ناظمہ پانی پتی:برصغیر کی معروف فلمی شخصیت

ناظمہ پانی پتی:برصغیر کی معروف فلمی شخصیت

اسپیشل فیچر

تحریر : محمد جاوید پاشا


آپ نے شاید وہ گیت نہ سنا ہو جو 1948ء میں ریلیز ہونے والی فلم''مجبور‘‘میں شامل تھا۔اس گیت کے بول تھے ''دل میرا توڑا مجھے کہیں کا نہ چھوڑا،تیرے پیار نے‘‘۔ اس گیت کی موسیقی موسیقار اعظم ماسٹر غلام حیدر نے ترتیب دی تھی ۔ یہ گیت نغمہ نگار اور کہانی نویس ناظم پانی پتی نے لکھا تھا۔ ماسٹر غلام حیدر نے اس گیت کی طرز بمبئی کے ریلوے سٹیشن پر ایک بینچ پر بیٹھ کر ماچس کی ڈبیا کی تھاپ پر بنائی تھی۔
ماسٹر غلام حیدر بمبئی کی فلم انڈسٹری پر چھائے ہوئے تھے۔ وہ موسیقی میں نئے نئے تجربے کرنے کے بہت شائق تھے اور نئی آوازوں کے متلاشی رہتے تھے۔ ان دنوں ہدایت کار نذیر اجمری بمبئے ٹاکیز کیلئے اردو فلم ''مجبور‘‘بنا رہے تھے۔جس کی موسیقی ماسٹر غلام حیدر مرتب کر رہے تھے۔اس فلمی ادارے کے میوزک روم میں ماسٹر صاحب کے ساتھ نذیر اجمری اور یونٹ سے تعلق رکھنے والے دیگر لوگ بھی بیٹھے تھے۔ ماسٹر صاحب کے سامنے ہارمونیم پڑا تھا۔سامنے کرسی پر ایک دھان پان سی لڑکی بیٹھی تھی، کچھ سہمی اور کچھ خاموش سی۔بائیں طرف وہ ابھرتا ہوا نغمہ نگار براجمان تھا جو ناظم پانی پتی کے نام سے شہرت حاصل کر رہا تھا۔ماسٹر غلام حیدر نے مسکرا کر ناظم کی طرف دیکھا اور کہا کہ یہ لڑکی آپ ہی کے گیت سے اپنے فلمی کیرئیر کا آغاز کرے گی اور چند روز میں سارے گلوکاروں پر چھا جائے گی ۔ اس کا نام لتا ہے،لتا منگیشکر۔
نذیر اجمری نے ''مجبور‘‘کی ایک سچویشن ناظم پانی پتی کو سمجھائی۔ انہوں نے اس سچویشن پر ایک دو مکھڑے کہے جن میں سے یہ مکھڑا پسند کر لیا گیا ''دل میرا توڑا مجھے کہیں کا نہ چھوڑا، تیرے پیار نے‘‘۔ جب گیت کی ریکارڈنگ شروع ہوئی تو سب لوگ جھوم رہے تھے۔ لتا منگیشکر نے ناظم صاحب کی طرف دیکھ کر کہا ''آپ کا مجھ پر بڑا احسان ہے ، آپ نے میرے چانس کیلئے ایسا گیت لکھا جس کی مدد سے میں اپنی آواز سوز اور درد کو سروں میں ڈھال سکی ہوں‘‘۔اس گیت نے جہاں لتا کو شہرت کی بلندی پر پہنچا دیا وہاں ناظم پانی پتی کو بھی صف اوّل کے گیت نگار میں شامل کر دیا ۔
اس دور کے ایک بہت بڑے اداکار اور فلمساز سہراب مود نے اپنی اگلی فلم ''شیش محل‘‘کیلئے ناظم صاحب کو تمام گیت لکھنے کیلئے بک کر لیا۔جس گیت نے ناظم صاحب کو فلم بینوں سے بھرپور انداز میں متعارف کرایا وہ محمد رفیع کا گایا ہوا تھا، اس کے بول تھے:
جگ والا میلہ یار تھوڑی دیر دا
ہنسدیا ں رات لنگے پتا نیئں سویر دا
یہ گیت پنجابی فلم ''لچھی‘‘کیلئے لکھا گیا تھا۔ جس سے ناظم صاحب کو اتنی مقبولیت ملی کہ فلمی دنیا میں اس کا طوطی بولنے لگا۔
ناظم پانی پتی نے اپنے فلمی کیرئیر کا آغاز لاہور سے کیا ۔ ان کے بڑے بھائی نامور فلمساز و ہدایت کار ولی صاحب گرامو فون کمپنیوں کے لئے گیت لکھا کرتے تھے ۔ ناظم صاحب نے بھی گیت لکھنے شروع کر دئیے۔ان کمپنیوں میں ہنر ماسٹر وائس ، اومیگا، کولمبیا اور جینو فون تھے۔ ان کمپنیوں کے موسیقار ماسٹر غلام حیدر ، ماسٹر جھنڈے خاں ، بھائی لال محمد ، ماسٹر عنایت حسین اور جی اے چشتی تھے۔ گیت نگاروں میں ولی صاحب ، عزیز کاشمری اور ناظم پانی پتی نمایاں شامل تھے۔
لاہور میں بننے والی پنجابی فلم ''یملا جٹ‘‘بنی جو بے حد مقبول ہوئی۔ اس کے بعد لاہور ہی میں خزانچی ، منگتی، خاندان، دلا بھٹی، زمیدار، پونجی، چوہدری اور داسی جیسی فلمیں بنیں۔ ان فلموں نے ہندوستان میں مسلمان فنکاروں کی دھوم مچا دی ۔ ناظم پانی پتی بطور گیت نگار ، سکرین پلے رائٹر اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر ان تمام فلموں سے منسلک رہے ۔
