مسجد بہاول خان عباسی پنجم

مسجد بہاول خان عباسی پنجم

اسپیشل فیچر

تحریر : پروفیسر شعیب رضا


پنجاب میں انگریزوں کی آمد کے بعد جدید تعلیمی اداروں کے قیام کا آغاز ہوچکا تھا، انیسویں صدی کے آخر تک کئی سکول اور کالج کھل چکے تھے، لیکن ابھی تک نوابوں ، راجے مہاراجوں اور امراء و روساء کے بچوں کی معقول تعلیم کا مسئلہ باقی تھا۔ اس ضمن میں انگریز راج کے تحت بر صغیر پاک و ہند کے پانچ شہروں میں چیف کالج قائم کئے گئے، جن میں اجمیر، راج کوٹ، اندور، رائے پور اور لاہور شامل تھے۔
لاہورمیں 3 نومبر 1886ء کو وائسرائے اور گورنر جنرل آف انڈیا سر فریڈرک ٹیمپل ہیملٹن کے ہاتھوں چیف کالج کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ اس کالج کے قیام کے وقت انگلستان کے ایچی سن کالج کو بطور نمونہ پیش نظر رکھا گیا۔ البتہ مسلمان طلباء کیلئے اردو، فارسی اور دینیات کے مضامین شامل کیے گئے۔ مسٹر رابنسن کالج کے پہلے پرنسپل تھے، جبکہ انتظامی امور کی ذمہ داری جنرل بلیک کے سپرد تھی۔ یہی کالج بعد میں ایچی سن کالج کہلایا جس میں اس وقت کے بڑے بڑے روساء کے بچے تعلیم و تربیت حاصل کرتے تھے جن میں ہندو، سکھ، عیسائی، اور مسلمان شامل تھے۔ ان طلباء میں جدید تعلیم کے ساتھ کھیل کود، گھڑ سواری اور دیگر ہم نصابی سرگرمیوں کے ذریعہ علم کی فراہمی کے ساتھ اعتماد اور قائدانہ صلاحیتیں بھی پیدا کی جاتی تھیں۔ آج بھی ایچیسن کالج کا وہ معیار برقرار ہے۔
ایچی سن کالج لاہور کی مال روڈ پر واقع ہے جسے ٹھنڈی سڑک بھی کہتے ہیں، اس سے پہلے سندر داس روڈ کو بھی ٹھنڈی سڑک کہا جاتا تھا جو کہ ایچیسن کالج کے عقبی جانب ہے۔ اس ادارے میں مختلف مذاہب کے طلباء کی عبادات کیلئے مختلف ادوار میں مندر، گوردوارہ اور مسجد کی تعمیرات عمل میں لائی گئیں۔ نواب آف بہاولپور برصغیر پاک و ہند کے مختلف تعلیمی اداروں کی بہتری میں دلچسپی رکھتے تھے، انہوں نے لاہور میں پنجاب یونیورسٹی کی ابتدائی عمارت کی تعمیر اپنے خرچہ سے کروائی، انہوں نے دیگر تعلیمی اداروں میں بھی مالی معاونت کی اور اسی سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے نواب محمد بہاول خان عباسی پنجم نے ایچی سن کالج لاہور میں ایک مسجد کی بنیاد رکھی۔
نواب محمد بہاول خان پنجم ریاست بہاولپور کے 11ویں نواب تھے، محمد بہاول خان پنجم نواب امیر سر صادق محمد خان عباسی چہارم بہادر کی دوسری بیوی کے دوسرے بیٹے تھے۔ 1899ء میں، جب وہ صرف سولہ سال کے تھے، اپنے والد کی وفات کے بعد بہاولپور کے تخت پر بیٹھے۔ ان کی حکمرانی کیلئے عمر پوری ہونے تک ایک کونسل آف سپرنٹنڈنس کے تحت ریاست کے امور چلائے گئے۔ 12نومبر 1903ء کو ڈیراوڑ فورٹ میں ایک تقریب میں فرمانروائی کے مکمل اختیارات تفویض کئے گئے، اس تقریب میں وائسرائے لارڈ کرزن نے خود شرکت کی۔
1902ء میں نواب محمد بہاول خان پنجم کو ویسٹ منسٹر ایبی میں ایڈورڈ VII اور ملکہ الیگزینڈرا کی تاجپوشی میں شرکت کیلئے لندن مدعو کیا گیا۔ وہ کراچی سے روانہ ہوئے، لیکن بمبئی کے ابتدائی سفر میں وہ سمندری بیماری میں اس قدر شدید متاثر ہوئے کہ وہاں اترتے ہی انہوں نے دورہ منسوخ کر دیا۔15 فروری 1907ء کو محمد بہاول خان پنجم عدن کے ساحل پر سفر کرتے ہوئے جہاز میں بیماری کے باعث انتقال کر گئے۔
نواب محمد بہاول خان عباسی پنجم ایک ذہین طالب علم تھے اور ایچی سن کالج لاہور میں 1897ء سے 1901ء تک زیر تعلیم رہے، زمانہ طالب علمی ہی کے دوران انہوں نے 1900ء میں ایچی سن کالج میں ایک انتہائی خوبصورت مسجد کی تعمیر کروائی۔ ایچی سن کالج کے وسط میں واقع سرخ دیواروں اور سفید رنگ کے میناروں اور گنبدوں پر مشتمل یہ مسجد ایک موتی کی مانند لگتی ہے۔ نواب صاحب کے ذاتی اخراجات سے اس مسجد کی تعمیرپایہ تکمیل کو پہنچی، یہ مسجد سلطنت بہاولپور کے شعبہ تعمیرات کی طرف سے ڈیزائن کردہ ہے ، جس میں مرکزی داخلی دروازے کے بعد صحن اور اس کے بعد مسجد کا مرکزی ہال آجاتا ہے۔ مرکزی ہال میں دیواروں سے لے کر گنبدوں کے اندرونی حصوں اور چھتوں تک پر انتہائی خوبصورت پینٹنگ کی گئی ہے۔ یہ تمام پینٹنگ رنگ برنگ پھولوں اور پھلوں سے مزین ہے، ان میں جابجا قرآنی آیات کی خطاطی، فارسی میں لکھائی اور اسمائے مبارک لکھے ہوئے ملتے ہیں۔
اس مسجد میں ایک مرکزی بڑے گنبد کے دونوں اطراف چھوٹے گنبد ہیں اور مرکزی ہال کے چاروں کناروں پر کچھ اونچائی کے مینار موجود ہیں۔ اسی سے ملتے جلتے نقشہ پر تعمیر کردہ مساجد بہاولپور کے دربار محل اور احمد پور شرقیہ کے صادق گڑھ محل میں آج بھی موجود ہیں۔ ایچی سن کالج میں موجود مندر اور گوردوارے میں اب عبادت نہیں ہوتی۔ مندر کی عمارت میں آرکائیوز کا سیکشن قائم ہے جبکہ گوردوارہ کی عمارت بھی انتظامی امور کے کام آتی ہے۔ اور ان عمارات کو بطریق احسن سنبھال کر رکھا گیا ہے۔
انگریز دور میں جب یہ مسجد تعمیر کی گئی تھی اس وقت کالج میں مسلمان طلباء کی تعداد درجنوں میں ہوگی جن کیلئے یہ مسجد انتہائی کشادہ تھی لیکن قیام پاکستان کے بعد اس کالج میں صرف مسلمان طلباء رہ گئے اور وقت کے ساتھ ساتھ موجودہ دور میں طلباء کی تعداد 4000 سے تجاوز کرگئی ہے جن کیلئے اس مسجد کی گنجائش ناکافی ہے۔ کالج انتظامیہ اس وقت اس مسجد کی کشادگی پر غور کر رہی ہے یا بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر اسی کالج کے احاطے میں ایک نئی مسجد کی تعمیر کی جائے گی۔
ایچی سن کالج میں نواب آف بہاولپور کی طرف سے تعمیر کردہ یہ مسجد انتہائی توجہ کے ساتھ سنبھالی گئی ہے اور اس میں نماز پنجگانہ کا اہتمام کیا جاتا ہے، اتنے سال گزرنے کے بعد بھی اس کے رنگوں میں کوئی کمی نہیں آئی اور آج بھی خوبصورتی کے معاملے میں اپنی مثال آپ ہے۔ 1906ء میں نواب بہاول خان پنجم نے نور محل بہاولپور کے احاطے میں صدر عمارت سے 200 گز کے فاصلے پر ایچی سن کالج لاہورکی مسجد کے نمونہ پر ایک اور خوبصورت مسجد بھی تعمیر کروائی تھی۔
مسجد بہاول خان ایچی سن کالج لاہورمیں مرکزی ہال کے داخلی دروازے کے بالائی حصے پر فارسی میں ایک کتبہ نصب ہے جس کے ترجمہ کے مطابق ''نواب مبارک بہال خان عباسی نے زمانہ تعلیم میں خوبصورت مسجد کی بنیاد رکھی، غیبی آواز نے مالک کو اس تعمیر کا سال بتایا کہ بہال خان پنجم سے اس کی تعمیر ہوئی‘‘۔ اسی پلیٹ کے بالائی حصے پر اس مسجد کا سن تعمیر بمطابق ہجری سال 1318ھ درج ہے جو کہ عیسوی سال کے مطابق 1900ء بنتا ہے۔ اسی طرح مرکزی ہال کے ایک گنبد کے زیریں حصے پر فارسی کے کچھ اشعار لکھے گئے ہیں جن کا ترجمہ کچھ یوں ہے
یہ گھر آسمان کی طرح فیض کا مظہر ہے
حریم مقدس کی طرح فیض سے بھرپور
اہل قبلہ کی مرادوں (کی تکمیل) کیلئے یہ دروازہ فیض و برکات کیلئے تا حشر کھلا رہے۔
مسجد کے اندرونی حصے میں ہی فارسی میں لکھا ہوا ملتا ہے ، ترجمہ بمطابق
محمد مدنی ﷺ زمین و آسمان کا فخر ہیں
جو کوئی آپ ﷺ(کی ذات) کا طالب ہے اسی کے سر پر تاج ہے

