سفر آخرت کی منفرد اور حیرت انگیز رسومات

سفر آخرت کی منفرد اور حیرت انگیز رسومات

اسپیشل فیچر

تحریر : خاور نیازی


رسومات کا انسانی زندگی کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ چلا آرہا ہے۔یہ شاید واحد عمل ہے جو انسان کی پیدائش سے شروع ہو کر انسان کی تدفین تک جاری رہتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ انسانی زندگی کی رسومات خواہ خوشی کی ہوں یا غمی کی ہر مذہب، معاشرے اور ملک کی جدا جدا ہوتی ہیں۔
جہاں تک انسانی زندگی کے سفر آخرت کی رسومات کا تعلق ہے دنیا بھر کے مختلف مذاہب میں عمومی طور پر دو طرح سے مردوں کی تدفین کی جاتی ہے۔ اسلام اور الہامی مذہب جن میں مسلمان، یہودی اور عیسائی شامل ہیں مردے کے جسم کو زمین میں دفن کرتے ہیں جبکہ جین، سکھ، ہندو اور بدھ مت کے پیروکار مردے کے جسم کو جلاکر اس کی راکھ کو پانی میں بہاتے ہیں۔ آج آپ کو ایسے مذہب اور عقیدے بارے بتانے جا رہے ہیں جہاں نہ تو مردوں کو جلایا جاتا ہے اور نہ ہی دفنایا جاتا ہے بلکہ اس کی میت کو بلندی پر لٹکا دیا جاتا ہے۔
میت کو لٹکانے کی رسم
فلپائن کے صوبہ ماو?نٹین کے شمالی حصے کے پہاڑوں کے درمیان واقع قدیم شہر سکاڈا میں میت کو لٹکانے کی رسم ہزاروں سالوں سے چلی آ رہی ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس شہر تک پہنچنے کے راستے میں جا بجا آ سیب زدہ علاقے، انوکھی اور پراسرار لٹکتی تصویریں اور عجیب و غریب رسم و رواج ادا کرتے لوگ نظر آئیں گے۔اس شہر کی واحد وجہ شہرت دنیا بھر میں تابوت لٹکانے کی انوکھی اور منفرد رسم ہے۔سکاڈا میں صدیوں سے ''ایگوروٹ‘‘ قبیلے کے لوگ آباد چلے آرہے ہیں۔مورخین کے مطابق یہاں گزشتہ دو ہزار سال سے تابوت لٹکانے کی اس رسم کے شواہدملے ہیں۔
ایگروٹ قبیلے کے لوگ عام طور پر اپنا تابوت اپنی زندگی میں خود ہی تیار کرتے ہیں جنہیں مرنے کے بعد انہیں اس تابوت میں ڈال کر پہاڑ کی چوٹی سے لٹکا دیا جاتا ہے۔ان کا عقیدہ ہے کہ ہوا میں لٹکتی ہوئی لاشیں ان کے آنجہانی آ باو? اجداد کو ان کے قریب لے آتی ہیں اور اس طرح مر کر بھی یہ اپنے پیاروں سے دور نہیں ہوتے۔
تابوت میں رکھنے سے پہلے مردے کو روائتی طور پر ایک کرسی پر بٹھایا جاتا ہے، جسے ''موت کی کرسی‘‘ کہا جاتا ہے، جہاں عزیز واقارب مردے کا آخری دیدار کرتے ہیں۔ جس کے فوری بعد اس مردے کو تابوت میں رکھ کر اس کو انگور کی بیلوں اور پتوں سے ڈھانپ کر اس کے اوپر کمبل یا کوئی موٹی چادر ڈال دی جاتی ہے۔ تابوت کے باہر سر والی طرف مردے کا نام اور مکمل کوئف لکھے جاتے ہیں اس کے بعد تمام عزیز واقارب مل کر اس تابوت کو اٹھا کر بلندی پر لے جا کر لٹکا دیتے ہیں۔یہاں تابوت اٹھانے والے ہر فرد کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ تابوت کو زیادہ سے زیادہ وقت کیلئے اٹھائے کیونکہ تابوت سے رستے انگوروں کے جوس کے قطرے جس شخص کے جسم کو چھوتے ہیں اسے خوش بختی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔تابوت لٹکانے کے کئی روز تک قریبی عزیز واقارب باقاعدگی سے تابوت کے پاس آکر خاموشی سے کھڑے ہو کر تابوت پر نظریں جمائے رکھتے ہیں۔ جو اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ ہم اپنے پیاروں کو بھولتے نہیں۔ تاریخی حوالوں سے اس منفرد رسم میں تابوت کو لٹکانے کے شواہد چین اور انڈونیشیا کے کچھ علاقوں میں بھی ملے ہیں۔
''ٹری برئیل‘‘میت دفنانے
کا انوکھا طریقہ
دنیا بھر میں بڑھتی آبادی کی رہائش کیلئے سر جوڑ کر بیٹھنے والے ماہرین نے کئی کئی منزلہ عمارتیں بنا کر رہائش گاہوں کا حل تو نکا لیا۔ اب ان کے نزدیک یہ سوال تھا کہ زمین کو تو نہیں بڑھایا جا سکتا، جب قبرستان کم پڑنا شروع ہو جائیں گے تو انسان اپنے مردوں کو کہاں دفنائے گا؟۔امریکہ، جاپان اور کچھ دیگر ممالک کی تنظیموں نے اس پر سوچ بچار شروع کی۔1990ء میں سب سے پہلے جاپان کی تنظیم ''گریو فری پروموشن سوسائٹی‘‘ یعنی قبرستان کے بغیر تدفین کا تصور پیش کیا۔جس کے تحت انسان کے جسم کی راکھ کو جسے بھارت میں ''استھیوں‘‘ کہا جاتا ہے کو بکھیرنے کے عمل کی تشہیر کی گئی، جس پر جاپان کے ''شونجو ٹمپل‘‘ نے اگلے ہی سال یعنی 1991ء میں ''ٹری برئیل‘‘ نامی ایک نیا طریقہ متعارف کر ڈالا۔جس کے تحت مرنے والے کے جسم کی راکھ کو زمین میں دفن کر کے اس کے اوپر درخت اگا دیا جاتا ہے۔