نامور صحا فی سعید ملک نے ناظم پانی پتی کا ان کی زندگی میں ایک طویل انٹرویو لیا جو انگریزی روزنامے میں پانچ قسطوں میں چھپا تھا۔ اس میں ناظم صاحب نے بعض بڑی دلچسپ باتیں بیان کی تھیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ میں بمبئی علاقے باندرہ میں رہتا تھا۔ گھر کے قریب ایک پارک تھا۔ وہاں میں کبھی کبھار اپنے دوستوں کے ساتھ سیر کرنے چلا جاتا تھا۔ وہاں بدر الدین نام کا ایک نوجوان مجھ سے بڑی عقیدت اور ادب کے ساتھ پیش آتا تھا ، مجھے سگریٹ لا کر دیتا ، کبھی کبھی سر کی مالش بھی کیا کرتا تھا ۔ بدر الدین اس زمانے کے مشہور اداکاروں کی کامیاب نقل اتارا کرتا تھا ۔ ایک روز اس نے مجھ سے فلم میں کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا، میں اسے ایک مقامی سٹوڈیو میں لے گیا جہاں جیل سے قیدیوں کا جیل سے فرار کا منظر فلمایا جا رہا تھا ۔ یہ فلم ''بازی‘‘تھی ۔ڈائریکٹر نے میری سفارش پر بدر الدین کو ایک شرابی کا رول دے دیا ۔ اس نے یہ رول اس خوبی سے ادا کیا کہ سب حیران رہ گئے ۔ اس دن سے وہ فلمی دنیا میں جانی واکر کے نام سے مشہور ہو گیا ۔ فلم میں اس کے ہاتھ میں جانی واکر شراب کی بوتل تھی ۔ شاید اسی مناسبت سے اور اس واقعہ سے اس نے اپنا یہ نام جانی واکر رکھ لیا۔نامور ڈانسر ہیلن کو بھی ناظم صاحب نے اپنے بھائی کی فلموں سے متعارف کرایا۔
بمبئی میں نام کمانے کے بعد 1952ء میں وہ اپنے بڑے بھائی ولی صاحب کے ساتھ لاہور آگئے اور ان کی تیار کردہ فلموں ''گڈی گڈا‘‘،''سوہنی کمیارن‘‘ اور ''مٹی دیاں مورتاں‘‘ سے منسلک ہو گئے ۔ اس کے ساتھ ساتھ دیگر فلموں کیلئے بھی گیت لکھنے شروع کئے ۔ بالخصوص ان کی لکھی فلم ''لخت جگر‘‘کی لوری''چندا کی نگری سے آجا ری نندیا‘‘ پاکستان کی مقبول ترین لوریوں میں شمار ہوتی ہے۔ انہوں نے شباب کیرا نوی کی فلم ''آئینہ‘‘ اور ''انسانیت‘‘کیلئے بھی گیت لکھے ۔ ایس ایم یوسف کی فلم''سہیلی‘‘اور رضا میر کی فلم ''بیٹی‘‘ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور کہانی نویس تھے۔
پاکستان میں ٹیلی ویژن کے آنے پر موسیقی کے ابتدائی ہفتہ وار پروگرام ''جھنکار‘‘کیلئے انہوں نے متعدد گیت لکھے۔1966ء میں ریڈیو پاکستان سے جب کمرشل پروگرام اور اشتہارات شروع ہوئے تو ناظم صاحب اشتہاری کمپنیوں سے بطور سکرپٹ اور کاپی رائٹر منسلک ہو گئے ۔ یہاں بھی انہوں نے بہت نام کمایا اور یادگار سلوگن لکھے جن میں ''ہم تو جانے سیدھی بات، صابن ہو تو سات سو سات‘‘ اور''اٹھ میرے بیلیا پاڈان تیرے کول اے‘‘ شامل ہیں ۔
ناظم پانی پتی کے قریبی دوستوں میں موسیقار خیام، نصیر انور، گلوکار سلیم رضا، اداکار ساقی، بھارتی فلمساز و ہدایتکار راجند بھاٹیہ، گلوکار جی ایم درانی ، سید شوکت حسین رضوی ، آغا جی اے گل ، رضا میر اور سعاد ت حسن منٹو شامل تھے ۔ یاد رہے کہ منٹو کو ان کی وفات پر ناظم صاحب نے ہی آخری غسل دیا اور کفنانے کا فریضہ ادا کیا۔
ناظم پانی پتی نے زندگی کے آخری سال خاموشی اور گمنامی میں گزارے ۔ عمرہ ادا کیا اور واپسی پر یہ شعر موزوں کیا:
پڑا رہ مدینے کی گلیوں میں ناظم
تو جنت میں جا کر بھلا کیا کرے گا
اپنی وفات (18 جون 1998 ء، لاہور) سے چند روز قبل ناظم پانی پتی نے میری ذاتی ڈائری پر اپنے ہاتھ سے یہ بند لکھا جو ان کی زندگی کی آخری تحریر اور تخلیق ثابت ہوئی :
چراغ کا تیل ختم ہو چکا ہے
زندگی کا کھیل ختم ہو چکا ہے
سانس ہو رہے ہیں آزاد
عرصہ جیل ختم ہو چکا ہے