پروفیسر شعیب رضا شعبہ درس و تدریس سے وابستہ ہیں، اور آپ تاریخی مقامات پر تحقیقی مضامین لکھنے میں مہارت رکھتے ہیں

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
دنیا کے مہنگے ترین جانور

دنیا کے مہنگے ترین جانور

زمانہ قدیم سے جانوروں کا انسان کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ رہا ہے۔انسان نے جب پہلی مرتبہ پہاڑوں اور غاروں سے نکل کر تلاش رزق کیلئے جنگلوں اور میدانوں کا رخ کیاتو پہلے پہل ایک عرصہ تک اس ''مخلوق ‘‘ نے اسے خوفزدہ کئے رکھا۔ رفتہ رفتہ اپنے بچاو کیلئے جب اس نے جانوروں کا شکار کرنا شروع کیا تو اسے محسوس ہوا کہ پھلوں اور اناج کے علاوہ جانوروں کا شکار بھی اس کی خوراک کا حصہ بن سکتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس نے پالتو جانوروں کو رواج دینا شروع کیا اور یوں جانور انسانی زندگی میں ذرائع نقل و حمل سے لے کر زراعت ، ایندھن اور خوراک کا اہم ذریعہ بنتے چلے گئے۔قارئین کی دلچسپی کیلئے ذیل میں دنیا کے کچھ مہنگے اور نایاب ترین جانوروں کا ذکر کرتے ہیں۔مہنگے ترین گھوڑےگھوڑا چونکہ صدیوں سے بادشاہوں کی سواری اور امیروں کا ہی کھیل چلا آرہا ہے اس لئے گھوڑوں کی قیمت دوسرے جانوروں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔اس کی ایک وجہ اس کا گھڑ دوڑ میں شامل ہونا بھی ہے۔گھوڑوں کا جب بھی ذکر ہو ،دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کا نام ذہن میں آتا ہے جن کا شمار دنیا کے ان چند افراد میں ہوتا ہے جنہیں گھوڑوں سے بہت لگائو ہے۔ شیخ محمد بن راشد نے اپنے شوق کی تکمیل کیلئے ''گوڈولفن ‘‘نامی ایک ہارس ٹریڈنگ کلب بھی بنا رکھا ہے۔انگلینڈ میں 2019ء میں گھوڑوں کی فروخت کا اہتمام کرنے والی ایک کمپنی ''ٹاٹر سیلز‘‘نے جب ایک میلہ سجایا تو '' دباوی ہاف برادر‘‘ نامی گھوڑے کا بڑا چر چا تھا جو اس سے قبل متعدد مقابلے جیت چکا تھا۔نیلامی شروع ہوئی تو اس کی بولی 34 لاکھ گینی پر آکر رک گئی ۔جسے شیخ راشد نے 36 لاکھ گینی میں اپنی کمپنی کے نام بولی دے کر خریدلیا۔یہ رقم پاکستانی کرنسی میں 68 کروڑ روپے سے زائد بنتی ہے ۔(گینی ایک آن لائن کوائن ہے جسے بین الاقوامی طور پر گھوڑوں کی خرید و فروخت میں استعمال کیا جاتا ہے )۔ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق اب تک سب سے مہنگے گھوڑے کی قیمت کا ریکارڈ ''فیو سیچی پیگا سس‘‘نامی گھوڑے کے پاس ہے جو 2000ء میں 6 کروڑ 40 لاکھ ڈالر (17ارب 92کروڑ پاکستانی روپے)میں فروخت ہوا تھا۔بگ سپلیش نامی کتا دنیا میں امریکہ اور برطانیہ میں پالتو کتوں کی قیمتیں عام طور پر دنیا میں سب سے زیادہ ہوتی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی مثال 2019 میں برطانیہ میں نیلام ہونے والا " بگ سپلیش " نامی ایک کتا ہے جو ایک نیلامی کے ذریعے 11لاکھ برطانوی پاونڈ (38 کروڑ 50 لاکھ پاکستانی روپے ) میں فروخت کیا گیا تھا۔ایک سروے کے مطابق کسی بھی کتے کی یہ اب تک کی سب سے زیادہ قیمت ہے۔تبت کی معروف نسل کا یہ کتا ''ماسٹف نسل‘‘ سے تعلق رکھتا ہے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نسل کے کتے وسطی ایشیاء اور تبت کے قدیم قبائل صدیوں سے شکار کیلئے استعمال کرتے رہے ہیں۔ اس نسل کے کتے چین میں امارت کی نشانی سمجھے جاتے ہیں۔ جہاں تک مذکورہ کتے کی خریداری کا تعلق ہے ،اس بارے بتایا جاتا ہے کہ یہ کتا چین کے ایک کاروباری شخص نے خریدا تھا جو چین میں کوئلے کی کانوں کا مالک ہے۔اس نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ، ہو سکتا ہے وہ اس نر کتے کو نسل بڑھانے کیلئے کرائے پر دینا شروع کر دے۔ مہنگی ترین بلیاںبلیوں کے بارے کہا جاتا ہے کہ اب تک فروخت ہونے والی سب سے مہنگی گھریلو بلی ''سوانا‘‘ کا ریکارڈ ہے۔بقول ''بی بی سی فیوچر ‘‘ اسے ایک برطانوی شخص نے 20 ہزار ڈالر (56 لاکھ پاکستانی روپے ) میں خریدا تھا۔گنیز بک آف ورلڈ کے مطابق قیمت کے لحاظ سے آج تک کی سب سے مہنگی بلی '' بلیکی‘‘ تھی جو ہیروں کے ایک تاجر کی ملکیت تھی۔ 