VILPA:مختصر وقفوں کی ورزش صحت مند زندگی کا راز

VILPA:مختصر وقفوں کی ورزش صحت مند زندگی کا راز

اسپیشل فیچر

تحریر : موسیٰ الطاف


آج کی تیزرفتار زندگی میں باقاعدہ ورزش کے لیے وقت نکالنا بہت سے لوگوں کے لیے مشکل کام بن چکا ہے۔ مصروف شیڈول، دفتری ذمہ داریاں، گھر کے کام، سفر اور سماجی مصروفیات کی وجہ سے ہم یا تو جِم جانے کا ارادہ ٹالتے رہتے ہیں یا پھر روزانہ کے دس ہزار سٹیپس کا ہدف پورا کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ مگر سائنس ایک نئی تحقیق نے ہماری سوچ بدل کر رکھ دی ہے۔ اب یہ ثابت ہو رہا ہے کہ صحت بہتر رہنے کے لیے نہ لمبی ورزش ضروری ہے نہ مہنگا سامان اور نہ ہی روزانہ گھنٹوں کی مشقت۔ صرف چند منٹ کی مختصر مگر تیز جسمانی حرکات جنہیں Vigorous Intermittent Lifestyle Physical Activityیا (VILPA) کہا جاتا ہے،آپ کو صحت مند لمبی زندگی کے قابل بناسکتی ہیں۔
VILPA کیا ہے؟
گزشتہ چند برسوں میں ورزش کی سائنس میں یہ نیا تصور بہت تیزی سے مقبول ہوا ہے کہ عام گھریلو یا روزمرہ کے کام تیز رفتاری سے اور توانائی سے بھرپور انداز میں کیے جائیں مثال کے طور پر سیڑھیاں چڑھنا، کچن میں تیزی سے کام کرنا، بچوں کے ساتھ کھیلنا، خریداری کے تھیلے اٹھانا یا گھر کی صفائی کرنا۔ ان سرگرمیوں کا دورانیہ بہت کم،صرف ایک سے دو منٹ ہوتا ہے لیکن ان کے اثرات حیران کن ہیں۔لندن یونیورسٹی کالج کے پروفیسر مارک ہیمر اور ان کے ساتھیوں نے جب ایسے افراد کا ڈیٹا دیکھا جو کسی قسم کی باضابطہ ورزش نہیں کرتے تھے، تو یہ جان کر حیران رہ گئے کہ ان میں سے کئی لوگ روزمرہ کے معمولات میں تیز رفتار حرکات کے ذریعے کافی مقدار میں ورزش کر رہے تھے۔ یہ حرکات مختصر وقفوں میں تھیں مگر شدت زیادہ تھی۔ تحقیق میں سامنے آیا کہ یہی مختصر وقفے، دل کی دھڑکن بڑھا کر اور پٹھوں کو فعال بنا کر صحت پر ایسے مثبت اثرات چھوڑ رہے تھے جنہیں پہلے صرف جِم کی سخت ورزشوں سے جوڑا جاتا تھا۔
تحقیق کیا کہتی ہے؟
2022ء میں آسٹریلیا اور برطانیہ کے محققین نے 25 ہزار سے زائد افراد پر مبنی ایک بڑی تحقیق شائع کی جس میں یہ نتیجہ سامنے آیا کہ اگر کوئی شخص روزانہ صرف تین سے چار بار ایک منٹ کے VILPA بٹس کرے تودل کی بیماریوں سے موت کا خطرہ تقریباً 49 فیصد کم دیکھا گیا۔ ایک اور تازہ تحقیق نے بتایا کہ صرف چار منٹ کی VILPA روزانہ، بیٹھے بیٹھے زندگی گزارنے والوں کے لیے دل کی بیماری کا خطرہ نمایاں حد تک گھٹا دیتی ہے۔یہ نتائج طبی دنیا کے لیے نہایت اہم ہیں کیونکہ دنیا بھر میں تقریباً ایک ارب80 کروڑافراد ایسے ہیں جو ورزش نہ کرنے کی وجہ سے خطرناک بیماریوں کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ وقت کی کمی، سہولیات کا فقدان، عدم دلچسپی اور طرزِ زندگی کی مصروفیات،یہ تمام عوامل ورزش چھوڑنے کی بنیادی وجوہات مانے جاتے ہیں۔ ایسے میں VILPA کا ماڈل ان لوگوں کے لیے ایک قابلِ عمل راستہ فراہم کرتا ہے جو پوری ورزش کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔
یہ سوال اہم ہے کہ صرف ایک یا دو منٹ کی تیز رفتار حرکت ہماری صحت میں اتنا بڑا فرق کیسے ڈال سکتی ہے؟ اس کی وضاحت سادہ ہے وہ یہ کہ جیسے ہی ہم تیزی سے حرکت کرتے ہیں پٹھے سکڑ کر خون میں مختلف بائیو کیمیکل مادوں کو متحرک کرتے ہیں جو چربی جلانے، خون میں شوگر کو بہتر انداز میں استعمال کرنے اور جسم میں موجود سوزش کو کم کرنے میں مددگار ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ VILPA نہ صرف دل کی صحت کے لیے مفید ہے بلکہ ذیابیطس، موٹاپا اور ہائی کولیسٹرول جیسے مسائل کے خطرات بھی گھٹا دیتی ہے۔یہ مائیکرو برسٹ بڑھتی عمر کے ساتھ سامنے آنے والی کمزوری اور فریکچر کے خطرے کو بھی کم کرتے ہیں کیونکہ یہ جسم کے اہم عضلات کو مسلسل فعال رکھتے ہیں۔ ایسے افراد جنہیں گھٹنوں، کمر یا جوڑوں میں درد رہتا ہے وہ بھی مختصر وقفوں میں تیز رفتار حرکات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
VILPA کیسے کریں؟
اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید انہیں کچھ خاص یا مشکل کام کرنے ہوں گے مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اس کے لیے آپ کو نہ وقت نکالنے کی ضرورت ہے نہ پیسے خرچ کرنے کی۔ یہ صرف معمولات میں تھوڑی سی تبدیلی کا نام ہے ۔ جیسا کہ لفٹ کے بجائے سیڑھیاں استعمال کریں،مگر عام چال سے تھوڑا تیز۔گھر میں چلتے پھرتے قدموں کی رفتار بڑھا دیں۔ کچن کا کام کرتے ہوئے تیز رفتار موومنٹ اپنائیں۔گاڑی سے اتریں تو آخری چند میٹر پاور واک کر کے چلیں۔بچوں کے ساتھ روزانہ دو تین منٹ تیز کھیلیں۔ویٹ نہ اٹھا سکیں تو شاپنگ کے بیگ اٹھا لیں۔یہ بھی ایک طرح کی طاقت بڑھانے والی مشق ہے۔تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جب یہ سرگرمیاں دن بھر میں تین سے چار بار دہرائی جائیں تو اثرات باقاعدہ ورزش کے برابر محسوس ہو سکتے ہیں۔ورزش کے متعلق ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اب ماہرین زیادہ قدم چلنے کے جنون کو بھی چیلنج کر رہے ہیں۔ نئی تحقیق کے مطابق دل کی بیماریوں کے خطرے میں کمی کے لیے 10 ہزار قدم ضروری نہیں۔ صرف 2200 سے 2700 قدم روزانہ بھی بڑا فائدہ دیتے ہیں۔
VILPA کی کارکردگی محض دل اور میٹابولزم تک محدود نہیں چند سٹڈیز ظاہر کرتی ہیں کہ روزانہ صرف چار منٹ کی تیز رفتار سرگرمی کینسر کے خطرے کو 17 سے 18 فیصد تک کم کر سکتی ہے کیونکہ یہ سرگرمیاں جسم میں موجود مہلک سوزش کو نمایاں حد تک کم کر دیتی ہیں،وہی سوزش جو نوجوانوں سے لے کر بزرگوں تک متعدد بیماریوں کی جڑ ہے۔ماہرین اس ماڈل کو مستقبل کی صحت پالیسیوں کا حصہ بنانے کی تجویز دیتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اگر پوری آبادی کو اس بات پر آمادہ کر لیا جائے کہ وہ دن میں چند بار مختصر مگر تیز حرکات کریں تو اس کا مجموعی اثر لاکھوں زندگیاں بچا سکتا ہے۔ یہ نہ صرف بیماریوں کا بوجھ کم کرے گا بلکہ ہسپتالوں پر دباؤ بھی گھٹا دے گا۔اہم بات یہ ہے کہ ''کچھ کرنا، کچھ بھی نہ کرنے سے کہیں بہتر ہے‘‘۔ اگر آپ جِم نہیں جا سکتے، واک کا وقت نہیں ملتا یا آپ کو لگتا ہے کہ ورزش کی روٹین بنانا بہت مشکل ہے تو کوئی مسئلہ نہیں صرف اپنی روزمرہ زندگی میں تیزی اور توانائی شامل کریں۔ تیز قدموں سے چلیں، تیزی سے سیڑھیاں چڑھیں یا گھر کے کاموں میں حصہ لیں۔ یہ چھوٹے چھوٹے قدم آپ کی صحت میں بڑا انقلاب لا سکتے ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
عالمی خلائی توازن خطرے میں؟چین کا بڑا سیٹلائٹ منصوبہ