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
سفر آخرت کی منفرد اور حیرت انگیز رسومات

سفر آخرت کی منفرد اور حیرت انگیز رسومات

رسومات کا انسانی زندگی کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ چلا آرہا ہے۔یہ شاید واحد عمل ہے جو انسان کی پیدائش سے شروع ہو کر انسان کی تدفین تک جاری رہتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ انسانی زندگی کی رسومات خواہ خوشی کی ہوں یا غمی کی ہر مذہب، معاشرے اور ملک کی جدا جدا ہوتی ہیں۔جہاں تک انسانی زندگی کے سفر آخرت کی رسومات کا تعلق ہے دنیا بھر کے مختلف مذاہب میں عمومی طور پر دو طرح سے مردوں کی تدفین کی جاتی ہے۔ اسلام اور الہامی مذہب جن میں مسلمان، یہودی اور عیسائی شامل ہیں مردے کے جسم کو زمین میں دفن کرتے ہیں جبکہ جین، سکھ، ہندو اور بدھ مت کے پیروکار مردے کے جسم کو جلاکر اس کی راکھ کو پانی میں بہاتے ہیں۔ آج آپ کو ایسے مذہب اور عقیدے بارے بتانے جا رہے ہیں جہاں نہ تو مردوں کو جلایا جاتا ہے اور نہ ہی دفنایا جاتا ہے بلکہ اس کی میت کو بلندی پر لٹکا دیا جاتا ہے۔ میت کو لٹکانے کی رسم فلپائن کے صوبہ ماو?نٹین کے شمالی حصے کے پہاڑوں کے درمیان واقع قدیم شہر سکاڈا میں میت کو لٹکانے کی رسم ہزاروں سالوں سے چلی آ رہی ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس شہر تک پہنچنے کے راستے میں جا بجا آ سیب زدہ علاقے، انوکھی اور پراسرار لٹکتی تصویریں اور عجیب و غریب رسم و رواج ادا کرتے لوگ نظر آئیں گے۔اس شہر کی واحد وجہ شہرت دنیا بھر میں تابوت لٹکانے کی انوکھی اور منفرد رسم ہے۔سکاڈا میں صدیوں سے ''ایگوروٹ‘‘ قبیلے کے لوگ آباد چلے آرہے ہیں۔مورخین کے مطابق یہاں گزشتہ دو ہزار سال سے تابوت لٹکانے کی اس رسم کے شواہدملے ہیں۔ایگروٹ قبیلے کے لوگ عام طور پر اپنا تابوت اپنی زندگی میں خود ہی تیار کرتے ہیں جنہیں مرنے کے بعد انہیں اس تابوت میں ڈال کر پہاڑ کی چوٹی سے لٹکا دیا جاتا ہے۔ان کا عقیدہ ہے کہ ہوا میں لٹکتی ہوئی لاشیں ان کے آنجہانی آ باو? اجداد کو ان کے قریب لے آتی ہیں اور اس طرح مر کر بھی یہ اپنے پیاروں سے دور نہیں ہوتے۔تابوت میں رکھنے سے پہلے مردے کو روائتی طور پر ایک کرسی پر بٹھایا جاتا ہے، جسے ''موت کی کرسی‘‘ کہا جاتا ہے، جہاں عزیز واقارب مردے کا آخری دیدار کرتے ہیں۔ جس کے فوری بعد اس مردے کو تابوت میں رکھ کر اس کو انگور کی بیلوں اور پتوں سے ڈھانپ کر اس کے اوپر کمبل یا کوئی موٹی چادر ڈال دی جاتی ہے۔ تابوت کے باہر سر والی طرف مردے کا نام اور مکمل کوئف لکھے جاتے ہیں اس کے بعد تمام عزیز واقارب مل کر اس تابوت کو اٹھا کر بلندی پر لے جا کر لٹکا دیتے ہیں۔یہاں تابوت اٹھانے والے ہر فرد کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ تابوت کو زیادہ سے زیادہ وقت کیلئے اٹھائے کیونکہ تابوت سے رستے انگوروں کے جوس کے قطرے جس شخص کے جسم کو چھوتے ہیں اسے خوش بختی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔تابوت لٹکانے کے کئی روز تک قریبی عزیز واقارب باقاعدگی سے تابوت کے پاس آکر خاموشی سے کھڑے ہو کر تابوت پر نظریں جمائے رکھتے ہیں۔ جو اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ ہم اپنے پیاروں کو بھولتے نہیں۔ تاریخی حوالوں سے اس منفرد رسم میں تابوت کو لٹکانے کے شواہد چین اور انڈونیشیا کے کچھ علاقوں میں بھی ملے ہیں۔ ''ٹری برئیل‘‘میت دفنانے کا انوکھا طریقہ دنیا بھر میں بڑھتی آبادی کی رہائش کیلئے سر جوڑ کر بیٹھنے والے ماہرین نے کئی کئی منزلہ عمارتیں بنا کر رہائش گاہوں کا حل تو نکا لیا۔ اب ان کے نزدیک یہ سوال تھا کہ زمین کو تو نہیں بڑھایا جا سکتا، جب قبرستان کم پڑنا شروع ہو جائیں گے تو انسان اپنے مردوں کو کہاں دفنائے گا؟۔امریکہ، جاپان اور کچھ دیگر ممالک کی تنظیموں نے اس پر سوچ بچار شروع کی۔1990ء میں سب سے پہلے جاپان کی تنظیم ''گریو فری پروموشن سوسائٹی‘‘ یعنی قبرستان کے بغیر تدفین کا تصور پیش کیا۔جس کے تحت انسان کے جسم کی راکھ کو جسے بھارت میں ''استھیوں‘‘ کہا جاتا ہے کو بکھیرنے کے عمل کی تشہیر کی گئی، جس پر جاپان کے ''شونجو ٹمپل‘‘ نے اگلے ہی سال یعنی 1991ء میں ''ٹری برئیل‘‘ نامی ایک نیا طریقہ متعارف کر ڈالا۔