1988ء میں اس تاجر کی موت کے بعد ایک وصیت سامنے آئی جس میں اس نے اس کی70 لاکھ ڈالر ( ایک ارب 96کروڑ پاکستانی روپے ) کی قیمت کا تعین کر رکھا تھا اور یہ وضاحت بھی کر رکھی تھی کہ ستر لاکھ ڈالر میں فروخت کی گئی رقم اس کے خاندان کو نہ دی جائے۔ تیز ترین کبوتر 2019 میں برطانیہ کے ایک نیلام گھر ''پیپا‘‘ میں '' ارمانڈو ‘‘ نامی ایک کبوتر کی نیلامی 17لاکھ پاونڈ (تقریباً60کروڑ روپے)میں ہوئی۔ نیلام گھر انتظامیہ کے مطابق یہ کبوتر اپنی طویل ترین پرواز میں اپنا ثانی نہیں رکھتا جس کی وجہ سے اسے '' بہترین کبوتر‘‘ کا اعزاز حاصل ہے۔ اس کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے نیلام گھر انتظامیہ نے بتایا کہ یہ کبوتر پرواز کے متعدد مقابلے جیت کر لاکھوں پونڈ انعام بھی جیت چکا ہے۔ مہنگی ترین بھیڑ 2009ء میں سکاٹ لینڈ میں ایک نیلامی کے دوران ٹیکسل نسل کی ''ڈبل ڈائمنڈ‘‘ نامی ایک بھیڑ دولاکھ 31 ہزار پاونڈ (تقریباً 8کروڑ روپے پاکستانی )میں فروخت ہوئی تھی۔ جس کی بابت کہا جاتا ہے نہ تو اس سے پہلے کبھی کوئی بھیٹر اتنی مہنگی بکی تھی اورنہ ہی اس کے بعد آج تک کوئی بھیڑ اتنی قیمت میں فروخت ہوئی۔اس بھیڑ کے مالک کا دعویٰ تھا کہ اس کی خوراک اور صحت کا چوبیس گھنٹے خیال رکھا جاتا تھا جس کی وجہ سے یہ اپنے مضبوط پٹھوں اور جسمانی ساخت میں نہ صرف منفرد تھی بلکہ پہلی نظر ہی میں یہ دوسری بھیڑوں سے ممتاز نظر آتی تھی۔ بلیک پونڈ کچھوے ایک تحقیقاتی رپورٹ میں آج سے کچھ عرصہ پہلے بتایا گیا تھا کہ پاکستانی کچھوے بالخصوص ''بلیک پانڈ‘‘ اپنی متعدد خصوصیات کے باعث بین الاقوامی مارکیٹ میں مہنگے داموں فروخت ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ہر سال پاکستان سے غیر قانونی طور پر سیکڑوں کچھوے سمگل ہو کر پاکستان سے انڈونیشیا ، جنوبی کوریا ، چین ، ویتنام سنگاپور اورہانگ کانگ چلے جاتے ہیں۔ پاکستان میں 11 اقسام کے کچھوے پائے جاتے ہیں جن میں 8 اقسام سندھ اور پنجاب میں دریائے سندھ میں جبکہ 3 اقسام سمندری پانی میں پائے جاتے ہیں۔ماہرین کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں ایک کچھوے کی اوسط قیمت 1500 ڈالر ( سوا چار لاکھ روپے) تک ہے۔ ان کی بڑھتی قیمت پر تبصرہ کرتے ہوئے وائلڈ لائف سندھ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ یہ کچھوے یورپ، امریکہ اور چین کے علاوہ بیشتر ممالک میں بطور پالتو جانور رکھنے کا شوق دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ سب سے مہنگی گائے ایک برطانوی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق اب سے کچھ عرصہ پہلے دنیا کی سب سے مہنگی گائے کا اعزاز برازیل کی نیلور بریڈ کی ''ویاٹینا ۔19 ایف آئی وی مارا‘‘ کے نام جاتا ہے۔چار سالہ عمر کی اس گائے کی نیلامی برازیل کے شہر اراندو میں 43 لاکھ امریکی ڈالرز میں ہوئی ہے۔یہ رقم پاکستانی کرنسی کے مطابق ایک ارب 20کروڑ روپوں سے زیادہ بنتی ہے۔ٹیونا کنگ مچھلی دنیا کی سب سے مہنگی مچھلی خریدنے کا ریکارڈ جاپانی تاجر کیوشی کمورا کے نام ہے جنہوں نے 2019ء میں ایک کنگ سائز بلو فن ٹیونا 2 لاکھ پچاس ہزار پاؤنڈ( 8 کروڑ 75 لاکھ روپے ) میں جاپان میں ہونے والی نیلامی میں خریدی تھی۔ ٹیونا کنگ نامی اس نایاب مچھلی کا وزن 278 کلو گرام تھا۔ اسے خریدنے والے تاجر جو جاپان میں ایک ہوٹل کے مالک ہیں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اقرار کیا کہ انہوں نے یہ مچھلی کچھ مہنگی خریدی ہے لیکن انہیں اپنے گاہکوں کیلئے اعلی ذائقے والی یہ مچھلی پیش کر کے دلی خوشی ہو گی۔پانڈادنیا کے مہنگے ترین جانوروں میں''بڑا پانڈا‘‘ ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ا س کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اس کی تمام آبادی چین کی ملکیت ہے۔ اور بہت سے چڑیا گھروں کو اس کی میزبانی کی سالانہ فیس ادا کرنا ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں امریکہ ہر سال ا س کی میزبانی کی مدمیں دس لاکھ ڈالر (28 کروڑ پاکستانی روپے )ادا کرتا ہے۔ بیس سال کی عمر تک پہنچنے والے ان جانوروں کے ہاں اگر بچے پیدا ہوتے ہیں تو میزبان ملک ، چین کو 6 لاکھ امریکی ڈالر (16 کروڑ80 لاکھ روپے پاکستانی )ادا کرنے کا پابند ہوتا ہے۔

