کینو: ذائقے اور توانائی کا امتراج
اسپیشل فیچر
نارنجی رنگ کا یہ پھل نباتات کے خاندان اسپند یا سداب (Rutaceae) کی جنس ترنج سے تعلق رکھتا ہے۔ اسی جنس میں انگور، لیموں، نارنگی، مالٹا، ترنج، چکوترا وغیرہ شامل ہیں۔ اس جنس کے درخت اور بیلیں رسیلے پھلوں کی وجہ سے گرم علاقوں میں کاشت کیے جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق کینو، مالٹے وغیرہ کا وطن جنوب مشرقی ایشیا ہے۔ وہاں سے یہ ترشا وہ پھل پوری دنیا میں پھیلے۔ اب سپین، امریکا، برازیل اور جنوبی افریقہ میں کینوں کے وسیع باغات ہیں۔ پاکستان میں سرگودھا، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور شیخوپورہ میں کینو اور اس کے رشتے داروں کے بڑے بڑے باغات ہیں۔ جنس ترنج میں موسمی بھی شامل ہے جس میں ترشی سب سے کم ہوتی ہے۔
ترشا وہ پھلوں کے پودے بلندی پر نہیں اگتے کیونکہ سردی انہیں مار ڈالتی ہے۔ ترشاوہ پھل رنگت، چھلکے کی موٹائی، رس کی مقدار، مٹھاس اور خوشبو کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں۔ ان کی جسامت کا انحصار جغرافیائی حالات اور آب و ہوا پر بھی ہے۔ علاوہ ازیں گرم آب و ہوا کے پھل زیادہ کھٹے ہوتے ہیں۔ کینو کا درخت 35 فٹ تک ہو سکتا ہے۔
کینو یا مالٹے کا رس محلل کاربوہائیڈریٹ، نامیاتی تیزاب ، وٹامن سی، وٹامن بی کمپلیکس، نمکیات اور دیگر غذائیات پر مشتمل ہوتا ہے۔ معدنیات میں چونا، فاسفورس اور لوہا موجود ہیں۔
کینو کی غذائی قوت پر اگر غور کیا جائے تو ماننا پڑے گا کہ یہ پھل بھی انسان کیلئے قدرت کے اعلیٰ ترین تحائف میں سے ایک ہے۔ ایک شیریں کینو کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس کا رس معدے میں جا کر جذب ہو جاتا ہے۔ معدے پر کوئی بار نہیں پڑتا، گویا رس ہضم شدہ غذا ہے جسے بس منہ کے ذریعہ معدہ میں ڈال لینا کافی ہوتا ہے۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ کینو میں ایسی غذائیت نہیں ہوتی جیسی روٹی وغیرہ میں ہوتی ہے۔ اس لیے کینو کے استعمال سے جسم میں توانائی پیدا نہیں ہوتی۔ یہ خیال محج ناواقفیت کی بنا پر ہے اور خصوصاً اس وجہ سے کہ پھل کے رس کا بار معدہ پر پڑتا معلوم نہیں ہوتا۔ ماہرین غذا کی تحقیق ہے کہ ایک بڑے شیریں کینو کا رس ہمارے جسم کو اتنی قوت بخشتا ہے جتنی کہ ڈبل روٹی کا نصف ٹکڑا۔ فرق صرف یہ ہے کہ روٹی کئی گھنٹے میں ہضم ہو کر جسم کو قوت دیتی ہے اور کینو کا رس معدے میں پہنچتے ہی جسم کے کام آتا ہے، یہی سبب ہے کہ اسے کمزور مریض کی غذا میں بھی شامل کیا جاتا ہے۔ یہ خیال رہے کہ کینو جتنا شیریں ہو گا اتنی ہی زیادہ اس میں غذائی قوت ہو گی۔ دودھ کو ہضم کرنے کیلئے معدہ کو کام کرنا پڑتا ہے مگر کینو کا رس فوراً ہضم ہوتا ہے۔ کینو کی اس خصوصیت نے اسے دودھ سے بھی زیادہ مفید بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان مریضوں کو جنہیں دودھ ہضم نہیں ہوتا، کینو کا رس دیتے ہیں۔
کینو کے رس میں بہت سے معدنی نمکیات پائے جاتے ہیں خصوصاً چونا وغیرہ جس کے استعمال سے تیزابیت رفع ہوتی ہے۔ تیزابیت کی شکایت عموماً ان لوگوں کو زیادہ پیدا ہوتی ہے جو غذا میں گوشت زیادہ کھاتے اور بیٹھے رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کیلئے کینو کا استعمال غایت درجہ مفید رہتا ہے۔
کینو کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ آنتوں میں ناقص غذا سے جو سستی پیدا ہو جاتی ہے، اسے رفع کرتا ہے۔ چنانچہ دائمی قبض کے مریضوں کیلئے رات کو سوتے وقت اور صبح اٹھتے ہی ایک یا دو کینو کھانا نہایت مفید ثابت ہوتا ہے۔ سہ پہر کے وقت بھی کینو کھانا قبض کیلئے مفید ہے۔