جس کے تحت مرنے والے کے جسم کی راکھ کو زمین میں دفن کر کے اس کے اوپر درخت اگا دیا جاتا ہے۔ شونجو ٹمپل کی انتظامیہ نے آخری رسومات کی ادائیگی کیلئے اس سے کچھ ہی فاصلے پر ''چہوین ٹمپل‘‘ نامی ایک چھوٹا سا ٹمپل بنا ڈالا ہے جو ایک جنگل کے اندر واقع ہے۔ یہاں پر مرنے والوں کی آخری رسومات کی ادائیگی کے علاوہ ان کی راکھ کے اوپر ایک درخت لگا دیا جاتا ہے تاکہ مرنے والوں کے پیارے وقتاً فوقتاًآکر اپنے پیاروں کی آخری یادگاروں کو دیکھ سکیں۔ اس تصور کے تحت اب دنیا بھر کے ممالک اپنے پیاروں کی تدفین کے نئے نئے طریقے اختیار کر رہے ہیں۔مثال کے طور پر سنگاپور میں حکومت خاندانی مقبرے توڑ کر چھوٹی چھوٹی کھولیوں کی طرز پر عمارات کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے جہاں مرنے والوں کی صرف سمادھیوں کو رکھا جا سکتا ہے۔وہاں پر اب پندرہ سال سے زیادہ عرصہ تک قبر رکھنا قانوناً جرم تصور ہوتا ہے۔اس کیلئے قبر کی باقیات کو جلا کر ان کی راکھ کو سمادھیوں میں رکھنے کی تلقین کی جاتی ہے اور قبر کو دوبارہ قابل استعمال بنا لیا جاتا ہے۔ہانگ کانگ، جہاں کی زمین دنیا بھر میں سب سے مہنگی زمین شمار ہوتی ہے وہاں پاپ سٹار ز اور دیگر نامور شخصیات کے ذریعے میت دفنانے کی بجائے جلانے کے تصور کی تشہیر پر زور دیا جا رہا ہے۔ میت پرندوں کی خوراکپارسی،زرتشت کے پیروکاروں کو کہتے ہیں۔ان کا دعویٰ ہے کہ ان کے مذہبی رہنما کے پاس اوستا کا وہ قدیم نسخہ موجود ہے جو ان کے پیغمبر زرتشت پر نازل ہوا تھا۔پارسی اپنے مردوں کو نہ تو جلاتے ہیں اور نہ ہی دفناتے ہیں بلکہ یہ اسے ایک کھلی عمارت میں رکھ دیتے ہیں تاکہ اسے گدھ اور دیگر پرندے کھا لیں۔اس خاص عمارت کو یہ لوگ ''دخمہ‘‘، ''مینار خموشاں‘‘ یا ''ٹاور آف سائلنس‘‘کہتے ہیں۔ جہاں ان کا دخمہ نہیں ہوتا وہاں ان کے قبرستان ہوتے ہیں جہاں یہ بہ امر مجبوری میت کو دفن کر دیتے ہیں۔پارسی مذہب کے مطابق زمین، پانی، ہوا، سورج اور آگ انتہائی مقدس عناصر ہیں،اس لئے مردوں کو زمین میں دفن کرنے یا انہیں آگ میں جلانے سے زمین، آگ اور سورج کا تقدس مجروح ہوتا ہے۔ اپنے عقیدے کے مطابق یہ مردوں کو دفنانے یا جلانے کی بجائے ایک کھلے مینار نما گول عمارت میں رکھ دیتے ہیں تاکہ اسے مردار خور پرندے یا گدھ وغیرہ کھا لیں۔ستی کی رسم برصغیر میں انگریزوں کے دور سے پہلے ہندوئوں میں یہ رواج تھا کہ کسی شخص کے مرنے کے بعد اس کی بیوی اس کی چتا کے ساتھ ہی جل مرتی تھی۔ اس رسم کو ''ستی‘‘کہتے تھے۔ستی ہونے والی عورت سرخ رنگ کا پوشاک پہنتی اور باقاعدہ دلہن کی طرح سنگھار کرتی اور چتا کے مقام کی طرف چل پڑتی اور اپنے شوہر کی لاش کے ساتھ لکڑیوں پر بیٹھ جاتی تھی۔اس کے اقربا لاش اور عورت کے گرد لکڑیاں چن کر اس کے اوپر روئی اور تیل اوپر ڈال دیتے تاکہ تیز آگ میں یہ جلد بھسم ہو جائے۔ تاہم انڈیا پر برطانیہ کی حکمرانی کے دور کے پہلے گورنر جنرل لارڈ ولیم بینٹنک نے دسمبر 1829ء میں ہندوئوں کی اس قدیم رسم پر پابندی عائد کر دی تھی۔عقیدوں سے بغاوت 2016ء میں دو مقبول ترین سیاسی شخصیات کے انتقال کے بعد ان کی آخری رسومات، اپنے اپنے ملک کے مروجہ رسم و رواج کے عین خلاف ادا کی گئیں۔ کیوبا کے سابق رہنما فیدل کاسترو کے بارے مورخین کہتے ہیں کہ ان کی پرورش رومن کیتھولک لڑکے کے طور پر ہوئی تھی، تاہم آگے چل کر اس نے اس طرز زندگی کو ترک کر دیا تھا۔ایک موقع پر اس نے کہا تھا ''میں کبھی عقیدے کا قائل نہیں ہوں۔اسے اکثر مورخین ملحد کہتے ہیں تاہم۔ ایک موقع پر اس نے کہا تھا ''میں اپنے ملک کو ملحد کی بجائے سیکولر بنانا پسند کرتا ہوں‘‘۔ نومبر 2016ء میں انتقال کے بعد کاسترو کی آخری رسومات کیوبا کے شہر سانتیاگو میں ملکی روایات کے برعکس، ان کی وصیت کے مطابق ان کے جسم کی راکھ کو ایک قبر میں رکھ کر ادا کی گئیں۔2016ء ہی میں بھارتی ریاست تامل ناڈو کی سابق وزیر اعلیٰ جے للیتا کے جسد خاکی کو عقیدے کے مطابق جلانے کی بجائے قبر میں دفن کیا گیا تھا۔ ذہن میں رہے کہ جے للیتا کو شخصیت پرستی کا آئیکون کہا جا سکتا ہے کیونکہ ریاست اور ملک کے دیگر علاقوں میں کسی دیوی کی مانند ان سے عقیدت رکھی جاتی تھی۔   