صحت مند رہنے کے خاص مشروب

صحت مند رہنے کے خاص مشروب

صبح کے وقت پیا گیا پانی ہمارے جسم کے میٹابولزم کو درست حالت میں رکھتا ہے اور پیٹ صاف کرنے کے عمل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ دن کی شروعات ایک یا2 لیٹر پانی پی کر کرنے سے جسم سے زہریلے مادّے خارج ہو جاتے ہیں۔ پانی کے علاوہ بھی کئی ایسے مشروبات ہیں جو مرد و خواتین، دونوں کو ہی ایک صحتمند اور صاف جلد پانے میں معاون ہوتے ہیں۔ جانئے ایسے 5 مشروبات کے بارے میں۔ تاہم، ان میں سے کسی ایک ہی کو اپنی روٹین کا حصہ بنائیں۔ بیک وقت دو مشروبات پینے سے پرہیز کریں۔ واٹر تھیراپی صحیح مقدار میں پانی پینے کے ناقابل ِ یقین نتائج دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ہمارے جسم میں75 فیصد پانی ہوتا ہے اور پانی ایسی کئی ذمہ داریاں نبھاتا ہے جس سے جلد صاف اور صحتمند رہتی ہے۔ دوسری جانب پانی ہمیں ڈی ہائیڈریٹ سے بھی بچاتا ہے جس کی وجہ سے جلد روکھی نہیں ہوتی ہے۔ روزانہ کم سے کم5.4 سے لے کر 5.5 لیٹر پانی پینے سے آپ کے جسم میں منرلز اور آکسیجن کی سطح کو بڑھاتا ہے۔ اس سے جسم میں جمع ٹاکسن بھی باہر نکل جاتے ہیں جس سے جلد میں نمی برقرار رہتی ہے، ساتھ ہی یہ جسم کے الیکٹرالائٹس کو بھی متوازن رکھتا ہے جس سے مہاسوں سے نجات حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔شہد اور لیموں کا پانی ایک گلاس پانی میں 2 سے 3 بڑے چمچے شہد، ایک بڑا چمچہ لیموں کا رس ملائیں صبح کی پہلی خوراک کے طور پر اسے پئیں۔ یہ ایک الیکٹرالائٹ کے طور پر کام کرتا ہے اور اینٹی آکسیڈنٹس اور اینٹی ایجنگ اجزاء بھی پیدا کرتا ہے۔ اس سے جسم کو زہریلے مادّے باہر نکالنے میں مدد ملتی ہے۔ یہ وزن گھٹانے میں بھی کارگر ہے۔ شہد میں اینٹی ایجنگ جزو موجود ہوتے ہیں جو آپ کی جلد کو موئسچرائز رکھتے ہیں اور لیموں میں وٹامن سی ہوتا ہے جو جلد کیلئے نئے خلیے بنانے میں مدد کرتا ہے۔پھلوں کا جوس پھل وٹامنس اور مائیکرو نیوٹرینس سے بھرپور ہوتے ہیں۔ گاجر، چقند، انار جیسے پھل اور شکرقند جیسی سبزیاں منرلز اور وٹامنس سے بھرپور ہوتی ہیں جو کیل مہاسے سے نجات دلا کر ہمیں ایک صحتمند اور صاف جلد پانے میں مدد کرتی ہیں۔ گاجر اور چقندر میں وٹامن اے کی بھرپور مقدار ہوتی ہے جو مہاسے، جھریاں اور دانوں کو روک کر جلد کو صحتمند بناتا ہے۔ چقندر کا رس دوران خون کے نظام کو درست رکھتا ہے۔گرین ٹیاگر آپ چائے کی دلدادہ ہیں تو اپنی خوراک میں گرین ٹی یا لیمن ٹی ضرور شامل کریں۔ اس سے مہاسے سے چھٹکارا پانے میں مدد ملتی ہے۔ اس میں وٹامن سی کے ساتھ ساتھ کئی غذائی اجزاء ہوتے ہیں جو جلد کو صحتمند رکھنے میں معاون ہوتے ہیں اور قدرتی نکھار آتا ہے۔ہلدی والا دودھ ہلدی قدرتی دوا ہے جو اینٹی بائیوٹک اور اینٹی وائرل ایجنٹ کی طرح کام کرتا ہے۔ یہ اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہے جو عمر بڑھانے کے عمل کو دھیما کر دیتے ہیں۔ روزانہ صبح دودھ یا گرم پانی میں ایک چمچہ ہلدی ملا کر پینے سے جلد صحتمند رہتی ہے۔  