شونجو ٹمپل کی انتظامیہ نے آخری رسومات کی ادائیگی کیلئے اس سے کچھ ہی فاصلے پر ''چہوین ٹمپل‘‘ نامی ایک چھوٹا سا ٹمپل بنا ڈالا ہے جو ایک جنگل کے اندر واقع ہے۔ یہاں پر مرنے والوں کی آخری رسومات کی ادائیگی کے علاوہ ان کی راکھ کے اوپر ایک درخت لگا دیا جاتا ہے تاکہ مرنے والوں کے پیارے وقتاً فوقتاًآکر اپنے پیاروں کی آخری یادگاروں کو دیکھ سکیں۔
اس تصور کے تحت اب دنیا بھر کے ممالک اپنے پیاروں کی تدفین کے نئے نئے طریقے اختیار کر رہے ہیں۔مثال کے طور پر سنگاپور میں حکومت خاندانی مقبرے توڑ کر چھوٹی چھوٹی کھولیوں کی طرز پر عمارات کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے جہاں مرنے والوں کی صرف سمادھیوں کو رکھا جا سکتا ہے۔وہاں پر اب پندرہ سال سے زیادہ عرصہ تک قبر رکھنا قانوناً جرم تصور ہوتا ہے۔اس کیلئے قبر کی باقیات کو جلا کر ان کی راکھ کو سمادھیوں میں رکھنے کی تلقین کی جاتی ہے اور قبر کو دوبارہ قابل استعمال بنا لیا جاتا ہے۔
ہانگ کانگ، جہاں کی زمین دنیا بھر میں سب سے مہنگی زمین شمار ہوتی ہے وہاں پاپ سٹار ز اور دیگر نامور شخصیات کے ذریعے میت دفنانے کی بجائے جلانے کے تصور کی تشہیر پر زور دیا جا رہا ہے۔
میت پرندوں کی خوراک
پارسی،زرتشت کے پیروکاروں کو کہتے ہیں۔ان کا دعویٰ ہے کہ ان کے مذہبی رہنما کے پاس اوستا کا وہ قدیم نسخہ موجود ہے جو ان کے پیغمبر زرتشت پر نازل ہوا تھا۔پارسی اپنے مردوں کو نہ تو جلاتے ہیں اور نہ ہی دفناتے ہیں بلکہ یہ اسے ایک کھلی عمارت میں رکھ دیتے ہیں تاکہ اسے گدھ اور دیگر پرندے کھا لیں۔اس خاص عمارت کو یہ لوگ ''دخمہ‘‘، ''مینار خموشاں‘‘ یا ''ٹاور آف سائلنس‘‘کہتے ہیں۔ جہاں ان کا دخمہ نہیں ہوتا وہاں ان کے قبرستان ہوتے ہیں جہاں یہ بہ امر مجبوری میت کو دفن کر دیتے ہیں۔پارسی مذہب کے مطابق زمین، پانی، ہوا، سورج اور آگ انتہائی مقدس عناصر ہیں،اس لئے مردوں کو زمین میں دفن کرنے یا انہیں آگ میں جلانے سے زمین، آگ اور سورج کا تقدس مجروح ہوتا ہے۔ اپنے عقیدے کے مطابق یہ مردوں کو دفنانے یا جلانے کی بجائے ایک کھلے مینار نما گول عمارت میں رکھ دیتے ہیں تاکہ اسے مردار خور پرندے یا گدھ وغیرہ کھا لیں۔
ستی کی رسم
برصغیر میں انگریزوں کے دور سے پہلے ہندوئوں میں یہ رواج تھا کہ کسی شخص کے مرنے کے بعد اس کی بیوی اس کی چتا کے ساتھ ہی جل مرتی تھی۔ اس رسم کو ''ستی‘‘کہتے تھے۔ستی ہونے والی عورت سرخ رنگ کا پوشاک پہنتی اور باقاعدہ دلہن کی طرح سنگھار کرتی اور چتا کے مقام کی طرف چل پڑتی اور اپنے شوہر کی لاش کے ساتھ لکڑیوں پر بیٹھ جاتی تھی۔اس کے اقربا لاش اور عورت کے گرد لکڑیاں چن کر اس کے اوپر روئی اور تیل اوپر ڈال دیتے تاکہ تیز آگ میں یہ جلد بھسم ہو جائے۔ تاہم انڈیا پر برطانیہ کی حکمرانی کے دور کے پہلے گورنر جنرل لارڈ ولیم بینٹنک نے دسمبر 1829ء میں ہندوئوں کی اس قدیم رسم پر پابندی عائد کر دی تھی۔
عقیدوں سے بغاوت
2016ء میں دو مقبول ترین سیاسی شخصیات کے انتقال کے بعد ان کی آخری رسومات، اپنے اپنے ملک کے مروجہ رسم و رواج کے عین خلاف ادا کی گئیں۔ کیوبا کے سابق رہنما فیدل کاسترو کے بارے مورخین کہتے ہیں کہ ان کی پرورش رومن کیتھولک لڑکے کے طور پر ہوئی تھی، تاہم آگے چل کر اس نے اس طرز زندگی کو ترک کر دیا تھا۔ایک موقع پر اس نے کہا تھا ''میں کبھی عقیدے کا قائل نہیں ہوں۔اسے اکثر مورخین ملحد کہتے ہیں تاہم۔ ایک موقع پر اس نے کہا تھا ''میں اپنے ملک کو ملحد کی بجائے سیکولر بنانا پسند کرتا ہوں‘‘۔ نومبر 2016ء میں انتقال کے بعد کاسترو کی آخری رسومات کیوبا کے شہر سانتیاگو میں ملکی روایات کے برعکس، ان کی وصیت کے مطابق ان کے جسم کی راکھ کو ایک قبر میں رکھ کر ادا کی گئیں۔
2016ء ہی میں بھارتی ریاست تامل ناڈو کی سابق وزیر اعلیٰ جے للیتا کے جسد خاکی کو عقیدے کے مطابق جلانے کی بجائے قبر میں دفن کیا گیا تھا۔ ذہن میں رہے کہ جے للیتا کو شخصیت پرستی کا آئیکون کہا جا سکتا ہے کیونکہ ریاست اور ملک کے دیگر علاقوں میں کسی دیوی کی مانند ان سے عقیدت رکھی جاتی تھی۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
ساون:بھیگے موسم سے جڑی روایات معدوم ہو چکیں،شاعری کا بھی موضوع رہا