عالمی خلائی توازن خطرے میں؟چین کا بڑا سیٹلائٹ منصوبہ

دو لاکھ سیٹلائٹس چھوڑنے کی درخواست،عالمی خلائی برادری میں تشویشچین کی جانب سے خلا میں دو لاکھ سیٹلائٹس چھوڑنے کی درخواست نے عالمی خلائی برادری میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ماہرین اس اقدام کو ایک ممکنہ ''میگا کانسٹیلیشن‘‘ (mega constellation)کی تیاری قرار دے رہے ہیں، جو نہ صرف خلائی ٹیکنالوجی میں ایک بڑی پیش رفت ہو سکتی ہے بلکہ زمین کے گرد مدار، خلائی ملبے، سائنسی مشاہدات اور عالمی سلامتی سے متعلق نئے سوالات بھی کھڑے کر رہی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب دنیا پہلے ہی نجی اور سرکاری خلائی منصوبوں کے باعث مدار کی گنجائش اور نظم و ضبط کے مسائل سے دوچار ہے۔29 دسمبر کو ایک نئے قائم ہونے والے ادارے، انسٹی ٹیوٹ آف ریڈیو اسپیکٹرم یوٹیلائزیشن اینڈ ٹیکنالوجیکل اِنویشن نے دو سیٹلائٹ نیٹ ورکس کیلئے درخواستیں جمع کرائیں۔ان وسیع سیٹلائٹ مجموعوں کو ''سی ٹی سی 1‘‘ اور ''سی ٹی سی 2‘‘کا نام دیا گیا ہے، جن میں سے ہر ایک میں 96,714 سیٹلائٹس شامل ہوں گے، جو 3,660 مختلف مداروں میں پھیلے ہوں گے۔اگر یہ منصوبہ مکمل ہو گیا تو چین کی یہ نئی میگا کانسٹیلیشن، اسپیس ایکس کے 49ہزار اسٹار لنک سیٹلائٹس مدار میں بھیجنے کے جرات مندانہ منصوبے کو بہت پیچھے چھوڑ دے گی۔''سی ٹی سی 1‘‘ اور ''سی ٹی سی 2‘‘ مل کر مدار میں بھیجے جانے والے سیٹلائٹس کا اب تک کا سب سے بڑا مجموعہ ہوں گے اور عملی طور پر کم بلندی والے زمینی مدار کے ایک بڑے حصے تک دیگر حریفوں کی رسائی محدود کر دیں گے۔ چینی حکام کی جانب سے سیٹلائٹس کے مجوزہ استعمال پر خاموشی برقرار ہے، جس کے باعث ماہرین نے خدشات ظاہر کیے ہیں کہ یہ نیٹ ورک سلامتی یا دفاعی خطرہ بن سکتا ہے۔''چائنا اِن سپیس‘‘ کی رپورٹ کے مطابق، نانجنگ یونیورسٹی آف ایروناٹکس کا کہنا ہے کہ یہ سیٹلائٹس درج ذیل امور پر توجہ مرکوز کریں گے۔(1)کم بلندی والے برقی مقناطیسی خلائی تحفظ، (2)مربوط دفاعی سلامتی نظام،(3) فضائی حدود کے برقی مقناطیسی خلائی تحفظ کا جائزہ ، (4) کم بلندی والے فضائی علاقے کی نگرانی و حفاظتی خدمات۔یہ تفصیل اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ یہ سیٹلائٹ نیٹ ورکس ممکنہ طور پر سپیس ایکس کے اسٹار شیلڈ سیٹلائٹس جیسا کردار ادا کریں گے، جنہیں امریکی فوج محفوظ نگرانی اور مواصلات کیلئے استعمال کرتی ہے۔یہ درخواستیں انٹرنیشنل ٹیلی کمیونی کیشن یونین (آئی ٹی یو) میں جمع کرائی گئی ہیں، جو اقوامِ متحدہ کا ایک ادارہ ہے اور خلا میں ریڈیو اسپیکٹرم کے استعمال کی منظوری دیتا ہے۔درخواستیں جمع ہونے کے بعد دیگر سیٹلائٹ آپریٹرز کو آئی ٹی یو کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اسی مدار میں بھیجے جانے والے نئے سیٹلائٹس اس مجوزہ سیٹلائٹ نیٹ ورک کی سرگرمیوں میں مداخلت نہیں کریں گے۔ ان سیٹلائٹس کے کئی غیر جارحانہ اور مفید استعمال بھی ہو سکتے ہیں، جن میں شدید موسمی حالات کی نگرانی، ہوائی جہازوں کیلئے نیوی گیشن کی سہولت اور اسٹارلنک طرز کی مواصلاتی خدمات کی فراہمی شامل ہے۔تاہم یہ درخواستیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب چین اور امریکا کے خلائی عزائم کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔دونوں ممالک نہ صرف چاند پر مستقل موجودگی قائم کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں بلکہ کم بلندی والے زمینی مدار (لو ارتھ آربٹ) میں برتری حاصل کرنے کیلئے بھی ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔فوجی سیٹلائٹس نام نہاد ''کِل میش‘‘ کا حصہ ہوتے ہیں، جو ایک خودکار نیٹ ورک ہے اور اس میں سینسرز، سیٹلائٹس، مواصلاتی نظام اور ہتھیار آپس میں جڑے ہوتے ہیں۔