیا کہ بروس لی نے یہ دوا سردرد اور سر چکرانے کے بعد کھائی تھی، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ دوا کھانے سے پہلے ہی ان کا دماغ سوجن کا شکار ہوچکا تھا۔ محققین کے مطابق تفصیلات پر مبنی ہمارے تجزیے میں یہ خیال پیش کیا گیا ہے کہ دماغی سوجن درحقیقت ہائپو نیٹریمیا کا نتیجہ تھی۔ ہمارا خیال ہے گردوں کا بہت زیادہ پانی کو فلٹر نہ کرپانا بروس لی کی موت کی وجہ بنا۔بروس لی کی اہلیہ اور ڈاکٹروں نے بتایا تھا کہ اداکار نے ٹھوس خوراک کو چھوڑ کر صرف گاجر اور سیب کے جوس تک خود کو محدود کرلیا تھا، اس طرح کی غذا سے بھی ہائپو نیٹریمیا کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ ہائپو نیٹریمیا کا سامنا اس وقت ہوتا ہے جب کوئی فرد بہت کم وقت میں بہت زیادہ مقدار میں پانی پی لیتا ہے اور گردے اس پانی کو فلٹر کر نہیں پاتے، مگر ایسے شواہد موجود نہیں جن سے عندیہ ملتا ہو کہ بروس لی نے ایسا کیا تھا۔محققین کے مطابق ہمارا خیال میں بروس لی کی موت گردوں کے غیرفعال ہونے کا نتیجہ تھی کیونکہ گردے اضافی سیال کو کنٹرول نہیں کرسکے۔بروس لی ایک اچھا مارشل آرٹسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین ڈانسر بھی تھے۔اپنے فلمی کریئر سے پہلے اس نے ہانگ کانگ میں ہوئے ایک مخصوص ڈانس کا مقابلہ جیت رکھا تھا۔ 1960ء کی دہائی میں مارشل آرٹ کی پرائیویٹ کلاس یا کوچنگ دینے کا بروس لی ایک گھنٹے کا دو سو پچھتر ڈالر (آج کے اڑھائی ہزار ڈالر) صرف ایک گھنٹے کے لیتے تھے۔وہ مطالعے کا شوقین بھی تھے اور اس کی لائبریری میں دو ہزار سے زائد کتب تھیں۔ وہ شاعری کا بھی شوق رکھتے تھے۔ہاتھ پاوں چلانے والا یہ انسان ایک بہترین سینس آف ہیومر بھی رکھتا تھا۔اس کے قریبی دوست کہتے ہیں یہ جب موڈ میں ہوتا تو دوستوں کو ہنسانے میں ید طولی رکھتا تھا۔ مشہور مارشل آرٹ اداکار بروس لی موت کے 51 سال بعد بھی عوام کے دلوں پر راج کر رہے ہیں۔  

برٹش میوزیم

برٹش میوزیم

لندن میں قائم برطانوی عجائب گھر کا شمار دنیا کے چند مشہور اور چوٹی کے عجائب گھروں میں ہوتا ہے۔ اس میوزیم میں دو ملین سال سے زیادہ کی انسانی تاریخ اور ثقافت کی جھلک نظر آتی ہے۔ گریٹ رسل سٹریٹ پر واقع برٹش میوز یم 1753ء میں قائم کیا گیا۔ اس میوزیم میں کم و بیش 80لاکھ انسان کی صناعی کے نمونے رکھے ہوئے ہیں۔ نایاب قسم کے تراشے ہوئے پتھر، مورتیاں، طغرے، انسان کے ہاتھوں سے بنائے ہوئے مجسمے از تاریخ سے تعلق رکھنے والی مصری ممیاں، یونان، برصغیر اور افریقہ سے لائی گئی قیمتی اور نادر اشیاء اس میوزیم کی زینت ہیں۔ اس میوزیم کو ہر سال دیکھنے والوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ سال آنے والوں کی تعداد 41لاکھ تھی۔برٹش میوزیم آج سے270سال قبل جون 1753ء میں قائم کیا گیا۔ اس کا کل رقبہ 8لاکھ 7ہزار (807000)مربع فٹ ہے اور اس میں 95گیلریاں ہیں۔ اسے عوام کیلئے تزئین و آرائش کے بعد 1759ء میں کھولا گیا۔ اس مشہور برطانوی میوزیم کے قیام کا سہرا ایک برٹش آئرش میڈیکل ڈاکٹر سرہینزسلون کے سر جاتا ہے جو لندن میں مقیم تھا۔ اس نے اپنی جمیکن بیوی کے ساتھ مل کرنادر اشیاء کو اکٹھا کیا جو ان کے پاس ایک بہت بڑے قیمتی ذخیرے کی شکل اختیار کر گیا تھا۔ اس نے وصیت کی کہ میری زندگی کے بعد اس خزانے کو اس وقت کے بادشاہ جارج دوم کے سپرد کردیا جائے۔ اس وقت ان نوادرات کی تعداد ستر ہزار تھی، جن میں 40ہزار کتب کے علاوہ ڈرائنگ، خشک پودے، سوڈان، مصر، یونان، روم، مشرق بعید، امریکہ اور کینیڈا سے حاصل کی گئی بیش قیمت اشیاء بھی شامل تھیں۔ یقیناً یہ ایک بہت بڑا اور قیمتی ذخیرہ تھا۔عجائب گھر کی موجودہ عمارت کی جگہ20ہزار پائونڈ میں خریدی گئی۔ اس عمارت کے تین اطراف یونانی طرز تعمیر کے 44 ستون ہیں جو عمارت کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔ ہر ستون کی اونچائی 45فٹ ہے۔ سامنے پیشانی کے اندر انسانی تہذیب و ثقافت کی ترقی کی عکاسی کی گئی ہے۔ گول شکل میں ریڈنگ روم کا قطر140فٹ ہے۔ اس وقت اس ریڈنگ روم کا گنبد روم کے گنبد کے بعد دوسرے نمبر پر تھا۔جنگ عظیم دوم کی تباہ کاریوں سے یہ عجائب گھر بھی نہ بچ سکا۔ مئی 1941ء میں اس کے ریڈنگ روم کی چھت پر آتش گیر بم پھینکے گئے جس کے نتیجہ میں اڑھائی لاکھ نایاب کتب جل کر خاکستر ہو گئیں۔ آج نہ صرف رقبہ کی وسعت سے بلکہ اس میں رکھی نادر اشیاء اور دستاویزات کی تعداد کے لحاظ سے یہ دنیا کے ایک بڑے میوزیم میں شمار ہوتا ہے۔ اس وقت توسیع کے بعد اس کا رقبہ نو لاکھ نوے ہزار (990,000)مربع فٹ ہے۔برٹش میوزیم میں مصری نوادرات کا بہت بڑا ذخیرہ بھی موجود ہے، جن کی تعداد تقریباً ایک لاکھ ہے۔ فرعون کی حنوط شدہ لاش کے علاوہ سب سے نایاب اور بیش قیمت وہ پتھر ہے جسے روسیٹا سٹون کہا جاتا ہے۔ روسیٹا سٹون کے اوپر 196 قبل مسیح کی تحریر کنندہ ہے جو کہ یونانی اور مصری زبان میں ہے۔ یہ پتھر 44انچ لمبا، 33انچ چوڑا اور 11انچ موٹا ہے۔ یہ پتھر کھدائی میں 1799ء میں دریافت ہوا اور یہ 1802ء سے اس میوزیم میں رکھا ہوا ہے۔ کافی اشیاء مصر میں کھدائی کے دوران حاصل کی گئی تھیں۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ مصری تہذیب بھی کتنی پرانی ہے۔ روسیٹا سٹون گرینائٹ پتھر کا ہے اور اس کا وزن 760کلو گرام ہے۔برٹش میوزیم (تنازعات کی زد میں)یہ مشہور زمانہ برٹش میوزیم جو عالمی تاریخ کے موضوع پر دنیا کا سب سے بڑا میوزیک ہے۔ ہر سال لاکھوں افراد اس میں موجود 80لاکھ سے زائد ثقافتی و تاریخی نوادرات اور فن پارے دیکھنے کیلئے آتے ہیں۔ یہ رکھی ہوئی اشیاء انسان کی 20لاکھ سال کی تاریخ کا احاطہ کئے ہوئے ہیں۔اس میوزیم کی قابل دید اور قیمتی نوادرات کی فہرست میں کئی اشیاء ایسی ہیں جن کی ملکیت میں اس وقت تنازع ہے۔سترہویں صدی میں جب برطانیہ نے دنیا کے مختلف علاقوں پر اپنے آہنی پنجے گاڑنا شروع کئے اور قبضہ کے بعد کئی صدیوں تک ان علاقوں کا استحصال جاری رکھا۔ جنوبی افریقہ سے لے کر برصغیر، آسٹریلیا سے لے کر نائیجیریا کینیڈا تک نہ صرف وہاں کے وسائل اور دولت کو لوٹا بلکہ وہاں کی ثقافتی نوادرات اور آثار قدیمہ کو بھی نہ بخشا۔ ایسی مار دھاڑ سے حاصل کی گئی نو ادرات اور قیمتی اشیاء کو آج کے برٹش میوزیم کی زینت بنا دیا گیا ہے۔سلطنت برطانیہ اپنے زمانے کی سب سے بڑی نوآبادیات پر ہاتھ صاف کرنے والی قوت تھی۔ اس قوت کیلئے ہندوستان کو تاج برطانیہ کا نگینہ تصور کیا جاتا تھا۔ اسے عام طور پر ''سونے کی چڑیا‘‘ کہا جاتا تھا۔ اس دور میں برطانیہ نے جو نوادرات یہاں سے حاصل کیں، بزور شمشیر چرائیں، ضبط کیں یا زبردستی تحفتاً وصول کیں۔ ان میں ایک دس ہزار 506(10506) قیراط کا کوہ نورہیرا بھی شامل ہے جو آج بھی شاہ برطانیہ کے تاج پر ضوفشاں ہے۔ اس کے علاوہ ٹیپو سلطان کا لکڑی کا شیر بھی لندن ہی کے میوزیم کی زینت ہے۔جرمنی کے ریڈیو ڈوئچے ویلے کی ایک رپورٹ کے مطابق آج یہ نو ادرات برٹش میوزیم اور وکٹوریہ اینڈ البرٹ میوزیم میں موجود ہیں۔ زیادہ تر کئی ایسی نوادرات ہیں جو بھارت کے مندروں سے حاصل کی گئی ہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