گندگی سے اٹا درہ بابو سرٹاپ

گندگی سے اٹا درہ بابو سرٹاپ

پاکستان کی پاکیزہ وادیوں اور شفاف بلندیوں کی طرف سفر کریں تو ناران سے گزرنا مجبوری ہے۔ ورنہ جو ہجوم اور غلاظت یہاں پر موجود ہوتی ہے، وہ ذوق سیاحت کو قتل کرنے کیلئے کافی ہے۔ تیرہ ہزار سات سو فٹ بلند بابوسر ٹاپ تو باقاعدہ ایک''کوٹھا‘‘ بن چکا ہے جہاں پر موجود دلال گلیشیئر، بلندیوں اور موسموں کی قیمت وصول کر کے ان کے جسم نوچنے کی اجازت دے چکے ہیں۔ کتنا اچھا ہوتا کہ دوسرے دروں کی طرح یہاں بھی آلودگی سے پاک موسم ہوتے اور یہاں پر آنے والے سیاح اپنی گاڑیاں دو کلومیٹر دور پارک کر کے یہاں صرف موسم اور نظاروں سے لطف اندوز ہوتے۔جو گزرنا چاہتے وہ گزر جاتے، مگر یہاں تو منافع خوروں نے پانچ زپ لائنز، دو فلک بوس جھولے اور موت گھر بنانے کی اجازت دے دی ہے۔ عین بلندی پر پندرہ واش رومز جو ایک گاہک سے پچاس روپے فی دو منٹ وصول کرتے ہیں۔ درجنوں بسوں کا ڈیزل دھواں فطرت کی عطائوں میں ضرب لگاتا ہے تو لوگ چکرائے سے نظر آتے ہیں۔کوئی تو ہو جو ان بلندیوں کی نیلامی پر پالیسی بنائے اور دل کش وادیوں کو برباد ہونے سے بچائے۔ بالا کوٹ سے بٹہ کنڈی تک دریاو?ں اور آبشاروں کو بیچنے والوں کے پیٹ نہیں بھرے؟ ابھی تو جھیل سیف الملوک کی بربادی کا ماتم جاری تھا کہ منافع خوروں نے بابوسر ٹاپ میں بھی غلاظت بھر دی۔ ملک بھر میں تمام درے خدا کی عطا ہیں۔پہاڑوں میں موجود بلند درے دراصل مختلف وادیوں اور آبادیوں کو آپس میں ملاتے وہ راستے ہیں جو زمانہ قدیم سے گزر گاہ کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔ بلند ترین یہ راستے سال بھر میں صرف دو سے تین ماہ کیلئے کھلتے ہیں اور باقی عرصہ ان پر پڑی برف انسان کو بے بس کیے رکھتی ہے۔ بڑے شہروں کو آپس میں ملانے والے کئی درے اب زیر پہاڑ تعمیر ٹنل کی وجہ سے برف کی رکاوٹ سے آزاد ہو چکے ہیں۔ پاک چین دوستی کے نام سے شاہراہ قراقرم پر تعمیر کیے گئے ٹنلز اب سال بھر زمینی رابطوں کو بحال رکھتے ہیں اور مسافروں کو لینڈ سلائیڈنگ کا خوف بھی نہیں رہتا۔چترال اور پشاور کے درمیان درہ لواری ہمیشہ حائل رہتا تھا۔ ساڑھے دس کلومیٹر طویل ٹنل نے دنوں کے سفر کو گھنٹوں پر محیط کر دیا ہے اور اب چترال بھی پاکستان کا آباد شہر محسوس ہونے لگا ہے۔ تیرہ ہزار سات سو فٹ بلند بابو سر پاس پشاور، اسلام آباد اور گلگت بلتستان کے درمیان اب بھی سال بھر میں آٹھ ماہ بند رہتا ہے۔پاکستان میں بلند ترین دروں کی اپنی اپنی تاریخ اور جغرافیائی حیثیت ہے۔ بلند ترین دروں میں بابو سر، بولان، بروغل، چاپروٹ، دورہ، گوندو گورو، گومل، حایل، ہسپار، کڑاکڑ، خنجراب، خیبر، کلک، کوہاٹ، لواری، مالاکنڈ، منٹکا، نلتر، شیندور اور ٹوچی کے درے شامل ہیں۔ ان دروں میں بلند ترین گوندو گورو پاس ہے جس کی بلندی 5940 میٹرہے۔ یہ درہ گلگت کی حوشی وادی کونکورڈیا سے ملاتا ہے اور یہاں سے دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کو دیکھا جا سکتا ہے۔ 4700 میٹر بلند منٹکا پاس درہ خنجراب کے مغرب میں ایستادہ ہے اور شاہراہ ریشم کے مسافر اسے گزر گاہ کے طور پر پاس کرتے ہیں۔دورہ پاس کی 5030 میٹر بلندی گلگت کی غذر ویلی کو بالائی سوات سے ملاتی ہے۔ درہ چلنجی 5300 میٹر بلند ہے اور بالائی ہنزہ کی چپرسن وادی کو اشکومن اور کرومبر سے جوڑتا ہے۔برزل پاس 4200 میٹر بلندی کے ساتھ کشمیر اور گلگت کی واحد قدیم گزرگاہ تھی اور آج کل استور سے کارگل کو ملاتا ہے۔ شمشال پاس 4735 میٹر بلندی کے ساتھ کوہ پیماو?ں کو کے ٹو کے شمالی چہرے کی طرف لے جاتا ہے اور شمشال سے برالدو کا سفر ممکن بناتا ہے۔کرومبر کی بلندی بھی 4300 میٹر کے ساتھ گلگت کے ضلع غذر اور چترال کی سرحد کو اشکومن پر باہم ملاتی ہے۔بروغل پاس کا درہ بلندی میں کچھ کم ہے مگر افسانوی واخان کوریڈور میں افغانستان کے بدخشاں صوبے کو پاکستان کے ضلع چترال سے جوڑتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

فورٹ ولیم کالج کا قیام10جولائی1800ء کو کولکتہ میں اردو، ہندی اور مقامی زبانوں کے فروغ کیلئے فورٹ ولیم کالج کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس کالج کے قیام کا مقصد ان تحاریک کو روکنا تھا جو ہندوستان میں زبان کے نام پر شروع کی گئی تھیں۔ انگریزوں کے ہندوستان پر قبضے کے بعد متعدد تحاریک نے جنم لیا جن میں زبان کا استعمال ایک اہم مسئلہ تھا۔ ہندوستان میں موجود آبادی کا بڑا حصہ انگریزی زبان سیکھنے کے لئے ہر گز تیار نہیں تھا۔برطانوی وزیر اعظم کی قائد اعظمؒ کیلئے حمایت10جولائی1947ء کو برطانیہ کے وزیراعظم کلیمنڈ رچرڈ ایٹلی نے قائد اعظم محمد علی جناحؒ کو پاکستان کا پہلا گورنر جنرل بنانے کی تجویز کی حمایت کا اعلان کیا۔چونکہ پاکستان نے اسی سال برطانوی سلطنت سے آزادی حاصل کی تھی اور ڈومینین میں شامل ہونے کی وجہ سے کچھ انتظامات برطانوی سلطنت کے زیر اثر تھے جنہیں آہستہ آہستہ آزاد ہونے والی ریاستوں کے حوالے کر دیا گیا۔پاکستان میں بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کی قرارداد10جولائی 1973ء پاکستان کی قومی اسمبلی میں بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کی قرارداد منظور کی گئی۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد پاکستان میں بنگلہ دیش کے متعلق مختلف قسم کے جذبات پائے جاتے تھے۔ عوامی ردعمل بھی تذبذب کا شکار رہا لیکن بالآخر پاکستان کی قومی اسمبلی میں بنگلہ دیش کو آزاد ملک کی حیثیت سے تسلیم کرنے کی قرارداد پیش کی گئی جسے منظور کر لیا گیا۔بیلفاسٹ قتل عام10جولائی1921ء بیلفاسٹ شمالی آئر لینڈ میں آئرش جنگ آزادی کے دوران ایک پرتشدد دن تھا۔ تاریخ میں اسے بیلفاسٹ کا خونی اتوار کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔اس قتل عام کا آغاز جنگ بندی سے ایک دن قبل کیا گیا، اس قتل عام کی وجہ سے خوف و ہراس پھیل گیا اور آئر لینڈ کے کئی حصوں میں جنگ روک دی گئی۔یہ قتل عام حکومتی حکام کی جانب سے آئرش ریپبلکن آرمی کی جانب سے ایک اہلکار کے قتل کے جواب میں کیا گیا۔ قتل عام میں 20افراد ہلاک جبکہ 100کے قریب زخمی ہوئے۔حکومتی اہلکاروں نے 200گھروں کو تباہ و برباد کردیا جس کی وجہ سے تقریباً ایک ہزار افراد بے گھر ہوئے۔  