لندن کا منفرد مقام سٹی آف ویسٹ منسٹر

لندن کا منفرد مقام سٹی آف ویسٹ منسٹر

ویسٹ منسٹر کا شہر ایک ایسا شہر ہے جو لندن عظمیٰ کے اندر ایک منفرد مقام اور حیثیت کا حامل ہے۔ یہ شہر لندن کے مرکزی علاقہ پر محیط ہے، جس طرح لندن متحدہ برطانیہ کا دل ہے اور اگر لندن کے دل کو ویسٹ منسٹر سے تشبیہ دیں تو مبالغہ نہ ہوگا۔ ویسٹ منسٹر دریائے ٹیمز کے شمالی کنارے پر واقع ہے۔ اس کی آبادی تقریباً دو لاکھ پچپن ہزار اور رقبہ 21مربع کلو میٹر ہے۔1540ء میں ویسٹ منسٹر کو بلدیاتی قصبہ کا درجہ دیا گیا۔ویسٹ منسٹر لندن میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ اس لئے لندن کے زیادہ تر تاریخی مقامات، عمارتیں، تفریح گاہیں، پارک، تھیڑ، شاپنگ کے بڑے بڑے مراکز، تعلیمی ادارے، محلات، میوزیم، کھیلوں کے میدان اسی شہر میں واقع ہیں بلکہ یوں کہیں کہ صحیح معنوں میں لندن کی وجہ شہرت اور پہچان ویسٹ منسٹرہی ہے۔ ویسٹ منسٹرایبے، ویسٹ منسٹر کیتھڈرل اب کنگ چارلس کی سرکاری رہائش گاہ بکنگھم پیلس، ہائوس آف پارلیمنٹ، سینٹ جیمز پیلس، برطانیہ کے وزیراعظم کی سرکاری اور تاریخی رہائش گاہ10ڈائوننگ سٹریٹ، ٹیٹ برٹن آرٹ گیلری، نیشنل پورٹریٹ گیلری، مشہور زمانہ ہائیڈپارک، ٹریفالگراسکوائر، رائل البرٹ ہال، کورٹ آف جسٹس، بگ بین، پکاڈلی سرکس، ریجنٹ مسجد، ریجنٹ پارک، کرکٹ کی دنیا میں جانا پہچانا نام اوول اور لارڈ کرکٹ گرائونڈ، رائل او پیرا ہائوس، کنسٹنگٹن گارڈن، سینٹ جیمز پارک، گرین پارک، دی مال، وکٹوریہ میموریل، مادام تسائو، بی بی سی کا ہیڈ کوارٹر، رائل البرٹ ہال میوزیم، امپریل کالج آف سائنس، آکسٹورڈ سٹریٹ، ریجنٹ سٹریٹ، یہ سب مقامات جو بذات خود اپنا اپنا تشخص اور مقام رکھتے ہیں، ویسٹ منسٹر ہی کا حصہ ہیں۔ لندن کا شہر ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے لیکن سٹی آف ویسٹ منسٹر برطانیہ کا سیاسی اور ثقافتی مرکز ہے۔جب بھی اور جہاں بھی مندرجہ بالا مقامات کا ذکر آئے گا وہاں ویسٹ منسٹر کا ذکر ضرور آئے گا بلکہ جہاں لندن کا ذکر آئے گا وہاں لازمی طور پر ویسٹ منسٹر کے ذکر کے بغیر لندن کا ذکر ادھورا رہ جائے گا۔ اس سے یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ ویسٹ منسٹر لندن میں کتنی اہمیت کا حامل ہے۔ لندن کے کئی مشہور لگژری ہوٹل، ریستوران، اسلامک کلچر سنٹر اور مرکزی مسجد یہ سب ویسٹ منسٹر ہی میں واقع ہیں۔مشاہیر:کئی مشہور معروف شخصیات جن کا زندگی میں کسی طور ویسٹ منسٹر شہر سے تعلق رہا ہے، ان کی فہرست تو بہت طویل ہے لیکن چند کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔ڈیوڈ کیمرون، چارلس ڈکنز، ٹی ایس ایلیٹ، سابقہ کوئن آف یو کے الزبتھ ثانی، میڈونا، ایچ جی ویلز۔ اس کے علاوہ ویسٹ منسٹرایبے چرچ میں ولیم شیکسپیئر، چارلس ڈکنز، تھامس ہارڈی،رڈیارڈ کپلنگ، جین آسٹن لارڈبائرن مدفون ہیں۔کئی ممالک کے سفارتخانے، ہائی کمیشن بھی ویسٹ منسٹر سٹی میں موجود ہیں ان میں آسٹریلیا، برونائی، کینیڈا، قبرص، گھانا، انڈیا، ملائیشیا، نیوزی لینڈ، نائیجیریا، پاکستان، سنگا پور، پاپا نیو گنی، جنوبی افریقہ، ٹرینیڈا لینڈ ٹوباگو اور یوگنڈا قابل ذکر ہیں۔ویسٹ منسٹر میں 27انڈر گرائونڈ سٹیشن ہیں اور گیارہ میں سے دس لائنیں ویسٹ منسٹر کی حدود سے گزرتی ہیں۔ لندن شہر کے دوسرے حصوں کی نسبت ویسٹ منسٹر کا جی ڈی پی بھی زیادہ ہے۔ یاد رہے کہ جی ڈی پی کسی ملک یا مخصوص علاقے میں معاشی ترقی کی رفتار ماپنے جانچنے کا ایک پیمانہ تصور کیا جاتا ہے۔ویسٹ منسٹر یونیورسٹی رینک کے اعتبار سے یو کے میں چھٹی اور دنیا میں 20ویں نمبر پر ہے اور اس میں طلباء کی تعداد 20ہزار سے بھی زیادہ ہے۔ گزشتہ ایک ہزار سال میں ویسٹ منسٹرایبے چرچ میں شاہی خاندان کی شادیوں، تاجپوشی اور تدفین کی رسومات بھی منعقد ہوتی ہیں۔