کورفو ڈیکلریشن سربیا کے وزیر اعظم نکولا پاسیچ اور یوگوسلاو کمیٹی کے صدر آنٹی ٹرمبیچ کے درمیان 20 جولائی 1917ء کو یونانی جزیرے کورفو میں ایک معاہدہ کیا گیا جسے '' کورفو ڈیکلریشن‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس کا مقصد مستقبل میں متحد ہو کر کام کرنے کا طریقہ کار قائم کرنا تھا۔ فروری انقلاب کے بعد روس کے سربیا کیلئے سفارتی حمایت واپس لینے کے فیصلے کے ساتھ ساتھ یوگوسلاو کمیٹی کی جانب سے آسٹریا،ہنگری میں شروع کئے گئے آزمائشی اصلاحاتی اقدامات سے پہلو تہی نے دونوں فریقوں کو ایک معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کرنے پر مجبور کیا۔ہٹلر پر حملہ20 جولائی 1944ء کو کلاز وان سٹافن برگ اور دیگر سازشیوں نے نازی جرمنی کے ایڈولف ہٹلر کو موجودہ پولینڈ میں واقع اس کے وولفز لیئر فیلڈ ہیڈ کوارٹر کے اندر قتل کرنے کی کوشش کی۔ آپریشن والکیری کا نام ، جو اصل میں سازش کے ایک حصے کا حوالہ دیتا ہے، پورے واقعے کے ساتھ وابستہ ہو گیا ہے۔قاتلانہ حملے کا بظاہر مقصد جرمنی اور اس کی مسلح افواج کا سیاسی کنٹرول نازی پارٹی سے چھیننا اور جلد از جلد مغربی اتحادیوں کے ساتھ امن قائم کرنا تھا۔ یہ سازش نازی جرمن حکومت کا تختہ الٹنے کیلئے جرمن مزاحمت میں کئی گروہوں کی کوششوں کا خاتمہ تھا۔ قتل کی کوشش کی ناکامی کے بعد 7ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا اور 4ہزار980افراد کو بھانسی دی گئی۔کوریاکی فضائی لڑائی20جولائی1950ء کو جنوبی اور شمالی کوریا کے درمیان ایک ماہ سے جاری فصائی لڑائی کا خاتمہ ہوا۔یہ لڑائی جنگ کے آغاز میں ایک فصائی مہم تھی جس نے جنگ کی صورت اختیار کر لی۔یہ جنگ جنوبی کوریا ،شمالی کوریا اور اقوام متحدہ کی فضائی افواج کے درمیان لڑی گئی۔ فضائی بالادستی کیلئے ایک ماہ تک جاری رہنے والی لڑائی نے سیئول اور تائیجون کے ہوائی اڈوں پر کئی چھوٹی چھوٹی لڑائیاں ہوئیں جو بالآخر اقوام متحدہ کی فضائیہ کی فتح کے ساتھ ختم ہوئی جس نے شمالی کوریا فضائیہ کو تباہ کر کے رکھ دیا۔جانس ٹاؤں سیلاب19جولائی1977ء کو ریاستہائے متحدہ امریکہ میں بڑے پیمانے پر سیلاب آیا جس میں جانس ٹاؤن بھی شامل تھا۔سیلاب رات کے وقت آیا اور جانس ٹاؤن کے گرد و نواح میں پانی بھرنا شروع ہو گیا۔ 24 گھنٹوں میں تقریباً 12 انچ (300 ملی میٹر) گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی ۔اس علاقے میں چھ ڈیم اوور ٹاپ اور ناکام ہوگئے۔ ناکام ہونے والا سب سے بڑا ڈیم لورل رن ڈیم تھا، جس نے 101 ملین گیلن پانی چھوڑا جو ٹینری وِل کے گاؤں سے گزرا، جس سے 41 افراد ہلاک ہوئے۔دیگر پانچ ڈیموں کے امتزاج نے مزید 27 ملین گیلن چھوڑے۔ صرف ڈیموں سے 128 ملین گیلن سے زیادہ پانی وادی میں بہا اور صبح ہوتے ہی جانس ٹاؤن چھ فٹ پانی میں ڈوب گیا۔