یوکرین کی جنگ میں سیٹلائٹ مواصلات اور دشمن کے سیٹلائٹس کو جام کرنے کی صلاحیت نے تنازع کی نوعیت اور سمت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔مزید یہ کہ حالیہ عرصے میں تجزیہ کاروں نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ چینی سیٹلائٹس کا رویہ بتدریج زیادہ غیر متوقع اور خطرناک ہوتا جا رہا ہے۔ چین بظاہر ایسے متعدد 'فاسٹ موورز‘ (تیز رفتار سیٹلائٹس) کی آزمائش کر رہا ہے جو جیو اسٹیشنری مدار (GEO) کے گرد حرکت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، گرتے ہوئے سیٹلائٹس کو دوبارہ مدار میں لے جا سکتے ہیں یا ممکنہ طور پر امریکی خلائی اثاثوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔گزشتہ برس چیٹم ہاؤس میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، امریکی اسپیس فورس میں انٹیلی جنس کے نائب سربراہ چیف ماسٹر سارجنٹ رون لیرچ نے کہاتھا کہ چینی جسے تجرباتی مواصلاتی سیٹلائٹس کہتے ہیں، ان میں سے کئی GEO میں موجود ہیں لیکن یہ GEO سیٹلائٹس مسلسل سرک رہے ہیں یا GEO بیلٹ کے اندر بار بار حرکت کر رہے ہیں، جو ایسے سیٹلائٹ کیلئے بالکل غیر معمولی رویہ ہے جس کا مقصد محض سیٹلائٹ کمیونی کیشن فراہم کرنا ہے۔مسٹر لیرچ نے مزید کہا کہ ہم (امریکی اسپیس فورس) اس وقت شدید خطرات دیکھ رہے ہیں، خاص طور پر بے مثال اضافے اور غیر منظم مقابلے کی وجہ سے۔دوسری جانب چین واضح کر چکا ہے کہ وہ خلا کو امریکا کے ساتھ مقابلے کیلئے ایک جائز محاذ سمجھتا ہے۔ 2021ء ہی میں صدر شی جن پنگ نے کہا تھا کہ خلا ملک کیلئے ایک اہم اسٹریٹجک اثاثہ ہے جسے بہتر طور پر منظم اور استعمال کیا جانا چاہیے اور اس سے بھی بڑھ کر اس کا تحفظ ضروری ہے۔ اس وقت چین کے تقریباً 1,000 سیٹلائٹس مدار میں موجود ہیں، جو 2010ء میں موجود تقریباً 40 سیٹلائٹس کے مقابلے میں ایک نمایاں اضافہ ہے۔اگرچہ یہ دونوں نئی میگا کانسٹیلیشنز چین کی بڑھتی ہوئی فوجی خلائی موجودگی کا حصہ بن سکتی ہیں، تاہم زیادہ سنگین خدشہ یہ ہے کہ یہ منصوبے خلا میں ایک ممکنہ ''لینڈ گریب‘‘ (مداری علاقوں پر قبضے) کی حکمتِ عملی کا حصہ ہوں۔چین کی سیٹلائٹ تیار کرنے کی صلاحیت2021ء میں، روانڈا نے 27 مداروں میں 3لاکھ 27ہزار سیٹلائٹس کی کانسٹیلیشن کے لیے درخواست جمع کروائی تھی، جسے وہ حقیقت میں مکمل کرنے کے قابل نہیں تھا۔اسی طرح، یہ بظاہر انتہائی غیر ممکن لگتا ہے کہ چین ''سی ٹی سی 1‘‘ اور ''سی ٹی سی 2‘‘کو مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو، اگرچہ وہ چاہے۔چین کا موجودہ کمرشل سیکٹر سالانہ تقریباً 300 سیٹلائٹس تیار کر سکتا ہے، اور اس میں توسیع کے منصوبے کے تحت یہ تعداد 600 تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ ریاستی شعبہ مزید کئی سو سیٹلائٹس تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم، چین کو دو لاکھ سیٹلائٹس مدار میں بھیجنے کیلئے ہر ہفتے 500 سیٹلائٹس لانچ کرنے ہوں گے، ہر ہفتے سات سال تک۔ جیو اسٹیشنری مدارکا وسیع حصہ متعددممالک کیلئے بندآئی ٹی یو میں اپنے دعوے کے ذریعے، انسٹی ٹیوٹ آف ریڈیو اسپیکٹرم یوٹیلائزیشن اینڈ ٹیکنالوجیکل اِنویشن نے عملی طور پر جیو اسٹیشنری مدار (GEO) کے ایک وسیع حصے کو دیگر ملکوں کیلئے بند کر دیا ہے۔آئی ٹی یو کے قواعد کے مطابق، انہیں درخواست جمع کروانے کے سات سال کے اندر کم از کم ایک سیٹلائٹ مدار میں بھیجنا ہوگا، اور باقی تمام سیٹلائٹس بھیجنے کیلئے مزید سات سال کی مہلت ہوگی۔ چین کیلئے یہ ممکن ہے کہ اس کانسٹیلیشن کو بنانے کے جواز موجود ہوں، لیکن کچھ بھی ایسا نہیں ہے جو چین کو یہ اجازت دے کہ وہ 'ڈمی‘ درخواست جمع کر کے کسی خلائی علاقے کو بعد میں استعمال کیلئے محفوظ کر لے۔