یادرفتگاں: مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح

یادرفتگاں: مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح

محترمہ فاطمہ جناح بانی پاکستان محمد علی جناحؒ کی نہ صرف خیال رکھنے والی مشفق بہن تھیں بلکہ وہ جناح صاحب کی سیاسی شریک کار بھی تھیں۔ جناح صاحب کی وفات کے بعد لوگ انہیں اسی قدر منزلت سے دیکھتے تھے جس طرح جناح صاحب کو۔ اسلام کا یہ خطہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی بڑی کاوشوں ‘ لگاتار جد وجہد، سیاسی قوت، آل انڈیا مسلم لیگ کی رہنمائی میں حاصل ہوا اور اس سفر آزادی میں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی خدمات بے شمار اور ان گنت ہیں۔یوں تو اسلامی تاریخ میں جب بھی کڑا وقت آیا، خواتین نے مردوں کے شانہ بشانہ کام کیا لیکن پاکستان کی تاریخ میں بھی خواتین کا کردار ناقابل فراموش ہے۔ تحریک پاکستان کی خونچکاں داستان مرد کی جرأتوں اور عورتوں کی قربانیوں سے لبریز ہے۔ یوں تو آزادی کی لگن سے ہر دل سرشار تھا مگر جو کردار بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کی بہن مادر ملت فاطمہ جناح نے ادا کیا وہ قابل ستائش، قابل تحسین اور قابل تقلید ہے۔قائداعظم ؒ اپنی بہن کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ ''وہ روشنی اور اُمید کی کرن ہیں‘‘۔ وہ مسلم لیگ کی ایک انتھک کارکن تھیں۔ انہوں نے حق کی آواز بلند کی، مخالفتوں نے آپ کا راستہ روکا، مصائب کے پہاڑ ٹوٹے اور ظلم کی آندھیاں آئیں، لیکن اس خاتون آہن کے پائے استقلال کو متزلزل نہ کر سکیں۔ سچائی کا پرچم بلند کیا اور استقامت اور جرأت کے ساتھ پاکستانی عوام کی رہنمائی کیلئے میدان عمل میں کود پڑیں۔ پاکستانیوں کے دلوں میں ان کی عقیدت جس قدر تھی کسی اور خاتون کے حصہ میں نہ آئی۔مادر ملت 31جولائی 1893ء کو اسی تین منزلہ مکان میں پیدا ہوئیں ( کچھ کتب میں 1891ء درج ہے) جہاں قائد اعظم ؒ نے جنم لیا تھا۔ اس گھرانے کے مکینوں میں سے دائمی شہرت قائد اعظم ؒ اور مادر ملت کو ہی نصیب ہوئی تھی۔انہیں سات برس کی عمر میں سکول میں داخل کرا دیا گیا اور غالبا ًیہ پہلی مسلمان لڑکی تھیں جنہیں سکول میں داخلہ مل گیا۔ قائداعظم ؒ کی جرأت مندانہ صلاحیتیں یہیں سے شروع ہو جاتی ہیں۔ 1926ء میں انہوں نے اپنے بھائی کی اجازت سے دندان سازی کی تربیت حاصل کی۔ 1928ء میں دو سال کا میڈیکل کورس مکمل کر کے ممبئی میں مشق شروع کردی۔ انہیں اپنے پیشے سے قلبی لگائو تھا اس لئے وہ اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر بہت جلد قرب و جوار کے علاقہ جات میں بہت مقبول ہوئیں۔ یہ شہرت صرف قائداعظم ؒ کی بہن ہونے کی وجہ سے حاصل نہیں ہوئی بلکہ وہ خود بھی ایک باعمل خاتون تھیں۔ ان کے ذاتی کردار نے ان کی شخصیت میں اجلا پن پیدا کر دیا تھا۔ وہ قائداعظم ؒ کی طرح کام، کام اور بس کام پر یقین رکھتے ہوئے ہمیشہ مصروف رہتیں۔ ان کی پوری زندگی عمل سے عبارت ہے۔ اخبارات کا مطالعہ ان کے روز مرہ معمولات کا حصہ تھا۔ ملکی اور عالمی سیاست پر وہ کڑی نظر رکھتی تھیں۔ مختلف تعلیمی تقریبات میں شرکت کرنا ان کی عادات میں شامل تھا۔ بے کار رہنا انہیں پسند نہیں تھا وہ خود باعمل زندگی اختیار کرنے کی خواہاں تھیں۔1940 ء سے 1947ء تک وہ تحریک پاکستان میں خواتین کے جلسے جلسوں میں پیش پیش ہوتیں۔ خواتین میں آزادی کی روح بیدار کرنے کیلئے ان کا کردار بہت مثالی تھا۔ قیام پاکستان میں محترمہ فاطمہ جناح کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔2جنوری1965ء میں صدارتی انتخابات کیلئے صدر ایوب کے مقابلے کیلئے کسی موزوں شخصیت کی تلاش ہوئی تو مادرِ ملت کے علاوہ پورے ملک میں کوئی دکھائی نہ دیا۔ ان انتخابات میں فاطمہ جناح کو شکست ہوئی لیکن ان کی شخصیت کا اُجلا پن برقرار رہا اور ان کی شکست سے لوگ آزادی کے حقائق سے روشناس ہوئے۔ پاکستان میں برسر اقتدار طبقہ اپوزیشن کے ساتھ جو سلوک کرتا ہے وہی سلوک مادر ملت کے ساتھ کیا گیا۔مادر ملت نے ظلمت کے اس دور میں جو شمع روشن کی۔ اس کی روشنی آج تک پھیل رہی ہے۔ وہ 9جولائی 1967ء کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ہم سے جدا ہوئیں۔ محترمہ فاطمہ جناح کی تدفئن مزار قائد کے احاطے میں کی گئی۔ مادر ملت کی قبر قائد اعظم کے مزار سے ایک سو بیس فْٹ دور بائیں جانب کھودی گئی۔ قبر ساڑھے چھ فٹ لمبی اور تین فٹ چوڑی تھی۔ زمین پتھریلی تھی اس لیے گورکنوں کو قبر کھودنے میں پورے 12 گھنٹے لگے، جبکہ بعض اوقات انہیں بجلی سے چلنے والے اوزاروں سے زمین کھودنی پڑتی۔بیس گورکنوں کی قیادت ساٹھ سالہ عبدالغنی کر رہا تھا، جس نے قائد اعظم، لیاقت علی خان اور سردار عبدالرب نشتر کی قبریں تیار کی تھی۔ مرحومہ کی پہلی نمازِ جنازہ قصرِ فاطمہ میں مولانا ابنِ حسن چارجوئی نے پڑھائی۔ جب ان کی میت قصرِ فاطمہ سے اٹھائی گئی تو لاکھوں آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔ قصرِ فاطمہ کے باہر دور دور تک انسانوں کا سمندر نظر آرہا تھا۔ قائداعظمؒ نے ایک مرتبہ اپنی ہمشیرہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا : ''فاطمہ نے ہمیشہ میری مدد کی اور میرا حوصلہ بڑھایا، جن دنوں اس بات کا خطرہ تھا کہ انگریزی حکومت مجھے گرفتار کر لے گی۔ میری بہن نے میرا حوصلہ بڑھائے رکھا۔ میں جب بھی گھر واپس آتا، میری بہن میرے لئے روشنی اور امید کی کرن بن جاتی۔ میں پریشانیوں کے ہجوم میں گھرا رہتا، میری صحت خراب ہوئی لیکن فاطمہ کے حسن سلوک سے ساری تکلیفیں دور ہو جاتیں‘‘۔مادر ملت نے نوجوانوں کے نام ایک پیغام میں کہا: '' پاکستان کے نوجوانو! تمہاری رگوں کا خون سرد نہ ہونے پائے قدرت نے تمہارے دامن میں اپنی رحمتوں کے خزینے بھر دیئے ہیں۔ ان کو کام میں لانا اور فائدہ اٹھانا تمہارے کام آئے گا، تمہارے ہاتھوں میں بہت جلد مستقبل کی عنان آنے والی ہے۔ اپنا راستہ اپنی منزل اور اپنی ذمہ داریوں کا تمہیں ابھی سے اندازہ کرنا ہوگا اور اس کا انحصار تم پر ہوگا کہ کس قدر تیزی سے تم خود کو ایک مستحکم اور عظیم تر قوم میں تبدیل کر دو گے‘‘۔

