بحراوقیانوس کے کنارے اسلامی عظمت کی علامتمراکش کے شہر کیسا بلانکا ( Casablanca) میں واقع''حسن دوئم مسجد‘‘اسلامی فنِ تعمیر، روحانیت اور قومی شناخت کا ایک درخشاں استعارہ ہے۔ یہ عظیم الشان مسجد 1993ء میں مکمل ہوئی اور اسے مراکش کے فرمانرواحسن دوئم کے نام سے منسوب کیا گیا، جنہوں نے اس کی تعمیر کا آغاز کیا اور اسے جدید مراکش کی علامت بنانے کا عزم ظاہر کیا۔ بحرِ اوقیانوس کے کنارے تعمیر کی گئی یہ مسجد نہ صرف عبادت گاہ ہے بلکہ فن، تاریخ اور انجینئرنگ کا ایسا سنگم ہے جس نے دنیا بھر کے سیاحوں اور معماروں کو متاثر کیا ہے۔حسن دوئم مسجد کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا فلک بوس مینار ہے جو تقریباً 210 میٹر بلند ہے اور اسے دنیا کے بلند ترین میناروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ رات کے وقت اس مینار سے سبز لیزر روشنی قبلہ رخ فضا میں چمکتی ہے جو ایک دلکش منظر پیش کرتی ہے۔ یہ منظر اس پیغام کی علامت ہے کہ اسلام روشنی، رہنمائی اور امن کا دین ہے۔ مسجد کی تعمیر میں مراکشی ہنرمندوں نے روایتی نقش و نگار، خطاطی، سنگِ مرمر کی تراش خراش اور لکڑی کی نفیس کندہ کاری کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے، جس سے یہ عمارت ایک جیتا جاگتا عجائب گھر معلوم ہوتی ہے۔مسجد کا مرکزی ہال وسیع و عریض ہے جہاں بیک وقت تقریباً 25 ہزار نمازی نماز ادا کرسکتے ہیں، جبکہ بیرونی صحن اور احاطے سمیت مجموعی طور پر ایک لاکھ پانچ ہزار افراد کی گنجائش موجود ہے۔ فرش پر بچھے خوبصورت قالین، دیواروں پر قرآنی آیات کی خطاطی اور چھت پر دیدہ زیب نقش و نگار روح کو تازگی بخشتے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ مرکزی ہال کی چھت کا ایک حصہ متحرک (ریٹریکٹ ایبل) ہے جو ضرورت پڑنے پر کھولا جاسکتا ہے، یوں کھلے آسمان تلے عبادت کا سماں پیدا ہوجاتا ہے۔ یہ جدید ٹیکنالوجی اور روایتی فنِ تعمیر کا حسین امتزاج ہے۔بحرِ اوقیانوس کے کنارے اس مسجد کی تعمیر ایک انجینئرنگ چیلنج بھی تھی۔ عمارت کا کچھ حصہ سمندر کے اوپر تعمیر کیا گیا ہے، جس کے لیے مضبوط بنیادیں اور خصوصی حفاظتی اقدامات کیے گئے۔ اس انتخاب کے پیچھے ایک روحانی تصور بھی کارفرما تھا کہ ‘‘خدا کا عرش پانی پر ہے''، چنانچہ مسجد کو پانی کے قریب تعمیر کرکے اس تصور کی علامتی تعبیر پیش کی گئی۔ سمندر کی لہروں کی آواز اور ٹھنڈی ہوا عبادت گزاروں کے لیے سکون اور خشوع کا ماحول پیدا کرتی ہے۔حسن دوم مسجد صرف عبادت تک محدود نہیں؛ یہاں ایک وسیع کتب خانہ، مدرسہ، میوزیم اور وضو کے لیے جدید سہولیات بھی موجود ہیں۔ زیرِ زمین وضو خانہ سنگِ مرمر کے فواروں اور نفیس ستونوں سے مزین ہے جو مراکشی جمالیات کا شاہکار ہے۔ مسجد میں جدید ساؤنڈ سسٹم اور ماحولیاتی کنٹرول کا انتظام بھی کیا گیا ہے تاکہ بڑے اجتماعات میں بھی نظم و ضبط برقرار رہے۔ اس کے علاوہ یہاں رہنمائی کے لیے تربیت یافتہ گائیڈز دستیاب ہوتے ہیں جو سیاحوں کو عمارت کی تاریخ اور فنِ تعمیر سے آگاہ کرتے ہیں۔اس عظیم منصوبے کی تکمیل میں ہزاروں کاریگروں، انجینئروں اور مزدوروں نے حصہ لیا۔ مقامی ہنر کو فروغ دینے اور قومی یکجہتی کو اجاگر کرنے کے لیے زیادہ تر کام مراکشی ماہرین کے سپرد کیا گیا۔ یوں یہ مسجد نہ صرف مذہبی علامت بنی بلکہ قومی فخر اور اجتماعی محنت کی مثال بھی ٹھہری۔ تعمیر کے دوران استعمال ہونے والا اعلیٰ معیار کا سنگِ مرمر، دیودار کی لکڑی اور نفیس موزائیک ٹائلز مراکش کی ثقافتی وراثت کی جھلک پیش کرتے ہیں۔بین الاقوامی سطح پر حسن دوم مسجد مراکش کی شناخت کا اہم جزو بن چکی ہے۔ دنیا بھر سے آنے والے سیاح اس کی شاندار ساخت، سمندر سے جڑے منظر اور روحانی فضا سے متاثر ہوتے ہیں۔ یہ مسجد بین المذاہب ہم آہنگی اور ثقافتی مکالمے کا بھی ذریعہ ہے، کیونکہ غیر مسلم سیاحوں کو مخصوص اوقات میں اندرونی حصوں کی سیر کی اجازت دی جاتی ہے۔ اس طرح یہ عمارت نہ صرف عبادت کا مرکز ہے بلکہ تہذیبی تبادلے کا پل بھی ہے۔مختصراً، حسن دوم مسجد جدید دور میں اسلامی فنِ تعمیر کی ایک درخشاں مثال ہے جس نے روایت اور جدت کو یکجا کیا۔ بحرِ اوقیانوس کے کنارے یہ عظیم عمارت مراکش کی روح، تاریخ اور فنکارانہ مہارت کی آئینہ دار ہے۔