ساون:بھیگے موسم سے جڑی روایات معدوم ہو چکیں،شاعری کا بھی موضوع رہا

تپتی گرمی اور دھوپ کی تمازت کے ساتھ جب موسم گرما اپنے عروج کو پہنچتا ہے توہر کوئی گرمی کی شدت کے باعث بے حال ہوچکا ہوتا ہے مگر جونہی موسم گرم اپنی آخری سانسیں لے رہاہوتاہے اور جیٹھ ہاڑ کے سخت مہینوں کے بعدساون کا مہینہ اپنی آمد کا اعلان کرتا ہے تو ہرکسی کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ ساون کی پہلی جھڑی سے خشک اور بے جان مٹی بھی اپنی بھینی بھینی خوشبو سے ساون کی آمد کا اعلان کرتی ہے۔ جس سے ایک خوشگوار تبدیلی کا احساس ہوتا ہے اور ادھ موئے جسم میں ایک عجیب سی خوشی انگڑائیاں لینا شروع کر دیتی ہے۔ساون کی رم جھم اور ساون کی جھڑی مرجھائے پودوں کو ہی نہیںبلکہ بے جان جسموں میں بھی توانائی پیدا کردیتی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ساون کے مہینے پر سب سے زیادہ گیت لکھے گئے ہوں گے۔اس موسم میں شاعری میں دو بچھڑنے والوں کو سب سے زیادہ موضوع بنایا گیا ہے۔ اس موسم کی وجہ سے جسم کے اندر آنے والے خوشگوار تبدیلی مخالف جنس کی کشش کو زیادہ محسوس کرتی ہے۔ اس مہینے کی مناسبت سے کی جانے والی شاعری کو دیکھا جائے تو جدائی اور اپنے پیا سے دوری کا ذکر زیادہ ملتا ہے۔ اس کے بارے میں روایت ہے کہ گزرے وقتوں میں ہندوستان کی تقسیم سے پہلے جب ساون کا مہینہ شروع ہوتا تھا تو یہاں کے مقامی لوگ اپنی بہوئوں کو ان کے میکے بھجوا دیتے تھے کیونکہ ساون میں ہونے والی بارشوں کے بعد اکثر علاقوں میں سیلاب آجاتے تھے جس کی وجہ سے لوگوں کو نقل مکانی کرنا پڑتی تھی اس لئے وہ بہوئوں کو میکے بھجوا دیتے تھے کہ سیلاب کے باعث محفوظ رہ سکیں۔ اسی لئے ساون کے گیتوں میں اکثر لڑکیاں اپنے پیا کو یاد کرتی ہیں اور ساون کے مہینے کے دلکش موسم میں جدائی شدت اختیار کر جاتی ہے۔ شاید اسی لئے اس خطے کے شاعروں نے اس روایت کی مناسبت سے زیادہ شعر لکھے ہیں۔ساون کے موسم کی آمد کے ساتھ ہر کسی کے چہرے پر خوشی دیکھنے کو ملتی تھی۔ موسم کے ساتھ ساتھ مزاج بھی خوشگوار ہوجاتے تھے۔ لوگ ایک دوسرے کو طرح طرح کے پکون پکا کر بھجواتے تھے۔ ساون کی رم جھم میں پکوڑے بنانے کی روایت بہت زیادہ تھی جو وقت کے ساتھ معدوم ہوچکی ہے۔ ساون میں رم جھم شروع ہوتے ہی گھروں میں آٹے میں چینی یا شکر ملا کر پانی میں گھول لیا جاتا ہے اور پھر اس کو توے پر گھی میں پکایا جاتا اور پیپل کے پتے کے ساتھ اس کو اس آمیزے کو توے پر پھیلادیا جاتا۔ یہ پکوڑے نمکین بھی تیار کئے جاتے تھے اور چائے کے ساتھ سارے گھر والے برآمدے میں بیٹھ کر ساون کی رم جھم کو انجوائے کرتے۔ یہ روایت اس وقت معدوم ہوتے ہوتے بالکل ہی ختم ہوچکی ہے کہ نئی نسل کو اس کے بارے میں بالکل بھی علم نہیں ہے۔ اس کے علاوہ اس موسم میں پکوڑے اور سموسے بھی بڑے شوق سے کھائے تھے تھے۔ خواتین ساون کے موسم کی آمد کے ساتھ ہی اپنے دوپٹوں کو رنگ کر سوکھانے کیلئے ڈالتیں تو بچے ان کے نیچے بیٹھ کر ہلکی ہلکی ٹھنڈک کو انجوائے کرتے۔ ساون میں بچوں کا یہ پسندیدہ کھیل ہوتا تھا یا پھر موسلادھار بارش میں بچے گلیوں میں ''کالیاں اٹاں کالے روڑ مینہہ وسا دے زورازور‘‘(یعنی کالی اینٹیں اور کالے پتھر بارش برسے تیز تیز) کے نعرے لگاتے گھومتے اور خوب موسم کو انجوائے کرتے۔ ساون کے موسم میں موسم کی دلکشی کو ہر ایک کو بھاتی تھی اور خاص کر جب بارش کے بعد افق پر خوبصورت رنگ سمیٹے قوس قزح نمو دار ہوتی تھی تو سماں کو چار چاند لگ جاتے۔ دیکھنے والے ایک خوشگوار تاثر کے ساتھ اس کا نظارہ کرتے اور جب چھوٹے اس کے بارے میں پوچھتے تو ان کو بتایا جاتا ہے کہ یہ پریوں کا جھولا ہے اور اس وقت وہ اس خوشگوار موسم میں بارش کے ساتھ جھولا جھول رہی ہیں گو کہ یہ صرف ایک تصوراتی کہانی تھی مگر اپنے اندر دلکشی سمیٹے ہوئے ہوتی اور بچے خیالوں ہی خیالوں میں قوس قزح میں پریوں کو جھولا جولتے محسوس کرتے۔موسموں کے حوالے پرانی روایات اپنے اندر بہت کچھ سمیٹے ہوئے ہیں ان روایات کی دلکشی اور چاشنی انسان کو اندر ہی اندر چاہت اور اپنایت کا درس دے رہی ہوتی تھیں۔ آج کل کے جدید اور ٹیکنالوجی سے بھرپور دور نے ہماری آنے والی نسلوں سے اس سے بہت دور کردیا ہے اسی لئے وہ ان روایات کو نہ سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی ان کی اندر رچی بسی ہوئی اپنایت اور چاہت کو محسوس کرسکتے ہیں۔ اس میں قصور آنے والے نسل کا نہیں ہے بلکہ اس میں زیادہ تر ذمہ داری ہم پر ہے۔ ہم نے ان کو ان روایات سے دور کردیا ہے کیونکہ ہم نے سٹیٹس کے چکر میں اپنی آنے والی نسل کو مغرب زدہ کردیا ہے اور ان کواپنی ثقافت اور روایات سے اتنا دور کردیا ہے کہ ان سب چیزوں کو فضولیات سمجھتے ہیں اورمغربی غیر سنجیدہ اور غیر مہذب معاشرے کی روایات کو اپنا کرفخر محسوس کرتے ہیں۔ 