سترہویں صدی : ایجادات و نظریات کا دور

سترہویں صدی : ایجادات و نظریات کا دور

سترہویں صدی میں سائنس کی نشوؤنما اور ترقی پر ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس صدی میں بہت سا کام ہوا۔ اس صدی کی ابتداء میں گلیلیو نے ایسی دوربین تیار کی جو بہت دور واقع اجسام کو بہت بڑا کر کے دکھا سکتی تھی۔ جب گلیلیو نے اپنی دوربین کا رخ چاند کی طرف موڑا تو اس نے دیکھا کہ چاند کی سطح صاف و شفاف نہیں ہے، جیسا کہ زمین سے یہ دکھائی دیتا ہے بلکہ اس کی سطح پر بڑے بڑے پہاڑ ہیں۔ اس نے یہ بھی دیکھا کہ مشتری سیارہ کے خود اپنے چاند ہیںجو اس کے اطراف اسی طرح گھومتے رہتے ہیں جس طرح چاند زمین کے اطراف گھومتا ہے۔ گلیلیو اطالوی ماہر فلکیات اور فلسفی تھا۔ سائنسی انقلاب پیدا کرنے میں اس کا کردار اہم ہے۔ اس نے اشیا کی حرکات، دوربین، فلکیات کے بارے میں بیش قیمت معلومات فراہم کیں۔ اسے جدید طبیعیات کا بانی کہا جاتا ہے۔ گلیلیو نے مرکب خوردبین تیار کی۔ اس ایجاد کے بعد ایسے چھوٹے چھوٹے ذرات اور اجسام کو دیکھنا ممکن ہو گیا جن کو سادہ آنکھ نہیں دیکھ سکتی۔ ارسطو کا نظریہ تھا کہ بھاری اجسام ہلکے اجسام کی نسبت زیادہ شتابی سے زمین کی طرف لپکتے ہیں۔ نسل درنسل ماہرین اور سکالر یونانی فلسفی پر اعتماد کرتے ہوئے اس نظریہ کو درست تسلیم کرتے رہے۔ گلیلیو نے اس کی آزمائش کافیصلہ کیا۔ آزمائشوں کے ایک سلسلہ کے ذریعے اس نے جلد ہی معلوم کرلیا کہ ارسطو کا خیال درست نہیں تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ وزنی اور ہلکے اجسام ایک سی رفتار سے نیچے گرتے ہیں۔ جرمن ماہرفلکیات جوہانس کیپلر نے جو گلیلیو کا ہم عصر تھا، ریاضی کی مدد سے ثابت کیا کہ سورج کے اطراف سیارے بیضوی مدار میں گردش کرتے ہیں (کوپر نیکس کے نظریہ کے برخلاف)۔ سیاروں کی حرکت کے بارے میں بھی اس نے قوانین مدون کیے۔ یہ قوانین آج تک فلکیات کے مطالعہ میں استعمال ہوتے ہیں اور فی زمانہ مصنوعی سیاروں کے مداروں کے تعین کیلئے ان سے کام لیا جاتا ہے۔ کیپلر نے یہ بھی معلوم کیا کہ کہکشاں بہت سے تاروں کا ایک مجموعہ ہے۔ انگریز طبیب ولیم ہاروے نے سترہویں صدی کے اوائل میں سب سے پہلے اشکال کے ذریعہ انسانی جسم میں خون کے دوران کو وضاحت سے پیش کیا اور اس نے اپنی کتاب ''دل اور خون کی حرکت‘‘ شائع کی۔ ہاروے کی ان تحقیقات نے انسانی جسم کے مطالعہ میں انقلابی تبدیلی پیدا کر دی۔ یہ فعلیات کا باوا آدم سمجھا جاتا ہے۔ خوردبین کی ایجاد نے حیاتیات کے مطالعہ کو بہت ترقی دی۔ انتونی وان لیون ہوک نے خوردبین کی مدد سے نہایت چھوٹے جانداروں کا مطالعہ کیا۔ اس نے دیکھا کہ بظاہر صاف و شفاف پانی میں بہت سے چھوٹے چھوٹے حیوانات ہوتے ہیں جن کو اب پروٹوزوا کہتے ہیں۔ اس نے پہلی مرتبہ خوردبین میں دیکھا کہ خون میں سرخ خلیے یا جسیمے پائے جاتے ہیں۔ رابرٹ ہک نے خوردبین میں پودوں کی جانچ کر کے بتایا کہ نباتی جسم چھوٹی چھوٹی اکائیوں کے ایک سلسلہ پر مشتمل ہوتا ہے۔ ان اکائیوں کو اس نے خلیوں کے نام سے موسوم کیا۔ سترہویں صدی کا سب سے مشہور سائنس دان سر آئزک نیوٹن ہے۔ اس کے مشہور کارناموں میں زمین کی کشش ثقل کا نظریہ، روشنی کا نظریہ، مادہ کی ذراتی ساخت کا نظریہ اور حرکت کے کلیے ہیں۔  نیوٹن نے اپنی سائنسی تحقیقات کا آغاز روشنی کے مطالعہ سے کیا تھا۔ اس نے منشور کے ذریعے سورج کی روشنی کا مطالعہ کر کے بتایا کہ سفید روشنی دراصل 7 مختلف روشنیوں کے ملنے سے بنتی ہے۔ نیوٹن کی مشہور تالیف ''طبیعی فلسفہ کے ریاضیاتی اصول‘‘ ہے یہ کتاب 1687ء میں طبع ہوئی تھی۔ سترہویں صدی کا مشہور کیمیا دان رابرٹ بوائل (1691-1627ء) تھا۔ وہ پہلا شخص تھا جس نے علم کی خاطر کیمیا کا مطالعہ کیا، نہ ادنیٰ دھاتوں کو سونے میں تبدیل کرنے کی نیت سے کیا اور نہ ہی اکسیرحیات اور دوائیں تیار کرنے کے ارادے سے کیا۔ اس نے کیمیا کے مطالعے کے لیے تجرباتی طریقوں پر سختی سے عمل کیا اور ارسطو کے نظریۂ عناصر اور کیمیاگروں کے عناصر اربعہ کے نظریوں کو غلط ثابت کر دکھایا۔ اس نے بتایا کہ دھاتوں سے کسی طریقہ سے بھی ان ''عناصر‘‘ کو حاصل نہیں کہا جا سکتا اور نہ سونے سے پارہ یا گندھک حاصل کی جا سکتی ہے۔ قدیم زمانہ میں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ پارہ اور گندھک کے امتزاج سے سونا بنتا ہے۔ اس نے سب سے پہلے کیمیائی عنصر کی تعریف بیان کی۔ اس نے بتایا کہ عنصر ایک ایسی شے ہے جس کو کسی معلوم طریقہ سے دو یا دو سے زیادہ سادہ اشیاء میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ رابرٹ بوائل کا کام جدید کیمیا کا نقطۂ آغاز مانا جاتاہے۔ سترہویں صدی کی تحقیقات کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس صدی کے وسط تک ارسطو کی طبیعیات اورعلم کائنات کا خاتمہ ہو گیا۔ دور بین کی ایجاد نے اس تصور کو بھی غلط ثابت کر دیا کہ زمین اجرام فلکی میں مرکز کی حیثیت رکھتی ہے۔ مادہ کی ماہیئت کے بارے میں ایک نئے تصور نے جنم لیا۔ معدنیات کے بارے میں معلومات کے اضافہ اور فنّیات کی ترقی کے باعث کیمیا گری کی جگہ علم کیمیا نے لے لی۔ طبیعی علوم میں تجربوں اور مشاہدوں سے حاصل ہونے والے نتائج کو ریاضی کی شکلوں میں ظاہر کرنے کے رجحان میں اضافہ ہوا۔ حیاتیاتی علوم میں ارسطو کے طریقوں سے کام لے کر حیوانات اور نباتات کی جماعت بندی کی گئی۔ سترہویں صدی کے ختم ہونے تک سائنسی علوم نے اس قدر ترقی کر لی تھی کہ ان کو مختلف شعبوں میں تقسیم کرنا ناگزیر ہو گیا۔ ان کے دو بڑے شعبے بنائے گئے۔ طبیعی علوم اور حیاتیاتی علوم۔ یہ شعبے بھی خود اتنے وسیع ہیں کہ ان کی بھی تقسیم در تقسیم ضروری ہو جاتی ہے۔  