ہے جو مہنگائی تو…… کچھ باعثِ مہنگائی بھی ہے!

ہے جو مہنگائی تو…… کچھ باعثِ مہنگائی بھی ہے!

عمومی طور پرحکومتی ناقص پالیسیاں، روپے کی قدر میں کمی، سیاسی عدم استحکام، داخلی بد امنی، عالمی حالات، قدرتی آفات، آبادی میں اضافہ اور بدعنوانی مہنگائی کی بنیادی وجوہات سمجھی جاتی ہیں۔ معاشی ماہرین کے مطابق طلب و رسد میں عدم توازن مہنگائی و ارزانی کا بڑا سبب ہے۔ اپنے ہاں انتظامی نا اہلی و بدعنوانی، مذہبی و مسلکی شعِار اور شادی مرگ پر بے جا اِصراف دنیا سے نرالے ہیں۔ جو قوم قرض کی رقم سے فضول خرچیوں اور انکم سکیموں جیسے کارِ بے اجر میں پیسے ضائع کرے، اس قوم کی فاقہ مستیاں کیونکر رنگ لا سکتی ہیں؟۔ سرکار اور عوام اعلیٰ درجے کے شہ خرچ اور غیر ذمہ دار ہونے کے باعث طلب و رسد کا توازن بگاڑ دیتے ہیں۔ شادی و مرگ کی پُر تکلف تقریبات و ضیافات میں قومی وسائل کا بے رحمانہ ضیاع مارکیٹ کو ہِلا کر رکھ دیتا ہے۔ پورا سال مہنگائی کا رونا رونے والوں پر ولیموں، وضیموں، مہندیوں، رسومِ مرگ اور تہواروں پر کروڑ پتی ہونے کا گمان ہوتا ہے۔ کھابہ گیری، شِکم پروری اور غذائی اشیاء کا ضیاع ہمارے مرغوب جنون بن گئے ہیں۔مہذب ترقی یافتہ ممالک عام ہوٹلوں میں بھی ضرورت سے زیادہ کھانا اور ضائع کرنا قانونی و اخلاقی جرائم ہیں۔ وہاں شادی غمی پر ہماری طرح کے جمِ غفیر ہوتے ہیں نہ قومی وسائل برباد کیے جاتے ہیں۔ نتیجتاً ضروریاتِ زندگی بازار میں ارزاں نرخوں پر دستیاب ہوتی ہیں۔ جبکہ یہاں روزانہ ہزاروں مَن گوشت، چینی، گھی، آٹا، دودھ، پھل اور مسالہ جات اِن خرافات پر اُٹھ جاتے ہیں۔ رش کا عالم یہ ہے کہ ان شہ خرچیوں کیلئے میرج ہال سے مہینوں پہلے وقت لینا پڑتا ہے۔ غور کریں تو لاکھوں صحت مند جانور ہر سال عید پر قربان ہو جاتے ہیں جبکہ لاکھوں ہماری شادی و مرگ کے کھانوں میں پک جاتے ہیں۔ اب مارکیٹ میں صارفین کیلئے معیاری گوشت کیسے بچے؟۔ پھر مذہبی محافل و تقریبات کے اِصراف مستزاد۔ مٹھائیاں بنیادی ضروریات نہیں ہیں مگر ان پر چینی،گھی، دودھ اور میدے کی کثیر مقدار کھپ رہی ہے۔ یہی اشیاء اگر مارکیٹ میں رہیں تو عام آدمی کی بنیادی ضرورت کے طور پر ارزاں داموں دستیاب ہوں۔ مہذب دنیا نے اس ضیاع کے احساسِ زیاں کو محسوس کرتے ہوئے ان فضولیات پر روک لگا کر مذکورہ توازن درست رکھا ہے۔ طلب و رسد اور عوامی رجحان کی بابت ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے ہماری تحصیل میاں چنوں کے تقریباً ایک سو دیہہ و قصبات سے آنے والا دو سو من دودھ صرف برفی سازی میں صرف ہو جاتا ہے۔ سوچئے کہ دیگر ممالک کی طرح برصغیر میں ان وسائل کو یوں ضائع ہونے سے بچایا جائے تو مہنگائی نہ ہونے برابر رہ جائے۔ اس حساب سے ملک بھر کا ہزاروں من دودھ، گھی، چینی اور میدہ ضرورت کی بجائے محض شوق کی خاطرکھوہ کھاتے جاتا ہے۔ کوئی شہر اور گائوں ایسا نہیں جہاں ہرروز شادی ومرگ پر ایسے بے جا اخراجات نہ ہوتے ہوں۔ یہی نہیں بلکہ ان تقریبات میں شمولیت کیلئے آنے والے لشکر جرار کی آمدورفت پر کروڑوں کا ایندھن بھی خرچ ہو جاتا ہے۔ بھلے ان کی جیبوں سے سہی لیکن قومی وسائل کی طلب و رسد میں بگاڑ تو ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام معیاری و سستی اشیاء ناپید ہونے کا شکوہ کرتے ہیں۔ یہی حال بلڈنگ مٹیریل کا ہے۔ غربت و مہنگائی پر ماتم کُناں عوام کے ہاں پورا سال کنسٹرکشن ورک رکتا نہیں۔ مارکیٹ میں کچھ چھوڑیں تو قیمت برقرار رہے۔ بد امنی، جنگیں اور سیلاب جیسی آفات بھی مہنگائی کا موجب بنتی ہیں ۔طالبان ، بی ایل اے اور دیگر عناصر عوام اور ریاست سے کئی عشروں سے بر سرپیکار ہیں۔ وطن عزیز کی تقریباً بائیس سو کلو میٹر انڈیا اور اتنی ہی افغانستان کی سرحدات پر ہر وقت جنگ کے سائے منڈلاتے رہتے ہیں اور ان ممالک سے تجارت بھی بند ہے۔ آبادی میں بے قابو اضافہ اک اور نہ حل ہونے والا مسئلہ ہے جو غذائی اور رہائشی بحران کا سبب بنتا جا رہا ہے اور زرعی رقبوں پر گھر پہ گھربن رہے ہیں۔ لگتا ہے سوسال بعد صرف آبادی ہو گی، زرعی زمین نہیں۔ قیام پاکستان کے وقت تین کروڑ آبادی والا ملک اب چھبیس کروڑ آبادی رکھتا ہے۔ بیس ہزار بچے روزانہ آبادی میں شامل ہو رہے ہیں۔ سمجھ نہیں آتی کہ دوسروں کے انکم سے زیادہ اثاثوں پر شور مچانے والے اپنی انکم سے زیادہ بچے کیوں پیدا کر بیٹھتے ہیں؟۔ فرقہ واریت اور مذہبی جنون کے موجب پچاس فیصد سکیورٹی کے وسائل مذہبی تقریبات کیلئے استعمال ہو جاتے ہیں۔ ہم تو مذہبی تہوار بھی سکیورٹی کے بغیر نہیں منا سکتے۔ اب اس لیے بھی آسودگی نہیں رہی کہ آج بجلی، گیس اور فون کے اخراجات کے ساتھ درجنوں ملبوسات، جوتے، فینسی گھر، گاڑی حتیٰ کہ اینڈرائیڈ فون بھی بنیادی ضرورت بن چکے ہیں۔ ماضی میں یہ سب ہرگز درکار نہ تھا ۔ دلہن کو گھر پر ہی تیار کرکے شادی کے عام جوڑے میں رخصت کردیا جاتا تھا جبکہ اب دلہن پارلر میں پچاس ہزارکے عوض سنورنے کے بعد لاکھوں روپوں کے لہنگے میں سسرال سِدھارتی ہے ۔بارات وولیمے کے علاوہ مہندیوں پرلاکھوں اُڑا دئیے جاتے ہیں ۔اچھا ہوتا کہ بچے کی شادی پر بیس لاکھ لٹانے کی بجائے اسے صاحب روزگار بنا دیتے ۔ مگر ہم سوشل پرسٹیج والا دماغ کا خلل کیوں ہاتھ سے جانے دیں؟۔مان لیا کہ  مذکورہ معاملات کے سُدھار میں عام آدمی کا اختیار نہیں ، تاہم عوام چادر کے مطابق پائوں پھیلا کر اور '' لوگ کیا کہیں گے ‘‘ کے جملے سے جان چھڑا کراپنے لیے آسانیاں ضرور پیدا کرسکتے ہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

سیرالیون کی خانہ جنگی کا اختتام2002ء میں آج کے روز سیرالیون کی خانہ جنگی کا خاتمہ ہوا۔یہ خانہ جنگی 23 مارچ 1991ء کو اس وقت شروع ہوئی جب انقلابی یونائیڈڈ فرنٹ لائبیریا کے آمر چارلس کی افواج نے جوزف موموہ حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش میں سیرا لیون میں مداخلت کی۔11سال جاری رہنے والی خانہ جنگی میں50ہزارسے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ پیرس امن کانفرنس کا آغازپیرس امن کانفرنس کا آغاز 18 جنوری 1919ء کو ہوا۔یہ پہلی عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد فاتح اتحادیوں کی پہلی باضابطہ میٹنگ تھی تاکہ شکست خوردہ ممالک کیلئے امن کی شرائط طے کی جا سکیں۔برطانیہ ، فرانس ، ریاستہائے متحدہ امریکہ اور اٹلی کے رہنماؤں نے اس کانفرنس میں شرکت کی۔انہوں جس میں پانچ معاہدے کئے گئے جنہوں نے یورپ اور ایشیا ، افریقہ اور بحرالکاہل کے جزائر کے نقشوں کو دوبارہ ترتیب دیا اور مالی جرمانے بھی عائد کئے گئے۔قرنطینہ قتل عامقرنطینہ قتل عام18 جنوری 1976ء کو لبنان کی خانہ جنگی کے دوران شروع ہوا۔جس کے نتیجے میں تقریباً 1500 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر مسلمان تھے۔ لاقرنطین،جسے عربی میں کارنٹینا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے مشرقی بیروت کا ایک ضلع تھا۔اس ضلع میں فلسطینی ،کرد ،شامی اور آرمینیائی بڑی تعداد میں آباد تھے۔اکیس مطالباتاکیس مطالبات ،پہلی عالمی جنگ کے دوران 18 جنوری 1915ء کو جاپان کی سلطنت کے وزیر اعظم Okuma Shigenobu کی جانب سے جمہوریہ چین کی حکومت سے کئے گئے مطالبات کا ایک مجموعہ تھے۔ ان مطالبات کا مقصد چین پر جاپانی کنٹرول کو بڑھانا تھا۔ان مطالبات میں یہ بھی کہا گیا کہ جاپان پہلی عالمی جنگ کے آغاز میں فتح کئے جانے والے جرمن علاقے بھی اپنے پاس رکھے گا۔ جس سے اسے مزید طاقتور ہونے کا موقع ملے گا۔