سیمبر کی لڑائی:فتح کے باوجود جرمن افواج کومطلوبہ اہداف حاصل نہ ہو سکے

سیمبر کی لڑائی:فتح کے باوجود جرمن افواج کومطلوبہ اہداف حاصل نہ ہو سکے

''سیمبر کی لڑائی‘‘ پہلی جنگ عظیم کے دوران لڑی گئی ایک لڑائیہے۔جنرل جوفر کے 15 اگست کے احکام کی تعمیل میں فرانس کی پانچویں آرمی دریائے میوز اور سیمبر کے درمیانی زاویئے میں 20 اگست کو گشت کر رہی تھی۔ جنرل چارلس کو اپنے اصل مشن کو سمجھنے میں غلط فہمی ہوئی۔ اسے ہدایت دی گئی تھی کہ اسے جرمن افواج کی پیش قدمی کے مطابق جواباً شمال میں سیمبر اور مشرق میں میوزکی طرف جرمنی کی بڑھنے والی افواج پر حملہ کرنا ہے۔ لیکن 21 اگست کی دوپہر تک جنرل چارلس جرمن افواج کی پوزیشن اور جگہ کا تعین کرنے میں ناکام رہا اور کوئی حرکت نہ کرسکا۔ اس نے جوفر سے احکام طلب کئے تو اس نے جواب دیا کہ حملہ کرنے کیلئے مناسب موقع کا تعین کرنے کی ذمہ داری جنرل چارلس کی ہے۔جنرل کرلوان بولو کی قیادت میں جرمنی کی دوسری آرمی اپنی پیش قدمی کے دوران میوٹر اورسیمبر کے درمیانی زاویئے کی طرف بڑھ رہی تھی جہاں جنرل چارلس کی قیادت میں فرانس کی پانچویں آرمی مورچہ بند تھی۔ اسی دن دوپہر کو جنرل کارل وان بولو کی قیادت میں دوسری آرمی دریائے سیمبر تک پہنچ گئی جہاں پانچویں آرمی کے فرانسیسی دستوں سے مقابلہ شروع ہوا۔ رات بھر خونریز لڑائی جاری رہی۔ آخر جرمن افواج دریائے سیمبر کے جنوب میں اپنے پائوں جمانے میں کامیاب ہوگئے۔ اب انہیں جنرل ہارون میکس وان ہوسین کی قیادت میں آنے والی تیسری آرمی کا انتظار تھا۔ دوسری طرف فرانس کی پانچویں آرمی کے افسران نے اگلے روز جرمن افواج پر جوابی حملہ کرنے کی تجویز دی جسے جنرل چارلس نے بغیر کوئی تبصرہ کئے سنا۔23 اگست کو فرانس کی پانچویں آرمی کے حملوں کو جرمنی کی دوسری آرمی نے بڑی کامیابی سے پسپا کردیا اور اس دوران کافی جان ومالی نقصان بھی پہنچایا۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے جنرل کارل وان بولو نے محسوس کیا کہ وہ اکیلے دشمن کی افواج کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اسے جنرل ہوسین کی تیسری آرمی کی کمک کی ضرورت نہیں تو اس نے شام ہونے تک فرانس کی افواج پر شدید حملے کر کے انہیں جنوب کی طرف کئی کلومیٹر تک پسپاہونے پر مجبور کردیا۔جنرل چارلس نے پلٹ کر جرمن دوسری آرمی پر شمال کی جانب سے حملہ کرنے کیلئے میوز کے پلوں کی حفاظت پر مامور کورکو شمال کی طرف بڑھنے کا حکم دیا اور ان کی جگہ محفوظ فوج کو پلوں کی حفاظت ذمہ داری سونپ دی۔ جیسے ہی پہلی کور نے جرمن افواج پر حملہ کا موقع پایا اسی وقت کمانڈر جنرل لوئس سریجنٹ ڈی ایسپیرے کو اطلاع ملی کہ جرمن تیسری آرمی دریائے میوز پر موجود محفوظ دستوں کو پسا کر کے جنوب کی طرف فرانس کی پانچویں آرمی کے عقب میں پہنچنے والی ہے تو جنرل فرینچٹ نے بغیر احکامات کا انتظار کئے بغیر اپنے دستوں کو تیزی سے واپسی کا حکم دیا اور بروقت دریائے میوز پر پہنچ کر جرمن تیسری آرمی کے ہراوّل دستے کو پیچھے دھکیل کر حالات کو وقتی طور پر بگڑنے سے بچا لیا۔اسی روز فوج نے تیمور سے شہر چھوڑ کر فرانس کی پانچویں آرمی کے عقب میں پناہ لی۔ اسی دوران جنرل چارلس نے اپنی آرمی کی مخدوش صورتحال کے پیش نظر دست برداری کیلئے جنرل جوفر کو استدعا کی جس نے فوراً ہی منظوری دے دی۔ دوسری طرف جرمنی کی تیسری فوج نے جنوب کی جانب سے میوز اور سیمبر کے درمیانی زاویئے میں متوقع فرانس کی پانچویں آرمی پر حملے کیلئے پیش قدمی کی انہیں وہاں فرانس کی فوج نہ ملی۔اس لڑائی کو بعض اوقات چارلیروئی کی لڑائی بھی کہتے ہیں اس جنگ میں جرمن میں افواج کو دیگر محاذوں کی طرح فتح حاصل ہوئی تاہم فرانس کی پانچویں آرمی بالکل تباہی کا شکار نہ ہوسکی اگرچہ اسے بھاری جان و مالی نقصان اٹھانا پڑے۔جرمنی کی فتح کے باوجودمتوقع نتائج حاصل نہ ہونے کی وجہ سے منصوبے کی ایک بہت بڑی غلطی تھی جس کے مطابق جرمنی کی پہلی آرمی کو دوسری آرمی کے ماتحت رکھا گیا تھا۔ جنرل بولو پروشیا کے ایک اعلیٰ خاندان سے تعلق رکھتا تھا اور اس لئے اس کو جرمن اعلیٰ حکام کی پشت پناہی حاصل تھی۔جرل بولوپورے محاذ جنگ پر نظر رکھنے کی بجائے صرف اپنی آرمی کی کامیابی کیلئے پہلی اور تیسری آرمی کو طلب کرتا رہا حالانکہ تیسری آرمی اس کے ماتحت نہ تھی۔ پھر بھی اس کے اثر و رسوخ کے باعث پہلی اور تیسری آرمی اپنے محاذوںسے ہٹ کر دوسری آرمی کے طلب کرنے پر اس کی حفاظت کرنے پر مامور ہو جاتی تھیں۔ اس وجہ سے جرمن افواج کو فرانس کی پانچویں آرمی کی شکست کے باوجود بھی خاطر خواہ نتائج حاصل نہ ہوسکے۔

آج کا دن

آج کا دن

خلائی جہاز کا پلوٹو کے گرد پہلا چکر2015ء میں آج کے روز ناسا کے بھیجے ہوئے خلائی جہاز ''نیو ہورائزنز‘‘ نے پلوٹو کے گرد اپنا پہلا چکر لگر کر نظام شمسی کا ابتدائی سروے مکمل کیا۔ خلائی جہاز کو 2006ء میں پلوٹو کا فلائی بائی مطالعہ کرنے کے بنیادی مشن کے ساتھ لانچ کیا گیا تھا۔''نیو ہورائزنز‘‘ ناسا کے نیو فرنٹیئرز پروگرام کے ایک حصے کے طور پر شروع کی گئی ایک سیاروں کی خلائی تحقیقات ہے۔ ''ڈائنا مائٹ‘‘ کا پہلی بار مظاہرہ14جولائی 1867ء کو الفریڈ نوبل نے ''ڈائنا مائٹ‘‘ کا پہلی بار مظاہرہ کیا۔الفریڈ نوبل سویڈن کا کیمیادان، انجینئر، فوجی جنگی ساز و سامان تیار اور ڈیزائن کرنے والا اور ڈائنا مائیٹ کا موجد تھا۔ اس نے ''بوفوس‘‘ سٹیل مل کو خرید کر اسے سویڈن کی فوجی جنگی سامان تیار کرنے والی ایک بڑی فیکٹری میں تبدیل کر دیا۔ اپنی وصیت میں اس نے اپنی بے شمار دولت کا ایک بڑا حصہ نوبیل انعام دینے کیلئے وقف کر دیا۔ عراقی فوجی بغاوت''14 جولائی کا انقلاب‘‘ جسے 1958ء کی عراقی فوجی بغاوت کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ایک بغاوت تھی جو 14 جولائی 1958ء کو عراق میں ہوئی تھی۔ جس کے نتیجے میں شاہ فیصل دوم کا تختہ الٹ دیا گیا تھا۔ اس کے نتیجے میں قائم ہونے والی عراقی جمہوریہ نے عراق اور اردن کے درمیان ہاشمی عرب فیڈریشن کو ختم کردیا جو صرف چھ ماہ قبل قائم ہوئی تھی۔ اس انقلاب کی قیادت عبد الکریم قاسم نے کی جو ملک کے نئے رہنما بن گئے تھے۔فرانس حادثہ14جولائی 2016ء کو فرانس کے شہر نیس میں بیسٹائل ڈے (Bastille Day) منانے والے لوگوں کے ہجوم پر 19 ٹن وزنی کارگو ٹرک چڑھا دیا گیا۔ جس کے نتیجے میں 86 افراد ہلاک اور 434 زخمی ہوئے۔ ٹرک ڈرائیور تیونس کا باشندہ تھا جو فرانس میں مقیم تھا۔ حملہ فائرنگ کے تبادلے کے بعد ختم ہوا، جس کے دوران اسے پولیس نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔اسلامک اسٹیٹ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ۔