کوشش کرنا ہارماننے سے بہتر!

کوشش کرنا ہارماننے سے بہتر!

برٹرینڈر رسل کا ایک بڑا مشہور قول ہے کہ ''کوشش کرنا ہار ماننے سے بہتر ہے۔ دیکھا جائے تو زندگی میں اگر کچھ بھی پانا ہے تو اس کیلئے کوشش کرنا ضروری ہے اور جو لوگ وقت سے پہلے ہار مان جاتے ہیں وہ زندگی میں دوسروں سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ خوشی ایسی چیز نہیں جوکہ قدرتاً انسان کو ملے، ہمیں اسے پانے کیلئے بھی کوشش کرنا پڑتی ہے۔ ہمیں اس پر کام کرنا ہے کہ کیا چیز ہمیں خوش بنائے گی۔ غصہ، فکر اور ڈپریشن ایسے جذبات ہیں جو ہماری کوئی مدد نہیں کرتے۔ یہ ہماری ترقی کے راستے میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں اور ہمیں ناخوش بناتے ہیں۔ مذہبی لوگ کہیں گے کہ سب کچھ خدا پر چھوڑ دیں۔مینجمنٹ کے گرو کہیں گے کہ معاملات آپ کے ہاتھ میں ہیں اور ان پر کام کریں۔ وہ کہتے ہیں اپنی بہترین کوشش کریں،سچے دل سے کوشش کرنے والے کیلئے کچھ بھی ناممکن نہیں اور صحیح توازن ان دونوں انتہائوں کے درمیان ہے۔ میں اس بات کا مشورہ نہیں دے رہی کہ ہمیں مشکلات کے سامنے ہار مان لینی چاہیے اور ان کا مقابلہ نہیں کرنا چاہیے۔ ایسا کرنا فرائض میں کوتاہی ہے اور جو ہمت نہیں ہارتے کامیابی حاصل کر لیتے ہیں۔ کامیابی کا احساس، آپ جانتے ہیں سچی خوشیوں کیلئے کتنا ضروری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں صورتحال کو قبول کرنا چاہیے۔ چاہے یہ کیسے ہی ہو اور ہماری پہنچ سے باہر ہو۔ جہاں تک ممکن ہو بہتری کیلئے کوشش جاری رہنا چاہیے۔ جب ہمیں پتہ چلے کہ کچھ بدلا نہیں جا سکتا تو اسے کھلے دل سے قبول کرلیں اور اپنا سفر جاری رکھیں۔ جب آپ دودھ گرا دیتے ہیں تو یہ ضائع ہو چکا ہوتا ہے، اس پر چلانا اسے واپس نہیں لا سکتا تو ایسا کیوں کریں؟۔ سب سے بہتر یہ ہے کہ اس سے سیکھا جائے تاکہ آئندہ غلطی نہ ہو۔ بس ہمیں اسی کی فکر ہونی چاہیے۔ جب مشکلات آ جائیں جو ہم ٹھیک نہ کر سکیں تو انہیں قبول کرنا ہی عقلمندی ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ گرے ہوئے دودھ پر چلانا وقت اور توانائی کا ضیاع ہے لیکن ہم کتنی دفعہ اس نصیحت پر عمل کرتے ہیں؟ میں جانتی ہوں کہ ایسا کہنا آسان ہے اور عمل کتنا مشکل ہے لیکن یہ سب ضروری ہے اور آپ کو اس کی فکر کرنی چاہیے۔ ہم اس پربحث نہ کرتے اگر یہ آسان نہ ہوتا اور اس کے متعلق بات نہ کرتے اگر اس پر عمل کرنا مشکل ہوتا۔ مقبولیت آپ کے دماغ کو آزاد کر دیتی ہے اور سکون بحال کر دیتی ہے کہ مستقبل میں خوشی اور ترقی کیلئے ضروری ہے۔کسی حقیقت کو تسلیم نہ کرنا اور اس سے انکار کرنا کہ اس کا وجود نہیں ہماری کوئی مدد نہیں کر سکتا۔ جب میری عمر چالیس سے زیادہ ہو گئی تو مجھے پڑھنے لکھنے کیلئے عینک کی ضرورت محسوس ہوئی تو میں کچھ عرصے کیلئے نا خوش تھی۔ میرے لیے اس حقیقت کو ماننا مشکل تھا کہ مستقبل میں مجھے عینک پہننے کی لازماً ضرورت ہوگی۔ میں کچھ عرصے کیلئے مزاحمت کرتی رہی لیکن اس کا کچھ فائدہ نہ تھا۔ یہ میرے کام میں رکائوٹ کی وجہ تھی اور میرا ذہنی سکون بھی خراب ہو رہا تھا۔ کچھ عرصے بعد مجھے اپنی بیوقوفی کا احساس ہوگیا۔ میں اس حقیقت کو تسلیم کر چکی ہوں تو اب میں زیادہ پراعتماد محسوس کرتی ہوں۔ اب میں ہر وقت عینک لگاتی ہوں اور مطمئن ہوں۔ بہت سے لوگ پیدائشی خوش قسمت نہیں ہوتے اور جو ہوتے ہیں وہ اپنی خوشی قسمتی سے بے خبر ہوتے ہیں۔ ہم بہت سی مشکلات کے ذمہ دار نہیں ہوتے۔ ہم سب کو زندہ رہنے کیلئے جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ کچھ لوگ کو صحت کا مسئلہ ہوتا ہے۔ ہمارے خاندان بیشک مثالی نہ ہوں، بچے ذہین نہ ہوں، کام کرنے کی جگہ ہماری پسندیدہ نہ ہو۔ یہ سب چیزیں ہماری زندگی کو خراب کرنے کیلئے کافی ہیں۔ خوشی ایسے ہی نہیں مل جاتی، اسے تلاش کرنا پڑتا ہے، تخلیق کرنا پڑتا ہے۔ پھر جارحانہ طرز عمل اختیار کرکے ہم زندگی کو تباہ کر لیں اور اعصابی طور پر نقصان اٹھائیں۔ یہ ہمارا اپنا انتخاب ہے اور ہم ہی ذمہ دار ہیں۔ قسمت کے آگے ہار ماننا انسان کیلئے مناسب نہیں۔ وہ ساری کوشش چھوڑ دیتا ہے، شکست قبول کرلیتا ہے اور اس کیلئے بہانے تلاش کرتا ہے۔ لیکن وہ اندر سے ناخوش ہوتا ہے اور بچائو کا راستہ ڈھونڈتا ہے۔ ہم امید کی بات کر رہے ہیں۔ جب امید کی وجہ سے شکست قبول کی جاتی ہے آپ کا عمل مختلف ہوتا ہے۔ آپ کسی بھی مشکل سے مقابلہ کرتے ہیں۔ آپ پر امید ہوتے ہیں اور ایک جذبے کے ساتھ کام کرتے ہیں جو آپ نے تجربات سے حاصل کیا ہوتا ہے۔ صرف اسی صورت آپ کو سکون اور خوشی مل سکتی ہے اور زندگی کو ایک نئے معنی ملتے ہیں۔ جیسا بھی ہے قبول کرنا اور قسمت کو قبول کرنا ایک بہتر مستقبل کیلئے آپ کا مقصد ہونا چاہیے۔ یہی آپ کے سکون اور خوشیوں کیلئے ضروری ہے۔ کوشش کرنا ہار ماننے سے کہیں بہت بہتر ہے۔ 