سونے کا صحیح طریقہ کونسا؟

سونے کا صحیح طریقہ کونسا؟

اچھی نیند کا دارومدار سونے کے انداز پر ہےنیند ہماری صحت کیلئے ایک بنیادی ضرورت ہے، اور صرف یہ کہ ہم کتنی دیر سوتے ہیں اہم نہیں بلکہ سونے کا انداز بھی جسم اور دماغ پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ مختلف نیند کے انداز، جیسے پیٹ کے بل سونا، پشت کے بل سونا یا پہلو کے بل سونا کے اپنے منفرد فوائد اور ممکنہ خطرات ہوتے ہیں۔ بعض انداز ریڑھ کی ہڈی، گردے یا دل کی صحت کیلئے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں، جبکہ کچھ طریقے طویل مدت میں جسمانی مسائل یا شدید نقصان کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ اس مضمون میں ہم مقبول نیند کے انداز اور ان کے طبی اثرات پر روشنی ڈالیں گے تاکہ قارئین اپنی نیند کے طریقے کو زیادہ صحت مند بنا سکیں۔ہم اپنی زندگی کا تقریباً ایک تہائی حصہ نیند میں گزارتے ہیں، مگر بہت کم لوگ یہ سوچتے ہیں کہ ہم کیسے سوتے ہیں۔ ڈاکٹر ڈیبورا لی( Dr Deborah Lee) جو ڈاکٹر فاکس آن لائن فارمیسی سے وابستہ ہیں کے مطابق سونے کی پوزیشن ریڑھ کی ہڈی کی سیدھ، سانس لینے اور مجموعی نیند کے معیار میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔اچھی نیند کا دارومدار اس بات پر ہے کہ آپ کیلئے بہترین سونے کی پوزیشن تلاش کی جائے ، ایسی پوزیشن جس میں آپ کی ریڑھ کی ہڈی درست سیدھ میں ہو، سانس لینے کا راستہ کھلا رہے اور اعضاء کو حرکت کی آزادی حاصل ہو۔سونے کی پوزیشن جسم پر کیا اثر ڈالتی ہے اور کونسی پوزیشن نقصاندہ ہو سکتی ہے؟ ان کے بارے میں جانتے ہیں۔پہلو کے بل سوناپہلو کے بل سونا نیند کی سب سے عام کیفیت ہے،تقریباً 41 فیصد لوگ اس پوزیشن کو ترجیح دیتے ہیں۔ ڈاکٹر لی کے مطابق کروٹ لے کر، جسم کو سمیٹ کر سونا صحت کیلئے کئی فوائد رکھتا ہے۔ یہ خاص طور پر ان افراد کیلئے مفید ہے جنہیں ''سلیپ ایپنیا‘‘(sleep apnoea ) یا نیند کے دوران سانس کی بے ترتیبی کا مسئلہ ہو، کیونکہ پہلو کے بل لیٹنے سے ہوا کی نالی کھلی رہتی ہے۔کمر درد کے شکار افراد کیلئے بھی پہلو کے بل سونا فائدہ مند ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر گھٹنوں کے درمیان تکیہ رکھا جائے تاکہ ریڑھ کی ہڈی مڑنے سے محفوظ رہے۔حاملہ خواتین کو بھی پہلو کے بل سونے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر لی کہتی ہیں کہ حمل کے دوران سیدھا چت لیٹنا مناسب نہیں، کیونکہ بڑھا ہوا رحم بڑی خون کی نالیوں کو دبا سکتا ہے اور خون کی روانی متاثر ہو سکتی ہے۔ بدہضمی یا تیزابیت کے مسئلے میں مبتلا افراد کیلئے وہ بتاتی ہیں کہ بائیں کروٹ سونا خاص طور پر مددگار ہو سکتا ہے، کیونکہ معدے کی ساخت اور اس کی جگہ ایسی ہوتی ہے۔پہلو کے بل سونے کی دیگر شکلیں بھی تقریباً وہی فوائد رکھتی ہیں۔ لاگ پوزیشن ، جس میں بازو جسم کے ساتھ سیدھے رکھے جاتے ہیں،کندھے، گردن یا بازوؤں کے درد میں مفید ہو سکتی ہے، خاص طور پر جب اوپری بازو کے نیچے نرم تکیے کا سہارا دیا جائے۔ یرنر پوزیشن (yearner position) جس میں بازو سامنے کی طرف پھیلائے جاتے ہیں، کندھوں اور بازوؤں پر دباؤ کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔چت لیٹ کر سوناچت لیٹ کر سونا نسبتاً کم عام ہے۔ تقریباً 8 فیصد افراد سولجر پوزیشن کو ترجیح دیتے ہیں، یعنی سیدھا چت لیٹنا اور بازو جسم کے ساتھ رکھنا جبکہ مزید 5 سے 7 فیصد لوگ اسٹارفِش پوزیشن اختیار کرتے ہیں، جس میں بازو اوپر کی طرف اور ٹانگیں پھیلی ہوتی ہیں۔ڈاکٹر لی کے مطابق چت لیٹ کر سونے کے بھی کچھ فوائد ہیں۔ اس پوزیشن میں ریڑھ کی ہڈی درست ترتیب میں رہتی ہے، اس لیے یہ کمر کے بعض اقسام کے درد اور اکڑن میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔یہ بند ناک یا سائنَس کی صفائی میں بھی مدد دے سکتی ہے۔ اس اندازِ نیند سے چہرے پر جھریاں پڑنے کے امکانات کم ہو سکتے ہیں، کیونکہ کششِ ثقل گالوں کو نیچے کی بجائے اطراف کی سمت کھینچتی ہے۔تاہم، وہ خبردار کرتی ہیں کہ خراٹوں اور نیند کے دوران سانس کی بے ترتیبی کیلئے یہ سب سے بدترین پوزیشن ہے۔پیٹ کے بل سوناتقریباً 7 فیصد افراد پیٹ کے بل سوتے ہیں، عموماً فری فال پوزیشن میں،جس میں سر ایک طرف گھمایا ہوا ہوتا ہے اور بازو تکیے کے گرد لپٹے ہوتے ہیں۔ڈاکٹر لی کے مطابق، یہ پوزیشن خراٹوں میں کمی کر سکتی ہے، کیونکہ سر کو ایک طرف موڑنے سے ہوا کی نالی کھل جاتی ہے، لیکن مجموعی طور پر یہ سونے کا تجویز کردہ انداز نہیں ہے۔وہ پیٹ کے بل سونے کو ریڑھ کی ہڈی کی صحت کیلئے بدترین پوزیشن قرار دیتی ہیں۔ ان کے مطابق، اس انداز میں ریڑھ کی ہڈی غیر فطری طور پر پیچھے کی طرف کھنچتی ہے، جس سے پٹھے اور رباط حد سے زیادہ تن جاتے ہیں اور کمر کے درد میں اضافہ ہوتا ہے۔