تاریخ کے ہولناک قحط

تاریخ کے ہولناک قحط

کسی بھی ملک یا خطے میں غذائی قلت ، جس میں کسی بھی جاندار کیلئے خوردنی اشیا ناپید ہو جائیں، اس کیفیت کو قحط سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ہر خطے میں اس کی وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں مثلاً وبائی امراض ، خشک سالی ، یا کچھ دیگر ناگہانی آفات وغیرہ۔قحط کی عمومی طور پر دو اقسام ہوتی ہیں۔ ایک قدرتی ،جس میں قدرت کی طرف سے بروقت بارشوں کا نہ ہونا یا قدرتی آفات کے سبب اجناس کا ضائع ہو جانا۔ دوسری قسم مصنوعی قحط ہوتا ہے جو سرمایہ داروں کی طرف سے اشیائے خور ونوش یا اجناس کی قیمتوں کو بڑھانے کیلئے پیدا کیا جاتا ہے۔ معروف امریکی تاریخ دان میتھیو وائٹ نے قحط بارے بہت خوبصورت الفاظ میں ''دریا کو کوزے‘‘ میں بند کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب '' دی گریٹ بک آف ہاریبل تھنگز‘‘ میں ایک سو بدترین سفاکیوں کا جائزہ پیش کیا ہے جن کے دوران سب سے زیادہ انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ اس کتاب میں چوتھی بد ترین سفاکی، برطانوی دور میں ہندوستان میں آنے والے قحط کا تذکرہ ہے جس میں بقول میتھیو '' دو کروڑ 66لاکھ انسانی جانیں ضائع ہوئی تھیں ‘‘۔آگے ایک جگہ میتھیو وائٹ لکھتے ہیں ''امیر ترین لوگوں کو قحط سے فائدہ ہوتا ہے۔قحط عالمی معیشت کی جڑ ہے۔بھوکے لوگ زیادہ کام کرتے ہیں خاص طور پر وہاں جہاں ہاتھ سے کام ہوتا ہے۔دنیا میں اگر بھوکے نہ ہوں تو کھیتوں میں ہل کون چلائے گا؟۔ ٹوائلٹ کون صاف کرے گا؟ ہم میں سے بہت سارے لوگوں کیلئے بھوک کوئی مسئلہ نہیں ہے بلکہ دولت حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ قحط کے سرمایہ دارانہ نظام سے تعلق پر روشنی ڈالتے ہوئے میتھیو نے اپنی اسی کتاب میں ان الفاظ میں اظہار کیا ہے ''سرمایہ دارانہ معیشت کا ایک ہدف یہ بھی ہوتا تھا کہ قیمتوں کو بلند ترین سطح پر رکھنے کیلئے پیداوار کو تباہ کر دو۔ اسی وجہ سے اگست 1933 میں انگلستان اور سپین کے درمیان 15 لاکھ نارنگیاں بے دردی سے سمندر میں پھینک کر ضائع کر دی گئیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ ایک مرتبہ آئر لینڈ کی گایوں کا بڑی مقدار میں دودھ جو گلاسکو پہنچ چکا تھا دریائے کلائیڈ میں بہا دیا گیا۔یہ شرمناک واقعہ تو تاریخ کی کتابوں میں برسوں یاد رہے گا جب برازیل میں 1931ء سے 1936ء کے دوران کافی کے تقریباً 4کروڑ بیگ جلا دئیے گئے،جو ایک اندازے کے مطابق کل دنیا کی کافی کی ڈیڑھ سال کی ضرورت کے برابر تھی‘‘۔اب دنیا میں قحط کے پیش آئے چند بڑے واقعات کا ذکر کرتے ہیں۔ہندوستان کا قحط 1630ء سے 1632ء کے دوران گجرات (ہندوستان)میں آنے والے ایک ہولناک قحط بارے معروف یورپی مورخ پیٹر منڈی کہتا ہے ''گجرات کا قحط 1630ء میں خشک سالی سے شروع ہوا۔اگلے سال فصلوں پر چوہوں اور ٹڈی دل کے حملے اور پھر بہت زیادہ غیر متوقع بارشیں۔قحط اور پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے اموات کا ختم نہ ہونے والا سلسلہ ایسا شروع ہوا جو 1631ء تک تیس لاکھ افراد کی جان لے چکا تھا۔ لوگوں نے دیوانہ وار کم متاثرہ علاقوں کا رخ کرنا شروع کردیا نتیجتاً بہت سارے لوگ راستے میں ہی دم توڑتے گئے ،یہاں تک کہ سڑکیں لاشوں سے بند ہو گئیں۔ مورخ کارنیلئس ویلیرڈ ، ہندوستان کے قحطوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتا ہے '' ہندوستان میں دو ہزار سالوں میں17 دفعہ قحط پڑا، ایسٹ انڈیا کمپنی کے 120سالہ دور میں 34 دفعہ ملک کو قحط سے گزرنا پڑا۔مغلیہ دور میں قحط کے زمانے میں لگان (ٹیکس ) کم کر دیا جاتا تھا مگر ایسٹ انڈیا کمپنی کے دور میں 1770ء اور 1771ء میں قحط کے دوران لگان بڑھا کر 60 فیصد کر دیا گیا تھا۔ہندوستان کے1876ء کے قحط کے دوران بھی انگریز ہندوستان سے غلہ برآمد کرتے رہے۔اس قحط میں 70 لاکھ ہلاکتیں ہوئیں۔ 1943ء کے بنگال کے قحط بارے یورپی مورخ وارن ہیسٹنگز کے بقول ، اس قحط میں لگ بھگ ایک کروڑ افراد بھوک سے مر گئے تھے جو کل آبادی کا ایک تہائی تھا۔لوگ روٹی کی خاطر بچے بیچنے لگ گئے تھے۔یوکرین کا قحط یوکرین اپنے دور میں دولت سے مالا مال خطہ اور سوویت یونین کا سب سے زرخیز علاقہ ہوا کرتا تھا۔ دولت اور وسائل کے اعتبار سے یہ روس کے بعد سب سے وسائل رکھنے والا اور معاشی طور پر مستحکم خطہ تھا۔1928ء میں وہاں کے کسانوں نے اسٹالن کی پالیسیوں کے خلاف بغاوت کی تو اسٹالن نے 1932ء اور 1933ء کے دوران وہاں بدترین قحط پیدا کردیا۔ جسے تاریخ میں ''ہالو ڈرمر ‘‘ (Holodomor )کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ مورخین کے مطابق ان دو سالوں میں یوکرین میں قحط سے 70 لاکھ افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔چین کا عظیم ترین قحطچین میں گزشتہ صدی کے چھٹے عشرے کے دوران ملک میں مسلسل خشک سالی پر حکمرانوں کو احساس ہوا کہ اس کا سبب پرندے ، کیڑے مکوڑے اور کچھ دیگر جانور ہیں۔1958ء میں چینی انقلابی رہنما موزے تنگ نے ملک میں ہنگامی بنیادوں پر پرندوں اور کیڑے مکوڑوں کے ساتھ چار سالہ ایک جنگ کا آغاز کیا ، جس کا نام ''چار حشرات خاتمہ مہم‘‘(Four Pests compaign)رکھا گیا۔بنیادی طور پر اس مہم کا مقصد مچھروں، مکھیوں، چوہوں اورچڑیا کی پائی جانے والی عام نسل کو صفحہ ہستی سے مٹانا تھا۔ رفتہ رفتہ یہ '' چڑیا مار مہم‘‘ کے نام سے جانی جانے لگی۔ یہ مہم 1962ء تک جاری رہی۔ چینی حکام کا خیال تھا کہ کچھ حشرات الارض ،بالخصوص چڑیاں ، چاول ، گندم اور دیگر فصلات کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ ملک قحط کی طرف تیزی سے جارہا ہے۔ماوزے تنگ کے اعلان کے بعد لوگوں نے اس مہم کے دوران ان جانداروں کا ہر جگہ تعاقب کیا۔مورخین کے مطابق دنیا حیران تھی کہ چڑیا جیسے معصوم پرندے کی ہلاکت کا کیا جواز ہے ؟۔لوگوں نے چڑیا کا کسی خطرناک مجرم کی طرح تقریباً ہر جگہ تعاقب کیا یہاں تک کہ لوگوں نے چڑیا کے گھونسلے تباہ کر ڈالے، ان کے بچوں کو مار دیا، انڈے توڑ ڈالے اور جہاں بھی چڑیا یا اس کے بچے نظر آتے لوگ ٹین کے ڈبے بجا کر اسے ڈرا کر بھگا دیتے۔ رفتہ رفتہ چین میں چڑیا کی نسل تقریباً ختم ہو گئی۔ماہرین ماحولیات کہتے ہیں، چین میں چڑیا کی نسل کے خاتمے کے ساتھ ہی حشرات الارض کی تعداد میں اضافہ ہونا شروع ہوا کیونکہ حشرات الارض کو سب سے زیادہ کھانے والا پرندہ، یعنی چڑیا کا خاتمہ ہو چکا تھا اور فصلوں کو نقصان پہنچانے والی حشرات بے قابو ہو چکی تھی۔جس کے باعث فصلوں کو ناقابل بیان نقصان پہنچنا شروع ہوا۔چاول کی فصل تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ، جبکہ دوسری فصلوں کا بھی یہی حال ہوتا چلا گیا۔جس سے ملک میں رفتہ رفتہ قحط نے پنجے گاڑھنا شروع کر دئیے۔چینی حکام کو اپنی ناعاقبت اندیشی کا احساس ہوا تو اسے ملک بھر میں اعلان کرنا پڑا کہ فوری طور پر ''چڑیا مار مہم‘‘ کو روک دیا جائے ، لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ ایک طرف چڑیوں کی نسل کا خاتمہ ہو گیا تو دوسری طرف قحط نے دو کروڑ افراد کو موت کے منہ میں پہنچا دیا۔ اس ''چڑیا مارمہم‘‘ کو چین کی بدترین آفات میں شمار کیا جاتا ہے۔مورخین اسے عذاب الہٰی سے تعبیر کرتے ہیں۔  