شاہی ظروف

شاہی ظروف

ہندوستان پر کئی سو سال تک مسلم بادشاہوں کی حکمرانی رہی، ان کے محلات مکے باورچی خانوں میں کونسے ظروف استعمال کئے جاتے تھے ّج کے مضمون میں ان کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں گی۔ کھانا پکانے کے ظروفمحل کے اندر شاہی مطبخ میں کھانا طلائی‘ نقرئی‘ مسی‘ سنگی اور خاکی ظروف میں تیارہوتے۔ چاندی کے ظروف میں جو کھانا پکتا وہ صحت بخش سمجھا جاتا۔ سونے اور چاندی کے ظروف کے علاوہ تانبے کے ظروف میں بھی کھانا پکتا، جن پر ایک مہینہ میں دو بار قلعی ضرور ہوتی۔ جو ظروف استعمال ہوتے، ان کی تفصیل کچھ یوں ہے۔دیگ: یہ فارسی لفظ ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمان اسے بھی ساتھ لائے، بعض دیگ بہت بڑی ہوتی، اس میں تین تین چار چار من کے کھانے ایک ساتھ پک سکتے تھے۔ چھوٹی دیگ کو دیگچہ کہتے اوربعض اوقات پتیلی کو بھی دیگچی کہتے ہیں۔ دیگ، دیگچہ اور دیگچی عموماً تانبے کی ہوتی۔ پتیلا: یہ بھی فارسی لفظ ہے، پاتلہ یا پاتیلا کا مخفف ہے۔ اس کی شکل دیگ سے مختلف ہوتی ہے۔ دیگ کی گردن اوپر اٹھی ہوتی ہے۔ پتیلے میں گردن نہیں ہوتی اور یہ بیچ ہی میں پھیل جاتا ہے۔ چھوٹے پتیلے کو پتیلی کہتے ہیں۔کف گیر: فارسی لفظ ہے، دیگ کے جوش سے جو کف یعنی جھاگ پیدا ہوتا، اسے نکالنے کیلئے جو چیز ہوتی اسے کف گیر کہتے۔ اب کف گیر بڑے چمچہ کو بھی کہا جاتا ہے۔ یہ بھی تانبے ہی کا ہوتا۔ کف گیرہ: جس کف گیر میں سوراخ ہوتے، اس کو کف گیرہ کہا جاتا۔ یہ دونوں فارسی کے الفاظ ہیں۔ ہندی میں اس کو چھلنا کہتے اور یہی زیادہ بولا جاتا ہے۔ یہ لوہے کا ہوتا۔ چمچہ: یہ ترکی لفظ ہے، شوربہ، شربت یا کوئی اور رقیق چیز کے پینے کے ظرف کا نام تھا، اسی مناسبت سے چمچہ کا لفظ عام ہوگیا۔ لگن: فارسی لفظ ہے،ہاتھ پائوں دھونے کے طشت کو کہتے تھے۔ اس سے مراد وہ تھالی بھی ہوتی جس میں شمع جلائی جاتی، اس میں آٹا بھی گوندھا جاتا۔سینی: یہ فارسی لفظ ہے، لوہے، پیتل اور تابنے کی کشتی کوکہتے ہیں۔کڑاہ: اس میں پکوان وغیرہ تلا جاتا، یہ لفظ ہندی ہے۔ آئین اکبری میں اس کا ذکر ہے، کڑاہی اسی کی تصغیر ہے، یہ لوہے کا ہوتا ہے۔ سیخ: فارسی لفظ ہے، اس میں گوشت گتھ کر کباب لگایا جاتا ہے، پیتل اور لوہے دونوں کی ہوتی ہے۔توا: یہ ہندی لفظ ہے، فارسی میں اس کو تابہ کر دیا گیا ہے، اس پر روٹی پکائی جاتی ہے، یہ لوہے کا ہوتا ہے۔ دست پناہ: فارسی لفظ ہے، آگ پکڑنے کے چمٹے کو کہتے، یہ آتش گیر بھی کہلاتا۔پرات: ہندی لفظ ہے، آٹا گوندھنے کے تھال کو کہتے ہیں، تانبے یا پیتل کا ہوتا، اس کو تسلا بھی کہتے۔ بٹلوہی: اس میں پانی رکھا جاتا اور اسی میں کھانا بھی پکا لیا جاتا۔ غریب ہندوئوں کے ہاں زیادہ استعمال میں رہا، یہ ہندی لفظ ہے۔ڈوئی: ترکاری یا سالن پکاتے وقت دیگچی یا ہانڈی میں جو چمچہ استعمال کیا جاتا،اس کوڈوئی کہتے۔ یہ لکڑی سے بنائی جاتی اور یہ ہندی لفظ ہے، اب بھی استعمال میں ہے۔باورچی خانہ میں حسب ذیل چیزیں بھی استعمال ہوتی رہیں۔سل بٹہ: سل پر بٹہ سے مسالہ پیسا جاتا، کھانے میں پسا ہوا مسالہ ڈالنے کا رواج ہندوستان میں شروع سے ہے۔سل جس معنی میں استعمال ہوتا ہے اس کیلئے فارسی کی کوئی اصطلاح نظر سے نہیں گزری، البتہ لغت میں بتہ کا لفظ فارسی بتایا گیا ہے۔ شاید ہندوستان میں بتہ سے بٹہ ہوگیا ہو۔اوکھلی موسل: اوکھلی موسل سے غلہ کوٹہ جاتا ہے، یہ خالص ہندوستانی چیز ہے، اس لئے نام بھی ہندوستانی ہے۔کھرل: اس میں دوائیں حل کی جاتیں، ہندی لفظ ہے،فارسی میں اس کیلئے باون دستہ کا لفظ ہے۔کھانے کے ظروف: شاہی دستر خوان کے ظروف زیادہ تر چاندی اور سونے کے ہوتے، محمد تغلق کے دستر خوان پر سونے اور چاندی کے برتن کی بڑی فراوانی تھی۔ پہلے ذکر آچکا ہے کہ پانی اور شربت پینے کیلئے سونے چاندی تانبے اور کانچ کے پیالے ہوتے‘ فیروز شاہ تغلق نے سونے چاندی کے ظروف کا استعمال روک دیا تھا کیونکہ ان کا استعمال شرعاً ناجائز تھا لیکن مغلوں کے عہد میں سونے چاندی کے ظروف بکثرت استعمال ہوتے رہے۔ جہانگیر کے دربار میں چاندی کے پیالے، برتن، شمع دان، پھول دان وغیرہ موجود رہتے ۔ شاہ جہانی خزانے میں یہ ظروف بڑھ کر کئی کروڑ کے ہوگئے تھے۔ نادر شاہ مال غنیمت میں سونے اور چاندی کے ظروف بھی اپنے ساتھ لے گیا۔ چینی کے ظروف بھی استعمال ہوتے رہے۔ نزک جہاںگیری اور مآثر عالمگیری میں خطائی اور چینی ظروف کا ذکربار بار آیا ہے۔ دہلی کے لال قلعہ کے میوزیم میں مغل بادشاہوں کے برتنوں میں چینی کی صراحیاں اور پھل کے طشت موجودہیں۔رکابی: کھانا عموماً رکابی میں کھاتے‘، شاہی محل میں رکابی چاندی اور سونے کی ہوتی۔ رکابی کا لفظ فارسی ہے۔طباق: شروع میں ہشت پہل پیالے کوکہتے لیکن پھر پھیلا ہوا چوڑا ظرف سمجھا جانے لگا۔ ترکی لفظ ہے، بڑی رکابی کوکہتے، پلائو وغیرہ اسی میں رکھے جاتے۔ ہندی میں طباق کو تھال کہتے تھال کی تصغیر تھالی ہے،ہندو امراء کے یہاں تھالی سونے چاندی کی بھی ہوتی۔ قاب: یہ بھی ترکی لفظ ہے، بڑی رکابی مراد ہے، گو عربی میں قعب بڑے پیالے کوکہتے ہیں۔پیالہ: رقیق چیز اس میں رکھی جاتی، یہ لفظ بھی فارسی ہے۔بادیہ: یہ بھی فارسی لفظ ہے‘ تانبے کے بڑے پیالے یا کٹورے کو کہتے‘ اس کے اوپر حاشیہ ہوتا اور نیچے پیندے میں بھی روک کیلئے حلقہ بنا ہوتا۔ کٹورا: ہندی میں پیالہ کو کٹورا کہتے اور یہ لال قلعہ میں بھی بولا جاتا۔ ذوق کا ایک شعر ہےاے گلرخونہ چھیڑنا دامن سحاب کادیکھو چھلک رہا ہے کٹورا گلاب کا 