آج کا دن

آج کا دن

کیتھرین اوّل نے اقتدار سنبھالا9جولائی 1762ء کو کیتھرین اوّل، جسے عام طور پر کیتھرین دی گریٹ کے نام سے جانا جاتا ہے نے اقتدار سنبھالا۔ کیتھرین 1762ء سے 1796ء تک روس کی مہارانی رہیں۔ کیتھرین روس کی آخری مہارانی اور سب سے زیادہ طویل حکمرانی کرنے والی خاتون تھیں۔ وہ اپنے شوہر اور پیٹر سوئم کی معزولی کے بعد اقتدار میں آئیں۔ اس کے طویل دور حکومت میں روشن خیالی کے نظریات سے متاثر ہو کر، روس نے ثقافت اور سائنس کی نشاتہ ثانیہ کا تجربہ کیا، بہت سے نئے شہر، یونیورسٹیاں اور تھیٹر قائم کیے گئے، بڑی تعداد میں یورپی تارکین وطن روس چلے گئے اور روس کو یورپ کے بہترین ممالک میں سے ایک تسلیم کیا گیا۔ یورپ کی بڑی طاقتیں روس کو اپنا ہی ایک حصہ مانتی تھیں۔ارجنٹائن کا اعلان آزادی9جولائی1816ء کو کانگریس آف ٹوکو من نے آزادی کا اعلان کیا جسے آج کل ارجنٹائن کی آزادی کہا جاتا ہے۔ درحقیقت، ٹوکومن میں جمع ہونے والے کانگریسیوں نے جنوبی امریکہ کے متحدہ صوبوں کی آزادی کا اعلان کیا، جو ارجنٹائن جمہوریہ کے سرکاری ناموں میں سے ایک ہے۔آزادی کی جنگ میں متحدہ صوبوں کو کانگریس کے کسی بھی پروگرام میں شامل ہونے کی اجازت نہیں تھی ۔ ایک طویل جدوجہد کے بعد کانگریس نے اپنے مقاصد میں کامیابی حاصل کی اور آخر کار ارجنٹائن میں آزادی کا سورج طلوع ہوا۔سویڈن اور روس کی جنگ9جولائی 1790ء کو کوٹکا کے باہر خلیج فن لینڈ میں سویڈش بحری افواج اور روسی بحری بیڑے کے درمیان ایک بہت بڑی بحری جنگ لڑی گئی۔اس جنگ کو جنگ سوینسکسنڈ بھی کہا جاتا ہے۔ اس جنگ میں روس کو پسپائی کا سامنا کرنا پڑا۔سویڈش بحری افواج نے روسی بحری بیڑے کو ایک بتاہ کن شکست سے دوچار کیا ۔روس کو اس شکست سے شدید نقصان پہنچا اور اسی وجہ سے اس جنگ کا خاتمہ بھی ہوا۔یہ جنگ بحیرہ بالٹک میں سویڈن کی سب سے بڑی بحری فتح اور اب تک کی سب سے بڑی بحری جنگ ہے۔میلے کی لڑائیمیلے کی لڑائی ایک معرکہ آرائی تھی جو 9 جولائی 1745ء کو آسٹریا کی جانشینی کی جنگ کے دوران، اتحادیوں اور فرانسیسیوں کے درمیان لڑی گئی۔ مئی میں فونٹینائے میں ان کی شکست کے بعد ڈیوک آف کمبرلینڈ، فلینڈرس میں اتحادی کمانڈر، برسلز کے دفاع کیلئے آسٹریا کے دباؤ میں تھا۔ وہ گینٹ کی کلیدی بندرگاہ کی بھی حفاظت کرنا چاہتا تھا، جو ایک بڑا سپلائی ڈپو تھا جسے فرانسیسیوں کی مغرب میں پیش قدمی سے خطرہ تھا۔ کمبرلینڈ نے برسلز کو بچانے کیلئے اپنے سب سے اہم بریگیڈکو استعمال کرتے ہوئے اتحادیوں کو بھاری نقصان پہنچایا اور انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیابعدازاں گینٹ نے 13 جولائی کو ہتھیار ڈال دیئے۔