کائٹ سرفنگ کے معمر ترین کھلاڑی

کائٹ سرفنگ کے معمر ترین کھلاڑی

عمر کو اکثر کمزوری اور سست روی کی علامت سمجھا جاتا ہے، مگر کچھ لوگ اپنی جرات اور حوصلے سے اس تصور کو بدل دیتے ہیں۔ حال ہی میں ایک پردادا نے سمندر کی لہروں سے ٹکرا کر کائٹ سرفنگ کے میدان میں نئی تاریخ رقم کر دی اور دنیا کے معمر ترین کائٹ سرفر بن گئے۔ ان کی یہ کامیابی نہ صرف کھیلوں کی دنیا میں ایک منفرد سنگ میل ہے بلکہ اس بات کا واضح پیغام بھی ہے کہ شوق، جذبہ اور حوصلہ عمر کے محتاج نہیں ہوتے۔ یہ واقعہ بزرگ افراد کیلئے نئی امید اور نوجوان نسل کیلئے حوصلہ افزا مثال بن کر سامنے آیا ہے۔یہ غیر معمولی کارنامہ انجام دینے والے بزرگ کی زندگی عام لوگوں کیلئے ایک روشن مثال ہے۔ کئی دہائیوں پر محیط زندگی گزارنے کے بعد، جب بیشتر لوگ آرام، تنہائی اور محدود معمولات کو اپنا لیتے ہیں، اس پردادا نے سمندر کی بے رحم لہروں کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ کائٹ سرفنگ ایک ایسا کھیل ہے جس کیلئے جسمانی توازن، تیز ردِعمل، مضبوط اعصاب اور ذہنی یکسوئی درکار ہوتی ہے۔ نوجوانوں کیلئے بھی یہ کھیل آسان نہیں، مگر اس بزرگ نے نہ صرف اسے اپنایا بلکہ عالمی سطح پر ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔کائٹ سرفنگ دراصل ایک جدید آبی کھیل ہے جس میں کھلاڑی ایک بڑی کائٹ (پتنگ نما کپڑا) کی مدد سے ہوا کی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے بورڈ پر کھڑا ہو کر پانی کی سطح پر سفر کرتا ہے۔ تیز ہوا، بلند لہریں اور بدلتے موسم اس کھیل کو مزید چیلنجنگ بنا دیتے ہیں۔ ایسے میں ایک معمر شخص کا اس کھیل میں حصہ لینا ہی حیرت کی بات ہے، اور پھر اسے کامیابی سے انجام دے کر ریکارڈ قائم کرنا غیر معمولی حوصلے کی عکاسی کرتا ہے۔2006ء میں ڈومینیکن ریپبلک کے شہر کاباریٹے کے سفر کے دوران رِک بریکنز (Rick Brackins) جن کا تعلق امریکہ سے ہے نے ساحل پر لوگوں کو کائٹ سرفنگ کرتے دیکھا اور خود بھی اسے آزمانے کا فیصلہ کیا۔ اور وہ 87 برس کی عمر میں آج بھی یہ کھیل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ گزشتہ سال اگست میں رِک کو باضابطہ طور پر کائٹ سرفنگ کرنے والے دنیا کے معمر ترین مرد کا اعزاز دیا گیا، جب ان کی عمر 87 سال اور 20 دن تھی۔ یہ پردادا آج بھی سمندر کی لہروں میں اترنے سے نہیں رکتے اور ان کا حوصلہ کسی رکاوٹ کو خاطر میں نہیں لاتا۔رِک، جو ماضی میں کمرشل رئیل اسٹیٹ کے شعبے سے وابستہ رہے اور اب ٹیمپا، فلوریڈا میں ایک بار اور ریسٹورنٹ کے مالک ہیں، کائٹ سرفنگ سے بے حد محبت کرتے ہیں کیونکہ یہ خود کو فِٹ رکھنے کا ایک خوشگوار طریقہ ہے۔ یہ شوق وہ اپنے خاندان کے ساتھ بھی بانٹتے ہیں۔ وہ اکثر اپنے بیٹے کینیٹھ اور پوتی کنلے کے ساتھ کائٹ سرفنگ کیلئے جاتے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ جذبہ نسل در نسل منتقل ہو رہا ہے۔ ان کے علم کے مطابق دنیا میں کوئی اور ایسا خاندان نہیں جس کی تین نسلیں ایک ساتھ سمندر میں کائٹ سرفنگ کرتی رہی ہوں۔ ان کے بیٹے کینیٹھ کا کہنا ہے کہ لوگ یہ دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں کہ ان کے والد اب بھی کائٹ بورڈنگ کر رہے ہیں۔ ساحل پر موجود بہت سے افراد جب انہیں کائٹ سرفنگ کرتے دیکھتے ہیں تو وہ بھی اس کھیل کی تربیت لینے کا سوچتے ہیں، حالانکہ عام طور پر وہ خود کو عمر کے باعث اس کیلئے بہت بڑا سمجھتے ہیں۔ لیکن جیسا کہ رِک نے واضح طور پر ثابت کر دیا ہے کہ ایسی کوئی حد موجود نہیں۔ رِک کے تین بچے، چار پوتے پوتیاں اور چار پڑپوتے پڑپوتیاں ہیں، اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک شوقیہ غوطہ خور (ڈائیور) اور اسپیئر فِشنگ کے بھی دلدادہ ہیں۔اس پردادا کی کہانی محض ایک کھیل یا ریکارڈ تک محدود نہیں، بلکہ یہ انسانی ارادے کی طاقت کا مظہر ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں کئی نشیب و فراز دیکھے، اس کے باوجود زندگی سے محبت اور نئے تجربات کا شوق کبھی ختم نہیں ہونے دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ انسان اگر خود کو زندہ محسوس کرنا چاہے تو اسے نئے چیلنجز قبول کرنے چاہئیں، چاہے عمر کوئی بھی ہو۔یہ واقعہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ زندگی کا حسن مسلسل سیکھنے اور آگے بڑھنے میں ہے۔ چاہے عمر کے کتنے ہی سال کیوں نہ گزر جائیں، اگر انسان میں کچھ نیا کرنے کا جذبہ زندہ ہو تو وہ ناممکن کو ممکن بنا سکتا ہے۔ کائٹ سرفنگ کرنے والے اس معمر پردادا نے نہ صرف ایک ریکارڈ قائم کیا بلکہ سوچ کے دروازے بھی کھول دیے۔آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ کہانی صرف ایک کھیل یا ریکارڈ کی نہیں، بلکہ انسان کے اندر چھپی بے پناہ صلاحیت کی داستان ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ خواب دیکھنے اور انہیں پورا کرنے کی کوئی عمر نہیں ہوتی۔ اگر حوصلہ زندہ ہو، ارادہ مضبوط ہو اور دل میں جذبہ موجزن ہو تو انسان کسی بھی مرحلے پر تاریخ رقم کر سکتا ہے۔ پردادا کی یہ جرات مندانہ کامیابی آنے والی نسلوں کیلئے ایک روشن مثال اور ہمیشہ یاد رکھی جانے والی داستان بن چکی ہے۔