روبرٹ بوائل

روبرٹ بوائل

ایک ممتاز سائنس دان جس نے اپنے نظریات کو تجربات کی مدد سے صحیح کر دکھایا۔ اس نے ثابت کیا کہ ہوا میں وزن ہے اور یہ کہ ہوا نیز دوسری گیسیں دبائی جا سکتی ہیں۔ اس نے دبائو اور گیسوں کے حجم کے درمیان ایک تعلق معلوم کیا جو ''بوائلز لا‘‘ کہلاتا ہے۔1630ء کی بات ہے جب جرمنی کے ایک موجد گورک نے اپنے گھر میں ایک ایسا لفٹ پمپ لگایا جو بالائی منزلوں تک پانی پہنچا سکتا تھا۔ اس کی مدد سے تیسری منزل تک تو پانی آسانی سے چڑھ جاتا تھا لیکن چوتھی پر نہیں جاتا تھا کیونکہ اس کی بلندی 36 فٹ تھی یعنی ان پمپوں کی 34فٹ والی حد سے دو فٹ زیادہ جو ہوائی دبائو کی مدد سے کام کرتے ہیں۔سائنس کا ایک قانون یہ ہے کہ پانی ہوائی دبائو کی مدد سے 34فٹ کی بلندی تک چڑھ سکتا ہے لیکن یہ بات سترھویں صدی میں لوگوں کی سمجھ میں اتنی اچھی طرح نہیں آئی تھی جیسی اب ہمیں معلوم ہے۔ اس سلسلے میں تحقیقات ہوتی رہیں اور گورک پہلا ویکوم یا خلائی پمپ ایجاد کرنے میں کامیاب ہو گیا جس نے تجرباتی سائنس میں ایک نئے باب کا افتتاح کیا۔اس پمپ کی مدد سے گورک نے کانسی کے دو نصف کروں کی اندرونی ہوا کھینچ لی اور انہیں آپس میں جوڑ دیا۔ ان دونوں نصف کروں کو علیحدہ کرنے کیلئے آٹھ گھوڑے جوت دیئے گئے لیکن وہ جدا نہ کئے جا سکے۔ لوگ یہ تجربہ دیکھ کر متحیر رہ گئے کیونکہ وہ ہوائی دبائو کی زبردست قوت کو اچھی طرح نہیں جانتے تھے۔ اب ہمارے لئے یہ بات سمجھنا مطلق دشوار نہیں کہ جب ایسے دو نصف کروں کی اندرونی ہوا خارج کردی جاتی ہے تو وہ سختی سے کیوں جڑ جاتے ہیں۔اب پمپ اور اس تجربے کا ذکر ایک کتاب میں درج کیا گیا لیکن اس زمانے میں کتابوں کی اشاعت محدود تھی۔ اتفاق کی بات کہ وہ کتاب ایک ایسے شخص کے ہاتھوں میں پہنچ گئی جس نے بعد میں دنیائے سائنس میں نام پیدا کیا اور اس کے تجربات سے ایک بڑی حد تک مستفید ہوا۔ اس شخص کا نام تھا ''روبوٹ بوائل‘‘ اسے اس قسم کے تجربات میں بڑی دلچسپی پیدا ہوئی اور اس نے اپنے ایک دوست کی مدد سے اس سے بھی بہتر پمپ تیار کیا۔ اسی سلسلے میں بوائل نے ہوا پر مزید تجربات کئے اور وہ شہرہ آفاق کلیہ دریافت کیا جو بوائلز لا کی حیثیت سے ابھی تک مشہور چلا آتاہے اور جس نے علم طبیعیات میں سنگ میل کا درجہ حاصل کیا۔بوائل نے دنیا کو بتایا کہ گیسوں میں وہ صفت موجود ہے جو مائع میں نہیں یعنی انہیں کسی بھی حد تک دبایا جا سکتا ہے۔ ان پر جتنا زیادہ دبائو ڈالا جائے گا ان کا حجم اتنا ہی کم ہوتا چلا جائے گا اور دبائو جتنا کم ہوگا حجم اتنا ہی زیادہ ہو جائے گا، مثال کے طور پر یہ کہا جا سکتا ہے، کہ اگر کسی گیس کا دبائو دوگنا کردیا جائے تو اس کا حجم نصف رہ جائے گا۔ بوائل نے اس کلیہ کا اعلان 1662ء میں کیا اور اس نے ''بوائلز لا‘‘ کا نام پایا۔ انجنوں، ریفریجریٹروں اور ہوا نیز گیسوں کی مدد سے چلنے والی مشینوں میں اس کلیے کی بڑی اہمیت ہے۔روبرٹ بوائل25 جنوری 1638ء کو انگلستان کے ایک ممتاز شخص ''ارل آف کورک‘‘ کے گھر میں پیدا ہوا۔ وہ اپنے والدین کا چودھواں بچہ تھا۔ یہ انگلستان کے مایہ نازشاعر ملٹن اور مشہور سائنس دان اسحاق نیوٹن کا زمانہ تھا۔ اب لوگ علم سائنس میں کچھ دلچسپی لینے لگے تھے اور سائنس دانوں کی حوصلہ افزائی کرتے تھے کئی سائنسی سوسائٹیاں بھی وجود میں آ چکی تھیں اور کچھ سائنسی رسالے بھی شائع ہونے لگے تھے۔ بوائل اس قسم کے مشاغل میں حصہ لیتا تھا۔ اسے شروع ہی سے سائنس سے دلچسپی تھی۔روبرٹ بوائل کے والد 1644ء میں انتقال کر گئے اور انہوں نے اس کیلئے آئرلینڈ اور جنوبی انگلستان میں کافی جائیداد اور لندن میں ایک گھر چھوڑا۔ اس وقت بوائل کی عمر صرف سترہ سال کی تھی۔ اس نے تہیہ کر لیا کہ وہ اپنی عمر سائنسی تحقیقات میں صرف کرے گا۔ اس زمانے میں سائنس کو ''نیچرل فلاسفی‘‘ کہا جاتا تھا اور بوائل کو بچپن ہی سے اس سے شغف ہو گیا تھا۔ جس سال گلیلیو کا انتقال ہوا ہے اس سال بوائل اٹلی کے شہر فلورنس میں ہیئت، نور اور میکانیات کی تعلیم حاصل کر رہا تھا۔بوائل نے سائنس کی تقریباً ہر شاخ پر کچھ نہ کچھ تجربات کئے وہ علم تشریح پر بھی کچھ کام کرنا چاہتا تھا لیکن بقول اس کے اس کی نرم دلی اس بات کی اجازت نہ دیتی تھی کہ وہ بے گناہ جانوروں کو مارے اور ان کا جسم چیر کر دیکھے۔ اس نے کیمیائی مسائل کی بھی چھان بین کی اور کیمیا دان اسے اس علم کا سرپرست سمجھتے ہیں۔ اس نے بہت سے ایسے نئے عناصر دریافت کئے جنہیں پہلے کوئی نہیں جانتا تھا۔ اس نے کیمیاوی مرکبات پر کام کیا، مکسچر اور کیمیاوی مرکبات کے مابین ایک حد امتیاز قائم کی اور پہلی مرتبہ عنصر کی مکمل تعریف بیان کی۔بوائل ہی تھا جس نے گیلیلو کے آبی بیرومیٹر کا سرا مہر بند کیا اور اس طرح پہلا تھرما میٹر وجود میں آیا۔ اس کی مدد سے بوائل نے انسانی جسم کا درجہ حرارت معلوم کیا۔ اس کے علاوہ اس نے برقی اور مقناطیسیت پر بھی کئی اہم تجربات انجام کئے۔ وہ پہلا سائنس دان تھا جس نے یہ نظریہ پیش کیا کہ کسی بھی جسم میں حرارت، اس کے سالمات کی حرکت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ لیکن اس کا نام گیسوں اور خلائی پمپوں پر تجربات کیلئے زیادہ مشہور ہے۔بوائل نے گیس کے درجہ حرارت اور حجم کے درمیان بھی ایک تعلق معلوم کیا ۔وہ بڑا محنتی تھا اور اس کی نگاہ پر نئی بات کو تیزی سے پکڑ لیتی تھی۔ اسے تجربات سے بڑی دلچسپی تھی اور تصنیف و تالیف سے بھی۔ اس نے مختلف موضوعات پر جن میں دینیات بھی شامل ہے، چالیس سے زیادہ کتابیں لکھیں۔یہ ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہوگا، کہ 1650ء کے بعد سائنس دانوں میں یہ سوال اچھی خاصی بحث کا سبب بن چکا تھا کہ ہوا میں وزن ہوتا ہے یا نہیں اور کیا ہم کسی صورت خلا پیدا کر سکتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل اس موضوع پر چند تجربات کر چکا تھا۔ اس نے ایک لمبی نلکی میں منہ تک پارہ بھرا اور پھر اسے ایک کھلی پیالی میں اُلٹ دیا۔ اُلٹنے پر نلکی میں تقریباً تیس انچ کی بلندی تک پارہ کھڑا ہو گیا۔ ٹورسیلی نے اس کی وجہ یہ بیان کی کہ پیالی میں پار سے کی جو مقدار گر چکی ہے اس پر ہوا اپنا دبائو ڈالتی ہے اور اسی دبائو کی وجہ سے نلکی کا پارہ تیس انچ کی بلندی تک کھڑا رہتا ہے۔ نلکی کے بالائی سرے میں جو جگہ رہ گئی ہے وہ خلا ہے یعنی وہاں ہوا مطلق موجود نہیں۔اس زمانے میں بہت سے پڑھے لکھے اور سمجھدار لوگ بھی یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ خلا کی قسم کی بھی کوئی چیز ممکن ہو سکتی ہے۔ وہ یہ ماننے کیلئے تیار نہ تھے کہ نلکی میں پارہ محض ہوائی دبائو کی وجہ سے اتنا اونچا کھڑا رہ سکتا ہے کچھ لوگ تو یہاں تک کہتے تھے کہ نلکی کے اندر پارے اور بالائی سرے کے درمیان کوئی دھاگہ بندھا ہوا ہے جو باہر سے نظر نہیں آتا۔ظاہر ہے کہ ان حالات میں ہوا کے وزن اور خلا کو ثابت کرنے کیلئے ایک ایسے صاف تجربے کی ضرورت تھی جو اس زمانے کے لوگ کی سمجھ میں آ جائے۔ بوائل نے ہوا کا وزن بھی دریافت کیا تھا اور خلا کا نظریہ بھی اسی نے ان کا عملی ثبوت بھی فراہم کیا۔ اس نے ایک بڑا ویکوم پمپ بنایا۔ اس میں کانچ کا ایک ویکوم چیمبر بھی تھا جس کی ہوا خارج کی جا سکتی تھی اور اس میں باہر سے کوئی چیز بھی داخل کی جا سکتی تھی۔بوائل نے اس چیمبر میں ایک گھڑی لٹکا دی اس کی ٹک ٹک آسانی سے سنی جا سکتی تھی اس کے بعد اس نے ویکوم پمپ چلا دیا۔ جیسے جیسے چیمبر کی ہوا کم ہوتی جاتی تھی گھڑی کی آواز بھی مدھم پڑتی جاتی تھی۔ خوش قسمتی سے اس وقت تک یورپ کے تمام پڑھے لکھے لوگ یہ بات تسلیم کر چکے تھے کہ آواز ہوا کی مدد سے سنائی دیتی ہے۔ اس سادہ تجربے سے وہ خلا کے بھی قائل ہو گئے۔ اسی قسم کے تجربات کے دوران میں بوائل نے یہ بھی محسوس کیا کہ ہوا میں کافی لچک موجود ہوتی ہے۔ اسے سپرنگ کی طرح دبایا بھی جا سکتا ہے اور ڈھیلا بھی چھوڑا جا سکتا ہے۔1660ء میں بوائل نے ایک کتاب شائع کی جس میں یہ تجربات اور نتائج تحریر کئے گئے تھے۔ جیسا کہ باقاعدہ ہے اس کے بہت سے مخالفین پیدا ہو گئے اور بوائل کو یہ ذمہ داری قبول کرنی پڑی کہ وہ ہوا کی مندرجہ بالا صفت عملی طور پر ثابت کرکے دکھائے۔ اس نے کانچ کی ایک نلکی (جس کی شکل انگریزی حرف ''جے‘‘ جیسی تھی) اور پارے کی مدد سے نہایت وضاحت سے یہ ثابت کر دیا کہ جب دبائو میں اضافہ کیا جاتا ہے تو ہوا کا حجم کم ہوتا چلا جاتا ہے گویا ہوا اور دوسرے گیسوں میں دبنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس طرح دبائو اور حجم کے درمیان ایک تعلق معلوم کر لیا گیا جسے ''بوائلز لا‘‘ کہتے ہیں اور جس کا ذکر شروع میں آ چکا ہے۔ اس نے 1663ء میں برطانیہ میں سائنس کی وہ قدیم ترین سوسائٹی قائم کی جو ابھی تک موجود ہے اور جسے رائل سوسائٹی کہتے ہیں اس کا فیلو ہونا ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔ بوائل نے فطرت کے بہت سے راز بے نقاب کئے اور انسان کے علم میں بہت کچھ اضافہ کیا۔    