حکایت: سخاوت اور صبر

حکایت: سخاوت اور صبر

ایک کنجوس مر گیا تو اس کے سخی بیٹے نے اس کا خزانہ بے دریغ حاجت مندوں کو لٹایا، ہمہ وقت اس کے دروازے پر محتاجوں کا ہجوم رہتا، وہ ہر اپنے اور بیگانے کو نوازتا۔ ایک ملامت کرنے والے نے کہا، اے فضول خرچ! جو تیرے باپ نے ساری عمر جمع کیا ہے توایک ہی دن میں اس کو کیوں خرچ کرتا ہے۔ سال بھر میں جمع ہونے والے مال کو ایک دن میں جلا دینا عقلمندی نہیں ہے۔ اس نے جواب دیا۔ فراخی کے وقت حساب وہ ملحوظ رکھے جو تنگ دستی میں صبر نہ کر سکتا ہو۔ مجھے اللہ نے سخی بنایا ہے تو صابر بھی بنایا ہے۔ ملامت کرنے والا پھر بولا کہ ایک دیہاتی خاتون نے اپنی بیٹی کو کہا کہ خوشحالی کے دن تنگ دستی کا انتظام کر لے۔ مشک اور گھڑے کو بھر کر رکھ کیونکہ ندی خشک ہونے والی ہے۔ ہاتھ خالی ہو تو کوئی امید پوری نہیں ہوتی۔ فقیر تیری امداد سے مال دار نہیں ہوں گے بلکہ تو فقیر ہو جائے گا۔ ملامت گر کی ساری باتیں سن کر غیرت مند لڑکے نے غصے سے اس کو جھڑک دیا اور کہا! میرے پاس جو خزانہ ہے میرے باپ نے کہا تھا کہ میرے دادا کا ہے۔ وہ دونوں مر گئے اور خزانہ چھوڑ گئے۔ اگر میں بھی اس کو استعمال میں نہیں لاؤں گا تو میرے بعد کسی اور کو مل جائے گا۔ لہٰذا یہی بہتر ہے کہ اس سے فائدہ اٹھاؤں اور فائدہ اٹھانا یہی ہے کہ کھانا، پہننا، بخشش کرنا اور لوگوں کو آرام پہنچانا نہ کہ بعد والوں کیلئے جوڑ جوڑ کر رکھنا۔ اس خزانے کے ساتھ اگر میں آخرت خرید لوں تو بہتر ہے ورنہ حسرت کے ساتھ مر ہی جاؤں گا۔ اس حکایت سے سبق ملتا ہے کہ جہاں تک ہو سکے مال و دولت میں سخاوت کی جائے، اسے جمع رکھنے سے وارثوں کو تو فائدہ ہوتا ہے لیکن خود بندہ آخرت کے خسارے میں رہتا ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ روپیہ پیسہ کفایت شعاری سے خرچ کرنا چاہیے اور مستقبل کی فکر بھی ضرور کرنی چاہیے دولت ضائع کرنے سے تو خزانے بھی خالی ہو جاتے ہیں۔ ہاں اگر اللہ کی مخلوق تکلیف میں ہو تو دولت سنبھال کر رکھنا یا اس سے عیاشی کرنا کسی طرح بھی مناسب نہیں ہے۔