آج تم یاد بے حساب آئے!عبدالرحمن چغتائی پاکستان کے ممتاز مصور  (1975-1897)

آج تم یاد بے حساب آئے!عبدالرحمن چغتائی پاکستان کے ممتاز مصور (1975-1897)

٭...21 ستمبر 1897ء کو لاہور میں پیدا ہوئے ،ان کا تعلق شاہجہاں کے دور کے مشہور معمار خاندان سے تھا۔٭...1914ء میں میو اسکول آف آرٹس لاہور سے امتحان پاس کرنے کے بعد انھوں نے استاد میراں بخش سے فنِ مصوری میں استفادہ کیا۔٭...1919ء میں لاہور میں ہندوستانی مصوری کی ایک نمائش منعقد ہوئی جس نے انہیں باقاعدہ اپنا فنی سفر شروع کیا۔٭... کلکتہ کے رسالے ''ماڈرن ریویو‘‘ میں ان کی بھیجی گئی تصاویر شائع ہوئیں اور چغتائی صاحب کا فن شائقین اور ناقدین کے سامنے آیا تو ہر طرف ان کی دھوم مچ گئی۔٭...1928ء میں ''مرقعِ چغتائی‘‘ شائع ہوا جس میں عبدالرّحمٰن چغتائی نے غالب کے کلام کی مصوری میں تشریح کی تھی۔ یہ اردو میں اپنے طرز کی پہلی کتاب تھی جس کی خوب پذیرائی ہوئی۔٭...1935ء میں غالب کے کلام پر مبنی ان کی دوسری کتاب ''نقشِ چغتائی‘‘ شائع ہوئی۔ یہ کتاب بھی بے حد مقبول ہوئی۔٭... ہندوستان اور ہندوستان سے باہر عبدالرّحمٰن چغتائی کے فن پاروں کی متعدد نمائشیں منعقد ہوئیں اور وہ صاحبِ اسلوب آرٹسٹ کے طور پر پہچان بناتے چلے گئے۔٭...قیامِ پاکستان کے بعد پاکستان کے ابتدائی چار ڈاک ٹکٹوں میں سے ایک ڈاک ٹکٹ ڈیزائن کیا۔٭... ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی وژن کے مونوگرام بھی انہی کے تیار کردہ ہیں۔٭...مصوری کے ساتھ افسانہ نگاری بھی کی، ان کے افسانوں کے دو مجموعے ''لگان‘‘ اور'' کاجل‘‘ شائع ہوئے۔٭...انہوں نے مغل دور اور پنجاب کو اپنے فن پاروں میں پیش کیا۔٭... ان کی بنائی ہوئی تصویریں دنیا کی مختلف آرٹ گیلریوں میں سجائی گئیں۔٭... 1960ء میں حکومت پاکستا ن کی جانب سے ''ہلالِ امتیاز‘‘، 1964ء میں مغربی جرمنی میں ''طلائی تمغے‘‘ سے نوازا گیا۔٭...17 جنوری 1975ء کو پاکستان کے ممتاز مصور عبدالرحمن چغتائی وفات پا گئے۔