آج کا دن

آج کا دن

مصنوعی ذہانت13جولائی 1956ء مصنوعی ذہانت پر ڈارٹ ماؤتھ ریسرچ پراجیکٹ کا آغاز ہوا۔ یہ موسم گرما کی ایک ورکشاپ تھی جسے مصنوعی ذہانت کا بانی بھی سمجھا جاتا ہے۔ اسی ایونٹ سے دنیا میں مصنوعی ذہانت پر بحث کا آغاز ہوا تھا۔یہ ورکشاپ تقریباً چھ سے آٹھ ہفتوں تک جاری رہی۔ یہ بنیادی طور پر ایک سیشن تھا جس میں مصنوعی ذہانت کی صلاحیت پر بات کی گئی تھی۔ ایونٹ کو گیارہ ریاضی دانوں اور سائنسدانوں نے ڈیزائن کیا تھا لیکن اس کا انعقاد کرنے والوں کی زیادہ تعداد اس میں شرکت نہیں کر سکی تھی۔اوگاڈن کی جنگ13جولائی1977ء میں ایتھوپیا اور صومالیہ کے درمیان جنگ کا آغاز ہوا ، اس جنگ کو اوگاڈن کی لڑائی بھی کہتے ہیں۔ یہ1977ء سے1978ء تک ایتھوپیا کے علاقے اوگاڈن میں لڑی جانے والی بہت بڑی لڑائی تھی۔اس لڑائی نے جنگ کی صورتحال اس وقت اختیار کی جب صومالیہ نے اوگاڈن پر باقاعدہ حملہ کیا۔ اسی وجہ سے اسے اس وقت کی بڑی طاقت سوویت یونین کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے سپر پاور نے صومالیہ کی حمایت ختم کردی اور اس کی بجائے ایتھوپیا کی حمایت کرنے کا اعلان کیا۔ ایتھوپیا کو 1 بلین ڈالر مالیت کے فوجی سامان کی ایک بڑی امدادکے ذریعے شکست سے بچا لیا گیا۔برلن معاہدہبرلن کا معاہدہ بنیادی طور پر آسٹریا ہنگری، فرانس، جرمنی، برطانیہ، آئرلینڈ، اٹلی، روس اور سلطنت عثمانیہ کے درمیان مشرق میں معاملات کے حل کیلئے رسمی طور پر معاہدہ تھا۔ اس معاہدے پر 13 جولائی 1878ء کو دستخط کیے گئے تھے۔1877ء تا1878ء کی روس اورترک جنگ میں سلطنت عثمانیہ کے خلاف روسی فتح کے بعد بڑی طاقتوں نے بلقان کے علاقے کے نقشے کی تشکیل نو کی اور اس کے ساتھ ہی عثمانیوں نے یورپ میں اپنی بڑی ملکیت کھو دی۔ یہ ویانا کی 1815ء کانگریس کے بعد کے عرصے میں تین بڑے امن معاہدوں میں سے ایک تھا۔راؤنڈوے کی لڑائیراؤنڈ وے ڈاؤن کی جنگ 13 جولائی 1643ء کو پہلی انگریزی خانہ جنگی کے دوران ولٹ شائر میں ڈیوائز کے قریب لڑی گئی۔ آکسفورڈ سے ساری رات سفر کرنے کے بعد تعداد میں بہت زیادہ اور تھک جانے کے باوجود، لارڈ ولموٹ کے ماتحت ایک رائلسٹ کیولری فورس نے سر ولیم والر کے ماتحت مغرب کی پارلیمنٹرین آرمی پر زبردست فتح حاصل کی۔اس جنگ کو ان کی سب سے فیصلہ کن فتح کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ رائلسٹوں نے جنوبی مغربی انگلینڈ کا کنٹرول حاصل کر لیا جو 1645ء کے آخر تک ان کے پاس رہا۔